Baaghi TV

Category: لاہور

  • نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش، کب تک رہیں گے لندن؟ وکیل نے کیا کہا؟

    نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش، کب تک رہیں گے لندن؟ وکیل نے کیا کہا؟

    نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش، کب تک رہیں گے لندن؟ وکیل نے کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت میں  چودھری شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی،جیل حکام نے یوسف عباس کو عدالت میں پیش کر دیا

    سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی، عدالت نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی. وکیل نے کہا کہ نواز شریف کا 24 فروری کو لندن میں علاج شروع ہو رہا ہے، ڈاکٹرز نے نواز شریف کو لندن میں ہی رہنے کا کہا ہے

    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے. اس کیس میں مریم نواز کو عدالت نے حاضری سے استثنیٰ دے رکھا ہے؛ عدالت نے یوسف عباس کا 14 روزہ مزید ریمانڈ دے دیا اور کیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    چوہدری شوگرملز کیس میں نواز شریف اورمریم نواز کی ضمانت منظورکی جاچکی ہے،مریم نوازکی4 نومبر کولاہورہائیکورٹ سے ضمانت منظور کی گئی، مریم نواز کو والد نواز شریف کی تیمار داری کے لئے ضمانت منظور کی گئی تھی تا ہم نواز شریف  لندن جا چکے ہیں، مریم نواز کا پاسپورٹ عدالت کے پاس ہے مریم پاکستان میں ہیں.

    ن لیگی رہنماؤں کی عدالت میں پیشی، مریم نواز کے شوہر کو پولیس نے کیا کہا؟

    مریم نواز کو کٹہرے میں لایا جائے، عدالت کا حکم

    حلال کی کمائی ہے، 5 ٹکے بھی ان کو نہ دیں، کیپٹن ر صفدر کا دعویٰ

    نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری شوگر مل کےلیے آف شور کمپنی سے 40 کروڑ روپےبطورقرض لیے گیے ،میسرز چیرڈن جرسی نامی آف شور کمپنی کے نام سے قرض ظاہر کیا گیا، چودھری شوگر مل کے قیام کے لیے شریف فیملی نے 70 کروڑ روپے سے زائد رقم لگائی، چودھری شوگر مل میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز سمیت متعدد افراد شراکت داررہے .

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا تھا کہ 2008 میں مریم نواز کے نام پر11 ملین کے شیئر تھے، مریم نوازچوہدری شوگرملزکی ڈائریکٹرہیں، مریم نوازکے84لاکھ روپے کے شیئر تھے، جو بڑھ کر 41 کروڑ ہوگئے

    چودھری شوگر ملز، شریف خاندان پھنس گیا، شہباز شریف کی طلبی،حمزہ بھی شامل تفتیش

    واضح رہے کہ شریف خاندان نیب کے ریڈار پر ہے، شہباز شریف کے خلاف نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں، حمزہ شہباز جیل میں ہیں، شہباز شریف فیملی کے اثاثے اور بینک اکاونٹس نیب نے منجمند کرنے کا حکم دیا ہے، نواز شریف العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات برس قید کی سزا کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے تھے کہ لندن منتقل ہو گئے، شباز شریف ،مریم نواز ضمانت پر ہیں، یوسف عباس جیل میں ہیں

  • لاہور سے سینئر پولیس افسر لاپتہ

    لاہور سے سینئر پولیس افسر لاپتہ

    لاہور سے سینئر پولیس افسر لاپتہ

    باغی ٹی وی : لاہور میں دو سیئنرز اور اہم عہدوں پر فائز کی گمشدگی اور اگوا نے سیکیورٹی حلقوں کو تشویش میں ڈال دیا.لاہور سے سینئر پولیس افسر لاپتہ ہوگیا جبکہ سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بھی اغوا ہوگیا جبکہ دونوں کا آپس میں گہرا تعلق بھی بتایا جارہا ہے۔

    لاہور میں ایس ایس پی مفخر عدیل پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے جبکہ سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شہباز احمد تتلا کو اغوا کرلیا گیا۔

    پولیس نے مفخر عدیل اور شہباز احمد کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس سلسلے میں فیصل ٹاؤن میں ایک گھر کی تلاشی بھی ہے جو مفخر عدیل اور شہباز تتلا کے زیر استعمال تھا اور دونوں چند روز قبل اس گھر میں آئے تھے۔
    فرانزک ٹیموں نے گھر سے شواہد اکٹھے کیے اور پولیس نے بھی سامان کی چیکنگ کی۔ ایس ایس پی مفخر عدیل کے زیر استعمال سرکاری جیپ جوہر ٹاؤن شاپنگ مال کے قریب سے پولیس کو مل گئی ہے۔

