سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے مسجد کے ارد گرد محاصرے جیسی پابندیاں ہٹانے باالخصوص جمعہ کے موقع پر بھارتی فورسز کو تعینات نہ کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی تعداد میںبھارتی فورسز کی موجودگی سے نہ صرف نمازی خوفزدہ ہوجاتے ہیں بلکہ اس سے تاریخی جامع مسجد کی حرمت اور مرکزیت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انجمن اوقاف کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور بالخصوص جمعہ کے موقع پردور دراز اضلاع سمیت وادی بھر سے ہزاروں لوگ خطاب سننے اور اللہ تعالیٰ کی برکتوں کے حصول کے لےے تاریخی جامع مسجد پہنچ جاتے ہیں لیکن مسجد کے ارد گردبھارتی فوجیوں کی بڑی تعدادمیں موجودگی سے خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ نماز جمعہ کے بعد عقیدت مندوں کے خلاف اسلحے کے استعمال سے ہرطرف انتشارپیدا ہوجاتا ہے۔ انجمن اوقاف نے قابض انتظامیہ سے باربار کہاہے کہ وہ جمعہ کے موقع پر جامع مسجد کے ارد گرد بھارتی فورسز کو تعینات نہ کرے لیکن قابض انتظامیہ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوااور رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کو بھی بھارتی فورسز کوبھاری تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔ دریں اثناءانجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے عوام کو مطلع کیا ہے کہ میرواعظ عمرفاروق کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے رمضان المبارک کے پہلے دس روز میںان کے تمام مجوزہ خطابات ملتوی کردےے گئے ہیں۔ ترجمان نے کشمیری عوام پر زوردیا کہ وہ میرواعظ کشمیر کی جلد صحتیابی کے لےے دعا کریں۔
Category: کشمیر
-

مقبوضہ کشمیر: انتخابی ڈرامے کے لیے لائی گئی اضافی فورسز امرناتھ یاترا کے لیے وادی میں ہی رہیں گی
سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)انتخابی ڈرامہ رچانے کے لیے تعینات کی گئی بھارت کی سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی اضافی کمپنیوں کو اب امرناتھ یاترا کی سکیورٹی کا بہانہ بناکر علاقے میں ہی رہنے کے لیے کہاگیا ہے۔ ایک سینئر افسرکے مطابق وادی میں لوک سبھا انتخابات ختم ہونے کے باوجود فورسز کی زیادہ تر کمپنیاںیہاں ہی تعینات رہیں گی۔ 46دنوں پر مشتمل سالانہ یاترا یکم جولائی سے شروع ہوگی۔ پہلگام کے علاقے چندواڑی میں واقع امرناتھ غارکی زیارت کے لیے ہرسال بھارت بھر سے ہندو یاتری آتے ہیں ۔ انتخابی ڈیوٹی کے لیے 400اضافی کمپنیاں وادی میں تعینات کی گئی تھیں۔ ان اضافی کمپنیوںکے علاوہ وادی میں پہلے ہی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے تقریباً 50ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
-

ترال سے 17 کشمیری بھارت نے گرفتار کر لئے
مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال سے بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران 17 کشمیریوں کو گرفتار کر لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے ترال کے علاقے سید آباد پستونہ میں سرچ آپریشن کے دوران 17 کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے. بھارتی فوج نے ان پر الزام لگایا ہے کہ یہ سنگ باری کرتے ہیں. 17 نوجوانوں کی گرفتاری کی وجہ سے ترال کے علاقے مین شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے ، گرفتار شدگان کے والدین پریشان ہیں، حریت رہنمائوں نے گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے
-

پرامن مظاہرین پر بھارتی فوج نے گولیاں چلا دیں، بارہ سے زائد کشمیری زخمی
مقبوضہ کشمیر میں تین سالہ کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والے پر امن مظاہرین پر بھارتی فوج نے گولیاں چلا دیں جس سے بارہ سے زائد کشمیری زخمی ہو گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سانحہ سمبل کے خلاف بھر پور احتجاج جاری ہے، کشمیر کے مختلف علاقوں میں کشمیری احتجاج کر رہے ہیں، دوران احتجاج بھارتی فوج نے کشمیریوں پر آنسو گیس کا استعمال کیا، پیلٹ گولیاں چلائیں ، بعدا زاں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے گولیاں چلا دیں جس سے بارہ سے زائد کشمیری زخمی ہو گئے. جنہیں سرینگر کے مقامی ہسپتال میں طبی امداد کے لئے منتقل کر دیا گیا.
واضح رہے کہ پولیس نے 3 سالہ بچی سے زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملزم کو فوری پھانسی دی جائے.
-

