Baaghi TV

Category: کراچی

  • جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف

    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف

    جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف

    کراچی کے جناح انٹرنشنل ائیرپورٹ کے فوڈ کاؤنٹرز پر نامناسب پیپر پلیٹ میں کھانا دینے کا انکشاف ہوا ہے جیو نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے جناح ٹرمینل پر ایک مسافر نے مخصوص میڈیکل پروڈکٹ کی پیکنگ سے بنی پیپر پلیٹ میں سینڈوچ کھاتے ہوئے پلیٹ پر پروڈکٹ سے متعلق لکھی تحریر نوٹ کی۔

    مسافر نے پیپر پلیٹ اور فوڈ کاؤنٹر کی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ بارڈر ہیلتھ سروسز نے اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے کنڈوم پیکنگ کی پیپر پلیٹ میں کھانے کی اشیا دینے والی کمپنی کے کراچی ائیرپورٹ پر تمام فوڈ کاؤنٹرز سیل کر دیے۔ جبکہ ڈائریکٹر بارڈر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مرتضیٰ شاہ کا کہنا تھاکہ حفظان صحت کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہدایت وفاقی وزیر صحت کی جانب سے کی گئی تھی، اس معاملے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ائیر پورٹ منیجر کی بدترین غفلت بھی سامنے آئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ذرائع کا بتانا ہے کہ جناح ٹرمینل پر کئی دنوں سے ملکی اور غیر ملکی مسافروں کو اسی پیپر پلیٹ میں کھانے کی اشیا پیش کی جا رہی تھیں۔ اُدھر ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر قابل اعتراض تحریر والی پیپر پلیٹس استعمال کرنے والی کمپنی کے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی سیٹلائٹ ایریا میں موجود تمام کاؤنٹرز سیل اور بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

  • عارف علوی صدر کم اور ٹائیگر فورس کے بندے زیادہ لگتے ہیں،شرجیل میمن

    عارف علوی صدر کم اور ٹائیگر فورس کے بندے زیادہ لگتے ہیں،شرجیل میمن

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلا س ہوا

    اجلاس میں صوبائی وزرا، مشیر، معاون خاص، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے اجلاس میں 24 نکات شامل ہیں جن پر غور کیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے، گزشتہ کابینہ کے اجلاس منٹس منظور کیے گئے، بی آر ٹی ریڈ لائن پر وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے بریفنگ دی ریڈ لائن ایشن ڈولپمنٹ بینک اور دیگر ایجنسیوں کے تعاون سے تعمیر ہو رہا ہے بی آر ٹی ریڈ لائن کا روٹ ملیر ہالٹ تا ملیر کینٹ، صفوراں، یونیورسٹی روڈ اور نمائش سے ٹاور تک ہے الادین پارک کی 16 ایکڑ اراضی بی آر ٹی ریڈ لائن بس ڈیپو کیلئے حاصل کرنے کی منظوری دے دی گئی، شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بس ڈیپو پر بسوں کی پارکنگ، بس انسپیکشن ایریا، بسز کی فلنگ اسٹیشن، ورکشاپ اور واچ ٹاور قائم کیا جائے گا،

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

    سندھ حکومت نے گوٹھوں کی لیزکے لئے کمیٹی بنائی ہے،

    ،پانی میں کرنٹ کے کوئی شواہد نہیں ملے،

    علاوہ ازیں سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عارف علوی صدر کم اور ٹائیگر فورس کے بندے زیادہ لگتے ہیں ، آئینی کردار کی تو دور کی بات وہ غیر آئینی کام کر رہے ہیں جس منصب پر وہ بیٹھے ہیں اُس کا .اُن کو خیال نہیں ہے ثاقب نثار تو عمران سے ان کے دفتر میں ملاقاتیں کرتے رہے، عمران خان ان کو اشارے سے بولتا ہے کھڑے ہوجاو تو کھڑے ہوتے ہیں ، بیٹھ جاو تو بیٹھ جاتے ہیں۔ایک گری ہوئی ذہن کا لیڈر موجود ہے مُلک میں جو پورے مُلک میں پیغام اور نفرت کیسے پھیلا رہا ہے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جس کے لئے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔جسٹس قاضی فائز کا پارلیمنٹ آنا فخر کی بات تھی، پارلیمنٹ سے مقدس ادارہ کوئی نہیں، تمام ججز کو دعوت دی گئی تھی،

