Baaghi TV

Category: لاہور

  • جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ سمیت چار رہنماؤں کو عدالت نے دو مقدمات میں سنائی مزید سزا

    جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ سمیت چار رہنماؤں کو عدالت نے دو مقدمات میں سنائی مزید سزا

    جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ سمیت چار رہنماؤں کو عدالت نے دو مقدمات میں سنائی مزید سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید سمیت چار رہنماؤں کو دو مزید مقدمات میں سزائیں سنا دیں،

    حافظ محمد سعید، پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ مجاہد کو ساڑھے دس، دس سال جبکہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، اے ٹی سی کورٹ نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ کی عدالت میں سی ٹی ڈی کی طرف سے درج مقدمہ نمبر16/19 اور 25/19 کی سماعت ہوئی جس میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ اور جرح کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے،

    گواہوں کے بیانات پر نصیرالدین نیئر اور محمد عمران فضل گل ایڈووکیٹ کی طرف سے جرح کی گئی، جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید جولائی 2019ء سے گرفتار ہیں اور ان کے خلاف اب تک چار مقدمات کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں،

    جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف سی ٹی ڈی کی طرف سے کل اکتالیس مقدمات درج ہیں جن میں سے چوبیس کے فیصلے ہو چکے ہیں جبکہ باقی اے ٹی سی عدالتوں میں زیرسماعت ہیں،

    گزشتہ روز بھی انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعۃ الدعوۃ کے رہنما لقمان شاہ کو ایک اور مقدمہ میں پانچ سال چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی، بدھ کے دن اے ٹی سی کورٹ نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ کی عدالت میں سی ٹی ڈی کی طرف سے درج مقدمہ نمبر 17/19 کی سماعت ہوئی جس میں گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا گیا ہے،

    لقمان شاہ کے خلاف اب تک چار مقدمات کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں، واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں میں جماعۃالدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی سماعت تیزی سے جاری ہے اور فیصلے سنائے جارہے ہیں،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعة الدعوة کے تین مرکزی رہنماؤں کو ایک اور کیس میں سنائی سزا

    ایلس ویلز پاکستان کیوں آ رہی ہے؟ ایسی حقیقت سامنے آئی جسے سن کر ہر پاکستانی غصہ میں آ جائے

    عدالت نے جماعۃ الدعوۃ کے 3 رہنماؤں کو سزائیں سنا دیں

    جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان سمیت تین رہنماؤں کو دو مزید مقدمات میں سزائیں

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جماعۃالدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید سمیت حافظ عبدالسلام بن محمد، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، پروفیسر ظفر اقبال، یحییٰ مجاہد، لقمان شاہ اور حافظ مسعود الرحمن کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں.

    جماعۃ الدعوۃ کے 3 رہنماؤں کو عدالت نے آج پھر سنائی سزا

  • حکم پر عملدرآمد کیوں نہ ہوا؟ ڈی جی ایکسائز پر عدالت کی برہمی

    حکم پر عملدرآمد کیوں نہ ہوا؟ ڈی جی ایکسائز پر عدالت کی برہمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    عدالتی حکم پر ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید عدالت میں پیش ہوئیں ،جسٹس شاہد کریم نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈی جی ایکسائز پر اظہار برہمی کیا، ڈی جی ایکسائز نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،

    عدالت نے کہا کہ کیا آپ کی اپیل پر حکم امتناعی جاری ھوا ، جس پر ڈی جی ایکسائز نے کہا کہ ابھی اپیل سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئی ۔ عدالت نے کہا کہ ابھی تک آپ نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا ، ڈی جی ایکسائزنے کہا کہ معاملہ پالیسی سے متعلق کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں گے ،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیا باتیں کر رہی ہیں۔ لاء افسر صاحب ڈی جی صاحبہ کو سمجھائیں ،عدالت کے حکم پر ہر صورت عمل ھونا ہے عدالت

    ہائیکورٹ نے نجی کمپنی سے ڈیوٹی وصول کرنے سے روکنے کا حکم دیا تھا

    نواز شریف کا مریم نواز سے رابطہ، اہم ہدایات دے دیں،مریم سے ایک اور اہم شخصیت کا بھی رابطہ

    مریم کو ذاتی حیثیت میں بلایا تھا،نیب نے ن لیگ کے خلاف بڑا فیصلہ کر لیا

    مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ، شہباز شریف، بلاول بھی میدان میں آ گئے

    تمام گاڑیوں کی فوٹیجز موجود ،پتھراؤ کرنیوالوں کیخلاف کاروائی ہو گی، راجہ بشارت

    نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

    ن لیگی کارکنان کے پتھراؤ سے 3 اہلکار زخمی،ن لیگی کارکنان گرفتارکر لئے گئے

    فیصل آباد سے آنے والے 3 لیگی کارکنان کے سر پھٹ گئے،کئی گرفتار، ن لیگ کا دعویٰ

    مریم نواز کا یوٹرن،مجھے نیب آفس کیوں بلایا گیا؟ سنگین الزام لگا دیا، کہا اب واپس نہیں جاؤں گی

