Baaghi TV

Category: لاہور

  • جس حالت میں ملک ملا تھا، اس سے بہتر حالت میں منتخب حکومت کو دے کر جائیں گے، مرتضیٰ سولنگی

    جس حالت میں ملک ملا تھا، اس سے بہتر حالت میں منتخب حکومت کو دے کر جائیں گے، مرتضیٰ سولنگی

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ 17 اگست 2023ء کو ہماری کابینہ نے حلف اٹھایا تھا، اگلے روز میں نے کہا تھا پاکستان آئینی قوت کے تحت چل رہا ہے، نگراں حکومت بھی آئین کے تحت ہی کام کر رہی ہے۔نگراں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ الیکشن سے سامنے آنے والی منتخب قیادت کو چاہیے بنیادی مسائل حل کرے۔لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ معاشی مسائل، آبادی پر کنٹرول اور گورننس ریفارمز پر کام کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک عوام کے منتخب نمائندوں کو چلانا ہے، پنجاب میں مذہبی اقلیتوں کا اہم کردار ہے، آئین میں شامل ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہوں گے۔پاکستان میں اقلیتوں کو برابر شہری حقوق حاصل ہیں، مرتضیٰ سولنگی نے مزید کہا کہ پاکستان اسی وقت مضبوط ہوگا جب ہم اقلیتوں کو برابر شہری حقوق دیں، ہماری بڑی کامیابیوں میں اقلیتوں کا بہت بڑا حصہ ہے. نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے نظام میں اقلیتی برادری فعال کردار ادا کر رہی ہے، اور امید ہے آئندہ حکومت ملک کے بنیادی مسائل پر توجہ دے گی، معاشی سلامتی اور طاقت کے بغیر کوئی ملک مضبوط نہیں ہوتا، مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ جناح صاحب کی دستور ساز اسمبلی کی تقریر میں سب واضح ہے۔ صحت اور تعلیم کے اداروں میں اقلیتوں کو نکال دیں تو کچھ بھی نہیں بچتا۔

  • لاہور پی پی 160 میں پی ایم ایل این اور پی پی آمنے سامنے ،شہلا رضا اور عطاءتارڈ کا ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ

    لاہور پی پی 160 میں پی ایم ایل این اور پی پی آمنے سامنے ،شہلا رضا اور عطاءتارڈ کا ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ کی جانب سے پیپلز پارٹی کے دفتر پر میڈیا سمیت چھاپے اور پیسوں کے عوض ووٹ خریدے جانے کا الزام لگانے کے بعد لاہور میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی۔پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی غنڈہ گردی ہم برداشت کر رہے ہیں، سندھ میں آپ کی کوئی لیڈر شپ کھڑی ہی نہیں ہوئی۔شہلا رضا نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ہم تیار ہیں، اب جیالے ان کا راستہ روکیں گے، عطا تارڑ یا ان کے لوگ آکر دکھائیں، ہم چاہتے ہیں کہ ن لیگ کی غنڈہ گردی پر ایف آئی آر ہو۔شہلا رضا نے کہا کہ این اے 127 میں دیوار پر لکھی شکست عطا تارڑ کو نظر آگئی ہے، عطا تارڑ پارلیمنٹ میں گندے اشاروں کی وجہ سے مشہور ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کو عزت دینے والے نوٹ کو عزت دے رہے ہیں۔
    پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے دفتر سے 3 کارکنوں کو اغوا کیا گیا، ہم خاموش ہیں کہ الیکشن پُرامن ہو، نواز شریف اور شہباز شریف کو اس عمل کا نوٹس لینا چاہیے اور اس حملے کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔اس موقع پر شہلا رضا نے کہا کہ اب ہم تیار ہیں، اب یہ ہمارے دفتر آکر دکھائیں، اب جیالے ان کا راستہ روکیں گے، ہمارے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے، ہمارے بینرز اتارے جارہے ہیں۔شہلا رضا نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں آپ کی بات ہوگئی لیکن عوام سے آپ کی بات نہیں ہوئی، عطا تارڑ کس قانون کے تحت دفتر میں داخل ہوئے، شکست آپ کا مقدر ہے، سندھ میں کوئی آپ کا امیدوار نہیں ہے۔اس موقع پر پی پی رہنما ذوالفقار بدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے،
    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عطا تارڑ نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی نے ضد میں لاہور سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کرکے 60 ہزار ووٹ خریدنے کا منصوبہ بنایا۔لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے، کامیابی عوام کے ساتھ مہم چلانے سے ملتی ہے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہم ہر جگہ جلسے کررہے ہیں اور ہر جگہ موجود ہیں، لاہور میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک نہیں، پیپلزپارٹی نے ضد میں لاہور سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔عطا تارڑ نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ضد بازی میں لاہور کا حلقہ منتخب کرلیا ہے، پیپلزپارٹی نے 50 سے 60 ہزار ووٹ خریدنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

  • لاہور: کرپشن میں کمی کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے،شہباز شریف

