Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • پلسار نیوٹران ستارے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پلسار نیوٹران ستارے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پلسار ایسے نیوٹران ستارے ہیں جو. محو گردش ہیں.
    بہت سے نیوٹران ستارے جتنے بھی آج تک دریافت ہوسکے ہیں سب ریڈیو پلسار (ستارے کی قسم) ہی ہیں.. وہ ریڈیو پلسار اس لئے کہلائے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اندر سے شعاعیں نکالتے ہیں. ہم بآسانی ریڈیو ٹیلی سکوپ کو ایک سپیکر سے کنیکٹ کر کہ پلسار کی آواز سن سکتے ہیں. پلسار ستارے کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی مسلسل کھٹکھٹا رہا ہو….
    قرآن اسے اس طرح بیان کرتا ہے ” وہ جو دستک دیتا ہے”
    Quran 86:1-3

    (1) آسمان کی قسم ہے اور دستک دینے والے کی۔

    (2) اور آپ کو کیا معلوم کہ دستک دینے والی چیز کیا ہے۔
     
    (3) وہ سوراخ کرنے والا ستارہ ہے۔

    عربی لفظ "ثقب” کا مطلب ہے ایک سوراخ، اور”ثاقب” کا مطلب ہے سوراخ کرنے والا،
    قرآن دستک دینے والے ستارے کے متعلق بیان کر رہا ہے جو سوراخ کرتا ہے،

    پلسارز ایسے نیوٹرانز ستارے ہیں جو گردش کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مادہ نیوٹران سٹار میں گرتا جاتا ہے ویسے ویسے ہی اسکا ماس بڑھتا جاتا ہے اور یہ ماس اسکی گریویٹی کو بھی بڑھاتا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت گریویٹی خلاء کی گولائی میں ہے۔ ایک نیوٹران سٹار اس خلاء(گولائی) کو مسخ کر دیتا ہے۔ جیسے جیسے مادہ نیوٹران(اس گولائی) میں گرتا جاتا ہے ستارے کی شکل بگڑتی جاتی ہے۔
    پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بگاڑ کافی حد تک گہرا ہو جاتا ہے جو اس خلاء میں ایک سوراخ بنا دیتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا ایک امی شخص(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے جان سکتا ہے کہ پلسارز(نیوڑران ستارے) اس خلاء میں سوراخ کرتے ہیں؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے۔

    ہمارا سورج ایک بہت چھوٹا ستارہ ہے۔ اصل میں ہمارا شمسی نظام(جن میں وہ ایٹمز بھی شامل ہیں جو ہم نے بنائے) ایک ٹوٹا ہوا ستارے سے بنا ہے جو کہ 100 گناہ ہمارے سورج سے بڑا ہے۔
    کچھ ستارے ہمارے اتنے بڑے سورج سے بھی کہی زیادہ بڑے ہیں، لہذا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ستارے کتنے بڑے ہیں۔
    تاہم بائبل کے مطابق یہ ستارے اتنے چھوٹے ہیں کہ یہ زمین پر گر جائیں گے(30-24 :13)
    یسوع مسیح نے کہا کہ ستارے ہماری دوسری نسل کے آنے سے پہلے زمین پر گر جائیں گے۔
    جیسا کہ اس نسل کو گزرے کافی عرصہ ہوچکا ہے اور نہ ہی کوئی ستارہ زمین پر گرا ہے اور نہ گرے گا، آپ جانتے ہیں کیوں؟؟
    کیونکہ زمین کسی ستارے سے ٹکرانے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گی۔

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پورے چاند کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پورے چاند کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر


    پورا چاند جو صرف رات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    بائبل میں یہ اصرار کیا جاتا ہے کہ عیسی علیہ السلام ایک بلند جگہ سے پوری زمین(دنیا) کو دیکھ سکتے ہیں (میتھیو 4:8)
    لیکن ایسا تبھی ممکن ہونا تھا اگر دنیا فلیٹ(چٹیل میدان) ہوتی۔ اور اگر دنیا چٹیل میدان ہوتی تو ہر شخص ایک ہی وقت میں پورے چاند کو دیکھ سکتا تھا۔
    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے کیونکہ ہم پورے چاند کو صرف رات میں ہی دیکھ سکتے ہیں، دن کی روشنی میں نہیں۔

    پورا چاند دیکھنے کیلئے سورج، زمین اور چاند کا ایک ہی سیدھی لائن میں آنا ضروری ہے، جیسا کہ سب سے اوپر وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    پورا چاند دیکھنے کیلئے آپکو زمین کی رات والے حصے کی طرف ہونا ہوگا جو چاند کے سامنے ہوگی، زمین کے رات والے حصے کی طرف ہی پورا چاند دکھائی دے سکتا ہے کیونکہ زمین کی دوسری طرف والا حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اس لیے سورج کی روشنی میں پورا چاند دیکھنا ناممکن ہے اس لیے ان لوگوں کو زمین کو روٹیٹ(گردش) ہونے تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک زمین چاند کے سامنے نہیں آجاتی، اور زمین کے روٹیٹ ہونے کے بعد دن والا حصہ رات میں تبدیل ہوجائے گا، اس لیے پورا چاند رات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے، دن کی روشنی میں نہیں۔

    Reference:- Time and Date, Why is the Full moon in the Daytime?, 2019

    “دن کے وقت چاند پورا کیوں دکھائی دیتا ہے؟
    پورا چاند عین اس وقت دکھائی دیتا ہے جب سورج، اور چاند زمین کی مخالف سمت میں سیدھ(ایک ہی سمت یعنی لائن) میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اوپر میں دیکھا جا سکتا ہے،
    آپ time and date کی ویب سائٹ پہ جا کر اپنی لوکیشن پہ ظاہر ہونے والے چاند کی حالت معلوم کر سکتے ہیں کہ پورا چاند کب آپکی طرف دکھائی دے گا۔

    اس سیدھ میں آئے ہوئے چاند کی یہ حالت ٹیکنیکلی طور پہ SYZYGY کہلاتی ہے، اس ٹرم کا مطلب ہے کہ چاند یا کسی دوسرے سیارے کا سورج کے ساتھ ہی برج میں جمع ہونا ہےُ(یعنی ایک ہی لائن میں سیدھا)
    پورا چاند دکھائی دینے کے عین وقت، چاند زمین کے صرف رات والے حصے کی طرف کچھ مستثنیات کے ساتھ دکھائی دیتا ہے،

    شام میں پورا چاند دکھائی دینا
    جبکہ اب بھی آپ کے علاقے میں شام کے وقت جب چاند ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے تو وہ پورا دکھائی دیتا ہے۔
    پورے چاند کے مرحلے کے آس پاس، چاند آسمان میں سورج کے طلوع سے غروب تک دیکھا جاتا ہے،
    بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ پورے چاند اور سورج دونوں کو ایک ہی وقت میں مخالف سمت میں طلوع و غروب ہوتا دیکھ سکیں۔”

    جیسا کہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پورا چاند صرف سورج کے طلوع سے لے کر غروب تک دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ زمین سفیریکل یعنی انڈے(شتر مرغ کے) کی شکل میں ہے اس لیے دن کی روشنی میں پورا چاند دیکھنا ناممکن ہے، اسکے لیے لوگوں کو زمین کی گردش مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ چاند کے سامنے نہ آجائے،(اگر زمین چٹیل میدان ہوتی تو ہر کوئی ایک ہی وقت میں پورا چاند دیکھ سکتا تھا)۔
    یہ تحقیق حال ہی میں مکمل کی گئی ہے جبکہ یہ بات 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھی،

    Quran 84: 16-18

    (‎ (16پس شام کی سرخی کی قسم ہے۔
    (17) ‎اور رات کی اور جو کچھ اس نے سمیٹا۔
    (18‎) اور چاند کی جب کہ وہ پورا ہوجائے۔

    یہاں پہ پورے چاند کا ذکر رات کے ساتھ کیا گیا ہے اور اسکا یہی مطلب ہے کہ پورا چاند شام سے لے کر رات گئے تک دیکھا جا سکتا ہے مگر دن میں نہیں۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ یہ بات سہی ہے کیونکہ زمین سفیریکل شیپ میں ہے، چٹیل میدان(فلیٹ) نہیں ہے۔ قرآن میں کوئی غلطی نہیں۔

    ایک غیر معمولی شخص چودہ سو سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ پورا چاند صرف رات میں نظر آ سکتا ہے، دن میں نہیں؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جھوٹے دماغی حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جھوٹے دماغی حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    دماغ کا اگلا یعنی ابتدائی حصہ جھوٹ کو سنبھالتا ہے.

