Baaghi TV

Category: کشمیر

  • 
آزاد کشمیر انتخابات 2026 کی تیاریاں، ووٹر لسٹوں کی تیاری کا شیڈول جاری

    
آزاد کشمیر انتخابات 2026 کی تیاریاں، ووٹر لسٹوں کی تیاری کا شیڈول جاری

    ‎آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 2026 کی تیاریوں کا آغاز ہو گیا ہے اور الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹیں تیار کرنے کے عمل کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔
    ‎الیکشن کمیشن کے مطابق 7 اپریل کو ابتدائی ووٹر لسٹیں عوامی آگاہی کے لیے آویزاں کی جائیں گی جبکہ شہری 11 اپریل تک ان لسٹوں پر اعتراضات جمع کرا سکیں گے۔
    ‎جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11 سے 13 اپریل تک موصول ہونے والے اعتراضات پر سماعت کی جائے گی اور 14 اپریل کو مجاز اتھارٹی ان اعتراضات پر فیصلہ سنائے گی۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ فیصلوں پر نظرثانی کا عمل 17 اپریل تک جاری رہے گا جبکہ 20 اپریل کو حتمی ووٹر لسٹیں عوام کے لیے آویزاں کر دی جائیں گی۔
    ‎الیکشن کمیشن کے مطابق یہ اقدامات شفاف اور منظم انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

  • آزاد کشمیر: چڑہویٰ میں ایک اور تیندوے کی لاش برآمد

    آزاد کشمیر: چڑہویٰ میں ایک اور تیندوے کی لاش برآمد

    ‎کوٹلی، آزاد کشمیر کے علاقے چڑہویٰ میں ایک اور تیندوا مردہ حالت میں برآمد ہوا ہے، جس سے رواں ماہ آزاد کشمیر میں تیندوؤں کی ہلاکتوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔
    آزاد کشمیر میں تیندوؤں کی مسلسل ہلاکتوں سے ان کی نسل کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے تیندوؤں میں دو کی موت گولی لگنے سے، ایک ہارٹ اٹیک سے اور ایک کی میڈیکل رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔
    چڑہویٰ میں شہری کی اطلاع پر محکمہ وائلڈ لائف نے تیندوے کی لاش تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور خوراک کی کمی جنگلی حیات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
    ‎شہری اور ماحولیاتی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہے اور نایاب انواع محفوظ رہیں۔

  • کٹھ پتلی بھارتی عدالت نےحریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا

    کٹھ پتلی بھارتی عدالت نےحریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا

    نئی دہلی کی کٹھ پتلی بھارتی عدالت نےحریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت نے سربراہ دختران ملت آسیہ اندرابی کو سیاسی مقدمے میں مجرم قراردیا، ان کے علاوہ حریت رہنما فہمیدہ صوفی اورناہیدہ نسرین کوبھی مجرم قرار دیا گیا ہے،جھوٹے مقدمے بدنام زمانہ بھارتی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی عدالت میں چلے جس میں حریت پسند کشمیری خواتین کو سزائیں17 جنوری کو سنائی جائیں گی،سیاسی مقدمے میں حریت رہنما آسیہ اندرابی کو اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور آسیہ اندرابی کے شوہرعاشق حسین 3 دہائیوں سے جھوٹے مقدمے میں بھارتی قید میں ہیں۔

  • یاسین ملک کیخلاف مقدمات ، پرانے گواہ بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ پیش

    یاسین ملک کیخلاف مقدمات ، پرانے گواہ بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ پیش

    جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے غیرقانونی طور پر نظربند اپنے چیئرمین محمد یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جموں کی ٹاڈا عدالت میں 35 سال پرانے مقدمات کی حالیہ عدالتی سماعت کے دوران پرانے گواہوں کو بدلتے ہوئے بیانات کے ساتھ غیر منصفانہ طریقے سے دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان محمد رفیق ڈار کا کہنا ہے کہ عدالتی سماعت کے دوران مودی حکومت نے سی بی آئی کے ذریعے ایک بار پھر ایک پرانے گواہ کو سامنے لایا جس نے 1990ء میں اسی عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ کسی بھی ملزم کو پہچاننے سے قاصر ہے۔ رفیق ڈار نے کہا کہ یہ ستم ظریفی ہے اور اسے بھارت کے عدالتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے کہ 35 سال کے بعد حکومت اور ایجنسیوں کے دبائو میں لا کر کس طرح پرانے گواہان سے اپنا بیان تبدیل کرنے اور یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی موجودہ انتہاپسند حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کے مقبول ترین آزادی پسند سیاسی رہنماؤں کے خلاف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جنہیں حکومت اور اس کی ایجنسیاں جعلی ، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات کے تحت جیلوں میں ڈال رہی ہیں۔ رفیق ڈار نے مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے گرفتاریوں اور عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا نیا سلسلہ شروع کرنے کی مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام نے عام لوگوں کے خلاف اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کر رکھا ہے۔ اُنہوں نے عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کریں اور بھارت کو مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرنے پر مجبور کریں۔

  • دہلی دھماکے کے بعد سخت کریک ڈاؤن سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    دہلی دھماکے کے بعد سخت کریک ڈاؤن سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد غیر قانونی طور پر زیرِقبضہ جموں کشمیر میں سیکیورٹی کے نام پر شروع کئے گئے بڑے پیمانے پر چھاپوں ، تلاشی کی کارروائیوں اور سخت پابندیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس ، پیراملٹری اہلکاروں اور تحقیقاتی اداروں نے بازاروں ، بس اڈوں ، ہسپتالوں ، ریلوے اسٹیشنوں اور شاہراہوں پر تلاشی کی کارروائیاں تیز کردی ہیں ۔ شہری اور دیہی علاقوں میں مسلسل محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں ، جس کی وجہ سے پورا مقبوضہ علاقہ ایک فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔وادی کشمیر میں حالات ابتر ہیں۔ شمالی سے جنوبی کشمیر تک ، بھارتی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس نے نئی چوکیاں قائم کر دی ہیں، جہاں تلاشی کے لیے گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے جبکہ گھروں پر بھی چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سخت پابندیوں اور محاصرے کے ماحول کی وجہ سے ان کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ لوگوں میں شدید خو ف و ہراس پھیل گیاہے ۔مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ جموں ریلوے سٹیشن پر مسافروں کو چوبیس گھنٹے ذلت آمیز تلاشی کی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سکیننگ ڈیوائسز اور دیگر آلات سے لیس بھارتی فورسز کی ٹیمیں مسافروں بشمول بزرگوں ، خواتین اور طلباء کو بار بار چیکنگ اور شناخت کی تصدیق کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ کٹھوعہ ، سانبہ ، ادھمپور اور جموں خطہ کے دیگر علاقوں میں بھی کشمیریوں کو اسی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے ۔

    انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق بھارتی فورسز لال قلعہ دھماکے کو اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں کشمیر میں ایک "غیر معمولی کریک ڈائون” کا جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سخت پابندیاں ، چھاپے ، تلاشی کی کارروائیاں اور کشمیریوں کو ہراساں کرنا اور مقبوضہ کشمیرکی پوری آبادی کو سزا دینے کے مترادف اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے ۔کشمیریوں کا کہنا ہے کہ بھارتی قابض حکام نے مسلسل نگرانی ، چھاپوں اور دھمکیوں کے ذریعے ان کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔

  • قابض بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں ایک رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا

    قابض بھارتی فوجیوں نے پلوامہ میں ایک رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا

    غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع پلوامہ میں ایک کشمیری ڈاکٹر کے مکان کو تباہ کر دیاہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوجیوں نے پلوامہ کے کوئل گاﺅں میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب دھماکہ خیز مواد سے ڈاکٹر عمر نبی کے آبائی گھر کو تباہ کر دیا۔یہ کارروائی رات تقریباً ڈھائی بجے کی گئی ۔ڈاکٹر عمر نبی بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھے ۔ ڈاکٹر عمر نبی دہلی میں پیر کی شب لال قلعے کے قریب ہونے والے دھماکے میں جاںبحق ہوگئے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت اور اس کی تحقیقاتی ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جس گاڑی میں دھماکہ ہوا ڈاکٹر عمر اس میں موجود تھے۔

  • یوم شہدائے جموں ، مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں ٹی ایل ایف کے پوسٹرز چسپاں

    یوم شہدائے جموں ، مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں ٹی ایل ایف کے پوسٹرز چسپاں

    مقبوضہ جموں کشمیر میں 06 نومبر یوم شہدائے جموں کے موقع پر سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں دی لبریٹرز فرنٹ (ٹی ایل ایف) کے پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں جن میں 06 نومبر جموں کے قتل عام کو انسانی تاریخ کا سانحہ قرار دیا گیا کیونکہ اسی روز 1947ء میں جموں میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی گئی اور اڑھائی لاکھ لوگوں کو شہید کیا گیا ، یہ پوسٹرز انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں سرینگر کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے ہیں جن میں 06 نومبر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ ان قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور آزادی کی یہ جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی ، انگریزی اور اردو زبانوں میں چسپاں ان پوسٹرز میں شہداء کو سلام پیش کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ ان شہداء نے جموں کی مٹی کو اپنے لہو سے مہکایا اور شہداء کا خون ہمارا فخر اور اثاثہ ہے ، یہ بھی پوسٹروں میں تحریر ہے کہ چھ نومبر ایسا دن ہے جب ہزاروں کشمیری مسلمانوں نے آزادی ایمان اور عزت کی خاطر اپنی جانیں قربان کردیں ، ان کے لہو نے جموں کی دھرتی کو سرخ کیا اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کبھی مفت نہیں ملتی ۔

  • مقبوضہ کشمیر،زمینی حقائق کی حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوؤں کی نفی

    مقبوضہ کشمیر،زمینی حقائق کی حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوؤں کی نفی

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر کے زمینی حقائق بھارت کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کہ علاقے میں خاص طور پر دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد حالات معمول پر آ گئے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین واقعات جن میں کوکرناگ ، اسلام آباد اور ملحقہ ضلع کشتواڑ کے گڈول جنگلاتی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران دو کمانڈوز کا لاپتہ ہونا اور راجوری کے بیرنتھب علاقے میں جھڑپیں شامل ہیں ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ علاقہ مسلسل محاصرے میں ہے اور استحکام سے کوسوں دور ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج کے 5 پیرا یونٹ کے دو فوجی جنوبی کشمیر میں کوکرناگ کے گھنے جنگلات میں ایک آپریشن کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حملے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ ان کا سراغ لگانے کے لیے فضائی نگرانی سمیت بھاری تعداد میں بھارتی فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لاپتہ فوجیوں کو مجاہدین نے حملے کے بعد اغواء کر لیا۔راجوری کے علاقے کنڈی میں بھارتی فوج ، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ کو ایک مشترکہ آپریشن کے دوران مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس میں ایس او جی کے کم از کم پانچ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور بھارتی فورسز نے علاقے کو فوری طور پر محاصرے میں لیا اور تلاشی کی کارروائی شروع کی ۔آخری اطلاعات آنے تک بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا جبکہ مقبوضہ علاقے کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں جاری ہیں جن میں مقامی کشمیریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا اور بھارتی قبضے کو مستحکم کرنا ہے۔ علاقے میں امن کے بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں ، چھاپے ، جھڑپیں ، گمشدگیاں اور گرفتاریاں بلاروک ٹوک جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک کشمیریوں کے تاریخی حقوق کو تسلیم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا اور کشمیر کا بنیادی تنازعہ حل نہیں کیا جاتا ، اس وقت تک علاقے میں حالات معمول پر آنے کا دعویٰ ایک کھوکھلا نعرہ ہی رہے گا۔ کشمیری اپنی مزاحمت ترک نہیں کریں گے اور میڈیا کے پروپیگنڈے سے بھارتی فورسز کی چوکیاں ، چھاپے اور گرفتاریاں ختم نہیں ہو سکتیں۔

  • مقبوضہ  کشمیر میں ایک اور فیس بک صارف کے خلاف مقدمہ درج

    مقبوضہ کشمیر میں ایک اور فیس بک صارف کے خلاف مقدمہ درج

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر میں اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کے ایک اور واقعے میں بھارتی حکام نے ضلع بڈگام میں ایک فیس بک پیج "کشمیر اسپیکس” کے ایڈمنسٹریٹر کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اس پر سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خان صاحب پولیس اسٹیشن میں کالے قانون بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے جب مذکورہ پیج پر ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ آری زال کے بازار میں گوشت فروخت کرنے کے لئے ایک گھوڑے کو ذبح کیا گیا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ سے مقامی لوگوں میں غیر ضروری خوف اور افراتفری پھیل گئی۔حکام نے بتایا کہ یہ کیس 26 اگست کو پیش آنے والے ایک واقعے کے سلسلے میں درج کیاگیا ہے جس میں رکھائی گائوں میں ایک گھوڑا مارا گیا تھا۔تاہم انسانی حقوق کے کارکن اس کارروائی کو مقبوضہ علاقے میں آن لائن اظہارِ رائے پر ایک وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ سمجھتے ہیں جہاں صحافیوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام سوشل میڈیا صارفین کو سرکاری پالیسیوں پر سوالات اُٹھانے پر اکثر مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    سول سوسائٹی ارکان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کشمیریوں کی آوازوں کو دبانے کے لیے قوانین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے آن لائن پوسٹوں پر ظالمانہ کارروائیاں کر رہی ہے ، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جو زمینی حقائق کو شیئر کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔یہ اقدام مقبوضہ جموں کشمیر میں شہری آزادیوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں حکام بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی آن لائن سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہے ہیں اور لوگوں کو سزا دے رہے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر: پی آئی اے کے لوگو والے غبارے نے بھارتی حکام کی دوڑیں لگوا دیں

    مقبوضہ کشمیر: پی آئی اے کے لوگو والے غبارے نے بھارتی حکام کی دوڑیں لگوا دیں

    مقبوضہ جموں،کشمیر میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے لوگو والا ایک غبارہ نظر آنے پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شہر جموں میں اس وقت غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوئی جب فضا میں پی آئی اے کے نشان سے مزین غبارہ دکھائی دیاواقعے کے بعد بھارتی انتظامیہ نے فوری طور پر الرٹ جاری کردیا، اور تحقیقات شروع کردیں، اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے جموں کے علاقے سانبہ میں ایسا ہی غبارہ دیکھا گیا تھاان لگاتار واقعات کے بعد مقامی لوگ بھارتی فورسز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ تبصرے کررہے ہیں کہ جدید اسلحے سے لیس فوج اگر ایک غبارے سے خوفزدہ ہو جائے تو یہ اس کی کمزوری کی علامت ہے۔

    واضح رہے کہ چند برس قبل بھارتی حکام نے لائن آف کنٹرول عبور کرنے والے 2 کبوتر مختلف اوقات میں پکڑ لیے تھے، اور دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ان کبوتروں کے ذریعے جاسوسی کررہا ہے۔