Baaghi TV

Category: خانیوال

  • وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی کی زیر صدارت اہم اجلاس

    وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی کی زیر صدارت اہم اجلاس

    وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ضلع خانیوال میں جاری تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر کام میں تیزی آگئی-

    وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام شاہ نے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار اور محکموں کی سروس ڈیلیوری کا جائزہ لینے کے لئے خانیوال کا دورہ کیا اور ڈی سی دفتر میں اجلاس کی صدارت کی- وفاقی وزیر کو اس موقع پر سالانہ ترقیاتی پرگرام،ریپ سمیت دیگر منصوبوں،محرم الحرام کیلئے سیکورٹی پلان،محکمہ صحت،تعلیم،لائیو سٹاک،کالجز کی کارکردگی بارے آگاہ کیا گیا-

    ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی بھی وفاقی وزیر کے ہمراہ تھے-جبکہ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ شاہد رحمن نے بریفنگ دی- بلڈنگز،پولیس،روڈز،لائیو سٹاک،تعلیم و دیگر محکموں کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی- جبکہ پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عمران پرویز دھول بھی اس موقع پر موجود تھے -_وفاقی وزیر سید فخر امام شاہ نے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے،میٹریل کی کوالٹی بہتر بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا- انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان خود پسماندہ اضلاع کی ترقی ہر فوکس کئے ہوئے ہیں
    محکمہ لائیو سٹاک دورہ افتادہ علاقوں میں میں جانوروں کی ویکسینینش تیز کرے-انہوں نے کہاکہ اداروں میں سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جائے

    ہماری پہلی ترجیح عوام کی خدمت ہونی چاہیئے-انہوں نے مزید کہا کہ عاشورہ محرم الحرام کو پرامن رکھنے کے لئے تمام مکاتب فکر کو آن بورڈ رکھا جائے-مہنگائی کے کنٹرول کے لئے سخت اقدامات اٹھائے-ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی پالیسی کے مطابق تمام اداروں کے سربراہان کو عوام کے کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کا پابند کیا گیا ہے- ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں

  • ضلع بھر میں شجر کاری مہم تیزی سے جاری

    ضلع بھر میں شجر کاری مہم تیزی سے جاری

    ضلع خانیوال میں شجرکاری مہم بھرپور انداز سے جاری جدید فیڈز بھی ضلع کو سرسبز بنانے میں ضلعی انتظامیہ کے شانہ بشانہ

    جدید فیڈز کی جانب سے لاہور موڑ تا ٹال پلازہ دس ہزار درخت لگانے کا منصوبہ
    ڈپٹی کمشنر نے پودا لگا کر منصوبہ کا افتتاح کردیا۔

    افتتاحی تقریب میں ایچ آر منیجر طاہر بھٹی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات سرفراز انجم اور میڈیا نمائندگان کی بھی شرکت سماجی شعبہ میں میاں جان محمد محمود کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں 10 ہزار درخت عطیہ کرنے کا اقدام خوش آئند ہے

    نجی شعبہ اور شہریوں مہم شجر کاری مہم میں شمولیت ہماری کامیابی کی ضمانت ہے :ڈی سی
    ہر شہری کو کو شجرکاری میں اپنے حصے کا پودا لگانا چاہیے

  • 4 اگست یوم شہداء پولیس

    4 اگست یوم شہداء پولیس

    خانیوال:ملک بھر کی طرح ضلع خانیوال میں بھی یوم شہداء پولیس نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیا اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی کو ڈی پی آفس سے ملحقہ یادگار شہداءپولیس پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اس موقع پر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر غلام مرتضی بھٹی و دیگر پولیس افسران ہمراہ تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے یاد گار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی کاکہنا تھا کہ رواں سال کرونا وائرس کے پیش نظر شہداء ڈے کی تقریب کو محدود کیا گیا ہے۔شہداء پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج ملک میں امن کی جو فضاء قائم ہے اس کے پیچھے شہداء کی لازوال قربانیاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خانیوال پولیس کے 38 شہیدوں نے دہشت گردوں،سماج دشمن عناصر اورمعاشرے کے ناسوروں سے لڑتے ہوئے اپنی قیمتی جانیں قربان کی ہیں،ان کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    شہداء پولیس ہمارے سروں کے تاج ہیں اور شہداء پولیس کے بچے میرے اپنے بچے ان کے لئے دفتر کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ شہداء ڈے کے موقع پرملک و قوم اور شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔دریں اثناء ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کے احکامات پر یوم شہداء کے حوالہ سے ایس ڈی پی اوز اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر شہداء پولیس کے لوحقین کے گھر پہنچے اور جہاں انھوں نے ورثاء سے ملاقات کی اب کے مسائل دریافت کیئے اور ان میں راشن اور نقدی تقسیم کی۔