    لاہور: کرپشن میں کمی کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے،شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے پیسے بانٹ کر کسی کا شناختی کارڈ اپنے پاس رکھنا بد ترین دھاندلی ہے، انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوام اپنے ووٹ سے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرنا چاہتا ہوں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ تین دن پہلے آئی ہے، نوازشریف کے دور میں کرپشن انڈیکس میں کمی آئی، نوازشریف کے دور میں کرپشن کو شدید ضرب لگی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں کرپشن انڈیکس میں اضافہ ہوا، پی ٹی آئی دور میں چینی کا بحران پیدا کر کے اربوں کی کرپشن کی گئی، بانی پی ٹی آئی نے ایک رات کہا کہ چینی کرپشن کیخلاف انکوائری شروع کر دی ہے، بانی پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری ہوئی، اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود کرپشن میں کمی آئی، بانی پی ٹی آئی خود کہتے تھے جہاں کرپشن کم ہوتی ہے وہاں کا حکمران ایماندار ہوتا ہے، جہاں کرپشن ہو وہاں کا حکمران چور ہوتا ہے۔
    شہباز شریف نے کہا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرناچاہتا ہوں، الیکشن میں عوام بیلٹ باکس کے ذریعے ووٹ سے فیصلہ کریں گے، انتخابی مہم آخری لمحات میں ہے، عوام کے فیصلے کاتعلق پاکستان کے مستقبل سے ہوگا، کروڑوں بچے اور بچیاں الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے، نوجوانوں کے مستقبل کافیصلہ آئندہ انتخابات سےہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2018 میں بدترین دھاندلی اور جادو ٹونے سے حکومت بنی، دھاندلی زدہ حکومت نے ہم پر بدترین کرپشن کے الزامات لگائے، ہم پر موٹروے بنانے پر الزامات لگائے گئے، کوئی بھی نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ثابت نہیں کرسکا، آج موٹروے سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے دور میں کھاد سستی دی گئی اور ٹیوب ویل پر سبسڈی دی گئی، مسلم لیگ ن نے ہر دور میں عوام کی خدمت کی، پی ڈی ایم کی حکومت میں کرپشن انڈیکس 140 سے کم ہو کر 133 پر آگیا جس کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے، ایک سالہ اتحادی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں چور ڈاکو کا ورد کر کے طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، کچھ قوتوں نے بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دے کر انہیں بڑھاوا دیا، ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق 2018 کی حکومت میں پاکستان میں کرپشن بڑھی۔

  • لاہور : حلقہ پی پی 160 پر حملہ،شیری رحمن کی مذمت، تاج حیدر  کا  چیف الیکشن کمشنر کو  خط ،کاروائی کا مطالبہ

    لاہور : حلقہ پی پی 160 پر حملہ،شیری رحمن کی مذمت، تاج حیدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط ،کاروائی کا مطالبہ

    نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نےحلقہ پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر حملے کی مذمت کی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ کے امیدوار اور غنڈوں نے پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا، عطا تارڑ غنڈوں کے ہمراہ مصباح الرحمان کے الیکشن آفس میں گھس گئے۔ خط کا متن کے مطابق مسلم لیگ ن نے این اے 127 میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا ہے، عطا تارڑ کے مجرمانہ طرز عمل کی فوری تحقیقات کی جائے۔تاج حیدر نے خط میں مزید لکھا کہ پنجاب پولیس ان غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کار ہے۔ تاج حیدر نے خط میں مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار اور سی سی پی او لاہور کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ دوسری جانب پی پی کی نائب صدر و سینٹر شیری رحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ لاہور میں مسلم لیگ ن کے این اے 127 کے امیدوار کی جانب سے پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر مسلح افراد کے ساتھ حملہ قابل مذمت اور انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے حلقہ پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں مصباح الرحمان کے الیکشن آفس میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، یہ واقعہ قوانین اور الیکشن کمیشن کے تمام ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن اس واقعے کا سختی سے نوٹس لے اور حملے میں ملوث نمائندوں کے کاغذات مسترد کرے۔رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد پر الیکشن مہم چلانے پر پابندی لگائی جائے، کوئی بھی عوامی امیدوار اس طرح جتھوں اور دھونس دھمکیوں کی سیاست نہیں کرتا، اس سے پہلے بھی ہمارے انتخابی دفاتر پر حملے ہوئے ہیں۔شیری رحمان نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی لاہور میں مقبولیت کی وجہ سے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔

  • 03 فروری کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    03 فروری کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    03 فروری کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1905ءجدوجہد آزادی کے نامور رہنما نواب بہادر یار جنگ کا اصل نام محمد بہادر خان تھا اور وہ 3 فروری 1905ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ 1927ء میں انہوں نے مجلس تبلیغ اسلام کے نام سے ایک جماعت قائم کی بعدازاں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک اور مجلس اتحاد المسلمین کے سرگرم کارکن رہے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنمائوں میں شامل تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ مارچ 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جس اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اس میں آپ نے بڑی معرکہ آرا تقریر کی تھی۔ نواب بہادر یارجنگ آل انڈیا اسٹیٹس مسلم لیگ کے بانی اور صدر بھی تھے۔ آپ کو قائد ملت اور لسان الامت کے خطابات سے نوازا گیا تھا۔ 25 جون 1944ء نواب بہادر یار جنگ حیدر آباد دکن میں وفات پا گئے۔

    1936ء رابرٹ بیڈیلی سمپسن بمعروف باب سمپسن، آسٹریلوی کرکٹر اور کوچ

    1938ء وحیدہ رحمان ، بھارتی اداکارہ

    1936ءاسیر عابد کا اصل نام غلام رسول تھا۔غلام رسول اسیر عابد کی پیدائش علی پور چٹھہ گوجرانوالہ میں ہوئی پاکستانی معروف شاعر مترجم تھے، جو اردو، پنجابی اور فارسی میں شاعری لکھتے تھے۔ رئیس الترجمین اسیر عابد نہ صرف شاعر اور نثر نگار تھے بلکہ وہ آلات موسیقی پر بھی مضبوط گرفت رکھتے تھے۔ جنھوں نے شہر آفاق دیوان غالب ۔ ڈاکٹر محمد اقبال کا مجموعہ بال جبریل (جبریل اڈاری)، قیصدہ بردہ شریف کا پنجابی میں منظوم ترجمہ کیا، نیز قصیدہ بردہ شریف کا اردو منظوم ترجمہ کیا۔ پنجابی کی شہر آفاق تصنیف ہیر وارث شاہ کا اردو منظوم ترجمہ کیا۔ کلام بابا بلھے شاہ کو اردو نثر کا پہناوا پہنایا۔ ان کی اردو شاعری کی تصنیف "صحرا عبور کرنا ہے” بھی شائع ہوچکی ہیں

    1940ءکشور ناہید پاکستان کی ادبی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ ایک حساس دل کی ملک ہیں ملک کے سیاسی اور سماجی حالات پر اُن کی گہری نظر ہے، ایک عرصے سے وہ روزنامہ جنگ میں کالم لکھ رہی ہیں، کشور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی سال تک ادبی جریدے ماہِ نو کی ادارت کے فرائض بخوبی انجام دیتی رہی ہیں۔ آج کل وہ اسلام آباد میں سکونت پزیر ہیں

    1948ء کارلس بیلو ، نوبل امن انعام (1996ء) یافتہ مشرقی تیمورین مسیحی رہنما ، انھوں نے مشرقی تیمور کے تنازعے کو پر امن طریقے سے حل کرنے پر کام کیا۔

    1950ء مورگن فیئر چائلڈ، امریکی اداکارہ

    1951ء بلیز کمپاوغے ، برکینا فاسو کے سیاست دان ، (15 اکتوبر 1987ء تا 31 اکتوبر 2014ء) چھٹے صدر برکینا فاسو اور (8 جون 1998ء تا 12 جولا‎ئی 1999ء) چیئر پرسن آف دی آرگنائزیشن آف افریقن یونٹی

    1956ء احمد حاطب صدیقی ، پاکستانی کالم نگار، مزاح نگار، شاعر اور بچوں کے ادیب ہیں، بچوں کے لئے شاعری بھی کرتے ہیں، ان کی نظم ” یہ بات سمجھ میں آئی نہیں” بہت مشہور ہوئی ہے۔ حاطب صدیقی روزنامہ جسارت، کراچی میں ابو نثر کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔

    1958ء حاصل خان بزنجو ، نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور 12 مارچ 2015ء سے ایوان بالا (سینٹ ) کے رکن ہیں ان کا شمار بلوچستان کے معتبر سیاستدانوں میں ہوتا ہے ۔میر حاصل بزنجونے 1958ءمیں ضلع خضدار کی تحصیل نال میں بلوچستان کے سابق گورنر میرغوث بخش بزنجو کے گھر میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مڈل ہائیاسکول نال سے حاصل کی۔ جب ان کے والد کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا، اس وقت وہ ساتویں جماعت میں تھے۔ ان کا خاندان کوئٹہ آگیا، جہاں انھوں نے اسلامیہ ہائیاسکول میں داخلہ لے لیا۔ 1977ءمیں میٹرک کرنے کے بعد 1979ءمیں گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے انٹر کیا۔80 ءکی دہائی میں کراچی چلے گئے جہاں جامعہ کراچی سے آنرز کرنے کے بعد فلسفے میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔8 اگست1988ءکو شادی ہوئی، ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ ان کے تین بھائی تھےحاصل بزنجو کے آباؤ اجداد سات پشتون سے بلوچستان میں آباد ہیں۔ ان کے داد فقیر محمد بزنجو، محراب خان کے زمانے میں (مکران ڈویژن میں ) 40سال تک خان آف قلات کے نائب رہے (اس زمانے میں نائب کی حیثیت گورنر کے مساوی ہوتی تھی )۔حاصل بزنجو نے 70ء کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔1972ءمیں بی ایس او نال زون کے صدر اوربعدمیں تنظیم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔
    1987ءمیں بی ایس او اور بی ایس او عوامی کے اتحاد کے خلاف تنظیم سے علیحدگی اختیار کی۔ حاصل بزنجو جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف تشکیل دیے جانے والے قوم پرست اور ترقی پسند طلباءکے اتحاد یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس موومنٹ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔1985ء تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی ) میں متحرک رہے۔ 1988ءمیں پاکستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور نال سے انتخابات میں حصہ لیا۔1989ءمیں والد کی وفات کے بعد پاکستان نیشنل پارٹی کی سرگرمیوں میں زیادہ فعال ہو گئے جس کی قیادت ان کے بڑے بھائی میر بیزن بزنجو نے سنبھالی۔ بیزن بزنجو 1990ءکے عام انتخابات قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب ہوئے بعد ازاں ایک نشست چھوڑ دی جس پر حاصل بزنجو نے انتخاب لڑا اور پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1996ءمیں حاصل بزنجو پاکستان نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔1997ءکے عام انتخابات میں وہ دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومت کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں انھیں کچھ عرصہ قید بھی کاٹنی پڑی۔ 2002ءمیں ان کی پارٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کا الحاق ہوا اور نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر حاصل بزنجو منتخب ہوئے۔ پارٹی کے پہلے کنونشن میں جنرل سیکرٹری اور دوسرے کنونشن میں سینئر نائب صدر منتخب ہوئے۔2009ءمیں بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ان کی جماعت نیشنل پارٹی نے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے فروری2008ءکے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی مدد سے بلوچستان میں نیشنل پارٹی اقتدار میں آئی اور یوں اس کی قیادت نے قومی توجہ حاصل کی، میر حاصل بزنجو 2014ء میں اس کے صدر بنے۔2013ء سے 2018ء تک ان کی جماعت نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان میں مشترکہ حکومت رہی، حاصل بزنجو 2019 میں چئیرمین سینٹ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار تھے۔20 اگست 2020ء کو وفات پاگئے، وہ کینسر اور بواسیر کے امراض میں مبتلا تھے۔ کراچی کے نجی ہسپتال میں گذشتہ روز میر حاصل کی کیمیو تھراپی کی گئی تھی، جمعرات کی صبح دوبارہ طبیعت خراب ہوئی اور وہ شام کو انتقال کر گئے۔ان کی میت کراچی سے ان کے آبائی علاقے نال منتقل کی گئی، جہاں جمعے کی شام پانچ بجے نماز جنازہ ادا کی گئی۔

