Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈی جی خان، 7 اگست کو جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا، پروفیسر رشید احمد کا اعلان

    ڈی جی خان، 7 اگست کو جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا، پروفیسر رشید احمد کا اعلان

    ڈیرہ غازیخان باغی ٹی وی نیوز رپورٹر (شاہد خان ) 7 اگست کو جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا، پروفیسر رشید احمد کا اعلان
    ڈیرہ غازی خان: جماعت اسلامی کے دفتر میں پروفیسر رشید احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے 7 اگست کو احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس کے دوران پروفیسر رشید احمد نے کہا کہ عوامی مسائل اور مطالبات کے حل کے لیے 7 اگست کو بھرپور احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی جائے گی اور دھرنے کے ذریعے متعلقہ حکام کی توجہ عوامی مشکلات کی جانب مبذول کرائی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے شہریوں اور کارکنان سے احتجاجی دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی۔پروفیسر رشید احمد نے مزید کہا کہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

  • ڈی جی خان،حاجی محمد زبیر خان لودھی نیشنل لیبر فاؤنڈیشن  پنجاب کے میڈیا کوآرڈینیٹر مقرر

    ڈی جی خان،حاجی محمد زبیر خان لودھی نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پنجاب کے میڈیا کوآرڈینیٹر مقرر

    ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی نیوز (رپورٹر شاہد خان )نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمٰن سواتی کا دورہ ڈیرہ غازی خان میں صوبائی مجلس عامہ نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان پنجاب جنوبی پروگرام کے اختتام موقع پر ڈیرہ غازی خان کے معروف گولڈ میڈ لسٹ فوٹو جنرلسٹ حاجی محمد زبیر خان لودھی کو میڈیا کواڈینیٹر نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان پنجاب صوبہ جنوبی مقرر کیا ہے

    نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی اس موقع پر ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا اور کہا کہ یہ پاکستان کی سب سے بڑی فاؤنڈیشن ھے یہ مزدوروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس وقت پاکستان بھر میں تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ مزدور ھیں ۔شمس الرحمٰن سواتی کے ساتھ مرکزی صدر نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان کے ساتھ حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان اور مرزا محمد عیسیٰ نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان صوبہ پنجاب جنوبی کے صدر جبکہ ، پروفیسر رشید احمد اختر، محمد حسنین فراز نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان سیکرٹری جنرل پنجاب صوبہ جنوبی سمیت دیگر یونینز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔ عہدے داروں نے اور تنظیم کے ورکرز نے مل کر نئے عہدے دار نیشنل لیبر فاؤنڈیشن پاکستان میڈیا کوارڈینیٹر حاجی محمد زبیر خان لودھی کو مبارکباد پیش کی۔

  • 11 سالہ بچی15 لاکھ روپے میں فروخت ، 80 سالہ شخص سے نکاح کرانے کا انکشاف

    11 سالہ بچی15 لاکھ روپے میں فروخت ، 80 سالہ شخص سے نکاح کرانے کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان کے علاقے پھگلہ میں 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے میں فروخت کرکے 80 سالہ شخص سے نکاح کرانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے کمانڈنٹ امیر تیمور کو تمام ملزمان کی گر فتا ری کا حکم دیا،بی ایم پی کے مطابق 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے کے عوض فروخت کیا گیا اور اس کا نکاح 80 سالہ شخص سے کرایا گیا۔

    کمانڈنٹ امیر تیمور نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 80 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی کے والد نے مبینہ طور پر رقم کے عوض اپنی بیٹی کو فروخت کیا کم عمر بچی کا نکاح پڑھانے والے نکاح خواں سمیت تمام ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شرو ع کر دی گئی ہے، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی  کا دورہ

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ

    ڈیرہ غازی خان باغی ٹی وی رپورٹر ( شاہد خان ) کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے سلسلے میں ہسپتال میں کیے گئے خصوصی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اے ایم ایس ڈاکٹر ارسلان احمد شاہ، ڈی ایم ایس ڈاکٹر ایمن واحد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
    کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا معائنہ کیا، زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات کی دستیابی اور ایمرجنسی سروسز کا جائزہ لیا۔ کمشنر نے مریضوں کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور علاج معالجے کے معیار اور ہسپتال میں دستیاب سہولیات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
    دورے کے دوران کمشنر نے ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور دیگر ملازمین کی حاضری چیک کی اور ہدایت کی کہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، ادویات کے ذخائر، طبی آلات کی فعالیت اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم سمیت مختلف انتظامی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
    اس موقع پر کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے ہدایت کی کہ نویں اور دسویں محرم الحرام کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام طبی اور انسانی وسائل مکمل طور پر فعال رکھے جائیں تاکہ عزاداران اور عوام کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ہسپتال انتظامیہ نے کمشنر کو محرم الحرام کے لیے کیے گئے خصوصی انتظامات، ایمرجنسی پلان، اضافی عملے کی تعیناتی اور ادویات کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمشنر نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی ہدایت کی۔

  • سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2  ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2 ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    تونسہ: سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تونسہ اور گرد و نواح کے علاقوں کو ممکنہ دہشت گردی سے محفوظ بنا لیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک ہدفی آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دو دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ دہشت گرد تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے آباد علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کے پیش نظر ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق رات بھر جاری خفیہ مانیٹرنگ، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور زمینی نگرانی کے بعد تقریباً رات 12 بج کر 30 منٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہدفی ڈرون کارروائی قبائلی علاقہ تونسہ کے درہ واہوا سیکٹر میں کچی لکھانی کے قریب کی گئی۔ابتدائی زمینی جائزوں کے مطابق کارروائی انتہائی درست ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد موقع پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ کارروائی کے بعد باقی دہشت گرد اپنے زخمی ساتھی کو ساتھ لے کر قریبی دشوار گزار علاقوں کی جانب فرار ہو گئے۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ مختلف راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا، جس سے تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے علاقوں کو ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور علاقے کے امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد متحرک ،بلوچستان سے آنے والے دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اسمگل شدہ سامان اتار لیا،گاڑیاں بھی قبضہ میں لے لیں،علاقے میں دہشتگردی کا خدشہ،شہریوں نے سیکورٹی فورسز سے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

    باخبر ذرائع کے مطابق 25 سے 30 کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد تونسہ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع بارڈر ملٹری پولیس اسٹیشن چتروٹہ کی حدود میں موجود تھے۔دہشت گردوں نے بلوچستان سے آنے والے نان کسٹم پیڈ سامان لے جانے والی دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں دونوں گاڑیوں سے اسمگل شدہ سامان اتار لیا گیا۔ان پیش رفتوں کے پیش نظر اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ٹی ٹی پی کے عناصر ضبط شدہ گاڑیوں کو تونسہ کے علاقے میں سرحدی سکیورٹی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے فوری طور پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کریں، تمام قریبی چیک پوسٹوں کو مضبوط بنائیں،ٹی ٹی پی دہشتگردوں‌کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ علاقہ میں امن و امان قائم رہے.

    واضح رہے کہ 19 مئی کو خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر قائم بارڈر ملٹری پولیس کے تھانہ چتروٹہ پر ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، دھماکہ خیز مواد سے تھانے کی عمارت کو شدید نقصان۔ دھماکوں کے بعد مسلح افراد کی جانب سے تھانے کا محاصرہ بھی کیا گیا تھا

  • تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے 14 سے 15 مسلح دہشتگرد بارڈر ملٹری پولیس (BMP) تھانہ چتروٹہ کی حدود میں واقع کچی لکھانی کے علاقے کی ایک مسجد میں موجود ہیں، جہاں وہ مقامی آبادی کے ساتھ ملاقاتیں اور اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر مقامی لوگوں کو بارڈر ملٹری پولیس میں جاری بھرتی مہم میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے عوامی اعلانات کے ذریعے نوجوانوں کو رضاکارانہ بھرتی سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے،اور کہا جا رہا ہے کہ علاقے پر ان کا اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔

    اطلاعات کے مطابق شدت پسند اپنے خطابات میں مقامی آبادی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عوام کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم وہ لوگوں کو اپنی تنظیم اور نظریات کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    سکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

  • ڈی جی خان، سیلابی ریلا پل بہا لے گیا، ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    ڈی جی خان، سیلابی ریلا پل بہا لے گیا، ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان رپورٹر (شاہد خان)بستی بیلا وڈور کو ڈیرہ غازی خان شہر سے ملانے والا پل تعمیر کے محض 8 ماہ بعد ہی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس کے بعد تعمیراتی معیار، نگرانی کے نظام اور سرکاری فنڈز کے استعمال پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پل عوامی سہولت اور آمدورفت کے لیے ایک اہم منصوبہ تھا، لیکن اتنی قلیل مدت میں اس کا تباہ ہو جانا ناقص تعمیرات اور مبینہ غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پل کے بہہ جانے سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ روزمرہ آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ آیا تعمیراتی کام مقررہ معیار کے مطابق کیا گیا تھا یا نہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر کسی قسم کی کوتاہی، ناقص میٹریل کے استعمال یا بدعنوانی کے شواہد سامنے آئیں تو ٹھیکیدار سمیت تمام ذمہ دار افراد کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔

    اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر اور متعلقہ محکمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پل کی فوری تعمیر نو کے ساتھ ساتھ عوامی خزانے کے نقصان کے ذمہ دار عناصر کا احتساب بھی یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو

  • کھٹا کھانا،بو آ رہی، ٹھنڈا پانی نہیں دیا گیا،ستھرا پنجاب کے ورکر پھٹ پڑے

    کھٹا کھانا،بو آ رہی، ٹھنڈا پانی نہیں دیا گیا،ستھرا پنجاب کے ورکر پھٹ پڑے

    عیدالاضحیٰ کے موقع پر پنجاب بھر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر “ستھرا پنجاب” مہم کے تحت صفائی کے خصوصی انتظامات جاری ہیں، تاہم اس مہم میں ڈیوٹی انجام دینے والے صفائی ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔

    پنجاب کے شہر ڈی جی خان سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ستھرا پنجاب پروگرام کا ایک ورکر احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ستھرا پنجاب کارکن کا کہنا ہے کہ عید کے دن سخت گرمی اور مسلسل ڈیوٹی کے باوجود انہیں معیاری کھانا اور بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ورکر نے ویڈیو بیان میں کہا کہ “ہمیں جو سالن اور روٹی دی گئی وہ کھٹی تھی اور اس میں سے بدبو آ رہی تھی، کوئی بھی کھانا نہیں کھا سکا، ساری روٹیاں ویسے ہی پڑی رہیں۔”

    صفائی ملازم نے مزید شکایت کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود انہیں ٹھنڈا پانی تک فراہم نہیں کیا گیا جبکہ وہ عید کے موقع پر شہر کی صفائی کیلئے مسلسل کام کر رہے ہیں، صفائی عملے کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اور انتظامیہ کو ان مسائل کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

    ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عید کے دن عوامی خدمت انجام دینے والے صفائی ملازمین کو بہتر سہولیات، معیاری کھانا اور مناسب آرام فراہم کیا جائے۔