  • اردو کے معروف  شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار احفاظ الرحمان

    اردو کے معروف شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار احفاظ الرحمان

    کر دیتا ہے مٹی کے اندر بھی اجالا سا
    ہو جائے اگر کوئی مینار سپرد خاک

    احفاظ الرحمان اردو کے معروف شاعر، ادیب،صحافی اور کالم نگار تھے۔ وہ 04 اپریل 1942 کو جبل پور ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)چین،عظیم انقلاب،عظیم تاریخ
    کراچی،فرید پبلشرز ،
    (2)چیئرمین ماؤ کے ساتھ لانگ مارچ۔ ترجمہ
    (3)نئی الف لیلہ(Nai Alif Laila)
    کراچی،فرید پبلشرز، (شاعری)
    (4)چو این لائی(Chou En Lai)
    کراچی،فرید پبلشرز، (سوانح)
    (5)تاریخِ چین۔ کراچی۔ فرید بک پبلشرز
    (6)جنگ جاری رہے گی
    کراچی،سٹی بک پوائنٹ، (مضامین)

    احفاظ الرحمن
    ۔۔۔۔۔۔
    زندہ ہے زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    زاہدہ حنا
    ۔۔۔۔۔۔

    زندگی کے کئی برس اُس احفاظ الرحمن کے ساتھ گزرے جو شعلہ نفس اور شرر بار تھا۔ یہ وہ دن تھے جب جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا ڈنکا بجتا تھا۔ باضمیر صحافیوں کا مقدر زنداں تھا، ان کی پشت کوڑوں سے ادھیڑی جاتی تھی اور معاش کا پرندہ ان کے گھر کی منڈیر سے اڑا دیا جاتا تھا، اُس کے پر کتر دیے جاتے تھے۔ ایسے میں کئی تھے جو خموشی سے ملک چھوڑ گئے۔ چند نے سرِ تسلیم خم کر لینے میں عافیت سمجھی اور کچھ وہ بھی تھے جنھوں نے دمشق کے دربار کی طرف قدم نہیں اٹھایا، نہ قلم کی آبرو کسی ملٹی نیشنل کے ہاتھوں فروخت کی۔ نوک قلم سے لفظوں کی مزدوری کی اور اپنے گھر والوں کو روکھی سوکھی کھلائی، ادھڑے ہوئے جوتوں اور گِھسی ہوئی قمیصوں میں زندگی گزارنے کو اپنا اعزاز جانا۔

    احفاظ کا اور میرا ان ہی کڑے موسموں کا ساتھ ہے۔ ہم نے بھنی ہوئی شکرقندی پر نمک اور کُٹی ہوئی سرخ مرچ بُرک کر کھائی اور یوں خوش ہوئے جیسے مغلئی دستر خوان کے شاہی ٹکڑوں سے لطف اندوز ہوئے ہوں۔ مفلسی کا جشن مناتے ہوئے بُھنے ہوئے گرم چنوں کی سوندھی خوشبو ہماری سنگی ساتھی تھی۔ احفاظ اگر یہ مشکل زندگی ہنس کر گزار سکے تو اس لیے کہ مہ ناز ان کے دکھ سکھ کی شریک تھی اور صبر کے دریا میں شکر کی نائو ہنستے ہوئے کھیتی تھی۔ میرا جی خوش ہوا کہ اپنے نئے مجموعے ’زندہ ہے زندگی‘ کا انتساب احفاظ نے مہ ناز اور اپنے بچوں کے نام کیا ہے۔

    احفاظ الرحمان سے میری دوستی پر 35 برس کے سورج طلوع ہوئے اور چاند چمک گئے۔ پھر وہ دن آئے جب احفاظ، مہ ناز اور بچوں کے ساتھ چین چلے گئے‘ میں نے انگلستان کا رخ کیا۔ وہ دونوں وہاں استقامت سے آٹھ برس ڈٹے رہے۔ مجھ سے لندن میں نہ رہا گیا اس لیے بی بی سی کو رخصتی سلام کیا اور ڈیڑھ برس میں ہی واپس آ گئی۔ عرصۂ دراز بعد ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وقت نے احفاظ کا کچھ نہیں بگاڑا۔ ان کی نازک مزاجی اور اپنے ایمان پر یقینِ کامل آج بھی ان کے وجود کا بنیادی جزو ہیں۔

    جہاں تک ان کے ایمانِ کامل کا معاملہ ہے تو اس کی گواہ ان کی تحریریں‘ ان کی صحافتی جدوجہد اور کراچی پریس کلب کے در و دیوار ہیں۔ انھوں نے کتنی ہی جیلیں کاٹیں‘ کتنی ہی لاٹھیاں کھائیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کتنی ہی تحریصات اور ترغیبات کے دام سے بچ کر نکلے، اس کا حساب ان کے قریب ترین لوگ خوب جانتے ہیں۔ زیادہ پرانی نہیں 2007ء کی بات ہے یہ جنرل مشرف کی بے لگام حکمرانی کے آخری دن تھے، جب میں نے پریس کلب کے سامنے انھیں سڑک پر گرتے ہوئے اور پولیس کی لاٹھیاں کھاتے اور گرفتاری دیتے دیکھا۔

    انھوں نے نثر لکھی، شاعری کی ۔ ان کے لکھے ہوئے اور بولے ہوئے ہر لفظ کا قبلہ راست رہا۔ ہمارے یہاں ایسے متعدد شاعر گزرے ہیں، جنھوں نے بغاوت اور سیاستِ دوراں کو اپنی شاعری کے ماتھے کا جھومر بنایا اور غیروں کے یہ بول سہے کہ شاعری اور سیاست کا بھلا کیا سمبندھ۔ احفاظ بھی ان ہی میں سے ہیں جن کی شاعری میں سیاست لہو کی طرح گردش کرتی ہے۔

    احفاظ الرحمان بغاوت، آزادی اور جمہوریت کی لڑائی لڑنے والے اس نام دار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جس کا شجرۂ نسب ڈھائی ہزار سال پرانا ہے اور یونانی ادیبوں سے ملتا ہے اور جس میں اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی کے کیسے نامی گرامی برطانوی، فرانسیسی، امریکی، ایرانی، لبنانی، عراقی اور فلسطینی شاعروں کے نام آتے ہیں۔

    یہ وہ ہیں جو رگِ گل سے بلبل کے پر نہیں باندھتے۔ جن کی لکھی ہوئی سطروں میں اپنے عہد کا آشوب سانس لیتا ہے۔ ہم عشقی، نازک الملائکہ اور نزار قبانی کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ کیسے بُھلائے جا سکتے ہیں جو دنیا کے سات براعظموں میں زندہ رہے اور انسانوں کے بارے میں لکھتے رہے۔ جنھوں نے رنگ، نسل، مذہب اور علاقے کی تفریق کے بغیر مظلوموں کا ساتھ دیا اور اپنے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، ان ہی میں سے ایک جون لینن تھا جو بیٹیلز گروپ کا سب سے متحرک رکن تھا۔

    اس کے 25 کروڑ سے زیادہ البم فروخت ہو چکے ہیں اس کا شمار برطانیہ کی ہزار برس کی تاریخ کے چند عظیم ترین موسیقاروں اور گلوکاروں میں ہوتا تھا۔ انگریزوں نے اسے اپنی تاریخ کی 100 عظیم شخصیات کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا۔ وہ امن و انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش رہا‘ اس نے ویت نام کی جنگ کے خلاف اپنی شاعری اور گلوکاری سے نوجوانوں کو بغاوت پر آمادہ کیا۔

    انہیں ملکہ برطانیہ نے ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش امپائر اپنے ہاتھوں سے دیا تھا لیکن بیافرا نائیجیریا کے تنازعہ میں برطانوی مداخلت اور ویت نام میں برطانیہ کی امریکی حمایت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کا یہ اعلیٰ ترین اعزاز واپس کر دیا تھا پھر انہوں نے امریکا میں رہائش اختیار کی جہاں ایف بی آئی نے اس کی کڑی نگرانی شروع کر دی‘ وہ حق و انصاف کی بات کر رہا تھا، سی آئی اے نے طے کیا کہ وہ اپنے سیاسی نظریات کا زہر اپنے گانوں کے ذریعے ان گنت امریکی نوجوانوں میں منتقل کر رہا ہے۔ اس جرم بے گناہی میں وہ قتل کر دیا گیا۔ احفاظ نے اس کے گیت ترجمہ کیے جو ’’زندہ ہے زندگی‘‘ میں شامل ہیں۔

    احفاظ نے باب ڈیلن ایسے باغی گلوکار اور شاعر کے گیت کے ترجمے بھی اپنے تازہ مجموعے میں شامل کیے ہیں۔ یہ وہی باب ڈیلن ہے جس نے امریکی سماج میں طاقت اور دولت کی بازی گری اور منافقانہ سیاست کی سفاکیوں کو بے نقاب کیا۔ جسے ٹائم میگزین نے بیسویں صدی کی سب سے اثر انگیز اور پرُکشش شخصیات میں سے ایک قرار دیا اور جو ایک دردمند دانش ور کی حیثیت سے امریکی سماج کی منتشر اور متضاد تصویروں کے اندر جھانکتا ہے‘ انھیں ٹٹولتا ہے اور ان کے اندر اپنی موسیقی کے تیکھے اور باغی رنگ بھر دیتا ہے۔ اس کے خیالات کو وہ اردو کا جامہ یوں پہناتے ہیں:

    تم چاہتے ہو، میں مان لوں کہ… عالمی جنگ جیتی جا سکتی ہے… لیکن میں تمہاری آنکھوں کے اندر… اتر سکتا ہوں… اور میں تمہارے دماغوں کے اندر… جھانک سکتا ہوں… تم ٹریگر فکس کرتے ہو… کہ لوگ اس سے فائر کریں… پھر تم آرام سے بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہو۔‘‘

    احفاظ ہمیشہ خوابوں کے تعاقب میں رہے اور اسی تعاقب کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’’زندگی بہت سخت جان، بہت توانا ہے۔ زندگی محبت کی خوشبو پھیلاتی ہے اور وہ نفرت کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ زندگی کے ہاتھ پہیا ایجاد کرتے ہیں، اس کے دشمن اپنی بالادستی اور برتری کی ہوس میں ایٹم بم بناتے ہیں۔

    دوسروں کو اپنا محتاج اور غلام بنانے کی یہ ہوس سیاسی اور معاشی غلامی کا چلن عام کرتی ہے، نا انصافی کی بھیانک شکلوں کو فروغ دیتی ہے، اونچ نیچ کی دیواریں کھڑی کرتی ہے، لمحہ لمحہ محرومیوں کا زہر پینے والے مجبور اور نادار لوگوں پر قہقہے لگاتی ہے، رات دن مئے عشرت کے جام لنڈھانے والے حاکموں کو بڑھاوا دیتی ہے اور رنگ، نسل، مذہبی عقیدے اور جغرافیائی حد بندیوں کے نام پر ہر گلی، ہر کوچے کو نفرتوں اور تعصبات کے سانپوں سے بھر دیتی ہے۔

