مانگا منڈی میں بچوں کو قتل کرنیوالی ماں اعتراف جرم کر لیا، ملزمہ گرفتار قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔
لاہور : مانگا منڈی میں دو بچوں کے جھلس کر جاں بحق ہونے کا معاملہ، بچوں کی ماں نے اعتراف جرم کر لیا، قتل کا مقدمہ درج۔ تفصیلات کے مطابق بچوں کے دادا غلام رسول کی مدعیت میں ماں تنزیلہ بی بی کیخلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے آتشزدگی واقعے پر تنزیلہ بی بی کو حراست میں لیا تھا۔
خاتون کا اپنے خاوند کے ساتھ لڑائی جھگڑا رہتا تھا گزشتہ روز طیش میں آکر 3 سالہ فیضان اور 2 سالہ عبدالرحمان کو کمرے میں بند کرکے آگ لگادی تھی۔
Category: خواتین

خاتون نے اپنے خاوند کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے با عث انتہائی قدم اٹھا لیا!!

املی صحت کے لئے کیوں ضروری ہے؟
املی کا پودا شمالی افریقہ اور ایشیاء کے کئی ممالک میں پایا جاتا ہے اس میں موجود نامیاتی مرکبات کی بڑی تعدا د اسے ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیشن بناتے ہیں املی وٹامن سی، ای اور بی، کیلشیم، فاسفورس، آئرن، پوٹاشیم، میگنیز اور غذائی فائبر کاخزانہ ہے اور اس میں وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں-
املی کے فوائد:املی میں پوٹاشیم پایا جاتا ہے جس کے باعث یہ بلڈ پریشر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ املی میں موجود فائبر شریانوں سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو ختم کرتاہے اور آنت کا کینسر نہیں ہونے دیتا اس میں موجود وٹامن سی فری ریڈیکل کے خطرات کو کم کرتا ہے املی مدافعتی نظام کو فروغ دیتی ہے-
املی میں پوٹاشیم،آئرن، سیلینیم، کیلشیم، زنک اور کاپر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے اس میں موجود آئرن کی وجہ سے خون کے سرخ خلیے بنتے ہیں اور دیگر منرلز اور دھاتوں سے خون میں مادوں کی مقدار متوازن رہتی ہے اور بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔
املی بھوک کم کرتی ہے اوریہ جسم میں فیٹ کو اسٹور نہیں ہونے دیتی۔ وزن میں کمی کے لیے املی سے بنائے گئے مشروبات بھی استعمال کیے جاتے ہیں املی میں موجود ٹارٹارک ایسڈ ایک طاقتور انٹی آکسیڈینٹ کا کام کرتے ہوئے جسم سے فاسد مادوں کو باہر نکالتاہے۔
املی متلی اورقے کی شکایت دور کرکے غذا کو ہضم کرتی ہے۔ متلی ہونے کی صورت میں اگر املی کا شربت استعمال کیا جائے تو فائدہ ہوتا ہے اور املی کا ستعمال طبیعت کو فرحت بخشتا ہے-
املی کااستعمال نظام ہضم کے لیے بہت اچھا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں فائبر کی وافر مقدار موجود ہوتی ہےاس لیے اس کا استعمال آنتوں کو تقویت دیتا ہے جس سے نظام انہضام بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور معدہ بھی بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کلونجی موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے
نبی پاکٌ کا ارشاد ہے کلونجی کھایا کرو اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفا ہے کلونجی ایک خود رو پودا ہے اور ایک قسم کا گھاس ہے کلونجی کے بیجوں کی خوشبو تیز اور تاثیری شفا سات سال تک قائم رہتی ہے کلونجی کے بیج بہت جلد اثر کرتے ہیں اور اپنے اندر بےشمار فوائد رکھتے ہیں کلونجی کے ان گنت فوائد ہیں-
کلونجی کے فوائد :کلونجی کا تیل جوش دے کر نیم گرم سر پر لگانے سے نزلہ زکام اور سر درد دور ہو جاتا ہے-
کلونجی کھانے سے بدن کی خشکی دور ہوتی ہے اور کلونجی کا تیل جسم پر ملنے سے تل ختم ہو جاتے ہیں –
پسی ہوئی کلونجی کو پانی میں ملا کر غرارے کرنے سے دانت کا درد دور ہو جاتا ہے-
کلونجی کا تیل خارش والی جگہ پر لگانے سے خارش دور ہو جاتی ہے-
کلونجی میں کالا نمک ملا کر کھانے سے پیٹ کا درد دور ہوتا ہے-
کلونجی کے دانے وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں باقاعدگی سے کلونجی کا استعمال صحت اور توانائی پیدا کرتی ہے-
کھانوں میں اسکا بگھار خوش بو اور ذائقے میں اضافہ کرتا ہے-
ہر روز صبح ایک چٹکی کلونجی خالص شہد کے ساتھ ملا کر بسم اللہ پڑھ کر شہادت کی انگلی سے چاٹنے سے بہت سی بیماریاں دور ہو تی ہیں-

وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟
وٹامن سی جسم کا اہم اور پانی میں حل ہونے والا اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتا ہے اور تکسیدی تناؤ سے پیدا ہونے والے ریڈیکلز کو اعضاء خراب نہیں کرنے دیتا اور جسم کو سوزش سے بچاتا ہے۔
وٹامن سی ہمارے جسم میں موجود آئرن کو جذب کرتا ہے جسم میں آئرن کی کمی سے تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ہونے لگتا ہے وٹامن سی جلد کو صحت مند اور جھریاں وقت سے پہلے پڑنے سے محفوظ رکھتا ہےعلاوہ ازیں وٹامن سی میں موجود اجزا جلد کے خلیوں اور خون کی شریانوں کی حفاظت میں مدد کرتے ہیں، یہ ناخن، جلد اور بالوں کی بہترین نشوونما کرتا ہے۔
وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ دانتوں اور ہڈیوں کو طاقت دیتا ہے۔ نزلہ، زکام سے بچانے میں بھی وٹامن سی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وٹامن سی کا استعمال ذہنی تناؤ کم کرنے میں مدد گار ہوتا ہے جبکہ اسٹروک اور کینسر سے بچاؤ میں بھی یہ انتہائی مفید رہتا ہے۔ یہ دل کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بہت سی غذاؤں میں پایا جاتا ہے جن میں لیموں، انگور، آلو، ٹماٹر، سنترے اور لال شملہ مرچ ، پپیتا،بروکلی اور رسیلے پھل شامل ہیں۔

سابقہ خواتین کونسلرز کا بڑا مطالبہ
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)سابقہ خواتین کونسلروں کے گروپ ہم نگران نے مقامی حکومتوں کے انتخابات بلا تاخیر کرانے کا مطالبہ کیا ہے گروپ نے تمام متعلقہ انتخابی کرداروں بشمول پارلیمان، سیاسی جماعتوں، عدلیہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کے خاتمے کی آئینی ذمہ داری کو نبھائیں
اس پریس کانفرنس کا انعقاد سماجی تنظیم بیداری کے تعاون سے ورلڈ یونین آف جرنلسٹ فورم شیخوپورہ میں کیا گیاپریس کانفرنس میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد خواتین کونسلرز نے شرکت کی جس میں جمیلہ یونس، شکیلہ ارشد، ناہید ہدایت اللہ، سعدیہ نسیم، بینش قمر ڈار، اسماء رضوان، فرزانہ ناز، شازیہ سلطان، ثمرہ عارف اور ماریہ شامل تھیں
ہم نگران گروپ ضلع شیخوپورہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کا بروقت قیام آئینی تقاضا ہے، کسی بھی قسم کی تاخیر آئین سے انحراف کے مترادف ہو گی آئین میں واضح ہے کہ ریاست کے تمام تر اختیارات اور وسائل کا استعمال منتخب شدہ نمائندوں کے ذریعے ہی ہونا چاہئے
