Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • کوہ سلیمان کے رودکوہی نالے بپھرنے لگے، ریلیف کیمپس قائم

    کوہ سلیمان کے رودکوہی نالے بپھرنے لگے، ریلیف کیمپس قائم

    کوہ سلیمان کے رودکوہی نالے بپھرنے لگے، ریلیف کیمپس قائم
    اس وقت 24000کیوسک پانی کاریلاگذررہاہے ۔سنگھڑ10394کیوسک ،سخی سرور10903کیوسک،مٹھاون ندی میں 19175کیوسک پانی بہہ رہاہے جبکہ رود کوہی وڈورمیں بھی بڑاسیلابی ریلاآنے کی اطلاع ہے ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کوہ سلیمان میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے برساتی ندی نالوں کے آنے کے پیشِ نظر رات گئے پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کوہ سلیمان نے رونگھن مٹھاون وڈور سخی سرور سمیت دیگر برساتی ندی نالوں کا دورہ کیا ہے۔ پی اے اکرام ملک برساتی ندی نالوں کے پیش نظر رات گئے خود حفاظتی اقدامات کی نگرانی ہر ممکن امداد کے لیے ریلیف کیمپس قائم کرکے قبائلی لوگوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔


    برساتی ندی نالوں میں بی ایم پی کو تعینات کیا گیا ہے۔ پی اے اکرام ملک نے قبائلی لوگوں کو حفاظتی مقامات میں منتقل کیا گیا ہے ،کوہ سلیمان میں برساتی ندی نالوں کے پانی کی مقدار حفاظتی اقدامات ریلیف قائم کا بارڈر ملٹری پولیس کے سربراہ کمانڈنٹ محمد اکرام ملک نے صبح سویرے وزٹ کیا۔ کمانڈنٹ محمد اکرام ملک صبح سویرے بارش تمام برساتی ندی نالوں کے روٹس لینڈ سلائیڈنگ ایریا کا تفصیلی معائنہ کیا ہے۔ وڈور مٹھاون سخی سرور سانگھڑ سمیت دیگر برساتی ندی نالوں کے وزٹ کے بعد کمانڈنٹ محمد اکرام ملک میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ آئیے آپ کو لیے چلتے ہیں۔اس وقت کوہ سلیمان سے بہنے والے ندی نالوں اور رودکوہیوں میں بہنے والی پانی تازہ پوزیشن کچھ اس طرح ہے درہ وہوا سے اس وقت 24000کیوسک پانی کاریلاگذررہاہے ۔سنگھڑ10394کیوسک ،سخی سرور10903کیوسک،مٹھاون ندی میں 19175کیوسک پانی بہہ رہاہے جبکہ رود کوہی وڈورمیں بھی بھی بڑاسیلابی ریلاآنے کی اطلاع ہے ۔ جہاں نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو وارننگ جاری کردی ہے۔راجن پور میںکوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے راجن پور برساتی نالوں میں طغیانی آگئی۔فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ کاہا سلطان اور نالہ چھاچھڑ سے سیلابی ریلا میدانی اور پچھاد کے علاقوں میں پہنچ گیا جبکہ چک شہید کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔قطب پل کا بھی بند ٹوٹنے سے بستی پنجابی ،بستی منجھو سمیت دیگر علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد حفاظتی بند مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔

    ادھرضلعی انتظامیہ ڈیرہ غازی خان نے رود کوہیوں کے سیلاب زدہ علاقوں کے تمام سکولوں کو فلڈ ریلیف کیمپس میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔تعلیم،ریونیو اور دیگر محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر انتظامات مکمل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کو ریلیف کیمپس میں منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے آبادیوں کو بچانے اور سیلابی ریلہ کے محفوظ انخلا کیلئے بستی ملنگا اور بستی گل محمد چانڈیہ کے نزدیک مانکا کینال کو اپنی نگرانی میں کٹ لگا کر نکاسی کو بھی یقینی بنایا انہوں نے ضلع کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقاتیں کرتے ہوئے ہرممکن تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر محمد عثمان انور نے وڈور اور سوری لنڈ کے سیلاب زدہ آبادی کیلئے نزدیکی سکولوں کی عمارتوں کو فلڈ ریلیف کیمپس میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔انہوں سیلابی ریلے سے آبادی نے اور قیمتی املاک کو بچانے کیلئے اپنی نگرانی میں بستی گل محمد چانڈیہ کے نزدیک مانکا کینال کو کٹ لگا کر نکاسی یقینی بنادی۔