    نیب نے حساب مانگا تو پتھر لے آئے،فیاض الحسن چوہان نے مریم نواز بارے بڑا انکشاف کر دیا

    ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر مزید دلائل طلب

  • شراب لائسنس اجرا کیس،سابق ڈی جی ایکسائز کے ریمانڈ میں توسیع

    شراب لائسنس اجرا کیس،سابق ڈی جی ایکسائز کے ریمانڈ میں توسیع

    شراب لائسنس اجرا کیس،سابق ڈی جی ایکسائز کے ریمانڈ میں توسیع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت میں سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل کے خلاف شراب لائسنس اجراء کے کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے اکرم اشرف گوندل کے مزید 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی ،عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب پراسیکیوٹر سے ریفرنس متعلق مکمل رپورٹ طلب کر لی

    احتساب عدالت کے جج امجد نذیر چوہدری نے کیس پر سماعت کی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اکرم اشرف گوندل پر شراب لائنسس اجراء مالی فوائد حاصل کرنے کا الزام عائد ہے،اکرم اشرف گوندل نے شراب لائنسس اجراء میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا،اکرم اشرف گوندل نے ایسے ہوٹلز کو لائنسس جاری کرنے میں کرادرا ادا کیا جو دائرہ کار پر پورا نہیں اترتے تھے،

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہیں گے یا نہیں؟ گورنر پنجاب نے بڑا اعلان کر دیا

    واضح رہے کہ نیب لاہور کیجانب سے لاہور کے نجی ہوٹل کو مبینہ غیر قانونی طور پر شراب لائسنس اجراء کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت کے طور پر سابق ڈی جی ایکسائز و ٹیکسیشن ملزم اکرم اشرف گوندل کی گزشتہ روز قانون کے مطابق گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی

    نیب لاہور نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران و اہلکاران اور نجی ہوٹل کی انتظامیہ کیخلاف مبینہ غیر قانونی طور پر شراب لائسنس کیٹگری ایل 2- کے اجراء و حصول کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا جبکہ دورانِ تحقیقات انکشاف ہوا کہ مذکورہ نجی ہوٹل شراب لائسنس کے حصول کیلئے درکار قانونی معیار4\5 سٹا رریٹینگ کا حامل نہ تھا۔اگرچہ مذکورہ نجی ہوٹل کیجانب سے پنجاب ٹورسٹ سروسز ڈیپارٹمنٹ سے 4\5 سٹا ر رینٹنگ سرٹیفیکیٹ بھی حاصل نہ کیا گیا۔

    سابق ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ملزم اکرم اشرف گوندل کیجانب سے شراب لائسنس کے اجراء کیلئے دیگر ضروری اقدامات کو بھی مد نظر نہ رکھا گیا اگرچہ ملزم نے بطور ڈی جی ایکسائز قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور دیگر قانونی مندرجات کو مدنظر رکھے بغیر نجی ہوٹل کو L-2کیٹگری لائسنس کے اجراء میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ملزم نے مبینہ طور پر نجی ہوٹل کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے ایکسائز ٹیکسیشن آفیسر (ETO) کے ذریعے دیگر مختلف اداروں سے غیر قانونی لائسنس کے اجراء کیلئے No Objection Certificateحاصل کیا۔ نیب تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزم کیجانب سے اہلیت نہ ہونے کے باوجودنجی ہوٹل کیلئے L-2کیٹگری کے شراب لائسنس کے اجراء کیلئے قانونی طریقہ کار میں انتہائی چالاکی کے ساتھ رد و بدل بھی کیا گیا۔

    شراب کیس میں نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی طلب کیا تھا،وزیراعلیٰ پنجاب چند روز قبل بھی نیب میں پیش ہوئے تھے نیب میں گزشتہ پیشی پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ایک گھنٹہ40 منٹ تک سول وجواب کیے گئے تھے اور انہیں سوالنامہ دیا تھا۔ نیب کی 3 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے وزیر اعلیٰ سے سوال وجواب کیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے سی ایم پالیسی 2009 سے متعلق پوچھا گیا۔

    اس کیس میں دو اعلی سرکاری افسر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف شراب کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار۔ ان میں ایک ڈائریکٹر جنرل محکمہ ایکسائز شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکریٹری راحیل صدیقی بھی نیب میں پیش ہوئے تھے۔ نیب دستاویزات کے مطابق شراب کے خلاف قانون لائسنس کے حصول کیلئے مبینہ طور پر 5 کروڑ کی رشوت دینے کا الزام ہے۔ نجی ہوٹل نے شراب کی فروخت کیلئے ایل-2 کیٹگری لائسنس کے حصول کیلئے محکمہ ایکسائز میں درخواست دی۔

