Baaghi TV

Category: میر پور خاص

  • میرپورخاص:سید علی نواز شاہ کی غیر روایتی سیاست. میرٹ، خدمت اور اصول پسندی کی روشن مثال

    میرپورخاص:سید علی نواز شاہ کی غیر روایتی سیاست. میرٹ، خدمت اور اصول پسندی کی روشن مثال

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)سندھ کی سیاست میں جہاں ذاتی رنجشیں، سیاسی مخالفت، کاروباری مفادات اور انتقامی مقدمات عام ہو چکے ہیں، وہیں کچھ سیاستدان ایسے بھی ہیں جو ان روایات سے ہٹ کر اصولوں، میرٹ اور عوامی خدمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان میں سینئر سیاستدان سید علی نواز شاہ کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے اپنے حلقے میں سیاسی رواداری، ترقیاتی عمل اور شفاف طرز حکمرانی کو فروغ دے کر نئی سیاسی روایت قائم کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، سید علی نواز شاہ کے دور میں نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے بلکہ محکمانہ انتقامی کارروائیوں کا بھی خاتمہ ہوا۔ ان کی قیادت میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے، جن میں سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں کی بہتری، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صاف پانی کی اسکیمیں شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے ثمرات حلقے کے عام شہری تک پہنچے ہیں، جسے عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب بعض مخالفین عوامی مقبولیت سے خائف ہو کر جھوٹے الزامات اور منفی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں، وہیں سید علی نواز شاہ نے صبر، شفافیت اور خدمات کے ذریعے عوامی حمایت میں نہ صرف اضافہ کیا بلکہ نوجوانوں، محنت کشوں اور روزگار کے متلاشی افراد کا اعتماد بھی حاصل کیا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اب وقت بدل چکا ہے، عوام روایتی اور انتقامی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں اور ایسی قیادت کو پسند کرتے ہیں جو دیانتداری، میرٹ اور عوامی فلاح کے اصولوں پر کاربند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سید علی نواز شاہ جیسے رہنما عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو سندھ کی سیاست میں مثبت تبدیلی کا امکان روشن ہے، جہاں اقربا پروری، ذاتی انتقام اور سیاسی استحصال کی جگہ حقیقی عوامی خدمت کو فوقیت حاصل ہو گی۔ سید علی نواز شاہ کا موجودہ طرز سیاست اس تبدیلی کی واضح علامت بن کر ابھر رہا ہے۔

  • میرپورخاص: ایم کیو ایم پاکستان کا "معرکہ حق، جشنِ آزادی” بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا اعلان

    میرپورخاص: ایم کیو ایم پاکستان کا "معرکہ حق، جشنِ آزادی” بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا اعلان

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ آفس میں جشن آزادی کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ انچارج خالد تبسم، جوائنٹ انچارجز آفاق احمد خان اور سلیم میمن نے اعلان کیا کہ "معرکہ حق، جشن آزادی” کو شہر بھر میں انتہائی جوش و خروش اور قومی جذبے سے منایا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم اگست سے 14 اگست تک میرپورخاص کی تمام یوسیز میں قومی پرچم کشائی اور کیک کاٹنے کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جبکہ 13 اگست کو ڈسٹرکٹ آفس سے ایک عظیم الشان ریلی بھی نکالی جائے گی۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ تقریبات محض رسمی نہیں بلکہ قوم کی قربانیوں، جذبے اور نظریے کی نمائندگی کریں گی، اور اس امر کا اظہار ہوں گی کہ مہاجر اس وطن کے اصل وارث ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے، اور ہمارا عزم ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے پاکستان کو دنیا کی عظیم طاقت بنایا جائے۔ انہوں نے گورنر سندھ اور مرکزی کمیٹی کے دورہ میرپورخاص کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

    رہنماؤں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ جشن آزادی کی تقریبات میں طلبا، خواتین، بزرگوں اور زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ کمیٹی، یوسیز، شعبہ خواتین، ایلڈرز ونگ، اے پی ایم ایس او سمیت دیگر تمام شعبہ جات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

  • میرپورخاص: نیشنل پریس کلب کی حمایت، سینیٹ میں صحافیوں کے مسائل اجاگر، معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد

    میرپورخاص: نیشنل پریس کلب کی حمایت، سینیٹ میں صحافیوں کے مسائل اجاگر، معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)نیشنل پریس کلب میرپورخاص اور مقامی صحافتی تنظیموں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں کے مسائل کے حوالے سے واک آؤٹ کی حمایت کے بعد سینیٹ میں صحافی برادری کے دیرینہ مسائل پر توجہ دی گئی ہے۔ سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے 15 جولائی 2025ء کو ایوان بالا میں صحافیوں کی شکایات اور پریس گیلری کے احتجاج سے ایوان کو آگاہ کیا، جس پر سینیٹ نے سنجیدہ ردعمل دیتے ہوئے معاملہ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے سپرد کر دیا۔

    اس سلسلے میں سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے باضابطہ خط جاری کیا گیا ہے جس پر سیکشن آفیسر حفصہ فاروق کے دستخط موجود ہیں۔ یہ خط ڈپٹی سیکریٹری اور کمیٹی سیکریٹری محترمہ شہوار فریال کو ارسال کیا گیا ہے تاکہ وہ اس معاملے کو کمیٹی میں فوری کارروائی کے لیے پیش کریں۔ متعلقہ اداروں اور دیگر حکام کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، قائمہ کمیٹی جلد اجلاس طلب کر کے صحافیوں کے تحفظات پر تفصیلی غور کرے گی اور مؤثر سفارشات مرتب کرے گی، جنہیں ایوان میں پیش کر کے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

    نیشنل پریس کلب میرپورخاص، مقامی صحافیوں اور دیگر صحافتی تنظیموں نے سینیٹ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ صحافی برادری کو امید ہے کہ ایوان بالا ان کے مسائل کو نہ صرف سنجیدگی سے لے گا بلکہ عملی حل بھی فراہم کرے گا۔

  • میرپورخاص: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے خاتون جاں بحق، ورثاء کا ہسپتال پر حملہ، شہر کی ٹریفک مفلوج

    میرپورخاص: ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے خاتون جاں بحق، ورثاء کا ہسپتال پر حملہ، شہر کی ٹریفک مفلوج

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) نجی علی میڈیکل سینٹر میں 40 سالہ صفیہ پنہور ایک معمولی رسولی (گلٹی) کے آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ڈاکٹروں اور عملے کی غفلت سے جاں بحق ہو گئی۔ لواحقین کے مطابق خاتون کا آپریشن مکمل ہونے کے بعد بلڈ پریشر اچانک گر گیا، لیکن اس نازک وقت میں نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ، جس کے باعث مریضہ نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔

    واقعے پر لواحقین اور پنہور برادری مشتعل ہو گئے، جنہوں نے پہلے ہسپتال کے اندر لاش رکھ کر احتجاج کیا اور بعد ازاں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ بعد میں لاش کو ایمبولینس میں رکھ کر پریس کلب کے سامنے پوسٹ آفس چوک پر سڑک بلاک کر دی گئی، جس کے نتیجے میں شہر کی مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک مفلوج ہو گئی۔

    ورثاء اور مظاہرین نے علی میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ، ڈاکٹر گلشن خواجہ اور مالک مجید میمن پر قتلِ عمد (دفعہ 302) کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کرنے کے باوجود ہسپتال نے صفیہ پنہور کو ایمرجنسی میں تنہا چھوڑ دیا اور واقعے کے وقت نہ ڈاکٹر گلشن موجود تھیں نہ ہی دیگر طبی عملہ۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری کارروائی نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ کار سندھ بھر میں پھیل جائے گا۔

    لواحقین نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈاکٹر گلشن خواجہ ماضی میں بھی خواتین کی ہلاکتوں کی ذمہ دار رہی ہیں لیکن ہر بار انتظامیہ نے معاملہ دبایا۔ سول ہسپتال میں صفیہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم تین رکنی میڈیکل بورڈ کے ذریعے کروایا جا رہا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

    برادری کا کہنا ہے کہ علی میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ نے غفلت کو چھپانے کی کوشش کی اور اسے صرف ایک "میڈیکل پیچیدگی” قرار دے کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی، حالانکہ یہ واضح انسانی غفلت ہے جس پر قانونی و اخلاقی طور پر سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

