ڈیرہ غازی خان میں چھ ماہ قبل بازیاب ہونے والی متاثرہ بچی کو نامزد ملزمان کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث تین ملزمان میں سے صرف ایک کو گرفتار کیا جا سکا ہے جبکہ دو ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں۔متاثرہ بچی اور اس کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ باقی ملزمان انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔اہل علاقہ اور سماجی حلقوں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
Category: ڈیرہ غازی خان
-

ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تاخیر سے تعلیمی نظام متاثر
ڈیرہ غازی خان: میر چاکر خان رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی گزشتہ ایک سال تین ماہ سے مستقل وائس چانسلر سے محروم ہے، جس کے باعث تعلیمی اور انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ جنوری 2025 میں سابق وائس چانسلر کی مدت مکمل ہونے کے بعد تاحال نئی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔طلبہ اور ذرائع کے مطابق مستقل سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کے اہم معاملات تعطل کا شکار ہیں۔ نئے تعلیمی پروگرامز کا آغاز، فیکلٹی بھرتی، ریسرچ سرگرمیوں اور مالیاتی فیصلوں میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کے بغیر کسی بھی یونیورسٹی کی کارکردگی اور ساکھ متاثر ہوتی ہے، جبکہ داخلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔واضح رہے کہ میر چاکر رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پورے ڈویژن کی واحد ٹیکنالوجی یونیورسٹی ہے جہاں ملک بھر سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ جنوری 2025 میں یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے بعد ادارے کو انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ سائنس اور مینجمنٹ کے مختلف شعبہ جات میں داخلوں کا اختیار بھی دیا گیا تھا، تاہم وائس چانسلر کی عدم تعیناتی نے ان تمام منصوبوں کو متاثر کر دیا ہے۔تعلیمی ماہرین کے مطابق مستقل وائس چانسلر کسی بھی یونیورسٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے بغیر مالیاتی نظام، تعلیمی منصوبے اور ترقیاتی کام مؤثر طریقے سے نہیں چل سکتے۔عوامی و تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ کی بنیاد پر فوری طور پر مستقل وائس چانسلر تعینات کیا جائے تاکہ ادارہ اپنی معمول کی کارکردگی بحال کر سکے۔ طلبہ اور والدین نے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سے نہ صرف جاری منصوبے متاثر ہوں گے بلکہ ادارے پر اعتماد بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔
-

دبئی ورک ویزہ فراڈ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائی، ملزم گرفتار
ڈیرہ غازی خان میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے دبئی ورک ویزہ کے نام پر فراڈ کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ملزم عابد حسین نے ایک شہری کو دبئی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر 9 لاکھ روپے وصول کیے، مگر نہ ویزہ فراہم کیا اور نہ ہی وعدہ پورا کیا۔ایف آئی اے نے امیگریشن آرڈیننس 1979 کے سیکشن 22-B کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم سے مزید اہم انکشافات اور اس کے نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند ایجنٹس سے رجوع کریں اور کسی بھی مشکوک پیشکش سے بچیں۔
-

عبداللہ ٹاؤن میں سست رفتار ترقیاتی کام، شہری پانی میں گھر گئے
ڈیرہ غازی خان کی یونین کونسل 17 کے علاقے عبداللہ ٹاؤن میں پائپ لائن بچھانے کا ترقیاتی کام جاری ہے، تاہم کام کی سست رفتار نے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ترقیاتی سرگرمیوں کے دوران نالیوں کو بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث گلیوں میں پانی جمع ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آمد و رفت کو مشکل بنا دیا ہے بلکہ صفائی کے مسائل بھی سنگین ہو گئے ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دن گزرنے کے باوجود نکاسی آب کا کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا، جس سے بدبو پھیل رہی ہے اور بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اہل علاقہ نے واسا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گلیوں میں کھڑے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے اور پائپ لائن بچھانے کے کام کو تیز کیا جائے تاکہ عوام کو مزید پریشانی سے بچایا جا سکے۔
-

ڈیرہ غازی خان: 11 سالہ سروس کے بعد ملازمین فارغ، کمشنر آفس کے باہر احتجاجی دھرنا
ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی
( نیوز رپورٹر شاہد خان)
11 سالہ سروس کے بعد 113 ملازمین فارغ، کمشنر آفس کے باہر احتجاجی دھرنا
ڈیرہ غازی خان میں محکمہ ہیلتھ پاپولیشن کے سینکڑوں ملازمین کو 11 سال بعد اچانک ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کے خلاف شدید احتجاج سامنے آ گیا۔ متاثرہ ملازمین نے کمشنر آفس کے باہر دھرنا دے دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
ملازمین کے مطابق وہ گزشتہ گیارہ برس سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیتے رہے، مگر اچانک بغیر کسی واضح وجہ یا نوٹس کے انہیں برطرف کر دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف ڈیرہ غازی خان میں 137 ملازمین متاثر ہوئے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 2740 نوکریاں ختم کی گئی ہیں، جو کہ ایک “معاشی قتل” کے مترادف ہے۔
احتجاج میں شامل افراد نے کہا کہ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں اور اتنے طویل عرصے کی ملازمت کے بعد اس طرح فارغ کیا جانا کھلی ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پنجاب فوری طور پر نوٹس لے اور برطرف ملازمین کی بحالی کے احکامات جاری کرے۔
دوسری جانب تاحال ضلعی انتظامیہ یا محکمہ صحت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث ملازمین میں بے چینی اور غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے -

ڈیرہ غازی خان: کوہِ سلیمان اور فورٹ منرو میں ژالہ باری، نقصانات کے سروے کا حکم، مشترکہ ٹیم تشکیل
ڈیرہ غازی خان میں حالیہ ژالہ باری کے بعد ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کوہِ سلیمان اور خصوصاً فورٹ منرو کے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے فوری سروے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سید عثمان منیر بخاری کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ژالہ باری سے لائیو اسٹاک اور نجی املاک کو ہونے والے نقصانات کے تخمینہ کیلئے ایک مشترکہ سروے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ٹیم میں اسسٹنٹ کمشنر کو کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ تحصیلدار کوہِ سلیمان، متعلقہ ایس ڈی او بلڈنگ، ویٹرنری آفیسر اور پی ڈی ایم اے/ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نمائندہ بطور ممبران شامل ہوں گے۔
سروے ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ:
متاثرہ علاقوں کا جامع فیلڈ سروے کیا جائے
لائیو سٹاک اور نجی املاک کے نقصانات کا درست تخمینہ لگایا جائے
متعلقہ ریکارڈ کے ذریعے نقصانات کی تصدیق کی جائے
امداد و معاوضہ کے لیے مستند ڈیٹا تیار کیا جائے
ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ سات روز کے اندر تفصیلی رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کی جائے۔ مزید برآں پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہِ سلیمان کو مختلف محکموں کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن اور بروقت تکمیل یقینی بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق عوامی آگاہی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ متاثرہ افراد بروقت معلومات فراہم کر سکیں۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سروے رپورٹ کی روشنی میں متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ -

ایسٹر 2026: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان میں مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل
ڈیرہ غازی خان میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن “ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت ایسٹر 2026 کے موقع پر مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی واضح اور سخت ہدایات کی روشنی میں متعلقہ ادارے متحرک ہیں تاکہ شہر بھر میں صاف، ستھرا اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور ورکرز فیلڈ میں سرگرم عمل ہیں۔بالخصوص سینٹ اینتھونی یونائیٹڈ چرچ اور اس سے ملحقہ راستوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ چرچ آنے جانے والے راستوں کو بھی مکمل طور پر صاف رکھا جا رہا ہے تاکہ عبادت کے لیے آنے والے افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریجنل منیجر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ منصور ناگرہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ایسٹر کے موقع پر صفائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ شہر کو صاف ستھرا رکھا جا سکے۔ڈویژنل کوآرڈی نیٹر عبداللہ عباسی نے کہا کہ مسیحی برادری کے مذہبی تہوار کے پیش نظر خصوصی صفائی پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت چرچ کے اطراف اور اہم شاہراہوں کی صفائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔شہریوں نے ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔
-

ڈیرہ غازی خان: ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کے موقع پر مسیحی برادری کی سیفٹی کے لیے ریسکیو 1122 تیار
ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر) – ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر احمد کمال نے کہا ہے کہ ایسٹر اور گڈ فرائی ڈے کی تقریبات کے موقع پر مسیحی برادری کی حفاظت کے لیے ریسکیو 1122 نے مکمل اقدامات کر لیے ہیں۔
سنٹرل سٹیشن ریسکیو 1122، چوک چورہٹہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تہوار کے دوران سیفٹی اور ایمرجنسی کور کے تمام انتظامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مسیحی برادری کو تہوار کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سب مل کر اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو شعار بنائیں، اور آپکی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔”
انجینئر احمد کمال نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122 ہر وقت کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مستعد اور تیار ہے تاکہ شہری محفوظ اور پرامن ماحول میں تہوار منا سکیں۔ -

ڈیرہ غازی خان: کمشنر اشفاق احمد چوہدری کے امتحانی مراکز پر اچانک چھاپے، شفافیت پر زیرو ٹالرنس کا اعلان
ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی نیوز، رپورٹر شاہد خان): کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن و چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اشفاق احمد چوہدری نے میٹرک کے جاری سالانہ امتحانات کے سلسلے میں مختلف امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا۔
انہوں نے گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن ماڈل ٹاؤن میں قائم گرلز امتحانی سنٹر کا معائنہ کیا، جہاں امتحانی عمل، سکیورٹی انتظامات اور فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر کمشنر نے طالبات سے بھی گفتگو کی اور ان سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔
بعد ازاں کمشنر نے گورنمنٹ کمپری ہینسو سکول میں قائم بوائز امتحانی مرکز کا دورہ کیا، جہاں پرنسپل محمد حفیظ مستوئی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کمشنر نے نقل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا بغور جائزہ لیا اور متعلقہ عملے کو سخت ہدایات جاری کیں۔
کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے واضح کیا کہ امتحانات کے دوران نظم و ضبط اور شفافیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ طلبہ و طالبات کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی بھی شکایت کی صورت میں فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صاف و شفاف امتحانی نظام ہی طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، اس لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے ادا کریں۔ -

ڈی جی خان،منشیات کے عادی افراد،ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی بحالی کے لئے سنٹر قائم
ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی (رپورٹر شاہد خان )ڈیرہ غازی خان میں منشیات کے عادی افراد اور ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی بحالی کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ سنٹر قائم کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے سخی سرور روڈ پر زین بحالی سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان امیر تیمور، اسسٹنٹ کمشنر صدر تیمور عثمان، پرنسپل میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد بلال سعید، ڈاکٹرز کمیونٹی اور شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے سنٹر کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی طبی و بحالی سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نجی ادارے شعبہ صحت میں بہتری اور مریضوں کے علاج معالجہ کے لیے قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت جسمانی صحت سے کم اہم نہیں بلکہ ایک ذہنی مریض سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔مریض کو پوشیدہ رکھنے کے بجائے بروقت علاج کی طرف رجوع کیا جائے۔
ادارے کے سربراہ ڈاکٹر زین الحسنین صدیقی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ جنوبی پنجاب کا واحد بحالی سنٹر ہے جہاں 12 کمروں پر مشتمل 30 بیڈز کا ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ سنٹر میں ذہنی مریضوں، منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ساتھ آٹزم کے مریضوں کے لیے بھی خصوصی شعبہ قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مریضوں کو گھریلو ماحول،معیاری خوراک،ورزش، پانچ وقت نماز کی سہولت اور معیاری طبی نگہداشت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مکمل بحالی کے بعد معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔
