Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • ٹرین حادثہ، رینجرز نے امدادی کاروائیاں‌ شروع کر دیں، دو جاں بحق افراد کی شناخت نہیں‌ ہو سکی، ڈاکٹر امین

    ٹرین حادثہ، رینجرز نے امدادی کاروائیاں‌ شروع کر دیں، دو جاں بحق افراد کی شناخت نہیں‌ ہو سکی، ڈاکٹر امین

    ایم ایس سول ہسپتال حیدر آباد ڈاکٹر امین نے کہا ہے کہ ٹرین حادثہ میں‌ دو لاشوں اور زخمی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے. 7 ایمبولینس حادثے کی جگہ بھیجی گئی ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم ایس سول ہسپتال کا کہنا تھا کہ ایک شدید زخمی کو بھی سول اسپتال لایا گیاہے. سول اسپتال میں دو لاشیں لائی گئی ہیں. ادھر پاکستان رینجرز کے اہلکاروں کی طرف سے فوری ریسکیو آپریشن مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں. رینجرز کی امدادی ٹیمیں ٹرین حادثے کی جگہ پہنچ گئی ہیں.

    رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں‌ ہو سکا ہے کہ یہ حادثہ کس طرح پیش آیا. وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ایک گھنٹے میں بریفنگ دیں‌ گے.

  • ریل گاڑیوں کے بڑھتے حادثات کا ذمہ دار کون؟ کئی اعلیٰ‌ سطحی اجلاس ہوئے، دعوے ہزار نتیجہ صفر رہا

    ریل گاڑیوں کے بڑھتے حادثات کا ذمہ دار کون؟ کئی اعلیٰ‌ سطحی اجلاس ہوئے، دعوے ہزار نتیجہ صفر رہا

    پاکستان میں‌ ریل گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے حادثات پر مسافر خوف کا شکار ہیں جبکہ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے بھی اس پر پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے. ریلوے کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں‌ میں بھی ریل گاڑیوں کے پٹری سے اترنے اور حادثات کے واقعات زیر بحث رہے ہیں. آج حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر دو گاڑیوں‌ کے آپس میں ٹکرانے سے بھی ریلوے انتظامیہ کی ناہلی ثابت ہوتی ہے.

    ریل گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے ریلوے انتظامیہ بھی پریشان ہے اور اعلیٰ‌ افسران کے سر چکرا کر رہ گئے ہیں. اگر ہم صرف ریل کے پٹڑیوں سے اترنے کے واقعات کا جائزہ لیں تو صرف ایک ماہ میں‌ ایسے کئی واقعت پیش آئے اور ٹرینوں‌ کا شیڈول بری طرح‌ متاثر ہوا ہے. پچھلے ایک ماہ میں‌ سکھر ڈویژن میں مال گاڑی کی ڈی ریلمنٹ سے ٹرین آپریشن بری طرح متاثر ہوا تو گوجر خان میں جعفر ایکسپریس کی دو بوگیوں کو ٹریک نے قبول نہ کیا۔ کراچی سے لاہور آنیوالی شاہ حسین ایکسپریس بھی فیصل آباد کے قریب لڑکھڑا گئی اوراس کی بوگیاں نیچے اترگئیں۔ سکھر ڈویژن میں پڈعیدن اسٹیشن کے قریب سندھ ایکسپریس بھی پٹڑی سے اتر گئی. اسی طرح کراچی سے آنے والی قراقرم ایکسپریس فیصل آباد میں اور بھکر کے قریب تھل ایکسپریس پاور وین پٹری سے اتر گئیں۔

    باغی کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ 16 جون کو روہڑی ریلوے اسٹیشن میں مال گاڑی کی بوگیاں پٹری سے اتریں۔ ریل گاڑیوں‌ کے پٹری سے اترنے اور مختلف نوعیت کے حادثات کے سبب ٹرینوں پر سفر کرنےو الے مسافروں‌ میں خوف پایا جاتا ہے. ریلوے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ریلمنٹ کے بڑھتے واقعات نے ریلوے پر سفر کرنے والوں کی حفاظت پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے. ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حادثات کی بڑی وجہ ناقص ٹریک ، ٹرینوں کی مسلسل آمدورفت اور ریسٹ نہ دینا بھی ہے ۔

    وزیر ریلوے شیخ‌ رشید احمد اور محکمہ ریلوے کی جانب سے کارکردگی بہتر بنانے کے ہزار دعوے کئے جارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریل کی کارکردگی بہتر نہیں‌ ہو سکی. ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے بڑھتے واقعات بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کی بھی نفی کر رہے ہیں. ریل‌ کے ناقص ٹریک فی الفور بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حادثات پر قابو پایا جاسکے. آج کا حیدر آباد ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والا حادثہ بھی ریل انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ نظر آتا ہے. سوال پیدا ہو تا ہے کہ دو ٹرینیں‌ ایک ہی ٹریک پر کیسے آ گئیں. اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی بنیادوں‌ پر تحقیقات ہونی چاہئیں.

  • نامور صحافی ادریس بختیار وفات پا گئے، سیاسی، مذہبی و صحافتی تنظیموں‌ کا اظہار تعزیت

    نامور صحافی ادریس بختیار وفات پا گئے، سیاسی، مذہبی و صحافتی تنظیموں‌ کا اظہار تعزیت

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی ادریس بختیار بدھ کے دن کراچی میں‌ وفات پاگئے ہیں. وہ پاکستانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ کئی دہائیوں سے منسلک رہے اور صحافتی ذمہ داریاں‌ ادا کرتے رہے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادریس بختیار پچھلے کچھ عرصہ سے عارضہ قلب میں‌ مبتلا تھے. وہ کئی برس تک بی بی سی سے بھی منسلک رہے. اسی طرح‌ وہ دی سٹار، ہیرالڈ اور دیگر اداروں سے بھی وابستہ رہے ہیں. ان کی وفات پر سیاسی و مذہبی شخصیات، سماجی و صحافتی تنظیموں اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے تعزیت کا اظہار کیا ہے.

    ادریس بختیار کے آباؤ اجداد سے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اجمیر سے ہجرت کر کے حیدر آباد آئے اور پھر یہیں آباد ہو گئے تھے. انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا تھا. معروف صحافی ادریس بختیار نے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں اہم ادارتی عہدوں پر کام کیا اور پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے کے ایک دھڑے کے صدر بھی رہے۔

    ان کی وفات پر صحافتی برادری میں‌ خاص طور پر رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے.

  • لاڑکانہ میں پندرہ بچوں کو ایڈز کیسے ہوا؟ پولیس نے بتا دیا

    لاڑکانہ میں پندرہ بچوں کو ایڈز کیسے ہوا؟ پولیس نے بتا دیا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے حلقہ میں پندرہ بچوں کو ایڈز کیسے ہوا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پولیس نے ایک ڈاکٹر کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے پندرہ بچوں کو ایک ہی سرنج سے انجکش لگایا، جس کی وجہ سے بچون کو ایڈز ہوا، ڈسٹرکٹ مینیجر ڈاکٹر ہولا رام کے مطابق ایڈز سے متاثرہ بچوں کی عمریں آٹھ ماہ سے آٹھ سال تک کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے جب ڈاکٹر کا ٹیسٹ کروایا تو اسے خود ایڈز نکلا ،پولیس نے ڈاکٹر مظفر کو گرفتار کر لیا ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کا کلینک بھی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ ڈاکٹر کے خلاف تھانہ رتوڈیرو میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    گرفتار ڈاکٹر مظفر کا کہنا ہے کہ سندھ ہیلتھ کمیشن میرےخلاف سازش کررہاہے،اگر مجھے ایڈز کا پتا ہوتا تو میں اپناعلاج کراتا،مجھے کسی قسم کی تکلیف نہیں تھی۔