Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • 142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ    ماہرین

    142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ ماہرین

    ماہرین کے مطابق 142 سال کی تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ تھا۔

    باغی ٹی وی : ماحولیاتی ادارے کی جاری رپورٹ کے مطابق تاریخ میں جولائی 2021 اب تک زمین کا گرم ترین مہینہ رہا ہے زمین اور سمندر کی سطح کا مشترکہ درجہ حرارت 20 ویں صدی کی اوسط سے 1.67 فیرن ہائٹ زیادہ تھا۔

    رپورٹ کے مطابق مشترکہ درجہ حرارت پچھلے ریکارڈ سے 0.02 فیرن ہائٹ زیادہ تھا جو 2016 میں ریکارڈ کیا گیا تھا شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور اوشیانا سب کا جولائی کا درجہ حرارت اپنی اپنی ٹاپ 10 فہرستوں میں تھا۔

    رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ نیا ریکارڈ پریشان کن ہے اور دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی خطرے کی گھنٹی ہے۔

    جولائی کے ریکارڈ درجہ حرارت کے بارے میں عالمی ادارے کا تجزیہ اقوام متحدہ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ کی روشنی میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ پہلے ہی شدید موسم کا باعث بن رہی ہے اور دنیا 2040 تک 2.7F درجہ حرارت میں اضافہ دیکھے گی ۔

    اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی لہریں ، سیلاب اور خشک سالی شدید سے شدید ہو جائیں گی کوئلے ، تیل اور گیس کو توانائی کے لیے جلا کر انسان پہلے ہی سیارے کو تقریبا 2 ڈگری فارن ہائیٹ سے گرم کرچکا ہے یہ لنک غیر واضح اور ناقابل واپسی ہے لیکن اگر حکومتوں نے تیزی سے کام کیا تو اس کے بدتر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    حال ہی میں جاری کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا –

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھ کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہے-

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    جبکہ ماہرین کا کہنا تھا کہ یورپ میں شدید گرمی اس موسم گرما میں شمالی نصف کرہ کا تازہ ترین ریکارڈ ہے۔درجہ حرارت کے ریکارڈ کینیڈا ، امریکہ کے مغرب ، فن لینڈ ، ایسٹونیا ، ترکی اور ماسکو میں توڑے گئے ہیں۔ جرمنی اور چین کے کچھ حصوں میں سیلاب آیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جنگل سائبیرین تائیگا میں ریکارڈ جنگل کی آگ بھڑک رہی ہے۔

    کوپرنیکس اتموسفیر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنسدان مارک پیرنگٹن کے مطابق ، روس کے سخا ریپبلک جنگل میں آگ نے اس سال 208 میگا ٹن کاربن جاری کیا ہے جو کہ پچھلے سال کا ریکارڈ ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    بی بی سی کے مطابق پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہےیہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • برِصغیر پاک و ہند  کے قدیم ترین پنجابی (دیسی) کیلنڈرکی تاریخ

    برِصغیر پاک و ہند کے قدیم ترین پنجابی (دیسی) کیلنڈرکی تاریخ

    پنجابی (دیسی) کیلنڈر:

    (چیت، وساکھ، جیٹھ، ہاڑ، سَون، بھادروں، اسو، کَتا، مگھر، پوہ، ماگھ، پھگن)

    بارہ دیسی مہینے۔۔۔ بارہ موسم

    1- چیت/چیتر (بہار کا موسم) ،
    2- بیساکھ/ویساکھ (گرم سرد، ملا جلا) ،
    3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ) ،
    4-ہاڑ/اساڑھ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز) ،
    5- ساون/ساؤن (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون) ،
    6۔ بھادوں/بھادروں (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں) ،
    7- اسُو/اسوج (معتدل) ،
    8- کاتک/کَتا (ہلکی سردی) ،
    9۔ مگھر (سرد) ،
    10۔ پوہ (سخت سردی) ،
    11- ماگھ/مانہہ (سخت سردی، دھند) ،
    12- پھاگن/پھگن (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

    برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا اغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کا اصل نام بکرمی کیلنڈر ہے، جبکہ پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر، اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

    بکرمی کیلنڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں اُس وقت کے ہندوستان کے ایک بادشاہ "راجہ بِکرَم اجیت” کے دور میں ہوا۔ راجہ بکرم کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔ اس شمسی تقویم میں سال "چیت” کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

    تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینا وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

    1: 14 جنوری۔۔۔ یکم ماگھ
    2: 13 فروری۔۔۔ یکم پھاگن
    3: 14 مارچ۔۔۔ یکم چیت
    4: 14 اپریل۔۔۔ یکم بیساکھ
    5: 14 مئی۔۔۔ یکم جیٹھ
    6: 15 جون۔۔۔ یکم ہاڑ
    7: 17 جولائی۔۔۔ یکم ساون
    8: 16 اگست۔۔۔ یکم بھادروں
    9 : 16 ستمبر۔۔۔ یکم اسوج
    10: 17 اکتوبر۔۔۔ یکم کاتک
    11: 16 نومبر۔۔۔ یکم مگھر
    12: 16 دسمبر۔۔۔ یکم پوہ

    بکرمی کیلنڈر (پنجابی دیسی کیلنڈر) میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے.

    ان پہروں کے نام یہ ہیں۔۔۔

    1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
    صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

    2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
    صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

    3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

    4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
    سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

    5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
    شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

    6۔ کفتاں ویلا:
    رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

    7۔ ادھ رات ویلا:
    رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

    8۔ سرگی/اسور ویلا:
    صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت

    لفظ "ویلا” وقت کے معنوں میں برصغیر کی کئی زبانوں میں بولا جاتا ہے

  • بچوں کا جنسی استحصال   تحریر : علی حیدر

    بچوں کا جنسی استحصال تحریر : علی حیدر

    حیات انسانی کے اہم ترین ادوار میں اک دور بچپن کا ہے جو ایک انسان کی باقی ماندہ ذندگی پر مکمل طور پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ بچپن کا وقت انسان کی جسمانی, ذہنی اور نفسیاتی نشوونما کے لئیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انسان کا ذہن بچپن میں بڑھوتوی کے مراحل طے کر رہا ہوتا ہے چناچہ اس دورانیے میں ہونے والا کوئی خوش گوار یا ناخوشگوار واقعہ نہ صرف بچے کے ذہن پر ہمیشہ کے لئیے نقش ہو جاتا ہے بلکہ اس کی آنے والی ذندگی پہ اثر انداز ہوتا ہے۔
    بچوں کا جنسی استحصال بچے کی ذہنی , جسمانی اور نفسیاتی ذندگی پر بری طرح اثر ڈالتا ہے ۔ بچے کا حافظہ بچپن میں بہت تیز ہوتا ہے اس لئیے وہ بات بچے کو یاد رہتی ہے۔
    بچوں کی بچوں سے ذیادتی یا بڑی عمر کے افراد کا بچوں کا جنسی و جسمانی استحصال ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکے ہیں ۔ ہر آئے روز نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں بچوں پہ تشدد کرنے کے بعد ان کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ظلم تو یہ ہے کہ کچھ کیسز میں جنسی استحصال کے بعد ان کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔
    اگرچہ حکومت نے ایسے مسائل کو ختم کرنے کے لئیے اقدامات اٹھائے ہیں لیکن جب تک ان مسائل کی وجوہات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے سدباب کے لئیے مئوثر اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے یہ مسائل سماج میں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
    سب سے پہلے ہمیں بچوں سے ذیادتی کے پیچھے کارفرما عوامل کا جائزہ لینا ہو گا تاکہ ہم وجوہات کو سمجھنے کے بعد کوئی مؤثر اقدامات اٹھا سکیں۔
    بچوں سے ذیادتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کو بہلانا اور پھسلانا آسان ہے ۔ کمزور ٹارگٹ ہونے کی وجہ سے مجرم کو کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    اس لئیے والدین اور اساتذہ کی ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کو اجنبی افراد کے ساتھ میل جول کی ممانعت کریں ۔ ان کو سکھانا چاہیے کہ اگر کوئی اجنبی آپ کو کسی بہانے ورغلا رہا ہو یا اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہا ہو تو اس کے ساتھ ہر گز نہ جائیں بلکہ اپنے والدین کو اس شخص کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جسمانی و جنسی استحصال کے واقعات اکثر و بیشتر ملک کے ان حصوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔ چناچہ اس بات کو کبھی بھی بنیادی وجہ نہیں بنایا جا سکتا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی مرد و عورت کے اختلاط یا عورتوں کی بے پردگی یا سوشیل میڈیا کے استعمال سے جنم لے رہی ہے۔
    کالجز اور یونیورسٹیز میں اگرچہ مرد و عورت کا اختلاط عام ہے لیکن وہاں ایسے کیسز بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں کیونکہ وہ افراد دراصل باشعور اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک بات یہ بھی قابل غور ہونی چاہئیے کہ شہروں کی عورتیں تعلیم یافتہ اور جدت پسند ہوتی ہیں ۔ وہاں بچوں کے ساتھ ذیادتی کے کیسز بہت کم رونما ہوتے ہیں ۔
    جبکہ دوسری طرف دیکھا جائے تو گاؤں اور دیہاتوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے۔ مرد و عورت کا اختلاط بھی کم ہوتا ہے۔ سوشیل میڈیا کا استعمال تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن وہاں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    چناچہ جدت پسندی اور مرد و ذن کا اختلاط بچوں کے جنسی استحصال ایک وجہ ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ تعلیم کا فقدان اور شعور کی کمی ہے۔