    ہم اس خونیں تماشے کے چشم دید گواہ ہیں۔ ہمارے شہروں پر یہ عذاب گزر رہے ہیں۔ ہم ملکوں ملکوں استعمار کی مسلط کردہ جنگیں دیکھتے ہیں، درندہ صفت دہشت گردوں کے خود کش حملوں کو سہتے ہیں۔ شہروں شہروں خون کا دریا بہتا دیکھتے ہیں۔ اسی خوں آشام قبیلے کے بارے میں احفاظ نے لکھا: فصل کانٹوں کی جو اُگاتے ہیں… پھول کے دل کا حال کیا جانیں… خون جن کی غذا ہے، وہ وحشی… پیار کی بول چال کیا جانیں… بچیوں پر جو وار کرتے ہیں… مامتا کا ملال کیا جانیں… امن کے دشمنوں کی بم باری… موت کے خوگروں کی خوں باری۔

    ہمارے شہر جس آشوب سے دوچار ہیں، بارود ان پر جس طور برستی ہے، ہنستے ہوئے بچوں کی چلبلاہٹیں جس طرح خون میں نہلائی جاتی ہیں، اس کی اذیت انھیں فیضؔ کے اس مصرعے کی تصویر بنا دیتی ہے کہ ’آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی‘ اور بے اختیار پکار اٹھتے ہیں۔… کہیں سے کوئی روشنی… کہیں سے کوئی راگنی… اُمڈ کے آئے اور… ملال کی رگوں سے کلفتیں نچوڑ لے… فریب خوردہ شہر کو صلیب سے اتار لے۔

    فریب خوردہ شہر صلیب سے کب اترے گا اور کون اسے اتارے گا، ہم نہیں جانتے، وہ بھی اس سے آگاہ نہیں، اسی لیے وہ ’ہوائے ملال کی تیزی‘ کا شکوہ کر نے کے ساتھ ہی یہ مژدہ سناتے ہیں کہ ’قفس کوئی بھی ہو، اس کا مقدر ٹوٹ جانا ہے زندگی پر ان کے ایمان کا اندازہ ان سطروں سے ہوتا ہے۔… وقت صدیوں سے یوں ہی… مچلتا ہوا، گنگناتا ہوا، رقص کرتا ہوا… ایک پیغام لکھتا رہا سدا… یہ زمیں سانس لیتی رہے گی سدا… زندگی کا ترانہ تو سرسبز ہے… کچھ رہے نہ رہے، زندہ ہے زندگی۔

    ان کی نظموں میں نوم چومسکی، خلیل جبران اور ہوزے مارتی کے حوالے ہیں، ان کی سطروں میں گزرے ہوئے اور موجود دانشوروں کے خیال کی خوشبو سانس لیتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ انصاف ہے جو کسی سماج کی تعمیر کرتا ہے۔ ناانصافی… انتشار اور زوال کو جنم دیتی ہے۔ طاقت… انصاف کے خون سے اپنی پیاس بجھاتی ہے اور جہاں جمہوریت نہ ہو، وہاں سرسبز پیڑ جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔
    احفاظ کے لفظوں اور لکھت میں جو طاقت اور دانش ہے، وہ ان کی شاعری میں جھلکتی ہے اور اسے دیکھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ کاش احفاظ اپنا زیادہ وقت اپنی تخلیقات کو دے سکیں اور اپنے پیچھے دانشوری اور شاعری کا ایک شاندار خزینہ چھوڑ جائیں۔
    (آرٹس کونسل کراچی کی چھٹی عالمی اردو کانفرنس میں پڑھا گیا)

    احفاظ الرحمان 12 اپریل 2020ء کو کراچی میں خالق حقیقی سے جا ملے-

  • ایس ایس پی ملیر حسن سردار نیازی کی  پریس کانفرنس؛ اہم ملزمان گرفتار

    ایس ایس پی ملیر حسن سردار نیازی کی پریس کانفرنس؛ اہم ملزمان گرفتار

    ایس ایس پی ملیر حسن سردار نیازی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 29 مارچ کو ایک قتل شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کی حدود میں پیش آیا تھا جبکہ دہشتگردوں نے گرنیڈ سے حملہ کیا تھا پولیس موبائل پر اور پولیس موبائل پر دستی بم حملے کی زمہ داری کالعدم بی ایل ایف نے قبول کی تھی.

