Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ بقلم سلطان سکندر

    سائنس(فزکس) میں بیان کی گئی "حرکت(ورک)” کا قرآن میں تذکرہ

    ورک کسی چیز کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے کی وجہ سے فورسز(قوت) کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) ہے ،

    فزکس کی زبان میں کشش ثقل (گریویٹی) کے خلاف کام کرنا، فورسز یا وزن کا بڑھ جانا(ملٹی پلائی ہوجانا) کہلاتا ہے۔
    مثال کے طور پر تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک آدمی راڈ میں پلیٹیں ڈالے اسے اٹھائے ہوئے کھڑا ہے، اب اس راڈ پہ وہ فورس بھی لگ رہی ہے جسکے ذریعے اس آدمی نے اسے اٹھا رکھا ہے اور اسکے علاوہ اس راڈ پہ کشش ثقل(گریویٹی) فورس بھی لگ رہی ہے کہ اگر یہ انسان اس راڈ کو چھوڑ دے تو یہ راڈ آزادانہ طور پر زمین پر آ گرے،
    دوسری طرف اگر یہ راڈ زمین پہ پڑا ہو تو اس پہ صرف ایک فورس کام کر رہی ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ زمین پہ پڑا رہتا ہے اور وہ فورس ہے کشش ثقل(گریویٹی)، تو ثابت ہوا کہ کسی بھی شے کو اسکے قائم مقام سے ہٹانے سے فورسز ملٹی پلائی یعنی بڑھ جاتی ہیں۔

    Work by Gravity
    "جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہے یا اونچائی سے گرائی جاتی ہے تو باقی فورسز کی عدم موجودگی میں اور کشش ثقل (گریویٹیشنل فورس) کے نتیجے میں اس چیز کی رفتار میں آزادانہ طور پر تیزی آتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ چیز سطح زمین کے قریب پہنچتی ہے تو کشش ثقل کی وجہ سے اسکی رفتار g = 9.8 m.s-2 یعنی 0.098m.s ہوتی ہے اور کسی چیز کے وزن پہ کشش ثقل fg = mg کہلاتی ہے۔ یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کشش ثقل کسی بھی شے کے وزن کے مرکز پہ مرکوز(کنسنٹریٹ) ہوتی ہے۔ اگر کسی شے کو اسکے قائم مقام سے اوپر کی طرف یا نیچے کی طرف ہلایا جائے تو دونوں طرف کی جگہیں y1-y2 کہلاتی ہیں مثلا اب اگر راڈ زمین پہ پڑا ہوا ہے تو وہ y1 جگہ کہلائے گی اور ایک آدمی جہاں تک یہ راڈ اٹھائے گا تو وہ y2 جگہ کہلائے گی(جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے)، کسی شے پہ اس کے وزن mg کے مطابق اس پہ فورس کام(W= Work) کرتی ہے۔

    W = Fg (y2-y1) = Fg Δy = – mg Δy

    اس فارمولے میں fg وزن(امپیرئیل یونٹ میں پاونڈ اور ایس آئی یونٹ میں نیوٹن) کو ظاہر کرتا ہے اور Δy اونچائی y میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ غور کریں کہ کشش ثقل(گریویٹی) کے ذریعے کیا گیا کام اس شے کے عمودی یعنی ورٹیکلی(اوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف ) حرکت کرنے پہ منحصر ہوتا ہے۔ ایک شے پہ اسکے وزن کے ذریعے کیے گئے کام پہ فرکشن فورس کی موجودگی اثرانداز نہیں ہوتی۔”
    Reference:- Wikipedia, Work (Physics), 2019

    کشش ثقل کے خلاف کام کرتے عام طور پر کسی شے کو اسکی جگہ سے یعنی اسکے قائم مقام سے ہلانے کی وجہ سے فورسز(قوت) یا اسکا وزن بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں بیان کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہ قرآن میں اسکا ذکر کر دیا گیا تھا،
    Quran 99:7-8
    "فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ (7)

    پھر جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) نیکی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔

    وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ (8)
    اور جس نے ذرہ بھر(جتنی بھاری, weight) برائی کا کام(work) کیا وہ اس کو دیکھ لے گا۔”

    یہاں پہ "عْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) اور "يَّعْمَلْ” کا مطلب کام(ورک) کرنا ہے۔ اور یہاں پہ کام(ورک) کا وزن(mg) سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ جتنی زیادہ برائیوں والے کام کرے گا اسکا برا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور جتنی زیادہ اچھائیوں والے کام کرے گا اسکا اچھا اعمال نامہ بھاری ہوتا جائے گا اور حساب تو ہوگا ہی ترازو کے ذریعے یعنی وزن تول کر،

    1400 سال پہ غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ وزن(weight) کا اور کام(work) کا آپس میں گہرا تعلق ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان  تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان تحریر: بقلم سلطان سکندر!!!

