ٹھٹھہ (باغی ٹی وی/ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ٹھٹھہ میں تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے ہیرٹیج واک کا انعقاد کیا گیا، جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے کی۔ واک میں بھنبور پر تحقیق کرنے والے فرانس اور اٹلی کے نامور غیر ملکی ماہرین، محکمہ آرکیالوجی اور محکمہ ثقافت سندھ کے افسران، تاریخ دانوں اور محققین نے شرکت کی۔
ہیرٹیج واک کے دوران شرکاء نے سابق حکمران مرزا جانی بیگ، طغرل بیگ، باقی بیگ، جام نظام الدین سمیت دیگر تاریخی شخصیات سے وابستہ مقامات کا دورہ کیا۔ شرکاء کو ان مقامات کی تاریخی، مذہبی اور علمی اہمیت سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھٹھہ کا تاریخی ورثہ نہ صرف سندھ بلکہ پوری اسلامی دنیا کی پہچان ہے، جس کے تحفظ اور تشہیر کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیرٹیج واک سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور اس کے مثبت اثرات مقامی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
کیوریٹر غیور عباس شاہ نے تاریخی پس منظر اور مختلف مقامات کی اہمیت پر شرکاء کو جامع بریفنگ دی، جبکہ غیر ملکی ماہرین نے ٹھٹھہ، مکلی اور بھنبور کو اسلامی اور تہذیبی ورثے کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے ان مقامات پر مزید تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب سے تاریخ دان و اسکالر محمد علی مانجھی اور دیگر محققین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ثقافتی میوزک شو بھی پیش کیا گیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ہیرٹیج واک تاریخی ورثے کے تحفظ، تحقیق اور نئی نسل میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک مؤثر اقدام ہے۔