  • میرپورخاص: انجینئر عبدالعلیم خانزادہ کا دورہ، ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات،مسائل پر بات چیت

    میرپورخاص: انجینئر عبدالعلیم خانزادہ کا دورہ، ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات،مسائل پر بات چیت

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)حق پرست رکن قومی اسمبلی و رکن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و ریاستیں و دفاعی پیداوار انجینئر عبدالعلیم خانزادہ نے میرپورخاص کا دورہ کیا اور ایم کیو ایم پاکستان میرپورخاص ڈسٹرکٹ کے انچارج خالد تبسم، جوائنٹ انچارجز آفاق احمد خان، سلیم میمن اور ڈسٹرکٹ کمیٹی کے دیگر اراکین سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں میرپورخاص کے دیرینہ عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    اجلاس میں نیو سول اسپتال میرپورخاص میں مریضوں کو درپیش سہولیات کی کمی، اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خالی آسامیوں پر تعیناتی، امراض قلب کے علاج کے لیے این آئی سی وی ڈی اور ٹراما سینٹر و این آئی سی ایچ اسپتال کے قیام پر زور دیا گیا۔ گیس کی عدم فراہمی، پرانا اور خستہ گیس انفرااسٹرکچر، حادثات کا خدشہ اور متعلقہ حکام کی غفلت جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔

    ریلوے کے شعبے میں مہران اور شاہ لطیف ایکسپریس کی سہولیات میں کمی، ٹرینوں کے اوقات اور بوگیوں کی حالت زار، اور حیدرآباد-میرپورخاص کے درمیان چلنے والی ٹرینوں کی تعداد بڑھانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ تعلیمی بورڈ میرپورخاص کے ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات، موجودہ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل بھی اٹھائے گئے۔

    میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم کی حق پرست قیادت ان تمام مسائل کے حل کے لیے قومی و صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھائے گی اور متعلقہ اداروں سے فوری رابطے کیے جائیں گے تاکہ میرپورخاص کے عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اندرون سندھ پانی، صحت اور غربت کے شدید بحران کا شکار

    اندرون سندھ پانی، صحت اور غربت کے شدید بحران کا شکار

    خصوصی رپورٹ: سید شاہزیب شاہ، باغی ٹی وی، میرپور خاص
    سندھ اس وقت کئی محاذوں پر شدید بحران کا شکار ہے، جہاں پانی کی قلت، صحت عامہ کی زبوں حالی، غربت، بے روزگاری، تعلیم و علاج کی عدم دستیابی اور حکومتی بے حسی نے زندگی کو بدترین حد تک متاثر کیا ہے۔ اندرون سندھ میں حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے۔

    پانی کا بحران: انڈس کینال منصوبہ تنازع کا شکار
    حالیہ دنوں میں انڈس کینال منصوبے اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم نے سندھ کے شہریوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ شمالی سندھ میں ہونے والے احتجاجوں نے "میدانِ جنگ” کا منظر پیش کیا، جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب کو پانی کی فراہمی میں ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ سندھ، بالخصوص اندرونی اضلاع، بدترین قلت کا شکار ہیں۔ یہ معاملہ اب محض وسائل کی تقسیم کا نہیں، بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے بحران میں بدل چکا ہے۔

    میرپور خاص: صحت کا ہاٹ سپاٹ، ایچ آئی وی کا پھیلاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا
    میرپور خاص ڈسٹرکٹ اس وقت سندھ کا صحت کے حوالے سے نیا بحران مرکز بن چکا ہے۔ صرف 2024 میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد 150 تک جا پہنچی ہے، جس نے انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صحت عامہ کا نظام ناکام دکھائی دیتا ہے اور ہنگامی اقدامات کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ عوامی اسپتالوں میں ادویات کی کمی، تربیت یافتہ عملے کا فقدان اور عدم توجہی نے اس مسئلے کو پیچیدہ کر دیا ہے۔