    یہ بات لازمی نہیں ہے کہ جو جنسی استحصال کی وجہ ہو وہی جنسی استحصال کا نشانہ بھی بنے ۔ مجرم ایسا جرم کرنے پہ آمادہ تب ہوتا ہے جب وہ انٹرنیٹ پہ فحش مواد دیکھتا ہے , یا فلموں اور ڈراموں کی بدولت اس کی ذہنی سازی ہوتی ہے لیکن وہ اپنی جنسی حوس کی تسکین کے لئیے کمزور اور اور کم مزاحمت والے ایسے افراد کو نشانہ بناتا ہے جو اسے فی الوقت میسر ہوتے ہیں چناچہ وجہ انٹرنیٹ پہ موجود مواد یا فلمیں اور ڈرامے ہو سکتے ہیں لیکن نتائج کوئی اور بھگت رہا ہوتا ہے۔
    معاشرے سے ایسے ناسور کو مکمل طور پہ ختم کرنے کے لئیے حکومت وقت کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک کے طبقے کو تعلیم تک آسانی سے رسائی ہونی چاہئیے تاکہ ایک با شعور معاشرہ کا قیام عمل میں آ سکے۔
    بچوں کی ذہن سازی کے لئیے ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذرئیعے موثر آگاہی کے لئیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بچے اس مجرم کے بہلانے اور پھسلانے کے طریقہ سے پہلے ہی آگاہ ہوں اور اس کے بہکاوے میں آنے سے پہلے ہی اس کے عزائم کو بھانپتے ہوئے وہاں سے فرار ہو کر والدین کو مجرم کے بارے میں آگاہ کریں۔
    بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات کو روکنے کے لئیے مؤثر اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہونا چاہئیے کہ ایسے مقدمات کے فیصلے فوراً ہنگامی بنیادوں پہ کرتے ہوئے مجرم کو کڑی سے کڑی سزا دینی چاہئیے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور دوبارہ کوئی مجرم ایسا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے منطقی انجام سے پہلے ہی آگاہ ہو ۔

    @alihaiderrr5

  • عقلمند طبیب اور بادشاہ    تحریر: مدثر حسین

    عقلمند طبیب اور بادشاہ تحریر: مدثر حسین

    پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ سے بہت پریشان تھا. اسکا موٹاپا اسے ایک انکھ نہ بھاتا تھا. اس نے ایک دن اپنے وزیروں اور طبیبوں کو بلا کر اس کے حل پہ بحث کی. مگر کوئی نسخہ یا دوا اثر نہ دکھا سکی. پھر اس ملک کے ایک بہت ہی قابل اور ذہین طبیب کو بلایا گیا. اس نے ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ اگر بادشاہ سلامت مجھے اجازت دیں تو میں علم نجوم کے زریعے سے بتا سکتا ہوں کہ بادشاہ کے لئے کون سی دوا فائدہ مند ثابت ہو سکے گی. اگلے دن طبیب بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاہ سلامت گستاخی معاف پر جو بات میں اپکو بتانے جا رہا ہوں وہ اپ کے لئے بہت تکلیف دہ ہے. بادشاہ نے بڑے انہماک سے اس کی طرف دیکھا اور بات کہنے کی اجازت دی.
    طبیب بولا، بادشاہ سلامت علم نجوم یعنی ستاروں کے مطابق اپکی زندگی صرف ایک ماہ باقی رہ گئی ہے. بادشاہ یہ سنتے ہی ششدر رہ گیا اور اس نے خلوت میں دن گزارنے شروع کر دیے، اپنی گدی اپنے بیٹے کو دے دی اور اپنی گزری ہوئی زندگی پر پشیمان رہنے لگا، جب پچیس دن گزر گئے تو بادشاہ کو پریشانی اور فکر مندی سے کافی کمزوری لاحق ہو چکی تھی، طبیب کو بلوایا گیا. بادشاہ نے اس سے باقی کے دنوں کا حساب لگانے کا پوچھا تو طبیب بولا کہ حضور مجھے تو اپنی زندگی کا پتہ نہیں میں بھلا کیسے آپکی زندگی کے معتلق جان سکتا ہوں؟؟ وہ تو میں فکر و پریشانی کو آپ پہ مسلط کرنا چاہتا تھا تا کہ اس فکر سے اپکی چربی پگھل جائے اور آپ کھانا پینا بھی کم کر دیں. آج دیکھیں آپ پہلے سے کافی دبلے ہو گئے ہیں.
    بادشاہ طبیب کے اس طریقہ علاج سے بڑا متاثر ہوا اور اسے بہت سارے ہیرے جواہرات سے نوازا.

    ‎@MudassirAdlaka

  • موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔  تحریر:صفدر حسین

    موسمیاتی تبدیلی دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج۔ تحریر:صفدر حسین

    پچھلی کچھ دہائیوں سے زمین کی سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آب و ہوا میں قدرتی اتار چڑھاؤ تو معمول کا حصہ ہے لیکن سائنسدان یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کل درجہ حرارت پہلے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
    گلیشیروں کا پگھلنا انتہائی ہیٹ ویو اور طوفان آرہے ہیں ، دنیا کے کچھ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ یہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سطح کے درجہ حرارت میں اضافے ہو رہا ہے اور یہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے ، جو زمین کی آب و ہوا میں بہت سی تبدیلیوں کا سبب بن رہا ہے۔
    گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے گلوبل وارمنگ ہوتی ہے ، CO2اور گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے زمین کے ماحول میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے ۔
    سورج سے آنے والی ریڈیشن گرین ہاؤس گیسوں کے ذریعے جذب اور دوبارہ خارج ہوجاتی ہیں اس کے لئے اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ماضی میں اور کم تھا لیکن اب اس درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
    گلوبل وارمنگ کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جنگلات کی کٹائی ، ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں سے فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلا ہوا دھواں اور جنریٹر ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز جیسے بجلی کے آلات سے خارج ہونے والی حرارت بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔
    آئی پی سی سی کی رپورٹوں میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ "انسانوں اور انسانی سرگرمیوں سے پہلے کے دن سے لے کر اب تک دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے اور اس صدی کے دوسرے نصف حصے میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے ” سائنس دانوں کا خیال ہے کہ عالمی درجہ حرارت آنے والے عشروں تک بڑھتا رہے گا ، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
    انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) ، جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے 1،300 سے زیادہ سائنس دان شامل ہیں ، اگلی صدی کے دوران درجہ حرارت میں 3.5 سے 8 ڈگری اضافے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
    ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کو کم کرکے آب و ہوا کی تبدیلی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ جس کے لیئے ہمیں روایتی توانائی کے حصول کو ترک کر کے متبادل ذریعےسے توانائی کو حاصل کرنا ہوگا اور جتنا ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے اس دنیا کو بچایا
    اور آنے والی نسلوں کو ایک اچھا مستقبل فراہم کیا جا سکے ۔

    ‎@itx_safder

  • تمباکو  نوشی کی وجوہات  ونقصانات   تحریر   سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی کی وجوہات ونقصانات تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    تمباکو نوشی بظاہر ایک عام سا نشہ لگتا ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک صحت مند انسان کے جسم کو مختلف بیماریوں کا مسکن بنا دیتا ہے طبی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی پیھپڑوں کی مختلف عوارض دمہ سانس کی مختلف بیماریوں سمیت کینسر جیسے موذی مرض کی ایک بڑی وجہ بھی ہے تمباکو نوشی کے کٸی سماجی نقصانات بھی ہیں تمباکو نوشی کا عادی فرد خود تو متاثر ہوتا ہے لیکن بلاوسطہ اس کے ساتھ موجود افراد بھی غیر ارادی طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ان وجوہات کی بنا پرمختلف ممالک کی حکومتوں نے پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کے سدباب کے لیے قوانين وضع کٸے ہیں جنکی خلاف ورزی پر جرمانے و تادیبی سزاٸیں دی جاتی ہیں ہمارے ملک میں بھی اس بابت قوانين موجود ہیں جن کی پاسداری صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اشد ضروری ہےتاکہ تمباکو نوشی کے نتيجے میں غیر ارادی طور پر متاثر ہونےوالے غیر تمباکو نوش افراد کو تمباکو کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچایا جاسکے اگر تمباکو نوشی کی بنیادی وجوہات کا جاٸزہ لیا جاٸے تو عام طور پر تمباکو نوشی کی طرف راغب ہونے والے افرادتمباکو کے عادی افراد کی صحبت میں انکی دیکھا دیکھی مبتلا ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ اس لت کا مستقل شکار بنتے ہیں بعض نے ابتدا میں اسے بطور فیشن اپنایا اور آہستہ آہستہ تمباکو کے عادی ہوٸے بعض تمباکو نوش حضرات اپنی تھکاوٹ زہنی پریشانی اور سماجی محرومیوں کو جواز بنا کے بطور تریاق بھی اس جانب راغب ہونے کو جواز قرار دیتے ہیں اور یوں وہ تمباکو نوشی کے لت میں مستقل پڑگٸے اگر تھوڑی سی توجہ دی جاٸے تو تمباکو نوش حضرات اس لت سے نجات پاکر صحت مندانہ سرگرميوں اور ماحول کی طرف لوٹ سکتے ہیں نشہ درحقيقت عادت کی تکرار کا نام ہے اس تکرار سے نجات کے لیے مناسب رہنمائی سے باآسانی تمباکو نوشی سے چھٹکارا دلایا اور پایا جاسکتا ہے تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے بنیادی طور پر قوت ارادی ہی بنیادی تریاق اور ہتھیار ہے قوت ارادی کو بروۓ کار لاکر ہی اس سے بچا اور نجات پاٸی جاسکتی ہے اور مناسب کونسلنگ اور رہنمائی کے لیے طبی و نفسياتی ماہرین سے بھی رہنمائی اور علاج معالجے کی ضرورت ہے ہمارے ملک میں اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ہمارا ملک ترقی پذیر ملک ہے خطیر سرمایہ تمباکو نوشی پر صرف ہورہا ہے اس بابت مذہبی ، سماجی و فلاحی ادارے بھی توجہ دے کر آگاہی مہم کے زریعے اس کو کم کروانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تمباکو نوشی کو خاموش قاتل سے تشبیہ دی جاتی ہے ہمارے ملک میں خاص کر نوجوان طبقہ اور طلبا بڑی تیزی سے اس جانب راغب ہو رہے ہیں جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے تعلیمی اداروں میں اس بابت باقاعدہ نفسياتی ماہرین کے زریعے تربيتی کلاسیں منعقد کی جانی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لت سے دور رکھا جاسکے اور انکا رجحان دیگر مثبت سرگرميوں کی طرف راغب کیا جاسکے اس سے انکار صحت مند زندگی سے پیار کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔ Twitter Handle Srufaq@

  • ‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

    ‏اسلام روحانی سپر پاور : تحریر احسان اللہ خان

    اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ہر دور میں ہمیشہ ہی سپر طاقت ہی ثابت ہوا ہے ۔کبھی تو مسلمانوں کو سیاسی عروج کی بنیاد پر اسلام فاتح اور غالب بن کر رہا اور سیاسی غلبہ کے فقدان کی صورت میں اس نے قلوب پر حکمرانی کی۔ تاریخ میں چند ایسے موڑ بھی آئے ہیں جب لوگوں کومحسوس ہو چلا کہ اسلام اب زوال پذیر ہے اور اس کا چل چلاؤ شروع ہو چکا ہے لیکن تھوڑی ہی مدت میں اچا نک کایا پلٹ گئی اور اسلام پر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا ۔ پہلی مرتبہ عالم اسلام پر اور خصوصاً اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی حکومت خلافت عباسیہ اور بغداد پر تاتاریوں کی یورش کے موقعہ پر لوگوں کومحسوس ہوا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تاتاریوں کے طوفان بلاخیز سے اسلامی علوم وفنون کی دھجیاں اڑ گئی تھیں اور تہذیب و تمدن کا چراغ غل ہو گیا تھا لیکن ایسے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت کا ستاره اقبال گردش میں تھا، اسلام کی روحانی طاقت قلوب کو سفر کر رہی تھی اور جنھوں نے مسلمانوں کو مفتوح بنالیا تھا اسلام نے اسی فاتح قوم کے قلوب کو فتح کرنا شروع کیا، تا کہ وہی تاتاری ایک دن اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور پاسبان بن گئے۔
    اسی طرح گذشتہ صدیوں میں جب ہندوستان سے سلطنت مغلیہ اور پھر خلافت عثمانی کا زوال ہوا ، اور نتیجہ کے طور پر اسلامی ممالک پر یوروپی استعار کا تسلط ہوا، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شاید زوال پذیر ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت یقیناً شکست خوردہ اور زوال پذیر تھی، لیکن اسلام کی روحانی طاقت اور قوت تسخیر نے شکست تسلی نہیں کیا اور اس نے اہل یوروپ وان مریکہ کے قلوب کومسخر کرنا شروع کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور اکثر اسلامی ممالک و علاقہ جات پر یورپ کے استعماری قبضہ و تسلط کی وجہ سے گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ مسلمان بھی امریکہ یا یورپ میں اپنی بستیاں بسائیں گے اور وہاں پورے اسلامی تشخص و امتیاز کے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے، بلکہ مساجد و ن مراکز بنا کر یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کو اپنامدعو بنائیں گے۔ آج صورت حال یہ ہے امریکی مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک کڑوڑ اور یورپ میں تقریبا پانچ کروڑ ہورہی ہے ۔ اسلام اس وقت امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ۔
    اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں، بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ ۃشا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ”آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ، بلکہ پورے یورپ پرحکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہوسکتا ہے۔ میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت ونمو کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ج ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ، جو اس کو ہر زمانہ میں قابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا سکتا ہے۔ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابل قبول ہو گا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابل قبول ہونا شروع ہو گیا ہے۔ فرانس کے طالع آزماسکندر مانیپولین بوناپارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اورتعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا۔ قرآن کے یہی اصول ہی میں صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
    آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے۔ اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئیندہ ۳۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی وغیرہ۔
    اہل یورپ پر ان کی خوف چھایا ہوا ہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہل مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالم اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ اسلاموفوبیا کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیات اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔ غرض یہ کہ اسلام کا وجود وظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے ۔ یہ ایک ایسا نقطئہ انقلاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔ اسلام کا بھی روحانیت کا سرچشمہ اعلی تھا اور وہ آج بھی انسان کی بھٹکی ہوئی روح اور اس کے آوارہ ذہن کو ایمان و یقین کی تازگی اور روحانیت کی لذت آگیں حلاوت سے بالیدہ و زندہ بناسکتا ہے۔
    Twitter | ‎@IhsanMarwat_786

  • نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    کبھی لمحوں میں صدیاں بیت جاتی ہیں، کبھی لمحے گزارنے کے لیے صدیوں
    انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فطری عمل تو اپنی جگہ،انسان کی زہنی کیفیات گردش ایام کی پیمائش کرتی ہیں۔حضرت عزیر ؑ اور اصحابِ کہف ؓ کے واقعات تو معجزہ وکرامت سے منور ہیں ہی لیکن عامۃالناس پر یہ پیمائشیں اثراندازہوتی ہیں۔ فلم تین گھنٹے کی دیکھنے کے بعد بھی وقت کا پتہ نہیں چلتا اور نماز کا آدھاگھنٹہ بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہماری
    روح، ضمیر اور سوچ کی سمت کاتعین کرتی ہیں۔ قبرکے امتحان میں اگر کامیاب ہو گئے تو صدیوں کی زندگی چند لمحوں میں گزرجائے گی اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو ایک ایک لمحہ اذیت ناک گزر ے گا اور کوئی چھڑانے والا بھی نہیں ہو گا۔
    قارئین محترم!دنیا میں اربوں کھربوں انسان آئے،انتہائی مختصر زندگی بسرکی اوراپنا باب زندگی سمیٹ کر چل بسے۔انسان کے جانے کے بعد بھی اگرکسی شخص کا تذ کرہ ہوتاہے تو صرف اُس کے کردار کی بدولت ہوتا ہے۔ مال ومتاع،جاہ ومنصب توعارضی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جوزندگی کےبعدبھی انسان کوجلاہ بخشتے گی وہ اس کا کرداراورمشن ہے۔روز ازل سے دو کردارہمیشہ مدمقا بل رہے ہیں۔لیکن بے سرو ں سامانی کے با وجود فتح نے ہمیشہ حق کےپلڑے میں اپناجھکاؤ رکھا۔معرکہ کربلا ہو یا نمرود کے دربار میں حضرت ابرا ہیم ؑ، غزوہ بدر ہو فرعون کے مقابلہ میں موسی ؑکاکردار، ہمارے لیےحق والوں کی معیت مشعل راہ رہی ہے۔ نمرود، فرعون، یزید اور ابو جہل مال ومتا ع، روپے پیسے، جاہ ومنصب اور حواریوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مٹ گئے۔آج ان کا نام لیوا تک نہیں رہا۔لیکن نیکوں کاروں کی سنگت کر نے والا چاہے اصحابِ کہف ؓ کا کتا ہو یا حضرت سلیمانؑ کے راستے پرآنے والی چیونٹی۔ان کے نام تا قیامت زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرو توجواب ملتاہےکہ ایک بندے کی کوشش سے کیا فائدہ ہو گا؟لیکن اصل بات کردارکی ہے۔حضرت ابرا ہیم ؑ کے لیے جب آگ جلائی گئی تھی تو ایک گرگٹ دورسے پھو نکیں مارنےلگا۔تا کہ آگ کی تپش میں اضافہ ہو جائے۔ وہ ایسا کر تو نہ کر سکا لیکن قیامت تک کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی لاتی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ کو بجھا ئے گو کہ وہ آگ کوبجھاتونہ سکی لیکن بجھانے والوں میں شامل ہو گئی۔آج صدیوں بعد بھی اُس کا تذکرہ ہوتا ہے۔آج لاکھوں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کے خلاف ویب سائٹس
    لانچ کی ہو ئی ہیں۔جو مختلف میڈیا کے ذریعے ہماری نئی جنر یشن کے قلوب واذہان پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔کفار نے پلانگ کے تحت ہمیں مغلو ب کر نےکے لیے صدیوں پر محیط ورکنگ کی ہو ئی ہے۔ برِصغیر کے وائسرائے لارڈمیکا لے نے 1835 میں رعب ودبدبہ بٹھا نے کے لیے کہا تھا”یو رپ کی ایک الماری کی کتابیں برصغیرکے سارے لٹر یچر سے بہترہیں“۔حالانکہ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس برصغیرکیے لٹر یچر میں قر آن مجید بھی ہے۔جس سے تمام علوم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔اس نظریے کا تسلسل آج بھی نظر آرہاہے۔ہمارے لوگ یورپ کی نمو دو نما ئش سے مرعوب ہو کر وطن عز یز پاکستا ن کو چھو ڑ کر وہا ں رہا ئش پز یر ہو کر مغلوبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    اگران تمام حالات کو بنظر غائر دیکھیں تو قصورہمارااپناہی ہےاجتماعی طورپریہ سوچ غالب ہو تی جارہی ہے کہ اگرمیں اپنے حصے کا کردارنہ بھی اداکروں توخیرہے کیوں کہ باقی جو سب اپنا کرداراداکررہے ہیں،حالانکہ ایساہوتانہیں۔ایک بادشاہ نے اپنی راعیہ سے کہا کہ تمام لوگ رات کےاندھیرے میں اس تالاب میں ایک ایک گلاس دودھ کا ڈال دیں جب صبح اٹھ کربادشاہ نے دیکھا تو ساراتالاب پانی کا بھراہواتھا۔اس نے جب معاملے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہر بندے کی سوچ یہ تھی کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیاہو گاجب باقی سب نے دودھ ڈالناہے۔ یہ سوچ کروہ سبھی پانی کاگلاس ڈالتے رہے اور ساراتالاب پانی سے بھر گیا۔یوں اگرانفرادی کوشش نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حصے کاکرداراداکرتے جائیں اورنتیجہ اللہ پرچھوڑدیں تو ضرور بہتری آئے گی۔
    ہم دھوکہ کھانے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سچے لوگ سامنے آنے پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اور ہاں! اگر دھوکہ کھانا ہی ہے تو کم از کم اسلام کےنام پر توکھائیں،نیت سچی ہونے کا ثواب تو مل جائے گا۔ حضرت عمر ؓ اپنےجس غلام کو دیکھتے کہ لمبی نماز پڑھ رہا ہے آپ ؓ اسے آزاد کردیتے،کسی نےکہا کہ یہ آپؓ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو آپ ؓنے فرمایا کہ (مفہوم)کہ میں اللہ کے نام پرایسے ہزاردھوکے کھانے کو تیارہوں۔ترکی میں ہم نے دیکھاکہ عوام نے طیب اردگان کی ایک کال پر اتنی بڑی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر قوم کی توقعات پرپورا اترتا ہو۔مسلم اُمہ کی عوام کی سب سے بڑی توقع ایک ہی ہے کہ پوری دنیا پر اسلام کاپرچم بلند ہوجائے تاکہ برما،فلسطین،کشمیر،عراق
    ،افغانستان اورشام پرکفارکی بربریت ختم
    ہو جائے اور ان کامال، جان، عزت اورآبرو محفوظ ہوجائے۔معیشت کی ثانوی
    حیثیت ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔عوام کے جذبات اور اُمنگوں کی
    ترجمانی کرنے والالیڈر جب بھی مل جائے گا ملک کی ترقی و خوشحالی کی منازل
    بڑی برق رفتاری سے طے ہوں گی۔اقبالؓ کی روح تو آج بھی کہ رہی ہے۔
    نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
    حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ (مفہوم) ”کفار کا سب سے پہلا حملہ میری
    اُمت کے نظام حکومت پر ہوگا،اور سب سے آخر پر حملہ نمازپرہوگا“(مستدرک
    الحاکم)۔توآج وطنِ عزیزکے نظام کو کفار دوست ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے
    لیے ما لی و بدنی کرداراداکرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائد
    اعظم اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق محفوظ اور خوشحال پاکستان فراہم
    کر سکیں۔

    DrAkAliOfficial

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    ہر کوئ چاہتا ہے کہ انہیں صاف و شفاف ماحول ملے لیکن بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہے جو کہ اپنے ماحول کو صاف بنانے کیلۓ کچھ بھی نہیں کر رہے اور ہر روز اپنے ماحول کو بدترین بنا رہے ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صفائ نصف ایمان ہے ۔ یعنی صفائ ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہے اور حضورﷺ کو اپنا آخری نبی مانتے ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم حضورﷺ کی اس بات پر عمل کرتے ہوۓ صفائ کو اپنا نصف ایمان بناۓ۔ اس سے ہم نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہمارا ملک بھی صاف رہے گا اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
    پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں سے ہوتا ہے جو کہ آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری خود کی وجہ سے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی خاص وجوہات میں شامل ایندھن کا جلانا، سڑک کے اطراف کچھرا پھینکنا، جنگلات کی کٹائ، گاڑیوں اور بجلی کے آلات کا غیر ضروری استعمال، کیڑے مار ادویات کا غلط استعمال اور صنعتی فضلہ یہ سب ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کر رہے ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا بنیادی وجوہات ہے۔
    جب گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی میں بھی شدت سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہمارے خوراک، موسم، اور ہمارے صحت پر بھی پڑتا ہے۔
    نیشنل جیوگرافک کے مطابق موسمیاتی حالات میں شدت کی وجہ سے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا جیسے برف کی چادریں پگھل جاتی ہے اضافی پانی جو کہ کبھی گلیشئرز میں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندر میں پانی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے جو کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
    ماحولیاتی آلودگی ہمارے لیۓ ایک بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے ۔ جب اگر بارشیں نہیں ہوگی تو ہماری زمینیں زرخیز نہیں ہوگی۔ جب زمینیں زرخیز نہیں ہوگی تو فصل سہی نہیں ملےگا اور جب سہی فصل نہیں ملے گے تو اچھی صحت نہیں ہوگی اور بیماریاں زیادہ ہونگی کہیں ہم خشک سالی کا شکار ہونگے اور کہیں سیلاب کا۔ ہمارے پاس بھوک سے مرنے والے چہروں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
    ہمیں اگر اپنے ملک پاکستان کو آلودگی سے پچانا ہو تو ہمیں چاہئیے کہ پولی تھین بھیگ کا ہرگز استعمال نہ کرے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی چیز ہے لیکن زمینی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ یہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے .پولی تھین بیگ بہت نقصان دہ ہیں جن کا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنی ہوگی. شمسی اور ہوا سے توانائی کا استعمال کیا جانا چاہئے جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج پیدا نہیں کرتا ہے۔ بہاولپور میں پاکستان کا فوٹو وولٹک پاور اسٹیشن ، 100 میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک کام کر رہا ہے.
    ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقائدہ حکومتی سطح پر بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کے تحت پورے ملک میں 1 بلین درخت اگاۓ جائینگے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ یہ ایک انتہائ سحر انگیز اقدام ہے ۔ جس میں نہ صرف درخت اگانے ہے بلکہ جگہ جگہ پر جو گندگی پڑی ہے اس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم حکومت کے ساتھ بلین ٹری سونامی میں جوش و جزبے کے ساتھ شامل ہو

    جیسا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہمارے ایک متحدہ عمل اور منزل مقصود پر اعتماد کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت میں تبدیل ہونے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان کو صاف و شفاف اور سرسبز و شاداب بنانا بھی ہمارا ایک خواب ہے جسے ہم ایک دن ضرور پورا کرینگے. اور اپنے ملک سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے۔ اپنے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ ہر پاکستانی سے درخواست کرونگا کہ اس مون سون میں اپنے حصے کا ایک پودا لازمی لگواۓ.

    Waseem khan
    Twitter id: @Waseemk370