Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • ملک بھرمیں موسلادھاربارشیں،برف باری،بلوچستان  میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ،الرٹ جاری

    ملک بھرمیں موسلادھاربارشیں،برف باری،بلوچستان میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ،الرٹ جاری

    ملک کے بالائی علاقے مغربی ہواؤں کے زیراثر ہیں، گلگت بلتستان، ناران کاغان، گلیات، مری اور سوات میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 31 جنوری سے 04 فروری کے دوران ملک میں مزید بارش اوربرفباری جبکہ چند مقامات پر شدید بارش برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے 02،03 فروری کو موسلادھار بارش کے باعث بلوچستان کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے

    محکمہ موسمیات کے مطا بق مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک پر اثر انداز ہو رہا ہےجو 04 فروری تک برقرار رہے گا۔جس کے باعث بلوچستان میں 02 اور 03 فروری کو نوکنڈی، دالبندین، چاغی، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت، کیچ، گوادر، جیوانی، پسنی، اورماڑہ، پنجگور، خاران، نوشکی، واشک، مستونگ، سبی، نصیر آباد، ژوب، شیرانی، بارکھان، موسیٰ خیل، کوہلو، جھل مگسی، لورالائی، زیارت، کوئٹہ، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان۔اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش بھی متوقع۔

    گلگت بلتستان اورکشمیر میں 31جنوری سے04 فروری کے دوران گلگت بلتستان (دیامیر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گا نچھے، شگر)، کشمیر (وادی نیلم، مظفر آباد، پونچھ، ہٹیاں،باغ،حویلی،سدھنوتی، کوٹلی،بھمبر،میر پور) میں وقفے وقفے سے درمیانی سے تیز موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان۔

    خیبر پختونخوا میں 31جنوری سے04 فروری کے دوران چترال، دیر، سوات، ایبٹ آباد ، مانسہرہ،ہری پور، کوہستان ، شانگلہ، بونیر، کرک،خیبر، پشاور،چارسدہ، نوشہرہ،صوابی، بونیر، باجوڑ،کرم ، وزیرستان ،کوہاٹ ،بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں وقفے وقفے سے درمیانی سے تیز موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان۔

    پنجاب اوراسلام آباد میں 31جنوری سے01 فروری ،03 اور04 فروری کے دوران مری اورگلیات میں وقفے وقفے سے درمیانی سے تیز بارش اور برفباری متوقع ہے۔ 31جنوری سے01 فروری ،03 اور04 فروری کے دوران اسلام آباد،راولپنڈی،خطۂ پوٹھوہار ، منڈی بہاؤالدین، میانوالی، خوشاب، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، قصور، ساہیوال اور اوکاڑہ میں ہلکی سے درمیانی بارش کی توقع۔ جبکہ ملتان، بھکر، لیہ، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں بھی 02 اور03 فروری کو بارش کی توقع ہے۔

    سندھ میں 02 اور03 فروری کو سکھر، لاڑکانہ، دادو، میرپورخاص، کراچی، شہید بینظیر آباد، جیکب آباد اور کشمور میں ہلکی سے درمیانی بارش کی توقع۔ جبکہ صوبہ کے دیگر علاقوں میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہے گا ۔

    02 اور 03 فروری کو موسلا دھار بارشوں کے باعث بارکھان، کوہلو، سبی، نصیر آباد، دالبندین اور خضدار کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے
    31 جنوری اور 01 فروری کو مری، گلیات، ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، اسکردو، وادی نیلم، باغ، پونچھ اور حویلی میں درمیانی سے شدیدبارش/ برفباری سے لینڈ سلائیڈنگ اوررابطہ سڑکیں بند ہونے کا خدشہ طاہرکیا گیا ہےاورتمام متعلقہ اداروں کو اس دوران” الرٹ “رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے

  • چترال:ٹھنڈے سیارے کیلئے نوجوان کے عنوان سے موسمیاتی تبدیلی پر ایک روزہ سیمینار

    چترال:ٹھنڈے سیارے کیلئے نوجوان کے عنوان سے موسمیاتی تبدیلی پر ایک روزہ سیمینار

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حمادفاروقی ) چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلی اور موحولیاتی تغیر پر ایک روزہ سیمنیار منعقد ہوا جس کا موضوع تھا ” Youth for a cooler planet”یعنی ٹھنڈے سیارے کیلیے نوجوان۔

    اس سیمینار میں ماحولیاتی ماہر حامد احمد میر نے موسمیاتی تبدیلی کا ماحولیات پر اثرات اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا میں رونما ہوانے والی تبدیلیوں کے بارے میں پریزنٹیشن پیش کی۔

    ماہرین نے کہا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں ہزاروں کارخانے کاربن ڈائی آکسایڈ اور زہریلی گیس حارج کرتے ہیں مگر پاکستان میں کارخانے نہایت کم ہیں اور پھر چترال میں کارخانے نہ ہونے کے برابر ہیں مگر اس کے باوجود ان ممالک میں کارخانوں سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے چترال جیسے پسماندہ اضلاع بھی متاثر ہورہے ہیں۔

    ماہرین نے کہا کہ گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت کی وجہ سے چترال کے پہاڑوں پر پڑے ہوئےصدیورں پرانے گلیشئر پھٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے اچانک سیلاب آتے ہیں جو بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

    ماہرین نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنے اس سیارے یعنی دنیا کو عالمی حدت اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچانے کیلیے زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں نقصان کی شرح کم سے کم ہوسکے

    سیمنار کے دوران محتلف شعبوں کے ماہرین نے پینلسٹ کے طور پر گفتگو کی اور شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دئے۔ شرکاء نے گلوف ٹو پراجیکٹ پر اعتراض کیا کہ وہ آٹھ ارب روپے کی خطیر رقم سے چلنے والا ایک ایسا منصوبہ ہے کہ پہاڑوں پر گلیشیر پھٹنے کے نقصانات سے لوگوں کو بچاسکے مگر وہ صرف زبانی جمع خرچ پر پیسہ خرچ کرتے ہیں مگر عملی کام نظر نہیں آتا

    جس پر چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین عاجز نے کہا کہ یہ آدھا سچ ہے ہمیں گلوف ٹو پراجیکٹ کے تعاون سے حال ہی میں چترال اور سوات ، دیر میں مختلف علاقوں کا دورہ کروایا گیا جہاں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے گلوف ٹو پراجیکٹ کے تحت حفاظتی دیواریں، آبپاشی کی نہریں، کمیونٹی ہال اور ارلی وارننگ سسٹم کی مشنری بھی لگائی گئی ہے۔

    سیمنیار میں بتایا گیا کہ چترال کے لوگ کھانا پکانے اور سردیوں میں خود کو گرم رکھنے کیلئے اکثر لکڑی جلاتے ہیں جس سے ایک طرف اگر دھواں اٹھتا ہے تو دوسری جانب اس سے جنگلات پر بھی بہت زیادہ بوجھ پرتاے جو ماحولیات پر نہایت منفی اثرات ڈالتے ہیں۔

    حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے لوگوں کو متبادل ایندھن کے طور پر اگر سستی بجلی یا گیس فراہم کی جائی تو جنگلات پر بوجھ کم سے کم ہوگا اور ہم قدرتی آفات کی صورت میں نقصانات سے بھی بچ سکیں گے۔

    شجاع الحق نے کہا کہ اس سیمنار کا بنیادی مقصد عوام میں اور خاص کر نوجوان طبقے میں آگاہی دینا تھا کہ وہ اپنے ماحول کو کیسے منفی اثرات سے بچاسکتے ہیں۔

    نسرین بی بی کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو اس میں بچے اور خواتین زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور خاص کر وہ خواتین جو حاملہ ہوں وہ دوڑ بھی نہیں سکتیں تو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ماحول کو ان منفی اثرات سے بچانے کیلئے کلیدی کردار ادا کریں تاکہ ہم قدرتی آفات کی صورت میں نقصانات سے بچ سکیں۔

    اس سیمنار میں کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی جو اس دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ اللہ تعالی وطن عزیز پاکستان کو ہر قسم کے شر اور قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔

  • اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور  غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم مسائل میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا جبکہ عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں تاہم عاکمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ اوسط میں ہونے والی اس موسمیاتی کانفرنس کی متحدہ عرب امارات نومبر میں میزبانی کرے گا اور خطے میں غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیجی ملک ، اپنے وسیع وسائل سمیت تکنیکی ترقی اور اس مسئلے پر فعال وکالت کے ساتھ ، ممکنہ طور پر خطے میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کی جنگ کی قیادت کرسکتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    بین الاقوامی ریڈ کراس کے ماہر کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاس اس مسئلے کے حل کیلئے وسائل موجود ہیں اور وہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی تیزی سے اقدام بھی کرسکتا اور اسکی وجہ سے وہ کوپ 28 کے بعد غذائی تحفظ اور اقدامات پر بحث کی قیادت کرنے کی بہترین پوزیشن میں بھی ہے۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی ایسا ملک نہیں جس کے پاس خوراک کی وافر مقدار ہو جو غذائی تحفظ پر بات چیت کی قیادت کرے تاہم یہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک ہے جو روزانہ کی بنیاد پراس سے نمٹ رہا ہے اور اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے لیکن مشرق اوسط میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی اسباب پانی کی قلت، غیر مستحکم معیشتیں اور خوراک کی درآمدات پر بھاری انحصار ہے۔

    تاہم موسمیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اصل چیلنج ٹیکنالوجی کو سستی اور مقامی آبادی کے لیے آسانی سے اپنانے کے قابل بنانا ہے کیونکہ بہت سے خلیجی ممالک میں زرعی صنعت کاری میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے لیکن اس سے صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز نتائج برآمد ہوں گے جب کوششیں صرف غریبوں کے حق میں ہوں اور ضرورت مندوں کیلئے محنت کی جائے یا انہیں ترجیح دی جائے، غذائی عدم تحفظ کو کامیابی سے کم کرنے کے لیے خطے کے رہنماؤں کو سب سے زیادہ کمزور اور متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے جامع پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا جو کوپ 28 کے موضوعات میں سے ایک ہے۔

  • ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خطہ ٔپوٹھوہارسمیت پنجاب، شمال مشرقی اورجنوبی بلو چستان ،خیبر پختونخوا اورسندھ میں آندھی، تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ مزیدموسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خطہ پوٹھوہار،اسلام آباد،پنجاب، سندھ، شمال مشرقی/جنوبی بلوچستان ،خیبر پختونخوا،کشمیر اورگلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقا مات پر موسلادھار بارش بھی ہوئی،جبکہ زیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق نوکنڈی اور دالبندین میںدرجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔

    محکمہ موسمیات نے مزید کہا ہے کہ 22 سے26 جولائی کےدوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ اورلاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ جبکہ مری،گلیات،کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد، راولپنڈی /اسلام آباد کے مقا می ندی نالوں جبکہ 22 اور 23 جولائی کے دوران ڈیرہ غازی خان اور شمال مشرقی اورجنوبی بلوچستان کے علاقوں بشمول(بارکھان ،کوہلو،شیرانی، ہرنائی،بولان،لورالائی، خضدار، لسبیلہ،کیچ،تربت،آواران،پسنی،اورماڑہ،گوادار اورگردونواح) کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار
    تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس
    محکمہ موسمیات کے مطابق22سے 24 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث زیریں سندھ( تھرپارکر ، عمرکوٹ ، میرپور خاص، سانگھڑ ، خیرپور، ، کشمور، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، کراچی اور حیدرآباد )کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔

  • ایران؛ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہیٹ انڈیکس 66C

    ایران؛ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہیٹ انڈیکس 66C

    خلیج فارس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہیٹ انڈیکس 66C تک پہنچ گیا ہےجبکہ ویدر زون ڈاٹ کام کے مطابق زمین پر رہنے والے زیادہ تر لوگ کبھی بھی ایران کے خلیج فارس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی گرمی کو کبھی برداشت یا پھر ایسی گرمی سے نہیں گزرے ہوں گے.

    رپورٹ کے مطابق انتہائی بلند درجہ حرارت اور وافر فضائی نمی کا ایک نایاب امتزاج ایران کے جنوبی ساحلی پٹی کے ساتھ جابرانہ گرمی پیدا کرتا ہے، جب کہ ہوا کے درجہ حرارت کے مشاہدات سے ہمیں اس بارے میں اچھا اندازہ ہوتا ہے کہ باہر کتنی گرمی ہے، دوسرے عناصر جیسے ہوا اور نمی بھی اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ موسم ہمارے جسم کو کتنا گرم محسوس ہوتا ہے۔ عام طور پر، ہوا کا موسم ہمیں ٹھنڈا اور مرطوب موسم ہمیں زیادہ گرم محسوس کرتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    ایشیا کپ سے متعلق معاملات طے پا گئے، میگا ٹورنامنٹ کا آغازکہاں سے ہوگا؟
    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہنے والا شخص
    تحریک انصاف کے 44 اور ہمارے 14ماہ کا جائزہ لیا جائے،مریم اورنگزیب
    توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت 18 جولائی تک ملتوی
    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ماہرین موسمیات کے مطابق ان مساواتوں کا استعمال کرکے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موسم کتنا گرم یا ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے جو ہوا کے درجہ حرارت اور دیگر ماحولیاتی متغیرات کا عنصر ہے۔ گرم موسم کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقوں میں سے ایک کو ‘ہیٹ انڈیکس’ کہا جاتا ہے، جو ہوا کے درجہ حرارت اور نمی کو یکجا کرتا ہے۔

  • تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ تھرپارکر کے مختلف شہروں مٹھی، اسلام کوٹ، ننگرپارکر اور گردو نواح میں تیز بارش ہوئی تاہم اس دوران مٹھی میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ نواحی گاؤں ویڑی جھپ کے قریب اس وقت پیش آیا، جب ایک سو سے زائد افراد میلے میں شرکت کے لیے پیدل جا رہے تھے۔

    لاشوں اور زخمیوں کو مٹھی اسپتال منتقل کردیا گیا، سول اسپتال مٹھی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ لاڑکانہ میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا۔ دوسری جانب بلوچستان میں بھی بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، ژوب ، کوہلو اور جھل مگسی میں تیز بارش کے ساتھ ژالہ باری ہوئی، جس کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔

    ضلعی کچی کے علاقے بھاگ اور گردنواح میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، بارش کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آئی اور موسم خوشگوار ہوگیا۔ کوہلو میں بھی شہر اور گردنواح میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی۔

    جھل مگسی کے نواحی علاقے گوٹھ مٹھو میں اور مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری ہوئی جبکہ فصلات کو نقصان پہنچا، گنداواہ اور گردونواح ميں بھی گرج چمک کے ساتھ ہلکی ہلکی بارش ہوئی ہے۔ ژوب میں بھی شہر اور گردونواح میں تیز بارش اور ژالہ باری نے نظام زندگی درہم برہم کردیا ، بارش کے باعث دریائے ژوب کے مقام پر گاڑی پانی میں پھنس گئی۔

    کمشنر ژوب ڈویژن کی خصوصی ہدایت پر لیویز فورس نے گاڑی اور سواریوں کو ریسکیو کرلیا جبکہ سواریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ادھر محکمہ موسمیات کی جانب سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بالائی سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی اور مغربی علاقوں میں بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اسلام آباد میں پیر سے لے کر بدھ تک بارشوں کا امکان ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں بھکر، میانوالی، ڈی جی خان، ملتان، سرگودھا، جوہر آباد، خوشاب، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، فیصل آباد، ساہیوال، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، مری میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

  • سموگ بھٹوں میں غیر معیاری اشیاء جلانے،فصلوں کی باقیات کو جلانے،آلودہ ماحول اور فضائی کثافتوں کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے.اکرام ملک

    سموگ بھٹوں میں غیر معیاری اشیاء جلانے،فصلوں کی باقیات کو جلانے،آلودہ ماحول اور فضائی کثافتوں کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے.اکرام ملک

    باغی ٹی وی ، ڈیرہ غازیخان ( شہزادخان سے) پولیٹیکل اسسٹنٹ و کمانڈنٹ بی ایم پی محمد اکرام ملک نے کہا ہے کہ سموگ ماحول کو زہریلا بنانے کے علاوہ سانس کی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے جس کی روک تھام کیلئے ہر کسی کو اپنا کردار نبھانا ہوگا،وقت کا تقاضا ہے کہ اجتماعی کاوشیں بروئے کار لائی جائیں،ہر فرد قدرتی ماحول کو صاف و شفاف بناتے ہوئے تازہ آب و ہوا کیلئے اپنی حد تک وسائل کو خاطر میں لائے،فضائی کثافتوں کو کم کیا جائے۔انہوں نے یہ بات انسداد سموگ بارے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت غلام محمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم کوریہ،ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایچ اے شہزاد انور، کفیل الرحمن،ڈی او انڈسٹریز اصغر صدیقی، انفارمیشن آفیسر خالد رسول،سیکرٹری آر ٹی اے ثناء اللہ ریاض،انسپکٹر ماحولیات اظہر نواز ودیگر نے شرکت کی۔محمد اکرام ملک نے کہا کہ سموگ بھٹوں میں غیر معیاری اشیاء جلانے،فصلوں کی باقیات کو جلانے،آلودہ ماحول اور فضائی کثافتوں کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت تنہا سموگ سے نہیں نمٹ سکتی،ہمیں بحیثیت قوم اپنے بہتر مستقبل کیلئے انسداد سموگ کو ایک مشن کے طور پر لینا ہوگا،فصلوں کی باقیات کو ہرگز نہیں جلانا چاہیئے،انہیں پراپر طریقہ سے تلف کرنا ہوگا، فصلوں کو روٹاویٹر سے ناکارہ بناکر بطور کھاد استعمال میں لانا ہو گا،بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر مشتمل کرنا ہوگا،عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے زیادہ سے پودے اور درخت لگائے جائیں،انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کیخلاف ہمیں شعور اجاگر کرنا ہوگا،اس حوالے سے مساجد میں اعلانات کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر آگاہی سیشنزکاانعقاد کرناہوگا،خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کئے جائیں،آگاہی سیمنار میں شرکت کرنے والے کسانوں سے فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لینے کا حلف نامہ بھی لیا جائے،اس سے ہمارا ماحول بہتر اور شفاف ہوگا اور ہم قدرتی طور پر بیماریوں سے محفوظ بھی رہیں گے۔اس موقع پر سموگ سے آگاہی کیلئے حکمت عملی بھی طے کی گئی۔

  • پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں/پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں/پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیاہے
    ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، مغربی ہوائوں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں اتوار کو داخل ہو گا جس کے باعث 14 ستمبر تک لاہور، راولپنڈی،گوجرانوالہ،سرگودھا اور فیصل میں بارش کا امکان ہے۔مری، اٹک ،چکوال ،سیالکوٹ،نارووال، گجرات میں بارش کا امکان ہے جبکہ میانوالی،خوشاب،حافظ آباد،منڈی بہائوالدین اور جھنگ میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔ 13 اور 14 ستمبر کے دوران بھکر،لیہ،ڈی جی خان اور مظفر گڑھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور14 ستمبر تک وقفے وقفے اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کوخبردارکیا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھیں اور ضروری مشینری/ ڈی واٹرنگ سیٹ اور عملہ نکاسی آب کے لیے ہمہ وقت تیار رکھیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں.

  • سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاںبحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز، خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 75 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔ارسا حکام
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ارسا نے ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے دریاں اور بیراجز میں پانی کے بہا اور سیلابی صورتحال سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تاہم پانی کا بہا ئوکم ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تونسہ بیراج میں بہائو مزید بڑھ گیا اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔جب کہ گدو اور سکھر بیراجز پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    دوسری طرف این ڈی ایم ایکی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سیلابی ریلوں میں پھنسے اور مختلف علاقوں سے ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 51 ہزار 275 ہوگئی ہے جس میں سے 1634 افراد زخمی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ 10 لاکھ 51 ہزار سے زائد مکانات ملیامیٹ ہوگئے اور مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں کے باعث مرنے والے موشیوں کی تعداد 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد ہے۔

  • سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ:این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک ملک کے 116 اضلاع میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہے اور جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہیں دیہی علاقوں میں سات لاکھ مویشی بہہ گئے ہیں،صوبہ بلوچستان سیلاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیں، سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے تاہم یہاں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 22 لاکھ سے بھی زیادہ ہے . پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 16 اضلاع اور وہاں کی چار لاکھ 18 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے .خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے
    محکمہ موسمیات نے 26 اگست تک سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے
    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے۔

    پنجاب میں 15 جون سے 21 اگست تک مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ (پی ڈی ایم اے) نے تفصیلات جاری کر دی ہیں۔پنجاب کے 6 اضلاع کے 5 لاکھ 55 ہزار 893 علاقوں میں نقصان پہنچا، 69اسکول اور7 بنیادی مراکز صحت ڈوب گئے۔پی ڈی ایم اے کےمطابق راجن پور، ڈی جی خان، میانوالی، مظفرگڑھ، سیالکوٹ، لیہ سیلاب سے متاثر ہوئے، 2 لاکھ 1 ہزار 965 زرعی علاقے، 12 ہزار 628 گھر سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے

    بارش اورسیلاب سے 2 لاکھ سے زائد بڑے جانور، 2 ہزار 586 چھوٹے جانور ہلاک ہو ئے جبکہ سیلاب میں 37 سڑکیں، 8 پل پانی میں بہہ گئے جبکہ 7 نہریں تباہ ہوگئیں،پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 ہزار 264 افراد، 516 جانوروں کو سیلاب زدہ علاقوں سے ریسکیوکیا گیا، 147 طبی کیمپ اور متاثرہ افراد کیلئے 9 ہزار 355 کیمپ لگائے گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد جانوروں کو ویکسینیشن دی گئی، 19 ہزار839 افراد میں فوڈ ہیمپرز تقسیم کیے۔پی ڈی ایم کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اب بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں 551 ریسکیواہکار اور 84 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