Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • ٹھٹھہ میں تاریخی ورثے کے فروغ کیلئے ہیرٹیج واک، غیر ملکی ماہرین کی شرکت

    ٹھٹھہ میں تاریخی ورثے کے فروغ کیلئے ہیرٹیج واک، غیر ملکی ماہرین کی شرکت

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی/ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ٹھٹھہ میں تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے ہیرٹیج واک کا انعقاد کیا گیا، جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے کی۔ واک میں بھنبور پر تحقیق کرنے والے فرانس اور اٹلی کے نامور غیر ملکی ماہرین، محکمہ آرکیالوجی اور محکمہ ثقافت سندھ کے افسران، تاریخ دانوں اور محققین نے شرکت کی۔

    ہیرٹیج واک کے دوران شرکاء نے سابق حکمران مرزا جانی بیگ، طغرل بیگ، باقی بیگ، جام نظام الدین سمیت دیگر تاریخی شخصیات سے وابستہ مقامات کا دورہ کیا۔ شرکاء کو ان مقامات کی تاریخی، مذہبی اور علمی اہمیت سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹھٹھہ کا تاریخی ورثہ نہ صرف سندھ بلکہ پوری اسلامی دنیا کی پہچان ہے، جس کے تحفظ اور تشہیر کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیرٹیج واک سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور اس کے مثبت اثرات مقامی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔

    کیوریٹر غیور عباس شاہ نے تاریخی پس منظر اور مختلف مقامات کی اہمیت پر شرکاء کو جامع بریفنگ دی، جبکہ غیر ملکی ماہرین نے ٹھٹھہ، مکلی اور بھنبور کو اسلامی اور تہذیبی ورثے کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے ان مقامات پر مزید تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

    تقریب سے تاریخ دان و اسکالر محمد علی مانجھی اور دیگر محققین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ثقافتی میوزک شو بھی پیش کیا گیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ہیرٹیج واک تاریخی ورثے کے تحفظ، تحقیق اور نئی نسل میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک مؤثر اقدام ہے۔

  • ٹھٹھہ: گٹروں کا زہریلا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑ دیا گیا، شہری مضرصحت پانی پینے پر مجبور

    ٹھٹھہ: گٹروں کا زہریلا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑ دیا گیا، شہری مضرصحت پانی پینے پر مجبور

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) ٹھٹھہ شہر کے مین گٹر اور سیم نالوں کا زہریلا اور گندا پانی گھار مسان شاخ میں چھوڑے جانے کے باعث شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے بلکہ زرعی زمینیں اور فصلیں بھی شدید نقصان کا شکار ہو سکتی ہیں۔

    شہر کے سیاسی و سماجی رہنما جی ڈی اے کے شاہنواز بروہی نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گھار مسان شاخ میں ٹھٹھہ شہر کے گٹروں اور سیم نالوں کا زہریلا پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی شاخ کے پانی کو ٹھٹھہ اور مکلی کے رہائشی پینے اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر اس میں آلودہ پانی شامل ہونے سے انسانی صحت اور جانوروں کی زندگی دونوں شدید خطرے میں ہیں۔

    شاہنواز بروہی نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ فوری طور پر گھار مسان شاخ سے گندا پانی نکال کر صاف پانی چھوڑے تاکہ ممکنہ آلودگی سے انسانی جانوں اور فصلوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی موجودہ خاموشی ناقابل قبول ہے اور شہریوں کی زندگیوں اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ سڑکوں پر نکل کر اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔ احتجاجیوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور شہر کے مکینوں کے لیے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    ماہرین صحت بھی شہریوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ آلودہ پانی پینے سے مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے، جس میں ہیضہ، ڈائریا، اور دیگر وائرل انفیکشن شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری طور پر پانی کے معیار کی جانچ کی جائے اور شہریوں کو صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

  • ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب

    ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب

    ٹھٹھہ (بلاول سموں):ٹھٹھہ اور مکلی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے آر او فلٹر پلانٹس کے طویل عرصے سے بند پڑے ہونے، مبینہ نااہلی اور بدانتظامی کے خلاف صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    یہ نوٹس عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے نائب صدر ممتاز علی سمیجو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر ٹھٹھہ ہارون احمد خان کی ہدایت پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ ٹھٹھہ کو جاری کیا گیا ہے۔

    نوٹس کے متن کے مطابق شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مکلی سمیت ضلع ٹھٹھہ میں قائم تقریباً 62 آر او فلٹر پلانٹس میں سے اکثریت مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، جس کے باعث شہری صاف پینے کے پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    شکایت میں خاص طور پر بھٹی مسجد کے قریب ناریجا گاؤں مکلی، درگاہ حضرت شاہ ابراہیم شاہ جیلانی ٹھٹھہ، درگاہ مخدوم آدم نقشبندی ٹھٹوی مکلی اور گاؤں رسول بخش بروہی مکلی میں قائم آر او فلٹر پلانٹس کی بندش کا ذکر کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں بلکہ برسوں سے غیر فعال پڑے ہیں۔

    صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے جاری نوٹس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 فروری 2026 تک اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کرے، بصورتِ دیگر محتسب ایکٹ 1991 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی عدم تعمیل یا رپورٹ پیش نہ کرنے کی صورت میں صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر کو ہائی کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہیں، جن کے تحت طلبی، تحقیقات اور توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

    شہریوں اور سماجی حلقوں نے صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بند پڑے آر او فلٹر پلانٹس جلد از جلد فعال کیے جائیں گے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عوام کو صاف پینے کے پانی کی سہولت میسر آ سکے۔

  • مکلی بائی پاس پر ٹریفک حادثہ، ایک راہگیر جاں بحق

    مکلی بائی پاس پر ٹریفک حادثہ، ایک راہگیر جاں بحق

    ٹھٹھہ (باغی ٹی ویڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں):مکلی بائی پاس پر تیز رفتار مزدا گاڑی کی ٹکر سے ایک راہگیر جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے شخص کا تعلق تھر سے تھا اور اس کی شناخت ٹھاکر کے نام سے ہوئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مذکورہ شخص سڑک عبور کر رہا تھا کہ تیز رفتار مزدا گاڑی نے اسے زوردار ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں لے کر سول اسپتال مکلی منتقل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق شخص کی جیب سے ضروری ذاتی سامان کے علاوہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے نقد رقم بھی برآمد ہوئی ہے، جبکہ حادثے میں ملوث مزدا گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • ٹھٹھہ: حضرت عبداللہ شاہ اصحابی کا 387واں سالانہ عرس مبارک شروع، صوبائی وزیر نے افتتاح کیا

    ٹھٹھہ: حضرت عبداللہ شاہ اصحابی کا 387واں سالانہ عرس مبارک شروع، صوبائی وزیر نے افتتاح کیا

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں)سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت عبداللہ شاہ اصحابی کا 387واں تین روزہ سالانہ عرس مبارک مکلی میں شروع ہو گیا۔ صوبائی وزیر اوقاف سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے درگاہ پر چادر چڑھا کر عرس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاح کے موقع پر ملک کی سالمیت، خوشحالی، استحکام اور امن کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    اس موقع پر وزیر اوقاف کے ہمراہ منیجر اوقاف گل حسن چوہان، حنیف میمن اور دیگر اہلکار بھی موجود تھے۔ وزیر اوقاف نے کہا کہ سندھ صوفی بزرگوں اور درویشوں کی سرزمین ہے، جنہوں نے ہمیشہ محبت، امن اور بھائی چارے کا درس دیا، اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ درگاہیں روحانی سکون کے ساتھ ساتھ قیمتی ثقافتی اثاثہ بھی ہیں، جہاں لاکھوں زائرین روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ عرس مبارک کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں واک تھرو گیٹس اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

    وزیر اوقاف نے کہا کہ زائرین کو تمام سہولیات فراہم کرنا محکمہ اوقاف کی اولین ترجیح ہے، جس میں میڈیکل کیمپ، صاف پانی، وضو کے انتظامات، واش روم، مسافر خانے، لنگر اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ درگاہوں کا تقدس برقرار رکھا جائے گا اور کسی کو غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    صوبائی وزیر نے محکمہ اوقاف کی جانب سے قائم کیے گئے سی سی ٹی وی کنٹرول روم کا بھی معائنہ کیا۔

  • ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنر  کی اوپن ڈور پالیسی، شہریوں کے مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنر کی اوپن ڈور پالیسی، شہریوں کے مسائل کے فوری حل کی ہدایات

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی/بلاول سموں) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کی جانب سے اپنے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کے مسائل حل کرنے کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اوپن ڈور پالیسی کے تحت انہوں نے مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے انفرادی و اجتماعی مسائل تفصیل سے سنے۔

    تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران شہریوں نے زمین، ریونیو، صحت، تعلیم، بلدیاتی امور اور دیگر سرکاری محکموں سے متعلق شکایات اور مسائل ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھے۔ ڈپٹی کمشنر سرمد علی بھاگت نے تمام مسائل کو بغور سنا اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو واضح ہدایات جاری کیں کہ عوامی شکایات کا فوری، شفاف اور قانون کے مطابق ازالہ یقینی بنایا جائے۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت حل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ضلعی انتظامیہ عوامی خدمت کے مشن پر مکمل طور پر کاربند ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور کسی بھی شہری کو غیر ضروری طور پر دفاتر کے چکر نہ لگوائے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اوپن ڈور پالیسی کا بنیادی مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنا اور عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ افسران اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں۔

  • ٹھٹھہ:گھارو میں لینڈ مافیا بے لگام، سرکاری زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں تیار

    ٹھٹھہ:گھارو میں لینڈ مافیا بے لگام، سرکاری زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں تیار

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی/ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کی جانب سے سرکاری زمینوں اور تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے باوجود گھارو میں لینڈ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہو سکی، جس کے باعث سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیمیں چلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق گھارو کے مختلف علاقوں میں سرکاری اراضی پر غیرقانونی تعمیرات اور ہاؤسنگ اسکیموں کا جال بچھایا جا رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں محض کاغذی حد تک محدود نظر آتی ہیں۔ محکمہ ریونیو نے حالیہ کارروائی کے دوران غیرقانونی بلڈرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے “ماڈرن سٹی” نامی ہاؤسنگ اسکیم کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور اسکیم سے متعلق تقریباً 100 ایکڑ زمین کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔

    محکمہ ریونیو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس کے بعد کارروائی کی تیاری جاری تھی، تاہم مبینہ طور پر بلڈرز نے سیاسی اور انتظامی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کارروائی عارضی طور پر رکوا دی۔ اس حوالے سے محکمہ ریونیو کا مؤقف ہے کہ کسی بھی وقت غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے اور سرکاری زمین کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    دوسری جانب شہری حلقوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ خریدنے سے قبل اس کی قانونی حیثیت، این او سی اور زمین کے ریکارڈ کی مکمل تصدیق ضرور کریں، تاکہ مستقبل میں مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ متاثرہ افراد اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ اور اسسٹنٹ کمشنر میرپور ساکرو سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری زمینوں پر جاری تمام غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیاں فوری بند کرائی جائیں اور لینڈ گریبرز کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    حیدر آباد اور قلعہ سیف اللہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    زلزلے کی وجہ سے لوگوں میں خوف پھیل گیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آ گئے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق بلوچستان کے علاقہ قلعہ سیف اللہ میں زلزلے کی شدت 3.1 ریکارڈ کی گئی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق حیدر آباد میں زلزلے کی شدت 3.4 جبکہ گہرائی 16 کلومیٹر تک ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز مسلم باغ سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔

    اس سے قبل پیر کے روز بھی بلوچستان کے علاقے دالبندین اور گرد و نواح میں 4.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔

  • ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنرکا سول ہسپتال مکلی کا دورہ، مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت

    ٹھٹھہ:ڈپٹی کمشنرکا سول ہسپتال مکلی کا دورہ، مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی /ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی نے سول اسپتال مکلی کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرتے ہوئے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور مجموعی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا۔ دورے کا مقصد مریضوں کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ایمرجنسی بلاک، او پی ڈی، نو تعمیر شدہ ڈائگنوسٹک سینٹر، کارڈیالوجی یونٹ، میڈیکل اسٹور، فیمیل وارڈ، حفاظتی ٹیکہ جات مرکز، ملیریا سینٹر سمیت دیگر اہم شعبوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہر شعبے میں دستیاب سہولیات، عملے کی حاضری، ادویات کی فراہمی اور مریضوں کے علاج معالجے کے انتظامات کا بغور جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر سرمد علی نے ہسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے تیمارداروں سے ملاقات کی اور ان سے علاج، ادویات اور دیگر سہولیات کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کیں۔ مریضوں اور تیمارداروں نے مجموعی طور پر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال انتظامیہ کو واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ادویات کی مکمل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے صفائی ستھرائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے، ہسپتال کے ماحول کو صاف رکھنے اور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے پر خصوصی زور دیا۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سرمد علی کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ عوام کو سرکاری ہسپتالوں میں بہتر علاج میسر آ سکے۔

  • سانگھڑ: قانون کمزور، وڈیرے طاقتور؛ بااثر وڈیرے کے بیٹے پر معصوم بچی پر بدترین تشدد کا مبینہ الزام، زبان کاٹنے کی اطلاع

    سانگھڑ: قانون کمزور، وڈیرے طاقتور؛ بااثر وڈیرے کے بیٹے پر معصوم بچی پر بدترین تشدد کا مبینہ الزام، زبان کاٹنے کی اطلاع

    سانگھڑ (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سانگھڑ کے علاقے چوٹیاری کے قریب پیش آنے والا واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ہے، جہاں ایک معصوم بچی پر مبینہ طور پر بااثر وڈیرے کے بیٹے وزیر راجڑ کی جانب سے درندگی، شدید تشدد اور زبان کاٹنے جیسے ہولناک الزامات سامنے آئے ہیں۔ واقعے کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے، مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ریاستی اداروں کی پراسرار خاموشی ہے۔

    ذرائع کے مطابق واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بااثر ہونا قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس بن چکا ہے؟ کیا ایک معصوم بچی کا خون اور چیخیں بھی طاقتوروں کے سامنے بے معنی ہیں؟

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ پولیس مبینہ طور پر اثر و رسوخ کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف، غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے، جبکہ سماجی اور انسانی حقوق کے حلقے اسے کھلا انسانی المیہ قرار دے رہے ہیں۔

    عوامی، سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور اعلیٰ عدالتی حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس دلخراش واقعے کا فوری ازخود نوٹس لیا جائے، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مظلوم بچی کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس ظلم پر خاموش نہ رہیں، کیونکہ آج اگر ایک بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم پر آواز نہ اٹھی تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