    مفخر عدیل کی اہلیہ نے تھانہ نواب ٹاؤن میں شوہر کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروادی ہے۔ مفخر عدیل 8 فروری سے کسی کیس کی خفیہ انکوائری کر رہے تھے اور منگل کی رات 11 فروری کو اکیلے سرکاری جیب پر گھر سے نکلے تھے، اور ان کا فون رات آٹھ بجے بند ہو گیا، دو روز گزرنے کے باوجود مفخر عدیل کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔ایس ایس پی مفخر عدیل پنجاب کانسٹیبلری لاہور میں تعینات ہیں، وہ ایس پی سول لائنز لاہور بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے 2008 میں پولیس فورس کو جوائن کیا۔
    واضح رہے کہ موجودہ حکومت میں قانون کی عملداری بری طرح متاثر ہوئی ہے ، جگہ جگہ پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے اور چوری و راہزنی کی واردات عام ہیں.

  • جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور ، عدالت نے دیا اہم فیصلہ

    جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور ، عدالت نے دیا اہم فیصلہ

    جمشید دستی کی حفاظتی ضمانت منظور ، عدالت نے دیا اہم فیصلہ

    باغی ٹی وی رپورٹ : لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے جمشید دستی کی 20 فروری تک حفاظتی ضمانت منظو کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جمشید دستی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں جمشید دستی کی غیر قانونی حراست کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مظفر گڑھ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہیں، جمشید دستی کو ابھی رہا کیا جائے۔

    سابق رکن قومی جمشید احمد دستی کو ملتان کینٹ سے گزشتہ ماہ گرفتار کر لیا گیا تھا، عوامی راج پارٹی کے سربراہ کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج تھا،جمشید دستی کو گرفتار کر کے تھانہ کینٹ میں منتقل کیا گیا تھا بعد ازاں مظفر گڑھ پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا

    واضح رہے کہ ایک ماہ قبل پولیس اہلکار فرخ شہزاد نے ساتھیوں سے مل کر ڈرائیور سے دو آئل ٹینکر چھینے تھے۔ گرفتار پولیس اہلکار فرخ شہزاد، جمشید دستی کا گن مین اور جماعت کا سرگرم رکن بھی رہ چکا ہے

  • حافظ محمد سعید کو کشمیریوں کی حمایت  اور انسانیت کی خدمت کے جرم میں گرفتار کیا گیا ، ترجمان جماعۃ الدعوۃ

    حافظ محمد سعید کو کشمیریوں کی حمایت اور انسانیت کی خدمت کے جرم میں گرفتار کیا گیا ، ترجمان جماعۃ الدعوۃ

    حافظ محمد سعید کو کشمیریوں کی حمایت اور انسانیت کی خدمت کے جرم میں گرفتار کیا گیا ، ترجمان جماعۃ الدعوۃ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان نے حافظ محمد سعید کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امیر جماعۃ الدعوہ حافظ محمد سعید کو دو مقدموں میں ١١ سال قید اور 15000 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئ ہے. پاکستان اور کشمیر سمیت ہر صاحب شعور انسان کا دل افسردہ ہے. یہ سزائیں عالمی دباؤ کے تحت دی گئی ہیں. حافظ محمد سعید کا گناہ کشمیریوں کے لیئے آواز اٹھانا ہے اور انسانیت کی خدمت کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف بھارت کے جاری ظلم پر دنیا نے آنکھیں بند کی ہوئی ہے. عجب ستم ہے کہ پاکستان کے عوام کی خدمت کرنے والے اور مظلوم کشمیریوں کے لیئے آواز اٹھانے والے آج سزاوار ٹہرے ہیں. سارا پاکستان اور دنیا جانتی ہے کہ حافظ محمد سعید نے ہر قدرتی آفت میں انسانیت کی مدد کی ہے اور خدمت خلق اور تعلیم کے شعبے میں بے پناہ خدمات پیش کی ہیں لیکن انڈیا کے دباؤ میں آکر اور ایف اے ٹی ایف کو سیاسی طور پر استعمال کر کے پاکستان پر دباؤ ڈال گیا، پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کے حافظ محمد سعید اور ان کی جماعت پاکستان کے محسن ہیں اور کسی دھشت گردی میں ملوث نہیں. تمام کارکنان سے پر امن رہنے کی اپیل ہے، کیونکہ ہماری یہ قربانیاں پاکستان کی بقا کے لیے ہیں. اللہ پاکستان کی ہمیشہ حفاظت فرمائے آمین

    ترجمان جماعت الدعوہ

  • لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید کو  11 سال کی سزا سنا دی

    لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید کو 11 سال کی سزا سنا دی

    لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید کو 11 سال کی سزا سنا دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پروفیسر حافظ محمد سعید کو دو کیسز میں ساڑھے پانچ سال قید اور 15 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی، اس سے پہلے انسداد دہشتگری عدالت لاہور نے امیر جماعۃ الدعوہ حافظ سعید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی الزامات دائر کرنے کے بعد عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو طلب کیا تھا ۔

    فرد جرم عائد کرنے پر جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں نے خود پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد کہا تھا اور ان سے انکار کیا اور ان مقدمات کو پاکستان حکومت پر بین الاقوامی دباؤکا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان پر کالعدم لشکر طیبہ کے رہنما کی حیثیت سے غلط طور پر منسوب کرتے ہوئے مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔لشکر طیبہ سےان کا کوئی تعلق نہیں. ہے

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے حافظ محمد سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا. انہیں گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا. جس پر عدالت نے جوڈیشیل ریمانڈ پر حافظ محمد سعید کو جیل منتقل کر دیا تھا.
    واضح رہے کہ بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب پاکستان کو دی جانے والے فہرست میں ایک کام دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور اشخاص کے خلاف کاروائی کرنا بھی شامل تھا۔ حکومت پاکستان نے جولائی 2019 میں ایسے 23 مقدمات درج کیے جن میں 13 افراد کو نامزد کیا تھا۔ ان میں سے 11 مقدمات میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو نامزد کیا گیا تھا۔
    خیال رہے کہ حافظ سعید 3 جولائی 2019 کو یہ مقدمات بنائے گئے اور انہیں 17 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ 11 دسمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 1 نے ان پر فرد جرم عائد کی اور مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر کی جانے لگی۔ وکیل استغاثہ عبدالرووف وٹو کے مطابق حافظ سعید کی جانب سے ان کے وکیل کے عدالت میں پیش ہونے پر ان کو سرکاری طور پر وکیل دفاع دیا گیا جس کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر ممکن ہوئی۔

  • نئے پاکستان میں کرائے کی زندگی سے موت اچھی،کرائے کے مکان سے قبرمیں قیام ہی بہتر،دردناک موت کی دردناک کہانی

    نئے پاکستان میں کرائے کی زندگی سے موت اچھی،کرائے کے مکان سے قبرمیں قیام ہی بہتر،دردناک موت کی دردناک کہانی

    لاہور : نئے پاکستان میں کرائے کی زندگی سے موت اچھی،بے حس حکمران ،بے بس عوام،دردناک موت نے دل دہلا دیئے،اطلاعات کے مطابق کرائے کا بندوبست نہ ہونے پر خاتون نے بیٹے سمیت ٹرین کے آگے کود کر زندگی کا خاتمہ کر لیا، روبینہ اپنی بہن سے چار ہزار ادھار لینے نکلی تھی۔

    ذرائع کےمطابق کرائے کے مکان میں رہنے والا یہ خاندان کرائے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان تھا ، لیکن اس سے زیادہ پریشانی اس بات کی ہے کہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان نئے پاکستان کو ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ ملک میں پناہ گاہیں تو بن رہی ہیں لیکن لگتا ہے سفیدپوش محنت کشوں کیلئے جائے پناہ کہیں نہیں۔ لاہور میں گھر کا کرایہ نہ ہونے پر خاتون نے مبینہ طورپر خودکشی کر لی ،مالک مکان کے طعنوں سے بچنے کے لیے تین بچوں کی ماں روبینہ ٹرین کے آگے کود گئی۔

    خاتون کا شوہر ایک جوس کارنر پر ملازم ہے ، شوہر کا کہنا ہے آج کرائے کی آخری تاریخ تھی اور مالک مکان نے آج گھر خالی کرانے کی دھمکی دے رکھی تھی ۔ 9 ہزار کرائے میں سے 5 ہزار دیدیا تھا ،روبینہ بہن سے چار ہزار ادھار لینے کا کہہ کر گئی اور ٹرین کے نیچے آ کر جان دے دی ۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ لڑکی کو آواز دے کر خبردار کیا لیکن وہ ٹرین کے آگے آ گئی ۔

  • خبردار اپنے اور گردونواح کے بچوں کا خیال رکھیں !  بچوں کو اغواء کرکے فروخت کرنے والی خواتین کا گروہ پکڑا گیا

    خبردار اپنے اور گردونواح کے بچوں کا خیال رکھیں ! بچوں کو اغواء کرکے فروخت کرنے والی خواتین کا گروہ پکڑا گیا

