کراچی: محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ تین روز کے دوران کراچی میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا جبکہ موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران شہر میں تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں، جبکہ رات اور صبح کے اوقات میں مختلف علاقوں میں ہلکی بوندا باندی ہونے کا امکان ہے، جس سے موسم میں معمولی بہتری آ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جبکہ سندھ کی ساحلی پٹی پر بھی جزوی ابر آلود موسم، تیز ہوائیں اور کہیں کہیں ہلکی بوندا باندی متوقع ہے۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم جیکب آباد، دادو، قمبر شہدادکوٹ اور لاڑکانہ میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش بھی ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گرمی اور حبس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دھوپ میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔
Category: کراچی
-

کراچی میں آئندہ 3 روز گرم اور مرطوب موسم، بوندا باندی کا امکان
-

ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن
کراچی: نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے ماتمی جلوس اور مجالسِ عزا عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا اور اپنے روایتی راستوں پر گامزن ہے۔ جلوس کے باعث ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ ٹریفک پولیس نے شہریوں کے لیے متبادل راستے مختص کیے ہیں۔
لاہور میں امام بارگاہ قصرِ بتول شادمان سے شبیہہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس روایتی راستوں پر رواں دواں ہے۔ جلوس میں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک ہے اور سیکیورٹی کے لیے پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات ہیں۔
اسلام آباد میں 9 محرم کے مرکزی جلوس کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے بتایا کہ جلوس کی حفاظت کے لیے تقریباً 16 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے دستے بھی سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سطحی سیکیورٹی حصار قائم کیا گیا ہے، جلوس کے راستوں پر کنٹینرز نصب کیے گئے ہیں اور نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔
پشاور میں مختلف امام بارگاہوں میں مجالسِ عزا کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور اندرون شہر کے حساس علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ عزاداروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ادھر کوئٹہ میں میکانگی روڈ پر امام بارگاہ ناصر العزا سے برآمد ہونے والا نویں محرم الحرام کا جلوس اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ جلوس کے دوران تمام داخلی راستے بند رکھے گئے جبکہ دکانیں اور کاروباری مراکز بھی حفاظتی اقدامات کے تحت بند رہے۔
ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے جلوسوں اور مجالس کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ محرم الحرام کے اجتماعات پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں۔ -

کراچی ٹریفک پولیس نے 8 سے 10 محرم کیلئے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا
کراچی ٹریفک پولیس نے 8، 9 اور 10 محرم الحرام 1448ھ کے مرکزی جلوسوں کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے۔
کراچی ٹریفک پولیس نے 8، 9 اور 10 محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی پلان جاری کر دیا ہے تینوں دن مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوں گے اور اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پذیر ہوں گے، جلوسوں کے دوران ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت مکمل طور پر بند رہے گی۔
پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ناظم آباد سے آنے والی ٹریفک لسبیلہ چوک سے متبادل راستوں پر منتقل کی جائے گی، جبکہ شاہر اہ فیصل سے آنے والی گاڑیوں کو سوسائٹی سگنل سے متبادل روٹس پر موڑ دیا جائے گا،جلوس کے راستوں پر صرف مجاز اور اسٹیکر شدہ گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔
دوسری جانب 8 محرم الحرام کا مرکزی جلوس آج نشتر پارک سے برآمد ہوگا، جس کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں شہر بھر میں 5 ہزار سے زائد اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دیں گے جبکہ مرکزی جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر اضافی نفری اور ریزرو فورس بھی تعینات کی جائے گی سرچ اور سویپ آپریشنز کے ذریعے مسلسل نگرانی جاری ہے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فرد کی فوری اطلاع مددگار 15 پر دیں۔
-

کراچی:8 محرم کا مرکزی جلوس آج نشتر پارک سے برآمد ہو گا
شہر قائد میں 8 محرم الحرام کا مرکزی جلوس آج نشتر پارک سے برآمد ہوگا جس میں حضرت امام حسینؑ کے علمدار حضرت عباسؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں عزاداران کربلا شرکت کریں گے۔
آج کا جلوس حضرت امام حسین کے لشکر کے علمدار حضرت عباس کی شہادت کی مناسبت ہے,جلوس سے قبل نشتر پارک میں مجلس میں کربلا کے شہدا کی لازوال قربانی اورفلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی جائے گی جلوس سے قبل نشتر پارک میں صبح 11 بجے مجلس عزا منعقد ہوگی جس سے معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی خطاب کریں گے مجلس میں کربلا کے شہدا کی لازوال قربانیوں اور فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی جائے گی۔
ججلوس دوپہر 1 بجے تک ابوالحسن اسکاؤٹ اور امروہہ اسکاؤٹس کی رہنمائی میں برآمد ہوگا,جلوس شاہنواز بھٹو سے ہوتا ہوا۔ ایم اے جناح روڈ مرکزی نمائش چورنگی پہنچے گا,امام بارگاہ علی رضا کے سامنے تقریباً ڈیڑھ بجے نماز ظہرین ادا کی جائے گی جلوس میں شامل عزادار شہدائے کربلا کی یاد میں ماتم کرتے ہوئے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر میں واقع حسینہ ایرانیان پراختتام پذیر ہوگا.
انتظامیہ کے مطابق جلوس کے دوران سکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عزاداران کو مکمل سہولت فراہم کی جا سکے آٹھ محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں، مجالس اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کے لیے جامع انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں شہر بھر میں 5 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دیں گے، مرکزی جلوسوں کے راستوں اور حساس مقامات پر اضافی نفری، ریزرو فورس اور اسنائپرز تعینات کیے گئے ہیں، سرچ و سویپ آپریشنز کے ذریعے فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا –
-

کراچی کیش وین ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ گرفتار، 20 کروڑ روپے برآمد
کراچی: کراچی کے علاقے جوہر آباد میں کیش وین سے 30 کروڑ روپے کی ڈکیتی کے مرکزی ملزم اور بین الصوبائی گروہ کے سرغنہ محمد علی عرف علی لنگڑا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ اس کے قبضے سے 20 کروڑ روپے نقد رقم اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کراچی میں سرگرم بین الصوبائی ڈکیت گروہ کا سربراہ ہے، جبکہ اس کے دیگر ساتھی ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ ملزم کا تعلق ضلع سوات سے ہے، تاہم وہ طویل عرصے سے کراچی میں مقیم تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق محمد علی عرف علی لنگڑا ماضی میں بھی بینک ڈکیتیوں، لاکر توڑنے اور طلائی زیورات و غیر ملکی کرنسی لوٹنے کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے۔ اس کے خلاف راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال سمیت کراچی کے گلشن اقبال، تیموریہ، سولجر بازار اور ڈیفنس تھانوں میں بھی ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 12 جون کو جوہر آباد میں پیش آنے والی کیش وین ڈکیتی کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ کی ہدایت پر ایس ایس پی سینٹرل کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ دورانِ تفتیش یہ بھی انکشاف ہوا کہ سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کا چیف کریو واجد بھی واردات میں ملوث تھا۔
تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم نے پوری واردات کی منصوبہ بندی کی اور لوٹی گئی رقم دو مختلف گھروں میں چھپا رکھی تھی، جہاں سے پولیس نے بڑی رقم برآمد کی۔
پولیس کے مطابق یہ بین الصوبائی گروہ درجن سے زائد افراد پر مشتمل ہے اور کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں بینک ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ واردات میں شامل دیگر ملزمان کا تعلق پاراچنار سے ہے، جو لوٹی گئی باقی رقم کے ساتھ فرار ہیں۔ ان کی گرفتاری اور باقی ماندہ رقم کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ -

ناظم آباد میں گھر سے لاش برآمد، اہلیہ زیرِ حراست
کراچی: شہر کے علاقے ناظم آباد میں ایک گھر سے ریٹائرڈ اسپتال ملازم کی لاش برآمد ہونے کے بعد پولیس نے واقعے کو ابتدائی طور پر قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتول کی لاش اس کے گھر سے ملی، جہاں وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتول کو گلا دبا کر یا پھندا لگا کر قتل کیا گیا، تاہم موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقتول ماضی میں عباسی شہید اسپتال کے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں ملازم رہ چکا تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ناظم آباد میں رہائش اختیار کیے ہوئے تھا۔
پولیس نے شبہ کی بنیاد پر مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا ہے، جہاں ان سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق خاتون نے ابتدائی بیان میں قتل سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم پولیس تمام شواہد، فرانزک رپورٹس اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی قتل کے محرکات اور ذمہ دار افراد کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔ -

کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ
کراچی: شدید گرمی اور عیدالاضحیٰ کے بعد قربانی کے گوشت کے غیر مناسب استعمال کے باعث کراچی میں گیسٹرو اور اسہال کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول اسپتال کراچی میں روزانہ پیٹ کے امراض اور ڈائریا کے 200 سے زائد مریض علاج کے لیے لائے جا رہے ہیں، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بھی گیسٹرو کے یومیہ مریضوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر چکی ہے۔
جناح اسپتال کے ڈاکٹر عمران کے مطابق بڑی تعداد میں شہری شدید پیٹ درد، الٹی، متلی، بخار اور لوز موشن کی شکایات کے ساتھ ایمرجنسی میں پہنچ رہے ہیں، جن میں بچوں اور بزرگوں کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کے بعد قربانی کا گوشت مناسب درجہ حرارت پر محفوظ نہ رکھنے، بار بار گرم کرنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کرنے کے باعث معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فریزر میں طویل عرصے تک رکھا گیا گوشت اگر مناسب طریقے سے نہ پکایا جائے تو اس میں موجود جراثیم صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں خوراک میں بیکٹیریا کی افزائش بھی تیزی سے ہوتی ہے، جس کے باعث آلودہ یا باسی کھانا گیسٹرو اور اسہال کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باہر کے غیر معیاری کھانوں، باسی گوشت اور آلودہ پانی سے پرہیز کریں، صرف ابلا یا صاف پانی استعمال کریں، تازہ اور اچھی طرح پکا ہوا کھانا کھائیں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسلسل الٹی، شدید اسہال یا پانی کی کمی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔ -

گل پلازہ آتشزدگی، پولیس نے 5 افراد کو ذمہ دار قرار دے دیا
کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی پولیس نے کیس کا چالان تیار کرتے ہوئے مارکیٹ یونین کے عہدیداروں سمیت پانچ افراد کو سانحے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، تاہم پراسیکیوشن نے تفتیش کو نامکمل قرار دیتے ہوئے چالان اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر حذیفہ عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری امین، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان اور جس دکان سے آگ بھڑکی اس کے مالک نعمت اللہ کو واقعے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام نے چار صفحات پر مشتمل مرکزی چالان کے ساتھ سینکڑوں صفحات پر مشتمل دیگر دستاویزات بھی جمع کرائی ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر مذکورہ افراد کی ذمہ داری سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے پولیس کی تفتیش پر متعدد اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے ناکافی قرار دیا ہے۔ پراسیکیوشن ذرائع کے مطابق کیس کے ساتھ انکوائری کمیشن کی مکمل رپورٹ منسلک نہیں کی گئی، جس کے باعث چالان کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
پراسیکیوشن نے ہدایت کی ہے کہ گل پلازہ اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی تمام متعلقہ فوٹیج بھی تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے تاکہ واقعے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پولیس نے متاثرہ دکان کے اردگرد موجود ممکنہ چشم دید گواہوں کو تلاش کرنے اور ان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ اسی وجہ سے تفتیش کو مزید مکمل کرنے اور تمام خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اب پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور دیگر ضروری شواہد شامل کر کے نظرثانی شدہ چالان دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی مضبوط قانونی بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔ -

کراچی میں دکان میں دھماکہ، 5 افراد زخمی
کراچی: شہر کے علاقے شیرشاہ میں جناح روڈ کے قریب واقع ایک دکان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھماکا دکان کے اندر موجود زیر زمین پانی کے ٹینک میں گیس جمع ہونے کے باعث ہوا۔ گیس کے دباؤ میں اچانک اضافے کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا جس سے دکان کو نقصان پہنچا اور وہاں موجود افراد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ملبے سے نکال کر سول اسپتال کراچی کے برنس وارڈ منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور اسباب کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ زیر زمین ٹینکوں، بند جگہوں اور گیس سے متعلق تنصیبات کی باقاعدہ جانچ کرائیں تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر یا ممکنہ غفلت کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔ -

حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہئے، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں-
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کا آدھا بجٹ سود میں جاتا ہے، ایک اقلیتی رکن نے بھی کہا کہ سود اللہ سے جنگ ہے، لیکن اس کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھایا جا رہا ہے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا پورا بوجھ پاکستانی عوام پر پڑتا ہے سود کی ادائیگی کے باعث 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، نئے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا اور مہنگائی 8 فیصد بڑھی، مہنگائی کے دور میں نجی شعبے کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخوا ہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو 43 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں بلاول بھٹو یہ بھی بتائیں کہ ان کے والد کی زمینوں پر کام کرنے والے ہاریوں کی کم از کم تنخواہ کتنی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بدترین فسطائیت قائم ہے عوامی رائے کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کراچی کا میئر قابض ہے ، یہاں بھی جمہوریت کو قبول نہیں کیا گیا،سندھ میں گزشتہ 40 سال سے پیپلز پارٹی حکمران ہے، اس کے باوجود صوبے کے بچوں کی حالت زار نہیں بدلی، ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، نہ مناسب سڑکیں ہیں اور نہ ہی معیاری تعلیم۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں، صوبے پر 18 سال سے پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے، اندورنِ سندھ میں بچوں کو تعلیم اور صحت کیوں نہیں مل رہی، بنیادی صحت مراکز کا برا حال ہے، سندھ میں تعلیم روزگار اور صحت کا فقدان ہے، شہر میں سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سوال ہے ان سے جن لوگوں نے میئر اور پیپلز پارٹی کو ہم پر مسلط کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے شہر کی سڑکوں کا بھی برا حال ہے کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے جماعت اسلامی کی جا نب سے پیش کی گئی انٹرن شپ آفر کے لیے 8 ہزار بچوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں سندھ حکومت نے طلبہ کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن ملی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شہر کے مسائل پر کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ کبھی بریف کیس لے کر گلگت بلتستان اور بلوچستان پہنچ جاتے ہیں گلگت بلتستان میں ارکان کی خرید فروخت ہمارے ٹیکس کے پیسوں سےکی جا رہی ہے، پیٹرول پر لیوی کا اطلاق ان پر ہو رہا ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، لیوی اس لیے کم کی گئی ہے کہ ہدف پورا کر کیا گیا، لیویز کا نفاذ ناجائز ہے، لیوی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے،28 فروری کی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی قیمتیں کم کیوں نہیں کی گئیں-
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخ کم کیے جائیں ، سلیب سسٹم ختم کیا جائے، آئی ایم ایف کے کہنے پر لیوی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے یہ 24 واں آئی ایم ایف پروگرام ہے اور ہر مرتبہ یہی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہوگ حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چا ہیے۔شہر کے 90 فیصد لوگ موٹر سائیکل استعمال کر تے ہیں، اس لیے عوام کو فوری ریلیف دیا جانا چاہیے بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی کی جا رہی ہے آئی پی پیز کے معاہدوں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جانا چا ہیے انہوں نے وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ ایف بی آر کیا کر رہا ہے ، 80 فیصد ٹیکس بھی جمع نہیں کر پاتا اور اس کے 25 ہزار ملازمین موجود ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے 800 ارب روپے اپنے انتظامی اخراجات پر خرچ کر دیے ہیایران نے امریکا اور اسرائیل کو شکست دی ہے، تاہم اسرائیل اب بھی لبنان پر حملے اور فلسطین پر بمباری کر رہا ہے انہوں نے مسلم ممالک سے اسرائیل کے خلاف مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا اور مزید کہا کہ حکومت نے ثالثی کے حوالے سے جو کردا ر ادا کیا، وہ ایک اچھا اقدام تھا۔