    سماجی و معاشی بدحالی: 53 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے
    رورل سندھ آج بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہے۔ زراعت میں جدت اور استحکام نہ ہونے کے باعث کسان اور ہاری بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ موسمیاتی تغیرات اور بارشوں کے بعد اکثر سڑکیں، کھلیان، اور بستیاں زیرِ آب آ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اندرونی سندھ میں خواتین اور بچیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ قبائلی جھگڑے اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

    تعلیم و علاج تک رسائی محدود، وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ
    تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکیں، اور روزگار جیسے بنیادی مسائل دہائیوں سے حل طلب ہیں۔ حکومتی منصوبہ بندی اور نچلی سطح پر ناقص گورننس کے باعث اصلاحات کا فائدہ نچلے طبقے تک نہیں پہنچ پا رہا۔ میرپور خاص سمیت اندرونی سندھ میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے اور عوام کی نظر اب عملی اقدامات پر ہے، نہ کہ صرف بیانات پر۔

    آخری سوال: کیا سندھ کو اس کا حق مل پائے گا؟
    سندھ کے عوام آج سوال کر رہے ہیں: کب تک ان کے وسائل پر قبضہ رہے گا؟ کب تک ان کی محرومیوں کو نظرانداز کیا جائے گا؟ کیا وفاقی حکومت اندرونی سندھ کے لیے خصوصی معاشی و ترقیاتی پیکیج لانے پر غور کرے گی؟ کیا سندھ کو وہی عزت، سہولتیں اور وسائل میسر آ سکیں گے جو ملک کے دیگر حصوں کو حاصل ہیں؟

    اب وقت آ چکا ہے کہ اندرون سندھ کے عوام کو ان کا حق دیا جائے، ورنہ یہ احتجاج محض سڑکوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ایک بڑی تحریک میں بدل سکتا ہے۔

  • میرپورخاص: مبینہ فراڈی گینگ کیخلاف احتجاج، میر طارق تالپور پر سرپرستی کا الزام

    میرپورخاص: مبینہ فراڈی گینگ کیخلاف احتجاج، میر طارق تالپور پر سرپرستی کا الزام

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ)ٹنڈو جان محمد میں سرگرم مبینہ فراڈی گینگ کے خلاف احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے۔ سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے درجنوں متاثرین نے ایس ایس پی آفس میرپورخاص کے احاطے میں جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور چانڈیو برادری سے تعلق رکھنے والے گینگ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین کا الزام ہے کہ ٹنڈو جان محمد میں ایک منظم فراڈی گروہ کاروباری لین دین اور دیگر ذرائع سے شہریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا چکا ہے، لیکن پولیس اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ متاثرین کے مطابق جب وہ ٹنڈو جان محمد تھانے میں اپنی شکایات درج کرانے گئے تو انہیں سننے کے بجائے دھمکایا گیا، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مقامی پولیس اس گینگ کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

    مظاہرین نے مزید الزام عائد کیا کہ بااثر سیاسی شخصیت میر طارق تالپور اس فراڈی نیٹ ورک کی مبینہ سرپرستی کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مقامی پولیس کارروائی سے گریزاں ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ میر طارق تالپور کے کردار کی اعلیٰ سطح پر غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

    احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "چانڈیو گینگ کے خلاف کارروائی کرو”، "لوٹی گئی رقم واپس دلاؤ”، اور "پولیس کی پشت پناہی بند کرو” جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ احتجاج کا دائرہ سندھ بھر میں پھیلائیں گے۔

    انہوں نے حکومت سندھ، آئی جی سندھ پولیس، اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پولیس اہلکاروں کے کردار کی بھی چھان بین کی جائے۔ ذرائع کے مطابق متاثرین نے اس معاملے سے متعلق مزید شواہد اور ثبوت جلد اعلیٰ حکام کو فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ فراڈ کے اس نیٹ ورک کی شفاف تحقیقات ممکن ہو سکے اور متاثرہ شہریوں کو انصاف دلایا جا سکے۔

  • میرپورخاص: سول ہسپتال کی پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری، ہزاروں مریض مستفید

    میرپورخاص: سول ہسپتال کی پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری، ہزاروں مریض مستفید