    ڈپٹی کمشنر نے اہل علاقہ سے بھی ملاقاتیں کیں اور کسی بھی نقصان سے بچنے کیلئے آبادی، مویشی اور قیمتی سامان کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کی اور سیلاب زدہ بھائیوں کے ویڈیو پیغام بھی جاری کردیا۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے وڈور رود کوہی کے سیلاب سے متاثرہ علاقے بستی گل محمد اور بستی ملنگا کا دورہ کیا انہوں نے پل وڈور کے پانی سے متاثرہ علاقوں میں سیلابی پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ مقامی لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ڈپٹی کمشنر نے ماہرین کی تجویز اور آبادی کو بچانے کیلئے اپنی نگرانی میں بھاری مشینری کے ذریعے مانکا کینال کو کٹ لگا کر رود کوہی کے محفوظ انخلا کو یقینی بنایا ہے۔بستی ملنگا اور بستی گل محمد چانڈیہ کے نزدیک مانیکا کینال کو کٹ لگا کر نکاسی آب کو ممکن بنایا گیا ہے۔

  • کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے راستہ صاف کرنے کیلئے بھاری مشینری بھجوا دی ۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن محمد عثمان انور اور ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کی ہدایت پر پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے لینڈ سلائیڈنگ سے بند سخی سرور بغل چر روڈ صاف کرنے کیلئے بھاری مشینری لگادی ہے۔لودھی کے مقام پر ہیوی مشینری لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹا رہی ہے۔بارڈر ملٹری پولیس کے سرکل آفیسر حاجی زمان لغاری نے بتایا کہ بغل چر روڈ لودھی کے مقام تمام لینڈ سلائیڈنگ ایریا کا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ سلائیڈنگ کا ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری موقع پر پہنچ گئی ہے۔

    بغل چر، ٹالیاں، رونگھن روڈ پر مختلف جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے.کوہ سلیمان کے علاوہ ڈیرہ غازیخان شہر اور گردونواح کے میدانی علاقوں میں گذشتہ دو روز سے وقفے وقفے سے بارش جاری ہے،جس سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوچکاہے.
    اس کے علاوہ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے راجن پور کے برساتی نالوں میں طغیانی آگئی۔رپورٹس کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے_فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ کاہا سلطان اور نالہ چھاچھڑ سے سیلابی ریلا میدانی اور پچھاد کے علاقوں میں پہنچ گیا جبکہ چک شہید کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔قطب پل کا بھی بند ٹوٹنے سے بستی پنجابی ،بستی منجھو سمیت دیگر علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد حفاظتی بند مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ادھر چترال میں طوفانی بارش سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ وادی کوئٹہ اور گرد و نواح میں بھی بادل برسے جبکہ بولان اور نصیر آباد سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی۔محکمہ موسمیات نے آج سے منگل تک بلوچستان کے 15 اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جبکہ توبہ اچکزئی کے ڈیم کے حفاظتی بند میں دراڑ پڑگئی ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں بارشوں کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 100 ہو گئی ہے جبکہ 6 ہزارسے زائد مکانات اور املاک کونقصان پہنچا ہے۔

  • ڈیرہ : کوہ سلیمان میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق 5افرادزخمی

    ڈیرہ : کوہ سلیمان میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق 5افرادزخمی

    ڈیرہ : کوہ سلیمان میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق 5افرادزخمی
    ریسکیو 1122کا فوری ریسکیواپریشن ،کنٹرول روم نے فوراََفاضلہ کچھ سے ایک ایمبولینس اور ایک ایمبولینس درگ سٹیشن سے روانہ کرکے موقع پر پہنچ کر پانچ لوگوں کو فرسٹ ایڈ دی گئی۔


    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازیخان میں کوہ سلیمان کے علاقے کرکنا،فاضلہ کچھ میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ 5افراد زخمی ہوگئے ہیں ،ریسکیو1122کے مطابق کنٹرول روم کو ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی جس میں کالر نے بتایا کہ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے 5 لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ جن کے لیے ایمبولینس کی ضرورت ہے۔

    کنٹرول روم نے فوراََفاضلہ کچھ سے ایک ایمبولینس اور ایک ایمبولینس درگ سٹیشن سے روانہ کر دی گئی۔موقع پر پہنچ کر پانچ لوگوں کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ دے کر روانہ کیا گیا ۔جبکہ ایک مر یض کی موقع پر ہی وفات ہو چکی تھی۔ لواحقین کے اسرار کے بعد مریض کو تونسہ ہسپتال شفٹ نہیں کیا گیا۔

  • ڈیرہ غازیخان ۔ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال

    ڈیرہ غازیخان ۔ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال

    ڈیرہ غازیخان ۔ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال کردی گئی
    شہری بھی برسات میں احتیاط کریں ، محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔کمشنر
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازی خان بارش کی وجہ سے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے روڈ بلاک ہونے پر کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک کے حکم پر ایس ایچ او حافظ یوسف اپنی فورس سمیت بروقت موقع پر پہنچ گئے اور اپنی مددآپ کے تحت روڈ کلیئر کرانا شروع کرادیا ،


    اس دوران کمشنر ڈیرہ غازیخان نے بھی لینڈسلائنڈنگ سے بین الصوبائی شاہراہ این 70 بند ہونے کافوری نوٹس لیااور بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری دونوں سائیڈ پر تعینات کرائی اور این ایچ اے کی بھاری مشینری سے پتھر اور مٹی کو ہٹادیا گیا، بھاری مشینری کے ذریعے روڈ کلیئر کرادیا گیابین الصوبائی شاہراہ این 70 پر ٹریفک کی روانی بحال کرادی گئی۔کمشنر عثمان انورنے کہاکہ وزیر اعلی میاں محمد حمزہ شہباز شریف کی ہدایت پر مسافروں کی آسانی کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جارہے ہیں ،انہوں نے مزیدکہاکہ شہری بھی برسات میں احتیاط کریں ،

    محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔یاد رہے گذشتہ ہفتے بھی راکھی گاج کے قریب نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ سے تین دن تک بین الصوبائی شاہراہ بند رہی اور مسافروں اورڈرائیوروں کو کافی مشکلات سامناکرناپڑاتھا اُس دوران گاڑیوں کے فیول بھی ختم ہوگئے تھے اور روڈکلیئرکراتے ہوئے بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی بھی لینڈسلائنڈنگ کی زد میں آگئی تھی تاہم وہ خود محفوظ رہے تھے، اُس وقت بھی بارڈرملٹری پولیس نے اپنے کمانڈنٹ کے حکم پرروڈکلیئرکرایااورمسافروں کیلئے کھانے پینے کاانتظام بھی کیا تھا۔

  • مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے  زمینی رابطہ منقطع

    مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع

    ضلع اپر چترال میں ریشن کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے مین شاہراہ پچھلے ایک ہفتے سے کٹ چکی ہے جس کے نتیجے میں ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر انجنیر امیر مقام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیل اپرچترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • جنوبی پنجاب میں بارشیں برسانے والاطاقتور سسٹم داخل، ڈینگی کا خطرہ

    جنوبی پنجاب میں بارشیں برسانے والاطاقتور سسٹم داخل، ڈینگی کا خطرہ

    جنوبی پنجاب میں آج رات سے بارشوں کا طاقتوار اور تگڑاسپیل داخل ہو رہا ہے جس سے گرج چمک اور تیز ہواٶں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ جنوبی پنجاب میں آج سے بارشوں کا طاقتوار اور تگڑاسپیل داخل ہو رہا ہے جس سے گرج چمک اور تیز ہواٶں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے ٹمپریچر میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے … آج رات سے جمعہ کی رات تک جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں وقفے وقفے کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے ملتان , بہاولپور , بہاولنگر , ڈیرہ غازی خان , فورٹ منرو , فورٹ عباس , وہاڑی , ملیسی , تونسہ , کوٹ ادو , لیہ , بھکر , لودھراں , ساہیوال , خانیوال , پاکپتن , اوکاڑہ , علی پور جام پور , فاضل پور , راجن پور , رحیم یار خان , خان پور , صادق آباد میں گرج چمک اور تیز ہواٶں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے

    اِدھر کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن محمد عثمان انور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ افسران شریک تھے۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ موسم برسات ڈینگی کیس بڑھنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اس لئے انسداد ڈینگی کےلئے ان ڈور،آوٹ ڈور سرویلینس بڑھائی جائے۔بارش کے دوران نکاسی آب کا بہتر انتظام کیا جائے۔نشیبی علاقوں کو خصوصی فوکس کیا جائے۔ڈینگی مچھر کی پرورش گاہوں کو تلف کرنا ضروری ہے ۔

    کمشنر عثمان انور نے کہا کہ محکموں کے فوکل پرسنز اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دیں۔انسداد ڈینگی سرگرمیوں کو حکومت پنجاب کی ڈیش بورڈ پر اندارج کرائی جائیں۔فرائض میں کوتاہی اور عدم دلچسپی برداشت نہیں ہوگی۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز تمام معاملات کی خود نگرانی کریں۔انسداد ڈینگی مہم سے متعلق جائزہ اجلاس ہفتہ وار منعقد کیا جائے۔

  • کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق
    باغی ٹی وی رپورٹ۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہاہے کہ بارشوں کا سلسلہ 18 جولائی تک جاری رہے گا۔شہرقائد میں کئی گھٹنوں سے جاری بارش اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے کو ابھی بھی مکمل طور پر تھم نہیں سکی اور آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں جس سے مزیدبارش ہونے کاامکان موجودہے۔حکام کی جانب سے بھی شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات دی جارہی ہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں 1299 ڈائل کرنے کا کہا گیاہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے کل رات سے تیز بارش جاری ہے جس کے باعث شہر کے متعدد علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں،


    شہر میں کئی گھٹنوں سے جاری بارش ابھی بھی مکمل طور پرنہیں تھمی اور آسمان پر سیاہ بادل منڈلا رہے مزیدبارش کا پیغام دے رہے ہیں جس سے شہریوں کی پریشانی میں مزیداضافہ ہوگیاہے ،

    کمشنر کراچی نے اپنے پیغام میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھر وںسے نکلنے سے اجتناب کریں۔محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بارش کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں سب سے زیادہ بارش مسرور بیس پر 119 اعشاریہ 5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق ڈی ایچ اے فیز ٹو میں 106، قائد آباد میں 76 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ فیصل بیس پر 65، اورنگی ٹاون میں 56، اولڈ ایئر پورٹ پر 49، گلشنِ حدید میں 46 اور جناح ٹرمینل پر 29 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہرِ قائد کو بارش برسانے والے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، اس لیے مختلف علاقوں میں دن بھر موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق بحیرہ عرب سے مسلسل بارش برسانے والے بادل شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں، ٹھٹھہ، بدین اور کیٹی بندر سے بادلوں کے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شہر میں مزید 2 سے 3 گھنٹے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔موسمیاتی تجزیہ کار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ شہر میں کل شام تک وقفے وقفے سے بارش ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ مون سون سسٹم کو بحیرہ عرب سے مسلسل نمی مل رہی ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہاہے کہ بارشوں کا سلسلہ 18 جولائی تک جاری رہے گا۔

  • کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں بارش، طغیانی کا خدشہ

    کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں بارش، طغیانی کا خدشہ

    کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں بارش، طغیانی کا خدشہ
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں کوہ سلیمان کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش ندی نالوں میں طغیانی،مون سون بارشوں کا سلسلہ باقاعدہ طور پر داخل،مزید بارشوں کی پیشگوئی، اس بار مون سون میں معمول سے زیادہ بارش ہونے کی توقع ہے،اس سے قبل کوہ سلیمان میں انتہائی خشک سالی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان تھے۔ لیکن رواں ہفتے میں بارشوں کا ایک مضبوط سلسلہ بلوچستان سے کوہ سلیمان میں داخل ہوا ہے،پورا کوہ سلیمان سیاہ بادلومیں گھرا ہوا ہے،کوہ سلیمان پر ہونے والی بارش سے پہاڑی تودے گرنے سے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ گذشتہ تین روز سے بند ہے،

    قبائلی علاقے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں دوبارہ موسلا دھار بارش شروع ہونے کے باعث راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر بلوچستان سے پنجاب سفر کرنے والے ہزاروں مسافر اور مریض بری طرح پھنس گئے،کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک رات گئے روڈ کلیئر کرانے کے لیے خود موقع پر پہنچ گئے سرکل آفیسر سردار عبداللہ خان لغاری اور دیگر آفیسران بھی انکے ہمراہ تھے ، لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں بارش کے دوران روڈ کلیئر کرانے میں بی ایم پی کوکافی مشکلات کاسامناکرنا پڑ رہا ہے ،نیشنل ہائی وے کے ارباب اختیار سلائیڈنگ ایریا میں ہیوی مشینری بھجوانے کی بجائے مکمل طور پرمنظر سے غائب ہیں،ڈیرہ غازیخان کی انتظامیہ خاص طور بی ایم پی کمانڈنٹ وہاں موقع پر موجود رہے تاہم ان کی گاڑی بھی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئی ، پہاڑی مٹی ک تودا گرنے گاڑی کاشیشہ ٹوٹ گیاتاہم وہ خود محفوظ رہے،
    بی ایم پی کی طرف کوہ سلیماں لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے پھنسے ہوئے مسافروں اور ڈرائیوروں کو کھانا اور پانی کی بوتلیں بھی فراہم کی گئیں، راکھی گاج سے لے کر فورٹ منرو تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پہاڑی علاقے میں پھنسے مسافروں، سیاحوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈی جی خان کوئٹہ روڈ دو ٹرکوں کے الٹنے، بارش، کیچڑ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے باعث بلاک ہوئی۔ کئی گاڑیوں کے پیٹرول ڈیزل ختم ہوگئے ہیں ۔
    اُدھرشمال مشرقی بلوچستان میں موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔

    متعدد مکانات منہدم جبکہ رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، خانہ بدوشوں کی جھونپڑیاں اور مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نظر ہو گئے۔لیویز حکام کیمطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ کوہ سلیمان اور کچھی کے پہاڑی سلسلوں میں موسلا دھار بارش سے رکنی اور کچھی کے میدانی علاقوں میں برساتی پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ کئی کچے مکانات گر گئے۔ہرنائی میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جبکہ ضلع لسبیلہ میں بارشوں سے متعدد ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ خضدار اور ملحقہ علاقوں میں بارش سے کئی سالوں سے خشک ندی نالے بھی پانی سے بھرگئے ہیں۔

  • ڈیرہ،لینڈ سلائیڈنگ دو روزسے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ بند،روڈ کلیئرکرانے کے دوران پہاڑی تودا بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی پر گر گیا

    ڈیرہ،لینڈ سلائیڈنگ دو روزسے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ بند،روڈ کلیئرکرانے کے دوران پہاڑی تودا بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی پر گر گیا

    ڈیرہ غازیخان ۔لینڈسلائیڈنگ دوروزسے بین الصوبائی کوئٹہ روڈ بند،روڈکلیئرکرانے کے دوران پہاڑی تودا بی ایم پی کمانڈنٹ کی گاڑی پر گر گیا .
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازی خان بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کی صورتحال کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اکرام ملک رات گئے روڈ کلیر کرانے کے لیے خود پہنچ گئے سرکل آفیسر سردار عبداللہ خان لغاری اور دیگر آفیسران انکے ہمراہ تھے ،ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں دوبارہ موسلا دھار بارش شروع ہونے کے باعث راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر بین الصوبائی کوئٹہ روڈ پر بلوچستان سے پنجاب سفر کرنے والے ہزاروں مسافر مریض بری طرح پھنس گئے، بین الصوبائی کوئٹہ روڈ راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ایریا میں بارش کے دوران روڈ کلئیر کرانے میں بی ایم پی کمانڈنٹ وپولیٹکل اسسٹنٹ محمد اکرام ملک کو سخت مشکلات سامناکرنا پڑ رہا ہے

    ،بی ایم پی اہلکاربارش میں فرائض سر انجام دینے اور مسافروں کی مدد کرنے میں مصروف میں مصروف رہے اس دوران راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ایریا کلیئر کرانے کے دوران پہاڑی تودا پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کی گاڑی پر گر گیا ہے جس سے انکی گاڑی کو نقصان پہنچا ہے تاہم پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک گاڑی میں محفوظ رہے ہیں۔ گاڑی پر تودا گرنے کے بعد وہ روڈ کلیئر کرانے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار ہو گئے ہیں، پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کل سے روڈ کلیئر کرانے میں مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