    نجی ہوٹل کی جانب سے پنجاب ٹورسٹ ڈپارٹمنٹ سے پاکستان ہوٹل ایکٹ 1976 کے تحت 4-5 سٹار ریٹنگ کا لائسنس نہیں لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق 4 اور 5 سٹارز ہوٹلز کے لائسنس سے متعلق 2009 میں سی ایم آفس سے پالیسی جاری کی جا چکی تھی جسکی خلاف ورزی کی گئی۔

    سی ایم پالیسی کے تحت جس ہوٹل کے پاس 4 یا 5 اسٹار کی کیٹگری ہوگی صرف ان کو لائسنس جاری کیا جا سکے گا۔ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے سی ایم پالیسی 2009 کیخلاف ورزی کرتے ہوئے نجی ہوٹل کو لائسنس جاری کیا۔ نجی ہوٹل کے پاس اس وقت پنجاب ڈیپارٹمنٹ ٹورسٹ کا لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے سی ایم آفس کو 3 بار مذکورہ کیس ریفر کرتے ہوئے معاملہ کی نزاکت سے آگاہ بھی کیا۔ تاہم سی ایم آفس محکمہ ایکسائز کو نجی ہوٹل کا لائسنس روکنے میں ناکام رہا

    بڑی خوشخبری، پاکستان کی قسمت جاگنے والی ہے، کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    آصف زرداری کے کلفٹن کراچی میں گھر کی ادائیگی کس نے کی؟ نیب نے عدالت میں جمع کروایا جواب

    تحریک انصاف کے ایک اور رہنما،رکن قومی اسمبلی نیب کے ریڈار پر

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    نیب کے مطابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار سمیت دیگر افراد کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنے قریبی عزیز کو مالی فائدہ پہنچانے کیلئے نجی ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کیا تھا جو کہ خلاف قانون ہے۔

  • پاکستان میں پھنسے161 شہریوں کی 23 نومبر کوبھارت واپسی

    پاکستان میں پھنسے161 شہریوں کی 23 نومبر کوبھارت واپسی

    لاہور: کورونا لاک ڈاؤن کے وجہ سے پاکستان میں مقیم بھارت سے آئے ہوئے 161 شہریوں کو 23 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھیجا جائیگا، ان میں 135 شہری نوری ویزا کے حامل ہیں 15 ان کے بھارتی رشتہ دار اور 11 بچے شامل ہیں

    نوری ویزا کے حامل یہ وہ پاکستانی شہری ہیں جن کی شادی انڈیا میں ہوئی ہے یا وہ کسی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر بھارت میں جابسے ہیں لیکن ابھی تک انہیں بھارتی شہریت نہیں ملی ہے۔ ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ بھارتی حکومت ایسے پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو ان کے آبائی ملک واپس جانے کے لیے نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا کا ویزا جاری کرتا ہے۔
    نوری ویزا کے حامل یہ پاکستانی شہری رواں سال مارچ میں اپنے خاندانوں سے ملنے انڈیا کی مختلف ریاستوں سے یہاں پاکستان پہنچے تھے تاہم اس دوران کورونالاک ڈاؤن کی وجہ سے سرحد بند ہونے کی وجہ سے ان کی واپسی نہیں ہوسکی تھی
    نوری ویزا کے حامل ان پاکستانیوں کے ساتھ ان کے 15 بھارتی رشتہ دار اور 11 بچے بھی شامل ہیں
    ان پاکستانی اور بھارتی شہریوں کو 23 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھیجا جائیگا۔ بھارتی سفارتخانے کی درخواست پر پاکستانی حکام نے واہگہ بارڈر پر ان شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی طور پر بارڈر کھولنے کی ہدایات جاری کردی ہیں
    ان شہریوں کے لیے واپسی سے قبل اپنا کورونا ٹیسٹ کروانا بھی لازمی ہے

  • نجم سیٹھی کے تمام گھر والوں  کو کرونا ہوگیا تو انتظامیہ کو کیا قدم اٹھانا پڑا ؟

    نجم سیٹھی کے تمام گھر والوں کو کرونا ہوگیا تو انتظامیہ کو کیا قدم اٹھانا پڑا ؟

    نجم سیٹھی کے تمام گھر والوں کو کرونا ہوگیا تو انتظامیہ کو کیا قدم اٹھانا پڑا ؟

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، باخبر ذرائع کےمطابق معروف تجزیہ نگار نجم سیٹھی اور ان کے گھر سمیت تمام علاقہ کورونا وائرس کی وجہ سے سیل کردیا گیا ہے. نجم سیٹھی اور ان کے تمام گھر والوں میں‌کرونا وائرس پایا گیا جس وجہ سے ان کا علاقہ سیل کردیا گیا اور یہاں پر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے. اسی طرح‌ ایف سی کالج بھی سیل کردیا گیا ہے. جہاں کرونا کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں.
    پاکستان بھر میں‌کرونا کیسزبڑھتے جار ہے ہیں. جس وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن جاری ہے . اس پہلے بھی لاہور کے کئی علاقوں میں‌ سمارٹ لاک ڈاؤن ہے . نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار 927 ہوگئی ہے اور اموات کی مجموعی تعداد 7 ہزار 248 ہو گئی ہے۔

