Baaghi TV

Category: قصور

  • 22 سالہ نوجوان کی شہہ رگ کٹی لاش،قتل یا خود کشی معمہ حل نا ہو سکا

    22 سالہ نوجوان کی شہہ رگ کٹی لاش،قتل یا خود کشی معمہ حل نا ہو سکا

    قصور
    قتل یا خودکشی تھانہ صدر قصور کے علاقے میں پیش آئے واقعہ کا تعین نا ہو سکا، پولیس مصروف تفتیش،رات 11 بجے نوجوان کو سپرد خاک کر دیا گیا

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن تھانہ صدر قصور کی حدود کھارا میں تقریباً صبح 8 بجے دن مقامی رہائشی نوجوان عدیل ولد سلیم انصاری بعمر 22 سال کو اپنے گھر میں بستر پر شہہ رگ کٹی کیساتھ پایا گیا جس کی چند سانسیں باقی تھیں
    فوری طور پر پولیس تھانہ صدر قصور کو مطلع کیا گیا جس نے ریسکیو 1122 کے ذریعے نوجوان کو بلہے شاہ ہسپتال قصور پہنچایا جہاں اس کی موت کی تصدیق ہو گئی
    پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر جائے وقوعہ پر کرائم سین کو طلب کیا جس نے شواہد اکھٹے کئے اور بیانات قلم بند کئے
    پوسٹ مارٹم کے بعد تقریباً رات دس بجے لاش ورثاء کے حوالے کی گئی اور رات گیاراں بجے نوجوان عدیل کو نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا
    تاہم ابھی تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ یہ قتل کی واردات ہے کہ خودکشی کی
    پولیس تھانہ صدر مصروف کاروائی ہے

  • دیسی گھی کی مٹھائیوں اور دریائی مچھلی کے نام پر لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ

    دیسی گھی کی مٹھائیوں اور دریائی مچھلی کے نام پر لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ

    قصور
    دیسی گھی کی مٹھائی،قصوری مچھلی کے نام پر فراڈ،چکن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ہوٹل مالکان کی من مانی،شہر قصور میں آنے والے زائرین و سیاح حضرات کو لوٹنے لگے

    تفصیلات کے مطابق قصور شہر میں آنے والے سیاحوں اور دربار بابا بلہے شاہ پر آنے والے زائرین کو قصور کے کچھ نام نہاد دکاندار بڑی بیدردی سے لوٹ رہے ہیں
    دیسی گھی کی مٹھائیوں کے نام پر ڈالڈہ گھی اور سینٹ ملا کر دیسی گھی کا نام دے کر لوگوں کو مٹھائیاں بیچی جا رہی ہیں اسی طرح قصوری مچھلی جو کہ قصور کے دریا ستلج کے نام سے منسوب کرکے بیچتے ہیں،حقیقتا فارمی مچھلی ہوتی ہے جسے لوگوں کو بے وقوف بنا کر مہنگا بیچا جاتا ہے اور قصور شہر کا نام بدنام کیا جا رہا ہے
    اسی طرح چکن کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ہوٹل مالکان نے کڑاھی گوشت و باربی کیو وغیرہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا تاہم اب چکن کی قیمتوں میں کافی کمی کے باوجود کسی نے بھی کڑاھی گوشت و دیگر چکن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جو کہ سراسر زیادتی ہے
    شہریوں نے کمشنر قصور،ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • قصور: صحافیوں کے اتحاد کے لیے مصالحتی کمیٹی کا  قابل تحسین کردار

    قصور: صحافیوں کے اتحاد کے لیے مصالحتی کمیٹی کا قابل تحسین کردار

    قصور،باغی ٹی وی (بیوروچیف غنی محمود)ضلع بھر کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام مصالحتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور شریف سوہڈل نے کی، جس میں سینئر صحافیوں سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

    صدر شریف سوہڈل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے صحافیوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے مصالحتی کمیٹی کا کردار قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2009 میں ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس قصور کی بنیاد رکھ کر اس سفر کا آغاز کیا گیا، جو 2018 میں ڈسٹرکٹ پریس کلب (DPC) قصور کے قیام تک جاری رہا۔ اس وقت ضلع بھر کے سینکڑوں صحافی اس فورم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے سینئر صحافیوں چوہدری ظفر اقبال، جاوید احمد سہوترا، ملک محمد آصف، اور سید افضل حیدر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے صحافتی اتحاد کی بنیاد رکھی۔

    اجلاس میں شریک دیگر سینئر صحافیوں میں چوہدری ندیم اختر، ملک عبدالعزیز، چوہدری صابر علی، سید تنویر اقبال، عطا قصوری، چوہدری ارشد منیر، رانا منصور احمد، عرفان سدھو، عمران نجفی، رانا عدنان بوبی، ملک مظہر کریم، سید عامر تقوی، ندیم چوہدری، مہر محمد عمران، محمد اسلم پرنس، محمد رمضان ساجد، رانا زاہد عمران، محمد طیب جوئیہ، رانا محمد الیاس، محمد اکرم شہکی، عمران انصاری و دیگر شامل تھے۔

    شرکاء نے صحافیوں کے اتحاد کے لیے اپنی رائے اور تجاویز پیش کیں، جنہیں مثبت اقدام قرار دیا گیا۔ اجلاس کے دوران سینئر صحافی ملک محمد آصف کی سربراہی میں قائم مصالحتی کمیٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ صدر شریف سوہڈل نے امید ظاہر کی کہ یہ کمیٹی ضلع کے تمام صحافیوں کو متحد کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کرے گی، جس سے نہ صرف صحافیوں کے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ ان کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔

    اجلاس کے اختتام پر صدر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور صحافی برادری کو ایک مضبوط اور متحد پلیٹ فارم فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • صاف ستھرا پروگرام ناکام ،قوم کے اربوں روپیہ برباد

    صاف ستھرا پروگرام ناکام ،قوم کے اربوں روپیہ برباد

    قصور
    پنجاب حکومت کا صاف ستھرا پنجاب پروگرام ناکام ہو گیا، سینما موڑ عیدے شاہ روڈ نزد عیدے شاہ قبرستان سمیت شہر بھر میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگ گئے، بدبو اور تعفن کے باعث علاقہ مکینوں کا جینا محال ہو گیا، شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر بلدیات، چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لے کر شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

    تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کا صاف ستھرا پنجاب پروگرام متعلقہ ٹھیکیداروں کی نااہلی اور غفلت کے باعث ناکام ہو گیا ہے
    شہر بھر میں صفائی ستھرائی کا نظام بہتر ہونے کی بجائے مزید ابتر ہو گیا ہے جس کے باعث پورے شہر سمیت مشتاق کالونی عیدے شاہ روڈ و دیگر ملحقہ آبادیوں میں جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگ گئے ہیں جنہیں باقاعدگی سے اٹھایا نہیں جا رہا
    علاقہ مکینوں کو ان گندگی کے ڈھیروں سے بدبو اور تعفن کے باعث پریشانی کا سامنا ہے اور علاقہ میں مہلک امراض کے پھیلنے کا خدشہ ہے
    عیدے شاہ روڈ میں کوڑے کرکٹ کا ڈھیر لگا رہتا ہے جسے اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی
    شہریوں کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری آنے کی بجائے مذید ابتر ہوا ہے کیونکہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جس نے شہر کو صاف ستھرا کرنے کی بجائے شہر کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا ہے اسی طرح نالوں اور نالیوں کی صفائی بھی نہیں کی جا رہی اور سیوریج کا پانی نالوں اور نالیوں سے ابل کر سڑکوں اور گلیوں میں آجاتا ہے اور پھر گھروں میں داخل ہو رہا ہے
    صاف ستھرا پنجاب پروگرام صرف ایک تشہیری مہم ثابت ہوا ہے جس پر عوام کا اربوں روپیہ ضائع کیا جا رہا ہے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر بلدیات، چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لے کر شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • قصور: ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصولی کا انکشاف

    قصور: ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصولی کا انکشاف

    قصور،باغی ٹی وی(بیوروچیف غنی محمود) ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصولی کا انکشاف

    قصور شہر میں ٹریفک پولیس کے غیر قانونی چالان اور سرکاری فیس کی جگہ پرائیویٹ اکاؤنٹ میں رقم وصول کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کے مطابق ٹریفک پولیس اہلکار چالان کی فیس وصول کرنے کے باوجود کوئی رسید فراہم نہیں کرتے اور ادائیگی کا تقاضا کرنے پر بدتمیزی کرتے ہیں۔

    ایک واقعے میں مقامی صحافی غنی محمود قصوری کے کزن حاجی قاسم نثار بھٹی نے بتایا کہ ان کی موٹر سائیکل میزان بینک بلھے شاہ روڈ قصور کے باہر پارک کی گئی تھی، جہاں سے ٹریفک پولیس کے لفٹر نے اسے اٹھا کر چوکی میں بند کر دیا۔ جب حاجی قاسم چوکی پہنچے تو انہیں 2000 روپے کا چالان تھما دیا گیا اور کہا گیا کہ رقم اہلکاروں کو ہی ادا کرنی ہوگی۔ شہری نے فیس بینک اکاؤنٹ میں جمع کروانے کی درخواست کی، لیکن اہلکاروں نے رقم جمیل نامی شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کی اور کسی قسم کی رسید فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

    شہریوں نے اس رویے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور ڈی پی او قصور، ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات عوامی اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

  • پولیس نے شاملات جگہ پر قبضہ کروانے کی کوشش کی،اہلیان علاقہ کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

    پولیس نے شاملات جگہ پر قبضہ کروانے کی کوشش کی،اہلیان علاقہ کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

    قصور
    پولیس کی موجودگی میں شاملاٹ جگہ پر قبضہ کی کوشش ناکام،اہلیان علاقہ کا ڈی ہی او قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن تھانہ راجہ جنگ کی حدود میں واقع موضع رام تھمن میں متعلقہ پولیس نے گاؤں کے چند لوگوں ساتھ مل کر شاملاٹ جگہ پر قبضہ کروانا چاہا جہاں کبھی کنواں ہوتا تھا اور جو جگہ گاؤں والوں نے خوشی اور غمی کے لئے مختص کی ہوئی تھی عدالتی احکامات کے باوجود قبضہ کروانے کیلئے اے ایس آئی آصف و دیگر نفری پہنچی تو اہلیان علاقہ نے متعلقہ پٹواری اور تحصیلدار کو بلایا جنہوں نے پولیس کو بتایا کہ ابھی کورٹ آرڈز کے مطابق یہ جگہ شاملاٹ ہے اور کوئی بھی اس پر قبضہ نہیں کر سکتا
    اہلیان علاقہ نے پولیس کی موجودگی میں جگہ پر قبضہ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی اور ڈی پی او قصور سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا

  • پاسپورٹ آفس رشوت کا گڑھ،بغیر رشوت کام ہونا ناممکن

    قصور
    پاسپورٹ آفس قصور رشوت کا گڑھ، آفس کے سیکیورٹی گارڈز رشوت لینے میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں،سالوں سے میڈیا و سوشل میڈیا پر سیکیورٹی گارڈز کی رشوت لینے کی سینکڑوں بار ویڈیوز وائرل ہوئیں تاہم سیکیورٹی عملے اور پاسپورٹ آفس عملے کے خلاف کاروائی نا ہو سکی،قصور کی عوام کا وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور پاسپورٹ آفس رشوت کا گڑھ بن چکا ہے جہاں بغیر رشوت کے کام ہونا کسی معجزے سے کم نہیں
    پاسپورٹ آفس کا سیکیورٹی عملہ رشوت لینے میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتا ہے اور بغیر کسی ڈر اور خوف کے لوگوں سے رشوت وصول کرتا ہے جبکہ پاسپورٹ آفس کے قیام سے ابتک سینکڑوں بار سیکیورٹی عملہ کی رشوت لیتے ہوئے ویڈیوز میڈیا و سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں تاہم کسی بھی سکیورٹی گارڈ و پاسپورٹ عملے کے خلاف کوئی بھی کاروائی نہیں ہو سکی جس سے ان کے بااثر ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
    ایک ویڈیو میں قصور پاسپورٹ آفس میں سیکیورٹی گارڈ کو 14000 بطور رشوت میں ایک عورت ساتھ ڈیل کرتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے تاہم کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور شاید ہو گی بھی نہیں کیونکہ یہ معمول کا کام بن چکا ہے
    سیکیورٹی عملہ و پاسپورٹ آفس عملہ آفس بننے سے ابتک بڑے ڈھرلے سے بغیر کسی ڈر اور خوف کے رشوت لے رہا ہے کیونکہ سینکڑوں بار میڈیا پر ویڈیوز آنے پر بھی ایک معمولی سیکیورٹی گارڈ تبدیل نہیں کیا گیا تو دیگر عملے کے خلاف کیا کارروائی ہو گی
    شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لے کر پاسپورٹ آفس کے سارے راشی عملے سے جان چھڑوانے کا مطالبہ کیا ہے

  • ادویات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،مریضوں کی بدعائیں اور گالیاں

    ادویات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،مریضوں کی بدعائیں اور گالیاں

    قصور
    ادویات کی قیمتوں میں بارہا اضافے نے لوگوں کو زندہ درگور کر دیا،مریضوں کی مہنگی ترین ادویات پر حکومت وقت کو شدید بدعائیں اور گالیاں

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے کی بجائے بارہا اضافہ کیا گیا ہے جس نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں
    گزشتہ چند ماہ سے ادویات کی قیمتوں میں پہلے ہی 300 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس سے اب بیچارے مریض دوائی کھانے سے بھی محروم ہو گئے ہیں حالانکہ ڈالر کی قیمت ابھی تک مستحکم ہے مگر اس کے باوجود ادویات کی قیمتوں میں اضافہ باعث تشویش ہے
    گورنمنٹ آف پاکستان نے عام ادویات یعنی او ٹی سی کی قیمتوں میں 20 فی صد اور ضروری ادویات یعنی بی ایم سی کی قیمتوں میں 14 فی صد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ادویات ساز اداروں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ بہت کم ہے اسے مذید 39 فیصد تک بڑھایا جائے
    اسی بابت ادویات کی بلیک میں فروخت جاری ہے
    زندگی سے تنگ مریض لوگ حکومت کو گالیوں اور بدعاؤں سے نواز رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی کروائی جائے

  • چکن کی قیمتوں میں کمی تاہم ہوٹلوں پر مہنگائی،نوٹس کا مطالبہ

    چکن کی قیمتوں میں کمی تاہم ہوٹلوں پر مہنگائی،نوٹس کا مطالبہ

    قصور
    چکن کا ریٹ 450 سے بھی کم تاہم ہوٹلوں پر کڑاھی گوشت و بار بی کیو کی قیمتیں ابھی تک پرانی اور زیادہ،عوام کا ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مینجمنٹ سے نوٹس کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور میں گزشتہ کچھ دنوں سے چکن کی قیمت 450 روپیہ فی کلو سے بھی کم ہے تاہم ہوٹل مالکان کی طرف سے مہنگائی کا رونا پھر بھی جاری ہے جب چکن کی قیمت 700 روپیہ فی کلو تھی تب ہوٹل مالکان نے چکن کڑاھی کی قیمت 1400 روپیہ فی کلو مقرر کی تھی اور لیگ پیس و لیگ پیس 450 روپیہ فی پیس کہ جس کا وزن بمشکل 250 گرام ہوتا ہے
    اب چکن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ہوٹل مالکان نے قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں کی جیبوں پر کھلے عام ڈاکہ زنی کی جا رہی ہے جس پر عوام نے پرائس کنٹرول مینجمنٹ اور ضلعی انتظامیہ سے قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ چکن کی قیمتوں کے مطابق ہوٹلوں کو قیمتیں کم و زیادہ کرنے کا پابند بنایا جائے
    اگر گوشت کی قیمت میں کمی ہوتی ہے تو ہوٹل مالکان بھی اپنی قیمتیں کم کریں اگر گوشت کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو قیمت میں اضافہ کیا جائے نا کہ مہنگے گوشت کی آڑ میں سستا ہونے پر بھی عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مارا جائے

  • بینکوں کے باہر موٹرسائیکلوں کی قطاریں،ٹریفک جام رہنا معمول ،بینکوں کو پارکنگ بنانے کا پابند بنایا جائے

    بینکوں کے باہر موٹرسائیکلوں کی قطاریں،ٹریفک جام رہنا معمول ،بینکوں کو پارکنگ بنانے کا پابند بنایا جائے

    قصور سٹی میں بابا بلھُے شاہ روڈ پر واقع بینکوں کے باہر کھڑی موٹر سائیکلوں کے باعث ٹریفک جام رہنا روز کا معمول بن گیا کسی بھی بینک کی پارکینگ نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز سے مزار پر آنے والے زائرین اور شہریوں کو گزرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ ریلوے روڈ پر کثیر تعداد میں بینک موجود ہیں جہاں پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان بینکوں میں آتے ہیں اور ان بینکوں کی پارکنگ نہ ہونے کے باعث انہیں اپنی موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں سڑک پر ہی پارک کرنا پڑتی ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر ٹریفک جام رہنا روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شہری فلاحی اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بینکوں کو اپنی پارکینگ بنانے کا پابند کیا جائے تاکہ ٹریفک کے مسائل میں کمی واقع ہو سکے