  • محرم الحرام کے حوالے سے پلان تشکیل دے دیا گیا

    محرم الحرام کے حوالے سے پلان تشکیل دے دیا گیا

    ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پولیس نے عاشورہ محرم الحرام کے لئے تشکیل کردہ پلان پر عملدرآمد شروع کردیا-

    اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر آغا ظہیرعباس شیرازی کی زیر صدارت محرم الحرام میں امن وامان کے سلسلہ میں لائسنسداران اورمنتظمین مجالس وجلوس منعقد ہوا جس میں اے ڈی سی آر محمداکرام ملک‘اے ڈی سی جی محمداختر منڈھیرا‘اے ایس پی سدرہ خان‘ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر غلام مرتضیٰ بھٹی سمیت دیگر سرکاری افسران نے شرکت کی-

    ڈپٹی کمشنر آغاظہیرعباس شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلع بھر میں امن کا قیام ہم سب کی ذمہ داری ہے جس کے لیے محرم الحرام کے دوران لائسنسداران مجالس وجلوس اپنا مثبت کرداراداکریں اورمہذب شہری ہونے کے ناطے محرم الحرام کے دوران شرپسند عناصر کے مذموم مقاصد کے خاتمہ کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔انہو ں نے کہاکہ محرم الحرام کے دوران شرانگیزی پھیلانے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئیگااور سوشل میڈیا پر انتشارپھیلانے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر کا اندراج کیا جائیگا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز‘ایس ڈی پی اوز چیف آفیسرز بلدیات لائسنسداران‘منتظمین مجالس وجلوس سے ملاقات کرکے شکایات کا ازالہ کریں ضلع بھر میں مجالس وجلوسوں کے روٹس پر صفائی ستھرائی‘ناجائزتجازوات‘لائٹس‘سڑکوں ونالیوں کی مرمت کو یقینی بنایا جائے۔دوران اجلاس حاضرین کی جانب سے محرم الحرام کے دوران امن کے حوالہ سے بھرپور یقین دہانی کرائی گئی۔

  • سینٹری ورکز کی حکومتی سطح پر پہلی بار حوصلہ افزائی

    سینٹری ورکز کی حکومتی سطح پر پہلی بار حوصلہ افزائی

    ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر بلدیہ کے سینٹری ورکرز کی حوصلہ افزائی

    سینٹری ورکرز اپنی پذیرائی پر مزید پرجوش ہوگئے.عید پر مثالی صفائی آپریشن پر میونسپل کمیٹی ورکرز کے اعزاز میں تقریب پزیرائی
    ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی نے سینیٹری ورکرز اور سپروائزرز میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے
    اے ڈی سی آر اکرام ملک،اسسٹنٹ کمشنر بختیار اسماعیل،چیف آفیسر افتخار بنگش ہمراہ موجود
    تقریب میں سینیٹری ورکرز کی کھانے سے بھی تواضع کی گئ

    ڈپٹی کمشنر کا 10 محرم سے قبل مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ورکرز کی مالی معاونت کا بھی اعلان کیا۔میونسپل کمیٹی کا ہر ورکر مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہے :ڈپٹی کمشنر
    وزیر اعلی کی ہدایت پر تقریب پزیرائی کا انعقاد کیا گیا

    میونسپل کمیٹی ورکرز کے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کی جائیگی:ظہیر عباس شیرازی
    تنقید سے گھبرانے بجائے کام پر بھرپور توجہ دی جائے گی ۔کام پہلے سے اچھا،اس میں مزید بہتری لائی جائے

  • ۸ذوالحج امام حسینؑ کی کربلا روانگی تحریر: ضیاء عبدالصمد

    ۸ذوالحج امام حسینؑ کی کربلا روانگی تحریر: ضیاء عبدالصمد

    کیا صرف مسلمان کے پیارے ہے حسینؑ
    چراغ نوع بشر کے تارے ہیں حسینؑ
    انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
    ہر قوم پکارے کی ہمارے ہیں حسینؑ

    واقعہ کربلا یا واقعہ عاشورا سنہ 61 ہجری کو کربلا میں پیش آیا ۔جس میں یزیدی فوج کے ہاتھوں امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب شہید ہوگئے۔ واقعہ کربلا مسلمانوں کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔

    روانگی کے اسباب

    مام حسینؑ نے چار ماہ کے قریب مکہ میں قیام فرمایا۔ اس دوران کوفیوں کی طرف سے آپ کو کوفہ آنے کے دعوت نامے ارسال کیے گئے اور دوسری طرف سے یزید کے کارندے آپؑ کو حج کے دوران مکہ میں شہید کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے اس بناء پر آپؑ نے یزیدی سپاہیوں کے ہاتھوں قتل کے اندیشے اور اہل کوفہ کے دعوت ناموں کے پیش نظر 8 ذی‌ الحجہ کو کوفہ کی جانب سفر اختیار کیاکوفہ پہنچنے سے پہلے ہی آپؑ کوفیوں کی عہد شکنی اور مسلم کی شہادت سے آگاہ ہو گئے کہ جنہیں آپ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے کوفہ روانہ کیا تھا۔ تاہم آپؑ نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ حر بن یزید نے آپ کا راستہ روکا تو آپ کربلا کی طرف چلے گئے جہاں کوفہ کے گورنر عبیدالله بن زیاد کی فوج سے آمنا سامنا ہوا۔ اس فوج کی قیادت عمر بن سعد کے ہاتھ میں تھی۔

    15 رجب سنہ 60 ہجری کے بعد، لوگوں سے یزید کی بیعت لی گئی۔ یزید نے بر سر اقتدار آنے کے بعد ان چیدہ چیدہ افراد سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا جنہوں نے معاویہ کے زمانے میں یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی بنا پر اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کے نام ایک خط ارسال کر کے معاویہ کی موت کی خبر دی اور ساتھ ہی ایک مختصر تحریر میں ولید کو "حسین بن علی، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر سے زبردستی بیعت لینے اور نہ ماننے کی صورت میں ان کا سر قلم کرنے کی ہدایت کی
    اس کے بعد یزید کی طرف سے ایک اور خط لکھا گیا کہ جس میں حامیوں اور مخالفین کے نام اور حسین بن علیؑ کا سر بھی اس خط کے جواب کے ساتھ بھجوانے کی تاکید کی گئی تھی۔چنانچہ ولید نے مروان سے مشورہ کیا؛ اور اس کی تجویز پر مذکورہ افراد کو دارالامارہ بلوایا گیا۔

    امامؑ اپنے 30 عزیز و اقارب کے ہمراہ دارالامارہ پہنچے۔ولید نے ابتداء میں معاویہ کی موت کی خبر سنائی اور پھر یزید کا خط پڑھ کر سنایا جس میں اس نے "حسینؑ سے اپنے لئے بیعت لینے کی تاکید کی تھی”۔ اس موقع پر امام حسینؑ نے ولید سے کہا: "کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں رات کی تاریکی میں یزید کی بیعت کروں؟ میرا خیال ہے کہ تمہارا مقصد یہ ہے کہ میں لوگوں کے سامنے یزید کی بیعت کروں”۔ ولید نے کہا: "میری رائے بھی یہی ہے”۔امامؑ، نے فرمایا: "پس، کل تک مجھے مہلت دو تا کہ میں اپنی رائے کا اعلان کروں”۔

    کوفیوں کے خطوط اور امامؑ کو دعوت قیام:

    سلیمان بن صُرَد خزاعی کا امام حسینؑ کے نام خط:
    ..اس خدا کا شکر بجا لاتا ہوں جس نے آپؑ کے دشمن کا خاتمہ کیا(معاویہ کی موت کی طرف اشارہ ہے)؛ وہ شخص جس نے اس امت کے خلاف بغاوت کی؛ ان کے اموال کو غصب کیا اور ان کی رضایت کے بغیر ان پر حاکم ہو گئے؛ اس کے بعد نیک لوگوں کو قتل کیا اور بدکاروں کو باقی رکھا اور بیت المال کو ثروتمندوں میں بانٹ دیا؛ خدا اسے قوم ثمود کے ساتھ محشور کرے؛ اس وقت ہماری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہے، تشریف لائیں، شاید خداوند متعال ہم سب کو آپ کی قیادت میں راہ حق پر متحد ہونے کی توفیق دے…

    طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۳۵۱.

    اس سفر میں سوائے محمد بن حنفیہ[18] کے اکثر عزیز و اقارب منجملہ آپؑ کے فرزندان، بھائی بہنیں، بھتیجے اور بھانجے آپؑ کے ساتھ تھے۔[19] بنی ہاشم کے علاوہ آپ کے اصحاب میں سے 21 افراد بھی اس سفر میں آپ کے ہمراہ تھے۔[20]

    آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ کو جب امام حسینؑ کے سفر پر جانے کی اطلاع ملی تو آپ سے خداحافظی کیلئے آئے۔ اس موقع پر امامؑ نے بھائی کے نام تحریری وصیتنامہ لکھا جس میں درج ذیل جملے بھی مذکور ہیں:

    إنّی لَم اَخْرج أشِراً و لا بَطِراً و لا مُفْسداً و لا ظالماً وَ إنّما خرجْتُ لِطلب الإصلاح فی اُمّة جدّی اُریدُ أنْ آمُرَ بالمعروف و أنْهی عن المنکر و اسیرَ بِسیرة جدّی و سیرة أبی علی بن أبی طالب

    ترجمہ:میں خود خواہی یا سیر و تفریح کے لئے مدینہ سے نہیں نکلا اور نہ ہی میرے سفر کا مقصد فساد اور ظلم ہے بلکہ میں صرف اپنی جد کی امت کی اصلاح کیلئے نکلا ہوں، میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ارادہ رکھتا ہوں، میں اپنے جد اور باپ کی سیرت پر چلوں

    امام حسینؑ مکہ میں چار مہینے پانچ دن اقامت کے بعد بروز پیر 8 ذوالحجہ (جس دن مسلم بن عقیل نے کوفہ میں قیام کیا) 82 افراد کے ساتھ(جن میں سے 60 افراد کوفہ ، مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔

    بعض نے تاریخی اور حدیثی شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے کها ہے کہ امام حسینؑ نے شروع سے ہی عمرہ مفردہ کی نیت کر رکھی تھی اسی لئے حج کے موسم میں مکہ سے باہر تشریف لے گئے۔

    مکہ میں قیام کے آخری مہینے میں جب امام حسینؑ کا کوفہ کی طرف جانے کا احتمال شدت اختیار کرنے لگا تو بہت سارے افراد نے اس سفر کی مخالفت کی منجملہ ان افراد میں عبداللّہ بن عبّاس اور محمّد بن حنفیہ امام کی خدمت میں آئے تاکہ آپؑ کو کوفہ کی طرف سفر کرنے سے منع کریں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔

    جب امام حسینؑ اور آپ کے ساتھی مکہ سے باہر نکلے تو مکہ کے گورنر عمرو بن سعید بن عاص کی فوج نے یحیی بن سعید کی سرکردگی میں امام حسینؑ کا راستہ روکا لیکن آپ نے کوئی اہمیت نہیں دی اور اپنا سفر جاری رکھا۔

  • شہادت امام محمد باقر علیہ السلام :تحریر ضیاء عبدالصمد

    شہادت امام محمد باقر علیہ السلام :تحریر ضیاء عبدالصمد

    آپ کا نام محمد بن علی آپ کی کنیت ابو جعفر ہے آپ کے القابات میں باقر، شاکر، ہادی آپ یکم رجب سنہ 57ھ
    کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوۓ آپ امامت کے منسب پر 19 سال (95-114ھ) تک فائز رہے آپ کو 7 ذی الحجہ سنہ 114ھ میں زہر دے کر شہید کردیا گیا آپ جنت البقیع، مدینہ مدفن ہیں۔

    آپ کے والد ماجدامام زین العابدین علیہ السلام ہیں اور والدہ ماجدہ فاطمہ بنت امام حسنؑ ہیں۔ آپکی ازواج میں بی بی ام فروہ، ام حکیم
    ہیں اور اولاد میں امام جعفر صادق علیہ ‌السلام، عبداللہ، ابراہیم، عبیداللہ، علی، زینب، ام سلمہ
    آپ نے 57 برس کی عمر میں شہادت کے منسب پر فائز ہوۓ۔

    ولادت:

    امام محمد باقرؑ بروز جمعہ یکم رجب المرجب سنہ 57 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ گوکہ بعض منابع میں آپ کی تاریخ ولادت اسی سال 3 صفر بروز منگل ثبت کی گئی ہے۔

    نسب :

    محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب‌، امام محمد باقرؑ کے نام سے مشہور اور پانچویں امام ہیں۔ آپ چوتھے امام، امام سجادؑ کے فرزند ہیں؛ آپ کی والدہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ بنت حسن ہیں۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: كانت صديقة لَم تُدرَك في آل الحسن امراءةٌ مثلها۔ ترجمہ: میری دادی (فاطمہ بنت حسن) وہ سچی اور پاکیزہ خاتون ہیں جن کی مانند خاتون آل حسن میں نہيں ملتی۔
    امام باقرؑ پہلے ہاشمی ہیں جنہوں نے ہاشمی، علوی اور فاطمی ماں باپ سے جنم لیا۔ یا یوں کہئے یا پہلے علوی اور فاطمی ہیں جن کے والدین دونوں علوی اور فاطمی ہیں۔
    آپ کا نام محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (57-114ھ)، امام محمد باقرؑ کے نام سے مشہور اور آپ پانچویں امام ہیں۔ آپ کا مشہور لقب باقرالعلوم ہے۔ آپ کی مدت امامت 19 برس تھی۔ آپؑ واقعۂ عاشورا کے چشم دید گواہ بھی ہیں اس موقع پر آپ بہت چھوٹے تھے۔

    پیغمبر اسلام نے آپ کی ولادت سے دسیوں برس قبل آپ کا نام محمد اور آپ کا لقب باقر مقرر کیا تھا۔ جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت سے آپ کے نام گرامی پر تصریح ہوتی ہے۔ روایت جابر بن عبد اللہ اور دیگر روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔علاوہ ازیں آئمہ معصومین کے اسمائے گرامی کے سلسلے میں رسول اللہؐ کے دیگر ارشادات بھی ـ جو دلائل امامت میں شمار ہوتے ہیں ـ بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔

    القاب اور کنیت

    آپ کے القاب میں شاکر، ہادی، اور باقر مشہور ہیں جبکہ آپ کا مشہور ترین لقب باقر ہے۔ باقر کے معنی علم و دانش کا سینہ چاک کرکے اس کے راز و رمز تک پہنچنے والے (شکافتہ کرنے والا) کے ہیں۔ یعقوبی رقمطراز ہے: آپ کو اس سبب سے باقر کا نام دیا گیا کہ آپ نے علم کو شکافتہ کیا۔آپ کی مشہور کنیت ابو جعفر ہے۔ حدیث کے منابع میں آپ کو غالبا ابو جعفر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    انگشتریوں کے نقش: امام باقر علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے دو نقش منقول ہیں: رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْداً پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ

    امام محمد باقرؑ کی کربلا مجودگی:

    امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
    جس وقت میرے جد امجد حسین ابن علیؑ کو شہید کیا گیا اس وقت میری عمر 4 سال تھی۔ آپ کی شہادت اور اس وقت جو مصائب ہمارے اوپر آئے سب مجھے یاد ہیں۔

    یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۲۸۹۔

    امام محمد باقرؑ نے طفولت کی زندگی (چار سال تک) اپنے والدین کے اور دادا (امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گذاری۔
    آپ واقعۂ عاشورا کے دوران کربلا میں موجود تھے اور آپ خود ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں: "میں چار سالہ تھا جب میرے جدّ امام حسینؑ کو قتل کیا گیا اور مجھے آپؑ کی شہادت بھی اور وہ سارے مصائب بھی یاد ہیں جو ہم پر گذرے۔

    اکابرین اہل سنت کی نظر میں:

    اکابرین اہل سنت آپؑ کی علمی اور دینی عظمت و شہرت کے معترف ہیں۔ فقہ، توحید، سنت نبوی، قرآن، اخلاق اور دیگر موضوعات پر آپ سے بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپ کے دور امامت میں اخلاق، فقہ، کلام، تفسیر اور کئی دوسرے موضوعات پر شیعہ نقطہ نظر کو اجاگر کرنے میں انتہائی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

    شہادت:

    امام باقرؑ 57 سال کی عمر میں 7 ذی الحجہ سنہ 114 ہجری کو شہید ہوئے۔البتہ بعض منابع میں ذی‌ الحجہ کی جگہ ربیع الاول یا ربیع الثانی کا نام لیا گیا ہے۔امام محمد باقرؑ کی شہادت کے سلسلے میں دوسرے اقوال بھی تاریخ کے صفحات پر درج ہيں۔

    امام محمد باقرؑ کی شہادت ہشام بن عبد الملک کے دور خلافت میں واقع ہوئی: چونکہ ہشام سنہ 105 ہجری سے 125 ہجری تک بر سر اقتدار رہا۔ اور امام محمد باقرؑ کی شہادت کے سلسلے میں مورخین نے جن تاریخوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے آخری سال 118 ہجری ہے۔امام محمد باقرؑ کو کس شخص یا کن اشخاص نے قتل کیا؟ اس سلسلے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے بعض نے لکھا ہے کہ آپ کو شہید کرنے میں ہشام بن عبد الملک براہ راست ملوث تھے۔ بعض کا قول ہے کہ آپ کا قاتل ابراہیم بن ولید بن عبد الملک بن مروان ہے جس نے امامؑ کو مسموم کیا۔

    امام محمد باقرؑ نے وصیت کی تھی کہ آپ کو اسی لباس میں دفن کیا جائے جس میں آپ ہمیشہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ آپ امام سجادؑ اور امام حسنؑ کے ساتھ قبرستان بقیع میں مدفون ہیں۔

    7ذولحجہ آج امام محمد باقر علیہ السلام کا یوم شہادت ھے

  • آر پی او کا مختلف تھانوں کا دورہ

    آر پی او کا مختلف تھانوں کا دورہ

    خانیوال :ریجنل پولیس آفیسر سید خرم علی کا خانیوال دورہ کے موقع پر تھانہ سٹی خانیوال‘تھانہ صدرخانیوال ‘تھانہ عبدالحکیم اورٹریفک دفترکا معائنہ کیا اس موقع پر ڈی پی او محمدعلی وسیم بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    آرپی اوملتان نے سنتری ڈیوٹی‘ایس ایچ او روم‘مال خانہ سمیت تھانوں میں صفائی ستھرائی کا جائزہ لیا۔انہوں نے تھانوں میں بند حوالاتیوں سے بھی گفتگو کی۔آرپی اوملتان سید خرم علی نے کہاکہ پنجاب حکومت کے ویثرن کے مطابق راویتی تھانہ کلچر میں مثبت تبدیلی لائی جارہی ہے‘پولیس افسران نیک نیتی سے عوام کے تحفظ اوران کے مسائل کے حل کو ترجیح دیں‘عوام کی پولیس سے توقعات وابستہ ہیں پولیس افسران تفتیش کے دوران میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھیں‘انصاف کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔

    آرپی او نے کہاکہ ٹریفک بہاؤ کوکنٹرول کرنے کیلئے موثرحکمت عملی اپنائیں اورٹریفک بارے عوام الناس کو آگاہی فراہم کی جائے۔

  • چار سالہ معصوم بچی کا قاتل کون نکلا؟

    چار سالہ معصوم بچی کا قاتل کون نکلا؟

    خانیوال پولیس کی اہم اوربڑی کامیابی‘ننھی بچی زیبا کا قاتل اس کا حقیقی چچانکلا‘خانیول پولیس نے24گھنٹوں میں زیباندیم کے قاتل کو ٹریس کرکے گرفتارکرلیا‘ملزم بنیامین نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرلیا‘صحافی برادری‘تاجربرادری‘وکلاء برادری اورشہریوں کو ڈی پی او محمدعلی وسیم اوران کی ٹیم زبردست خراج تحسین۔اس ضمن میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کیپٹن (ر) ظفراقبال اعوان نے ڈی پی او آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ معصوم بچی زیبا ندیم کا اغواء کے بعدقتل پولیس کے لیے چیلنج تھا.

    پولیس نے شب روز محنت اورجدید ٹیکنالوجی اورسی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے معصوم بچی کے قاتل کو ٹریس اور گرفتارکرکے قابل تحسین کام کیا۔اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسرملتان سید خرم علی‘اے آئی جی ڈسپلن ساؤتھ پنجاب عمران شوکت‘ڈی پی او محمدعلی وسیم اوردیگر پولیس افسران بھی موجودتھے۔ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے بتایاکہ ننھی معصوم بچی کا قاتل اس کا حقیقی چچاربنیامین نکلا جس نے بچی کے قتل کے جرم کا اعتراف کرلیا‘ملزم کے مطابق بچی کو تکیے سے سانس بندکرکے قتل کیا اوراس کی نعش گھرکے قریب واقع کھیتوں میں بوری میں بندکرکے پھینک دی اوربچی کے لواحقین کے ساتھ مل کر واویلاکرتا رہا۔انہو ں نے بتایاکہ بچی کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی قتل کیس میں زیادتی کا ہونا نہیں پایا گیابلکہ ملزم نے گھریلورنجش کی وجہ سانس بند کرکے بچی کی جان لی۔

    انہو ں نے کہاکہ ڈی پی او محمدعلی وسیم اوران کی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ پولیس کی جانب سے زیباندیم کے لواحقین کو فوری انصاف کی فراہمی قابل ستائش ہے‘ملزم کو ہرصورت کیفرکردارتک پہنچا یا جائے گااورساتھ ہی ساتھ زیبا ندیم قتل کیس میں غفلت اورلاپرواہی برتنے والے پولیس افسران کا سخت احتساب کیا جائے گا۔

  • آر پی او ملتان  کی تعزیت کے لیے لواحقین کے گھر آمد

    آر پی او ملتان کی تعزیت کے لیے لواحقین کے گھر آمد

    ریجنل پولیس آفیسر سید خرم علی نے ڈی پی اومحمدعلی وسیم کے ہمراہ چارسالہ بچی کے اغواء اورقتل کا نوٹس لیتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچے۔

    آرپی او ملتان اورڈی پی اوخانیوال نے لواحقین سے ان گھرجاکرتعزیت کی اورمعلومات حاصل کیں۔ انہوں نے لواحقین کو یقین دلایا کہ قاتل کو جلد گرفتار کر کے لواحقین کو انصاف دلایا جائے گااورجب تک بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کو کیفرکردارتک نہیں پہنچادیا جاتا پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ڈی ایس پی اور ایس ایچ کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا ہے اور ایس ایچ او کے خلاف غفلت برتنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    ریجنل پولیس آفیسر سید خرم علی نے کہا کہ پولیس کا کام ہی عوام کی مدد کرنا ہے اس کیس میں جس انداز سے غفلت برتی گئی اس پر معافی کی کوئی گنجائش نہیں پولیس کی ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں۔ڈی پی او محمدعلی وسیم نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی بچی کے قتل کے ملزمان کو جلدمنطقی انجام تک پہنچایا جائیگا جس کے لیے پولیس کی سپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