تھرپارکر۔مٹھی۔ (اے پی پی)تھرپارکر میں بچے وبائی امراض کی وجہ سے فوت ہو رہے ہیں، گزشتہ دو روز کہ دوران پانچ بچے فوت ہوئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھیم نے تھرپارکر ضلع میں روزانہ کی بنیاد پر جاری صحت،علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 206بچے ضلع بھی کی سرکاری اسپتالوں علاج کے لئے لائے گئے، جس میں سے77بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرتے ہوئے صحتیاب کرکے ڈسچارج کردیا گیا،جبکہ130بچے اس وقت ضلع بھر کی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اس کے علاوہ ضلع کی تمام سرکاری اسپتالوں میں 206بچوں کا او پی ڈی میں علاج کیا گیااسی طرح پی پی ایچ آئی کے زیر نگرانی صحت کراکز میں 342بچوں کا علاج کیا گیا۔ میڈیکل سپریٹینڈنٹ سول ہسپتال مٹھی کی رپورٹ کے مطابق تعلقہ ڈیپلو کے گاؤں جھرمریو کے رہائشی پہلاج کھراج کی نو مولود بچہ جس کا وزن2.7کلوگرام برتھ ایفگزیابیمارع کے باعث اور گاؤن گرڑی تعلقہ ڈیپلو کے رہائشی عبدالرزاق نہڑی کا نومولود بچہ جس کا وزن 2.2 کلوگرام تھا وقت سے پہلے پیدائش اور کم وزن کے باعث، گاؤں مٹھڑیوہالیپوٹا یوسی تگوسر نگرپارکر کے رہائشی خان محمد کا 24دن کا بچہ جس کا وزن 2.2 کلوگرام تھا نیونیٹل سیپسز، نمونیا اور دیگر وبائی امراض کے باعث، گاؤں تھاریوہالیپوٹا، تعلقہ اسلام کوٹ کے رہائشی ارباب ہالیپوٹاکا 24دن کا بچہ مختلف وبائی امراض کے باعث، گاؤں رمضان گرگیز یوسی مہرانو، تعلقہ مٹھی کے رہائشی غلام حسین کا نومولود بچہ جس کا وزن 1.7کلوگرام تھا برتھ ایسفگزیا وقت سے پہلے پیدائش اور انتہائی کم وزن کے باعث فوت ہوگئے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول ہسپتال مٹھی نے اپنے رپورٹ میں کہا ہے کہ دو مریضوں کو مزید بہتر علاج کے لئے حیدرآباداور کراچی ریفر کیا گیاہے۔
Category: حیدرآباد
-

پولیس کا مریض بچی کے ورثا پر تشدد تنازعہ شدت اختیار کرگیا
تھرپارکر۔مٹھی۔(اے پی پی) مٹھی سول ہسپتال میں مقرر پولیس اہلکاروں اور ہسپتال عملے کا مریض بچی کے ورثاء خواتین اور مردوں پر تشدد۔پولیس نے بچی کے ماموں دلیپ کمار اور ہسپتال کے نائب قاصد کو حراست میں لے لیا۔ ورثاء اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا سول سرجن آفیس اور ہسپتال کے گیٹ پر احتجاج۔ تفصیل کے مطابق مٹھی سول ہسپتال میں داخل پانچ سالہ بچی نینہ بھیل کے ورثاء سے گیٹ پر ڈیوٹی پر موجود نائب قاصد کملیش مالہی اور پولیس اہلکاروں نے بد تمیزی کرتے ہو ئے دھکے دے کر تشدد کا نشانہ بنایا جس پر ورثاء اور بی آئی ایف کے رہنما ایڈوکیٹ لجپت سورانی نے ہسپتال عملے اور پولیس اہلکاروں کے تشدد خلاف لواحقین کا سول ہسپتال کے گیٹ پر دہرنا دے دیا۔پولیس نے ایک نائب قاصد کملیش مالہی کو حراست میں لے۔مظاہریں کا دوسرے نائب قاصد کو بھی گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے احتجاجی دہرنا دیا، دھرنے کے بعد پولیس نے زیر حراست مریضہ بچی کے ماموں دلیپ کمار کو چھوڑ دیا۔ دوسرے طرف اسپتال عملے نے بھی اپنی ساتھی کی گرفتاری خلاف احتجاج شروع کردیا، جس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر تھرپارکر مختیار ابڑو نے مظاہریں سے مذاکرات کرکہ ملوث عملے خلاف انکوائری کرنے بعد کارروائی کی یقین د ہانی کرائی جس پر لواحقین نے د ھرنا ختم کردیا۔ جبکہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھی زیر حراست نائب قاصد کو آزاد کرنے پر دھرنا ختم کر دیا۔
-

بڑے نقصان کے بعد تھری باشندوں کا ٹڈی دل پر حملہ
تھرپارکر۔مٹھی۔(اے پی پی) تھرپارکر میں ٹڈی دل کے حملے کے بعد تھری باشندوں کا ٹڈی دل پر حملہ، کہیں ٹڈی کڑہائی تو کہیں ٹڈی بریانی تیار ہونے لگی۔ ٹڈی دل جو تباہی کا دوسرا نام ہے سندھ کے دیگر اضلاع میں فصلوں کو کھا کر ٹڈی دل نے تھرپارکر کا رخ کیا لیکن تھرپارکر میں ٹڈی دل کی قسمت خراب نکلی، ٹڈی دل نے تھری باشندوں کی تیار فصلوں پر حملہ کیا اور ساری فصل کھا کر میدان صاف کر گئیں جنہوں نے طویل عرصہ کے بعد زمینیں آباد کیں تھی۔ دوسرا وار تھری باشندوں کا تھا جس سے ٹڈی دل پر قیامت ٹوٹ پڑی اور تھری باشندوں نے ٹڈی دل پر ایسا حملہ کیا کہ فصلیں تباہ کرنے کا سارا بدلا لے لیا، تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو میں لوگ ٹڈی دل کو کڑاہی میں پکا پکا کر کھانے لگ گئے ہیں، چھاچھرو کی ہوٹلیں اس وقت آباد ہوگئیں ہیں، ٹڈی دل کی مزے مزے کی ڈشیز تیار ہو رہی ہیں کہیں پر ٹڈی کڑہائی تیار ہو رہی ہے تو کہیں پر ٹڈی بریانی جس پر تھری باشندوں سمیت تھرپارکر گھومنے کیلئے آنے والے سیاح خوب ہاتھ صاف کر رہے ہیں
-

180 لیٹر شراب برآمد متعدد ملزمان گرفتار
تھرپارکر/مٹھی۔ (اے پی پی) تھرپارکر پولیس کا منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری، پی ایس مٹھی کے ایس ایچ او نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کارروائی کے دوران کچے شراب کی بھٹی پہ چھاپہ مار کر ایک منشیات فروش رائیسنگھ ٹھاکر کو گرفتار کر لیا۔ملزم کے قبضے سے 180 لیٹر شراب (کچہ ٹھڑا) برآمد کیا۔ پولیس پکٹ وجوٹو پر چیکنگ کے دوران ایک منشیات فروش صابر علی کو گرفتار کر کے پانچ پیکٹ انڈین گٹکا برآمد کیا اور نارائن کولہی کو گرفتار کر کے 90 لیٹر کچی شراب برآمد کرلی۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔
-

تھرپارکر میں ٹڈی دل کے حملے نے بڑا نقصان پہنچا دیا
تھرپارکر/مٹھی۔ (اے پی پی) تھرپارکر ضلعے کے تحصیل چھاچھرو اور شہر چیلہار کے آس پاس گاؤں علن آباد، مجید محلہ، بھوریلو، رانجھو ڈھانی کے ساتھ درجنوں گاؤں میں گزشتہ تین دن میں ٹڈی دل نے فصل اور گھاس کھا کر تباہ کردی، لاکھوں روپے کی لاگت سے تیار کی گئی فصل پر ٹڈی دل نے حملہ کر کے مکمل ختم کردیا، ضلع انتظامیہ کو بار بار اطلاع دینے کے باوجود اسپرے نہیں کیا گیا۔
-

ایم نائن پر ٹریفک کے المناک حادثہ میں 4 افراد جاں بحق،11زخمی ہوگئے
حیدرآباد۔ (اے پی پی)ایم نائن پر ٹریفک کے المناک حادثہ میں 4 افراد جاں بحق اور11زخمی ہوگئے، حادثہ نوری آباد کے قریب پیش آیا،کراچی سے سکھر جانے والی وین ٹرالر سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں وین ڈرائیور سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال حیدرآباد اور شدید زخمیوں کو کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔ جاں بحق ہو نے والوں میں 55سالہ علی بخش ولد غلام مصطفی، 30سالہ ہیبت خان ولد محمد اسحاق خان، 25 سالہ سلمان اور35سالہ مصطفی علی شامل ہیں۔ علی بخش گمبٹ اور ہیبت خان کوٹ ڈیجی کا رہائشی ہے۔ زخمیوں میں 35سالہ عرفان رضا ولد خادم رضا،30سالہ نوید علی ولد قمرالدین،25سالہ وقار علی ولدغلام شبیر،25 سالہ طالب علی ولد غلام شبیر، 45 سالہ وزیر علی ولد عبدالرشید،45سالہ شکیل ولدمنظور، 25سالہ شبیر ولد احمد،40 سالہ باقر علی ولد علی محمد، 30سالہ اکرم بیگ ولد افضل بیگ، 30سالہ شبیر اور25سالہ اسحاق شامل ہیں۔حادثہ تیز رفتاری کی وجہ سے پیش آیا۔
-

بڑھتی ہوئی آبادی سے ملک میں معاشی و سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں،رکن صوبائی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی
تھرپارکر۔مٹھی ۔ (اے پی پی) رکن صوبائی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی سے ملک میں معاشی و سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس سے نمٹنے کیلئے بہبود آبادی کی خدمات سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک قومی مسئلا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ بہبود آبادی سندھ کے تعاون سے بہبود آبادی تھرپارکر کی جانب سے عالمی مانع حمل طریقوں کا دن شہید بینظیر بھٹو کلچرل کامپلیکس مٹھی میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر ضلع میں زیادہ تردیہی آبادی پر مشتمل آبادی ہے جہاں لوگوں کو محکمہ بہبود آبادی کی سہولیات فراہم کرنا بہت ضروری ہے جس کیلئے محکمہ بہبود آبادی تھرپارکر کو فور وہیل گاڑیاں فراہم کی جائیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت و افادیت کے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے پروگرام منعقد کئے جائیں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
-

تمام ہسپتالوں میں کتے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین کی موجودگی یقینی بنائی جائے
عمرکو ٹ۔ (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمان میمن نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور چاروں تعلقوں کے ایم ایس اپنے رابطوں کو موثر بنائیں، رابطے نا ہونے کی وجہ سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور تمام ویکسین موجود ہونے کے باوجود سندھ حکومت پرآپ لوگوں کی وجہ سے سخت تنقید کی جاتی ہے اور ضلع عمرکوٹ کے تمام ہسپتالوں میں کتے کاٹنے کی ویکسین(اے آروی) اورسانپ کاٹنے کی ویکسین (اے ایس پی) کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور اگر کوئی بھی بچہ کتے کاٹنے کی ویکسین سے محروم رہا یا پھر اس میں کوئی بھی کوتاہی یا غفلت ہوئی تو ان کے زمہ دار متعلقہ تعلقہ کا ایم ایس اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفیس کے دربار ہال میں صحت کے حوالے سے منعقد کردہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عمرکوٹ ڈاکٹر الھداد اور چاروں تعلقوں کے ایم ایس سے صحت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ کتے کاٹنے اور سانپ کاٹنے کی ویکسین کی موجودگی کے حوالے سے عام لوگوں کو آگاہی دی جائے اور سائین بورڈ اور پینافلیکس تمام میڈیکل سینٹروں پر لگائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امپرومینٹ آف ہیلتھ سکیٹر کے حوالے سے واٹس اپ گروپ بنایا جائے جس پر روزانہ کی بنیاد پر صحت کے حوالے سے تمام مسائل اجاگر کئے جائیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز رابطے میں رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے اور رات کے اوقات میں اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کسی بھی ایمرجنسی کیس سے فوری طور پر نمٹا جا سکے اور ہسپتال میں صفائی ستھرائی کوبھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے پی پی ایچ آئی،آئی ایچ ایس، آئی ایچ ایچ کے اداروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور موبائل ہیلتھ یونٹ کی او پی ڈی کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر ارسال کرنے کے احکامات جاری کئے۔
-

تھرپارکر بچوں کی ہلاکت نہ رک سکی مزیدچار بچے مختلف وبائی امراض سے جان کی بازی ہار گئے
تھرپارکر۔مٹھی۔ (اے پی پی)تھرپارکر میں گزشتہ روز چار بچے مختلف وبائی امراض کی وجہ سے فوت ہوئے،116 بچے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات موجود ہیں، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر تھرپارکر ڈاکٹر شہزاد طاہر تھیم نے تھرپارکر ضلع میں زوزانہ کی بنیاد پر جاری صحت و علاج معالج کی سہولیات کی فراہمی کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا ہے کہگزشتہ روز 190 بچے ضلع بھر کی سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے لائے گئے، جس میں سے67بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرتے ہوئے صحتیاب کرکے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ116بچے اس وقت ضلع بھر کی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اس کے علاوہ ضلع کی تمام سرکاری اسپتالوں میں 890بچوں کا او پی ڈی میں علاج کیا گیا۔ جبکہ 4بچے مختلف وبائی امراض کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ میڈیکل سپریٹینڈنٹ سول ہسپتال مٹھی کی پورٹ کے مطابق گاؤں اوٹھا آباد تعلقہ مٹھی کے رہائشی فضل الدین کا 45دن کا بچہ جس کا وزن 1.2کلوگرام گیسپنگ اور مختلف وبائی امراض کے باعث، گاؤں سنتورو فارم تعلقہ کلوئی کے رہائشی عبدالحمید کی 9ماہ کی بچی حسینہ جس کا وزن 1.7کلوگرام سیوئر نمونیا اور دیگر وبائی امراض کی وجہ سے، ممہراج کالونی مٹھی کی رہائشی جیرام بھیل کا 5دن کا نومولود بچہ گوتم جس کا وزن 2کلو گرام نیونیٹل اور سیپسز بیماری کے باعث اور رزاق ڈنو تعلقہ جھڈو ضلع میرپورخاص کے رہائشی عبدالمجید چانڈیو کا نو مولود بچہ جس کا وزن 1.3کلوگرام وقت سے پہلے پیدائش کم وزن اور برتھ ایسفگزیا کے باعث فوت ہو گئے۔
-

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈگری کی حیثیت وہی ہے جو دیگر جامعات کی ہے، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم
حیدرآباد۔(اے پی پی)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرضیاء القیوم نے کہا ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈگری کی حیثیت وہی ہے جو دیگر جامعات کی ہے اس کا نظام کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،ٹی وی چینل کے بجائے ہم تدریس کے لیے موبائل ایپلیکشن سسٹم پر کام کررہے ہیں،سندھ سمیت ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں اوپن یونیورسٹی کے ریجنل سینٹرز قائم کئے جارہے ہیں جلد ہی مورو اور مٹھی میں سینٹرز قائم کردئیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں سینئر صحافیوں سے ظہرانے کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ریجنل سروسز انعام اللہ شیخ اور دیگر معززین بھی موجو د تھے۔پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی اسناد یا ڈگری کی حیثیت وہی ہے جو دیگر جامعات کی ہے۔اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر اسکے قیام کا مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو فائدہ پہنچانے اور ایسے طلبہ وطالبات کو اپنے نوکریوں میں مصروف ہوتے ہیں یا کسی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یونیورسٹی نہیں جاسکتے انہیں گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دروازے کسی لیے بند نہیں ہونا چاہئیں انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہر سال 14لاکھ افراد داخلہ لیتے ہیں جن کو35ہزار اساتذہ تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نظام تقریباً کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے اس میں 70فیصد کام مکمل ہوچکا ہے مزید بھی جلد مکمل ہوجائے گا جس پر 600ملین روپے لاگت آئے گی انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے درس و تدریس کے لیے ٹی وی چینل کے لیے درخواست متعلقہ ادارے کو دی ہوئی ہے تاہم میرے خیال میں اس سے زیادہ اہم واٹس ایپ کے زریعے سستا اور سہل طریقہ سے ہوسکتا ہے ہم واٹس ایپ موبائل ایپلیکیشن سسٹم پر تیزی سے کام کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم60کروڑ روپے کی لاگت سے سکھر،مورو، مٹھی میں علاقائی سینٹرز قائم کررہے ہیں ان پر تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ ملیر کراچی میں ایک ماڈل سینٹر قائم کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کسی قسم کے مالی بحران کا شکار نہیں ہے ہمارے پاس انڈونمنٹ فنڈز ہیں ہم نے رواں سال ملک بھر میں پونے2ارب روپے کے ترقیاتی کام کرائے ہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر ریجنل سروسز انعام اللہ شیخ نے کہاکہ سندھ کے علاقوں مورو، مٹھی اور ملیر میں 40سال سے جو کام التواء کا شکار تھا وہ اب مکمل ہورہا ہے جلد ہی مورو اور مٹھی کے ریجنل سینٹرز کام شروع کردیں گے۔