    پاکستان میں کورونا وائرس کے 3 لاکھ 26 ہزار 674 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 25 ہزار 278 ہو چکی ہیں جبکہ مزید 2 افراد کی موت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 265 تک پہنچ گئی۔ اسلام آباد میں کورونا کے 4 ہزار 99 مریض زیر علاج ہیں۔

    آزاد کشمیر میں کورونا کیسز کی تعداد 5 ہزار 690 تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہزار 348 مریض زیر علاج ہیں۔ آزاد کشمیر میں کورونا وائرس سے مزید ایک ہلاکت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 132 ہوگئی۔خیبر پختونخوا میں کورونا مریضوں کی تعداد 43 ہزار 52 ہے اور اب تک ایک ہزار 318 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں ایک لاکھ 58 ہزار 559 کورونا کیسز ہو چکے ہیں جبکہ سندھ میں مزید 4 افراد کی موت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 764 تک پہنچ چکی ہے۔سندھ میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد 11 ہزار 739 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں ایک لاکھ 12 ہزار 284 کورونا کیسز ہیں اور مزید 10 افراد کی موت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 519 تک پہنچ گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق بلوچستان میں 16 ہزار 582 افراد متاثر اور اموات کی مجموعی تعداد 157 تک پہنچ چکی ہے۔ گلگت بلتستان میں کورونا کے 4 ہزار 482 کیسز اور 93 اموات رپورٹ ہو چکی ہی

  • شہباز شریف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    شہباز شریف کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے شہباز شریف کو بڑا ریلیف دے دیا،احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی

    عدالت نے شہبازشریف اورحمزہ شہبازکوبکتربندگاڑی میں پیش کرنے سے روک دیا ،احتساب عدالت لاہور کے ایڈمن جج جواد الحسن نے محفوظ فیصلہ سنایا،احتساب عدالت لاہور  نے شہبازشریف،حمزہ کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کا حکم دیا

    شہباز شریف بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش، حمزہ شہباز جیل میں ہوئے بیمار

    جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

    شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

    واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا ، شہباز شریف کو عدالت میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ن لیگ نے احتجاج کیا تھا،

    حمزہ شہباز نے بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش ہونے پر انکار کیا تھا جس پر عدالت نے گزشتہ سماعت پر ریمارکس دیئے تھے کہ لگتا ہے ریاست کی رٹ ختم ہو چکی ہے

    حمزہ شہباز کی احتساب عدالت میں گزشتہ سماعت پر عدم پیشی پرایڈیشنل سیکرٹری ہوم عدنان اعوان شوکاز کا تحریری جواب لے کر احتساب عدالت پیش ہو گئے،عدنان اعوان ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے کہا کہ عدالت کی جانب سے حکم موصول نہیں ہوا،حمزہ شہباز کو پیش کرنے کی ذمہ داری جوڈیشل پولیس کی ہے ،معاملے کاعلم ہوا تو فوری انکوائری شروع کردی گئی ۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں گزشتہ سماعت پر ملزم کو کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ ایس پی ہیڈ کوارٹر نے عدالت میں کہا کہ ملزم نے بکتر بند گاڑی دیکھی تو بیٹھنے سےانکار کردیا،جس پر عدالت نے کہا کہ تاریخ میں کب ہوا کہ ملزم نے انکار کردیا ہو کہ وہ نہیں جائے گا،

    ایس پی ہیڈ کوارٹر نے کہا کہ یہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، پہلی مرتبہ ہوا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے اس طرز عمل سے ثابت ہوا ریاست ناکام ہو گئی ہے،ایس پی ہیڈکوارٹر نے کہا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، عدالت سے معذرت خواہ ہیں ، جج احتساب عدالت نے کہا کہ بظاہر چھوٹی سی بات لگتی ہے،اس کی گہرائی دیکھیں اسکے نتائج کیا ہونگے،عالمی سطح پر پیغام گیا ہے ایک ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔

    عدالت نے ایس پی ہیڈ کوارٹر کی عدالت پیشی کے طریقہ کار پر برہمی کا اظہارکیا، عدالت نے کہا کہ کیا آپ پہلے کبھی کسی عدالت میں پیش ہوئے ہیں؟کیا آپ یہاں کوئی جھگڑا کرنے آئیں ہیں جو کفس اوپر ہیں؟ ایس پی ہیڈ کوارٹر نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی

    شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

  • لاہورکے ہوٹل یا چوری کے اڈے،موٹرسائیکل چوری ہونے لگے،ذمہ دارکون؟

    لاہورکے ہوٹل یا چوری کے اڈے،موٹرسائیکل چوری ہونے لگے،ذمہ دارکون؟

    لاہور:لاہورکے ہوٹل یا چوری کے اڈے،موٹرسائیکل چوری ہونے لگے،ذمہ دارکون؟شہری کس کواپنا دکھڑا سنائیں،اطلاعات کے مطابق لاہورشہرجہاں ایک طرف لوگوں کے روزگارکا بڑا ذریعہ ہے وہاں لوگوں کے نقصانات کا بھی مرکز بنتا جارہاہے، لاہور کمانےکےلیے آتے ہیں مگراپنا سب کچھ گنوا کے واپس جانا پڑتا ہے

    ذرائع کے مطابق ایسے معاملات معمول بنتے جارہے ہیں ،مسئلہ جواصل درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اتنے بڑے سنگین جرائم کے سرزد ہونے کے باوجود پولیس کیا کررہی ہے، لاہورکے سیف سٹی منصوبوں پربڑی بڑی کہانیاں سنانے والے اب کہاں ہیں

    لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہماراقصورکیا ہے؟ اگرحکومت ایسے جرائم پرقابوہی نہیں پاسکتی توپولیس اورامن وامان کی مد میں سالانہ اربوں روپے قوم کے کیوں ضائع کیئے جارہے ہیں‌،

    ادھر ذرائع کے مطابق ایک ایسا ہی تازہ واقعہ لاہورشہر کے علاقہ شاہدرہ میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان کھانا کھانے کےلیے گیا توموٹرسائیکل گنواکرواپس آگیا

    باغی ٹی وی کے مطابق لاہورشہر میں مزدوری کرنے کی غرض سے آنے والا ایک اسد علی ولد محمد علی نامی نوجوان تین چار دن پہلے محمد رفیق مچھلی والا جس کی دوکان شاہدرہ میں واقع ہے کھانا کھانےکے لیے گیا تو اس کے ساتھ ہاتھ ہوگیا

     

     

    ذرائع کے مطابق اسد علی جب کھانا کھانے کے بعد ہوٹل سے باہر آکردیکھا تواس کی موٹرسائیکل غائب تھی ، اسد علی نے ادھرادھردیکھا لیکن موٹرسائیکل نظرنہ آئی ہوٹل مالکان سے بھی پوچھا توانہوں نے کوئی مناسب جواب نہ دیا

    اسد علی نے اس دوران ہوٹل انتظامیہ سے درخواست بھی کی کہ ان کے ہوٹل کے سامنے سے موٹرسائیکل چوری ہوئی وہ اس موٹرسائیکل کوتلاش کرنے کے لیے اس کی مدد کریں لیکن کوئی خاطرخواہ جواب نہ دیا گیا ، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ شاید ہوٹل انتظامیہ جان بوجھ کراس معاملے سے توجہ ہٹارہی ہے ،

    ادھریہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس سے پہلے بھی اس ہوٹل کے گردونواح سے موٹرسائیکل چوری ہوگئے ہیں ، اب یہ معلوم نہیں یہ کوئی مخبر اس ہوٹل میں کام کرتا ہے یا پھرچوری کرنے والا اس ہوٹل کی اتنظامیہ کی کمزور حفاظتی تدابیر کا فائدہ اٹھاتا ہے

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اسد علی نے پولیس کودرخواست دی ہےلیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی

    پولیس کی طرف سے بھی کوئی رسپانس نہیں ملا ، اعلیٰ حکام کے پاس ویسے ہی وقت نہیں کہ وہ اس ملک کے غریب شہری کے مسائل پرتوجہ دے سکیں

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پرپولیس کے غیرذمہ دارانہ رویے کے خلاف ایک مہم بھی چل نکلی ہے ، اب یہ مہم کیا صورت حال اختیار کرتی ہے اس کا اندازہ تو نہیں لیکن یہ بات طئے ہے کہ ایسے واقعات سے روگردانی کسی بڑے سانحے کا سبب بھی بن سکتی ہے

    اس حوالے سے ماضی میں کئی مثالیں مل چکی ہیں‌کہ چوری کی موٹرسائیکل اوردیگرگاڑیوں کودہشت گردوں نے لوگوں کی جانیں لینے کے لیے استعمال کیا ہے ،

    یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ موٹرسائیکل موصوف اپنے دوست کی لے کرکھانا کھانے کےلیے گیا تھا . اسی واقعہ کی وجہ سے اسد علی پردہرا دباو اوردہری پریشانی ہے کہ وہ اس دوست کے موٹرسائیکل کا نقصان کیسے پورا کرے