    Terminal Velocity in Quran
    فری فال کی تیز ترین رفتار کا قرآن میں بیان

    فری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔

    "ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
    مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.


    سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
    دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار مندرجہ ذیل(کمنٹ میں) بیان کی گئی ہے۔

    پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
    Quran 22:31
    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔

    لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • Microburst: Threat to Aviation (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ)   تحریر :  سلطان سکندر!

    Microburst: Threat to Aviation (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ) تحریر : سلطان سکندر!

    Microburst: Threat to Aviation
    (ہوائی جہازوں کیلئے خطرہ) : بقلم سلطان سکندر!

    جدید تحقیق اور قرآن مجید کے مطابق مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے خطرہ
    👇🏻

    آسمانی کتاب بائبل "four winds” کے بارے میں بیان کرتی ہے، جس کا مطلب ہے زمین کے چاروں کونوں سے ہوا کا چلنا ہے، یعنی ایک ہوا جب ساوتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ زمین کے چاروں کونوں سے چلتی ہے تو اسے فار ونڈز کہتے ہیں، اگرچہ یہ غلط ثابت ہوا لیکن بائبل دراصل زمینی سطح کی ہوا کے متعلق بات کر رہی ہے۔
    زمینی سطح کی ہوائیں زمین کی طرف پیرالل یعنی متوازن(برابر) حرکت کرتی ہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس ہوا کے متوازن ٹکراو کو نہیں جانتا تھا جو زمین کو آ کر ٹکراتی ہیں۔ تاہم آج اس موسم کے مظاہر(ہوا، بادل، بارش، فوگ، مٹی کا طوفان وغیرہ) نے ہوابازی کی صنعت(جہاز بنانے والی انڈسٹریوں) کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    "مائیکروبرسٹ کا مطلب چھوٹے پیمانے پر ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا ہے جو مٹی کے طوفان یا مسلسل تیز بارش کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ مائیکرو برسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں
    1:- ویٹ(گیلا) مائکروبرسٹ (بارش میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا)
    2:- ڈرائی(خشک) مائیکروبرسٹ(مٹی کے طوفان میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا)
    یہ اپنے چکر میں تین حالتوں سے گزرتے ہیں، ڈاون برسٹ (ہوا کا نیچے کی طرف شدید جھکاو)، آوٹ برسٹ (پھاڑ دینے والا طوفان)، جھٹکے دار طوفان یعنی جس میں ہوا کے اچانک تیز جھونکے رونما ہوتے ہوں۔
    یہ مائیکروبرسٹ (ہوائی طوفان) خاص طور پر ہوائی جہاز کیلئے بہت خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاز کی لینڈنگ کے وقت جب ہوا کا جھونکا سامنے سے جہاز کو ٹکراتا ہے تو یہ اسکے لیے بہت مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
    پچھلی کچھ دہائیوں سے ہوائی جہازوں کے کئی تاریخی حادثات موسم کے مظاہر کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں، جہاز کے عملے کی بڑے پیمانے پہ تربیت اسی بات پہ ہوتی ہے کہ موسم کے ان مظاہر یعنی مائیکروبرسٹ اور مشکلات میں ہوائی جہاز کو کیسے بہتر طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

    مائیکروبرسٹ عام طور پر بہت ہی تیز اور شدید ہواؤں پہ مشتمل ہوتا ہے جو بڑے بڑے اونچے درختوں کو زمین پہ گرا دیتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر کچھ سیکنڈز سے کچھ منٹس تک جاری رہتا ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Microburst, 2018

    یہ شدید ڈاون کرافٹ(ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا اور زمین کو ٹکرا کر پھیل جانا) زمین کو ٹکراتا ہے اور درختوں کو گرا دیتا ہے، یہ متعدد انسانی اموات کے ساتھ ہوا بازی(ہوائی جہازوں) کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی یہ درج تھا،

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے” یہاں پہ ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنے اور زمین سے ٹکرانے کی بات ہو رہی ہے یعنی ڈاون ڈرافٹ۔

    قرآن کے مطابق یہ ڈاون ڈرافٹ ہوا میں انسانوں کیلئے خطرہ ہے(ہوائی جہازوں کے کریش ہونے کی صورت میں)۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے ہوا میں خطرے کا باعث ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے یہ کیسے جان سکتا ہے کہ ایک ڈاون ڈرافٹ(ہوا کا دباو) بھی ہوتا ہے جو زمین سے ٹکراتا ہے اور تو اور ہوا میں بھی انسانوں کے خطرے کا باعث بنتا ہے جبکہ 1400 سال پہلے جہاز موجود ہی نہیں تھے؟

  • ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر  بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر بقلم سلطان سکندر!!!