    انہوں نے مزید کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی اس حوالے سے سامنے آئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار ملزموں نے یہ حملہ کیا تھا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے اس کیس پر کام کیا لہذا آج ہمیں اس حوالے سے کامیابی ملی ہے. ان کا کہنا تھا کہ میجر گہرام بلوچ نامی دہشتگرد نے اس حملے کی زمہ داری سوشل میڈیا پر قبول کی تھی علاوہ ازیں دو ملزم گرفتار کئے گئے ہیں جو ملزم لیاری کے رہنے والے ہیں جبکہ علی حسن سانگو نامی بی ایل ایف کمانڈر کےلئے کام کرتے ہیں اور یہ آٹھ ماہ سے دونوں ملزم کمانڈر سے رابطے میں تھے

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف پوائنٹس کی ملزموں نے ریکی کی ہوئی تھی اور کراچی میں انہوں نے غیر ملکی چینی باشندوں پر حملہ کرنا تھا جبکہ انہوں نے ریکی بھی ایک حملے کے لئے مکمل کرلی تھی اور ملزموں کا حملہ سی پیک کو متاثر کرنے کی سازش بھی تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ایس ایس پی ملیر حسن سردار نیازی کے مطابق ملزموں کو علی حسن سانگو نے پانچ گرنیڈ اور 80 ہزار روپے فراہم کرچکا تھا جبکہ ملزم علی حسن سانگو ایران میں روپوش ہے اور ملزموں نے دو روز بعد تربت نکلنا تھا اور 26 کو واپس انا تھا مگر انہیں گرفتار کرلیا گیا اور 26 تاریخ کو شری بلوچ خاتون خودکش حملہ آوور کی برسی ہے ملزموں نے شری بلوچ کی برسی پر بھی ایک دہشتگردی کی کارروائیاں کرنا تھی

  • پی آئی اے ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پی آئی اے ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پی آئی اے ملازمین تنخواہوں سے محروم

    فنڈز نہ ہونے کے سبب پی آئی اے کے افسران بشمول پائلٹس اورفضائی عملے کو مارچ کی تنخواہ نہ مل سکی۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے ملازمین اور فضائی عملہ تنخواہوں سے محروم ہے، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کے پے گروپ 5سے10کے افسران سمیت پائلٹس اور فضائی عملے کو مارچ کی تنخواہ تاحال نہ مل سکی۔
    https://twitter.com/SargaramNews/status/1645764338874220544
    ماہ رمضان کے آخری عشرے کے باوجود تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرملازمین و افسران میں تشویش پائی جارہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    واضح رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے پی آئی اے کے اکاؤنٹس سے ایک ارب 40کروڑ روپے کی وصولی جبکہ وزیرخزانہ کی جانب سے30کروڑ کی رقم جمع کروانے کے سبب مالی بحران پیدا ہوا۔ تاہم ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس کی مد میں مزید 1ارب 70کروڑاگلے ہفتے تک جمع کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم

    کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم

    کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم

    صحافی عبدلولی نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی مردم شماری میں نیا انکشاف، کراچی اور حیدر آباد ڈويژن کی آبادی میں صرف 29 لاکھ کافرق رہ گيا۔ کراچی ڈویژن کی اب تک آبادی ایک کروڑ 39 لاکھ اور حیدرآباد ڈویژن کی آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد شمار کی گئی ہے ۔جبکہ دونوں ڈویژن میں مردم شماری کا کام 95 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے۔ اب تک کی گنتی کے مطابق کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم بتائی جارہی ہے۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ساتویں خانہ و مردم شماری کا عمل جاری ہے۔ صوبہ سندھ کے بعض شہروں میں عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا، ادارہ شماریات نے مردم شماری میں 15 اپریل تک مزید توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ کراچی اورحیدرآباد میں مردم و خانہ شماری کا 95 فیصد عمل ہوچکا ہے۔ ڈائریکٹر ادارہ شماریات سندھ منور علی گھانگرو نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ کراچی سے شکایات موصول ہوئی ہیں اس پر دوبارہ ٹیمیں کام کررہی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ریکارڈ کے مطابق سندھ کی کل آبادی اب تک 4 کروڑ 85 لاکھ سے زائد شمار کی گئی ہے۔ کراچی ڈویژن کی اب تک کی آبادی ایک کروڑ 39 لاکھ شمار ہوئی ہے جو نامکمل ہے جبکہ حیدرآباد ڈویژن ایک کروڑ 10لاکھ، لاڑکانہ ڈویژن 71 لاکھ اور میرپور خاص ڈویژن کی آبادی 46 لاکھ سے زائد شمار کی گئی۔ شہید بینظیر آباد ڈویژن کی آبادی 56 لاکھ اور سکھر ڈویژن کی آبادی 60 لاکھ شہریوں پر مشتمل بتائی گئی ہے۔ تاہم سینسس حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو ڈیٹا 30 اپریل تک ارسال کردیا جائے گا۔

  • نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر پر پابندی سے متعلق درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی تقریر پر پابندی سےمتعلق درخواست دائر کی سماعت ہوئی،درخواست پر سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی۔

    آج پاکستان بھر میں لاکھوں مسلمان اعتکاف بیٹھیں گے

    درخواست گزارسمیرا مہدی کے وکیل نے موقف دیا کہ نوازشریف کی تقریرمیڈیا پر نشر کی جارہی ہےنواز شریف اپنی تقریر میں عدلہ اور معزز ججز پر الزام تراشی کرتے ہیں تمام ٹی وی چینلز کو نواز شریف تقریر نشر سے روکا جائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے نواز شریف نے عدالت سےضمانت حاصل رکھی ہےشہباز شریف بھی ضمانت پر ہیں تو کیا شہبازشریف کی تقریر پرپابندی بھی لگادیں؟عدالت نےہدایات کی کہ جن عدالتوں سےنوازشریف ضمانت ملی ہےآپ اس عدالت سےرجوع کریں عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔

    عمران خان نے 25 سال میں اپنا اینٹی امریکا امیج بنایا،حسین حقانی

  • انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید مہنگا ہوگیا

    انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید مہنگا ہوگیا

    انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر مزید مہنگا ہوگیا

    انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مزید مہنگا ہو گیا ہے جبکہ انٹر بینک تبادلہ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کا بھاؤ 2 روپے 44 پیسے مہنگا ہو کر 287 روپے 9 پیسے ہے۔ انٹر بینک کے گزشتہ کاروباری سیشن میں ڈالر 284 روپے 65 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ ایک روپے 50 پیسے اضافے سے 293 روپے ہے۔ دوسری جانب سونے کی فی تولہ قیمت میں آج ایک بار پھر بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 3100 روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت 2 لاکھ 17 ہزار 700 روپے ہو گئی ہے۔ جبکہ دس گرام سونے کا بھاؤ 2656 روپے اضافے سے 186643 روپے ہے جبکہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 6 ڈالر کم ہو کر 2002 ڈالر فی اونس ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز سونے کی قیمت میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہوا تھا اور سونا 2 لاکھ 14 ہزار 600 روپے تولہ تھا۔

  • ایم ڈی واٹر بورڈ میرے انڈر دیں، پانی نہ آئے تو کہیے گا،گورنر سندھ

    ایم ڈی واٹر بورڈ میرے انڈر دیں، پانی نہ آئے تو کہیے گا،گورنر سندھ

    کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ میرے انڈر دیں، پانی نہ آئے تو کہیے گا۔

    باغی ٹی وی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری سحری کرنے طارق روڈ پر واقع چائنیز ریسٹورنٹ میں پہنچے اور اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ آئی جی کو چار دن میرے انڈر میں دیں پانچویں دن میں ذمہ دار ہوں، اب میں کہتا ہوں ایم ڈی واٹر بورڈ میرے انڈر دیں پانی کا مسئلہ حل کردوں گا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ٹینکروں کے لیے پانی ہے اور لوگوں کے لیے نہیں ہے جب کہ گیس کے بڑے سپلائرز کا کہنا ہے کہ گیس موجود ہے۔

    صوابی میں پولیس اسٹیشن پر دستی بم حملہ،پولیس اہلکار سمیت 5 افراد زخمی

    گورنر سندھ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی بھائی اس انتظار میں نہ رہیں کہ کون اقتدار میں آئے گا، اوورسیز کیا ملک کو ڈیفالٹ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں؟ اوورسیز پاکستان کو امداد نہ دیں اس ملک میں پیسہ لگائیں کاروبار کریں۔

    انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان رات کے وقت بھائی ہیں، دن میں ناراض ہوتے ہیں، انہیں اعتراض ہے کہ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو مہندی کیوں لگ رہی ہے؟ آپ حافظ صاحب پریشان نہ ہوں، میں یہ سب اپنے پیسے سے کررہا ہوں حافظ صاحب آپ کو میرے افطار پر بھی اعتراض ہے، آپ کو اعتراض ہے کہ میں نے پکوڑوں میں کیوں چمچہ مارا؟ میں نے پکوڑوں میں ہی چمچہ مارا ہےآپ کی میئر شپ پر تھوڑی چمچہ مارا ہے،آپ کو تو مجھے مبارکباد دینی چاہیے تھی کہ پہلی بار کسی نے گورنر ہاؤس کھولا، گورنر ہاؤس میں عوام کے لیے وہ وہ کام کریں گے کہ لوگوں کی چیخیں نکل جائیں گی۔

    آئر لینڈ کے ڈبلن ائیرپورٹ پرغیرمتوازن لینڈنگ کے دوران پرواز کو حادثہ،رن وے بند

  • ون ویلنگ کے دوران ٹک ٹاک بنانے والی لڑکی ساتھیوں سمیت گرفتار

    ون ویلنگ کے دوران ٹک ٹاک بنانے والی لڑکی ساتھیوں سمیت گرفتار

    ون ویلنگ کے دوران ٹک ٹاک بنانے والی لڑکی ساتھیوں سمیت گرفتار

    ون ویلنگ کرتے ہوئے ٹک ٹاک بنانے کے شوق نے نوجوان لڑکی کو دوستوں سمیت حوالات کی سلاخوں کے پیچھے پہنچادیا۔ جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق شاد باغ پولیس نے لڑکی کو پیچھے بٹھاکر موٹرسائیکل پر ون ویلنگ کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے پر کارروائی کرتے ہوئے لڑکی سمیت 6 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

    ملزمہ ہما شہزادی اور اس کے ساتھی ون ویلنگ کرتے ہوئے خطرناک کرتب دکھاتے اور ٹک ٹاک بناتے تھے۔ خطرناک کرتبوں کے دوران ہما شہزادی موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھی ہوتی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزمان ون ویلنگ کے لیے رنگ روڈ سمیت لاہور کی کھلی سڑکوں کا انتخاب کرتے تھے اور لڑکی کو پیچھےبٹھا کر خطرناک کرتب دکھاتے تھے۔

    ملزمان کی ٹک ٹاک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شادباغ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ ہما شہزادی اور اس کے ساتھی ملزمان مجید، وقاص، رومان، اذان اور حارث کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا اور ان کے زیراستعمال موٹرسائیکلیں بھی تحویل میں لے لیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    اس حوالے سے ایس ایچ او شادباغ قمر عباس نےبتایا کہ ون ویلنگ کے دوران پیچھے بیٹھی لڑکی کو وارننگ دے کر تحفظ مرکز کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی اور دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والے ون ویلر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دریں اثنا ایس پی سٹی نے ون ویلروں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی پر شاد باغ پولیس کی ٹیم کو شاباش دی ہے۔