  • امریکہ کی پالیسی شفٹ۔۔ آنے والے دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے؟؟ سعودیہ عرب، اسرائیل اور بھارت کےگرد گھیرا تنگ۔۔مبشرلقمان کے انکشافات

    امریکہ کی پالیسی شفٹ۔۔ آنے والے دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے؟؟ سعودیہ عرب، اسرائیل اور بھارت کےگرد گھیرا تنگ۔۔مبشرلقمان کے انکشافات

    امریکہ کی پالیسی شفٹ۔۔ آنے والے دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے؟؟
    سعودیہ عرب، اسرائیل اور بھارت کےگرد گھیرا تنگ۔۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی تازہ یو ٹیوب ویڈیو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے حوالے سے میں نے آپ کو اپنی کل والی ویڈیو میں ایک بہت اہم بات بتائی تھی اور وہ یہ تھی کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاوس چھوڑنے سے پہلے تمام معاملات کو اس طرح سے پلان کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد وہ معاملات جو بائیڈن کے گلے کی ہڈی بن جائیں جس کو نہ تووہ نگل سکیں اور نہ ہی اوگل سکیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن اپنی پوری الیکشن کمپئین میں یہ بات بار بار دہراتے رہے ہیں کہ وہ افغانستان سے فوجیوں کی تعداد کم نہیں کریں گے۔ لیکن ٹرمپ اپنے منصوبے پر قائم ہیں جیسا کہ وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کرسمس تک اپنے تمام فوجیوں کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں کیونکہان کے خیال میں ان ممالک میں امریکہ کی فوجی مداخلت امریکہ کو کافی مہنگی بھی پڑتی ہے اور اس کا کوئی بہت زیادہ فائدی بھی حاص نہیں ہو سکا ہے۔ اس لئے اب تیزی سے افغانستان اور عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی امریکی فوجیوں کی واپسی اس تاریخی معاہدے کی شرط تھی جس پر 29 فروری کو امریکہ اور طالبان نے دستخط کیے تھے۔
    خود امریکی میڈیا کے مطابق جنوری تک افغانستان میں اس وقت موجود پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے ڈھائی ہزار کر دی جائے گی جبکہ عراق سے پانچ سو امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد وہاں موجود فوجیوں کی تعداد بھی 2500 تک رہ جائے گی۔
    اور یہ منصوبہ جو بائیڈن کے صدر کا حلف اٹھانے سے کچھ دن پہلے یعنی 15 جنوری تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے لئے ایک ایگزیکٹیو آرڈربھی تیار کیا جا رہا ہے۔
    لیکن صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کو ان کے ساتھی رپبلکن اور سینیٹ کے لیڈر Mitch McConnellکی جانب سے بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف امریکی قومی سلامتی اور امریکی مفادات کے دفاع میں ایک محدود لیکن اہم کردار ادا کر رہے ہیں، شدت پسند یہی چاہیں گے کہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج اپنا سب کچھ سمیٹ کر گھر واپس لوٹ جائے۔ وہ یہی تو چاہتے ہیں۔
    لیکن اگر صدر ٹرمپ اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے ایسا کر لیتے ہیں تواس کا براہ راست اثر طالبان اور افغان حکام کے درمیان مذکرات پر ہو گا ساتھ ہی یہ صورتحال جوبائیڈن کی نئی حکومت کے لئے بھی ایک چیلنج بن جائے گی۔
    اورجو بائیڈن کو اس تمام صورتحال کا اندازہ بھی ہے یہی وجہ ہے کہ جو بائیڈن نے بیان دیا ہے کہ ٹرمپ اور ری پبلکن اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
    کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں شکست کے باوجود اس بات پر بضد ہیں کہ وہ امریکی صدارتی انتخابات جیت گئے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ اپنے حالیہ ٹوئٹر پیغام میں کیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جاری انتشار کے باعث واشنگٹن کے دنیا کی بڑی طاقتوں روس اور چین سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ اور اوباما کے اس بیان سے آپ امریکی پالیسی میں آنے والے دنوں میں جو تبدیلی آنی ہے اس کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے دور میں جو دوستانہ پالیسی اسرائیل، بھارت اور سعودیہ عرب کے لئے اپنائی گئی تھی وہ اب تبدیل ہو کر چین اور روس کی طرف جھکاو نظر آئے گا۔
    مبشر لقمان نے کہا کہ سعودیہ عرب کی بات کی جائے تو اس کے گرد تو ابھی سے ہی گھیرا تنگ ہونا شروع ہو چکا ہے کچھ دن پہلے جو شاہ سلمان اور محمد بن سلمان نے ایران مخالف بیانات دئیے تھے ان پراب ایران کا موقف بھی سامنے آنا شروع ہو چکا ہے۔
    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں سعودی فرماں روا کےالزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئےکہا گیا ہےکہ سعودی عرب اس طرح کے الزامات لگانے اور نفرتیں پھیلانے سے باز رہے۔ سعودی حکومت یہ جان لے کہ امن یمن کے لوگوں کو قتل کرنے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا اور خطے کو پروپیگنڈے کے ذریعے بھی نہیں چلایا جاسکتا۔ سعودی عرب غلط راستے کی طرف واپس نہ آئے یہاں تنہائی کے شکار سعودی عرب کی بہتری کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔
    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایران کے اس سخت ردعمل کے علاوہ جرمنی کی طرف سے بھی سعودیہ عرب کو پریشانی کا سامنا ہے۔ جرمنی نے یمن میں ہونے والی جنگ کے باعث سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ جرمنی کی چانسلر
    Angela Merkel کی سربراہی میں قائم جرمن حکمران اتحاد نے مارچ 2018 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ یمن کی جنگ میں براہ راست حصہ لینے والے ممالک کو اسلحہ کی برآمدات روکی جائے۔ اور اب موجودہ حالات میں کیونکہ یمن میں جاری جنگ میں شدت آتی جا رہی ہے تو اس پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
    لیکن سعودیہ عرب اس معاملے میں کسی کی بات سننے کو راضی نہیں ہے۔ سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے جرمنی کی حکومت کو کڑی تنقید کی نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یمن جنگ کی وجہ سے سعودیہ کو اسلحہ کی فروخت روکنے کی تجویز غیر منطقی ہے۔ اگر جرمنی سعودی عرب اور اتحادی ممالک کو اسلحہ نہیں بھی فروخت کرتا ، تو ہمارے پاس اور بھی متبادل موجود ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی یمن میں قیام امن کے لیے جنگ جائز اور آئینی ہے۔ یہ جنگ ہماری مرضی کی نہیں، بلکہ ہمیں زبردستی اس جنگ کو لڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب دیگر ممالک سے بھی اسلحہ خریدتا رہا ہے اور آئندہ بھی خریدتا رہے گا۔
    کچھ ایسا ہی حال امریکہ کے دوسرے اتحادی ملک اسرائیل کا بھی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی ٹرمپ کی حکومت کے آخری دنوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقے جیوات ہاماتوس میں نئی تعمیرات کا آغاز کروادیا ہے یہ وہ اہم ترین علاقہ ہے جو یروشلم اور ویسٹ بینک کے بیت الحم کے درمیان واقع ہے۔
    مبشر لقان نے کہا کہ یورپین یونین نے اسرائیل کی جانب سے ان نئی تعمیرات پر شدید تشویش کا اظہارکیا ہےاورمطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم اور نازک موقع پر امن کے خلاف ان منفی فیصلوں کو واپس لے۔ یورپین خارجہ امور کے سربراہ
    Josep Borrell
    نے کہا کہ اس طرح کی کوئی بھی تعمیر یروشلم کے مشترکہ دارالحکومت کے ساتھ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست اور اس سے بھی بڑھ کر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کے مطابق دو ریاستی حل کو نا ممکن بنا دے گی۔
    یورپین یونین کا ایک طویل عرصے سے یہی مؤقف ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی تعمیرات بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں ۔
    اور باقی رہی بات بھارت کی تو وہ بھی اب اپنا وہ گھناونا کھیل نہیں کھیل سکے گا جو کہ وہ پہلے کھیل رہا تھا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات جس طرح آگے بڑھ رہے ہیں تو اب بھارت ایران کے راستے پاکستان میں پہلے کی طرح دہشت گردی نہیں کر سکے گا۔ دوسرا جس طرح پاکستان نے بھارت کے خلاف دہشت گردی کے ثبوت پوری دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں تو اب بین الاقوامی برادری بھی بھارت کی دہشت گردی پر مزید آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ معاشی طور پر بھی جس طرح
    Regional comprehensive economic partnrship
    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ معاہدے سے بھارت باہر ہوا ہے تو یہ بھی بھارت کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہو گا۔ اور دفاعی معاملات میں بھی اسے چین جیسی سپر پاور کا سامنا ہے اس لئے ٹرمپ کی موجودگی میں جس طرح سے مودی سرکار اپنی غنڈہ گردی کرتی رہی ہے وہ بھی اب نہیں چلے گی۔
    اس لئے اب آنے والے دنوں میں جہاں جوبائیڈن کے لئے نئے چیلنجز ہوں گے وہیں بھارت، اسرائیل اور سعودیہ عرب کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے والا ہے دیکھنا یہ ہے کہ یہ سب کیسے اب اس صورتحال سے باہر نکلیں گے۔۔