    1961ء صبا محمود ، پاکستانی نژاد امریکی ماہر بشریات و استاد جامعہ، جو جامعہ کیلیفورنیا، برکلی میں بشریات کی پروفیسر رہیں۔ برکلی میں، صبا مرکز برائے مطالعہ مشرق وسطی، ادارہ برائے مطالعہ جنوبی ایشیا اور تنقیدی نظریے کا پروگرام سے بھی منسلک تھی۔ ان کے علمی کام کی وجہ سے بشریات اور سیاسی نظریہ کے مابین مباحثہ شروع ہوا، اس کام اور علمی مباحثے کا مرکزی موضوع مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے مسلم اکثریت کے معاشرے ہیں۔ صبا محمود نے اخلاقیات اور سیاست، مذہب اور سیکولرزم، آزادی و غلام باشی اور علت و صورت گری کے درمیان میں تعلقات پر نظر ثانی کرنے کے لئے اہم نظریاتی کام کئے ۔ (وفات: 10 مارچ 2018ء)

    1963ء ایسابیلا لوون ، سویڈنی صحافی و سیاست دان ۔ (1 جولائی 2009ء تا 3 اکتوبر 2014ء) رکن یورپی پارلیمان یورپی پارلیمان میں ان کا کام صنعت ماہی گیری کے سوالات کا جوابات دینا تھا، 25 مئی 2016ء سے نائب وزیر اعظم سوئیڈن ہیں۔ ایسابیلا کو صحافت کے میدان میں صنعت ماہی گیری کے متعلق کام کرنے خصوصاً مقالات لکھنے پر اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

    1963ء رگھو رام راجن، بھارتی ماہر اقتصادیات

    1963ء رگھو رام گووند راجن بمعروف رگھو رام راجن، بھارتی ماہر اقتصادیات ، پروفیسر، بینکار ، (4 ستمبر 2013ء تا 4 ستمبر 2016ء) 23ویں گورنر ریزرو بینک آف انڈیا

    1966ءرضیہ سلطانہ ، ایک ہندوستانی سیاست دان ہیں اور حکومت پنجاب میں کابینہ کی وزیر تھیں۔ انھوں نے پنجاب قانون ساز اسمبلی میں مالیرکوٹلہ کی نمائندگی کی جس کی وہ واحد مسلم رکن تھیں۔ وہ تین بار 2002ء، 2007ء اور 2017ء میں پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔سلطانہ مالیرکوٹلہ کے ایک متوسط طبقے کے گجر مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کی شادی آئی پی ایس افسر محمد مصطفیٰ سے ہوئی ہے جو پنجاب کے سابق ڈی جی پی تھے۔ جوڑے کے دو بچے ہیں۔ 2000ء کے اوائل میں، سلطانہ نے پنجاب میں فعال سیاست میں شمولیت اختیار کی۔ انھوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر 2002ء میں مالیرکوٹلہ سے پنجاب اسمبلی کے لیے الیکشن لڑا اور جیتا۔ سلطانہ کو 2007ء میں دوسری بار ریاستی مقننہ میں ووٹ دیا گیا تھا۔ 2012ء کے پنجاب قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں، وہ ایف نصارہ خاتون (فرزانہ عالم) سے ہار گئیں۔ سلطانہ نے 2017 ءکے پنجاب قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں یہ سیٹ دوبارہ حاصل کی جب اس نے اپنے ہی بھائی محمد ارشد کو عام آدمی پارٹی سے شکست دی۔ سلطانہ انڈین نیشنل کانگریس کی کابینہ کی وزیر ہیں۔ انھوں نے 28 ستمبر 2021ء کو نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ یکجہتی کے لیے پنجاب حکومت میں کابینہ کے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    1970ءاوفیسا فرانسس جونیئر ٹونیو نیوزی لینڈ کی سابق رگبی یونین کی کھلاڑی اور ساموا کرکٹ کھلاڑی ہے۔ ہاف بیک ، ٹونیو نے صوبائی سطح پر ویلنگٹن اور آکلینڈ اور سپر رگبی میں Blues اور Hurricanes نمائندگی کی۔ ساموآ کے والدین میں سے، تونو نے 14 میچ کھیلے جن میں 1992ء اور 1993ء میں ساموآ کے لیے پانچ ٹیسٹ شامل تھے۔ بعد میں وہ 1996ء سے 1998ء تک نیوزی لینڈ کی قومی ٹیم ، آل بلیک کے رکن رہے۔ اس نے تمام سیاہ فاموں کے لیے 8 میچ کھیلے جن میں 5بین الاقوامی بھی شامل ہیں۔ 2013ء میں وہ آکلینڈ کرکٹ سوسائٹی پریمیئر مینز کرکٹ ٹیم کے رکن تھے

    1978ءامل کلونی ایک لبنانی نژاد برطانوی بیرسٹر ہے۔ امل کلونی کے مؤکلوں میں فلپائنی اور امریکی صحافیوں کے علاوہ مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید ; جولین اسانج ، وکی لیکس کے بانی؛ یوکرین کی سابق وزیر اعظم یولیا تیموشینکو ; مصری نژاد کینیڈین صحافی محمد فہمی ; ، عراقی کارکن نادیہ مراد اور ماریا ریسا شامل ہیں

    1981ءحسن نیازی ایک پاکستانی فلم اور ٹیلی ویژن اداکار ہے۔ نیازی 3 فروری 1981 کو لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اسکول اور کالج کی تعلیم لاہور سے مکمل کی اور بطور اداکار اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔نیازی کا پہلا کام2007 میں فیور میں عرفان کا مختصر کردار تھا اور اس کے بعد رام چند پاکستانی اور مالک میں اداکاری کی۔2019 میں، اس نے شیردل میں ارون ویرانی کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم نیازی کی پہلی بڑی باکس آفس پر کامیابی تھی اور اس نے کافی منافع کمائے۔

    1982ء برجٹ ریگن ، امریکی فلمی اداکارہ

    1983ء عادل خان ، پاکستانی نژاد نارویجن اداکار، گلوکار اور رقاص

    1992ءرابی پیرزادہ ایک پاکستانی سابقہ گلوکارہ و اداکارہ ہیں۔ رابی پیرزادہ نے گلوکاری کا آغاز 2005ء میں گانا "دادی کڑی” سے کیا

    1993ء۔آصفہ زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی گھرانے کا حصہ ہیں۔وہ 3 فروری1993کو پیدا ہوئیں۔وہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔آصفہ بھٹو ،بلاول زرداری اور بختاور زرداری کی چھوٹی بہن ہیں۔وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور ایرانی نژاد نصرت بھٹو کی نواسی اور شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی بھانجی ہیں۔آصفہ زرداری، حاکم علی زرداری کی پوتی اورپاکستان قومی اسمبلی کی رکن عذرا فضل پیچوہو اور فریال تالپور کی بھتیجی ہیں۔ ان کا نام ان کے والد آصف علی زرداری نے رکھا تھا جبکہ ان کی والدہ بینظیر بھٹو اُن کا کوئی اور نام رکھنا چاہتی تھیں۔وہ اپنے والد کے سب سے قریب رہیں ،آصف علی زرداری کے جیل کے دنوں میں اور عدالتوں میں پیشی کے وقت بھی آصف علی زرداری کی گود میں ہمیشہ وہی نظر آتی تھیں۔آصفہ زرداری نے آکسفورڈ بروکس یونی ورسٹی سے سیاسیات اور سوشیالوجی میں بیچلر کیا۔جولائی 2016میں آصفہ زرداری نے گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈوپلمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری یونی ورسٹی کالج لندن سے حاصل کی۔اس حوالے سے لندن کالج میں منعقد تقریب میں ان کے والد آصف علی زرداری، ان کے بھائی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور ان کی بڑی بہن بختاور زرداری نے شرکت کی۔طالب علمی کے دور سے ہی انہوں نے مختلف سیاسی، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا، انہوں نے جانوروں کے حقوق سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا اورپاکستان کو پولیو سے نجات دلانے کے لیے سب سے کم عمر پولیو سے محفوظ پاکستان کی سفیر منتخب ہوئی۔06 ستمبر 2013 کو آصفہ زرداری کا ووٹ سندھ کے ضلع ٹنڈوالہیار میں رجسٹرڈ کیا گیا۔قومی اسمبلی کے حلقے این اے223کی یونین کونسل جھنڈو مری میں یہ ووٹ رجسٹرڈ کیا گیا، اس موقع پر ان کی پھوپی فریال تالپور اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن بھی آصفہ زرداری کے ہمراہ تھے، اسی حلقے سے ان کی والدہ بےنظیر بھٹو دو بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں بہن بھائی کا ووٹ الگ الگ حلقوں میں درج ہے۔بلاول زرداری کا ووٹ نوڈیرو این اے 207 میں رجسٹرڈ ہے، این اے 207 ان کی والدہ بینظیر بھٹو کا آبائی حلقہ انتخاب رہا ہے موجودہ وقت یہاں سے ان کی پھوپھی فریال تالپور رکن قومی اسمبلی ہیں۔بختار بھٹو زرداری کا ووٹ نوابشاہ این اے 213 میں رجسٹرڈ ہے، این اے 213 کے اس حلقے سے ان کی پھوپھی عذرا پیچو رکن قومی اسمبلی تھیں۔۔03 فروری 2009 کو آصفہ زرداری کی 16 ویں سالگرہ کے موقع پر سندھ اسمبلی میں باقاعدہ قراداد منظور کی گئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی چھوٹی بیٹی آصفہ زرداری کی سالگرہ کے حوالے سے مبارکباد کی قرارداد ایوان میں پیش کی جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

    1996 ءآصف محمود ایک پاکستانی کرکٹر ہے جو سندھ کے لیے کھیلتا ہے، محمود نے لسٹ اے میں حیدرآباد ہاکس کے لیے واپڈا کے خلاف ڈیبیو کیا۔ انھیں دسمبر 2014ء میں پاکستان کی قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں بلایا گیا تھا .محمود نے 7 ستمبر 2022ء کو 2022-23ء نیشنل ٹی 20 کپ کے دوران جنوبی پنجاب کے خلاف سندھ کے لیے اپنا T20 ڈیبیو کیا 14 ستمبر 2022 کو محمود نے خیبرپختونخوا کے خلاف ہیٹ ٹرک کی ۔

  • پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر پر عطا تارڑ کا حملہ قابل مذمت ہے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر پر عطا تارڑ کا حملہ قابل مذمت ہے، بلاول

    لاہور: چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کی جانب سے لاہور این اے 127 کے صوبائی حلقے پی پی 160 کے الیکشن آفس پر حملے کی مذمت کی ہے،جبکہ الیکشن کمیشن نے عطا تاررڑ کی جانب سے پیپلز پارٹی دفتر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی-

    باغی ٹی وی:چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این اے 127 کے صوبائی حلقے پی پی 160 کے الیکشن آفس پر حملے کے معاملے پر الیکشن کمیشن ڈسکہ کی طرح سنجیدہ اقدامات کرے، این اے 127 کے صوبائی حلقے پی پی 160 کے الیکشن آفس پر حملے کے معاملے پر پولیس ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کرے-