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے) کا قرآن مجید میں ذکر

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔
    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    حُنَفَآءَ لِلّـٰهِ غَيْـرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْـرُ اَوْ تَهْوِىْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔


    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • Keraunoparalysis  ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے. بقلم سلطان سکندر!!!

    Keraunoparalysis
    ایک عارضی مفلوج پن کی بیماری ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے لگتی ہے.

    Keraunoparalysis
    Kerauno- ("Lightning”) + paralysis

    ناؤن keraunoparalysis(دوائی) آسمانی بجلی گرنے کے بعد اعضاء میں ہونے والی عارضی کمزوری, سردی اور جِلد کے بدبودار ہونے پر استعمال کی جاتی ہے.

    یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کہتا ہے کہ ایک 50 سالہ آدمی ہمارے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں لایا گیا جس پہ آسمانی بجلی گری جب وہ بجلی کے طوفان کے دوران درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا, وہ 15 منٹ تک بےحال پڑا رہا اور 15 منٹ بعد جب اسکی حالت ٹھیک ہونا شروع ہوئی تو وہ اپنے نچلے دونوں اعضاء(ٹانگیں پاؤں وغیرہ) ہلانے کے قابل نہ رہا تھا اور ساتھ ساتھ حساسیت (سینسیشن) اور یورینری ریٹنشن(پیشاب برقرار رکھنے کا سسٹم) کو بھی کھو چکا تھا.

    آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن ہوتا ہے. یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے سے یہ بات کتاب قرآن مجید میں موجود ہے کہ

    Quran 51:44-45
    فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّـهِـمْ فَاَخَذَتْهُـمُ الصَّاعِقَةُ وَهُـمْ يَنْظُرُوْنَ (44)

    پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی تو ان کو بجلی نے آ پکڑا اور وہ دیکھ رہے تھے۔

    فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّمَا كَانُـوْا مُنْتَصِرِيْنَ (45)

    پھر نہ تو وہ اٹھ(نقل و حرکت) ہی سکے اور نہ وہ کوئی مدد ہی لے سکے۔”

    "پھر نہ وہ اٹھ سکے” آج ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اٹھ سکے, یہ keraunoparalysis ہے, جو آسمانی بجلی لگنے سے عارضی طور پر مفلوج پن کا سبب بنتا ہے.

    سوال یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا غیر معمولی شخص kerunoparalysis کے بارے میں کیسے جان سکتا ہے؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں

    فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔ جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
    Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
    جو
    Euler-Liljestrand mechanism
    کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
    alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
    کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,

    یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
    یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.

    Quran: 6/125
    فَمَنْ يُّرِدِ اللّـٰهُ اَنْ يَّـهْدِيَهٝ يَشْرَحْ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّـهٝ يَجْعَلْ صَدْرَهٝ ضَيِّـقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّـٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانعام 125)

    "سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”

    یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
    ‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.

    اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاؤ کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.

    آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
    آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,

    آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.

    Cyanosis (سائنوسِس)
    جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
    جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
    سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.

    آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.

    Quran: 20/102
    يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ ۚ وَنَحْشُـرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا (طہٰ 102)
    "اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”

    مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.

    Hypoxia
    کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.

    Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
    بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاؤ کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
    دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
    دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
    ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
    ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
    سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.

    موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
    یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.

    Quran: 75/29
    وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (القیامہ 29)
    "اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”

    ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.

    قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.

    Quran: 75/2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (الحج 2)
    "جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”

    مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
    Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
    ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
    دماغ کا ایک حصہ جسے
    Brain’s occipital cortex
    کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ

    Quran: 20/124
    وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِىْ فَاِنَّ لَـهٝ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُـرُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمٰى (124)

    اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟

    قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.

    Quran: 14/16-17
    مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّـمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍ (ابراہیم 16)
    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

    يَتَجَرَّعُهٝ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٝ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ (ابراہیم 17)
    جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

    "گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.

    گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
    Quran: 88/6
    لَّيْسَ لَـهُـمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْـعٍ (6)

    "ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”

    وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟

    یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!!

  • آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں تحریر بقلم محمد ارسلان!!!

    آ نکھ کی پتلی کی شرارتیں

    Eye Pupil in Quran
    انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنی آنکھ کی پُتلی(جسے پیوپلز کہتے ہیں) کے سائز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، یہ ایک غیر اختیاری/ارادی عمل ہے:


    خودمختاری اعصابی نظام (اے این ایس) جسمانی افعال کو منظم کرتا ہے جو بغیر کسی کنٹرول (غیر ارادی عمل) کے وقوع پذیر ہوتا ہے.
    اس سسٹم کی دو برانچیں ہیں۔

    i: The sympathetic nervous system
    ii: Parasympathetic nervous system

    دونوں برانچوں کو مختصر سی سٹیٹمنٹس میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ
    The sympathetic system
    اڑنے یا لڑنے والے حالات میں کام کرتا ہے جبکہ
    Parasympathetic nervous system
    آرام کرنے اور کھانا ہضم کرنے کے عمل میں کام کرتا ہے
    عام لفظوں میں
    The sympathetic nervous system
    آپکی حفاظت کیلئے اور خطرات سے بچنے کیلئے آپکے جسم کو ہدایت دیتا ہے جبکہ
    The Parasympathetic nervous system
    آپکی انرجی کو محفوظ کرنے اور آرام کرنے کی ہدایات آپکے جسم کو دیتا ہے جیسا کہ بہترین ہاضمہ اور بہترین اور پرسکون نیند سونا۔
    عام طور پر آپکی پریشانیوں اور کشیدگیوں میں کہیں نہ کہیں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے(یہاں تک کہ آپ بہترین جھوٹ بولنے والے انسان بن جاتے ہیں)، کیونکہ آپ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آپکے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے۔
    اور یہی ڈر آپکے "sympathetic nervous system” کو چلاتا ہے جسکی وجہ سے آپکے جسم میں کچھ اثرات پیدا ہوتے ہیں
    Sympathetic nervous system
    کا آنکھ میں متحرک ہونے کی وجہ سے آئرس میں ایک مسل جسکا نام "پیوپلری ڈائلیٹر مسل” ھے وہ حرکت میں آتا ہے اور پیوپل کے سائز کو چوڑائی کی شکل میں بڑھا دیتا ہے جیسا کہ ہم حیرانگی کی صورت میں آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھول لیتے ہیں,
    اسکے نتیجے میں ایک بیماری "Mydriasis” لاحق ہوجاتی ہے جسکا مطلب ہے آنکھ کی پُتلی کا غیر معمولی پھیلاؤ۔
    جبکہ دوسری صورت میں جب Parasympathetic system چالو ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں آنکھ کی پُتلی میں سکڑاو آجاتا ہے۔
    مختصراً جہاں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہاں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور یہی پریشانی sympathetic system کو چلانے کی وجہ بنتی ہے،
    مختصراً جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو پیوپل کمزور ہوجاتا ہے۔
    لہذا جھوٹ والے لوگ منہ سے تو جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن وہ اپنے پیوپل(آنکھ کی پُتلی) کو کنٹرول نہیں کر سکتے( جیسا کہ اکثر ہم چہرے سے پہچان لیے جاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں)
    جیسا کہ 1400 سال پہلے ہی قرآن میں بیان کر دیا گیا:

    يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ (40:19 غافر)
    "وہ آنکھوں کے دھوکے اور دل کے بھید جانتا ہے”
    ۔
    اور ہم جانتے ہیں کہ پیوپل(آنکھ کی پُتلی) جھوٹوں کو دھوکا دیتی ہے کیونکہ جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے وقت آنکھ کی پُتلی کی حرکت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ
    1400 سال قبل رہنے والے ایک غیر معمولی شخص(محمد) کس طرح جان سکتے ہیں کہ اپکے پیوپل آپکو دھوکہ دیتے ہیں جب آپ جھوٹ بولتے ہیں؟؟؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے

    بقلم محمد ارسلان!!!

  • معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط 2: قرآن میں روشنی کی رفتار کا ذکر تحریر ؛ محمد ارسلان

    معجزات قرآن قسط نمبر 2

    فرشتوں کا روشنی کی رفتار کے مطابق سفر کرنا 👇

    مومنوں (مسلمانوں) کا خیال ہے کہ فرشتے کم کثافت(low density) مخلوق ہیں،
    اور خدا نے انہیں روشنی(نور) سے پیدا کیا ہے۔
    وہ صفر(0) کی رفتار سے لے کر روشنی کی رفتار تک کا سفر کرتے ہیں۔
    یہ فرشتے ہیں جو خدا کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔
    فرشتے خدا کے عرش کی بجائے خلاء میں کسی محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) سے احکامات لیتے ہیں۔
    وہ اس محفوظ جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ ہر وقت منسلک ہوتے ہیں تاکہ خدا سے اپنے لیے احکامات یہاں سے لیے جائیں۔
    مندرجہ ذیل آیات میں قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) کے ساتھ منسلک فرشتے کیسے سفر کرتے ہیں۔
    اور وہ رفتار جسکے ذریعے وہ اس خاص جگہ(سدرتہ المنتحی) سے رابطہ کرتے ہیں، کیسے روشنی کی رفتار کہلاتی ہے۔

    يُدَبِّـرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُـمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِىْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٝٓ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (السجدہ 5#)
    "وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر یہ حکم/معاملہ(فرشتے کے ذریعے) اسے(مطلوبہ جگہ) صرف ایک دن میں پہنچا دیا جاتا ہے اور وہ ایک دن تمہارے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔”
    ۔
    مطلب فرشتہ جو ایک دن میں سفر کرتا ہے ہم وہی سفر ایک ہزار سال میں پورا کر سکتے ہیں۔ یہ فرشتے ہیں جو یہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔
    پچھلے لوگوں نے فاصلے کو صرف چلنے کی مقدار میں ماپا نہ کہ کلومیٹر کے سکیل یا میل کے سکیل میں، مثال کے طور پر
    اگر ایک گاوں دو دن کے فاصلے پر ہے تو اسکا مطلب یہ تھا کہ اس گاؤں تک پہنچنے کیلئے دو دن چلنا پڑے گا، یا 10 دن کے فاصلے پر ہے تو دس دن چلنا پڑے گا۔
    اسی طرح قرآن نے فرشتوں کے ایک دن کے سفر کرنے کی رفتار 1000 سال بتائی ہے، یعنی فرشتہ ایک دن میں 1000 سال کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
    پھر پچھلے لوگوں نے لونر کیلنڈر(چاند کا کیلنڈر) کو اپنا لیا جسکے ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں۔
    یہ مہینے چاند سے متعلق ہیں نہ کہ سورج کے متعلق۔
    چونکہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں، اسی طرح ایک ہزار سال میں 12000 مہینے ہوں گے۔
    یہ آیت اس فاصلے کا حوالہ دے رہی ہے کہ خدا یہ کہتا ہے کہ چاند 12000 مہینوں تک جتنا سفر طے کرتا ہے، اتنا ہی سفر فرشتہ ایک دن میں طے کرلیتا ہے
    اور یہ دریافت کیا جا چکا ہے کہ "چاند کا 12000 مہینوں کا سفر”، روشنی کی رفتار کے برابر ہے.
    #سکندریات

    معجزات قرآن قسط 1 ؛ مادے کی اکثریت سے کالے سوراخ کا تشکیل پانا ؛ بقلم: سلطان سکندر!!!

  • کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ،تحریر؛ حبیب الرحمن

    کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ، حبیب الرحمن

    قدیم اطباء کلونجی اور اس کے بیجوں کے بھی استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے تھے۔

    کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباً سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔کلونجی کی فصل حاصل کرنے کے لئے اس کی باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ اس کے پھول زردی مائل، بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا بیج سمجھتے ہیں۔ اصلی کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ لگ جاتے ہیں۔ ہر شاخ کے اوپر سیاہ دانے دار بیج ہوتے ہیں۔ اسی بیج کے حصول کے لئے بھارت، بنگلہ دیش، ترکی، وغیرہ میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں پیلے رنگ کا مادہ کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں ، جو نظام انہظام کے لیے مفید ہیں۔ یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔ کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباً ۲۱ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میں کارگر ہوتے ہیں۔ اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    مختلف امراض میں کلونجی کے تیل کی استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔

    1.دمہ، کھانسی اور الرجی: ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔

    2.ذیابیطس (شوگر): ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ذیابیطس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ اگر معمول کے مطابق پائیں تو ادویہ کا استعمال بند کر کے اس نسخہ کو چالیس روز تک جاری رکھیں۔ مکمل شفا کے بعد نسخہ کا استعمال بند کر دیں۔

    3.دل کا دورہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار دس دن تک استعمال کریں۔ دس دن کے بعد مزید دس دن یومیہ ایک مرتبہ استعمال کریں۔

    4.پولیو اور لقوہ: ایک کپ گرم پانی میں ایک چمچہ شہد، نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ بچوں کو گرم پانی میں دو چمچے دودھ اور تین قطرے کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین مرتبہ پلائیں۔ علاج۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    5.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔

    6.بد ہضمی، گیس، پیٹ کا درد: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ موٹاپا دور کر نے کے لئے بھی یہی نسخہ کا آمد ہے۔

    7.آنکھوں کے امراض: آنکھوں کا سرخ ہونا، پانی بہنا، کمزوری بصارت وغیرہ کی صورت میں ایک کپ گاجر کے عرق میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار اور بینگن سے پرہیز کریں۔

    8. امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد): دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں ، اچار، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے تو ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔

    9.یادداشت میں کمی: یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔

    10.درد گردہ: ۲۵۰ گرام کلونجی کے بیج کو پیس کر ایک کپ شہد میں اچھی طرح ملا لیں۔ دو چمچہ اس آمیزہ کو نصف پیالی پانی میں ملا کر اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں ایک بار پئیں۔ علاج کو بیس روز تک جاری رکھیں۔

    11.عام جسمانی کمزوری:نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہو جاتے ہیں۔

    12.دردِ سر: پیشانی اور کانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔

    13.بلند فشار خون: گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔

    14.بالو ں کا گرنا: نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ ۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے

    15.عام بخار: آدھے کپ پانی میں نصف چمچہ نیمبو کا عرق اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ بخار اترنے تک یہ نسخہ جاری رکھیں اور چاولوں سے پرہیز کریں۔

    16.گردے میں پتھری:ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل پئیں۔ ٹماٹر اور پالک اور لیمن سے پرہیز کریں۔

    17.کانوں میں درد، پیپ کا بہنا، سماعت میں کمی: کلونجی کے تیل کو گرم کر کے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔

    18.دانتوں کے امراض: دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میں ایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔

    19.کثرتِ احتلام: مردوں میں کثرت احتلام کی صورت میں ایک پیالی سیب کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج ۲۱ روز تک جاری رکھیں اور گرم مسالہ والے کھانوں سے پرہیز کریں

    20.خون کی کمی (انیمیا): پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں۔

    21.یرقان (پیلیا): ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔

    22.کھانسی: ایک پیالی گرم پانی میں دو چمچے شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات کھانے کے بعد استعمال کریں۔ علاج دو ہفتہ تک جاری رکھیں ، ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔

    23.حملہ قلب (ہارٹ اٹیک): دل کے والو کی بندش، سانس لینے میں دقت، ٹھنڈا پسینہ اور دل پر دباؤ کی صورت میں ایک پیالی بکری کا دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۲۱ دن تک جاری رکھیں۔

    24.زچگی: بچہ کی پیدائش کے بعد ذہنی کمزوری، تھکاوٹ اور اخراجِ خون جیسے امراض میں ایک پیالی کھیرے کے جوس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے سے قبل استعمال کریں۔ یہ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    25.پیٹ میں کیڑے: ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل، دوپہر اور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔

    26.جوڑوں کا درد: ایک چمچہ سرکہ اور دو چمچہ شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ جوڑوں کی تِل کے تیل سے مالش بھی کریں۔ ۲۱ دن تک گیس آور خوراک سے پرہیز کریں۔

    27.جسمانی صحت: صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک کلو گرام گندم کے آٹے میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر روٹی بنائیں اور کھائیں۔ ان شاء اللہ صحت برقرار رہے گی۔

    28.چہرہ اور جلد کی شادابی کے لئے: دو بڑے چمچہ شہد، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور نصف چائے کا چمچہ زیتون کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح اور شام چہرہ پر ۴۰ دن تک لگائیں۔

    29.بواسیر: ایک چمچہ سرکہ اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر بواسیر کی جگہ پر دن میں دو بار لگائیں۔

    30. ماہواری میں بے ترتیبی: ایک چمچہ شہد اور نصف چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات میں دو ہفتہ تک پئیں۔

    31.بے خوابی: آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعد نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔

    32.سستی : چست رہنے کیلئے روزانہ صبح ناشتہ سے قبل نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دو چمچہ شہد کے ساتھ استعمال کریں۔

    33.شیرِ مادر: ماں کے دودھ میں اضافہ کے لئے ایک پیالی دودھ میں دو قطرے کلونجی تیل ڈال کر صبح ناشتہ سے قبل اور رات سونے پیشتر پئیں۔

    34.درد معدہ : ہر قسم کے درد معدہ کو رفع کرنے کے لئے میٹھے سنگترہ کے ایک گلاس جوس میں دو چمچہ شہد اور نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔

    35.جوڑوں کے درد، کمر درد، گردن میں درد: دو عدد خشک انجیر کھا کر ایک پیالی دودھ میں چار قطرے کلونجی کا تیل ڈال کر پئیں اور اس کے بعد دو گھنٹہ تک کچھ نہ کھائیں۔ یہ علاج دو ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو اور ٹماٹر سے پرہیز کریں۔

    36. رحم کے مسائل: بچہ دانی کے مختلف امراض میں نصف گڈی پودینہ کا عرق، ۲ چمچہ مصری کا سفوف میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر صبح ناشتہ سے قبل استعمال کریں۔ علاج ۴۰ دن تک جاری رکھیں۔

    37.دانتوں میں درد: سوتے وقت روئی کے پھاہے کو کلونجی کے تیل میں گیلا کر کے متاثرہ حصہ میں رکھ دیں۔

    38.کانوں کی تکالیف کے لئے: ایک چائے کے چمچہ کلونجی کے تیل کو ایک بڑے چمچ زیتون کے تیل میں ملا کر اچھی طرح گرم کر لیں۔ پھر ٹھنڈا کر کے سوتے وقت اس کے دو تین قطرے کانوں میں ڈال لیں۔ فوری افاقہ ہو گا۔

    39.جگر و معدہ کے امراض:دو سَو گرام شہد میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اچھی طرح ملا کر اس آمیزہ کا نصف صبح ناشتہ سے قبل اور نصف شام میں استعمال کریں۔ ایک ماہ تک اس نسخہ کو استعمال کریں اور ترش اشیاء سے پرہیز کریں۔

    40.مٹاپا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں دو چمچہ شہد نیم گرم پانی میں حل کر کے دن میں دو بار پئیں چاول سے پرہیز کریں

    41.ہکلانا، تتلانا: نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچے شہد اچھی طرح ملا کر اسے زبان کے اوپر دن میں دو بار رکھیں۔

    42.خشکی: دس گرام کلونجی کا تیل، تیس گرام زیتون کا تیل اور تیس گرام منہدی سفوف کو اچھی طرح ملا کر تھوڑا سا گرم کریں۔ ٹھنڈا ہونے پر اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
    دیسی نسخہ جات،جنسی و جسمانی بیماریوں کا علاج جڑی بوٹیوں کے فوائد اور بہترین تحریروں کے لئے ہمارا پیج لاٗیک کیجئے.اپنے دوستوں کو بھی شیئر کریں… شکریہ

  • قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]—–از—جویریہ چوہدری

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "کئی فتنے ایسے ہوں گے،جن میں بیٹھے رہنے والا،کھڑے رہنے والے سے اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا،جو شخص دور سے بھی ان کو جھانکے گا،وہ اس کو بھی سمیٹ لیں گے،اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ یا بچاؤ کا مقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔

    قیامت سے پہلے جھوٹے نبیوں اور دجالوں کا ظہور ہو گا ہر ایک چھوٹا ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرے گا کہ وہی اللّٰہ کا نبی ہے۔(صحیح بخاری)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کے لیئے بہتر مال یہ ہو گا کہ وہ چند بکریاں لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر چلا جائے،اپنا دین فتنوں سے بچانے کو بھاگتا پھرے…”(صحیح بخاری)۔

    زمانہ قریب ہو جائے گا(یعنی وقت بہت تیزی سے گزر جائے گا،سال مہینوں کی مانند اور مہینے ہفتہ کی طرح محسوس ہوں گے)۔(صحیح بخاری)۔

    علم گھٹ جائے گا ہر طرف جہالت پھیل جائے گی،حتیٰ کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے…
    ہرج بڑھ جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ نے عرض کی یا رسول اللّٰہ!
    ہرج کیا ہے ؟
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "خونریزی”…
    ہرج حبشی کا لفظ کا لفظ ہے جس کا مطلب خونریزی ہے۔

    (صحیح بخاری_کتاب العلم وکتاب الفتن)۔
    بدکاری و فحاشی کھلم کھلا ہو گی۔(صحیح بخاری)
    شراب اعلانیہ پی جائے گی(صحیح بخاری)۔

    لوگ اسے نام بدل کر پیئیں گے اور حلال سمجھیں گے(صحیح بخاری)۔
    آج مسلمان کتنے دھڑلے سے شراب پیتے ہیں گویا وہ حلال ہے،شادی و خوشی کے مواقع پر،ناچ گانے کے مواقع پر…
    ہوٹلوں،کلبوں میں…ڈیروں، پنچائتوں میں…

    وہ شراب جس کے بارے میں ہمارا رب ہمیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہے:
    اے ایمان والو__!!!
    شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں،ان سے بالکل الگ رہو تاکہ فلاح یاب ہو”۔(المآئدۃ:90)۔
    ہمارا رب ہمیں فلاح کی راہ دکھا رہا ہے مگر ہم اس سے منہ موڑ کر کس چیز کا سودا کر رہے ہیں؟
    گمراہی و گھاٹے کا ناں ؟
    لاریب کہ رب کی بتائی ہوئی راہوں کے برعکس راہیں ہمیشہ سے گمراہی و ناکامی والی ہیں…!!!
    اعاذنا اللّٰہ منھا__!

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا،ریشم اور گانے بجانے کو درست کر لیں گے۔(صحیح بخاری)۔

    ایسے لوگوں کو اللّٰہ زمین م دھنسا دے گا اور کچھ کی صورتیں مسخ کر دے گا وہ قیامت تک اسی صورت میں رہیں گے…!!!
    (ابن ماجہ__کتاب الفتن)۔

    مسلم ممالک میں بھی آج میوزک کنسرٹ کے نام پر گانے بجانے کی جو مشقیں ہوتی ہیں وہ بھی اہلِ عقل سے ہر گز پوشیدہ نہیں ہیں…چاہے نفسانی خواہشات سے مغلوب انسان اسے ذہنی تفریح طبع کہے یا موسیقی کو روح کی غذا،
    لیکن اللّٰہ تعالٰی نے اور ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنہیں اللّٰہ تعالٰی نے رحمتِ عالم بنا کر بھیجا وہ اس چیز سے منع فرما رہے ہیں یہ لہو و لعب ہے،یہ دل میں نفاق پیدا کرنے کا باعث ہے۔۔۔
    یہ دل کو اللّٰہ تعالٰی کی یاد سے غافل کرنے کی وجہ ہے جبکہ اللّٰہ تعالٰی دلوں کے سکون کا راز یہ بتا رہا ہے:
    اَلَا بذکراللہ تطمئن القلوب¤

    سن لو __
    دلوں کا اطمینان صرف اللّٰہ کی یاد و ذکر میں ہے(الرعد)۔
    مسلمان معاشرے میں امر المعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ بااحسن نبھایا جانا چاہیئے اور اس چیز کے روحانی و اخلاقی نقصانات سے آگاہ کیا جانا چاہیئے جو آج انٹر ٹینمنٹ کی آڑ میں کھلی فحاشی صورت میں ہماری زندگیوں میں سرایت کر گئے…اور ہم اسے محسوس کرنے سے بھی قاصر ہیں یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔

    اسی چیز سے آگے بڑھ کر فحاشی و عریانی جنم لیتی ہے…بے پردگی کو رواج ملتا ہے اور جسم و لباس کی زیبائش و آرائش کا بھوت سوار ہو جاتا ہے
    عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی نظر آتی ہیں…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جو عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی وہ جنت کو دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی،حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اور اتنے فاصلے سے محسوس کی جا سکے گی۔
    (صحیح مسلم)۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    دیکھو بہت سی عورتیں جو دنیا میں پہنے ہوئے مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔(صحیح بخاری__کتاب الفتن)۔
    (ایسی عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود بھی ننگی نظر آتی ہیں)۔
    فحاشی و عریانی ہی پھر آگے بڑھ کر بدکاری کی راہیں ہموار کرتی ہیں…
    اور کوئی بھی معاشرہ ان کے مضر اثرات سے اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو جاتا ہے…!!!

    قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہر آنے والا وقت پہلے وقت سے بدتر ہو گا(صحیح بخاری)۔

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی،جب تک ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر پر گزر کر یوں نہ کہے گا کاش میں اس کی جگہ میں(قبر میں) ہوتا__”
    (صحیح بخاری)۔

    (جاری ہے…)
    ==============================

    قیامت کی علاماتِ صغریٰ،کبریٰ،امام مہدی اور فتنۂ دجال__!!![قسط:2]
    تحریر:(جویریہ چوہدری)۔