کمسن بچی سے زیادتی کے ملزم کو سزا دی جائے، حریت رہنما بھی بول پڑے
حریت رہنما حریت کانفرنس ع کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ ماضی میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جب ایک کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، اب پھر ایک اور ایسا دردناک واقعہ پیش آیا یہ غیر انسانی واقعہ معاشرے میں بے راہ روی کے بڑھتے رجحانات کو ظاہر کرتا ہے. انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے.
-

تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی، مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، پھانسی کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر کے علاقے بانڈی پورہ میں تین سالہ کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ پر جموں کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطاق بانڈی پورہ کے علاقہ ملک پورہ سمبل میں تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ سامنے آنے پر مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاج جاری ہے. اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبا نے سوموار کو یونیورسٹی میں احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں اساتذہ نے بھی شرکت کی. مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے ، بارہمولہ اور سوپور میں بھی بھر پور احتجاج کیا گیا ،اس موقع پر مکمل ہڑتال رہی تمام کاروباری مراکز بند رہے. مظاہریں نے سرینگر بارہمولا مین سڑک پر دھرنا بھی دیا اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو پھانسی دی جائے .سرینگر کے مختلف علاقوں میں بھی سوموار کو کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کے خلاف پر امن مظاہرے کئے گیے، سرینگر کے علاقوں سعدہ کدل، گائو کدل، علمگری بازار اور شالیمار علاقوں میں مظاہرے ہوئے. اس موقع پر تمام تعلیمی اور کاروباری ادارے مکمل طور پر بند رہے.
واضح رہے کہ سمبل میں کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ کے خلاف مقبوضہ جموں کشمیر کے ہر علاقے میں احتجاج جاری ہے. پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جو ملک پورہ تریگام ،سمبل کا رہائشی ہے.ملزم کی عمر 27 برس ہے جس نے 3 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی ہے.
-

جی ایل شیل پھٹنے سے دوبھارتی فوجی زخمی
سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے مژھل میں گرنیڈلانچر کا شیل پھٹنے سےں بھارتی فوج کے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی فوجیوں کی شناخت 56راشٹریہ رائفلز کے 39سالہ حوالدار جے پال سنگھ تومر اور33سالہ نایک وکرم مانے کے طورپر کی گئی ہے .۔جموںکمشیر پولیس افسر کے مطابق جی ایل اس وقت پھٹ گیا جب فوجی اپنی چوکی پر ہتھیاروں اور اسلحہ کی صفائی کررہے تھے ۔ دونوں زخمیوںکو درگمولہ کے فوجی ہسپتال لے جایا گیاجہاں سے ان کو مزید علاج کے لیے سرینگر کے بادامی باغ فوجی ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔تاہم انکی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے .
-

پولیس والے دودن تک ریپ کرتے رہے خاتون کا موقف ،عدالت عالیہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا
سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں عدالت عالیہ نے پولیس کی کرائم برانچ کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک خاتون کی طرف سے تین پولیس افسروںپر عصمت دری کے الزام کی تحقیقات کرے ۔ خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس افسروںنے ان کے گھر کو مسمار کرنے کے بعد اس کی عصمت دری کی ہے۔ خاتون کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ3اگست 2018ءکو تین پولیس افسروں کے ہمراہ انسداد تجاوزات کی ایک ٹیم نے ان کے گھر کو مسمارکیا۔ ان کے گھر کو نہ صرف بغیر کسی نوٹس کے مسمارکیاگیا بلکہ پولیس افسروں نے اس موقع پر ان سے بدتمیزی کی اور اس کو گاڑی میں ڈال کرپولیس سٹیشن چنور لے گئے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں 3سے 5اگست تک دو راتوں کے لےے پولیس سٹیشن میں رکھا گیااوران کے خلاف ایک جھوٹا کیس درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 3اگست2018ءکی شام کو اسے پولیس سٹیشن کے عقب میں ایک الگ کمرے میں لے جایا گیاجہاں تین آدمیوں نے اس کی عصمت دری کی۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنا معائنہ کرانے کے لےے جموں کے ہسپتال گئیں لیکن پولیس افسروں نے وہاں ان کا معائنہ نہیں ہونے دیا۔ خاتون کی روداد سننے کے بعد عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جموںکی ہدایت کے مطابق تحقیقات کا مقصد سچ کی تہہ تک پہنچنا ہونا چاہےے اور تحقیقات کرائم برانچ کے ایس پی سطح کے افسر کے ذریعے کرائی جائے۔ عدالت نے تحقیقاتی رپورٹ 29جون 2019تک پیش کرنے کا حکم دیا۔
-

1989سے 11مئی 2019ءتک خواتین اور بچوں سمیت 95353 کشمیری شہید
سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع شوپیان میں دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ۔بھارتی فوج نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے ستی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا ۔ شہیدنوجوانوں کی شناخت بشارت احمد اور طارق احمد کے طور پر ہوئی ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کھاسی پورہ سے تعلق رکھنے والا طارق احمد سابق سپیشل پولیس افسر تھا جو گزشتہ سال اپریل میں مسلح جدوجہد میں شامل ہوگیاتھا۔نوجوانوں کی شہادت کے بعد علاقے میں مقامی نوجوانوں اور فورسز اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ قابض انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے اضلاع میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی ۔بھارتی فوجیوں نے ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہاڑہ میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، سینئر حریت رہنما اورتحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی اور دیگر حریت رہنماﺅں نے اپنے الگ الگ بیانات میں شہید نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ سید علی گیلانی نے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکمرانوں کی ضد اورغیر حقیقت پسندانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے اسے علاقے میں جاری خون خرابے کی بنیادی وجہ قراردیا۔محمد اشرف صحرائی نے کہاکہ بھارت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کشمیریوں کی آواز کو خاموش نہیں کراسکتا۔
دنیا کے بیشتر حصوں میں آج جب ماں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ، مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مائیں اپنے لاپتہ بیٹوں کی واپسی کا انتظارکررہی ہیں جن کو بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 30سال کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا۔ ماں کے عالمی دن کے موقع پر کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت کی طرف سے جاری ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 1989سے 11مئی 2019ءتک خواتین اور بچوں سمیت 95353 کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران22901خواتین کو بیوہ کردیا اور11120خواتین کی بے حرمتی یا ان سے بدسلوکی کی ۔رپور ٹ میں کہاگیا کہ بھارتی فوجیوں نے اس دوران 8000سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اور ان لاپتہ افراد کی مائیں آج بھی اپنے بیٹوں کی واپسی کا انتظارکررہی ہیں۔ -

مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی حکومت کا اگلا بجٹ تاریخ سازہو گا،مشتاق منہاس
اسلام آباد (نمائندہ باغی ٹی وی )وزیراطلاعات راجہ مشتاق احمد منہاس نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی حکومت کا اگلا بجٹ تاریخ سازہو گا، جماعتی عہدیداران کو مشاورتی عمل میں شریک کرینگے راجہ فاروق حیدر نوازشریف کے نامزد کردہ وزیراعظم ہیں پارلیمانی پارٹی میں مختلف ایشوز مختلف آرا ہوسکتی ہیں لیکن اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ راجہ فاروق حیدر ہی پانچ سال ن لیگ کے وزیراعظم رہیں گے۔ ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی باضمیر لوگوں پرمشتمل ہے قائد پاکستان محمد نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہیں جلد وہ جیل سے باہر آکر ملک کی خدمت کریں گے مریم نوازصاحبہ نے اپنی جدوجہد اور عمل سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ تیرویں ترمیم سے ریاست بااختیار ہوئی یہ واپس نہیں ہوسکتی نہ ہی کوئی ایسا سوچے لیکن اس میں مزید بہتری کے لیے چودھویں ترمیم لائی جاسکتی ہے کیونکہ آئین سازی ایک ارتقائی عمل کا نام ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کیا وزیر اطلاعات نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت نے ریاستی میڈیا کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں رکھا ہے ترقیاتی میزانیہ کے بقایاجات اسی ماہ اداکردیے جائیں گے وزیراعظم آزادکشمیر نے ہدایت کی ہے کہ محکمہ جات اپنے ترقیاتی منصوبوں میں تشہیر کے لیے ایک فیصد بجٹ پی سی ون میں مختص کریں اس کے علاوہ نارمل کے اشتہارات کے بجٹ میں بھی قابل ذکر اضافہ کیا گیا ہے پیپرا سے متعلق بھی ریاستی اخبارات کے دیرینہ مطالبے پر اسے یک سو کردیا گیا ہے اب تمام اشتہارات محکمہ اطلاعات کی پالیسی پر جاری ہونگے وزیر اطلاعات نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت نے ترقیاتی شعبہ گورننس اورتحریک آزادی کشمیر کے ساتھ ساتھ ریاست کو بااختیار بنانے اور مالیاتی طورپر خودکفالت حاصل کرنے میں اہم سنگ میل طے کیے ہیں باقی ماندہ دو سالوں میں رہی سہی کسر پوری کرینگے