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)ڈی ایچ کیو / سول ہسپتال میرپورخاص کی جانب سے یکم جولائی 2025 سے 15 جولائی 2025 تک کی پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق ہسپتال میں مختلف شعبہ جات میں ہزاروں مریضوں کو علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران آرتھوپیڈک شعبے میں 37 ہڈیوں کے آپریشن کیے گئے جبکہ 165 مریضوں کو مختلف پروسیجرز کے ذریعے علاج فراہم کیا گیا۔ آنکھوں کے شعبے میں 22 مریضوں کے کامیاب آپریشن کیے گئے اور انہیں مفت دوائیں بھی مہیا کی گئیں۔

    اسی دوران جنرل سرجری میں ہرنیہ، پتہ، اپنڈکس، بلیڈر اسٹون، اوپن کولی سسٹکٹومی اور دیگر امراض کے 27 آپریشن کیے گئے۔ گائنی شعبہ میں 48 خواتین کے سی سیکشن (C-Section) آپریشن اور 131 نارمل ڈلیوریاں کی گئیں۔

    ہسپتال میں مجموعی طور پر 560 مریضوں کو مختلف وارڈز میں داخل کر کے علاج فراہم کیا گیا۔ ان مریضوں کا تعلق میرپورخاص شہر کے علاوہ نوکوٹ، ڈگری، جھڈو، کوٹ غلام محمد، کھپرو، جام نواز علی، ٹنڈو الہ یار اور دیگر دیہی و دور دراز علاقوں سے تھا۔

    او پی ڈی سروس کے تحت 31,000 سے زائد مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی اور مفت ادویات بھی دی گئیں۔

    انتظامیہ اور میڈیکل اسٹاف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں اور منفی پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں۔ اگر کسی کو شکایت ہو تو براہ راست سول ہسپتال انتظامیہ سے رجوع کریں، ہر شکایت کا فوری نوٹس لے کر مسئلہ حل کیا جائے گا۔

  • میرپورخاص: محمد میڈیکل ہسپتال میں ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کیمپ کا افتتاح

    میرپورخاص: محمد میڈیکل ہسپتال میں ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کیمپ کا افتتاح

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امجد اعظم نے محمد میڈیکل اسپتال میں ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن کیمپ کا افتتاح کیا۔ یہ کیمپ ابنِ سینا یونیورسٹی کے چانسلر کی ہدایت پر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خادم حسین لاکھیر کی نگرانی میں لگایا گیا تھا۔

    اس موقع پر ڈاکٹر امجد اعظم نے خود بھی ویکسین لگوائی اور نوجوانوں کو اس خطرناک اور جان لیوا مرض سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کیمپس صحت عامہ کے لیے نہایت اہم ہیں اور معاشرے میں بیماریوں کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

    کیمپ کی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شمس العارفین خان، چیئرمین آف میڈیسن ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر عبدالقادر خان اور دیگر معززین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس اقدام کو سراہا۔

  • میرپورخاص: مخدوش عمارتیں فوری خالی کرائی جائیں، فیصل سومرو کی ہدایت

    میرپورخاص: مخدوش عمارتیں فوری خالی کرائی جائیں، فیصل سومرو کی ہدایت

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ڈپٹی کمشنر میرپورخاص ڈاکٹر رشید مسعود خان کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو فیصل علی سومرو کی زیر صدارت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ خطرات اور مخدوش عمارتوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر چیتن لاکھانی نے بتایا کہ 2012 میں میرپورخاص شہر کی 7 عمارتوں کو باقاعدہ طور پر مخدوش و خطرناک قرار دیا جا چکا ہے، اور مالکان کو متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، لیکن اب تک وہ عمارتیں خالی نہیں کی گئیں۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فیصل علی سومرو نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیز بارشوں کے دوران یہ عمارتیں گر گئیں تو قیمتی انسانی جانوں اور املاک کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے، لہٰذا ان عمارتوں کی فوری خالی کرائی جائے۔ انہوں نے سختی سے کہا کہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو حکم دیا کہ تمام خطرناک عمارتوں کی تفصیلی رپورٹ فوری طور پر ڈپٹی کمشنر آفس کو فراہم کی جائے تاکہ ان کے خلاف بروقت کارروائی کی جا سکے۔

    فیصل سومرو نے عمارتوں کے مالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنی عمارتیں فوری خالی کر دیں، تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