    کئی صدیوں سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انسانی دماغ کا اگلا حصہ آنکھوں کی نظر کو سنبھالتا ہے ,(کیونکہ عام طور پر یہ حصہ ہماری آنکھوں کے قریب ہوتا ہے اس لیے).
    لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ یہ تھیوری غلط ہے. تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی دماغ کا جو حصہ آنکھوں کی نظر کو کنٹرول کرتا ہے وہ حصہ پیچھے کی جانب ہے. دماغ کا اگلا حصہ جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے, پری فرنٹل کارٹیکس کہلاتا ہے.

    Reference:- Localisation of increased prefrontal white matter in pathological liars. Yang Y, Raine A, Narr KL, Lencz T, LaCasse L, Colletti P, Toga AW.  Br J Psychiatry. 2007 Feb;190:174-5. PubMed PMID: 17267937.

    پیتھالوجیکل جھوٹے( وہ اشخاص جو بغیر وجہ کے مسلسل جھوٹ بولتے ہیں, انہیں پیتھالوجیکل جھوٹا کہتے ہیں) میں سفید فام معاملہ (یعنی اگلا دماغی حصہ جسکا نام پری فرنٹل کارٹیکس ہے, جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے) زیادہ ہوتا ہے.
    "جھوٹ بولنے والے افراد کے دماغ کے درمیانی اور کم تر(انفیرئیر) حصے کی نسبتاً اگلے دماغی حصے میں وسیع پیمانے پہ (23 سے 36 فیصد) سفید فام ظاہر کیا گیا ہے, لیکن سپیریئر نامی حصے میں نہیں. اس سفید فام معاملے میں اضافے کی وجہ سے کچھ لوگ پیتھالوجیکل لائر (جو مسلسل جھوٹ بولتے ہیں) کا شکار ہوسکتے ہیں.”

    یعنی پیتھالوجیکل لائر لوگوں کے اگلے دماغی حصے پری فرنٹل کارٹیکس میں یہ سفید فام بہت زیادہ حد تک پایا جاتا ہے. جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے.
    مگر 1400 سال پہلے قرآن میں یہ پیشین گوئی کردی گئی تھی کہ نافرمان لوگ اپنی جھوٹی پیشانی(اگلے حصے) سے گھسیٹے جائیں گے.

    Quran 96:15, 16

    ہرگز ایسا نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹیں گے۔(العلق 15)

    (وہ)پیشانی(یعنی اگلا دماغی حصہ) جو جھوٹی (اور)خطا کار(ہے)۔(العلق 16)

    1400 سال پہلے غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ پیشانی میں جو اگلا دماغی حصہ ہے وہ جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • قرآن مجید میں زلزلے کا بیان   بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان

    زمین کا اپنی موجودہ جگہ سے اچانک ہِل جانا، زلزلہ کہلاتا ہے۔

    زلزلے زمین کی تھرتھراہٹ کو کہتے ہیں جو زمین کی اپنی جگہ سے اچانک ہلنے کے سبب آتے ہیں. یہ بات حال ہی میں معلوم ہوئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں کہا گیا,

    Quran 67:16
    اَاَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُ (الملک 16#)

    "کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس جب اچانک وہ تھرتھراہنے لگے۔”

    یَخْسِفَ کا عربی مطلب زمین میں دھنسا دینا اور زمین کو اسکی اپنی جگہ یا مقام سے اچانک ہِلا دینا, جبکہ تَمُوْر کا مطلب تھرتھراہٹ ہے, یہاں پہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہِلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے؟؟؟

    اصل میں زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں,
    1:- مین شاک
    2:- آفٹر شاک

    مین شاک وہ پہلا زلزلہ ہوتا ہے جو اپنی پوری طاقت سے آتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے, زلزلے کی زیادہ تر انرجی اسی مین شاک میں ضائع ہو جاتی ہے,
    اور باقی ماندہ انرجی آفٹر شاکس کی صورت میں ضائع ہوتی ہے جنہیں ہم زلزلے کے جھٹکے بھی کہتے ہیں.
    قرآن نے ان دونوں کی وضاحت کی ہے.

    Quran 79: 6-7

    يَوْمَ تَـرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (6)

    جس دن تھرتھراہنے والی(زمین) تھرتھراہے گی۔

    تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ (7)

    اس کے پیچھے آنے والی(تھرتھراہٹ جھٹکوں کی صورت میں) پیچھے آئے گی۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ آفٹر شاکس مین شاکس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں؟؟؟؟


    بقلم سلطان سکندر!!!

  • قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان  بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان۔

    Cataracts(موتیے کی بیماری)
    دماغی تناو سے مماثلت رکھتی ہے.

    کیٹاریکٹس(موتیےبند کی بیماری) کا مطلب آنکھوں کا دھندلاپن ہے.

    Reference:- Wikipedia, Cataract, 2019
    "کیٹاریکٹ آنکھ کے ڈیلے کا دھندلا جانا ہے جو نظر میں کمی کا باعث بنتا ہے. کیٹاریکٹ کی بیماری آہستگی سے بڑھتی ہے اور ایک یا دونوں آنکھوں پہ اثرانداز ہوسکتی ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں دھندلا رنگ, دھندلاپن (بلَر) یا ڈبل وِژن(یعنی ایک چیز کا دو دو دفع نظر آنا), روشنی کے اردگرد ہالوز کا نظر آنا(جیسا کہ کمنٹ میں گاڑی کی ہیڈ لائٹس کو دیکھا جا سکتا ہے), تیز لائیٹ دیکھنے میں دقت ہونا اور رات کو دیکھنے میں دقت ہونا شامل ہے. اس میں ڈرائیونگ کرنے میں, کتاب پڑھنے میں اور چہرے پہچاننے میں بھی دقت ہونا شامل ہے. کیٹاریکٹ کی وجہ سے نظر میں کمی گرنے کے رجحان اور تناو کے رجحان کے بڑھنے کا بھی سبب بن سکتی ہے.”

    بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹ کی بیماری تناو کے ساتھ بھی مماثلت رکھتی ہے.

    Reference:- Vesan Health, Cataracts In Older Adults Linked To Depression, 2017
    "نئ سائنسی تعلیم کے مطابق جو آپٹومیٹری اینڈ وِژن سائنس کی طرف سے ایک جریدے میں شائع ہوئی ہے کہ
    بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹس کی بیماری تناو کی بیماری کی نشانیوں سے مماثلت رکھتی ہے. پوری دنیا میں, کیٹاریکٹ(موتیے) کی بیماری نظر کم کرنے میں پہلے نمبر پہ ہے. مایو کلینِک کے مطابق, تقریباً آدھے امریکیوں کو ساٹھ سال کی عمر میں جا کر کچھ ڈگری کا موتیابند(کیٹاریکٹس) ہوجاتا ہے. تناو, جس سے ہر عمر کے لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے, عموماً بڑی عمر کے بالغ لوگوں میں یہ کچھ زیادہ ہی پایا جانے لگا ہے.”

    یعنی بڑی عمر کے لوگوں یعنی بزرگوں میں موتیےبند کی بیماری تناو کی بیماری سے بھی مماثلت رکھتی ہے.
    لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ بات کہہ دی گئی تھی,
    یوسف علیہ کے واقعے میں, انکے والد کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں جبکہ وہ تناو کا شکار تھے.

    Quran: 12:84
    وَتَوَلّـٰى عَنْـهُـمْ وَقَالَ يَآ اَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْـمٌ (یوسف 84#)

    اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں(موتیےبند کا شکار ہوگئیں, نظر چلی گئی) جب وہ سخت غمگین(تناو کا شکار) ہوا۔

    جب انکی آنکھیں موتیےبند کا شکار ہوئی تھیں تو وہ تب کافی بوڑھے تھے.
    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ بڑھاپے میں موتیےپن(کیٹاریکٹس) کی بیماری کا تعلق تناو کی بیماری سے بھی ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • "جان ہے تو جہان ہے”   تحریر: اسد اللہ ، فیصل آباد

    "جان ہے تو جہان ہے” تحریر: اسد اللہ ، فیصل آباد

    "جان ہے تو جہان ہے”
    اسد اللہ ، فیصل آباد

    یہ ضرب المثل ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں لیکن اس کا حقیقی معنی صرف وہ جانتا تھا جسے کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ گزرے ہوئے وقت کو یاد کرکے سوچتا کہ وہ بھی کیا وقت تھا جب مجھ میں توانائیاں تھیں میں جوان تھا اور آج میرا توانا جسم بے جان پڑا ہے اور آج مجھے دنیا و مافیہا سے کیا لینا دینا۔ پہلے زمانے میں اس کہاوت سے بہت تھوڑے لوگ واقف تھے لیکن جیسے ہی دنیا نے کیلنڈر کا صفحہ سنہ دو ہزار بیس کیلئے پلٹا تو پوری دنیا کو ہی اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ چائنا سے سر اٹھانے والے کرونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا بھر کے ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کردیں اور ہر طرح کی کاروباری و سفارتی سرگرمیاں دنیا بھر میں جمود کا شکار ہو گئیں۔ دنیا کے بیش تر ممالک نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے شہریوں کو گھروں تک محدود کرنے کیلئے لاک ڈاؤن حتیٰ کہ کرفیو تک لگا دیا۔ اس صورتحال میں پاکستانی حکام نے بھی ملک بھر میں لاک ڈاون لگایا جو کہ باقی دنیا کے برعکس ایک انوکھا لاک ڈاون تھا۔ باقی دنیا میں لاک ڈاون کے دوران ہر طرح کی تجارتی و معاشرتی سرگرمیوں پر سختی سے پابندی تھی لیکن پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران چھپ چھپا کے کاروبار جاری رہا اور لوگ حسب معمول بے دھڑک سڑکوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ اس دوران پولیس اور دکانداروں کے درمیان بلی چوہے کا کھیل بھی جاری رہا جس کا فائدہ پولیس کو ہوا کہ لاک ڈاؤن کے دوران دکانداروں کو کام کی اجازت کے عوض انہیں کافی کچھ ملتا رہا۔ لاک ڈاون تقریباً دو ماہ تک جاری رہا لیکن ملکی سطح پر شدید عوامی ردعمل کی وجہ سے حکومت کو لاک ڈاؤن کھولنا پڑا۔ حکومت کی جانب سے عید سے قبل کھولے گئے لاک ڈاؤن کے حولناک نتائج اب سب کے سامنے آچکے ہیں ہر روز ہزاروں لوگوں میں کرونا کی تشخیص ہو رہی ہے اور بہت سے علاقوں میں روزانہ اموات کی خبریں بھی زبان زد عام ہیں۔
    اس طرح کے بہت سے واقعات بھی دیکھنے کو آئے ہیں کہ لواحقین کرونا ٹیسٹ کروانا ہی نہیں چاہتے۔ ان کے مریض نزلہ، بخار اور سانس میں دشواری جیسی پیچیدگیوں کے باوجود بھی گھروں میں پڑے رہتے ہیں اور اس طرح ایسے لاپرواہ لوگ چند دن میں ہی اپنے پیاروں کو کھو بیٹھتے ہیں۔ سوچئے کہ یہ کس قسم کا بخار ہے جس کے ساتھ مریض دو چار دن میں ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ محض بخار ہی ہوتا ہے یا ان مریضوں کی موت میں کرونا کا بھی عمل دخل بھی ہے۔
    حال ہی میں ایک واقعہ میرے علم میں آیا کہ ایک مریض کو انجیکشن لگا کر مار دیا گیا ہے۔ ایسے واقعات پہلے بھی نظر سے گزرے تھے لیکن جب یہ واقعہ میرے خود کے حلقہ احباب میں ہوا تو اس کی تہہ تک جانے کی ٹھانی۔ تھوڑی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ایکٹمرا نامی انجیکشن فی الوقت سب سے اچھا علاج مانا جاتا ہے جو اس وقت کرونا کے مریضوں کے علاج کیلئے امید کی آخری کرن بن چکا ہے۔ یہ انجیکشن جس کی قیمت کافی زیادہ ہے سرکاری ہسپتالوں میں مفت بھی لگایا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں یہ انجیکشن مفت ملتا ہے لیکن پرائیویٹ ہسپتالوں میں جب کوئی کرونا کا مریض آتا ہے تو اسے عالمی تجاویز کے مطابق یہی انجیکشن تجویز کر دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس انجیکشن کی فی الوقت قیمت ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ آجکل ہماری عوام اپنے مریضوں کو سرکاری ہسپتال لے جانے سے ڈرتے ہیں اور جب وہ اپنا مریض پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرواتے ہیں تو ڈاکٹروں کی جانب سے باقی ادویہ کے ساتھ انجیکشن بھی منگوائے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پلازمہ لگانے کی تجویز بھی دی جاتی ہے۔ یہ انجیکشن اس وقت پاکستان میں بری طرح کمیاب ہوچکا ہے اس لئے اس کی تلاش میں مریض کے ورثاء پہلے خود جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں سے، شہر بھر کی فارمیسی والوں سے اور آخر میں ہول سیل کی بلیک مارکیٹ مافیا والوں سے منتیں کرتے ہیں کہ یہ انجیکشن ہمیں ہر صورت چاہیے۔ زیادہ تر کو وہ مارکیٹ سے نہیں ملتا کیونکہ یہ انجیکشن صرف کرونا کیلئے مختص ہسپتالوں کو دیا جا رہا ہے مریض کے لواحقین کو جب یہ انجیکشن نہیں ملتا تو ہسپتال انتظامیہ خود سے اس انجیکشن کا انتظام کرکے مریض کو لگا دیتی ہے۔ جب سے ٹیکہ لگا کر مارنے کا معاملہ زور پکڑنے لگا ہے تب سے اکثر پرائیویٹ ہسپتال کے ڈاکٹر یہ انجیکشن لگانے سے پہلے ورثا سے اجازت نامے پر دستخط بھی لینے لگے ہیں تاکہ ورثاء کو علم ہو کہ دراصل ان کے مریضوں کو لگائے جارہے انجیکشن اور ادویہ کونسی ہیں اور یہ ادویہ انکے مریض کی بہتری کیلئے لکھی جاتی ہیں ناکہ اس میں ڈاکٹرز کا کوئی ذاتی فائدہ و لالچ ہے۔
    ایسے لوگ جو اپنے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے جاتے ہیں انہیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہر پرائیویٹ ہسپتال کا یومیہ بل پانچ سے دس ہزار تک ہوسکتا ہے جو کہ عام فہم و معمول کی بات ہے اور جب یہی مریض انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا جاتا ہے تو ہر دن کا بل دوگنا سے بھی کہیں بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ہوتا یہ ہے کہ قریب المرگ مریض جوکہ مقامی طور پر تمام ٹوٹکے اور تمام حربے آزما کر ہسپتال میں لایا گیا ہوتا ہے وہ چار پانچ دن انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد اپنی سانسوں کی روانی کھو دیتا ہے۔ جیسے ہی مریض مرتا ہے، زہر کے ٹیکے کا اصل کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
    مریض کے مرنے کے فوراً بعد پرائیویٹ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈیڑھ دو لاکھ کے ایکٹمرا انجیکشن اور آئی سی یو چارجز کے ساتھ چار پانچ لاکھ کا بل ورثاء کو تھمایا جاتا یے اور اس بل کو دیکھتے ہی ورثاء واویلہ شروع کر دیتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے ٹیکہ لگا کر ہمارا مریض مار دیا اور اب یہ ڈاکٹر ہم سے میت کے پانچ لاکھ مانگتے ہیں۔ سستی شہرت کے متلاشی سوشل میڈیائی ہیرو جو آجکل ہر جگہ وافر موجود ہیں وہ اپنا موبائل کیمرہ لے کر میدان میں آ ٹپکتے ہیں اور رپورٹنگ کر کے عوام کو گمراہ کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھئے اس مریض کے ورثاء سے میت کے پانچ لاکھ مانگے جارہے ہیں یہ لوگ اچھا بھلا مریض لے کر آئے تھے اور ڈاکٹروں نے ہمارے مریض کو زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا ہے۔ ہماری بھولی بھالی عوام اس متوفی کے غم میں یہ بات بھول ہی جاتی ہے کہ اگر یہ اچھا بھلا بندہ تھا تو ہسپتال لایا ہی کیوں گیا اور اگر مریض کے ورثاء مہنگے علاج کی سکت نہ رکھتے تھے تو مہنگے ہسپتال میں لے کر ہی کیوں گئے؟
    میں یہ نہیں کہتا کہ پرائیویٹ ہسپتال والے دودھ کے دھلے ہیں لیکن یہ بات تو ہر کسی کو پتہ ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج سستا نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کا مفت علاج اور مفت کرونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن ڈر کے مارے لوگ اپنے مریضوں کو سرکاری ہسپتال لے جانا ہی نہیں چاہتے
