Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز

    خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کے نئے دور کا آغاز
    تحریر:سیدریاض جاذب
    ڈیرہ غازی خان: کووڈ 19 کی عالمی وبا اور بڑے سیلابوں کے باعث تقریباً تین سال سے معطل خوشحال خان خٹک ایکسپریس 25 اپریل کو دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کرے گی، اس تناظر میں ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی رونقیں بحال ہونے کی تیاریاں مکمل کی جارہی ہیں۔ تاہم ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن کی انتظامیہ اور ملتان آفس کے بعض افسران ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور تزئین و آرائش کے کام میں ڈنڈی مار رہے ہیں ۔ ان کے انتظامات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے دونوں ٹرینیں شاید مستقل نہیں عارضی آزمائشی سفر پر آرہی ہوں۔ ریلوے اسٹیشن کے معاملات پہلے ہی خراب ہیں ، کرپشن کی بازگشت ماضی میں بھی رہی اور اب بھی سنائی دے رہی ہے جس میں ریلوے کے اثاثوں میں گڑ بڑ اور دیگر فراڈ کی بھی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔ بہرحال یہ ایک اور موضوع ہے اس پر بھی قلم اٹھائیں گے ابھی اس نئی ڈویلپمنٹ پر یہ تحریر نظر قارئین ہے
    خوشحال خان خٹک ٹرین پشاور سے کراچی تک کے طویل راستے میں واقع اس تاریخی اسٹیشن کو ملک کے بڑے معاشی مراکز سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    تاریخی اہمیت اور بحالی کے اقدامات
    1969 میں قائم ہونے والا ڈیرہ غازی خان ریلوے اسٹیشن ماضی میں ملک کے چاروں صوبوں کو ملاتا تھا اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا مصروف جنکشن تھا۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں ٹرین سروس کی مسلسل بندش نے اسے غیر فعال بنا دیا تھا۔ اب پاکستان ریلوے کے زیرِ اہتمام اسٹیشن کی بحالی کا کام شروع ہوچکا ہے، جس کے بعد یہ نہ صرف خوشحال خان خٹک ایکسپریس بلکہ لاہور سے آنے والی "موسیٰ پاک ڈیرہ غازی خان، ملتان شٹل ٹرین” (15 اپریل سے بحال) کا بھی مرکز بنے گا۔

    ماہرین کے مطابق ٹرین سروسز کی بحالی سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ خطے کی معیشت کو بھی جِلا ملے گی۔ خصوصاً کراچی کی بندرگاہ اور پشاور کے تجارتی مراکز سے رابطہ بڑھانے سے مقامی تجارت، روزگار اور کارگو کی نقل و حمل میں اضافے کی توقعات ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل سستے اور محفوظ ہوگی، جس سے کاروباری لاگت کم ہوگی۔

    مستقبل کے منصوبے کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” کی جانب حکومت کے "سٹرکچر پلان 2043” کے تحت ڈیرہ غازی خان کو "سنٹرل ڈویلپمنٹ زون” (CDC) قرار دیا جائے گا، جہاں ریلوے اسٹیشن نقل و حمل اور تجارتی سرگرمیوں کا اہم محور ہوگا۔ اس منصوبے کے ساتھ ہی چلتن ایکسپریس اور اباسین ایکسپریس جیسی سروس کی بحالی پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    شہریوں نے ٹرین سروسز کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف روزمرہ کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی بھی بہتر ہوگی۔ ایک طالب علم زاہد علی نے کہا، لاہور اور کراچی جانے کے لیے اب ہمیں بس کے ساتھ ساتھ سفر ریلوے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

    15 اپریل موسیٰ پاک ٹرین کا آغاز اور 25 اپریل خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی بحالی تاریخی فیصلے ہیں۔

    ڈیرہ غازی تاریخی اسٹیشن ہے جس کا افتتاح 1969میں ہوا طویل غیر فعالیت کے بعد اس کی بحالی ایک بار پھر رابطے کا مرکز بنے گا ، تجارت، روزگار، اور کارگو میں اضافہ ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ کہ مستقبل کے وژن کے طور پر یہ اور بھی زیادہ اہم ہے کہ ڈیرہ غازی خان کو ترقیاتی زون بنانے کی منصوبہ بندی کی جانب ایک قدم ہے ۔

    پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق "یہ اقدامات عوامی خدمت اور معاشی تعاون کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔” وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ یہ ٹرینوں کی بحالی خطے کی پرانی شان واپس لا پائے گی۔ خوشحال خان خٹک اور موسی پاک شٹل ملتان ٹو ڈیرہ غازی خان کی بحالی میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور مقامی ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی کی بھی بھرپور کوششیں شامل ہیں جوکہ ڈیرہ غازی خان کے ریلوے اسٹیشن کی بحالی کے لیے عوام کی آواز بنے ۔

  • ڈیرہ غازی خان: منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان: منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر)سٹی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش خاتون گرفتار، 1080 گرام چرس برآمد

    تفصیل کے مطابق شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتوں اور بالخصوص منشیات فروشی کے ناسور کے خلاف ایس ایچ او سٹی طاہر سلیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تھانہ سٹی پولیس نے اہم کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بہاری چوک کے قریب سے ایک منشیات فروش خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار شدہ خاتون کے قبضے سے 1080 گرام چرس برآمد ہوئی ہے۔ ملزمہ کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔ ایس ایچ او سٹی طاہر سلیم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ شہر کو منشیات کے لعنت سے پاک کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • ڈیرہ غازیخان: خوشحال ایکسپریس کی بحالی اور ریلوے میں کرپشن کا سونامی

    ڈیرہ غازیخان: خوشحال ایکسپریس کی بحالی اور ریلوے میں کرپشن کا سونامی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی ،خصوصی رپورٹ) ڈیرہ غازیخان اور گرد و نواح کے باسیوں کے لیے ایک طویل انتظار بالآخر خوشی میں بدل گیا ہے کیونکہ خوشحال خان خٹک ایکسپریس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم ٹرین چلتن ایکسپریس کی بحالی کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ 2010 سے بند پڑی ہوئی یہ عوام دوست ٹرین تونسہ، شادن لنڈ اور ڈیرہ غازیخان کے عوام کے لیے نہ صرف سفری سہولتوں میں ایک بڑا اضافہ ثابت ہوگی بلکہ خطے کی معاشی و سماجی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اس پیش رفت سے پاکستان ریلوے کو بھی ایک منافع بخش ادارہ بنانے کی جانب ایک مضبوط قدم اٹھانے کا موقع ملے گا۔

    تاہم اس خوشی کے ماحول میں ایک تشویشناک پہلو بھی سر اٹھا رہا ہے۔ ریلوے اسٹیشن کی بحالی اور تزئین و آرائش کے نام پر ہونے والے مبینہ ناقص کام اور اس کے ساتھ ہی ریلوے کے اندر موجود کرپشن کے ایک وسیع نیٹ ورک کے انکشافات نے اس مثبت خبر کی چمک کو مدھم کر دیا ہے۔ ذرائع کی رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف ان اہم ٹرینوں کی بحالی سے مسافروں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے وہیں دوسری جانب ریلوے کے بدعنوان عناصر کے سائے اس خوشی کو گہنا سکتے ہیں۔

    دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشحال خان خٹک ایکسپریس اور چلتن ایکسپریس کی کامیابی کا براہ راست تعلق ریلوے میں موجود کرپشن کے خاتمے سے ہے۔ ماضی میں مبینہ بدعنوانی کے باعث ہی ان جیسی اہم ٹرینوں کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر انہیں بند کرنا پڑا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ان بحال ہونے والی ٹرینوں میں مسافروں کی ضروریات کے مطابق مناسب تعداد میں بوگیاں شامل کی جائیں۔ اگر ماضی کی طرح صرف چند بوگیوں کے ساتھ ان ٹرینوں کو چلایا گیا تو اخراجات آمدنی سے تجاوز کر سکتے ہیں اور قومی خزانے کو ایک بار پھر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ریلوے کے اندر کرپشن کا ایک منظم نظام کام کر رہا ہے، جس میں اسٹیشن عملہ اور ریلوے پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے مسافروں سے غیر قانونی وصولیاں کی جاتی ہیں۔ یہ صورتحال ویجیلینس ایجنسی کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے کہ ماضی میں اس سنگین بدعنوانی کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔

    مزید انکشافات کے مطابق ڈیرہ غازیخان سے ملحقہ بند ریلوے اسٹیشنوں پر گزشتہ کئی سالوں سے کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف ہیڈ آفس میں انکوائریاں جاری ہیں۔ ان میں سے مبینہ طور پر اہم کردار انسپکٹر آف ورکس (IOW) رانا مبشر کا بتایا جاتا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے معاملات طے کر لیے ہیں اور انہیں جلد ہی کلین چٹ ملنے کی توقع ہے۔

    ڈیرہ غازیخان ریلوے جنکشن گزشتہ 6 سال سے اعلیٰ افسران کی عدم موجودگی کے باعث بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے۔ اسٹیشن پر عملے اور افسران کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرپٹ عناصر بے خوف و خطر اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریلوے کالونی بھی اس مبینہ کرپشن کی لپیٹ میں ہے،IOW،AEN،DEN اور دیگر بااثر ریلوے افسران کی مبینہ سرپرستی میں غیر متعلقہ اور جرائم پیشہ افراد مقامی ملازمین سے ساز باز کرکے ریلوے کی رہائشی کالونیوں پر قابض ہیں اور بیشتر کوارٹر کرائے پر چڑھا دیے گئے ہیں۔ کالونی میں بنیادی سہولیات جیسے صفائی، سیوریج اور پانی کی فراہمی کا نظام بھی تباہ حال ہے۔

    حیران کن طور پر ڈیرہ غازیخان ریلوے اسٹیشن پر اہم انتظامی عہدے خالی پڑے ہیں اور گزشتہ 15 سال سے ایک ہی اسٹیشن ماسٹر محمد عابد اور سیکنڈ اسٹیشن ماسٹر محمد اقبال تعینات ہیں جن پر مبینہ طور پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ گزشتہ 6 سال کی ٹرین کی بندش کے دوران مبینہ طور پر IOW رانا مبشر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ریلوے اراضی پر قبضے کروائے اور سٹی گارڈن دیوار سکینڈل میں بھی مبینہ طور پر سابق MPA احمد علی دریشک اور ان کے مبینہ فرنٹ مین شہزاد جسکانی کے ساتھ ملی بھگت سامنے آئی ہے جو ریلوے زمین ایک کالونی میں شامل کرلی گئی،جس پر کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔ پرانے لوہے کے سکریپ کی غیر قانونی فروخت کا بھی ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے، جس میں IOW رانا مبشر، سابق پرماننٹ وے انسپکٹر (PWI) آفتاب لغاری اور موجودہ PWI اعجاز مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

    اسٹیشن کے شمالی جانب واقع پرانے سٹور کی قیمتی چھتیں غائب کر دی گئیں اور اس کی کوئی باضابطہ انکوائری نہیں ہوئی۔ پھاٹک کے قریب ریلوے کی سرکاری اراضی پر اسٹیشن ماسٹر محمد اقبال اور ریلوے پولیس چوکی انچارج نے مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیاں کیں۔ PWI آفتاب لغاری پر بھی ریلوے لائن کے ساتھ ناجائز تجاوزات کروا کر بھتہ وصول کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔ موجودہ PWI نے مبینہ طور پر کرپشن کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس میں گھر بیٹھے تنخواہیں لینے والے ملازمین سے ماہانہ بھاری رشوت وصول کی جاتی ہے۔ ریلوے کالونی میں پانی کی فراہمی کا نظام انتہائی ناقص ہے اور مسافروں کے لیے پینے کے صاف پانی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ کروڑوں روپے کا ریونیو دینے والا مال گودام اسٹیشن گزشتہ کئی سالوں سے بند پڑا ہے اور مبینہ طور پر اسٹیشن ماسٹر محمد عابد نے اسے انتہائی کم کرائے 4000روپے ماہانہ پر اپنے من وینڈر کو دے رکھا ہے۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور ان سنگین بے ضابطگیوں اور میگا کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں گے؟ خوشحال خان خٹک ایکسپریس اور چلتن ایکسپریس کی بحالی یقیناً ایک خوش آئند اور بروقت اقدام ہے لیکن اس کی حقیقی کامیابی اور پاکستان ریلوے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ڈیرہ غازیخان ریلوے سمیت پورے ادارے کو کرپشن کے ناسور سے پاک کیا جائے۔ بصورت دیگر ان ٹرینوں کی بحالی کی خوشی جلد ہی مایوسی میں بدل سکتی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کینسر ہسپتال کا قیام ،عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا

    ڈیرہ غازی خان: کینسر ہسپتال کا قیام ،عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی(نیوزرپورٹرشاہد خان) حکومت پنجاب کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کے قیام کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے ہسپتال کے لیے مختلف مقامات کا معائنہ کیا، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر صدر تیمور عثمان نے انہیں بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے لیے موزوں اور آسان رسائی والی جگہ تجویز کی جائے گی۔

    ادھر ڈپٹی کمشنر نے بی ایچ یو چھابری زیریں کا اچانک دورہ بھی کیا، جہاں ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری چیک کی، مریضوں سے علاج معالجے کے بارے میں معلومات لیں اور ہسپتال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

    بعد ازاں ڈپٹی کمشنر نے شہر کے وسط میں واقع کشمیر پارک کا معائنہ کیا اور پارک میں صفائی، گرین بیلٹس، درختوں کی کٹائی اور بچوں کی تفریحی سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت جاری کی۔

  • ڈیرہ غازیخان: تعلیمی نظام مفلوج، نئی کلاسیں شروع، کتابیں غائب، حکام مد ہوش

    ڈیرہ غازیخان: تعلیمی نظام مفلوج، نئی کلاسیں شروع، کتابیں غائب، حکام مد ہوش

    ڈیرہ غازی خان ،باغی ٹی وی(خصوصی رپورٹ)سرکاری سکولوں میں پرائمری سے مڈل کلاسوں کے امتحانات کے نتائج کے اعلان اور نئی کلاسوں کے آغاز کو کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود طلباء نصابی کتب سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال تعلیمی نظام کی بدانتظامی کی بدترین مثال ہے جو بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم نے سکولوں کو کتابیں فراہم کر دی ہیں لیکن متعدد سکولوں کی انتظامیہ یا تو کتابیں تقسیم کرنے میں تاخیر کر رہی ہے یا تقسیم کرنے سے صاف انکار کر رہی ہے۔

    والدین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مارکیٹ سے مہنگی کتابیں خرید لیں جو کہ غریب خاندانوں کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب والدین پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں یہ اضافی خرچہ ان کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ کئی والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں کو اساتذہ کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ "کتابیں ابھی تقسیم نہیں ہو رہیں اگر خرید سکتے ہیں تو بازار سے خرید لیں۔” اس صورتحال کے باعث بہت سے بچے بغیر کتابوں کے سکول جانے پر مجبور ہیں جس سے ان کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

    متحرک شہریوں کی تنظیم کے کارکن مظہر آفتاب خان ایڈووکیٹ اور سید محمد آصف نقوی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام کی غفلت ناقابل معافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر کتابوں کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کرے اور ان سکولوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو کتابیں روک رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی والدین اور سکول انتظامیہ کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیا جائے گا جہاں تحریری طور پر کتابوں کی فوری تقسیم کا مطالبہ پیش کیا جائے گا۔