    بلاول نے کہا کہ مسلم لیگ ن اپنے روایتی اوچھے ہتھکنڈوں کو اختیار کرکے لاہور کے عوام کو ڈرانا چاہتی ہے، لا ہور کے عوام مسلم لیگ ن کی غنڈہ گردی سے ڈرنے والے نہیں ہیں، لاہور کے عوام 8 فروری کو تیر پر ٹھپہ لگا کر مسلم لیگ ن کی غنڈہ گردی کا جواب دیں گے، لاہور کے باشعور عوام کو مسلم لیگ ن خرید کر اور ڈرا کر نہیں جھکا سکتی-

    دوسری جانب رضا ربانی، ذوالفقار علی بدر،چودھری اسلم گل،فیصلمیر،عدنان گورسی،میاں مصباح،فیاض بھٹی،عثمان ملک، کی مشترکہ پریس کانفرنس کی-

    پی پی رہنما رضا ربانی نے کہا کہ ‏پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی دفتر پر عطا تارڑ نے جو دہشت گردی کی ہے انکی شکست عیاں ہو گئی ہے،الیکشن کمشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ این اے127 ہائی پروفائل حلقہ ہے الیکشن کمشن یہاں دہشت گردی اور اغوا کاری کا فوری نوٹس لےلاہور پولیس اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایف آئی آر فوری درج ہونی چاہیے۔

    رضا ربانی نے کہا کہ 5گھنٹے گزرنے اور فونز کے باوجود پولیس کا مناسب رد عمل سامنے نہیں آیا، نگراں حکومت کا کام فری اینڈ فیئر الیکشن کرانا ہے، چاہتے ہیں 8فروری آرام سے گزرے کیونکہ اس روز بلاول بھٹو زرداری کامیاب ہونگے، تصادم ہمارے حق میں نہیں یہ شکست خوردہ عناصر کا کام ہے۔

    پی پی رہنما اسلم گل نے کہا کہ پیپلز پارٹی کل ایک بجے اجلاس میں اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے، یہ غنڈہ گردی میاں صاب جب آپ کو جوتے مار کر نکالا جاتا ہے تو بھاگ جاتے ہیں عطا تارڑ نے چھوٹی حرکت کی ہےاس بدمعاشی کا مطلب ہے کہ تم ہار چکے ہو اس وقت بلاول بھٹو اور انکے امیدوار جیت رھے ہیں۔تمھیں اس کا جواب دیا جائیگا-

    اسلم گل نے کہا کہ بلاول بھٹو کے انتخابی دفتر پی پی 160میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے،عطا تارڑ اور فہد نے300مسلحہ افرد کیساتھ یہاں موجود لوگوں پر حملہ کیا، ہمارے کراچی سے ایم پی اے نوید جیوا کی گاڑی پر ن لیگ والوں نے توڑ پھوڑ کی، الیکشن کمشن اور سی سی پی او لاہور کیا سوئے ہوئے ہیں-

    پی پی رہنما علی بدر نے کہا کہ دس ورکرز کو اغوا کیا،ائی پیڈ اٹھایا اور سوشل میڈیا پر دکھایا، ووٹرز پرچی اور انکی تفصیلات ساتھ لے گئےالیکشن میں شکست دیکھ کر بوکھلا گئے ہیں،میاں مصباح اور دیگر عہدیدار حملے کے وقت دفتر میں موجود نہیں تھے الیکشن کمشن نوٹس لے ڈکیتی اور اغوا کنندگان اور عطا تارڑ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    علی بدر نے کہا کہ اسلحے کی نمائش کی گئی۔ہماری چوری شدہ چیزیں سوشل میڈیا پر عطا تارڑ لے گیے، تین مرتبہ 15پر کال کی مگر پولیس نہیں آئی، ن لیگ کے غنڈوں نے متعلقہ تھانے پر قبضہ کر رکھا ہے، این اے 127سے بلاول بھٹو کی جیت کو دیکھ کر ن لیگ کے غنڈے ڈر گئے ہیں، نقص امن کا خطرہ ہے،امیدواروں اور کارکنوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی ہے،چاہتے ہیں کہ الیکشن سبوتاژ نہ ہو ، یہ سلسلہ نہ رکا تو عوام کو کوئی نہیں روک سکے گا،عطا تارڑ کی وڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ قرآن پر حلف لیکر ووٹرز میں پیسے تقسیم کر رہے ہی ۔

    فیصل میر نے کہا کہ یہ ہر مرتبہ ووٹ خریدتے ہیں،عطا تارڑ نے شکست سے بچنے کیلیے ووٹوں کی خریداری ،شروع کی، عطا تارڑ خود کو لگام دو ہماری لیڈر شپ نے روکا نہ ہوتا تو جواب دیتے۔

    دوسری جانب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نےکہا کہ ہمیں اطلاع آرہی تھی کہ پیپلزپارٹی ووٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہے، انہوں نے کوشش کی کہ پیسےکا بے دریغ استعمال کیا جائے، سندھ سے گاڑیوں کے ذریعے پیسےلائےگئے، پیپلزپارٹی نے حلقے میں ووٹوں کی خریدو فروخت شروع کیم کمیشن ایجنٹ مقررکیےگئےکہ جو زیادہ ووٹ لائےگا اس کا زیادہ کمیشن ہے۔
    https://x.com/TararAttaullah/status/1753809295135703229?s=20
    عطا اللہ تارڑ نےکہا کہ ایک سیٹ اپ موجود ہے جو ووٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہے، ہمیں بلاول بھٹو زرداری حلقے میں کہیں نظر نہیں آرہے، آپ کوشش کر رہے ہیں پیسا استعمال کرکے ووٹوں میں تبدیل کیا جائے، یہ کرپشن کا پیسا سندھ کے عوام کا حق تھا، لاڈلے کو ایم این اے بنانےکے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، آپ کا سارا تکیہ پیسے پر ہے، سندھ سے آکر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔

    این اے127 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت نے ہمیشہ صاف ستھری سیاست کی ہے، ہم نے ہمیشہ ووٹوں کی سیاست کی ہے، ہماری ان لوگوں پر بھی نظر ہے جن کو آپ نے پیسے دیے ہیں، جنہوں نے ووٹ بیچا ان کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، ہمیں چار ٹیب ملے ہیں، ہمارے پاس تمام ڈیٹا آچکا ہے،تین لوگ پکڑے ہیں جنہیں کوٹ لکھپت تھانے منتقل کیا ہے، منصوبہ بندی تھی زیادہ سے زیادہ ووٹوں کی خریداری کرنی ہے، آپ نے لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ضمیر خریدنےکی کوشش کی۔

  • برطانوی ٹی وی کی  نواز شریف کے چوتھی بار  وزیراعظم بننےکی پیشگوئی

    برطانوی ٹی وی کی نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننےکی پیشگوئی

    برطانوی ٹی وی نے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو کنگ آف کم بیک قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ نواز شریف وزیراعظم کے عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں، بی بی سی نے نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننےکی پیشگوئی کرتے ہوئےکہا ہےکہ اس کی وجہ نواز شریف کی مقبولیت نہیں بلکہ ان کا اپنے پتے صحیح کھیلنا ہے –

    بی بی سی کے مطابق تھنک ٹینک وِلسن سینٹر کے جنوبی ایشیا وِنگ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نواز شریف ملک کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کے لیے مرکزی امیدوار ہیں، اس لیے نہیں کہ وہ بہت مقبول ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ انھوں نے اپنے پتّے صحیح کھیلے ہیں۔

    پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور نواز شریف اپنے آپ کو ایک ایسے تجربہ کار امیدوار کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس کے پاس تین بار وزیرِ اعظم کہ عہدے پر فائز رہنے کا تجربہ ہے،وہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے اور اس کی ’کشتی کی سمت درست‘ کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

    سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اتحادی جماعتوں نے سر …

    مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ نواز شریف کے حامیوں کو امید ہے کہ ان کا ملک کو استحکام دینے، تجربے اور خود انحصاری کا بیانیہ انھیں ووٹ دلوائے گا اور فوج کو بھی ان کی اور ان کی پارٹی کی طرف سے اطمینان بخشے گا۔

    نواز شریف کو آگے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہوگا اور اس میں معاشی بحران سرِفہرست ہے جس کا الزام ان ہی کی جماعت پر لگایا جاتا ہے۔ یہ بھی خدشات پائے جا رہے ہیں کہ ان کے مرکزی حریف کی جیل میں موجودگی کے سبب شاید ملک میں انتخابات شفاف نہیں ہوں گے۔

    پی ٹی آئی کی لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کی درخواست مسترد

    نواز شریف کے حریف اور ماضیِ قریب میں فوج کی حمایت رکھنے والے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اب جیل میں ہیں اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو ملک بھر میں مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب گیلپ سروے اور بلومبرگ کی رپورٹ نے بھی نواز شریف کے پاکستان کے اگلا وزیراعظم بننےکی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ 9 مئی کی رپورٹ حکومت کو جمع کرادی

  • خواتین کو ووٹ کا حق حاصل،نہیں روکنا چاہئے،طاہر اشرفی

    خواتین کو ووٹ کا حق حاصل،نہیں روکنا چاہئے،طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین، وزیراعظم کے مشیر حافظ طاہر اشرفی نے کیا ہے کہ عورتوں کے ووٹ پر واضح فتویٰ دے چکے ہیں انہیں ووٹ کا حق ہے شریعت کے مطابق خواتین کے لیے پولنگ اسٹیشن الگ ہوں

    جامعہ منظور اسلامیہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو ووٹ ڈالیں، ووٹ گواہی ہے اسے نہ چھپایا جائے، ان لوگوں کو ووٹ ڈالیں جو ملک و نظریہ پاکستان سے مخلص ہوں،جو دین ، قوم، وطن سے محبت رکھتا ہو اس کو ووٹ دینا چاہئے، ذاتی مفاد کے لئے ووٹ نہیں دینا چاہئے، ایسے لوگوں کو منتخب کریں جو پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے بہتر ہوں، جس طرح مردوں کا ووٹ ہو، اسی طرح عورتوں کو بھی ووٹ ہے، عورتوں کے لئے الگ انتظام ہونا چاہئے، خواتین کو ووٹ سے روکنا درست نہیں، آٹھ فروری کو قوم نکلے اور ان امیدواروں کا انتخاب کرے جو پاکستان کی سلامتی کے ساتھ وفا دار ہوں، آپ کے پاس وقت آیا ہے کہ مستقبل کا فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں دیں جو ملک کو نظام خلافت راشدہ کی طرف لے کر جائیں،پاک فوج و اداروں کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے فوج و اداروں کے خلاف مہم کا میر جعفر و میر صادق کا احتساب ہونا چاہیے

    حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے دنیا کو متحد کرنا ہو گا، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر پر اجتماعات ہوں گے،شمیر و فلسطین میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، بھارت کشمیریوں کے حقوق غصب کرنا چاہتا ہے، فلسطین کی طرح کشمیر میں ہندوآباد کاری کی گئی، مقبوضہ کشمیر کی عوام حق خودارادیت کے لیے کھڑی ہے آزادی کے متوالے قربانیاں دے رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر حل کیا جائے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پہلی تقریر میں اس بات کو دہرایا کہ خطے میں امن چاہتے ہیں، پاکستان پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک چاہتا ہے لیکن مذاکرات کا راستہ کشمیر سے جاتا ہے.

    اپنی سرحدوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

  • میں تنقیدنہیں تجدید،تدبیر اورتعمیر کاحامی ہوں۔جان محمد رمضان

    میں تنقیدنہیں تجدید،تدبیر اورتعمیر کاحامی ہوں۔جان محمد رمضان

    لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی146سے آزاد امیدوار جان محمد رمضان نے کہا ہے کہ میں تنقیدنہیں تجدید،تدبیر اورتعمیر کاحامی ہوں۔عوام کی انتھک خدمت،ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت اورتعمیرریاست کیلئے تعمیری سیاست کرنا میراطرہّ امتیاز ہے۔میں آزاداورباضمیرشہری کی حیثیت سے پی پی146سے آزاد امیدوارہو ں اورکامیابی کے بعد بھی اشرافیہ کی غلامی نہیں کروں گا۔میراانتخابی نشان” ابابیل ” سیاست میں دندناتے بدعنوان اوربدزبان ہاتھیوں کابھرکس بنادے گا۔

    وہ اپنی انتخابی مہم کے سلسلہ میں مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے تھے۔اس دوران حلقہ پی پی146کی متعدد اہم سیاسی وسماجی شخصیات اورمختلف اہم برادریوں کے سربراہان نے جان محمدرمضان کی بھرپور حمایت کااعلان اور8فروری کوابابیل کے نشان پراپنے اعتماد کی مہرثبت کرنے کے عزم کااعادہ کیا۔جان محمدرمضان نے مزید کہا کہ پی پی146کے باشعور ووٹرزنے اعتماد کیا تو کامیابی کے بعدمیں اپنے انتخابی وعدے وفاکروں گاکیونکہ نام نہاد حکمران پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کی زبانیں چلتی ہیں جبکہ میراکام بولتا ہے۔ ان شاء اللہ منتخب ایوان میں میں جانے کے بعد ریاستی نظام کی اصلاح اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی توانائیاں وقف کر دوں گا۔انہوں نے مزید کہاکہ ہم آج بھی بحیثیت قوم اپنے صادق جذبوں سے ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور دستیاب وسائل کے درست استعمال سے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کو قصہ پارینہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر مادر وطن کو دنیا میں سر بلند کریں گے، پاکستان کی خودداری اور خود مختاری کا راستہ خود انحصاری سے ہو کر گزرتا ہے اور میں منتخب ہونے کے بعد صنعت اور زراعت کے شعبوں میں دور رس اصلاحات کیلئے کلیدی کرداراداکروں گا۔

    عائشہ رجب علی پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ کر گئی، استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

    ووٹ ایک قومی فریضہ ہے اسے خریدنا یا بیچنا حرام ہے،مولانازاہد محمود قاسمی

    حلف اٹھا کر پیسے لیں، ووٹ نہ دیں،گنہگار نہیں ہوں گے،راشد محمود سومرو

    پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے کل کو شہیدوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟احسن اقبال

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

    تحریک انصاف نے پانچ فروری کو ہونے والے انٹراپارٹی انتخابات ملتوی کر دیئے

    چیف الیکشن کمشنر کا کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن کا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کیلئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کرنے کا فیصلہ

    آپ چاہتے ہیں تحریک انصاف کا نام ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیں؟ چیف الیکشن کمشنر

    آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • اینکر ارم کی موت،شواہد سے جرم کی نشاندہی، تحقیقات ہونی چاہئے،مبشر لقمان

    اینکر ارم کی موت،شواہد سے جرم کی نشاندہی، تحقیقات ہونی چاہئے،مبشر لقمان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اینکر ارم ناز و مبینہ طور پر کینسر کی وجہ سے وفات پا گئیں تا ہم شواہد کچھ اور بتاتے ہیں

    روز ٹی وی کی سابق اینکر ارم نازو، ارم چودھری بارے مبشر لقمان نے انکشاف کیا ہے کہ انکی موت چند دن قبل ہوئی اور کہا گیا کہ موت کینسر سے ہوئی ، انہیں سپرد خاک کر دیا گیا تا ہم جو شواہد سامنے آئے ہیں وہ اسکی موت کے پیچھے بہت بڑے جرم کی نشاندہی کر رہے ہیں، ارم چوھدری کی موت کی تحقیقات ہونی چاہئے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب تک خواتین اور بچوں سے زیادتی کرنے والوں کے قاتلوں کو سرعام پھانسی نہیں دی جاتی تب تک ہم اپنے معاشرے میں اس نوعیت کے مزید جرائم دیکھتے رہیں گے۔ اس بار اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک ٹی وی شخصیت کی موت پر مزید سوالات سامنے آئے ہیں۔ ہمیں اس کیس کی تحقیقات اور ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت ہے جسے خاموشی سے ٹال دیا گیا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ٹی وی شخصیت کی کچھ تصویریں دیکھی ہیں جس کی کچھ عرصہ قبل موت ہوئی،عوامی طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس شخص کو کینسر ہے۔ اب اس بات کو ثابت کرنے کے لیے تازہ ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ لوگ قتل سے بچ جاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ارم چودھری کی وفات ہوئی تھی،مرحومہ اپنے 2بچوں کی کفالت کررہی تھیں، اینکر پرسن کے انتقال پر صحافیوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے ویمن جرنلسٹس کاکس کے وفد نے اینکر پرسن ارم چوہدری کی مشکوک حالات میں وفات کے معاملے پر انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد اکبر ناصر خان سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ ارم چودھری اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں،ارم چودھری کی مشکوک حالت میں وفات پر صحافی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے،وفد نے تحقیقات کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ حقائق کو سامنے لایا جائے.

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    پشاور فلائنگ کلب کے جہاز کی فروخت،مبشر لقمان کا مؤقف بھی آ گیا

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش