Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • محکمہ موسمیات نے  یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے کراچی میں مون سون کی پیشن گوئی کر دی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے کراچی کے موسم کے حوالے سے پیشن گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون بارشوں کا آغاز یکم جولائی سے ہو گا۔

    مزید تفصیلات کے مطابق چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 30 جون سے مون سون کی ہواؤں کا آغاز ہو گا ۔اور پھر یہ ہوائیں یکم جولائی کی صورت میں بارشوں کے طور پر منظر عام پر آۓ گی۔مزید ان کا کہنا تھا کہ پہلااسپیل 3 تا 4 روز پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔رواں سال مون سون کےدوران معمول سے 30 فیصد زائد بارشوں کا امکان ہے۔

    مون سون کے موسم کے حوالے سے سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ کراچی میں سمندر ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کے موسم میں جب سمندر کی طرف سے نمی ملتی ہے تو بارش زیادہ ہونے کا امکان بھی ہو جاتا ہے۔اس طرح یہ موسم جولائی تا ستمبر پر محیط ہونے کا امكان ہو سکتا ہے۔ مون سون بارشوں کا دورانیہ یکم جولائی تا 30 ستمبر تک 3 ماہ پر محیط ہوتا ہے۔

    مزید برآں محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی پیشگوئی کے مطابق جمعے اور ہفتے کو بارش کا کوئی امكان نہیں ہے۔بلکے موسم گرم ہو گا۔24 جون سے وسطی اور بالائی سندھ میں بہت زیادہ گرم موسم واپس آنے کا امکان ہے۔اور جمعرات کو بھی موسم بہت گرم محسوس کیا گیا تھا ۔اور موسم گرم ہونے کے ساتھ ساتھ شدید حبس بھی محسوس ہوئی تھی۔محکمہ موسمیات کےمطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.8ڈگری جبکہ ہوامیں نمی کا تناسب 53 فیصد رہا ۔خیال رہے یہ درجہ حرارت بہت تیز اور گرمی کی شدت بھی معمول سے ہٹ کر زیادہ محسوس ہوئی۔

  • متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں زلزلے کے جھٹکے

    متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں زلزلے کے جھٹکے

    دبئی: متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 3:15 زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں زلزلہ آنے کے باعث یو اے ای میں جھٹکے محسوس کیے گئے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے زلزلے کی شدت 6.0 ریکارڈ کی گئی زلزلے کا مرکز ایرانی ساحلی شہر بندر لنگہ کے قریب تھا۔


    کئی سوشل میڈیا صارفین نے زلزلے کی ویڈیوز بھی شئیر کیں-


    https://twitter.com/RoyalIntel_/status/1504238457123934209?s=20&t=W92IP9ztYdBPO5-lOOvPGg


    2003 میں، 6 اعشاریہ 6 شدت کے زلزلے نے بام شہر کو تباہ کر دیا تھا، جس میں 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2017 میں ایران اور عراق کے درمیان سرحدی علاقے میں 7 شدت کے زلزلے سے 600 افراد ہلاک اور 9000 سے زائد زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں بھی گلگت، اسکردو، گانچھے، شگر اور چلاس سمیت گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے ے زلزلے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد کلمہ طیبہ کا ورد کرتی ہوئی گھروں و کاروباری مراکز سے باہر آگئی زلزلے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور ملوپہ کے مقام پر گلگت اسکردو روڈ بند ہو گیا تھا-

  • جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    ٹوکیو: جنوبی جاپان کے ساحل کے نیچے ایک آتشیں چٹان دریافت ہوئی ہے جسے ’کومانو پلوٹون‘ کا نام دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یہ چٹان ایک طرح سے مقناطیس یا برقی سلاخ کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہےاس کےمفصل تھری ڈی نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکٹانوک پلیٹوں کی توانائی اس چٹان کی اطراف پہنچتی ہے اور دھیرے دھیرے جمع ہورہی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    2006 میں سائنسدانوں نے کومانو پلوٹان پر توجہ کی تھی جو پگھلے ہوئے ارضی مادے سے بنی ایک چٹان ہے پلوٹون اس چٹان کو کہتے ہیں جو زیرزمین دیگر پتھروں کو ہٹا کر ایک ابھار کی صورت میں باہر پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے سرد ہوکر سخت ہوجاتی ہے-

    ماہرین نے تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ نانکائی سبڈکشن زون میں ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ میں دھنس رہی ہے جسے سبڈکشن کا عمل کہا جاتا ہے اس سے پلیٹوں پر توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور زلزلوں کی وجہ بنتی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک مقام پر پلوٹون چٹان موجود ہے ماہرین نے اس کے بعد مزید 20 سال کا ڈیٹا جمع کیا اور چٹان کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مزید نقشہ سازی کی۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    بحری ارضی سائنس و ٹیکنالوجی ایجنسی کے سینیئر سائنسداں سیوشی کوڈیرا کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے جاپان میں رونما ہونے والے ممکنہ زلزلوں کی پیشگوئی میں سہولت ہوگی تو دوسری جانب آتشیں چٹان اور ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ربط جاننے میں بھی مدد ملے گی ہم درست طور پر نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کہاں اور کس وقت بڑے زلزلے رونما ہوں گے لیکن ڈیٹا اور ماڈلنگ سے اس کا درست اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ معمولی ہو یا بڑا اس کے اثرات اپنے مقام سے تالاب میں دائروں کی طرح پھیلتےہیں، تباہی مچاتے ہیں اور دوبارہ لوٹ آتے ہیں ماہرین نے اس پورے عمل کی نقشہ سازی کی ہے جو نہایت محنت طلب کام ہے اسی مقام سے 1944 اور 1946 کے ہولناک زلزلے بھی پھوٹے تھے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پلوٹون کا کردار بہت اہم تھا۔

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

  • ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری،مری میں برفباری شروع انتظامیہ ہائی الرٹ

    ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری،مری میں برفباری شروع انتظامیہ ہائی الرٹ

    اسلام آباد: مری میں چند روز وقفے کے بعد ایک بار پھر سے برفباری شروع ہوگئی-

    باغی ٹی وی : مری میں ایک بار پھر برفباری کا آغاز ہوگیا ہے جس کے پیش نظر انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روم تھام کے لیے کنٹرول روم قائم کردیا ہےانتظامیہ نے جناح ہال میں کنٹرول روم قائم کرکے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے تاکہ ماضی کی طرح کوئی افسوس ناک واقعہ رونما نہ ہو۔

    اُدھر کمشنر راولپنڈی نورالامین مینگل اورنوتعینات ڈپٹی کمشنر راولپنڈی طاہرفاروق برفباری کے بعد انتظامات کا جائزہ لینے مری پہنچے جہاں انہوں نے کنٹرول روم قائم کیا۔

    کوتل سڑی اور پراسپیکٹ پوائنٹ کے مقام پر شدید برفباری جاری ہے جس کے بعد سنجاوی ، زیارت ڈومیارہ روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے ڈپٹی کمشنر زیارت حبیب نصیر نے ہدایت کی ہے کہ عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں-

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلعی انتظامیہ زیارت اور لیویزفورس کی جانب سے سنو کلیئرنس آپریشن جاری ہے زیارت سنجاوی روڈ سے برف ہٹانے کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا-

    شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، دیواریں گرنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی ہوگئے

    انتظامی حکام نے تمام محکموں اور اُن کے افسران و ملازمین کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے اگلے دوروز تک مری میں برفباری جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسیمات کے مطابق پنجاب کے بعض میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں دھند ،کرم ،وزیرستان، کوہاٹ ،ٹانک،کرک،بنوں اورڈی آئی خان میں بارش اور برفباری متوقع ہے اسلام آباد میں وقفے وقفے کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہے گا،دن بھر وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ لاہور درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 13،کم سے 10 ڈگری سینڈی گریڈ رہنے کا امکان ہے-

    شانگلہ میں لینڈسلائیڈنگ 9افراد دب گئے: دو بچے جاں بحق:سخت موسمی حالات

    ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان، نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، باجوڑ میں بارش متوقع جبکہ چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، کوہستان، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ ،نوکنڈی، دالبندین،موسیٰ خیل،ہرنائی،لورالائی،مستونگ،چمن اور نوشکی میں بارش کا امکان ہو سکتا ہے-

    خطہ پوٹھور اور شمال مشرقی پنجا ب میں بعض مقا مات پر تیز بارش اورژالہ باری کا امکا ن ڈی جی خان، ملتان،لیہ، خانیوال،راجن پور،بہاولپور، اور بہاولنگر میں ہلکی بارش متوقع ہے-

    جھنگ،بھکر،سرگودھا،خوشاب، میانوالی،ساہیوال،اوکاڑہ ،حافظ آباد،سیالکوٹ،ناروال،لاہور،شیخوپورہ،قصور،فیصل آباد اورٹوبہ ٹیک سنگھ میں بارش کا امکان ہو سکتا ہے

    راولپنڈی،جہلم،چکوال،اٹک،گوجرانوالہ،گجرات،منڈی بہاؤالدین،کوئٹہ، زیارت،بارکھان، پشین، ژوب، قلعہ عبداللہ اورقلعہ سیف اللہ ،خیبر پختونخوا ،پنجاب،شمالی بلوچستان،گلگت بلتستان اورآزادکشمیر میں بارش متوقع ہے-

    کراچی:تیزہواؤں سےتباہی، دیواریں گرنےسےبچےسمیت 5 افراد جاں بحق:ہواوں کا رُخ پنجاب…

  • شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، دیواریں گرنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی ہوگئے

    شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، دیواریں گرنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی ہوگئے

    کراچی : شہر قائد میں تیز ہواؤں نے تباہی مچادی، چھتیں اڑ گئیں جبکہ دیواریں گرنے کے واقعات میں کرنٹ لگنے سے بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی میں تیز ہوائوں کے سبب دیواریں گرنے سے 5 افراد جاں بحق اور متعدد موٹر سائیکل سوار توازن قائم نہ رکھتے ہوئے گر کر زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق کنیز فاطمہ سوسائٹی، گلشن معمار، شیر شاہ، اور نارتھ کراچی میں دیواریں گرنے سے 4 افرادجاں بحق ہوئے۔
    لانڈھی مانسہرہ کالونی گلی نمبر10 کے قریب گھر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، جاں بحق ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت خوانین ولد غلام جان کے نام سے ہوئی۔
    ریسکیو ذرائع کے مطابق سرجانی گلشن کنیز فاطمہ سوسائٹی کے قریب گھر کی دیوار گر نے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا، بچے کی باڈی چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی ہسپتال منتقل کی گئی۔

    مواچھ گوٹھ بلدیہ میں چھت کا حصہ گرنے سے خاتون اور مرد زخمی ہوئے۔ تیز ہوا سے ناردرن بائی پاس نزد پاور ہاس گلبائی کانٹا موٹر سائیکل سلپ ہونے سے 2 افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی شناخت صادق اور اجمل کے نام سے ہوئی۔گلشن معمار میں تیز ہوائوں کے باعث گھر کی دیوار گرگئی اور ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ جس کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
    اسی طرح بلدیہ ٹائون اسپارکو روڈ پر گھر کی چھت کا ایک حصہ گرگیا جس کے سبب گھر میں موجود تین افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔نارتھ کراچی میں زیر تعمیر دیوار گرگئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے کے ٹینٹ ، قناتیں، بینرز، لائٹس بھی گرگئیں۔ کراچی میں تیز ہواؤں کے باعث تقسیم اسناد کیلئے لگائے گئے ٹینٹ اکھڑ گئے،موسم کی خرابی کے باعث جامعہ کراچی کا سالانہ تقسیم اسناد ملتوی کردیا گیا۔

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • سعودی عرب میں 5 ہزار سے زائد معدنی مقامات ہیں،سعودی جیولوجسٹس

    سعودی عرب میں 5 ہزار سے زائد معدنی مقامات ہیں،سعودی جیولوجسٹس

    سعودی عرب میں ماہرین نے 5300 سے زائد معدنی مقامات دریافت کئے ہیں-

    باغی ٹی وی : سعودی میڈیا کے مطابق سعودی جیولوجسٹس کوآپریٹو ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسرعبدالعزیز بن لابن نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں 5300 سے زائد معدنی مقامات موجود ہیں-

    سعودی عرب نے معتمرین کے لیے ویزہ کے حصول کو مزید آسان بنا دیا

    عرب میڈیا کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب الریاض میں ’پائیدارمستقبل معدنیات‘ کے موضوع پرپہلی وزارتی گول میزکانفرنس منعقد ہورہی ہے یہ مستقبل معدنیات فورم کا حصہ ہے۔

    پروفیسرعبدالعزیز نے بتایاکہ سعودی عرب میں معدنیات کی تلاش کے سابقہ عمل سے پتاچلا ہے کہ 5,300 مقامات میں متنوع دھاتی اورغیر دھاتی چٹانیں، تعمیراتی مواد،آرائشی چٹانیں اور جواہرات شامل ہیں معدنی دولت سےمالا مال چٹانیں عرب شیلڈ کےعلاقے میں پائی جاسکتی ہیں۔ان کا کل رقبہ قریباً 6لاکھ 30 ہزارمربع کلومیٹرپرمحیط ہے۔

    وژن2030: سعودی عرب نے غیر ملکی ملازمین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اگرچہ عرب شیلڈ کے ایک جامع معدنی سروے میں مزید معدنی وسائل کی تلاش کی جائے گی لیکن سعودی عرب کے کل رقبے کا قریباًایک تہائی حصہ دھاتی معدنیات مثلاً سونا، چاندی، تانبا،لوہااورنایاب اورتابکارعناصر پر مشتمل ہےانھوں نے تیل اور پیٹروکیمیکلز کے بعد معدنیات کو’’قومی معیشت کےلیےتیسرامعاشی ستون‘‘ قراردیا ہے۔

    چین میں تعینات افغان سفیر نے کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا

    دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے معادن کمپنی کے قیام کا انکشاف کیا ہے تاکہ بیرون ملک درکار وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی کان کنی کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران وزیر توانائی نے کہا کہ ہمارے پاس یورینیم کی بڑی مقدار موجود ہے اور ہم اس کا تجارتی طور پر بہترین استعمال کریں گے۔

    فرانس :کین شہرمیں یہود مخالف بیان کے الزام میں مسجد بند کر دی گئی

    انہوں نے کہا کہ ہم یورینیم کے ذخائر سے پوری شفافیت کے ساتھ نمٹیں گے، اور ہم مناسب شراکت داروں کی تلاش کریں گےہم ہائیڈروجن کی پیداوار میں سنجیدہ ہیں اور سعودی عرب صاف ہائیڈروجن توانائی پیدا کرنے والا سب سے سستا ملک ہوگا ہم شیل آئل کی صلاحیتوں میں بہتر پوزیشن رکھتے ہیں اور ہمارے پاس پیداوار کے لیے معیاری اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز ہیں۔

    سپریم کورٹ نے بڑی شخصیت کوضمانت دے دی

  • شہر قائد میں گزشتہ رات رواں سال کی سرد ترین شب رہی

    شہر قائد میں گزشتہ رات رواں سال کی سرد ترین شب رہی

    کراچی : ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ رات رواں سال کی سرد ترین شب رہی، پارہ سنگل ڈیجٹ میں آ گیا۔

    شہرِ قائد میں موسم کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہو گیا ہے۔کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 9 اعشاریہ 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم خشک اور رات مزید سرد ہونے کا امکان ہے۔پیرکوکم سے کم درجہ حرارت 9 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کیا جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔شہرِ قائد میں شمال مشرق کی سمت سے 7 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، جن میں نمی کا تناسب 87 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  • طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال

    طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال

    کراچی : طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، کئی شہروں میں سیلابی صورتحال بلوچستان کے کئی شہروں میں سیلابی ریلوں کے باعث کئی گھر تباہ، ساحلی شہر گوادر میں ایمرجنسی نافذ۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر علاقے مغربی ہواوں کے سلسلے کی زد میں آنے کے بعد طوفانی بارشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برف باری اور موسلا دھار بارشوں سے پارہ نقطہ انجماد تک گر گیا اور صوبے کو سردی کی شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔ ضلع کیچ کے علاقے مند میں سیلابی ریلے کے باعث بند ٹوٹ جانے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا، طوفانی بارشوں کے سبب تربت اور مند کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ گوادر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور کئی کچے مکانات منہدم ہو گئے۔