    مظہر آفتاب خان نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی اور تجویز دی کہ ہر سکول میں کتابوں کی وصولی اور تقسیم کی تفصیلات ایک پبلک نوٹس بورڈ پر آویزاں کی جائیں تاکہ والدین کو شفافیت کے ساتھ معلومات مل سکیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ والدین کے لیے ایک مفت ہیلپ لائن نمبر جاری کی جائے جہاں وہ کتابوں کی عدم تقسیم کی شکایات درج کرا سکیں۔

    یہ بات ناقابل فہم ہے کہ آخر سکول انتظامیہ کتابیں تقسیم کرنے میں کیوں ہچکچا رہی ہے؟ کیا اس کے پیچھے کوئی بدعنوانی یا ناقص منصوبہ بندی کارفرما ہے؟ محکمہ تعلیم کو اس کی فوری تحقیقات کرنی چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ بچوں کی تعلیم کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتی ہے اور اسے یوں غفلت کا شکار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو طلباء کا تعلیمی نقصان ناقابل تلافی ہوگا اور اس کی ذمہ داری براہ راست حکام پر عائد ہوگی۔

    شہریوں اور والدین نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں ورنہ والدین اور شہری تنظیمیں احتجاج پر مجبور ہو جائیں گی۔

  • حکومتی غفلت سےتعلیمی تباہی، پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد سکولوں کی رجسٹریشن رُک گئی

    حکومتی غفلت سےتعلیمی تباہی، پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد سکولوں کی رجسٹریشن رُک گئی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ) پنجاب میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن معطل ہو گئی ہے۔ یہ تعلیمی بحران رجسٹریشن کی تجدید کے عمل میں تعطل اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے باعث پیدا ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان سمیت پنجاب بھر میں 31 مارچ سے پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن ختم ہو چکی ہے۔ رجسٹریشن کی تجدید کے لیے محکمہ صحت اور بلڈنگ کی طرف سے این او سی لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن ان دونوں محکموں نے این او سی جاری کرنے کے لیے انتہائی سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔

    اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ نے سموگ کے ایک مقدمے میں حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسے کسی سکول کی رجسٹریشن نہ کرے جس کے پاس بچوں کی ٹرانسپورٹ کے لیے اپنی بسیں نہ ہوں۔ اس عدالتی حکم کے بعد حکومت نے نئی پالیسی بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی۔

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین ضیاء السلام زاہد نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں ایک لاکھ آٹھ ہزار پرائیویٹ سکول ہیں اور ڈیرہ غازی خان میں پرائیویٹ سکولوں کی تعداد 15سو کے قریب ہے جن کی رجسٹریشن ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا حل نکالے، ورنہ بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

    اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف نئے سکولوں کی رجسٹریشن معطل ہے بلکہ پہلے سے موجود سکولوں کی تجدید بھی رکی ہوئی ہے۔ اگر رجسٹریشن کی تجدید نہیں ہوتی تو تعلیمی بورڈز سکولوں کا الحاق ختم کر دیں گے اور نئے داخلے بھی نہیں ہو سکیں گے۔

    دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ وہ سکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید کے لیے نئے قواعد و ضوابط بنا ر ہے ہیں اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا ہسپتال کا معائنہ، مفت ادویات کی فراہمی کا حکم

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر کا ہسپتال کا معائنہ، مفت ادویات کی فراہمی کا حکم

    ڈیرہ غازی خان(نیوزرپورٹرشاہدخان) ڈپٹی کمشنر کا ہسپتال کا معائنہ، مفت ادویات کی فراہمی کا حکم

    ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے میں ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر صدر تیمور عثمان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں ٹراما سینٹر اور ایمرجنسی وارڈ بھی شامل تھے۔ انہوں نے مریضوں کی عیادت کی اور ان کے لواحقین، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے ہسپتال کی سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

    اس دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں باہر کی ادویات تجویز کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور اس کی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ داخل مریضوں کو تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں اور باہر کی ادویات تجویز کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق ہسپتالوں میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے سخت نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بروقت حاضری یقینی بنانے اور صفائی، سکیورٹی، پارکنگ اور کینٹین سمیت ہسپتال کے تمام شعبوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے بھی کہا کہ اگر انہیں مفت ادویات فراہم نہیں کی جاتیں تو وہ ہیلپ لائن 103 پر کال کر کے شکایت درج کروا سکتے ہیں، جس پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے کہا کہ وہ ٹیم ورک کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کے معاملات کو بہتر بنائیں۔

  • آؤٹ سورس سکول، تبادلے کا آخری موقع، درخواست نہ دینے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم

    آؤٹ سورس سکول، تبادلے کا آخری موقع، درخواست نہ دینے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی )پنجاب حکومت نے صوبے میں آؤٹ سورس کیے گئے دس ہزار سکولوں کے 47 ہزار اساتذہ کو ان سکولوں سے اپنا تبادلہ کرانے کا ایک اہم اور آخری موقع دیا ہے۔ پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اساتذہ کے تبادلوں کے لیے 7 اپریل سے ایک نیا آن لائن نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اساتذہ گھر بیٹھے ہی اپنی منتقلی کی درخواستیں جمع کروا سکیں گے۔ یہ اقدام ان اساتذہ کے لیے ایک اہم موقع ہے جو آؤٹ سورس سکولوں میں کام کر رہے ہیں اور اپنے تبادلے کے خواہشمند ہیں۔

    پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کا سلسلہ جاری ہے جو کہ محکمہ تعلیم اور اساتذہ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ بھی بنا ہوا ہے۔ اب حکومت نے آؤٹ سورس سکولوں کے تقریباً 47 ہزار اساتذہ کو لازمی طور پر ان سکولوں سے تبادلہ کروا کر دوسرے سکولوں میں منتقل ہونے کا آخری موقع فراہم کیا ہے۔ اس فیصلے سے ان اساتذہ کو اپنی ملازمتوں کے مستقبل کے حوالے سے تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جن سرکاری اساتذہ کی نوکریاں ان سکولوں میں تھیں جو اب آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں، انہیں دس دن کے اندر اندر اپنی پسند کی ایسی جگہ کا انتخاب کرنا ہوگا جہاں وہ اپنا تبادلہ کروانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ مقررہ دس دن کے اندر تبادلے کی درخواست جمع نہ کروانے والے اساتذہ کی نوکریاں ختم کر دی جائیں گی۔ یہ ایک سخت شرط ہے جس سے اساتذہ کو فوری طور پر تبادلے کے لیے درخواست دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی ایک خبر سامنے آئی تھی کہ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نےآئوٹ سورس کئے جانیوالے سکولوں میں اساتذہ اور دیگر سٹاف کی پوسٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ مجموعی طور پر40 ہزار سے زائد پوسٹیں ختم کی جارہی ہیں۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی 15 فیصد کے قریب پوسٹیں ختم کی گئیں، مختلف سکیلز کی 43 ہزار 960 پوسٹیں ختم کی جارہی ہیں۔

    فیصلہ سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی وجہ سے کیا گیا، مجموعی طور پر 10 ہزار کے قریب سکول آؤٹ سورس کئے گئے ہیں، آؤٹ سورس ہونے والے سکولوں کے اساتذہ کو قریبی سکولوں میں ٹرانسفر کیا جائیگا۔ اساتذہ کی جانب سے پوسٹیں ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اساتذہ کا کہناکہ محکمہ سکول ایجوکیشن کا مستقل سیٹوں کو ختم کرنا افسوسناک ہے۔

  • تعلیم کا نیا سنگِ میل، چھابری زیریں میں الایمان ایجوکیشن سسٹم کا شاندار افتتاح

    تعلیم کا نیا سنگِ میل، چھابری زیریں میں الایمان ایجوکیشن سسٹم کا شاندار افتتاح

    پیر عادل،باغی ٹی وی( نامہ نگار باسط علی گاڈی)علم روشنی ہے اور اس روشنی کو پھیلانے کے لیے عید الفطر کے دوسرے روز چھابری زیرین، تونسہ روڈ ٹبے والی پل کے علاقے میں "الایمان ایجوکیشن سسٹم” کے نام سے ایک نئے تعلیمی ادارے کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ سادہ مگر پروقار تقریب تعلیم کے فروغ کے عزم کا مظہر ثابت ہوئی۔

    ادارے کے سرپرست و علاقے کی معروف سماجی شخصیت ملک فیاض آرائیں اور پرنسپل محمد ذیشان آرائیں (ایم فل) کی سربراہی میں منعقدہ اس تقریب کے مہمان خصوصی لیکچرار گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان ملک محمد ارشد آرائیں تھے۔ پروگرام کا آغاز حافظ محمد سہیل نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔

    مہمان خصوصی ملک محمد ارشد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور "الایمان ایجوکیشن سسٹم” اس کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ادارے کے قیام کو علاقے کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

    پرنسپل محمد ذیشان آرائیں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میری تمنا ہے کہ میں اپنے علاقے میں تعلیم کی کمی کو دور کروں اور اپنے لوگوں کی خدمت کر سکوں۔ یہ ادارہ میری اس خواہش کا عملی روپ ہے۔”

    آخر میں ادارے کے سرپرست ملک فیاض آرائیں نے کہا کہ "میں نے ہمیشہ اپنے وطنِ عزیز اور علاقے کے لیے کچھ بہتر کرنے کی خواہش رکھی۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے علاقے میں تعلیم کا فقدان ہے اور ہم اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”

  • ڈیرہ غازیخان:بلوچ لیوی،دو روز میں 2 ترقیاں، تیسری کے لیے لابنگ،کیا یہ بھی میرٹ ہے؟

    ڈیرہ غازیخان:بلوچ لیوی،دو روز میں 2 ترقیاں، تیسری کے لیے لابنگ،کیا یہ بھی میرٹ ہے؟

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی) بلوچ لیوی میں میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ شاہنواز نامی ایک اہلکار جس نے کچھ عرصہ قبل دو روز کے اندر دو ترقیاں حاصل کیں، اب نائب صوبیدار کے عہدے پر ترقی کے لیے سرگرم ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ اعلیٰ افسران کی خوشامد اور سفارشوں کے ذریعے اپنی من مانی کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    بلوچ لیوی کے نئے قواعد کے مطابق نائب صوبیدار کے عہدے کے لیے گریجویشن کی شرط لازمی ہے۔ تاہم شاہنواز جو کہ ایڈیشنل کمشنر ریونیو کے گن مین کے طور پر تعینات ہے نے مبینہ طور پر کمانڈنٹ کے اختیارات میں مداخلت کرتے ہوئے کوارٹر ماسٹر کا اضافی چارج بھی حاصل کر لیا ہے۔ اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے دیگر ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازیخان : بلوچ لیوی میں کیڈر تبدیل ایک ہی ملازم کی 2 روز میں2 ترقیاں

    ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شاہنواز پر کوارٹر ماسٹر کے طور پر ملازمین کی وردیوں، لائٹنگ اور دیگر سامان کی خریداری میں کرپشن کے الزامات بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی کے بل بنا کر سرکاری خزانے سے رقوم نکلوائیں۔

    اس سے قبل شاہنواز نے مبینہ طور پر سابق کمانڈنٹ کے جعلی دستخطوں سے کیڈر تبدیل کروا کر دو روز میں 2 ترقیاں حاصل کیں۔ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے ملازمین کو دور دراز پہاڑی علاقوں میں تبادلہ کر دیا گیا۔

    تاہم بلوچ لیوی میں 27 سال بعد نئی بھرتیوں کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے کمانڈنٹ محمد اسد خان چانڈیہ کو اس میرٹ پر مبنی بھرتی کے لیے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ کمانڈنٹ کسی اہلکار کی ذاتی خواہش پر میرٹ کے خلاف کوئی ترقی نہیں کریں گے، جس سے نئے بھرتی ہونے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے حقوق کا تحفظ نہ ہو سکے۔