Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2  ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2 ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    تونسہ: سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تونسہ اور گرد و نواح کے علاقوں کو ممکنہ دہشت گردی سے محفوظ بنا لیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک ہدفی آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دو دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ دہشت گرد تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے آباد علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کے پیش نظر ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق رات بھر جاری خفیہ مانیٹرنگ، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور زمینی نگرانی کے بعد تقریباً رات 12 بج کر 30 منٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہدفی ڈرون کارروائی قبائلی علاقہ تونسہ کے درہ واہوا سیکٹر میں کچی لکھانی کے قریب کی گئی۔ابتدائی زمینی جائزوں کے مطابق کارروائی انتہائی درست ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد موقع پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ کارروائی کے بعد باقی دہشت گرد اپنے زخمی ساتھی کو ساتھ لے کر قریبی دشوار گزار علاقوں کی جانب فرار ہو گئے۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ مختلف راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا، جس سے تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے علاقوں کو ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور علاقے کے امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد متحرک ،بلوچستان سے آنے والے دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اسمگل شدہ سامان اتار لیا،گاڑیاں بھی قبضہ میں لے لیں،علاقے میں دہشتگردی کا خدشہ،شہریوں نے سیکورٹی فورسز سے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

    باخبر ذرائع کے مطابق 25 سے 30 کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد تونسہ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع بارڈر ملٹری پولیس اسٹیشن چتروٹہ کی حدود میں موجود تھے۔دہشت گردوں نے بلوچستان سے آنے والے نان کسٹم پیڈ سامان لے جانے والی دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں دونوں گاڑیوں سے اسمگل شدہ سامان اتار لیا گیا۔ان پیش رفتوں کے پیش نظر اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ٹی ٹی پی کے عناصر ضبط شدہ گاڑیوں کو تونسہ کے علاقے میں سرحدی سکیورٹی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے فوری طور پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کریں، تمام قریبی چیک پوسٹوں کو مضبوط بنائیں،ٹی ٹی پی دہشتگردوں‌کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ علاقہ میں امن و امان قائم رہے.

    واضح رہے کہ 19 مئی کو خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر قائم بارڈر ملٹری پولیس کے تھانہ چتروٹہ پر ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، دھماکہ خیز مواد سے تھانے کی عمارت کو شدید نقصان۔ دھماکوں کے بعد مسلح افراد کی جانب سے تھانے کا محاصرہ بھی کیا گیا تھا

  • تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے 14 سے 15 مسلح دہشتگرد بارڈر ملٹری پولیس (BMP) تھانہ چتروٹہ کی حدود میں واقع کچی لکھانی کے علاقے کی ایک مسجد میں موجود ہیں، جہاں وہ مقامی آبادی کے ساتھ ملاقاتیں اور اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر مقامی لوگوں کو بارڈر ملٹری پولیس میں جاری بھرتی مہم میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے عوامی اعلانات کے ذریعے نوجوانوں کو رضاکارانہ بھرتی سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے،اور کہا جا رہا ہے کہ علاقے پر ان کا اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔

    اطلاعات کے مطابق شدت پسند اپنے خطابات میں مقامی آبادی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عوام کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم وہ لوگوں کو اپنی تنظیم اور نظریات کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    سکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

  • ڈی جی خان، سیلابی ریلا پل بہا لے گیا، ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    ڈی جی خان، سیلابی ریلا پل بہا لے گیا، ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان رپورٹر (شاہد خان)بستی بیلا وڈور کو ڈیرہ غازی خان شہر سے ملانے والا پل تعمیر کے محض 8 ماہ بعد ہی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس کے بعد تعمیراتی معیار، نگرانی کے نظام اور سرکاری فنڈز کے استعمال پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پل عوامی سہولت اور آمدورفت کے لیے ایک اہم منصوبہ تھا، لیکن اتنی قلیل مدت میں اس کا تباہ ہو جانا ناقص تعمیرات اور مبینہ غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پل کے بہہ جانے سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ روزمرہ آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ آیا تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق کیا گیا تھا یا نہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی کوتاہی، ناقص میٹریل کے استعمال یا بدعنوانی کے شواہد سامنے آئیں تو ٹھیکیدار سمیت تمام ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔

    اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر اور متعلقہ محکمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پل کی فوری تعمیر نو کے ساتھ ساتھ عوامی خزانے کے نقصان کے ذمہ دار عناصر کا احتساب بھی یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو

  • کھٹا کھانا،بو آ رہی، ٹھنڈا پانی نہیں دیا گیا،ستھرا پنجاب کے ورکر پھٹ پڑے

    کھٹا کھانا،بو آ رہی، ٹھنڈا پانی نہیں دیا گیا،ستھرا پنجاب کے ورکر پھٹ پڑے

    عیدالاضحیٰ کے موقع پر پنجاب بھر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر “ستھرا پنجاب” مہم کے تحت صفائی کے خصوصی انتظامات جاری ہیں، تاہم اس مہم میں ڈیوٹی انجام دینے والے صفائی ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

    پنجاب کے شہر ڈی جی خان سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ستھرا پنجاب پروگرام کا ایک ورکر احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ستھرا پنجاب کارکن کا کہنا ہے کہ عید کے دن سخت گرمی اور مسلسل ڈیوٹی کے باوجود انہیں معیاری کھانا اور بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ورکر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ “ہمیں جو سالن اور روٹی دی گئی وہ کھٹی تھی اور اس میں سے بدبو آ رہی تھی، کوئی بھی کھانا نہیں کھا سکا، ساری روٹیاں ویسے ہی پڑی رہیں۔”

    صفائی ملازم نے مزید شکایت کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود انہیں ٹھنڈا پانی تک فراہم نہیں کیا گیا جبکہ وہ عید کے موقع پر شہر کی صفائی کیلئے مسلسل کام کر رہے ہیں، صفائی عملے کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اور انتظامیہ کو ان مسائل کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

    ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عید کے دن عوامی خدمت انجام دینے والے صفائی ملازمین کو بہتر سہولیات، معیاری کھانا اور مناسب آرام فراہم کیا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کا رات گئے واسا میگا پراجیکٹ کا دورہ، 72 انچ مین سیور لائن کا معائنہ

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کا رات گئے واسا میگا پراجیکٹ کا دورہ، 72 انچ مین سیور لائن کا معائنہ

    ڈیرہ غازی خان (رپورٹر: شاہد خان)
    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد میگا پراجیکٹس کی مؤثر نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واسا کے تحت جاری ترقیاتی منصوبے کے سلسلے میں رات گئے پل ڈاٹ سے مانکا کینال تک بچھائے جانے والے 72 انچ قطر کے مین ٹرنک سیور کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر صدر تیمور عثمان، چیف آفیسر ضلع کونسل جواد الحسن گوندل اور دیگر متعلقہ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ واسا کے تمام جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کام کی رفتار مزید تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو درپیش عارضی مشکلات کو ہر ممکن حد تک کم رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ سیوریج نظام کی بہتری سے شہریوں کو نمایاں ریلیف ملے گا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور اعلیٰ معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی سہولیات کی بہتری ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان میں واسا کی کارکردگی بے نقاب  | سیوریج مسائل، جعلی رپورٹس کا انکشاف!

    ڈیرہ غازی خان میں واسا کی کارکردگی بے نقاب | سیوریج مسائل، جعلی رپورٹس کا انکشاف!

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی) — رپورٹر شاہد خان
    شہر میں واسا کی کارکردگی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ شہری حلقوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں سیوریج بندش، گندگی اور بارش کے بعد جمع ہونے والے پانی کی شکایات کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہریوں کے مطابق متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور شکایات متعلقہ عملے کو بھجوائی جاتی ہیں، تاہم مسئلہ حل کرنے کے بجائے بعض اہلکار انہی تصاویر کو ایڈٹ کر کے “ریزولو” ظاہر کرتے ہوئے افسران کو ارسال کر دیتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد محلوں اور گلیوں میں گندا پانی کھڑا رہنے سے نہ صرف آمدورفت متاثر ہو رہی ہے بلکہ تعفن اور بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔شہریوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

  • ڈی جی خان: واسا کی پائپ لائن بچھانے کا کام عوام کیلئے عذاب بن گیا، نکاسی آب کا نظام تباہ

    ڈی جی خان: واسا کی پائپ لائن بچھانے کا کام عوام کیلئے عذاب بن گیا، نکاسی آب کا نظام تباہ

    ڈیرہ غازی خان میں واسا کی جانب سے عبداللہ ٹاؤن کالونی یونین کونسل 17 میں جاری پائپ لائن بچھانے کا ترقیاتی کام علاقہ مکینوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ترقیاتی کام کے دوران پہلے سے موجود نکاسی آب کی نالیوں کو توڑ دیا گیا، جس کے باعث گندا پانی گھروں میں داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پانی کے نکاس کا واحد راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے، جس سے صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔مزید برآں تمام گلیوں کو بیک وقت کھود دینے سے آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ شہریوں کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں شدید دشواری کا سامنا ہے، جبکہ بزرگوں، بچوں اور مریضوں کیلئے گزرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اہل علاقہ نے شکایت کی ہے کہ گلیوں میں چلنے کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں چھوڑا گیا، جس سے شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔مکینوں نے انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالا جائے اور جہاں پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے وہاں نکاسی آب کے لیے پلاسٹک پائپس بھی نصب کیے جائیں تاکہ گندا پانی گھروں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے اور نکاسی کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مسائل مزید شدت اختیار کر جائیں گے اور شہریوں کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • ڈی جی خان: بازیاب متاثرہ لڑکی کو دوبارہ دھمکیاں، دو ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے

    ڈی جی خان: بازیاب متاثرہ لڑکی کو دوبارہ دھمکیاں، دو ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے

    ڈیرہ غازی خان میں چھ ماہ قبل بازیاب ہونے والی متاثرہ بچی کو نامزد ملزمان کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث تین ملزمان میں سے صرف ایک کو گرفتار کیا جا سکا ہے جبکہ دو ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں۔متاثرہ بچی اور اس کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ باقی ملزمان انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔اہل علاقہ اور سماجی حلقوں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