Baaghi TV

Category: حیدرآباد

  • ٹھٹھہ : دو مختلف واقعات میں 4 افراد جاں بحق

    ٹھٹھہ : دو مختلف واقعات میں 4 افراد جاں بحق

    ٹھٹھہ(باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں)ٹھٹھہ میں دو الگ الگ افسوسناک واقعات میں چار افراد، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    گھارو کے علاقے میں ایک معمولی تکرار پر مالک کورائی نامی شخص نے اپنے بھائی انس کورائی پر چاقو سے پے در پے وار کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ زخمی کو فوری طور پر گھارو رورل ہیلتھ سینٹر منتقل کیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق قاتل بھائی جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    دوسرا دلخراش واقعہ جھرک کے قریب پیش آیا، جہاں تالاب سے پانی بھرتے ہوئے ایک خاتون کا پاؤں پھسل گیا۔ اسے بچانے کے لیے دو مزید خواتین نے تالاب میں چھلانگ لگا دی، لیکن بدقسمتی سے تینوں ڈوب گئیں۔ ایک خاتون پٹھانی ببر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی، جبکہ دوسری دو خواتین مہک اور غزالہ کو مقامی افراد نے تالاب سے باہر نکال کر کوٹری ہسپتال منتقل کیا، مگر وہ بھی جانبر نہ ہو سکیں۔ تینوں خواتین کی میتیں جب ان کے گاؤں پہنچیں تو علاقے میں کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشکبار تھی

  • سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات،  آبادیوں کی منتقلی شروع

    سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات، آبادیوں کی منتقلی شروع

    پنجاب کے بعد سندھ میں بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

    حیدرآباد میں دریائے سندھ کے حفاظتی بند کے قریب رہائش پذیر خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر متاثرہ آبادیوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے بتایا کہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے افراد کو خالی کرایا جا رہا ہے تاہم کچھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، مانیٹرنگ سیل الرٹ ہے اور انتظامات پہلے سے زیادہ بہتر ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی کنٹرول روم میں حکام 24 گھنٹے موجود ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
    سیدہ تحسین عابدی کے مطابق 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، محکمہ آبپاشی نے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا ہے اور ان مقامات کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے 92 کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں کتے کے کاٹے اور سانپ کے ڈسنے کی ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے۔مزید برآں مویشیوں کی حفاظت کے لیے محکمہ لائیوسٹاک نے 300 کیمپس قائم کر دیے ہیں۔

    خیبر پختونخوا سے افغان زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ

    سرکاری خرچ پر شاہانہ کھانے، کرویشیا کی سابق وزیر کو سزا

    اسپیکٹرم نیلامی میں تاخیر اورسائبر فراڈز پر سینیٹ کمیٹی کا اظہار تشویش

    وزیراعلی پنجاب کا مسجد پر اپنی تصویر لگانے کا سخت نوٹس، وضاحت طلب

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    حیدرآباد:پنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔

    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہےگدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔

    دوسری،جانب،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شام یا رات کے وقت بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،مختلف شہروں میں یکم سے 3 ستمبر تک شدید بارشیں ہو سکتی ہیں ، یکم سے 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

  • سینئر صحافی خاور حسین کی میت آبائی علاقے سانگھڑ پہنچا دی گئی

    سینئر صحافی خاور حسین کی میت آبائی علاقے سانگھڑ پہنچا دی گئی

    سینئر صحافی،خاور حسین کی میت آبائی علاقے سانگھڑ پہنچا دی گئی، ان کی نماز جنازہ بعد نماز عصر عیدگاہ میں ادا کی جائے گی۔

    سینئر صحافی خاور حسین کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے صحافی، عزیز و اقارب اور علاقہ مکین موجود ہیں، حیدر آباد سول ہسپتال کے پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم نے کہا تھا کہ خاور حسین کی میت کے دوبارہ پوسٹم ارٹم کے احکامات ملے تھے، پوسٹ مارٹم کے دوران تشدد یا مزاحمت کا کوئی نشان نہیں ملا، فی الحال موت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، 2 دن میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں اپنی فائنڈنگز کے حوالے سے آگاہ کر دیں گے۔

    دوسری جانب، خاور حسین کے بھائی اعجاز حسین نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بھائی خوش مزاج اور باہمت شخص تھا، خودکشی نہیں کرسکتا تھا، خاور نے کسی پریشانی یا جھگڑے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

    قومی ہاکی کھلاڑیوں کے لیے 10، 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    خاور حسین کے والد رحمت حسین باجوہ نے بھی اپنے بیٹے کی خودکشی کا تاثر یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں قتل کرنے کا شبہ ظاہر کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سے زمین یا کسی بھی قسم کا کوئی تنازع نہیں تھا،میرا بیٹا بہت بہادر اور دلیر تھا، خود سے گولی مار کر جان لینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، یہ قتل ہی لگتا ہے، لیکن اس وقت پولیس کی تفتیش جاری ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم نے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کی سربراہی میں جائے وقوع کا دورہ کیا، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد خان نے کہا کہ گاڑی سے ملنے والا اسلحہ خاور حسین کا اپنا لائسنس یافتہ تھا، خاور حسین کی حیدرآباد میں ساڑھے 5 بجے کی لوکیشن تھی، خاورر حسین کی سم آخری وقت تک استعمال میں تھی، کسی نے بھی فائرنگ کی آواز نہیں سنی، موبائل کی سم کہیں نہیں ملی۔

    فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی میٹرو ٹرین چلانے کا فیصلہ

    ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ سی سی ٹی وی سے خاور حسین کی سانگھڑ آمد کا پتا چل جائے گا، خاور حسین کی فیملی سے بات چیت کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے گا، خاور حسین کی فیملی سے لازمی بات کی جائے گی، دیکھا جائےگا کہ خاور حسین کے کوئی ساتھ تو نہیں تھا، ٹول پلازہ کی فوٹیج بھی موجود ہے، اس کو بھی چیک کیا جا رہا ہے، فون سی ٹی ڈی کو بھیج دیا ہے، سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا جارہا ہے، خاور حسین کا موبائل فون ری سیٹ کیا گیا تھا، کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) نکالا گیا ہے۔

    آزاد خان نے کہا کہ سینئر صحافی خاور حسین کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا ہے، ایک اہم عینی شاہد ملا ہے، جس کی خاور حسین بات ہوئی تھی، عینی شاہدین سے گفتگو اور فارنزک شواہد جمع کیے گئے ہیں، ہم نے جائے وقوع کا دورہ کرکے خاور حسین کی گاڑی کا معائنہ کیا، کمیٹی کے رکن عرفان بلوچ اسلام آباد میں ہیں، صحافی خاور حسین کی موت افسوس ناک واقعہ ہے۔

    پاکستانی بینک کاروباری حجم بڑھانے کے بہتر مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،فچ

  • صحافی خاور حسین کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم

    صحافی خاور حسین کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم

    حیدر آباد سول ہسپتال کے پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم کا کہنا ہے کہ خاور حسین کی میت کا دوبارہ پوسٹمارٹم جاری ہے۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم نے کہا کہ خاور حسین کی میت کے دوبارہ پوسٹمارٹم کے احکامات ملے تھے، پوسٹ مارٹم کے دوران تشدد یا مزاحمت کا کوئی نشان نہیں ملا، فی الحال موت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا،2 دن میں ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں اپنی فائنڈنگز کے حوالے سے آگاہ کر دیں گے۔

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ سروسز سندھ نےصحافی خاور حسین کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم جاری کیا،دوبارہ پوسٹمارٹم کے لیے ڈی جی ہیلتھ سروسز سندھ نے پولیس سرجن لیاقت یونیورسٹی اسپتال کو خط لکھا،ڈی جی ہیلتھ سروسز کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صحافی خاور حسین کا دوبارہ پوسٹ مارٹم حیدرآباد میں کیا جائے گا۔

    وزیر خان مسجد کے احاطے میں ویڈیو ریکارڈ کرنے پر ماڈل اور فوٹوگرافر پر مقدمہ درج

    واضح،رہے کہ سینئر صحافی خاور حیسن کی ہفتے کی شب سانگھڑ میں ہوٹل کے باہر پارکنگ میں موجود گاڑی سے گولی لگی لاش ملی تھی،بعد ازاں خاور حسین کی موت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی تھی،کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) آزاد خان کر رہے ہیں، جب کہ کمیٹی ممبران میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غربی عرفان بلوچ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عابد بلوچ شامل ہیں۔

    دوسری جانب صحافی خاور حسین کے بھائی اعجاز حسین نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بھائی خوش مزاج اور باہمت شخص تھا، خود کشی نہیں کرسکتا تھا، خاور نے کسی پریشانی یا جھگڑے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا-

    دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ،الرٹ جاری

  • صحافی خاور حسین کے اہلخانہ امریکا سے کراچی پہنچ گئے،نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    صحافی خاور حسین کے اہلخانہ امریکا سے کراچی پہنچ گئے،نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    سینئیر صحافی خاور حسین کے اہلخانہ امریکا سے کراچی پہنچ گئے۔

    ذرائع کے مطابق خاور کے بھائی والد اور والدہ جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچے،خاور حسین کے والد رحمت حسین باجوہ، ان کی والدہ اور بھائی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے وہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوگئے، وہ میت لے کر سانگھڑ جائیں گے، خاور حسین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر عید گاہ گراؤنڈ سانگھڑ میں ادا کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق خاور کے والد کا کہنا ہے وہ خود اپنے آپ کو گولی نہیں مار سکتا، یہ ایک قتل ہے انہوں نے کہا کہ خاور بہت دلیر انسان تھا، ہمارا کسی سے کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل ضلع سانگھڑ سے صحافی خاور حسین کی گولی لگی لاش ان کی گاڑی سے برآمد ہوئی تھی، جس پر صحافتی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھابعد ازاں خاور حسین کی موت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی تھی،کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) آزاد خان کریں گے، جب کہ کمیٹی ممبران میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غربی عرفان بلوچ، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عابد بلوچ شامل ہیں،تحقیقاتی کمیٹی پراسرار موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور کمیٹی 7 روز میں اپنی رپورٹ محکمہ داخلہ سندھ کو پیش کرے گی۔

    حیدر آباد میں صحافی خاورحسین کی میت ہلال احمر سرد خانے سے سول ہسپتال منتقل کی گئی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا میڈیکل بورڈ میت کی جانچ کرے گا،میڈیکل لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر وسیم سمیت ٹیم کے دیگر ارکان میت کی جانچ کریں گے، خاور حسین کے والد اور والدہ سمیت بھائی اعجاز بھی سول ہسپتال میں موجود ہیں۔

  • خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے،ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد

    خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے،ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد

    سینئر رپورٹر خاور حسین کی لاش ملنے کے معاملے پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) شہید بینظیر آباد فیصل بشیر میمن کا بیان سامنے آگیا-

    ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن نے کہا کہ گاڑی سے ملنے والا پستول خاور حسین کا ہی تھاخاور نے حفاظتی نکتہ نظر سے پستول رکھا ہوا تھا، خاور حسین گاڑی پارک کرکے 2 بار واش روم گئے، سی سی ٹی وی کے مطابق خاور تنہا تھے، خاور نے ہوٹل کے منیجر سے جاکر واش روم کا پوچھا، پھر واپس گاڑی میں آکر بیٹھ گئے، خاور دوبارہ گاڑی سے اترے اور پھر چوکیدار سے واش روم کا پوچھا، خاور پھر واش کے پاس گئے اور واپس آکر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گئے۔

    انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی میں خاور تنہا دکھائی دے رہے ہیں، سی سی ٹی وی کیمرا ڈرائیورنگ سیٹ کے دوسری جانب لگا تھا، سی سی ٹی وی میں کوئی نظر نہیں آیا، ہوٹل منیجر نے چوکیدار کو کہا جاکر ان سے پوچھو کچھ آڈر کریں گے یا نہیں، کافی دیر ہوگئی ہے، چوکیدار جب گاڑی کے پاس گیا تو اندر خاور کی گولی لگی لاش پڑی تھی، خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے، ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے، تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں،مئی میں خاور نے والدین کو امریکا شفٹ کردیا تھا، خاور سانگھڑ مجلس میں شرکت کرنے گئے، ان کے بہنوئی کے گھر مجلس تھی، تاہم خاور مجلس میں نہیں پہنچ سکے۔

    خاور حسین گزشتہ روز سانگھڑ میں پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئے تھے ان کی لاش حیدرآباد روڈ پر ایک نجی ہوٹل کے باہر کھڑی ان کی گاڑی سے برآمد ہوئی جہاں ان کے سر پر کنپٹی کے مقام پر گولی لگی ہوئی تھی،محکمہ داخلہ سندھ نے صحافی خاور حسین کی موت کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کی سربراہی گریڈ اکیس کے افسر کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ دو ڈی آئی جیز اور سانگھڑ کے ایس ایس پی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔

  • کوشش ہوگی اقوام متحدہ سے بھی بی ایل اے، مجید بریگیڈ پر پابندی لگوائیں، بلاول بھٹو

    کوشش ہوگی اقوام متحدہ سے بھی بی ایل اے، مجید بریگیڈ پر پابندی لگوائیں، بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکا کے بعد دیگر ممالک بھی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد ڈکلیئر کرسکتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ (المعروف فتنۃ الہندوستان) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، بی ایل اے جیسی تنظیمیں معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، پاک بھارت جنگ کے دوران بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سپورٹ کیا۔

    وفاقی دارالحکومت میں13 اگست کو بھی عام تعطیل کا اعلان

    بلاول بھٹو کے مطابق امریکا نے پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا ہے اور اس کی توثیق کی ہے، جس کے بعد امکان ہے کہ دیگر ممالک بھی ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیں گے،ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اقوام متحدہ سے بھی ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دلوایا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے کالعدم بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور ان کے تمام اتحادیوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ متعدد حملوں اور سیکڑوں پاکستانی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

    فیلڈ مارشل کادورہ امریکا: پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم باب رقم، بھارت کا دہشتگردانہ چہرہ پھر بےنقاب

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ مودی سرکار دریائے سندھ کا پانی روکنے کے اعلان سے باز نہیں آرہی، لیکن سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو پاکستان کو اس کے حق کا پانی دینا پڑے گا، دریائے سندھ پاکستانیوں کے لیے لائف لائن ہے، اس معاملے پر سندھ کے لوگوں کا ساتھ چاہیے، تمام پاکستانی اس پر یکساں آواز اٹھائیں، یہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی زندگی کا سوال ہے، ہمیں پانی کی عالمی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے زراعت کے لیے جدید طریقے اپنانے ہوں گے، ڈریپ ایریگیشن سمیت جدید تکنیکس اپنا کر ہم پانی کو بچاسکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ان کا حق دینا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ نئے مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی) کے لیے فوری طور پر اجلاس بلایا جانا چاہیے، آئین کے تحت ہر 5 سال بعد این ایف ایوارڈ دینا چاہیے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس جمع نہ کرنے کی سزا صوبوں کو نہ دی جائے، اسلام آباد میں بیٹھے بابے اپنی ناکامی کی سزا صوبوں کو نہ دیں، حکومت یا کسی سیاسی جماعت نے ہم سے 27 ویں آئینی ترمیم کے لیے رابطہ نہیں کیا، 27 ویں ترمیم کی افواہیں چل رہی ہیں، یہ میڈیا کے دوستوں سے سن رہا ہوں، لیکن بطور سیاسی جماعت ہم سے حکومت نے اب تک اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی۔

    وفاقی دارالحکومت میں13 اگست کو بھی عام تعطیل کا اعلان

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر میں ایئرپورٹ ہونا چاہیے، تاہم یہ وفاق کا کام ہے، سندھ میں پرانے ایئرپورٹ بند کیے گئے ہیں، حیدرآباد میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قیام کے لیے وزیر اعظم کے ساتھ بات کروں گا، اگر کامیابی نہ ملی تو سیالکوٹ کی طرح ہم بھی حیدرآباد میں ایئرپورٹ قائم کرنے کا سوچ سکتے ہیں، رنگ روڈ منصوبہ مکمل ہونے سے حیدرآباد کے عوام کو سفر میں سہولت میسر آئے گی، پہلی دفعہ حیدرآباد کی ترقی کو تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ماضی میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کی بلدیاتی اور صوبائی حکومتیں ہونے کی وجہ سے ترقی نہیں ہوسکی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں عوامی مفاد میں کام کرنے کے بجائے نفرت پھیلانے کا کام کرتی رہی ہیں، تاہم اس بار عوام نے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو فتح دلواکر ہم پر یہ فرض کر دیا ہے کہ ہم عوام کو سہولتیں دیں،میئر حیدرآباد اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے عوامی مفاد کی کئی اسکیمیں شروع کی ہیں، حیدر آباد میں آئندہ دو سال میں مزید منصوبے مکمل ہوجائیں گے، جس کے بعد ہم یہاں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں بہتری لانے کے قابل ہوجائیں گے۔

    باجوڑ: گرینڈ جرگے کا دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا اعلان

  • ٹھٹھہ: جشنِ آزادی کے تناظر میں شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

    ٹھٹھہ: جشنِ آزادی کے تناظر میں شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

    ٹھٹھہ(باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) جشنِ آزادی ‘معرکہ حق’ کے تناظر میں ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ منور عباس سومرو اور ایس ایس پی فاروق احمد بجارانی نے ایس ایس پی آفس میں واقع یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جبکہ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی بھی پیش کی۔

    اس تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر شاکر فہیم، ایس ڈی پی او وحید بیگ لاڑک، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز فضل قریشی، ڈی ایس پی کمپلین سیل سید علی گوہر شاہ، ڈی آئی بی انچارج انسپیکٹر اے ڈی شیخ اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    بعد ازاں، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی نے کانفرنس ہال میں شہداء کے عزیز و اقارب سے ملاقات کی اور انہیں تحائف پیش کیے۔ اس موقع پر ایس ایس پی فاروق احمد بجارانی نے کہا کہ یہ تقریب نہ صرف شہداء کو خراجِ عقیدت ہے بلکہ زندہ اہلکاروں کے لیے بھی حوصلہ، جذبہ اور فرض شناسی کا عملی پیغام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہداء ہمارے محسن ہیں اور قوم ان کی مقروض ہے۔ ان کی قربانیوں کی وجہ سے پولیس کا سر فخر سے بلند ہے اور ان کی لازوال قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے مادرِ وطن کے امن و امان کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے پولیس، پاک فوج اور دیگر شہداء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

    اس کے بعد، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی نے دیگر تمام افسران کے ہمراہ پولیس لائن مسجد میں منعقدہ قرآن خوانی میں شرکت کی اور شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر پاک فوج، پولیس اور دیگر تمام اداروں کے شہداء کے بلند درجات اور ملک و قوم کی سالمیت، استحکام اور حفاظت کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

    علاوہ ازیں، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو نے اسسٹنٹ کمشنر شاکر فہیم اور دیگر افسران کے ہمراہ مکلی قبرستان پر پاک فوج کے شہداء کی قبروں پر حاضری دی، پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔

  • ٹھٹھہ: لمس کے ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے 14 سالہ لڑکا زندگی و موت کی کشمکش میں، باپ کی وزیراعلیٰ سندھ سے فریاد

    ٹھٹھہ: لمس کے ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے 14 سالہ لڑکا زندگی و موت کی کشمکش میں، باپ کی وزیراعلیٰ سندھ سے فریاد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) سول ہسپتال مکلی میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو (لمس) کے ڈاکٹر معشوق خواجہ پر غریب شہری اللہ بچایو سموں نے بیٹے کے غلط آپریشن کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے۔ عوامی پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اللہ بچایو سموں کا کہنا تھا کہ اس کے 14 سالہ بیٹے غلام علی کو اچانک پیٹ میں شدید درد ہوا، جس پر اسے فوری طور پر سول ہسپتال مکلی لایا گیا، جہاں ڈاکٹر معشوق خواجہ نے اسے اپنے پرائیویٹ سینٹر "حسینی ہسپتال مکلی” لے جانے کا مشورہ دیا۔

    اللہ بچایو کے مطابق ڈاکٹر نے وہاں پہلے 75 ہزار روپے کی رقم کاؤنٹر پر جمع کرانے کا مطالبہ کیا، جو اس نے غربت کے باوجود قرض لے کر ادا کی۔ تاہم ڈاکٹر معشوق نے غیر ذمہ دارانہ طور پر غلط آپریشن کیا جس سے بچے کی حالت مزید بگڑ گئی۔ اللہ بچایو کا کہنا ہے کہ دوبارہ سول ہسپتال مکلی میں لے جا کر دوسرا آپریشن بھی کروایا گیا جو ناکام رہا اور بعد ازاں کراچی کے جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا، جہاں بچے کو داخل تک نہیں کیا گیا۔

    متاثرہ باپ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر نے محض مالی لالچ میں آ کر اس کے بیٹے کی جان کو خطرے میں ڈالا اور اب تک وہ ڈھائی سے تین لاکھ روپے خرچ کر چکا ہے لیکن بیٹے کی حالت بدستور خراب ہے۔ اللہ بچایو سموں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، سیکریٹری صحت، وائس چانسلر لمس، اور ٹھٹھہ کے منتخب نمائندوں حاجی علی حسن زرداری، سید ریاض شاہ شیرازی اور صادق علی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر معشوق خواجہ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اس کے بیٹے کے علاج کے لیے حکومتی مدد فراہم کی جائے۔

    علاقائی سطح پر یہ واقعہ میڈیکل نظام کی خامیوں اور ڈاکٹروں کی مبینہ تجارتی سوچ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف اور بچے کے بہتر علاج کی فوری ضرورت ہے تاکہ ایک اور قیمتی جان ضائع ہونے سے بچائی جا سکے۔