  • سردیوں کی چھٹیاں، سرکاری سکولوں میں ہوم ورک دینے کے متعلق حکومت کا اہم فیصلہ

    سردیوں کی چھٹیاں، سرکاری سکولوں میں ہوم ورک دینے کے متعلق حکومت کا اہم فیصلہ

    سرکاری سکولوں میں ہوم ورک دینے کے متعلق حکومت کا اہم فیصلہ

    باغی ٹی وی :‏سردیوں کی چھٹیوں کے پیشِ نظر سرکاری سکولوں میں ہوم ورک دینے کے احکامات جاری کردیئے گئے. پنجاب کے تمام سی ای اوز ایجوکیشن کو مراسلہ جاری کردیا گیا.تفصیلات کے مطابق پنجاب سمیت ملک بھر کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔تعلیمی اداروں میں بھی کورونا کیسز رپورٹ ہورہے ہیں جس کے بعد والدین بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔سکولوں میں تعطیلات جلدی کرنے کی بھی اپیل کی جا رہی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں

    . محکمہ سکول ایجوکیشن نے صوبہ بھر کے36اضلاع کے سی ای اوز کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔اجلاس میں کورونا کی موجودہ صورتحال اور موسم سرما کی قبل از وقت چھٹیوں کا معاملہ زیر غور لایا جائے گا۔پیک امتحان ختم کرنے اور تعلیمی سال یکم اگست سے شروع کرنے پر بھی سفارشات لی جائیں گی۔اجلاس قائداعظم اکیڈمی و ترقی تعلیم وحدت روڈ پر ہوگا۔اجلاس میں سیکرٹری سکولز ایجوکیشن بھی شرکت کریں گے

  • رانا ثناءاللہ نے سی سی پی او لاہور کو دھمکی لگادی

    رانا ثناءاللہ نے سی سی پی او لاہور کو دھمکی لگادی

    رانا ثناءاللہ نے سی سی پی او لاہور کو دھمکی لگادی

    : باغی ٹی وی پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے سی سی پی او دفتر کے باہر عظمی بخاری اور سمیع اللہ خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سی سی پی او لاہور سے ملاقات ہوئی ہے .ہم نے انہیں باور کروایا ہے کہ آپ کی وفاداری ریاست پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیئے .اس ملک پر مسلط وزیراعظم اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے .وہ رات کو خواب میں بھی یہی بڑبڑاتا ہے کہ میں کسی کو چھوڑوں گا نہیں.
    وہ جھوٹے مقدمات بنانے اور جیل میں سیاسی مخالفین کو اذیتیں دینے سے بھی باز نہیں آ رہا .شہباز شریف کو شدید تکلیف کے باوجود بکتر بند گاڑی میں لاہور کی سڑکوں پر گھمانا بدترین سیاسی انتقام ہے .عمران خان کی خواہش اپنی جگہ لیکن جیل سے عدالت اور واپس جیل لانا سی سی پی او کی ذمہ داری ہے
    ہم نے سی سی پی او کو وارننگ دی ہے کہ یہ بات اب مزید برداشت نہیں ہو گی .قبل از مسیح زمانے میں مخالفین کو اذیتیں پہنچانا عام تھا لیکن آج ایسا نہیں ہو سکتا .اس سے لیگی ووٹروں میں تشویش ہے .افسران اپنے رویوں کو تبدیل کریں اور کسی حکمران کے اندھے انتقام کا ساتھ نہ دیں
    پی ڈی ایم نے 22 نومبر کو پشاور اور 13 دسمبر کو لاہور میں جلسے کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے .کھلی فضا میں کورونا کا زیادہ خطرہ نہیں ہوتا . ہم اپنے  جلسوں میں کورونا ایس او پیز کا خیال رکھیں گے
    سی سی پی او کو کہا ہے کہ اپنی آئینی و قانونی حدود میں رہیں اور شہباز شریف کو ایذا رسانی کا حصہ نہ بنیں . اگر سی سی پی او نے ہماری بات نہ مانی تو ان کے دفتر کا گھیراو بھی ہو سکتا ہے اور وہاں دھرنا بھی دیا جا سکتا ہے .نیب چیئرمین سے مطالبے پورے نہ ہونے پر اینٹی کرپشن کو آگے لایا گیا ہے .ہمارے ساتھیوں پر بے بنیاد مقدمات بنائے جا رہے ہیں
    آپ ریاست کے افسر بنیں اور شہزاد اکبر کے پٹھے نہ بنیں .ہم آپ کے غیر قانونی اقدامات کو لازمی روکیں گے .اس کے پیچھے محکمہ زراعت ہو یا ماحولیات ہو، اس کے پیچھے ہمیں وزہر اعظم کا انتقامی ذہن نظر آتا ہے .عمران خان آپ کی بھول ہے، آپ کی کرسی بہت کمزور ہے
    آپ نے کسی کو کیا چھوڑنا، آپ کو کوئی نہیں چھوڑے گا .لیگی کارکنوں کی گرفتاریوں کا ہم سامنا کرینگے لیکن ہم پھر بھی میدان میں نظر آئیں گے
    آپ کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا