Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • صوبہ سندھ میں دو ٹانگوں والے چوہے گندم کھا گئے،علی زیدی کی سندھ حکومت پر تنقید

    صوبہ سندھ میں دو ٹانگوں والے چوہے گندم کھا گئے،علی زیدی کی سندھ حکومت پر تنقید

    حیدرآباد: وفاقی وزیربرائے بحری امورعلی زیدی نے کہا ہے کہ بلاول زرداری اسلام آباد آئیں، چائے پلائیں گے۔

    باغی ٹی وی : حیدر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ سندھ کے حالات سب کے سامنے ہیں گزشتہ 15 سالوں سے آصف زرداری یہاں حکومت کر رہے ہیں۔

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا کہ حکومت سندھ نے پولیس سمیت تمام اہم اداروں کو تباہ حال کردیا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی جی سندھ بلاول ہاؤس سے ڈکٹیشن لے رہے ہیں صوبے میں دو ٹانگوں والے چوہے گندم کھا گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 19 ارب کی گندم غائب ہوئی ہے یہاں گندم چوری اور ذخیرہ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کو گندم درآمد کرنا پڑتی ہے زرداری مافیا پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے اور مال بنا رہا ہے یہاں کے اسپتالوں کی حالت بھی بہت خراب ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کی جڑیں بہت گہری ہیں کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کا ملکی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول زرداری اسلام آباد آئیں، چائے پلائیں گے 26 فروری کو ہمارا شروع ہونے والا لانگ مارچ 6 مارچ کو کراچی پہنچے گا۔

    نیب والے کیس بناتے ہیں تو اسے ختم بھی کیا کریں،سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ ایک کامیاب لانگ مارچ ثابت ہو گا حال ہی میں سابق صدر آصف زرداری نے پارٹی رہنماوں سے ملاقات کی تھی جس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رخسانہ بنگش اور دیگر رہنما موجود تھے ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے آصف زرداری کو لانگ مارچ سے متعلق تیاریوں پر بریفنگ دی۔ اس کے علاوہ پنجاب میں اہم ملاقاتوں اور لانگ مارچ سے متعلق دیگر امور پر بھی مشاورت کی گئی۔

    آصف زرداری نے اس موقع پر کہا تھا کہ موجودہ حکومت معاشی اور سفارتی سطح پر مکمل ناکام ہو چکی ہے، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوے جھوٹ ثابت ہو چکے ہیں۔

    عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

    دوسری جانب تحریک عدم اعتماد لانے پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن والے بڑے چورہیں وہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کیا لائے گی جس کے اپنے گھر والے اس پر اعتماد نہیں کرتے ہیں بیٹی کیسز بھگت رہی ہے جب کہ باپ اور بیٹے لندن میں ہیں تحریک عدم اعتماد کا ڈرامہ صرف اپنے کیسز معاف کرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک کو بچانے والا ایک ہی لیڈر ہے اور وہ عمران خان ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ملک میں ترقیاتی کام آج سے پہلے کس حکومت نے کیے تھے؟-

    گردوغبارختم:سیاسی بادل جلد چھٹ جائیں گےاورموسم صاف ہوجائےگا:چودھری پرویز الٰہی

  • حیدرآباد اور کوٹری میں زلزلے کے جھٹکے

    حیدرآباد اور کوٹری میں زلزلے کے جھٹکے

    آج صبح حیدرآباد اور کوٹری میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    باغی ٹی وی : زلزلہ پیما مرکز کے مطابق 3.3 شدت کے زلزلے کا مرکز حیدرآباد کے مغرب میں 70 کلومیٹر دور تھا جبکہ زلزلے کی گہرائی 30 کلو میٹر تھی اس سے قبل سوات، شانگلہ، بونیر، لوئر دیر،اپر دیر، چترال اور مالاکنڈ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    واضح رہے کہ 4 دن قبل کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، کراچی میں زلزلے کی شدت 4.1 بتائی گئی

  • ٹرانسفارمر پھٹنے کا کیس: حیسکو پر 2 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    ٹرانسفارمر پھٹنے کا کیس: حیسکو پر 2 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    حیدرآباد: لطیف آباد میں ٹرانسفارمر پھٹنے کے کیس میں نیپرا نے حیسکو پر 2 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نیپرا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال 23 جولائی کو حیدر آباد کے علاقے لطیف آباد میں ٹرانسفارمر پھٹنے سے 10 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے، ہلاک ہونے والے افراد میں ایک 1 حیسکو کا ملازم جبکہ 9 عام لوگ تھے اتھارٹی نے ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے 3 ممبران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

    نیپرا کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے متاثرین کے بیانات قلمبند کیے اور جائے وقوع سے شواہد بھی اکھٹے کیے، تحقیقاتی ٹیم نے حیسکو حکام سے بھی پوچھ گچھ کی اور مذکورہ ٹرانسفارمر بنانے والی کمپنی کا بھی دورہ کیا-

    نیپرا نے مزید بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد اتھارٹی کو رپورٹ پیش کی تھی، اتھارٹی نے نیپرا ایکٹ کے تحت حیسکو کو شوکاز نوٹس جاری کیا، سماعت کا موقع بھی دیا،تاہم حیسکوضابطہ اخلاق اورحفاظتی معیارات کو برقرار رکھنے کے لئے قانونی ذمے داریاں سرانجام دینے میں ناکام رہا۔

    واضح رہے کہ حیدرآباد میں ٹرانسفارمر پھٹنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل 18 جون کو بھی اسلام چوک پر ٹرانسفامر پھٹنے سے گرم تیل نکلا جس سے 7 افراد بری طرح جھلس گئے تھے جن میں تین افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس طرح دو ماہ میں ایک ہی نوعیت کے واقعات میں متعدد افراد کی جانیں گئیں۔

  • اگر سندھ میں غیر آئینی تبدیلی آئی تو اسلام آباد میں خاموشی نہیں ہوگی    مولا بخش چانڈیو

    اگر سندھ میں غیر آئینی تبدیلی آئی تو اسلام آباد میں خاموشی نہیں ہوگی مولا بخش چانڈیو

    حیدر آباد : پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ یہ حکومت بدقسمت ہے،عوام سے خوشی چھین لی ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو کی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ریاستی بد امنی پہلے کبھی نہیں ہوئی، حکمراں اپنا اخلاقی فرض ادا کریں، غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں ایک قیامت ہے مہنگائی کی لوگوں کا جینا عذاب ہوگیا ہے یہ حکومت بدقسمت ہے،عوام سے خوشی چھین لی ہے-

    مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہر خطاب میں عمران خان کہتے ہیں کہ یہ ہونے جارہا ہے وہ ہونے جارہا ہے مگر ملک کے لئےہوتا کچھ نہیں ہے-

    رہنما پی پی پی نے کہا کہ اس حکومت نے سوائے ماضی کی حکومتوں کو گالی دینے کے آپ نے کیا کیا ہے جو بات پوچھو تو وہ ماضی کی حکومت نے کیا ہے-

    دوران گفتگو صحافی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی سندھ میں غیر آئینئ تبدیلی لانے جارہی ہے جس پر مولابخش چانڈیو نے کہا کہ اگر سندھ میں غیر آئینی تبدیلی آئی تو اسلام آباد میں خاموشی نہیں ہوگی-

    مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ حکومت کی اس وقت کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان نے کبھی افغانستان اور ہندوستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔

  • مشی خان نے حیدرآباد میں قتل ہونیوالی چار بچوں کی ماں کو انصاف دلانے کیلئے آواز بلند کردی

    مشی خان نے حیدرآباد میں قتل ہونیوالی چار بچوں کی ماں کو انصاف دلانے کیلئے آواز بلند کردی

    پاکستانی اداکارہ مشی خان نے حیدرآباد میں قتل ہونے والی چار بچوں کی ماں کے قاتل کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز حیدرآباد کے رہائشی شخص عمر میمن کو اس کی بیوی قرۃالعین عرف عینی پرمبینہ تشدد کرنے اور جان سے مارنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، قراۃالعین چار بچوں کی ماں تھی۔

    مقتولہ قراۃ العین کے شوہر کی گرفتاری کے بعد’’جسٹس فار قرۃالعین‘‘ کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کررہا ہے جہاں لوگ قراۃالعین کے لیے انصاف کا تقاضہ کررہے ہیں وہیں اداکارہ مشی خان نے بھی مقتولہ کوانصاف دلوانے اور قاتل کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مشی خان نے اپنے ٹوئٹرپر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک اور دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔قرۃالعین نامی خاتون کو ان کے شوہر نے پہلے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے جان سے ماردیا ان کے چار بچے ہیں اور یہ واقعہ بچوں کے سامنے ہی ہوا ہوگا۔


    اداکارہ مشی خان نے کہا کہ یہاں کسی کو کوئی سزا نہیں ملتی میرا تو انصاف اور قانونی نظام سے بھروسہ ہی اٹھ گیا ہے کیونکہ روز اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی کو سزا دے کر دوسروں کے لیے مثال نہیں بنایا جاتا لہذا لوگ جرائم کرنے سے ڈرتے نہیں ہیں۔

    مشی خان نے پاکستان میں تفتیشی نظام کو کمزور قرار دیا اور کہا کیونکہ گرفتار ہونے والا شخص بااثر ہے لہذا وہ گرفتار تو ہوگیا ہے لیکن اسے سزا نہیں ہوگی اور وہ بری ہوجائے گا۔

    اداکارہ مشی خان نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا اس واقعے نے مجھے بہت دکھی کردیا ہے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا قاتل کو سزا دیں ورنہ یہ ملک جنگل بن جائے گا۔

  • حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن بچی بلوچستان سےعین نکاح کے وقت بازیاب

    حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن بچی بلوچستان سےعین نکاح کے وقت بازیاب

    سندھ کے ضلع حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن بچی کو پولیس نےعین نکاح کے وقت بازیاب کرالیا سندھ پولیس کے مطابق بچی کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعد میں اس کی شادی تین گنا بڑی عمر کے مرد کے ساتھ کروائی جا رہی تھی

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سندھ پولیس نے بچی کو بلوچستان کے علاقے جعفرآباد سے بازیاب کرایا بی بی سی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ بچی کو عین اس وقت بازیاب کروایا گیا جب نکاح کی تقریب جاری تھی اور کمسن بچی سے زبردستی دو بار رضا مندی لے لی گئی تھی جبکہ تیسری بار ہاں کرنے سے پہلے ہی اسے بازیاب کروا لیا گیا۔

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد میں تعینات سب ڈویژنل پولیس آفیسر سٹی سرکل اسسٹنٹ سپرنٹینڈنٹ آف پولیس علینہ راجپر نے بی بی سی کواس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد کے علاقے نسیم نگر کی 13 سالہ کمسن بچی نگینہ (فرضی نام) مقامی سکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور اس کے والد کچھ عرصہ پہلے وفات پا چکے تھے۔

    پولیس کے مطابق ان کے ہمسائے میں ایک خاندان جو کہ کچھ عرصہ پہلے ہی اس علاقے میں منتقل ہوا تھا اور اس گھر میں رہنے والی خاتون کا ان کے گھر کبھی کھبار آنا جانا تھا۔

    اے ایس پی علینہ کے مطابق بازیاب بچی کے بیان کے بقول گذشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو وہ تیار ہو کر سکول جارہی تھی کہ اس خاتون نے بچی کو پیدل سکول جاتے دیکھ کر کہا کہ وہ پیدل سکول کیوں جارہی ہے؟ اس خاتون نے ایک رکشہ کرائے پر لیا اور اسے اس رکشے میں سوار کروایا اور خود بھی اس رکشے میں بیٹھ گئیں۔

    بچی کے بیان کے مطابق سکول کی عمارت قریب آنے سے پہلے رکشے والے کو اشارہ کرکے دوسری سڑک پر جانے کو کہا جہاں پر پہلے ہی سے ایک گاڑی کھڑی ہوئی تھی جس میں اس خاتون کا بیٹا عبدالشکور پہلے سے ہی موجود تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بچی نے مزید بتایا کہ اس خاتون نے اسے رکشے سے اتار کر زبردستی گاڑی میں سوار کروایا اور اسے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

    بچی نے پولیس کو بتایا کہ جب اسے زبردستی گاڑی میں سوار کیا جا رہا تھا تو اس نے شور مچانا شروع کردیا لیکن اس خاتون نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا پھر اس کے بعد اسے بے ہوش کردیا گیا۔

    بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اے ایس پی علینہ راجپر کے مطابق پولیس نے پہلے دو تین دن تو اس واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا اور پولیس اور ان کے گھر والے اپنے تئیں اس کو تلاش کرتے رہے۔

    انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ بچی کے والدین کی تو کسی سے دشمنی بھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ اتنے امیر تھے تو پھر اس بچی کو کون اغوا کرسکتا ہے؟ جب کمسن بچی کا سراغ نہ ملا تو پولیس نے علاقے کی ریکی کرنا شروع کردی تو معلوم ہوا کہ ان کی گلی میں کچھ لوگ حال ہی میں شفٹ ہوئے تھے اور اس واقعہ کے بعد وہ پورا خاندان غائب تھا۔

    انھوں نے کہا کہ کمسن بچی کی والدہ کے بقول اس خاتون کا کبھی کبھار ان کے گھر آنا جانا ہوتا تھا اور اس خاتون کے بیٹے عبدالشکور کے زیر استعمال جو موبائل نمبر تھا وہ مغوی بچی کی والدہ کو معلوم تھا۔

    اے ایس پی علینہ کے مطابق پولیس نے اس نمبر پر جب بھی رابطہ کیا تو وہ بند ملا تاہم جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ پورے دن میں یہ موبائل صرف پانچ منٹ کے لیے آن ہوتا ہے جس کے بعد وہ بند ہو جاتا ہے اور اس موبائل کی لوکیشن سکھر کی بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس کی متعدد ٹیمیں وہاں پہنچیں اور یہ موبائل رات کے پچھلے پہر کچھ دیر کے لیے آن ہوتا تھا اور پھر بند ہوجاتا تھا تو ایسے حالات میں ملزمان کا سراغ لگانا بہت مشکل تھا اس عرصے کے دوران اغوا ہونے والی کمسن بچی کا اپنی والدہ کو فون آیا اور اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے اور وہ اس وقت سکھر میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جس نمبر سے ٹیلی فون آیا تھا جب اس کی لوکیشن معلوم کی گئی تو وہ بلوچستان کے علاقے جعفر آباد کی آرہی تھی۔سندھ پولیس نے بلوچستان پولیس سے رابطہ کیا اور اجازت ملنے کے بعد پولیس کی دو ٹیمیں جعفرآباد میں اس علاقے میں گئیں جہاں سے یہ موبائل استعمال ہوا تھا۔

    علینہ راجپر کے مطابق پولیس حکام نے علاقے کے با اثر لوگوں سے بھی رابطہ کیا اور انھیں اس واقعہ کے بارے میں بتایا علاقے کے لوگوں نے ملزمان کے گھر تک پہنچانے میں پولیس کی مدد کی۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس نے جب کمسن بچی کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تو اس وقت نکاح کی تقریب ہو رہی تھی اور محلے کا مولوی کمسن بچی کا نکاح چالیس سالہ شخص ارشار عرف معشوق سے پڑھوا رہا تھا اس نکاح سے متعلق اس کمسن بچی کی رضامندی حاصل کی جارہی تھی اگر پولیس تھوڑی سی بھی لیٹ ہوجاتی تو اس کمسن بچی کا نکاح ملزم ارشاد سے ہو جانا تھا۔

    ملزم ارشاد کے بارے میں اے ایس پی کا کہنا تھا کہ وہ قتل کے دو مقدمات میں اشتہاری ہے اور وہ اس مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم عبدالشکور کا رشتہ دار ہےپولیس نے جب بچی کی بازیابی کے لیے گھر پر چھاپہ مارا تو اس وقت ملزم کی والدہ اور اس کا رشتہ دار عبدالشکور گھر پر موجود نہیں تھے۔

    علینہ راجپر کے مطابق بازیابی کے بعد کمسن بچی نے پولیس کو بتایا کہ اس گھر میں چار خواتین موجود تھیں جو اس سے گھر کی صفائی اور برتن دھونے کا کام کرواتی تھیں اگر کہیں غلطی ہوجاتی تو اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا۔

    اے ایس پی کے مطابق بازیاب ہونے والی بچی کا کہنا تھا کہ ایک دن گھر کی صفائی کے دوران ایک کمرے میں موجود موبائل، جو کہ گھر میں موجود خواتین کے زیر استعمال تھا، کو پکڑا اور باتھ روم میں جا کر اپنی والدہ کو اس نمبر سے کال کی تھی جب وہ اپنی والدہ کو فون کر رہی تھی تو اس نے باتھ روم میں پانی کا نل چلا دیا تھا تاکہ باہر آواز نہ جائے اگر لڑکی اس موبائل سے اپنی والدہ کو فون نہ کرتی تو شاید اس بچی کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا۔

    کمسن بچی کو بازیاب کروانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں علینہ راجپر کا کہنا تھا کہ پولیس نے سب سے پہلے ملزم کے بھائی کے زیر استعمال موبائل کا ڈیٹا متعلقہ موبائل کمپنی سے حاصل کیا اور اس کے بعد جہاں پر یہ فون استعمال ہو رہا ہے اس کے قریبی موبائل ٹاور کی لوکیشن معلوم کرکے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اس موبائل نمبر پر جنتی کالیں موصول ہوئیں اور جتنی کالیں کی گئیں اس کا ڈیٹا حاصل کرلیا گیا اور جن نمبروں سے زیادہ مرتبہ کالیں آئی ہوں یا کالیں کی گئی ہوں تو اس نمبر پر کال کر کے ملزم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

  • محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    محل سے میوزیم میں تبدیل ہونے والا "مُکھی ہاؤس”

    1921 میں ، جیٹھانند مکھی نے حیدرآباد میں مکھی ہاؤس (مکھی بیٹی کا نام تھا) تعمیر کیا۔ اس وقت اسے سونے کے حقیقی پانی سے پینٹ کیا گیا تھا۔ 2008 میں ، مکھی خاندان کی اولادوں نے مکھی ہاؤس کے مستقبل کے دعوؤں کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ اسے محفوظ کرکے میوزیم میں تبدیل کردیا جائے۔

    باغی ٹی وی : اس تحفظ کی سربراہی ڈاکٹر کلیم لاشاری نے سندھ کے محکمہ نوادرات سے کی تھی ، جس کا سن 2014 میں میوزیم کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا تھا۔ بڑے گھر میں سندھی ہندوؤں کا وہ متمول حصہ دکھاتا ہے جس کی تعلیم سے لے کر معاشرتی بہبود تک ہر شعبے میں نمایاں رہی ہے تقسیم ہند کے دوران کنبے کو چھوڑنا پڑا۔

    اب ایک صدی ہونے کو آئی ہے۔ یہ گھر آج بھی نظر رکھنے والی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ یہ گھر حیدرآباد میں ہوم اسٹیڈ ہال کے سامنے مکھی ہاؤس کے نام سے مشہور ہے جسے ‘مکھی محل’ بھی کہتے ہیں۔

    یہ عمارت 1921 میں اس وقت کی مشہور شخصیت جیٹھانند مکھی نے اپنی خواہش کے مطابق تعمیر کروائی تھی، جسے انہوں نے گھر کا نہیں بلکہ مکھی محل کا نام دیا تھا، اور یہ واقعی ایک محل سے کم نہیں ہے۔ جیٹھانند مکھی اس زمانے میں حیدرآباد کی شہری انتطامیہ کے سربراہ تھے۔ شہر کے کافی انتظامی معاملات ان کے سپرد تھے۔ اسی مکھی ہاؤس سے تھوڑے سے فاصلے پر مکھی باغ بھی تھا مگر اب اس باغ کے کوئی بھی آثار دکھائی نہیں دیتے، جہاں پر اب گنجان آبادی ہے۔ اس شاہکار گھر کی تعمیر کے سات برس بعد جیٹھانند مکھی 1927 میں انتقال کر گئے۔

    برصغیر کی تقیسم کے بعد جو ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا وہ سالہا سال تک جاری رہا۔ شاید ان گھروں کے در و دیوار کو کبھی یہ اندازہ نہیں رہا ہو گا کہ وہ تنہا رہ جائیں گے اور ان گھروں کی کہانیاں صرف ہم لوگوں سے زبانی ہی سنتے رہیں گے، لیکن مکھی خاندان پاکستان بننے کے بعد بھی اسی شہر اور گھر میں مقیم تھا۔

    1957 کو انہیں اس شہر کو چھوڑ کر جانا پڑا۔ جیٹھانند مکھی کی وفات کے بعد ان کی بیوہ اور دو بیٹے یہاں پر رہ رہے تھے، مگر انہیں یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہاں مزید رہے تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں اس محل نما گھر کو خیرباد کہنا پڑا اور یہ خاندان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلا گیا۔

    یہاں پر کسی زمانے میں ہندوستانی سفارت خانہ بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ ایف سی کا ہیڈ کوارٹر بھی رہا، جبکہ اسے کے نچلے حصے کو اسکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

    حیدرآباد کے شہر نے اس وقت اپنا سکون کھو دیا جب 1988 میں یہاں لسانی فسادات ہوئے تھے۔ انہی دنوں مکھی ہاؤس کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور کمروں میں رکھا فرنیچر جل کر خاک ہو گئے تھے مگر اس کے باوجود بھی آج مکھی ہاؤس سلامت ہے۔

    2009 میں سندھ حکومت کے محکمہء آثارِ قدیمہ نے اس گھر کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد 2013 میں مکھی خاندان نے اپنے قدیم گھر کا دورہ کیا اور اسے سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے بعد میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ اب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    مکھی ہاؤس ایک دو منزلہ عمارت ہے، جس میں 12 کمرے اور دو بڑے ہال ہیں۔ نذر آتش ہو جانے کے بعد دیواروں پر کیے گئے نقش و نگار بھی مٹ گئے تھے مگر چند بچ جانے والے نقوش کو دیکھ کر دیواروں اور چھت پر اسی قسم کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں، تاکہ اس کی قدامت برقرار رہے۔

    موٹی دیواروں میں کافی کھڑکیاں اور دروازے بنائے گئے ہیں، جن میں شیشم اور ساگوان کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے کی دیوار میں الماریاں نصب کی گئی ہیں، روشندان بنائے گئے ہیں۔ اس دور میں جو فن تعمیر کے رجحانات تھے، انہیں برقرار رکھتے ہوئے گھر کو بنایا گیا ہے۔ مگر اس گھر کی خاص بات یہ کہ اس کا ایک مرکزی گنبد بھی ہے جو اسے تمام عمارات سے ممتاز بناتا ہے، اور اسے دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کشادہ کمرے اور رہداریاں بھی گھر کی زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ عمارت کی تعمیر میں اینٹ کے بجائے بلاکس کا استعمال کیا گیا ہے-

    اس گھر میں ان لوگوں کی یادیں بسی ہیں جن میں سے کافی اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر یہ گھر ایک ایسا تاریخی ورثہ بن چکا ہے جس کی حفاظت نہ صرف شہریوں پر بلکہ حکومت پر بھی لازم ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی زوال کا شکار نہ ہو، کیونکہ اس طرح کی عمارات اب حیدرآباد میں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔

     

    پاکستان کے تاریخی شہر لاہور پر مر مٹنے والی شہزادی بامبا سدھر لینڈ
  • سٹریٹ کریمینلز و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی!!!

    سٹریٹ کریمینلز و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی!!!

    ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایات پر سٹریٹ کریمینلز و جرائم پیشہ عناصر کیخلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
    ڈولفن سکواڈ کی کارروائی،2رکُنی بین الاضلاعی ڈکیت گینگ گرفتار ہو گیا۔ ڈولفن ٹیم سنٹر پوائنٹ کے قریب ہاٹ سپاٹ ایریا پر سنیپ چیکنگ کر رہی تھی۔ ڈولفن ٹیم نے 2کس مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رُکنے کا اشارہ کیا۔
    موٹر سائیکل سواروں کی فرار ہونے کی کو شش کی، تعاقب کے بعد گرفتار ہو گئے۔ ملزمان زیر استعمال موٹر سائیکل میاں چنوں سے گن پوائنٹ پر چھین کر لاہور لائے تھے۔ ملزمان ریکارڈ یافتہ ہیں، ڈکیتی و سنیچنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے پسٹل،پرس،موبائل سمیں،شناختی کارڈو موٹر سائیکل برآمد ہویے۔ملزمان کو تھانہ نصیر آباد کے حوالے کر دیا گیاہے۔
    ایس پی ڈولفن کا کہنا ہے کہ ڈولفن و پولیس ریسپانس یونٹ سٹریٹ کریمینلز کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔

  • ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ انتقال کر گئے ۔

    ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ انتقال کر گئے ۔

    ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ حیدرآبادکرم اللہ سومرو انتقال کرگئے. کرم اللہ سومرواے آئی جی اسٹیبلشمنٹ حیدرآباد تعینات تھے ان کاانتقال حرکت قلت بند ہونے سے ہوا، کرم اللہ سومرو نے بین الاقوامی تعلقات میں 1999 سے 2000 میں ماسٹرز کیا۔ کرم اللہ سومروسی ایس ایس پاس کرکے پولیس آفیسر بنے۔ اے آئی جی کرم اللہ سومرو 33 ویں کامن کے تھے

  • پی ڈی ایم میدان میں کودی ,شب خون مارنے نہیں دیں گے, عباسی

    پی ڈی ایم میدان میں کودی ,شب خون مارنے نہیں دیں گے, عباسی

    پی ڈی ایم میدان میں کودی ,شب خون مارنے نہیں دیں گے, عباسی

    مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس مقصد کیلئے پی ڈی ایم میدان میں کودی ہے وہ مقصد ضرور کامیاب ہوگا

    شاہد خاقان عباسی نے حیدرآباد میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹکے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مُلک کو آئین کے مطابق چلایا جائے پی ڈی ایم اقتدار یا مفاد کی بات نہیں کر رہی، ہماراموقف ہے کہ ملک کوآئین کےمطابق چلایاجائے، جس مقصد کے لیے باہر نکلے ہیں وہ ضرور پورا ہوگا۔ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں پاکستان کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہرگھرمیں بے روزگاری اورمہنگائی ہے، 30 روپے کلو بکنے والا آٹا 80 روپے کا ہوچکاہے۔

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس خرابی کی اصل وجہ 2018کےالیکشن کی چوری ہے، الیکشن چوری کرکےغیرنمائندہ حکومت مسلط کردی گئی۔ صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم کسی کو بھی سندھ کے حقوق پر شب خون مارنے نہیں دیں گے۔ عمران نیازی سینیٹ انتخابات میں غیرملکی شہریوں کو سینیٹر بنانا چاہتا ہے، غیرملکیوں کی پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں، یہ سوچ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے۔ مریم نوازکی بیٹی کوچوٹ لگی ہے اس لیے وہ آج نہیں آسکیں،