ہم نگران گروپ اراکین کے مطابق الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے کے 120 دن کے اندر اندر نئے انتخابات کا انعقاد کرانا ضروری ہے تاہم واضح آئینی اور قانونی ہدایات کے باوجود بلوچستان میں مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہوئے دو سال، خیبر پختونخوا میں ایک سال سے زائد اور سندھ میں چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں مقامی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی مئی 2019 میں تحلیل کر دیا گیا تھا۔ مقامی حکومتوں کو تحلیل کرتے وقت پنجاب حکومت نے ایک سال کے اندر نئے قانون کے تحت انتخابات کا وعدہ کیا تھا تاہم ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ وعدہ تشنہ تکمیل ہے
بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر کے لیے نت نئے تاخیری حربے اور بہانے اختیار کیے جارہے ہیں مگر الیکشن کمیشن خاموش ہے۔ کمیشن صوبائی حکومتوں کے عدم تعاون کو مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر کی اصل وجہ بتاتا ہے ہم نگران گروپ کے مطابق ایک عذر یہ بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ 2017 کی مردم شماری کے حتمی نتائج آنے تک لوکل گورنمنٹ کی حلقہ بندیاں نہیں ہو سکتیں تاہم گروپ سمجھتا ہے کہ اگر 2017 کی مردم شماری کے عارضی نتائج کی بنیاد پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں تو مقامی حکومتوں کی حلقہ بندیاں بھی انہی عبوری نتائج کی بنیاد پر ہو سکتی ہیں پریس کانفرنس میں حامد قاضی، ڈاکٹر ایم ایچ بابر نے بھی انتخابات کے جلد انعقاد پر زور دیتے ہوے کہا کہ اس سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونگے جس سے عوام براہ راست اپنے نمائندوں سے علاقہ مسائل پر بات کر سکتے ہیں۔
اسلام اور ویلنٹائن ڈے تحریر: ضیاء عبدالصمد
اسلام کا دوسرا نام حیاء بھی ھے۔ ویلینٹائن ڈے کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ھے نوجوان نسل مغرب کے اس کلچر کو اپناتے جارہیں اور دن بہ دن اس بے حیائی کو عام کرتے جارہیں
اس سلسلے میں سب سے پہلے
قرآنِ کریم کے متعدد مقامات پر اس بات کے واضح اشارات موجود ہیں کہ عورت کا چہرہ اور دونوں ہاتھ بھی مقامِ ستر ہیں اور ننگے منہ اس کا گلی بازار میں نکلنا جائز نہیں۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پہلی مہاجر صحابیات پر رحم کرے، جب یہ حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سینوں پر اوڑھنیوں کے پلو ڈالے رہیں تو انھوں نے اپنی قمیصوں کے نیچے استعمال کی جانے والی چادروں کو پھاڑا اور ان کی اوڑھنیاں بنالیں۔
یعنی عورت کو چاہیے کہ اپنا بناؤ سنگار چھپا کر رکھے تاکہ اجنبی مرد کو نظر یں نیچی رکھنے میں مدد ملے۔ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اور اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں تا کہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں۔
یعنی عورت پائل پہنے ہو تو اس پر حرام ہے کہ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ مرد پائل کی چھن چھن سنیں گے تو فتنے میںپڑ جائیں گے۔ عورت کے لیے جب ایسا کرنا حرام ہے تو چہر ے کو کھلا رکھنا کیو نکر جائز ہوسکتا ہے۔ مرد محض پائل کی جھنکار سن کر تو فتنے میں مبتلاہو گا لیکن کیا چہرے کی دلکشی و جلوہ سامانی اس کے ہوش نہ اڑائے گی؟
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیںيَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.
(الاحزاب، 33 : 59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
النور، 24 : 31)اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔
عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔ مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.
(الاحزاب، 33 : 59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیں
آزاد عورت کا سارا جسم ہی مقامِ ستر ہے۔ شوہر اور محرم کے سوا کسی غیر محرم مرد کو عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ سوائے علاج معالجہ اور شہادت وغیرہ کی ضرورت و مجبوری کے۔
کراچی سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون پائلٹ ؟ ان کے والد کیا کام کرتے ہیں ؟
کراچی سے تعلق رکھنے والے ٹریفک وارڈ ن کی ہونہار بیٹی نے پاکستا ن ایئر فورس میں جی ڈی پائلٹ کیلئے منتخب ہو کر اپنے والدین کا نام روشن کر دیاہے ۔
ناشرہ شاکر نے’’ میریٹریس ڈیفنس چیپٹر ٹیوشن سینٹر ‘‘سے تعلیم حاصل کی۔ اس کامیابی پر ٹیوشن سینٹر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے ان کی تصویر شیئر کی اور اس کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ہے کہ جی ڈی پی میں فلائنگ آفیسر کی حیثیت سے پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کرنے پر ہمارے ہونہار طالبہ ناشرہ شاکر اور ان کے قابل فخر والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے انہیں اور کامیابی عطا کرے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریفک وارڈن شاکر احمد ملک کی صاحبزادی ناشرہ شاکر پاکستان ایئر فورس پی اے جی 144 جی ڈی پائلٹ کے کورس میں زیر تربیت رہیں یہ ناصرف پاکستان پولیس/سندھ پولیس کی تاریخ کی بلکہ سندھ کی سطح پر بھی پہلی قابل اور باصلاحیت طالبہ ہیں۔انہوں نے پاکستان ائیر فورس کے امتحانی مراحل میں کامیاب ہونے کے بعد جی ڈی پائلٹ کی تربیت حاصل کی اور اب پائلٹ بن گئی ہیں۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ کراچی سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون جی ڈی پائلٹ ہیں۔

خاران:ورکنگ ﻭﻭمن ﮨﺎﺳﭩﻞ، وومن بازار کا افتتاح اور بہت سے ترقياتی اقدامات
ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﺟﺎﻡ ﮐﻤﺎﻝ ﺧﺎﻥ کا خاران کا دورہ
ﺻﻮﺑﺎﺋﯽ ﻭﺯﯾﺮ ﻣﯿﺮ ﻋﺎﺭﻑ ﺟﺎﻥ ﻣﺤﻤﺪﺣﺴﻨﯽ، پارلیمانی سیکرٹری ﺩﮬﻨﯿﺶ ﮐﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﺤﮑﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯾﺰ وزیراعلی کے ﮨﻤﺮﺍﮦ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﮔﺮﻭﮎ ﺍﺳﭩﻮﺭﯾﺞ ﮈﯾﻢ ﮐﺎ باقاعدہ ﺍﻓﺘﺘﺎﺡ کردیا۔
وزیراعلی کو ﭘﺮﻭﺟﯿﮑﭧ ﺍنجنیئر کی ڈیم کے حوالے سے ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺑﺮﯾﻔﻨﮓ۔
ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ کا ﮔﺮﻭﮎ ﺍﺳﭩﻮﺭﯾﺞ ﮈﯾﻢ کا ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﯿﺎ۔ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ کا ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺁﻓﺲ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ دورہ کیا وزیراعلی کو کمشنر آفس پہنچنے پر ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﭼﺎﮎ ﻭ ﭼﻮﺑﻨﺪ ﺩﺳﺘﮯ نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔وزیراعلی کو ﮐﻤﺸﻨﺮ ﺭﺧﺸﺎﻥ ﮈﻭﯾﮋﻥ ﺳﻌﯿﺪ اﺣﻤﺪ ﻋﻤﺮﺍﻧﯽ کی ﺧﺎﺭﺍﻥ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﻮﺭﮮ ﮈﻭﯾﮋﻥ ﻣﯿﮟ جاری ترقیاتی منصوبوں، انتظامیہ کی ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺑﺮﯾﻔﻨﮓ۔
وزیراعلی کا ورکنگ ﻭﻭمن ﮨﺎﺳﭩﻞ، وومن بازار اینڈ انکیوبیشن سینٹر کا افتتاح۔ وزیراعلی کا خاران نمک پاس روڈ اور یک مچ تا بلندک سڑک کا بھی افتتاح
ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﮯ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﻣﯿﺮ ﺷﻌﯿﺐ ﻧﻮﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ کی رہائش گاہ پر ﻇﮩﺮﺍﻧﮧ کا اہتمام، ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ کا ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻨﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻃﺒﻘﮧ ﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻄﺎﺏ۔ﺧﺎﺭﺍﻥ کی ترقی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔ صوبے بھر میں یکساں ترقی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ جام کمال خان
خواتین تشدد کیس کی وجہ سامنے آ گیئ ، کانسٹیبلز کے خلاف انکوائری رپورٹ طلب۔
خواتین پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش کا نوٹس آ گیا۔
ملوث پولیس آفسران /اہلکاران کو معطل کرکے لائن حاضر کر دیا گیا، اور اُن کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق: گزشتہ روز سیدو شریف کے محلہ برکلے سے ایک شخص تھانہ سیدوشریف آکر رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا کہ ہم اہل خانہ کے ہمرہ سیر کرنے کے لئے ملم جبہ گئے تھے اور گھر کے سارے کمرے اور مین گیٹ کو تالا لگایا تھا، شام کے قریب گھر پہنچ کر گھر کا تالا کھولا پایا گیا، گھر کے اندر جا کر دیکھا تو کھڑی کی پر لگا ہوا جال بھی کٹ شدہ تھا، گھر کے تالاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گھر سے کسی نامعلوم ملزم/ملزمان نے چوری کرکے 19تولے سونا اور نقدرقم 99000چوری کرکے لے گئے ہیں۔ جس پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، پولیس ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے تین خواتین کو گرفتار کر لیا، گرفتار خواتین میں مسماۃ رخسانہ زوجہ علی خان، مسماۃ محبوبہ زوجہ سلیمان، مسماۃ حضرہ زوجہ اقبال سکنہ بنوں حال بٹ خیلہ کو گرفتار کر لیا، گرفتار چور گروہ سے مال مسروقہ 19تولے سونا اور 99ہزار نقد رقم برآمد کی۔
آج مورخہ 03-02-2021کو سوشل میڈیا پر درجہ بالا چوری کرنے والے خواتین پر تشدد کرنے کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں پولیس اہلکاران گرفتار خواتین پر تشدد کر رہے ہیں،وائرل شدہ ویڈیو پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے وقوعہ میں ملوث سب انسپکٹر رفیع اللہ ایس ایچ اُو تھانہ سیدو شریف، سب انسپکٹر آیاز ایڈیشنل ایس ایچ اُو کوکارئی، کانسٹیبل فضل خالق، کانسٹیبل محمد عالم، کانسٹیبل اسحاق کو معطل کرکے لائن حاضر کر لیا اور ملوث اہلکاران کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم کرتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان اور ڈی ایس پی سٹی پیر سیدخان، ڈی ایس پی کبل بادشاہ حضرت پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل کرکے 24گھنٹوں کے اندر اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ طلب کی ہیں۔
ایس ایچ او تھانہ سیدوشریف نے خواتین پر تھپڑوں اور لاتوں کی بارش کردی
سوات پولیس تشدد: سیدوشریف پولیس کا چوری کی الزام میں گرفتار تین خواتین پر سرعام تشدد. سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اور ایس ایچ او تھانہ سیدوشریف نے خواتین پر تھپڑوں اور لاتوں کی بارش کردی. گرفتار خواتین کو سرعام مارنا غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدام ہے۔ ایس ایچ او اور اہلکار گرفتار تین خواتین کو لوگوں کے سامنے مارنے کے ساتھ ساتھ گالیاں بھی دیتے رہے۔









