Baaghi TV

Category: خواتین

  • کھجور کا ملک شیک ٹھنڈک اور صحت ساتھ ساتھ

    کھجور کا ملک شیک ٹھنڈک اور صحت ساتھ ساتھ

    کھجور کا ملک شیک
    اجزاء:
    کھجوریں 50 گرام بھگو لیں
    دودھ 75 ملی لیٹر
    آئس کیوب آدھا کپ
    چینی 50 گرام
    دہی 50 گرم

    ترکیب:
    بلینڈر میں کھجوریں دہی چینی دودھ اور آئس کیوب ڈال کر بلینڈ کریں اور گلاسوں میں ڈال کر سرو کریں کھجور کھانے کے بے شمار فوائد ہیں اسکا ملک شیک طاقت بھی دیتا ہے اور ٹھنڈک بھی –

  • افطاری کے بعد سینے کی جلن اور تیزابیت سے بچنے کے لئے چند مفید گھریلو نسخے

    افطاری کے بعد سینے کی جلن اور تیزابیت سے بچنے کے لئے چند مفید گھریلو نسخے

    رمضان کے دوران افطاری کے بعد سینے کی جلن، بدہضمی اور تیزابیت جیسی شکایت عام ہو جاتی ہیں اگر یہ مسئلہ 12 مہینے رہتا ہے توڈاکٹر سے رجوع کریں اور چیک اپ کرائیں اگر یہ شکایت رمضان کے دوران اور افطاری کے بعد سامنے آ رہی ہے تو اس شکایت کا سبب افطار کے دوران زیادہ اور مرغن غذاؤں کا استعمال ہو سکتا ہے –

    علامات:
    طبی ماہرین کے مطابق تیزابیت کی شکایت کمزور نظام ہاضمہ کی نشاندہی کرتی ہے غذا کے استعمال کے فوراً بعد معدے میں درد کا محسوس ہونا، پیٹ کا پھول جانا، دل کا جلنا، متلی، اُلٹی کے ساتھ خون آنا، وزن کا بغیر کسی وجہ کے کم ہونا اور غذا مشکل سے ہضم ہونا شامل ہے۔

    تیزابیت کی وجوہات:
    طبی و غذائی ماہرین کے مطابق تیزابیت کی وجوہات میں بڑی وجہ کھانے کے درمیان طویل وقفہ، خالی پیٹ رہنا، بہت زیادہ چائے یا کافی کا استعمال، تمباکو نوشی کا استعمال وغیرہ بھی بتایا جاتا ہے۔

    رمضان کے دوران افطاری کے فوراً بعد تیزابیت محسوس ہونے سے طبیعت بوجھل ہونے لگتی ہے جن سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے چند مفید اور آزمودہ گھریلو نسخوں سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

    سونف میں چھپے صحت کے راز جانئے

    سونف:
    ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف چبانا معدے میں تیزابیت کے عمل سے بچاؤ کا سبب بنتی ہے سونف کی چائے غذائی نالی کو صحت مند رکھتی ہے اور فرحت بخشتی ہے، تیزابیت سے بچاؤ کے لیے سونف کا پانی بھی بنا کر پیا جا سکتا ہے، سونف کا استعمال پیٹ کو پھولنے سے بھی بچاتا ہے۔

    ادرک کے حیران کن فوائد

    ادرک:
    ادرک ہاضمے کے لیے بہترین اور ورم کش دوا قرار دی جاتی ہے، معدے کی تیزابیت کم کرنے کے لیے ایک ٹکڑا ادرک چبالیں یا کچھ مقدار میں ادرک ابلتے ہوئے پانی کے کپ میں ڈالیں اور 15 سے 20 منٹ بعد پی لیں۔

    دار چینی کے کرشماتی فوائد

    دار چینی :
    دار چینی بھی تیزابیت کے لئے انتہائی مفید ہے دار چینی غذا کو بہتر طریقے سے جذب ہونے میں مدد فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو دور کرنے کے لیے انتہائی کارآمد ہے، افطار کے فوراً بعد اس کی چائے بنا کر استعمال کی جا سکتی ہے ۔

    ایلوویرا کے فوائد

    ایلوویرا یا کنوار گندل:
    طبی ماہرین کی جانب سے نظام ہاضمہ کی بہتری کے لیے ایلوویرا جیل کا استعمال مفید قرار دیا جاتا ہے، یہ سینے کی جلن کا بہترین علاج ہے، تیزابیت سے بچنے کے لیے روزہ افطار کے بعد اور کھانا کھانے سے قبل ایلوویرا شربت کا آدھے سے ایک کپ تک مقدار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    الائچی کے جادوئی فوائد

    پسی ہوئی الائچی اور لونگ:
    تیزابیت دور کرنے کے لیے پسی ہوئی الائچی اور لونگ کا استعمال بھی بے حد مفید ہے، تیزابیت ختم کرنے کے ساتھ یہ منہ کی بدبو بھی ختم کرتی ہے۔

    بادام:
    بادام کا استعمال نظامِ ہاضمہ کو قوت بخشتا ہے اور معدے کی ایسیڈٹی سے نجات دلاتا، بادام کے استعمال سے سینے کی جلن میں بھی آرام ملتا ہے۔

    لونگ کے چند حیرت انگیز فوائد

    کیلا اور سیب:
    معدے کی تیزابیت سے بچنے کے لئے کیلا بھی انتہائی کارآمد پھل ہے کیلے میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو کہ تیزایبت کے عمل کو روکتے ہیں کیلے اور سیب کا استعمال معدے کی تیزابیت سے نجات کے لیے انتہائی آسان ٹوٹکا ہے، یعنی روزانہ صرف ایک اور کچھ پھانکیں سیب کی کھانے سے تیزابیت سے بچا جا سکتا ہے ۔

    افطار ی میں لوبیا، پھلیوں، سبزیوں ، پھلوں اور کالے چنوں کا استعمال تیزابیت کی شکایت دور کرنے لئے انتہائی مفید ہیں، یہ غذائیں گیس ہونے سے بھی سے بچاتی ہیں علاوہ ازیں رمضان کے دوران افطاری کے بعد تیزابت سے بچاؤ کے لیے دودھ کا استعمال بھی مفید ہے دودھ میں موجود کیلشیم معدے میں تیزابیت کے عمل کو روکتی ہے۔

    ہری سبزیوں کا استعمال ڈپریشن میں کمی کے لئے مفید

  • کھگا کری بنانے کی ترکیب

    کھگا کری بنانے کی ترکیب

    کھگا کری (مچھلی کی ایک قسم کا سالن)

    وقت ………… 45سے 50منٹ
    4سے 5افراد کے لئے

    اجزائے ترکیب مقدار
    پوری کھگا مچھلی 1کلو (ایک مچھلی 200سے 250گرام کی ہو)
    تیل آدھا کپ
    دہی 1کپ
    ٹماٹر (چھلے اور کٹے ہوئے) ½کپ
    پیاز (قتلے) ½کپ
    ادرک (کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    لہسن (کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر ½کھانے کا چمچ
    زیرہ (کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ
    اجوائن ½چائے کا چمچ
    سجاوٹ کے لئے:
    ہرا دھنیا کٹا ہوا 2کھانے کے چمچ

    طریقہ کار :
    ہر کھگا مچھلی کو 3سے 4ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ برتن میں تیل گر م کریں۔ پیاز، ادرک اور لہسن ڈال کر ہلکا براؤن ہونے تک پکائیں۔ نمک، سرخ مرچ، ہلدی اور زیرہ شامل کریں اور مزید 1سے 2منٹ تک پکائیں۔ اب اس میں دہی، ٹماٹر اور اجوائن شامل کردیں اور اتنا پکائیں کہ مصالحہ تیار ہوکر گھی چھوڑ دے۔ مچھلی شامل کرکے 3سے 4منٹ تک بھونیں۔ اب 1½کپ پانی شامل کرکے ہلکی آنچ پر 15سے 20منٹ تک پکائیں حتیٰ کہ مچھلی پک جائے۔ ہرے دھنیے کے ساتھ سجائیں۔ سفیدابلے چاولوں یا نان کے ساتھ پیش کریں۔ ایک ہی سائز کی مچھلی استعمال کریں اور مچھلی کو زیادہ نہ بھونیں ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی۔

  • افطاری میں بنانے والے چند پکوان

    افطاری میں بنانے والے چند پکوان

    کلب سینڈوچ

    جزاء:
    ڈبل روٹی کے سلائس 4 عدد
    مرغی کا گوشت 1کپ روسٹ کیا ہوا
    انڈے ابلے ہوئے 2عدد
    مکھن آدھاکپ
    سلاد حسب ضرورت(کھیرا،سلاد کے پتے)
    ٹماٹر 1عدد قتلے کاٹ کر
    مایونیز آدھا کپ
    مسٹرڈ پیسٹ 2 ٹیبل سپون

    ترکیب:
    سب سے پہلے بریڈ کے تمام سلائسز کو مکھن لگا لیں پہلی پرت میں روسٹ کئے ہوئے گوشت کے ٹکڑےاورمایونیز اور مسٹرڈ کا مکس پیسٹ ٹماٹرکے قتلے رکھیں دوسری پرت میں سلاد اور ابلےہوئے انڈے کے ٹکڑے رکھ کر اس کے اوپر سلائس رکھ دیں اور اس کو ہلکا سا فرائی کر لیں سلائس کو درمیان سے کاٹ لیں اور درمیان میں ٹوتھ پک لگا دیں لذیذ اور عمدہ سینڈوچ تیار ہے ٹماٹو کیچپ کے ساتھ کھائیں-

    رشین سلاد

    اجزاء
    مایونیز- آدھا کپ ،سیب- ایک عدد ،ابلے ہوئے- مٹر آدھا کپ ،سفید مرچ- آدھا چائے کا چمچ ،آلو -دو عدد درمیانے سائز کے، نمک حسب ذائقہ

    ترکیب:
    آلو اور مٹروں کو ابال لیں آلو اور سیب کو چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑوں میں کاٹ لیں مایونیز میں سفید مرچ اور نمک ڈالی کر اچھی طرح مکس کریں پھر اس میں سیب اور آلوؤں کے ٹکڑے ڈال کر مکس کریں اور سلاد کو خوبصورتی کے لیے سلاد کے پتوں سے سجا لیں اور فریج میں رکھ دیں ٹھنڈا ہو نے پر پیش کریں-

    تربوز سیلڈ

    اجزاء:
    تربوز۔ ایک عدد، لیموں۔ – دو عدد، پودینہ۔ چند پتے، کٹی کالی مرچ۔ آدھا کھانے کا چمچم ادرک۔ دو کھانے کے چمچ، پیاز۔ ایک عدد، کھیرا۔ ایک عدد، شہد۔ دو کھانے کے چمچ، چینی۔ دو کھانے کے چمچ، نمک۔ حسب ذائقہ

    ترکیب:
    تربوز کے چھوٹے چھوٹے چوکور ٹکڑے کاٹ کر بیج نکال لیں۔ پھر ایک پیالے میں تربوز ڈال کر فریج میں رکھ دیں تاکہ ٹھنڈا ہو جائے۔ اب فرائنگ پین میں شہد، لیموں کا رس، چینی اور حسبِ ذائقہ نمک ملاکر کیریمل سوس بنائیں اور اس میں ادرک ملا دیں۔ پھر اسے تربوز کے اوپر چاروں طرف ڈالیں اور کالی مرچ چھڑک دیں۔ اس کے بعد پودینے کے چند پتے ڈال کر سب چیزیں ملالیں۔ آخر میں اسے آدھے گھنٹے فریزر میں رکھنےکے بعد پیش کریں

    آلو کے کرسپی ڈونٹس:

    اجزاء:
    آلو -آدھا کلو ، پیاز -1 عدد چوپڈ ، ہری مرچیں -3عدد چوپڈ ، 2 سے 3 سپون ہرا دھنیا ، میدہ -1 سپون ، کارن فلور- 1 سپون ،کالی مرچیں آدھا چائے کا چمچ ، سرخ مرچ -آدھا چائے کا چمچ ، نمک-آدھا چائے کا چمچ ، ہلدی- چٹکی بھر ، انڈا -1 عدد ، بریڈ کرمز- 1 کپ

    ترکیب:
    آلوؤں کو بوائل کر کے انھیں کدو کش کر لیں یا میش کر لیں کدو کش کرنے سے آلو بلکل باریک ہو جاتے ہیں اب آلوؤں میں تمام چیزیں شامل کر کے اچھی طرح مکس کر لیں جب مکس ہو جائے تو 10 منٹ کے لئے فریج میں رکھ دیں دو عدد انڈے لے کر اس میں چٹکی بھر نمک اور کالی مرچ ڈال اچھی طرح مکس کریں اور ایک پیالی میں تھوڑا سا آئل لے لیں اور ڈونٹس کی کوٹنگ کی لیے بریڈ کرمز بنا لیں اب آلوؤں کے آمیزے کے قٹلس بنا لیں قٹلس کے درمیان میں کسی ڈھکن کی مدد سے یا انگلی سے سوراخ کر لیں اور آدھے گھنٹے کے لیے فریج میں رکھ دیں اب کڑاہی میں آئل گرم کریں اور ڈونٹس کو انڈے کے آمیزے میں ڈبو کر کرمز لگائیں پھر ہلکی آنچ پر فرائی کر لیں جب براؤن ہو جائیں تو انھیں آئل سے نکال لیں مزیدار کرسپی ڈونٹس تیار ہیں-

    چیز پکوڑے

    اجزاء:

    کاٹیج چیز ایک کپ،بیسن ایک پیالی، انڈہ۔ ایک عدد، چکن کیوب۔ ایک عدد، لال مرچ۔ چار عدد (باریک کٹی ہوئی )، ہری مرچ۔ چھ عدد.ہرا دھنیا۔ حسب ضرورت، میٹھا سوڈا۔ ایک چٹکی، دہی۔ ایک چائے کا چمچ، سفید زیرہ۔ ایک چائے کا چمچ، تیل۔ حسبِ ضرورت، نمک۔ حسبِ ذائقہ،

    ترکیب:
    ایک پیالے میں بیسن، انڈہ ، دہی، میٹھا سوڈا، ہرا دھنیا، ہری مرچ، لال مرچ، سفید زیرہ، چکن کیوب اور نمک ڈال کر نیم گرم پانی کے ساتھ اچھی طرح ملائیں۔ اب اس میں کاٹیج چیز شامل کردیں۔ پھر کڑاہی میں تیل گرم کرکے اس آمیزے کے پکوڑے تل لیں۔ جب پکوڑے گولڈن براؤن ہو جائیں تو نکال کر ٹشو پیپر پر رکھ دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے۔ چیز سے بنے گرم گرم پکوڑے املی کی چٹنی اور کیچپ کے ساتھ پیش کریں۔

    چنے کی دال کے پکوڑے

    اجزاء:
    چنے کی دال۔ ایک پاؤ، پسی ہوئی لال مرچ۔ ایک چائے کا چمچ، پسا ہوا زیرہ۔ دو چائے کے چمچ، پیاز (باریک کٹی ہوئی)۔ ایک پاؤ، نمک۔ حسب ذائقہ، ہلدی۔ آدھا چائے کا چمچ، کھانے کا سوڈا۔ آدھا چائے کا چمچ، ہری مرچیں۔ آٹھ عدد، ہرا دھنیا۔ حسب ضرورت، تیل۔ تلنے کے لیے

    ترکیب:
    چنے کی دال کو پانی میں بھگو دیں۔ جب پکوڑے بنانے ہوں تو پانی نکال کر دال کو اچھی طرح پیس لیں۔ اب اس میں نمک، پسی ہوئی سرخ مرچ، ہلدی، پسا ہوا زیرہ، کھانے کا سوڈا، پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچیں شامل کر کے اچھی طرح ملالیں۔ اس کے بعد تیل گرم کر کے دال کا آمیزہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں پکوڑے کی شکل میں کڑاھی میں ڈالیں اور اچھی طرح تل لیں۔

    پالک کے پکوڑے

    اجزاء:

    پالک۔ آدھی گٹھی، بیسن۔ ایک کپ، پیاز۔ دو عدد، ہری مرچ۔ دو عدد، ہرا دھنیا۔ آدھا کپ، سفید زیرہ۔ آدھا چائے کا چمچ، ہلدی۔ ایک چوتھائی چائے کا چمچ، لال مرچ کٹی ہوئی۔ آدھا چائے کا چمچ، بیکنگ پاؤڈر۔ آدھا چائے کا چمچ، تیل۔ حسب ضرورت، نمک۔ حسب ذائقہ

    ترکیب:
    پالک باریک کاٹ لیںاور بیسن میں شامل کریں۔ بیسن میںباقی تمام اجزاءبھی ڈال دیں اور مکس کر کے 15منٹ کیلئے رکھ دیں۔پھر تیل گرم کریں اور پکوڑے ڈیپ فرائی کرلیں۔ لیجیے مزیدار پالک کے پکوڑے تیار ہیں۔

    چکن قیمہ پکوڑے

    اجزاء:

    چکن۔ ایک پاؤ، انڈے۔ دو عدد، بیسن۔ دو کھانے کے چمچ، پسی ہوئی لال مرچ۔ ایک چائے کا چمچ، کٹی ہوئی ہری مرچ۔ دو عدد، ہلدی۔ ایک چوتھائی چائے کا چمچ، بیکنگ پاؤڈر۔ آدھا چائے کا چمچ، نمک۔ ایک چائے کا چمچ، کٹا ہرا دھنیا۔ حسب ضرورت، چاٹ مسالہ۔ آدھا کھانے کا چمچ، ہری پیاز (باریک کٹی ہوئی)۔ آدھا کپ

    ترکیب:
    بیسن، بیکنگ پاؤڈر، پسی ہوئی لال مرچ، ہلدی، نمک، پانی، باریک کٹی چکن، کٹی ہری مرچ اور کٹا ہرا دھنیا ڈال کر ایک پیالے میں مکس کرکے30منٹ کے لیے رکھ دیں۔ اب پین میں تیل گرم کر کے اس کو پکوڑے کی شکل میں خستہ اور گولڈن ہونے تک فرائی کر لیں۔ یوں لذیذ چکن قیمہ پکوڑے تیار ہوجائیں گے۔

    فروٹ چنا چاٹ

    اجزاء:
    سفید چنے۔ ایک پاؤ، سیب۔ ایک پاؤ، امرود۔ ایک پاؤ، کیلے۔ 6عدد، لیموں کا رس۔ حسبِ ضرورت، نمک۔ حسب ضرورت، لال مرچ۔ ایک چوتھائی چائے کا چمچ، کالی مرچ۔ ایک چٹکی، چینی۔ ایک کھانے کا چمچ

    ترکیب:
    چنے گلا لیں اور سیب چھیل کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں۔ ساتھ ہی امرود کے بھی ٹکڑے کر لیں جبکہ کیلے کے گول قتلے بنا لیں۔ پیالے میں تمام پھلوں کو ڈالیں اور پھر لیموں کا رس ڈال کر ملائیں۔ چنے گلا کر اس میں شامل کرد یں اور حسب ذائقہ نمک مرچ ڈالیں۔ اب چینی ڈالیں اور تمام چیزوں کو ایک بارپھر اچھی طرح مکس کر یں۔ لیجیے چنا چاٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

    شامی کباب

    اجزاء:
    بغیر ہڈی گوشت آدھا کلو
    آئل 1 کپ
    نمک حسب ذائقہ
    انڈے 2 عدد
    چنے کی دال آدھا کپ
    ثابت سرخ مرچ دو عدد
    پیاز 1عدد
    ہری مرچ 4 عدد
    ہرا دھنیا 3 چمچ
    لہسن 4 جوئے
    پسا ہوا گرم مصالحہ آدھا چائے کا چمچ

    ترکیب:
    گوشت اور دال کسی پتیلی میں ڈال کر اس میں نمک ثابت سرخ مرچ لہسن اور پسا ہوا گرم مصالحہ اور پانی ڈال دیں پانی اتنا ڈالیں کہ گوشت اور دال گل جائے اور پانی خشک ہو جائے جب دال اور گوشت گل جائے پانی خشک ہو جائے تو چولہے سے اتار لیں اور اس کو گرینڈ کر لیں اگر گرائنڈر نہ ہو تو سل پر پیس لیں پھر اس میں انڈے پیاز سبز مرچ اور دھنیا باریک کاٹ کر ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں پھر اس مصالحے کی چھوٹی چھوٹی گول ٹلیاں بنا لیں فرائی پین یا توے پر آئل گرم کرکے تل لیں شامی کباب تیار ہیں رائتہ یا چٹنی کے ساتھ پیش کریں-

  • رمضان میں وزن میں اضافے  جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