    لاہور:خبردار اپنے اور گردونواح کے بچوں کا خیال رکھیں ! بچوں کو اغواء کرکے فروخت کرنے والی خواتین کا گروہ پکڑا گیا،اطلاعات کے مطابق لاہور میں بچوں کو اغواء کے بعد فروخت کرنے والی سرگرم بچوں کو اغواء کرکے فروخت کرنے والی خواتین کا گروہ پکڑا گیا

    ذرائع کے مطابق لاہور میں گلشن اقبال انویسٹی گیشن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو اغواء کے بعد فروخت کرنے والے لیڈیز گینگ کی 2خواتین کو گرفتار کیا۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید نے بتایاکہ ملزم خواتین نے چند دن پہلے 10سالہ عبدالرزاق کو کراچی میں فروخت کے لیے اغواء کیا تھا۔

    ڈاکٹر انعام وحید کے مطابق اغواءکاروں نے مغوی بچے سے مختلف مقامات پر 2 روز تک بھیک بھی منگوائی اور آج بچے کو اسمگل کرنے کی کوشش میں پکڑے گئے۔
    تحقیقات کے مطابق گروہ کی سرغنہ اللہ معافی عرف سونیا عرف جگو لڑکوں کے بھیس میں بچےاغواء کرتی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مغوی عبدالرزاق کو مصطفیٰ ٹاؤن کے علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے، گروہ کی دوسری رکن کانام سمیرا ہے جب کہ دونوں خواتین سے اہم انکشافات کی توقع ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے معروف صحافی اسی گھنوئنے کاروبار کے بارے میں ایک اہم رپورٹ پہلے ہی بیان کرچکے ہیں

  • غریباں دی وی سنی گئی اے ؟ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق، جائزے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

    غریباں دی وی سنی گئی اے ؟ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق، جائزے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

    لاہور: کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق، جائزے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت اجلاس میں کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نےکہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے لئے انتظامی لحاظ سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس حوالے سے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینے کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی اس ضمن میں جلد اپنی حتمی سفارشات پیش کرے گی۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں کیڈٹ کالج کے قیام کے منصوبے کا جائزہ لیں گے جبکہ پولیس کو نئی گاڑیوں کی خریداری کے لئے فنڈز مہیا کریں گے۔ خانیوال میں سپورٹس کمپلیکس کے منصوبے کے لئے ضروری امور جلد طے کئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کاٹن سیڈ کے حوالے سے 7 روز کے اندر حتمی پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن سیڈ کی بہترین کوالٹی فصل کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گی

  • حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت ۔عدالت نے سنایا بڑا فیصلہ

    حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت ۔عدالت نے سنایا بڑا فیصلہ

    *حمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت مسترد*

    لاہور ہائی کورٹ نے ن لیگ کے رہنماحمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی ہے۔
    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فیصلہ سنایا۔
    دوران سماعت وکیل نیب نے موقف اپنایا کہ حمزہ شہباز پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے،حمزہ شہبازکےاکاؤنٹ میں مختلف اوقات میں بیرون ملک سے پیسے ٹرانسفر ہوئے۔
    وکیل حمزہ شہباز نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز پر منی لانڈرنگ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ منی لانڈرنگ قانون کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
    حمزہ شہباز کے وکیل نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز شریف کے اکاونٹ میں پیسے قانون بننے سے پہلے ٹرانسفر ہوئے،منی لانڈرنگ کا پہلا آرڈیننس 2007 میں آیا، یہ آرڈینس 90 روز بعد ختم ہوگیا،دوسرا آرڈینس 2009 میں آیا، جبکہمنی لانڈرنگ کا قانون 2010 میں آیا۔
    انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے پاس گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں، نیب نے منی لانڈرنگ قانون کا غلط استعمال کیا اور وارنٹ جاری کیے۔
    عدالت نے استفسار کیا کہحمزہ کے اثاثہ جات میں بوم کب آیا جس نے نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ دو ہزار اٹھارہ میں 41 کروڑ کا اضافہ ہوا۔
    عدالت نےوکیل سے سوال کیا کہ آپ ان پیسوں کے آنے کا سورس بتائیں۔
    نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ ان پیسوں کا آنے کادورانیہ 2008 سے 2018 ہے،ایف بی آر رکارڈ میں تمام تفصیلات درج ہیں۔
    دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سلمان شہباز کے اکاونٹ میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ کی ٹرانزکشن ہوئی، 55 کروڑ رابعہ عمران کے اکاونٹ میں آیا اور ٹرانسفر ہوا، یہ پیسے گفٹ کی مد میں حمزہ شہباز کے اکاونٹ میں بھجوائے گئے۔
    اس پر عدالت نے کہا کہ  ممکن ہے کہ سالگرہ پر تحفے دئیےہوں۔
    حمزہ شہباز کے وکیل نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جن رشتے داروں کا نام لے رہے ہیں یہ کیس انکے خلاف نہیں۔
    اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رشتے داروں کے اکاونٹ سے حمزہ کے اکاونٹ میں پیسہ آیا ہے تو اس کا تعلق بنتا ہے۔
    واضح رہے کہ رمضان شوگرملز کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت 6 فروری کو منظورہوئی تھی

  • منی لانڈرنگ کیس، حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

    منی لانڈرنگ کیس، حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

    منی لانڈرنگ کیس، حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،

    جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ نے حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ حمزہ شہباز کی طرف سے سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ حمزہ شہباز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، غیر سیاسی قوتیں نیب سمیت دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کو استعمال کر رہی ہیں۔

    وکیل حمزہ شہباز نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری 12 اپریل 2019ء کو جاری کئے گئے، ان کے والد شہباز شریف 3 بار صوبائی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی گرفتاری کی وجوہات کی بنیاد پر ریفرنس بنایا گیا ہے، نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے ملازمین کو ہی بے نامی دار بنا دیا، حمزہ شہباز کو 189 دنوں سے گرفتار کیا گیا ہے مگر ابھی تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔

    سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا ملزم کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 کو پس پشت ڈالا گیا، چیئرمین نیب نے تحقیقات کیلئے قانونی رائے نہیں مانگی، حمزہ شہباز کیخلاف کیس میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی گئی، حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات آئین کے آرٹیکل 10 اے کی بھی خلاف ورزی ہے، نیب کو سرے سے ہی منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کا اختیار نہیں۔

    وکیل حمزہ شہباز نے موقف اپنایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے جس میں چیئرمین نیب کو مداخلت کا اختیار نہیں، چیئرمین نیب کو صرف آرڈیننس کی دفعہ 18 کے تحت تحقیقات کا اختیار ہے، نیب کی تحقیقات 2005 سے 2008 کے دوران بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقم کے گرد گھومتی ہیں، 2005 سے 2008ء حمزہ شہباز پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے، بیرون ملک سے وصول رقم 14 سال پرانی ہے جس کا صرف محدود ریکارڈ موجود ہے۔

    سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، منی لانڈرنگ تحقیقات غیر قانونی ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا بھی حکم دیا جائے، درخواست کے حتمی فیصلے تک حمزہ شہباز کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا بھی حکم دیا جائے .

    واضح رہے کہ رمضان شوگر ملز کیس میں حمزہ شہباز کی عدالت نے ضمانت منظور کر رکھی ہے،

    حمزہ شہباز نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے ضمانت کی درخواست دائر کی ،درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر رمضان شوگر ملز میں تحقیقات کا آغاز کیا، نیب نے رمضان شوگر ملز کے معاملے پر متعدد بار انکوائری کی مگر کچھ بھی نہیں ملا،تحصیل بھوانہ میں نالہ عوامی مفاد میں بنایا گیا تھا، صوبائی کابینہ اور صوبائی اسمبلی نے سیوریج نالے کی تعمیر کی منظوری دی تھی،حمزہ شہباز کیخلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں،

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ رمضان شوگر ملز میں شریک ملزم شہباز شریف کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے، رمضان شوگر ملز ریفرنس میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے،حمزہ شہباز صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے اور گرفتاری سے ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے،حمزہ شہباز کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے،

    حمزہ شہباز کا فرنٹ مین بن گیا نیب میں وعدہ معاف گواہ،بیان ریکارڈ کروا دیا

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    نیب نے احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف فیملی نے اپنے مختلف ملازموں کے ناموں پرکمپنیاں بنا رکھی ہیں،منی لانڈرنگ کی رقوم بے نامی کمپنیوں میں منتقل کی جاتی رہیں ،اور ان بے نامی کمپنیوں سے شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں رقم منتقل ہوتی رہی. نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیب کو 10 غیرملکی منی ایکس چینجرزکا ریکارڈمل چکاہے، شہبازشریف، حمزہ،سلمان کوبرطانیہ کی 4 منی ایکس چینج سے رقوم منتقل ہوئیں، دبئی کی 6 منی ایکس چینج سے بھی رقوم منتقل کی گئیں۔ نیب رپورٹ کے مطابق شہبازشریف فیملی کو 10 کمپنیوں سے 37 کروڑبھیجے گئے.