Baaghi TV

Category: کراچی

  • حکومت سندھ  کی جانب سے صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ

    حکومت سندھ کی جانب سے صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ

    سندھ بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ حکومت سندھ نے موسم کی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122 (سندھ) کے مطابق سندھ ایمرجنسی ریسکیو 1122 کی ٹیم رین ایمرجنسی کے پیش نظر شہر کے مختلف مقامات پر تعینات ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری ریسکیو 1122 پر کال کریں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ بھر میں آج اور کل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔آج کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں کچھ مقامات پر ہلکی بارش ہوئی تاہم رین ایمرجنسی کی وجہ سے متعلقہ محکمہ الرٹ ہے۔

  • لیاری ایکسپریس وے صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مصطفی کمال

    لیاری ایکسپریس وے صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مصطفی کمال

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم شہباز شریف پر لیاری ایکسپریس وے کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں کمال نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اس پر بھاری ٹریفک کی وجہ سے نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کو "غلط” قرار دیا۔ایم کیو ایم رہنما نے ایک متبادل تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھاری ٹریفک کو شہر سے ناردرن بائی پاس پر منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے وہاں کے ٹریکس کو ڈبل کرنے یا ان میں توسیع کرنے کی تجویز بھی دی۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کراچی کے بنیادی ڈھانچے اور ٹریفک کے مسائل زیر بحث ہیں۔ کمال کے اس موقف سے شہر کی ٹرانسپورٹ پالیسی پر نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔

  • ایکس”ٹویٹر”ملکی سلامتی کیلیے خطرہ،بحال نہیں کیا جا سکتا،وزارت داخلہ

    ایکس”ٹویٹر”ملکی سلامتی کیلیے خطرہ،بحال نہیں کیا جا سکتا،وزارت داخلہ

    ٹویٹر کی بندش، وزارت داخلہ نے سندھ ہائیکورٹ میں ایک اور رپورٹ جمع کروا دی

    وزارت داخلہ کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار ہے،ملک میں ایکس بحال نہیں کیا جا سکتا، وزارت داخلہ کا کام پاکستان کے عوام کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ایکس پرپابندی سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے، پاکستان میں ایکس پر پابندی آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی نہیں ہے، یہ آرٹیکل اظہاررائے کی آزادی دیتا ہے تاہم قانون کے مطابق اِس کی بھی کچھ حدود اور پابندیاں ہوتی ہیں، ایکس پر ملکی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے، ایکس ایک غیر ملکی کمپنی ہے جس سے متعدد بار کہا گیا کہ قانون پر عمل کرے، وزارت داخلہ کے پاس عارضی طور پر ایکس کی بندش کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ 17 فروری کو وزارت داخلہ نے ایکس فوری طور بند کرنے کو کہا تھا،ایکس نے پاکستان کے ساتھ کوئی ایم او یو سائن نہیں کیا ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایکس پر پابندی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا،ملکی سیکورٹی اور وقار کے لیے ایکس پر، حساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ایکس پر پابندی عائد کی گئی ،کچھ عناصر ایکس کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پھیلانا چاہتے ہیں، ایم او یو سائن کرنے اور ملکی قوانین کی تعمیل کی یقین دہانی پر ایکس کو کُھلوایا گیا تھا، کئی ممالک سوشل میڈیا پورٹلز پر پابندی عائد کرتے رہتے ہیں، ایکس پر پابندی کے خلاف درخواست قابل سماعت ہی نہیں ہے اس لیے اسے مسترد کیا جائے۔

    ٹویٹر کی بندش، پشاور ہائیکورٹ نے کئے نوٹس جاری،جواب طلب

    ٹویٹر کی بندش، شہری کی درخواست پر نوٹس جاری

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایکس (ٹوئٹر) کی سروس 17 فروری رات 10 سے بند کی گئی ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گزشتہ روز بھی ایکس کی سروس آدھا گھنٹہ بحال ہونے کے بعد پھر ڈاون ہوگئی تھی،پی ٹی اے نےایکس (ٹوئٹر) کی بندش پر موقف دینے سے گریز کیا ہے،

    سوشل میڈیا صارفین ٹویٹر چلانے کے لئے وی پی این کا استعمال کر رہے ہیں،کچھ وی پی این کا سرور اسرائیل میں ہے،پی ٹی اے کی وجہ سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا اسرائیل جارہاہے،ٹویٹر کی پاکستان میں بندش کے حوالہ سے پی ٹی اے مکمل خاموش ہے،اور کسی قسم کا کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی بار انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سروسز کی بندش سامنے آئی ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات کے روز سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کی گئی تھی، اس سے قبل پی ٹی آئی کے جلسے کے موقع پربھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس بند کر دی گئی تھیں.

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں آگ پر قابو پا لیا گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں آگ پر قابو پا لیا گیا

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں آگ لگ گئی تھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے

    کراچی میں واقع پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں آگ لگ گئی تھی، فائر بریگیڈ حکام کے مطابق کراچی کی مصروف شاہراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اسٹاک ایکسچینج کی چوتھی منزل پر آگ لگی ہے۔فائر بریگیڈ حکام نے بتایا ہے کہ 4 فائر ٹینڈر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی چوتھی منزل پر لگی آگ بجھانے میں مصروف تھے۔ایدھی اور دیگر رضا کار اداروں کی جانب سے بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھی گئیں، آگ کو بجھا لیا گیا ہے جس کے بعد ٹریڈنگ بحال ہو گئی ہے.

    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تقریباً ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا اور کولنگ کا عمل جاری ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم معمولی مالی نقصان ہوا ہے .

  • ڈی ایس پی علی رضا کے قتل کی ذمہ داری الفجر نامی تنظیم نے قبول کر لی

    ڈی ایس پی علی رضا کے قتل کی ذمہ داری الفجر نامی تنظیم نے قبول کر لی

    شہر قائد کراچی میں سی ٹی ڈی میں تعینات ڈی ایس پی علی رضا کو قتل کرنے کی ذمہ داری الفجر نامی تنظیم نے قبول کرلی ہے

    الفجر نامی دہشتگرد تنظیم نے نامعلوم مقام سے جاری بیان میں ڈی ایس پی علی رضا کے قتل کی ذمہ داری قبول کی، تنظیم نے اس سے قبل سہراب گوٹھ میں پولیس اہلکار کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے کریم آباد میں موٹر سائیکل پر سوار دو حملہ آوروں نے ڈی ایس پی علی رضا کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں علی رضا اور ان کا محافظ شدید زخمی ہو گئے تھے، دونوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دونوں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

    سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا کہنا تھا کہ کراچی کے علاقے کریم آباد میں سی ٹی ڈی انویسٹی گیشن کے ڈی ایس پی علی رضا کے قتل پر مجھے گہرا صدمہ ہے۔ میں اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس مشکل گھڑی میں، میری تعزیت اور دعائیں شہید کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اس ظلم کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔ کراچی میں امن و امان کو برقرار رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےڈی ایس پی علی رضا پر حملے کی مذمت کی،وزیر اعلیٰ سندھ نے ڈی ایس پی علی رضا اور ان کے گارڈ کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ،وزیر اعلیٰ سندھ نے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت، ہمدردی کا اظہار کیا،وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو تحقیقات کر کے رپورٹ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ قاتل گرفتار کر کے رپورٹ دیں،

    ڈی ایس پی علی رضا نے1990میں بطور اے ایس آئی سندھ پولیس میں بھرتی ہوکرجرائم پیشہ عناصر کے لئے خوف کی علامت بن گئے تھے،انہوں نے سی ٹی ڈی کے شہید ایس ایس پی چوہدری اسلم کے ساتھ ملکر کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑی بڑی کارروائیوں میں حصہ لیا،جرائم پیشہ عناصر چوہدری اسلم اور علی رضا کا نام سن کر خوف کھاتے تھے،دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر انہیں محکمہ کی جانب سے ترقی اور انعامات سے بھی نوازا گیا، 1992 آپریشن،لیاری آپریشن اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں چوہدری اسلم شہید کے شانہ بشانہ شریک رہے،ڈی ایس پی علی رضا نے چوہدری اسلم کے ساتھ ملکر کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف متعدد آپریشنز میں حصہ لیا ،جس کے باعث انہیں مختلف دہشت گرد گرپوں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سےدھمکیاں موصول ہوتی رہتی تھیں اور ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق تھے،

  • وزیر اعظم سے تاجر برادری کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملاقات ،انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ

    وزیر اعظم سے تاجر برادری کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملاقات ،انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ

    وزیر اعظم سے تاجر برادری کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملاقات ہوئی، بندرگاہ پر درپیش مشکلات اور شپنگ لائنز کی زیادتیوں بارے آگاہ کیا۔ وزیراعظم سے تاجروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی سستی ہوگی تو برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک بڑھا دیں گے، ایکسپورٹ بڑھے گی تو بیرونی قرض کی ضرورت نہیں ہوگی، ایکسپورٹرز پر فکسڈ ٹیکس ختم کرنے پر تحفظات سے بھی شہباز شریف کو آگاہ کیا۔تاجروں نے وزیر اعظم سے پورٹ کے انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا، وزیراعظم نے پورٹ پر کلیئرنس میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا، متعلقہ اداروں کو پورٹ پر درپیش مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے اگلے ہفتے ایف پی سی سی آئی سے پورٹ پر بہتری کیلئے تجاویز مانگ لیں۔قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو پورٹ پر پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا ہے اور پورٹ کے انفرا اسٹرکچر کو بہترکرنے کے بارےمیں کہا ہے۔ثاقب فیاض کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پورٹ پر کلیئرنس میں تاخیر پر برہمی کا اظہارکیا اور کلیئرنس جلد کرنے کے لیے اسکینرز فوری لگانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے اگلے ہفتے ایف پی سی سی آئی سے پورٹ پر بہتری کے لیےتجاویز بھی طلب کرلیں۔

  • بندرگاہوں پر اسکیننگ کی جدیدمشینری کی جلد تنصیب یقینی بنائی جائے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    بندرگاہوں پر اسکیننگ کی جدیدمشینری کی جلد تنصیب یقینی بنائی جائے. وزیرِ اعظم شہباز شریف

    شہباز شریف کی زیر صدارت کے پی ٹی ہیڈ آفس میں اجلاس ہوا، اجلاس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وزیر تجارت جام کمال ، وزیر پورٹ اینڈ شپنگ قیصر احمد شیخ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ وزیرِ اعظم کو ملکی آمدنی میں اضافے، کاروباری برادری کو سہولیات اور برآمدی اور درآمدی شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کو چیئرمین کے پی ٹی اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے حکام نے بریفنگ دی، وزیراعظم نے پورٹ پر معاملات میں مزید بہتری لانے کے لیے ہدایات دیں۔
    وزیرِ اعظم نے ہدایت دیں کہ بندرگاہوں کی استعداد سے مکمل فائدہ اٹھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں،کراچی پورٹ ٹرسٹ تک اور اس سے سامان کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے لیاری ایکپریس وے کو کارگو ٹریفک کیلئے 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے، سامان کی ترسیل کو مزید بہتر بنانے کیلئے ملیر ایکسپریس وے کو بندرگاہ سے جوڑا جائے،کراچی پورٹ تک اور اس سے ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل کی استعداد کو بڑھایا جائے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی میں موجود بندرگاہوں کی ترقی سے ویلیو ایڈیشن کی صنعت سے برآمدات میں اضافہ کریں گے، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ پر جدید آلات و مشینری کی تنصیب سے کسٹمز کلیئرینس کے وقت کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
    شہباز شر یف کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم پر ایل این جی جہازوں کی فیس کو کم کرکے اسے بین الاقومی سطح پر رائج ریٹس کے مطابق مقرر کیا جائے، شپنگ لائیز کی ریگیولیشن کیلئے ایک جامع لائحہ عمل بنا کر جلد پیش کیا جائے، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اپنی لاگت کو کم کرنے اور اپنے آپریشنز کو مؤثر بنانے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرے، ملک میں نجی شعبے کی ترقی، کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاروں کو سہولت حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔

  • دبئی میں پاکستان مینگو فیسٹیول اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے تقریب

    دبئی میں پاکستان مینگو فیسٹیول اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے تقریب

    پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے دبئی میں پاکستان مینگو فیسٹیول اور ثقافت کو پروموٹ کرنے کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کیا گیا

    صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے تقریب میں شرکت کی،تقریب میں پاکستان کے نامزد کونسل جنرل اور سفیر سمیت دیگر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی،تقریب میں سرمایہ کاروں سمیت دبئی میں مقیم پاکستانیوں نے بھی شرکت کی،صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا، اور کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے سیاحت کے شعبے میں دلچسپی اچھی بات ہے، پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے کئی اہم مقامات موجود ہیں، تھرپارکر میں ڈیزٹ سفاری پر گہری دلچسپی پر سرمایہ کاروں کی دلچسپی قابل فخر ہے، پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے بہترین مواقع موجود ہیں، پاکستان میں مذہبی، ثقافتی سیاحت کے اہم مقامات موجود ہیں، میں سرمایہ کاروں کو دعوت دیتا ہوں وہ آکر اپنے ملک میں آسانی سے سرمایہ کاری کریں، غیرملکی سرمایہ کاروں نے بھی پاکستانی سیاحت میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے، ہم سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول فراہم کریں گے، دبئی میں مقیم پاکستانی ہمیشہ اپنے ملک کی ترقی کیلئے فکرمند رہتے ہیں .

  • جہاں کام ہوتا  وہاں حکومت کو اشتہار لگا کر بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی،مصطفیٰ کمال

    جہاں کام ہوتا وہاں حکومت کو اشتہار لگا کر بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں تمام اراکین سندھ اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا صوبہ تباہ و برباد ہو گیا، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے 15 سال کی کارکردگی کی پریزنٹیشن دی، ان کے تمام ترقیاتی دعوؤں کو رد کرتے ہیں۔

    سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ میں اگر کچھ اچھا ہوتا تو ہم ان کی تعریف کرتے، سندھ کے حکمرانوں کے سامنے عوام کا مقدمہ پیش کیا،ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے عوام کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑا، سندھ حکومت نے اپنے 15 سال کے دور میں کچھ بھی نہیں کیا،سندھ حکومت نے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی، اربوں روپے صرف اشتہارات پر لگائے جا رہے ہیں، یہ پیسہ کسی کا ذاتی نہیں میرا اور آپ کا پیسہ ہے، جہاں کام ہوتا ہے وہاں حکومت کو اشتہار لگا کر بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی، تعلیم پر 3200 ارب خرچ کیے گئے، 76 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ،سندھ حکومت پچھلے 15 سالوں میں 18ہزار ارب خرچ کر چکی ہے،اتنے میں 50 نئے سندھ بن سکتے تھے،آج کراچی دنیا میں انسانوں کے رہنے کیلئے بد ترین جگہوں میں پانچویں نمبر پر ہے، وزیراعلی کہتے ہیں سندھ میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں

    ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ میرے زمانے میں کراچی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے 12شہروں میں شامل تھا، اپنے دور میں کراچی میں 3 سو ارب روپے خرچ کیے تھے، 3 سو ارب روپے کا ایک یک پیسہ کراچی پر لگایا تھا، صحت کے شعبے میں سندھ حکومت نے 1700 ارب روپے خرچ کیے، اسپتالوں کو فنڈ دینے والے مخیر حضرات کو ہٹا دیں تو صحت کے شعبے کی اصلیت معلوم ہو جائے گی۔جیسے ہی پنجاب شروع ہوتا ہے ہمیں سڑکوں کا فرق پتا چلنا شروع ہو جاتا ہے، گاڑی کی وائبریشن سے پتا چل جاتا ہے کہ سندھ ختم ہو گیا اور پنجاب شروع ہو گیا، مراد علی شاہ کے مطابق سندھ دنیا میں انسانوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے،

    سید مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کوشش کی کہ وزیراعلیٰ سندھ کی بتائی گئی چیزوں کو گراونڈ‌پر دیکھیں، انکے مطابق سندھ دنیا میں انسانوں کےرہنے کے لئے سب سے اچھی جگہ، ترقی یافتہ صوبہ بن گیا، یہاں ہر چیز بہتر ہو گئی، فوٹو شوٹ، ڈاکو منٹریز دکھائی گئیں،میں سندھ حکومت کے تمام دعوؤں کو رد کرتا ہے، ایم کیو ایم پاکستان کہتی ہے کہ انہوں‌نے غلط معلومات دیں، غلط تصاویر دیں،کچھ اچھا ہوتا تو ببانگ دہل اچھے کاموں کی تعریف کرتے،کاموں کو بتانے کے لئے اربوں روپے کی ایڈورٹائیزمنٹ نہیں کرنی پڑتی، سمجھو یہ دال میں کالا ہے، ٹی وی کھولیں ہر سیکنڈ کے بعد نیا ایڈ آ رہا ،کچھ اچھا کیا ہوتا تو سامنے نظر بھی آتا، اربوں روپے اشتہارات پر جیسے الیکشن مہم چل رہی ہو، ٹی وی مالکان کے مزے ہیں، وہ پیسے کما رہے ہیں،یہ لوگوں کا پیسہ ہے، کسی کی ذاتی جیب سے پیسہ نہیں آ رہا، اربوں کے اشتہارات کیوں دیئے جا رہے، یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ کیا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے، اس میں سچائی نہیں ہے،

    کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے مصطفی کمال ہیں،ترجمان سندھ حکومت
    دوسری جانب ایم کیو ایم رہنما مصطفی کمال کے بیان پر ترجمان حکومت سندھ گھنور خان اسران کا ردعمل سامنے آیا ہے،ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی اداروں کو تباہ کرنے والے مصطفی کمال ہیں، بطور سٹی ناظم مصطفی کمال نے بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کو چن چن کر بلدیاتی اداروں، واٹر بورڈ، کے ایم سی اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بھرتی کیا، بلدیہ فیکٹری میں ڈھائی سو معصوم انسانوں کو زندہ جلانے والے متحدہ کے بھرتی کردہ بلدیہ ملازمین تھے، شہر کو بوری بند نعشوں کا تحفہ دینے والے آج شہر کے لئے ماتم کناں ہیں، کراچی پر ایم کیو ایم کی حکمرانی بدعنوانی، بھتہ خوری، تشدد، بوری بند نعشوں اور سیکٹرز کے نام پر ٹارچر سیلوں پر مبنی رہی ہے،ملکی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں رکاوٹ ڈالنے اور صنعتوں کو ملک بدر کروانے میں متحدہ کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،متحدہ کی جانب سے کراچی کے عوام کو ایک بار پھر گمراہ کن راستے پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے، ایم کیو ایم والے الزام تراشی سے پہلے ریکارڈ چیک کر لیا کریں،کامیابیوں کو عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا کا استعمال دنیا بھر میں ایک عام رواج ہے, دنیا بھر میں حکومتیں عوام کو اپنے اقدامات اور کامیابیوں سے آگاہ کرنے کے لیے باقاعدگی سے اشتہارات کا استعمال کرتی ہیں ،کراچی پر برسوں تک دہشت سے راج کرنے والے ویسٹ مینجمنٹ، پانی کی قلت، اور پبلک ٹرانسپورٹیشن کے مسائل تک حل نہ کر سکے،

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

  • عوامی فیصلے وہی کرتےہیں جن کوعوام کا اعتماد حاصل ہو،حافظ نعیم الرحمن

    عوامی فیصلے وہی کرتےہیں جن کوعوام کا اعتماد حاصل ہو،حافظ نعیم الرحمن

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمران سب کچھ آئی ایم ایف کےکہنےپرکرتےہیں، پہلےاپوزیشن کہتی تھی آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، حکمران تب کہتےتھے نہیں یہ آئی ایم ایف کا بجٹ نہیں ہے جبکہ وزیراعظم نےاسمبلی فلورپرکہا بجٹ آئی ایم ایف کےکہنےپربنایا۔حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ نہیں آتا کہ آئی ایم ایف والے ان پر دباؤ کیوں نہیں ڈالتے، جب کہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس نہیں لگایا اورٹیکس پروگرام میں شامل نہیں کیا ، جو حکومت فارم 47 کی پیداوار ہو اسکی کیا ساکھ ہے کہ وہ فیصلے کریں، جس کو عوام کے مینڈیٹ کی فکر ہو وہ سوچتا ہے کہ عوام خلاف نہ ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ عوامی فیصلے وہی کرتےہیں جن کوعوام کا اعتماد حاصل ہو،فارم47کی پیداوارحکومت کی کوئی ساتھ نہیں،آئی ایم ایف اگر ایسا ادارہ ہے جس کے کہنے پر یہ سب کرتے ہیں تو وہ بھی کریں جو وہ ہلکے سے کہتے ہیں کہ مراعات کم کرو وہ نہیں کرتے۔امیرجماعت اسلامی نے مزید کہا کہ یہ حکومت ایسے چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر عوام حد سے باہر نکل گئے اور ملک میں کوئی انارکی پھیل گئی تو یہ کیا کریں گے۔