Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • رنگیلے پہاڑ کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    رنگیلے پہاڑ کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    معدنیات مختلف رنگوں پر مشتمل ہیں۔

    مختلف معدنیات مختلف رنگ کے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا بہت ہی شاذ و نادر ہوتا ہے کہ ایک ہی پہاڑ مختلف رنگوں پہ مشتمل ہو۔ مندرجہ ذیل تصویر پیرو(جنوبی امریکہ) کی ہے۔

    مگر قرآن میں یہ چودہ سو سال پہلے درج تھا۔

    Quran 35:27

     (الفاطر 27)

    کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر ہم اس کے ذریعے سے پھل نکالتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اور پہاڑ بھی مختلف رنگتوں کے کچھ تو سفید اور کچھ سرخ اور بہت سیاہ بھی ہیں۔

    پہاڑ مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مگر عرب کے صحرا میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ تصویر پیرو(جنوبی امریکہ) کی ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے مختلف رنگوں پہ مشتمل پہاڑ کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟ جبکہ تب امریکہ ابھی دریافت ہی نہیں ہوا تھا!!!

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جانوروں کی زبان کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی زبان کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔

    انسان نے کچھ پرندوں کی زبانیں ڈی کوڈ(سمجھنے کی کوشش) کی ہیں۔

    Reference: Popular Science, How to decode the secret language of birds, 2018
    صدیوں سے مقامی امریکیوں کا لوگوں اور دوسرے جانوروں کا ٹھکانہ معلوم کرنے کیلئے اس نام نہاد “پرندوں کی زبان” پر انحصار کرتے ہیں جو بصورت دیگر انسانی آنکھوں کیلئے پوشیدہ رہ جایا کرتے ہیں۔
    کوئیر نیچر کی شریک بانی(کو فاونڈر) مس پینار جو پرندوں کی زبان پہ کورسز پڑھاتی ہیں، کہتی ہیں کہ
    “مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بڑے شکاریوں کو جاننے کیلئے پرندوں کی زبان کا استعمال کرتے رہے ہیں، یہ سمجھانے کے قابل ہوتے ہیں اور جنگل میں ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں۔”

    اس تحقیق کے مطابق آج ہم جانتے ہیں کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
    مگر 1400 سال پہلے قرآن نے کہہ دیا تھا کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔

    Quran 27:16
    وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ (النمل 16)
    “اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔”

    سلیمان نے پرندوں کی بولی(زبان) سیکھ لی۔

    قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ تمام جانور اللہ کی تسبیح و تعریف کرتے ہیں مگر ہم لوگ انکی یہ تعریف نہیں سمجھ سکتے۔

    Quran 17:44
    تُسَبِّـحُ لَـهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْـهِنَّ ۚ وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُـمْ ۗ اِنَّهٝ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا (الاسراء 44)

    ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔

    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ جانوروں کی بھی اپنی کوئی زبان موجود ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • سمت کی نشاندہی کرنے والے کمپس کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    سمت کی نشاندہی کرنے والے کمپس کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    تاریخی اعتبار سے نقشوں پر سمتوں کو متعین کرنے کیلئے کئی طریقوں کا استعمال کیا جاتا رہا۔ مختلف طریقے مختلف سمتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ درج ذیل تصویر ایک پرانے کمپس اور پرانے نقشے کی ہے۔

    آخر کار تمام پرانے طریقے بےرنگ ہوگئے سوائے ایک کے۔ آج تمام نقشے ایک ہی طریقہ استعمال کرتے ہیں،

    اوپر شمال، دائیں جانب مشرق، بائیں جانب مغرب اور نیچے جنوب ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اگر آپ ایسے کھڑے ہیں کہ سورج آپکے دائیں جانب سے طلوع ہوتا ہے اور بائیں جانب غروب ہوتا ہے، تو آپ کا چہرہ شمال کی جانب ہے اور آپکی کمر جنوب کی طرف ہے۔

    جبکہ چودہ سو سال پہلے یہ بات قرآن میں درج تھی،

    Quran 18:17


    (الکھف 17)

    “اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے ان کے غار کے دائیں طرف سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان کی بائیں طرف سے کتراتا ہوا گزر جاتا ہے اور وہ اس کے میدان میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے تمہیں کوئی بھی کارساز راہ پر لانے والا نہیں ملے گا۔”

    یعنی غار کا منہ شمال کی جانب تھا جسکی وجہ سے سورج دائیں(مشرق) جانب سے طلوع ہوتا اور بائیں(مغرب) جانب غروب ہوتا تھا۔

    یعنی اگر سورج آپکے دائیں جانب سے طلوع ہوتا ہے اور بائیں جانب غروب ہوتا ہے تو یقینا آپ شمال کے سامنے اور جنوب آپکے پیچھے ہے۔ بلکل یہی طریقہ آج ہر نقشے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب صرف یہی طریقہ ہی تمام پرانے طریقوں پر سمت جاننے کیلئے غالب آئے گا؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پرائم نمبرز کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پرائم نمبرز کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    وہ بنیادی نمبر جو بذات خود یا 1 پہ تقسیم کیے جا سکتے ہوں، کسی اور نمبرز پر نہیں، پرائم نمبرز
    کہلاتے ہیں۔

    Reference: Wikipedia, Prime Number, 2020
    “پرائم نمبرز 1 سے بڑے وہ قدرتی نمبرز ہیں جو دو چھوٹے قدرتی نمبروں(تعداد) کو ضرب دے کر تشکیل نہیں پا سکتے ہیں۔ 1 سے بڑا قدرتی(نیچرل) نمبر پرائم نہیں بلکہ جامع(کمپوزٹ) نمبر کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر 5 ایک پرائم نمبر ہے کیونکہ یہ دو نمبروں کے تناسب سے نہیں لکھا جا سکتا، صرف ایسے لکھے جا سکتے ہیں
    “ 1 ×5″ یا "5 × 1”
    یا صرف 5 بھی لکھا جا سکتا ہے، جبکہ 6 ایک جامع نمبر ہے کیونکہ یہ دو نمبروں کے تناسب سے لکھا جا سکتا ہے جو 6 سے چھوٹے ہیں۔
    (3×2)

    پرائم نمبرز ریاضی شماری کے بنیادی نظریہ کی وجہ سے تعداد نظریہ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ 1 سے بڑا ہر قدرتی نمبر یا تو بذات خود پرائم ہوتا ہے یا اسکا دو نمبروں کے تناسب سے مرتب کرکے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے(یعنی یا تو وہ پرائم ہوگا یا کمپوزٹ)”

    پرائم نمبرز یہ ہیں
    2,3,5,7۔۔۔۔

    جبکہ قرآن میں انکی دریافت 1400 سال پہلے ہوچکی ہے۔ قرآن کی پہلی سورت کی آیات، الفاظ، اور احراف یہ تمام پرائم نمبرز میں موجود ہیں

    Quran 1:1-7

    آیات کی تعداد سات ہے (پرائم نمبر)۔
    الفاظ کی تعداد انتیس ہے (پرائم نمبر)۔
    احراف کی تعداد ایک سو انتالیس ہے (پرائم نمبر)۔

    اس سورت کے تمام الفاظ پرائم نمبرز ہیں۔

    قرآن کی ایک اور آیت اس سورت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ یہ "مَثَانِي” ہے۔

    Quran 15:87

    "اور ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو (نماز میں) دہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظمت والا دیا۔”

    یہ آیت کہتی ہے کہ یہ نمبر 7 ایسے گروپ سے تعلق رکھتا ہے جو "مَثَانِي” کہلاتا ہے۔ یہ ایک نامعلوم لفظ یے تاہم یہ "دوہرایہ جانا” میں سے نکلا ہے یا دوبارہ کرنے سے۔ یہی لفظ ایک اور سورت کی آیت میں ملتا ہے جو کہتا ہے کہ پورا قرآن اسی "مَثَانِي” گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔

    Quran 39:23

    "اللہ ہی نے بہترین کلام نازل کیا ہے یعنی کتاب باہم ملتی جلتی ہیں جو دہرائی جاتی ہیں، جس سے خدا ترس لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر ان کی کھالیں نرم ہوجاتی ہیں اور دل یاد الٰہی کی طرف راغب ہوتے ہیں، یہی اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعے سے جسے چاہے راہ پر لے آتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے راہ پر لانے والا کوئی نہیں۔”

    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ پورا قرآن "مَثَانِي” گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ جبکہ پچھلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ نمبر 7 اسی گروپ "مَثَانِي” سے تعلق رکھتا ہے،
    آج ہم جانتے ہیں کہ 7 ایک پرائم نمبر ہے، تو ہم نے چیک کیا کہ پورے قرآن کے احراف کی تعداد بھی پرائم ہے۔

    قرآن 326159 احراف کو مل کر بنایا گیا ہے۔ ہم نے چیک کیا کہ 326159 واقعی پرائم نمبر ہے تو جواب ملا ہاں۔

    326159 پرائم نمبرز ہیں جیسے 7 ایک پرائم نمبر ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے پرائم نمبرز کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • کاغذ کے پیسوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کاغذ کے پیسوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کاغذی رقم(نوٹ) جو بجائے سکوں(سونے اور چاندی) کے استعمال کیے گئے۔

    کاغذی رقم سب سے پہلے گیارویں صدی میں چین میں استعمال کیے گئے۔

    Reference: Wikipedia, Jiaozi(currency), 2019
    “جیاوزی جو کہ چین کی اسوقت کی کرنسی کا نام تھا، ایک بینک نوٹ کی طرح کا پیپر تھا جو گیارویں صدی کے آگے پیچھے چائنہ کے صوبے چینگدو کے دارالحکومت سیچوان میں سامنے آیا۔

    نیومسمیٹسٹس(ہندسوں کے ماہرین، سکے جمع کرنے والے) اسے پہلی کاغذی رقم قرار دیتے ہیں، جو کہ چینی سونگ خاندان کی ترقی کے طور پر جانا جاتا ہے
    (960-1279 CE)”

    جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ کاغذی رقم ان چینی لوگوں سے پہلے بھی جانی جاتی تھی اور استعمال کی جاتی تھی۔

    Quran 18:19

    "اور اسی طرح ہم نے انہیں(اصحاب کھف کو) جگا دیا تاکہ ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر ٹھہرے ہو، انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن سے کم ٹھہرے ہیں، کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے ہو، اب اپنے میں سے ایک کو یہ اپنے پیسے دے کر اس شہر میں بھیجو پھر دیکھے کون سا کھانا ستھرا ہے پھر تمہارے پاس اس میں سے کھانا لائے اور نرمی سے جائے اور تمہارے متعلق کسی کو نہ بتائے۔”(الکھف #19)

    “Warak in Arabic ورق” کا مطلب ہے کاغذی رقم،
    “بِوَرِقِكُمْ Biwarikikum” کا مطلب ہے تمہارے کاغذی پیسے، سکے نہیں۔ تو قرآن کہتا ہے کہ کاغذی رقم چینی باشندوں سے بھی کئی صدیوں پہلے استعمال کی جا چکی ہے۔

    ایک غیر معمولی انسان چودہ سو سال پہلے کیسے کاغذی رقم کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • زلزلے کا قرآن مجید میں ذکر: بقلم سلطان سکندر

    زلزلے کا قرآن مجید میں ذکر: بقلم سلطان سکندر

    زلزلہ
    زمین کا اپنی موجودہ جگہ سے اچانک ہِل جانا۔

    زلزلے زمین کی تھرتھراہٹ کو کہتے ہیں جو زمین کی اپنی جگہ سے اچانک ہلنے کے سبب آتے ہیں. یہ بات حال ہی میں معلوم ہوئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں کہا گیا,

    Quran 67:16

    "کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس جب اچانک وہ تھرتھراہنے لگے۔”(الملک 16#)

    یَخْسِفَ کا عربی مطلب زمین میں دھنسا دینا اور زمین کو اسکی اپنی جگہ یا مقام سے اچانک ہِلا دینا, جبکہ تَمُوْر کا مطلب تھرتھراہٹ ہے, یہاں پہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہِلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے؟؟؟

    اصل میں زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں,
    1:- مین شاک
    2:- آفٹر شاک

    مین شاک وہ پہلا زلزلہ ہوتا ہے جو اپنی پوری طاقت سے آتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے, زلزلے کی زیادہ تر انرجی اسی مین شاک میں ضائع ہو جاتی ہے,
    اور باقی ماندہ انرجی آفٹر شاکس کی صورت میں ضائع ہوتی ہے جنہیں ہم زلزلے کے جھٹکے بھی کہتے ہیں.
    قرآن نے ان دونوں کی وضاحت کی ہے.

    Quran 79: 6-7

    جس دن تھرتھراہنے والی(زمین) تھرتھراہے گی۔(6)
    اس کے پیچھے آنے والی(تھرتھراہٹ جھٹکوں کی صورت میں) پیچھے آئے گی۔(7)

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ آفٹر شاکس مین شاکس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ایگزو پلینٹ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ایگزو پلینٹ کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Exoplanets
    ایسے سیارے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر یعنی سورج کی گرفت میں نہیں ہیں۔

    1400 سال پہلے لوگ زمین، چاند اور سورج کے بارے میں تو جانتے تھے لیکن ان باقی سیاروں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں، آخر کار کافی عرصے بعد جا کر ماہرین فلکیات نے معلوم کیا کہ ان تینوں سیاروں(یعنی زمین، چاند، سورج) کے علاوہ اور بھی کئی سیارے موجود ہیں۔
    جب سائنسدانوں نے زمین کے علاوہ باقی سیاروں پہ زندگی کیلئے تلاش شروع کی تو انہوں نے صرف وہ سیارے تلاش کرنا چاہے جن پہ پانی ہو کیونکہ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔

    Reference:- Universe Today, Water Discovered in the Atmosphere of an Exoplanet in the Habitable zone. It Might Be Rain, 2019

    "ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرنے والے ماہرین فلکیات نے اپنے ستارے کے رہائش پزیر زون میں ایک ایکسوپلینٹ(بغیر نظام شمسی والا سیارہ) کی فضا میں پانی کو تلاش کیا ہے۔ اگر تصدیق ہوجاتی ہے ، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب ہمیں زندگی کے لئے پانی کا ایک اہم جزو ملا ہے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایکسویلینٹ پر ہے۔ پانی کو آبی بخارات کے طور پر دریافت کیا گیا ہے لیکن سیارے کے درجہ حرارت کے مطابق اگر سیارہ پتھریلا ہے تو یہ اپنے اوپر پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ K2-18B کہلاتا ہے، اور یہ روشنی سے 110 سال دور ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ سیارہ ایک سپر ارتھ ہے، اور یہ زمین سے 2 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر 8 گنا زیادہ بڑا ہے۔ یہ K2-18B سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے, یہ سب سے پہلے 2015 میں کیپلر سپیس دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا۔”

    ایک ایکسوپلینٹ جو رہائش پذیر زون میں پانی کی موجودگی کے ساتھ 2015ء میں دریافت کیا گیا تھا،
    تاہم قرآن میں اسکی دریافت سے تقریبا 1400 سال پہلے اس بات کی تصویر کشی کر دی گئی تھی۔

    Quran 21:30

    "کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے تمام زندگیوں کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔؟”(الانبیاء 30)

    قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام زندگیاں جو زمین پہ ہیں اور باقی تمام زمینیں، پانی پہ منحصر ہیں۔

    ایک اور آیت کے مطابق، زمینیں 7 مختلف قسم کی ہیں اور ہر ایک زمین کا اپنا سیارہ ہے ارتھ(زمین) کی طرح۔

    Quran 65:12

    "اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔”(الطلاق 12)

    ساتوں زمینوں کے ہماری زمین کی طرح اپنے خود کے سیارے موجود ہیں۔ آج ماہرین فلکیات نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس پہ پانی یعنی زندگی موجود ہے، جو کہ ایکسوپلینٹ کہلاتا ہے۔

    لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ،
    1400 سال پہلے کا ایک غیر معمولی انسان کیسے ایکسوپلینٹ کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ورک کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ورک کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Work
    کسی شے کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے کی وجہ سے فورسز(قوت) کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا)،

    فزکس کی زبان میں کشش ثقل (گریویٹی) کے خلاف کام کرنا، فورسز یا وزن کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) کہلاتا ہے۔
    مثال کے طور پر تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک آدمی راڈ میں پلیٹیں ڈالے اسے اٹھائے ہوئے کھڑا ہے، اب اس راڈ پہ وہ فورس بھی لگ رہی ہے جسکے ذریعے اس آدمی نے اسے اٹھا رکھا ہے اور اسکے علاوہ اس راڈ پہ کشش ثقل(گریویٹی) فورس بھی لگ رہی ہے کہ اگر یہ انسان اس راڈ کو چھوڑ دے تو یہ راڈ آزادانہ طور پر زمین پر آ گرے،
    دوسری طرف اگر یہ راڈ زمین پہ پڑا ہو تو اس پہ صرف ایک فورس کام کر رہی ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ زمین پہ پڑا رہتا ہے اور وہ فورس ہے کشش ثقل(گریویٹی)، تو ثابت ہوا کہ کسی بھی شے کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے سے فورسز ملٹی پلائی یعنی بڑھ جاتی ہیں۔

    Work by Gravity
    "جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے یا اونچائی سے گرائی جاتی ہے تو باقی فورسز کی عدم موجودگی میں اور کشش ثقل (گریویٹیشنل فورس) کے نتیجے میں اس چیز کی رفتار میں آزادانہ طور پر تیزی آتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ چیز سطح زمین کے قریب پہنچتی ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے اسکی رفتار g = 9.8 m.s-2 یعنی 0.098m.s ہوتی ہے اور کسی چیز کے وزن پہ کشش ثقل fg = mg کہلاتی ہے۔ یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کشش ثقل کسی بھی شے کے وزن کے مرکز پہ مرکوز(کنسنٹریٹ) ہوتی ہے۔ اگر کسی شے کو اسکے قائم مقام سے اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف ہلایا جائے تو دونوں طرف کی جگہیں y1-y2 کہلاتی ہیں مثلا اب اگر راڈ زمین پہ پڑا ہوا ہے تو وہ y1 جگہ کہلائے گی اور ایک آدمی جہاں تک یہ راڈ اٹھائے گا تو وہ y2 جگہ کہلائے گی(جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے)، کسی شے پہ اس کے وزن mg کے مطابق اس پہ فورس کام(W= Work) کرتی ہے۔

    W = Fg (y2-y1) = Fg Δy = – mg Δy

    اس فارمولے میں fg وزن(امپیرئیل یونٹ میں پاونڈ اور ایس آئی یونٹ میں نیوٹن) کو ظاہر کرتا ہے اور Δy اونچائی y میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ غور کریں کہ کشش ثقل(گریویٹی) کے ذریعے کیا گیا کام اس شے کے عمودی یعنی ورٹیکلی(اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف ) حرکت کرنے پہ منحصر ہوتا ہے۔ ایک شے پہ اسکے وزن کے ذریعے کیے گئے کام پہ فرکشن فورس کی موجودگی اثرانداز نہیں ہوتی۔”
    Reference:- Wikipedia, Work (Physics), 2019

    کشش ثقل کے خلاف کام کرتے عام طور پر کسی شے کو اسکی جگہ سے یعنی اسکے قائم مقام سے ہلانے کی وجہ سے فورسز(قوت) یا اسکا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں بیان کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہ قرآن میں اسکا ذکر کر دیا گیا تھا،
    Quran 99:7-8

    "پھر جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) نیکی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔
    اور جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) برائی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔”

    یہاں پہ "عْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) اور "يَّعْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) کرنا ہے۔ اور یہاں پہ کام(ورک) کا وزن(mg) سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ جتنی زیادہ برائیوں والے کام کرے گا اسکا برا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور جتنی زیادہ اچھائیوں والے کام کرے گا اسکا اچھا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور حساب تو ہوگا ہی ترازو کے ذریعے یعنی وزن تول کر،

    1400 سال پہ غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ وزن(weight) کا اور کام(work) کا آپس میں گہرا تعلق ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • آسمانی بجلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    آسمانی بجلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    Keraunoparalysis
    Kerauno- ("Lightning”) + paralysis
    ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے.

    ناؤن keraunoparalysis(دوائی) آسمانی بجلی گرنے کے بعد اعضاء میں ہونے والی عارضی کمزوری, سردی اور جِلد کے بدبودار ہونے پر استعمال کی جاتی ہے.

    یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کہتا ہے کہ ایک 50 سالہ آدمی ہمارے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا جس پہ آسمانی بجلی گری جب وہ بجلی کے طوفان کے دوران درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا, وہ 15 منٹ تک بےحال پڑا رہا اور 15 منٹ بعد جب اسکی حالت ٹھیک ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے نچلے دونوں اعضاء(ٹانگیں پاؤں وغیرہ) ہلانے کے قابل نہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ حساسیت (سینسیشن) اور یورینری ریٹنشن(پیشاب برقرار رکھنے کا سسٹم) کو بھی کھو چکا تھا.

    آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن ہوتا ہے. یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے سے یہ بات کتاب قرآن مجید میں موجود ہے کہ

    Quran 51:44-45

    "پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کو بجلی نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔
    پھر نہ تو وہ اٹھ(نقل و حرکت) ہی سکے اور نہ وہ کوئی مدد ہی لے سکے۔”

    "پھر نہ وہ اٹھ سکے” آج ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اٹھ سکے, یہ keraunoparalysis ہے, جو آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن کا سبب بنتا ہے.

    سوال یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا غیر معمولی شخص kerunoparalysis کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ہائیپوکسیا کی بیماری کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہائیپوکسیا کی بیماری کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ہائیپوکسیا کی بیماری آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔
    جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
    Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
    جو
    Euler-Liljestrand mechanism
    کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
    alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
    کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,

    یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
    یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.

    Quran: 6/125

     (الانعام 125)
    "سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے، اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”

    یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
    ‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.

    اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاو کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.

    آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
    آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,

    آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.

    Cyanosis (سائنوسِس)
    جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
    جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
    سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.

    آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.

    Quran: 20/102

     (طہٰ 102)
    "اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”

    مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.

    Hypoxia
    کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.

    Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
    بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاو کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
    دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
    دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
    ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
    ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
    سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.

    موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
    یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.

    Quran: 75/29

    (القیامہ 29)
    "اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”

    ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.

    قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.

    Quran: 22/2

    (الحج 2)
    "جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”

    مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
    Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
    ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
    دماغ کا ایک حصہ جسے
    Brain’s occipital cortex
    کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ

    Quran: 20/124

     (124)
    اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟

    قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.

    Quran: 14/16-17

    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔(ابراہیم 16)
    جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔ (ابراہیم 17)

    "گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.

    گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
    Quran: 88/6

    "ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”

    وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟

    یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!