    رمضان میں وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان لوگوں کے لئے صنم جنگ کا ویڈیو بلاگ

    پاکستانی اداکارہ و میزبان صنم جنگ نے دوران رمضان وزن میں اضافے جیسے مسائل سے پریشان خواتین و مرد حضرات کے لئے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شئیر کی ہے-

    باغی ٹی وی: اداکارہ صنم جنگ کا کہنا ہے کہ دوران رمضان مجھ سمیت کئی لوگوں کو وزن میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےکیونکہ سحری افطار میں خود کو روکنا آسان نہیں اور اسی وجہ سے جب ہم رمضان کے بعد اپنے پرانے کپڑے پہننے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ فٹ نہیں ہوتے میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے-

    اداکارہ نے اپنے ویڈیو بلاگ میں نیوٹریشنسٹ اور ڈائٹ کنسلٹنٹ ڈاکٹر اریج ہارون کے ڈائٹ پلان کے ذریعے مداحوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کہ وہ اگر اس ڈائٹ پلان کو فالو کرلیں تو دوران رمضان کم ازکم 5کلو وزن کم کرسکتے ہیں-

    سحری ڈائٹ پلان:
    ڈاکٹر اریج کے مطابق وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کو چاہیے کہ وہ سحری کے لیے اٹھیں تو پہلے ایک گلاس پانی پی لیں اور سحری کے دوران مصالحے والی، روغنی چیزوں جیسے تلے پراٹھے ، گھی ،تیل والی چیزیں کھانے سے گریز کریں بلکہ ایک باؤل کمپلیکس کارب یعنی دلیا، جو یا لال آٹے کی ایک چپاتی یا پھر 2 براؤن بریڈ سلائس، ایک ابلاہوا انڈا، 2 سے 3 چمچ دہی اور ایک کھجور لیں اگر کوئی سالن جیسے قیمہ یا کوئی سبزی کھانا چاہتے ہیں تو پھر انڈا نہ کھائیں-

    سحری کے دوران چائے،کافی اور کولڈرنکس کا استعمال بھی نہ کیا جائے، چائے کے شدید شوقین افراد بغیر چینی اور زیادہ دودھ والی چائے کا انتخاب کریں جب کہ سحری کے بعد فوراً سونے کے بجائے کم سے کم 40 سے 45 منٹ کا وقفہ لے کر آرام کریں۔

    افطار ڈائٹ پلان:
    افطار میں رنگ برنگے شربت استعمال نہ کریں جتنے جوسز جن میں سفید چینی کا استعمال ہوتا ہے وہ اگر آپ لیتے ہیں تو ہیوی ہو جاتا ہے قدرتی چیزوں کی طرف جائیں فریش فروٹ لے سکتے ہیں بغیر چینی کے اسمودھیز بنا سکتے ہیں اسٹرابیری کی اسمودھی آلو بخارے کا شربت بنا سکتے ہیں سفید چینی بالکل استعمال نہ کریں کیونکہ وہ تو ایک طرح سے زہر ہے اگر چاہیں تو گُڑ اور شکر لے سکتے ہیں اور نمک ہلکا سا ضرور شربت میں استعمال کریں اگر کسی کو ہائپوٹینسی پرابلم ہے تو وہ نمک نہ ڈالے-

    ڈاکٹر اریج کے مطابق درج ذیل افطار ڈائٹ پلان کے ذریعے رمضان میں 4 سے 5 کلو وزن بآسانی کم کیا جاسکتا ہے۔

    نماز سے قبل

    ایک گلاس لیمنیڈ

    2کھجور

    ایک بال چنے

    مکس فروٹ چاٹ کے بجائے ایک مکمل پھل

    بعد نماز مغرب
    نماز کے بعد تلی ہوئی چیزوں کے بجائے اپنا رات کا کھانا کھائیں جو کہ ایک چپاتی اور دال یا سبزی پر مشتمل ہو۔

    تروایح کے بعد
    تراویح کے بعد اگر بھوک ہو تو درج ذیل اشیاء کھائی جاسکتی ہیں ۔

    کھجور

    سیریل

    کوئی بھی ایک پھل یا

    انڈے /گرلڈ چکن ان سے آپ کی ڈائجیشن بھی ٹھیک ہو جائے گی اور وزن بھی نہیں بڑھے گا-

    ڈاکٹر اریج کے مطابق پکوڑے کے بہت شوقین افراد ہفتے میں تین دن پکوڑے، ایک سموسہ لے سکتے ہیں وہ بھی ایک چھوٹا سا سموسہ ، 3 سے چار پکوڑے اور ایک رول یا پھر بہسن کی روٹی بنا لیں اس میں وہ تمام اجزا ڈالیں جو آپ پکوڑوں میں ڈالتے ہیں اور ہلکا سا گھی یاآئل لگا کر اس بنالیں بہت مزے کی بنتی ہے اور اس سے وزن میں بھی کمی ہوتی ہے-

    علاوہ ازیں نیند پوری لیں اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں اور رمضان کو عبادتوں کا مہینہ بنائیں نا کہ کھانے کا-

  • طبی ماہرین کا روزہ داروں کو سخت احتیاط کا مشورہ

    طبی ماہرین کا روزہ داروں کو سخت احتیاط کا مشورہ

    طبی ماہرین نے شدید گرمی کے دوران روزہ رکھنے والوں کو سخت احتیاط کا مشورہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی :پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدیدگرمی،کورونا وائرس اور ساتھ ہی رمضان المبارک میں ماہرین صحت نے لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سحر اور افطار میں بیمار اور صحت مند افراد متوازن غذاکھائیں، گرم اور خشک موسم کے روزے جسم میں پانی اور شوگرکا لیول کم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہےکہ سحر اور افطار میں کھجور، دودھ، دہی، لسی اور پھلوں کا زیادہ استعمال کیا جائے اور کم سے کم6 گھنٹے کی نیندضرور پوری کریں۔

    ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر اور ذیابیطس والے حضرات اپنے معالج سے پوچھ کر روزہ رکھ سکتے ہیں اور کورونا سے بچاؤ کےحفاظتی اقدامات ضرور اپنائیں۔

    تخم ملنگا صحت کا ضامن

    چھلکا اسپغول قدرت کی عظیم نعمت جس میں چھپے صحت کر راز

  • پایا شوربہ سوپ بنانے کی ترکیب

    پایا شوربہ سوپ بنانے کی ترکیب

    پایا شوربہ سوپ

    وقت: 4سے 4½ گھنٹے

    5 سے 6 کپ

    اجزائے ترکیبی مقدار
    مٹن کے پائے 5ٹکڑے
    تیل 1چوتھائی کپ
    تیپیاز (باریک کٹاہوا) 1کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ 2کھانے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    کشمیری لال مرچ پاؤڈر 1½ چائے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    کالی مرچ (ثابت) 10سے 12 عدد
    لونگ 3سے 4عدد
    تیزپات 2درمیانے
    زیرہ 1چائے کا چمچ
    دار چینی 1درمیانی
    موٹی الائچی 2عدد
    چھوٹی الائچی 3عدد
    سجاوٹ کے لئے :
    SNPگرم مصالحہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    ہرا دھنیا کٹا ہوا 2کھانے کے چمچ

    طریقہ کار:
    بڑے برتن میں دو لیٹر پانی لی اسے ابلنے تک پکائیں اورابلتے ہوئے پانی میں مٹن پائے شامل کردیں۔ دو منٹ تک ابالیں پانی ضائع کردیں اور پائے الگ نکال لیں۔ بڑے برتن میں تیل گرم کریں اور پیاز کو ہلکا براؤن ہونے تک پکائیں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے تمام مصالحے بھی ڈال دیں۔ تھوڑی مقدار میں پانی شامل کریں۔ ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ اب اس میں پائے اور 3سے 4 لیٹر پانی شامل کردیں۔ برتن کو اچھی طرح ڈھک کر ہلکی آنچ پر 3½ سے 4گھنٹے تک پکائیں۔ اب چولہے سے اتار کر کمرے کے ٹمپریچر میں ٹھنڈا کرلیں۔ اب پائے الگ کرلیں اور یخنی الگ کرلیں۔ پکے ہوئے پائے الگ کھائے جاسکتے ہیں۔ دوسرے برتن میں یخنی ڈال کر 8سے 10 منٹ تک پکائیں یہاں تک کہ وہ گاڑھی ہو جائے۔ سجاوٹ کے لئے گر م مصالحہ اورہرا دھنیا چھڑک کر گرم گرم پیش کریں۔

  • ثابت مسور کا سوپ ریسیپی

    ثابت مسور کا سوپ ریسیپی

    ثابت مسور کا سوپ

    وقت : 40سے 50منٹ

    5 سے6 کپ

    اجزائے ترکیبی مقدار
    ثابت مسور آدھا کلو
    تیل 2کھانے کا چمچ
    پیاز (باریک کٹا ہوا) 1چوتھائی کپ
    لہسن (باریک کٹا ہوا) 2جوے
    ٹماٹر (باریک ٹکڑے) 1چوتھائی کپ
    چکن کی یخنی 6کپ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر آدھا چائے کا چمچ
    زیرہ آدھا چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے:
    لیموں کا رس 1سے2 کھانے کا چمچ
    ہرا دھنیا (کٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    لہسن (کٹا اور فرائی کیا ہوا) 1کھانے کا چمچ

    طریقہ کار:
    ایک برتن میں تیل گرم کریں اس میں پیاز اور لہسن ڈال کر ہلکا براؤن ہونے تک پکائیں۔ ٹماٹر، تمام مصالحے ور تھوڑی سی مقدار میں پانی شامل کرکے ایک سے دو منٹ تک پکائیں۔ اب ثابت مسور ار چکن کی یخنی شامل کردیں ور اس وقت تک پکائیں جب تک مسور گل نہ جائیں۔ آدھی دال کو موٹاگرائنڈ کرلیں اور باقی آدھی دال میں شامل کرکے سوپ کو مکمل کرلیں۔ اب لیموں کا رس چھڑک دیں ہرا دھنیا اور تلے ہوئے پیاز اورلہسن ڈال کر گرم گرم پیش کریں۔ سوپ کے لئے باقی ثابت دالیں مثلاً مونگ کی دال، لوبیا وغیرہ بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔

  • ملیگا تاؤنی سوپ بنانے کی ترکیب

    ملیگا تاؤنی سوپ بنانے کی ترکیب

    ملیگا تاؤنی سوپ

    وقت :50سے60منٹ

    پانچ سے چھ کپ کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار

    بغیر ہڈی کے چکن (ابلا اور ریشے کئے ہوئے) 100گرام
    چکن کی یخنی 6کپ
    مکھن(بغیر نمک) 3کھا نے کے چمچ
    پیا ز (موٹا کوٹا ہوا) 2کھانے کے چمچ
    ادرک لہسن(باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    دال مسور (دھلی اور بھگوئی ہوئی) 1کپ
    ٹماٹر (کٹے ہوئے) 2چمچ
    سیب (پتلی کاشیں) 1چھوٹا
    کالی مرچ (ثابت) 6سے 7 دانے
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ (پسی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    ہلدی 1چائے کا چمچ
    زیرہ آدھا چمچ
    کالی مرچ (کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
    ناریل کا پاؤڈر 1 کھانے کا چمچ
    لونگ 2سے 3دانے
    چھوٹی الائچی 3سے 4دانے
    تیزپات 1درمیانہ
    سفید آٹا آدھا کپ
    کریم آدھا کپ
    لیموں کارس 2سے 3 کھانے کے چمچ
    سجاوٹ کے لئے :
    سفید ڈبل روٹی کا فرائی ٹکڑے 1کپ
    گاڑھی کریم 1کپ
    ابلے چاول ½ کپ

    پکانے کا طریقہ:
    ایک بڑے ساس پین میں مکھن، پیاز، کترا ہواادرک ورلہسن اور دال مسور ڈال دیں۔ تین سے چار منٹ تک درمیانی آنچ پر رکھ دیں۔اس میں ٹماٹر، سیب، ثابت کالی مرچ، زیرہ، سرخ مرچ پاؤڈر، ہلدی پاؤڈر، ناریل کا پاؤڈر، لونگ، چھوٹی الائچی اور تیزپات شامل کردیں۔ آٹھ سے دس منٹ تک اسے مزید پکائیں۔ آٹا شامل کرکے چند منٹ کے لئے ہلائیں۔ اب اس میں چکن کی یخنی شامل کردیں اور اس وقت تک پکائیں جب تک مسورکی دال گل نہ جائے۔ اب اسے چولہے سے اتار کر اچھی طرح مکس کریں یہاں تک کہ وہ ملائم شکل اختیار کرلے۔ اب اسے علیحدہ برتن میں 20سے30منٹ تک گاڑھا ہونے تک پکائیں۔ چولہاہلکا کردیں اور چکن کے ریشے، نمک، کالی مرچ، کریم اور لیموں کا رس شامل کردیں۔ سوپ میں ڈبل روٹی کے فرائی ٹکڑے سجا کر اوپر کریم اور ابلے ہوئے چاول ڈال کر سجائیں اور گرما گرم پیش کریں۔ آپ چکن کے بغیر سبزی کا سوپ بھی بنا سکتے ہیں۔ اس میں سبزیوں کی یخنی یا پانی شامل کرسکتے ہیں۔

  • کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    کھانے پکانے کے طریقے اور اس کے لئے درکار اشیاء