    اور جب پرائیویٹ ہسپتال میں مریض مرجاتا ہے تو لواحقین پرائیویٹ ہسپتال کے اس بل سے جان خلاسی کروانا چاہتے ہیں۔
    اب تک سوشل میڈیا پر ایسی جتنی بھی ویڈیوز دیکھنے میں آئیں جن میں مبینہ طور پر میت کے بدلے پانچ لاکھ کا تقاضہ یا ذہر کا ٹیکہ لگانے کی جذباتی رپورٹنگ کی گئی اس کا کوئی سر پیر نہیں ملتا اور ان رپورٹروں کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے نام والے لوگو کے ساتھ وائرل ہوئی ویڈیو کے بابت جب اس چینل سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ شخص نہ تو انکا نمائندہ ہے اور نہ ہی انکا ادارہ اسے جانتا ہے۔
    یہ وقت غلط خبریں پھیلانے کا نہیں ہے کیونکہ کرونا کا مرض اس وقت ملک پاکستان میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ اب ہر خاص و عام اس کی لپیٹ میں ہے لیکن عوامی غفلت اپنے عروج پر ہے۔ لوگ ڈر کے مارے اپنے مریضوں کا ٹیسٹ نہیں کرواتے بلکہ کرونا کی تمام تر علامات ظاہر ہونے کے باوجود مریض کو گھر پر ہی رکھے رکھتے ہیں اور جب صورتحال قابو سے باہر ہو جاتی ہے تو ہسپتال کا رخ کرتے ہیں اور جب انکا مریض جان سے جاتا ہے تو اپنی لاپرواہی و غفلت کی خفت مٹانے کیلئے کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے مریض کی رپورٹ تو نیگیٹو تھی۔
    شروع شروع میں کرونا کے وجود سے انکاری عوام کو اب سمجھ آجانی چاہیے کہ اس وقت ملک میں ہر روز کرونا کیسز کا ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہا ہے۔ صرف گزشتہ 24گھنٹوں میں 6ہزار 825 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اس طرح ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 39ہزار 230 ہوچکی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے اب تک 2632 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا کے نئے کیسز کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر آ چکا ہے اور ایکٹیو کیسز کے لحاظ سے بھی پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔
    یاد رہے کہ دسیوں پاکستانی ڈاکٹرز اب تک اس مرض سے لڑتے لڑتے اپنی جان دے چکے ہیں اور سیکڑوں ڈاکٹر اس وائرس کا شکار ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمارے مریضوں کا علاج کرنے میں لگے ہیں لیکن ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ ہم انہی ڈاکٹروں پر ڈالر لینے اور ٹیکہ لگا کر مارنے جیسے بے تکے الزامات لگاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی کے حلقہ احباب میں کئی ڈاکٹر ہوں گے زرا آنکھیں بند کر کے دل پر ہاتھ رکھ کر ان ڈاکٹروں کے متعلق سوچئے کہ ان میں سے کون ایسا ہے جو کسی دکھی شخص کی جان اپنے ہاتھوں سے لینے کی ہمت رکھتا ہو؟ کون اتنا سنگدل و ظالم ہے جو کسی کو ذہر کا ٹیکہ لگا سکتا ہو؟
    پانچ لاکھ کا شور تو سنتے ہیں لیکن پانچ لاکھ دے کر میت لانے والا کوئی شخص ملے تو ہمیں بھی بتائیے یا کوئی شخص مجھے اس بات کا ثبوت ہی لا دے کہ ان ڈاکٹروں کو کسی کی جان لینے پر ڈالرز کہاں سے ملتے ہیں تاکہ اپنی جیب سے ماسک اور حفاظتی لباس خریدنے والے تمام ڈاکٹروں کو ان ڈالروں کا پتہ چل سکے۔
    خدارا کوشش کیجئے کہ مایوسیوں اور افراتفری کے اس دور میں آپکی پھیلائی ہوئی کسی خبر کی وجہ سے کسی کا نقصان نہ ہو جائے۔ کوئی بھی خبر ہو اس کی جانچ کیجیے، اس کو ہر طرح سے پرکھئے اور یہی قرآن کا اسلوب ہے کہ:
    اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔
    (سورہ الحجرات آية : 6)

  • قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریرجویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!!  بقلم سلطان سکندر!!!

    بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!! بقلم سلطان سکندر!!!

    بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!!

    Sea Breeze
    (سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یعنی
    ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,

    سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.

    Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
    "ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”

    سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے

    اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
    یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.


    یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
    یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
    Quran 81:18
    وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ (التکویر 18#)
    اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)

    لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)

    اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

  • قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان  بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعیُن کا بیان بقلم سُلطان سکندر

    قرآن میں جنس کے تعین کا بیان۔

    Gender
    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ جنس XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر جنس XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔


    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے نیچے دی گئی تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46
    وَاَنَّهٝ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الـذَّكَـرَ وَالْاُنْثٰى (النجم 45)
    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔

    مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى (النجم 46)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

  • ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!! بقلم سُلطان سکندر

    ایگزوپلینٹ کا قرآن میں بیان!!!

    Exoplanets
    ایسے سیارے جو ہمارے نظام شمسی(سورج کی روشنی) سے باہر یعنی دور ہیں۔

    1400 سال پہلے لوگ زمین، چاند اور سورج کے بارے میں تو جانتے تھے لیکن ان باقی سیاروں کے بارے میں نہیں جانتے تھے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ہیں، آخر کار کافی عرصے بعد جا کر ماہرین فلکیات نے معلوم کیا کہ ان تینوں سیاروں(یعنی زمین، چاند، سورج) کے علاوہ اور بھی کئی سیارے موجود ہیں۔
    جب سائنسدانوں نے زمین کے علاوہ باقی سیاروں پہ زندگی کیلئے تلاش شروع کی تو انہوں نے صرف وہ سیارے تلاش کرنا چاہے جن پہ پانی ہو کیونکہ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔

    Reference:- Universe Today, Water Discovered in the Atmosphere of an Exoplanet in the Habitable zone. It Might Be Rain, 2019

    "ہبل خلائی دوربین کا استعمال کرنے والے ماہرین فلکیات نے اپنے ستارے کے رہائش پزیر زون میں ایک ایکسوپلینٹ(بغیر نظام شمسی والا سیارہ) کی فضا میں پانی کو تلاش کیا ہے۔ اگر تصدیق ہوجاتی ہے ، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب ہمیں زندگی کے لئے پانی کا ایک اہم جزو ملا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ایکسویلینٹ پر ہے۔ پانی کو آبی بخارات کے طور پر دریافت کیا گیا ہے لیکن سیارے کے درجہ حرارت کے مطابق اگر سیارہ پتھریلا ہے تو یہ اپنے اوپر پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ K2-18B کہلاتا ہے، اور یہ روشنی سے 110 سال دور ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہ سیارہ ایک سپر ارتھ ہے، اور یہ زمین سے 2 گنا زیادہ بڑا ہے۔ اور بڑے پیمانے پر 8 گنا زیادہ بڑا ہے۔ یہ K2-18B سیارہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے, یہ سب سے پہلے 2015 میں کیپلر سپیس دوربین کے ذریعے دریافت کیا گیا تھا۔”

    ایک ایکسوپلینٹ جو رہائش پذیر زون میں پانی کی موجودگی کے ساتھ 2015ء میں دریافت کیا گیا تھا،
    تاہم قرآن میں اسکی دریافت سے تقریبا 1400 سال پہلے اس بات کی تصویر کشی کر دی گئی تھی۔

    Quran 21:30
    اَوَلَمْ يَرَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانبیاء 30)

    "کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے تمام زندگیوں کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔؟”

    قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام زندگیاں جو زمین پہ ہیں اور باقی تمام زمینیں، پانی پہ منحصر ہیں۔

    ایک اور آیت کے مطابق، زمینیں 7 مختلف قسم کی ہیں اور ہر ایک زمین کا اپنا سیارہ ہے ارتھ(زمین) کی طرح۔

    Quran 65:12
    اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَّّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَـهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَـهُنَّ لِتَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّاَنَّ اللّـٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا (الطلاق 12)

    "اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمینیں بھی اتنی ہی، ان میں حکم نازل ہوا کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ نے ہر چیز کو علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔”

    ساتوں زمینوں کے ہماری زمین کی طرح اپنے خود کے سیارے موجود ہیں۔ آج ماہرین فلکیات نے زمین کی طرح کا سیارہ دریافت کر لیا ہے جس پہ پانی یعنی زندگی موجود ہے، جو کہ ایکسوپلینٹ کہلاتا ہے۔

    لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ،
    1400 سال پہلے کا ایک غیر معمولی انسان کیسے ایکسوپلینٹ کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟

    بقلم سلطان سکندر !!!