    بالٹی:
    جسے کڑاہی بھی کہا جاتا ہے۔ خیبرپاس کے چھوٹے مختلف قصبوں سے یہ شروع ہوئی۔ 60کی دہائی کے شروع میں جب سیاحوں نے بڑی تعداد میں ان علاقوں کا رخ کیا تو انہیں کھلانے کے لئے ذرائع میسر نہیں تھے تو انہوں نے بالٹی میں دنبے کا گوشت پکانا شروع کیا۔ دنبے کا گوشت اپنی ہی چربی میں صرف نمک کے ساتھ تیز آنچ پر پکایا جاتا تھا۔ آخر میں چند ٹماٹراور کچھ سبز مرچیں بھی شامل کرلی جاتیں۔پاکستان کے دیگر علاقوں میں بالٹی کو کڑاہی کہاجاتا ہے اور اس میں زیادہ احتیاط سے پکایا جاتا ہے۔روایتی طور پر صرف دنبے یا مٹن کو اس طریقے سے پکانے کو بالٹی یا کڑاہی کہا جاتا تھا بعد میں چکن بھی بالٹی یا کڑاہی کے طورپر مشہور ہو گیاتاہم دال یا سبزی بالٹی جیسی کوئی چیزموجود نہیں۔

    پرات:
    پرات ایک چپٹے پیند ے والے 6سے8سینٹی میٹر گھیرے پر مشتمل ایک برتن ہے جو اشیا کو گوندھنے اور مکسنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ المونیم کا بنا ہوتاہے تاہم بعدمیں یہ سٹین لیس سٹیل میں بھی آنے لگا۔ اسے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیاجاتا ہے عام طورپر اس میں روٹی پکانے کے لئے آٹا گوندھا جاتا ہے۔

    اسٹیمر:
    یہ ایک تہہ دار ڈبہ ہے۔ جو کسی دھا ت یا بانس سے بنا ہوتا ہے جوکہ ابلتے ہوئے پانی پر رکھ دیا جاتا ہے۔ کھاناپکانے کے حصہ میں رکھ دیا جاتا ہے اور اوپر سے ڈھانپ دیاجاتا ہے تاکہ بھاپ باہر نہ نکل سکے بھاپ سے پکانے کا عمل ایک بہترین طریقہ ہے جس میں کھانے کی اصل شکل اور غذائیت برقرار رہتی ہے۔ مزید برآں بھاپ کے اس عمل میں تیل مشکل ہی استعمال ہوتاہے۔

    باسمتی چاول:
    باسمتی چاول پاکستان میں لمبے اورخوشبودار چاولوں کی ایک قسم ہے۔ بلاشبہ پاکستانی باسمتی چاول دنیا میں بہترین ہیں۔ پکانے پراس کے دانے اپنے سائز سے دگنے ہوجاتے ہیں اور ایک خوشبو دیتے ہیں۔ یہ کافی سخت ہوتے ہیں۔ ایک سال یا اس کے بعد یہ ذائقے میں بہترین ہوجاتے ہیں۔

    باتھو:
    یہ سبز پتوں پر مشتمل ایک پودا ہے جو گندم کے کھیتوں میں اگتا ہے۔ یہ صرف سردیوں کے موسم میں دستیاب ہے اور مختلف ڈشز اور رائتوں میں استعمال ہوتا ہے۔ آلو اور ساگ کے ساتھ اس کا ملاپ بہت مقبول ہے۔

    بھرتہ:
    بھرتہ پاکستانی اور بھارتی پکوانوں دونوں کا حصہ ہے۔ یہ مختلف سبزیوں سے بنایا جاتا ہے جیسا کہ بینگن یا آلو وغیرہ سے۔ بھرتہ میں سبزیاں پہلے پکائی جاتی ہیں پھر کاٹ کر کوٹا جاتا ہے اور اس میں مختلف مصالحہ جات بھی شامل کرلئے جاتے ہیں۔

    بھجیا:
    پکی ہوئی سبزی کی کسی بھی خشک شکل کو بھجیا کہا جاتا ہے۔ یہ آلو، بینگن، بند گوبھی، شلجم حتیٰ کہ انڈے کی بھی ہوسکتی ہے۔ بھجیا بناتے ہوئے زیادہ تر پانی ڈالا جاتا ہے اور پھر اسے تیار ہونے تک خشک کرلیا جاتا ہے۔

    بریانی:
    بریانی پکے ہوئے چاولوں کی ایک ایسی قسم میں جو گوشت، مرغی یا سبزی کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔ بہت سی بریانی مصالحے دار اور رنگدار ہوتی ہے اسے عموماً رائتے یا کچھ بھی ڈالے بغیر کھایا جاتا ہے۔

    بلانچنگ (چھلکے اتارنا) :
    بلانچنگ کا مطلب مغزیات یا دیگر پھل اور سبزیوں کو مختصر وقت کے لئے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر پھر انہیں فوری طور پر ٹھنڈے پانی میں ڈالنا ہے تاکہ ان کے چھلکے اتارے جاسکیں اور انکی شکل اورذائقے کو بھی برقرار رکھا جاسکے۔ ٹماٹر کو پورا بلانچ کرکے چھلکا اتارا جاسکتا ہے۔ بلانچنگ کچھ سبزیوں کو پکنے کے لئے یا فریز کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔

    بوٹی تکہ:
    گوشت،مچھلی یا مرغی کے ٹکڑے جو انگیٹھی پر پکائے جائیں۔

    بٹر فلائی:
    جب گوشت، مرغی یامچھلی کوعلیحدہ کئے بغیر کاٹا جائے تویہ عمل ”بٹرفلائی“ کہلاتا ہے۔مثال کے طورپر ایک ”پران“ کو لمبائی میں کاٹ کر سیدھا کریں تو یہ تتلی کی شکل سے مشابہت رکھے گی۔اسی طرح چکن کا سینہ یا بیف کوبھی اسی طریقے سے کاٹا جاسکتا ہے۔

    چاٹ:
    چاٹ سبزی، پھلوں اور دالوں پر مشتمل ایک مکسچر ہے۔ اس میں پیاز، سبز مرچ، چھوٹی الائچی اور مختلف مصالحے شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات اس میں میٹھی یا کھٹی چٹنی بھی اضافے کے لئے شامل کرلی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر سنیکس کے طورپر استعمال کی جاتی ہے تاہم یہ دیگر کھانوں کے ساتھ بھی پیش کی جاسکتی ہے۔

    چھوہارا:
    چھوہارے خشک کھجوریں ہوتی ہیں۔ اسے خشک کرنے کا عمل اسے دیرپا رکھتا ہے اورکھانوں میں اس کا استعمال اضافی ہوتا ہے۔

    کڑی:
    کڑی نام کا استعمال پاکستان میں عام طورپر نہیں ہوتا تاہم پاکستان اور بھارت میں پتلی یا گاڑھی گریوی ڈش بنانے کے لئے مشہور و معروف ہے۔ آج کل تھائی، ملیشین اور انڈونیشیائی کڑی بھی مشہور ہو رہی ہے جو کہ برصغیر کی کڑی کے ساتھ مکس ہوتی جارہی ہے۔

    دَ م پُخت:
    دَ م پُخت کا مطلب ہے ہلکی آنچ پر بھاپ میں پکانا۔ یہ زیادہ تر اچھی طرح ڈھانپے ہوئے برتنوں میں پکایا جاتا ہے تاکہ بھاپ کہیں سے باہر نہ نکل سکے۔ اس طریقہ کار سے گوشت اپنے ہی پانی میں پکایا جاسکتا ہے۔

    ڈیپ فرائی:
    گرم تیل یا گھی میں تلنے کا طریقہ ”ڈیپ فرائی“ کہلاتا ہے۔ گھروں میں اس مقصد کے لئے عام طورپر کڑاہی استعمال کی جاتی ہے۔

    دیسی چکن:
    دیسی چکن کا مطلب حقیقت میں ”مقامی چکن“ ہے جو”اورگینک“ چکن ہے –

    ڈیوینڈ پرانز:
    یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ پران کو تیز چھری کے ساتھ ہڈی نکال دیتے ہیں اور اس کی خوراک کی نالی کو نکال دیتے ہیں۔

    دنبہ:
    دنبہ پاکستان میں بہت معروف ہے خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں جہاں ان کے لئے باڑے بھی موجود نہیں ہیں۔ چرواہے اپنے ریوڑ کے ساتھ کھلے کھیتوں میں نکلتے ہیں ان کی بھیڑیں وہاں قدرتی گھاس اور مقامی جڑی بوٹیاں کھاتی ہیں کیونکہ ان چراگاہوں میں کوئی کھاداور زرعی ادویات استعمال نہیں کی جاتیں لہٰذا دنبہ اور گینک اور فری رینج ہے۔

    تلے ہوئے پیاز کا پیسٹ:
    پیاز کے ٹکڑوں کو تیل میں براؤن اور خستہ ہونے تک تلیں اور اسے گاڑھابنانے کے لئے چٹو بٹا کا استعمال کریں۔

    کالا نمک:
    یہ چٹان سے حاصل کردہ نمک ہے جو پاکستان، بھارت اور دیگر جنوب ایشیا ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ کوہ ہمالیہ کی سالٹ رینج میں پایا جاتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزا میں سوڈیم کلورائیڈ ہے تاہم اس میں سلفر بھی ہوتاہے جو اس کی تیز بو کا سبب ہے۔ اس کا رنگ گلابی بھورے سے گہرا چاغی ہوسکتا ہے یہ عام طورپر ہاضمے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    کھڑ ا مصالحہ:
    جب کسی بھی گوشت کو دہی اور ثابت مصالحہ جات کے ساتھ پکایا جائے تو اسے کھڑا مصالحہ کہاجاتا ہے یعنی تمام کری ثابت مصالحوں سے بھرپور۔ دہی کی اتنی مقدار میں ڈالا جاتا ہے کہ فالتو پانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ دہی اور ثابت مصالحوں کے استعمال اور براؤن پیاز استعمال نہ کرنے اورٹماٹر نہ استعمال کرنے کی وجہ سے اس کی کری کا رنگ عام کری سے مختلف ہوسکتا ہے۔

    کھچڑی:
    یہ چاول کی ایک ڈش ہے جو دال کے ساتھ پکائی جاتی ہے۔ اسے قدرے نرم اور چکنا رکھا جاتا ہے۔ آسانی سے ہضم ہوجانے کی خوبی کے باعث اسے مریضوں کو بھی تجویزکیاجاتا ہے۔

    کھوپرا:
    ناریل کی خشک شکل کو کھوپرا کہا جاتاہے۔ اسے برصغیر میں ٹکڑوں یا پاؤڈر کی صورت میں کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    گھی:
    مکھن کو گرم کرکے صاف کیا جائے تو گھی کہلاتا ہے تاہم پاکستان میں اسے دیسی گھی کہا جاتا ہے۔ بناستی گھی مختلف اقسام کے تیل سے تیار کیا جاتا ہے اوراس دانے دار بنانے کے لئے ہائیڈوجنائزڈ کیا جاتا ہے۔

    گلوکوز کاشربت:
    گلوکوز سیرپ ایکایسا گاڑھا شربت ہے جودنیا کے مختلف ممالک میں کسی بھی قدرتی خوراک جیسے گندم، چاول، مکئی، جو اور حتیٰ کہ ٹماٹر سے بھی بنایا جاتا ہے۔

    حلوہ:
    ایک مقبول میٹھا پکوان ہے جو دلئے، دالوں اور سبزیوں سے تیار کیا جاتا ہے-

    ہانڈی:
    یہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں کھا نا پکانے کا مشہور برتن ہے۔ جو روغنی، غیرروغنی اور مختلف شکلوں اورسائز میں ہوسکتاہے۔

    جولینی کٹ:
    سبزیوں کو لمبے ٹکڑوں کی شکل میں کاٹنے کو جولینی کٹ کہاجاتا ہے۔ عام طورپر ایک بہترین جولینی کٹ کا سائز تقریباً 5سینٹی میٹر ہوتاہے۔

    کچنار:
    اس کا نباتاتی نام ”پوہینا ویریگاٹا“یا پھر اسے آرچرڈ ٹری اور ماؤنٹین ایپوتی بھی کہا جاتاہے۔ یہ جنوب مغربی ایشیا سے مغربی چین اور پاکستان اور بھارت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے پھول سفیداور گلابی رنگ کے ہوتے ہیں۔ اسے کشمیر، نیپال اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بطور خوراک استعمال کیاجاتا ہے۔

    کچومر:
    سلاد کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنا ”کچومر“ کہلاتا ہے۔

    کوفتہ:
    قیمے، مرغی، مچھلی، دالوں یا سبزیوں سے بنے گولے۔

    ساگ:
    یہ ایک مقامی سبزی ہے جس کا کوئی انگریزی نام نہیں ہے۔ یہ فروری سے مئی تک کے موسم میں دستیاب ہوتی ہے۔ اسے عموماً پالک کے ساتھ ملا کر پکایا جاتا ہے تاہم اسے گوشت یا آلو کے ساتھ بھی پکایا جاسکتا ہے۔

    لڈو:
    اس کے لئے بھی انگریزی میں کوئی نام نہیں تاہم بعض اوقات اسے انگریزی میں بھی لڈو ہی کہا گیاہے۔ لڈو میٹھے اور بہت ہی مزیدار ہوتے ہیں۔

    لیموں :
    لیموں ایک ترش پھل ہے۔ جس کا سائز 3سے 5 سینٹی میٹر ہوتاہے اسے عموماً لیمن ہی خیال کیا جاتا ہے جبکہ لیمن کا سائز اس سے بڑا ہوتا ہے اوروہ کم ترش ہوتاہے۔ لیموں بنیادی طور پر بھارت یا فارس کا پھل ہے اسے مختلف کھانوں، باربی کیو، دم پخت، بریانی، سمندری خوراک، سلاداور اچار میں بھی استعمال کیا جاتا ہے اور گرمیوں میں اس سے پیاس بجھانے کے لئے سکنجبین بھی تیار کی جاتی ہے۔

    مصالحہ:
    مصالحہ ایک بنیادی جزوہے جوکسی بھی سالن یا کری کو بنانے کیلئے ضروری ہے اس میں عام طورپر پیاز، ادرک، لہسن، ٹماٹر، تیل یا کچھ مصالحے ہوتے ہیں یہ آمیزہ مصالحوں کی ماں کہلاتا ہے۔

    میکھ:
    بچھرے،گائے یا دنبے کی ہڈی کا گودا ”میکھ“ کہلاتا ہے۔ اسے پہلے پکایا جانا چاہئے برصغیرکے علاوہ فرانس کے لوگ بھی میکھ کے انتہائی شوقین ہیں۔

    مٹن:
    برصغیر میں مٹن کی اصطلاح بکرے کے گوشت کے طورپر لی جاتی ہے۔ یہ نرم گوشت ہوتا ہے۔

    نرگسی کوفتے:
    روایتی کوفتوں کے برعکس نرگسی کوفتے ابلے انڈوں کے گرد قیمہ لپیٹ کر پکائے جاتے ہیں۔ انڈے کو دو حصوں میں کاٹنے پروہ نرگسی پھول کی طرح نظر آتے ہیں اسی بنا پر ان کا نام نرگسی گوفتے پڑ گیا۔

    نہاری:
    نہاری ایک مقبول ڈش ہے جسے گائے کی پنڈلی کے گوشت سے گریوی میں تیار کیا جاتا ہے اسے دیرتک حتیٰ کہ رات بھر ابلنے دیا جاتا ہے تاوقتیکہ یہ نرم نہ ہوجائے۔ یہ ناشتے کے لئے ایک مقبول ڈش ہے۔

    پکوڑہ:
    سبزیوں چکن یامچھلی وغیرہ کو بیسن لگا کر تلی ہوئی ایک ڈش-

    پین فرائی:
    تلنے کے اس عمل میں تھوڑا گھی یا تیل استعمال کیا جاتا ہے جوکہ فرائی پین یاکڑاہی میں کیا جاتا ہے۔گھی یا تیل کھانے کیصرف نچلے حصے تک ہی رہتا ہے۔

    کم ابلے چاول:
    چاول آدھے ایک گھنٹے کے لئے بھگو کر رکھے جاتے ہیں۔ اس میں کافی مقدار میں پانی نمک اور کچھ تیل ڈال دیاجاتا ہے اس کے بعد پانی کو ابال کر اس میں چاول شامل کرلئے جاتے ہیں اور چاول آدھے گل جائیں تو پانی کو انڈیل کر چاولوں کوکسی مطلوبہ ڈش کے لئے سائیڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔

    پھل مکھانہ:
    پھل مکھانے گندم کے دانوں کو پھلا کر بنائے جاتے ہیں۔

    پاؤچ:
    کھانے کو محلول میں اس انداز میں ہلکی آنچ پر پکانے کا نام ہے جس میں درجہ حرارت ابلنے سے کچھ کم رکھا جاتا ہے۔ پاؤچنگ میں پھل، سبزیاں مچھلی اورچکن وغیرہ شامل کئے جاسکتے ہیں۔

    پلاؤ:
    پلاؤ چاولوں کی ایک اور مشہور ڈش ہے یہ گوشت، چکن اور سبزیوں سے بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بریانی کی طرح مصالحے دار نہیں ہوتا اور عام طورپر کری کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
    قیمہ:
    گوشت، چکن یا مچھلی کے باریک باریک ٹکڑے-

    قورمہ:
    ایک گاڑھا خوشبودار سالن جس میں گوشت، دہی اور مختلف خوشبودارمصالحہ جات ڈالے جاتے ہیں۔

    قورمہ بادامی:
    جس میں پسے ہوئے یا ثابت بادام ڈالے جائیں قورمہ بادامی کہلاتا ہے۔

    سموسہ:
    گندھے ہوئےمیدے کا خول جس میں سبزیاں یاگوشت ڈال کر تلا جاتا ہے۔

    سوتے:
    سوتے ایک فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب مکھن یا تیل کی تھوڑی سے مقدار میں کھانا بنانا۔

    تکہ:
    گوشت، مرغی یا مچھلی کا ٹکڑا جو کھلی انگیٹھی پر پکایا جائے۔

    وڑیاں :
    یہ ایک روایتی قدیمی کھانا ہے۔ یہ ٹکیاں ہوتی ہیں جو دال اورمصالحوں کے ساتھ بنا کردھوپ میں قدرتی طریقے سے سکھائی جاتی ہیں۔ایک دفعہ خشک ہونے پر اسے چھ سے چار ماہ کے لئے ہوا بند جار یں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

    یخنی:
    گوشت، چکن یا مچھلی کا شوربہ

    ٹیل آن پرانز:
    جب پران کے سر اور خول کو الگ کردیا جائے لیکن دم برقرار رہے اسے ”ٹیل آن پرانز“ کہتے ہیں۔

    ٹکاٹک:
    بعض اوقات اسے ٹکاٹن بھی کہا جاتا ہے اس ڈش میں زیادہ تر مٹن، چکن گردے اور کلیجی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ اس میں گوشت ایک سیدھے توے پر ڈال کر پکایا جاتا ہے اور مزید چھوٹے ٹکڑے کئے جاتے ہیں۔ یہ غالباً ان چند ڈشز میں سے ایک ہے جس کا نام اس کے پکنے کے طریقہ کار میں پیدا ہونے والی آوازوں پر رکھا گیا ہے۔

    تندوری:
    ایسے کھانے جو تندور میں پکائے جائیں وہ تندوری کہلاتے ہیں۔ تندو ر ایک چکنی مٹی یا اسٹیل کا بنا ہوا وون ہوتا ہے جس میں نان اور روٹی پکائی جاتی ہے یا بعض اوقات مرغی یا گوشت کے باربی کیو بنانے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

    توا:
    یہ پاکستان کا انتہائی اہم اور عام برتن ہے۔ یہ چھوٹے سے لے کر بہت بڑے سائز میں دستیاب ہوتاہے۔ یہ عام طور پر گول ہوتا ہے۔ یہ سیدھا اور عمودی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ عام طورپرروٹی یا پراٹھا بنانے کے لئے استعمال ہوتاہے۔

    سیخ کباب:
    گوشت، چکن، مچھلی کا مصالحے دارقیمہ جو چوکور سیخوں پر لپیٹ کر کوئلوں کی انگیٹھییا سکلٹ پر پکایا جاتا ہے۔

    سیلا چاول:
    پہلے سے چھلکوں سمیت ابلے ہوئے چاولوں کوسیلا چاول کہتے ہیں۔ جسے پہلے بھگویا جاتا ہے بھاپ دی جاتی ہے اور چھڑائی سے قبل خشک کرلیاجاتا ہے۔ اس عمل کے بعداسکا رنگ ہلکا زرد ہو جاتاہے۔ تاہم اسے پالش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سیلا چاول پکنے میں کم وقت لیتے ہیں۔ یہ کھڑے اور کم چپکے ہوتے ہیں۔ سیلا چاول دیگ میں پکانے کے لئے انتہائی پسندیدہ ہیں۔

    شیلو فرائی:
    گھانا گرم تیل یا گھی کی درمیانی مقدار میں فرائی کیا جاتا ہے۔ اس طرح پکانے میں کھانے کومکمل طورپر گھی میں ڈبویا نہیں جاتا۔