Baaghi TV

Category: میر پور خاص

  • میرپورخاص: یومِ تکبیر پر مرکزی مسلم لیگ کی شاندار ریلی،پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والوں کو خراجِ تحسین

    میرپورخاص: یومِ تکبیر پر مرکزی مسلم لیگ کی شاندار ریلی،پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والوں کو خراجِ تحسین

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)مرکزی مسلم لیگ میرپورخاص کی جانب سے 28 مئی یومِ تکبیر کے موقع پر ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرکزی مسلم لیگ میرپورخاص اور دیگر مقررین نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کی قومی غیرت، خودمختاری اور ایٹمی دفاعی صلاحیت کی علامت ہے۔

    مقررین نے کہا کہ 28 مئی 1998 وہ دن ہے جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان نہ صرف ایک خودمختار ریاست ہے بلکہ اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ یہ کامیابی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کی ٹیم کی برسوں کی انتھک محنت کا نتیجہ تھی، جس نے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا دیا۔

    مقررین نے اس موقع پر بھارت کے 1974 اور 1998 کے ایٹمی دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی دباؤ، پابندیوں اور شدید اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود بروقت اور جرأت مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے ایٹمی تجربات کیے، جو ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی سمت ایک سنگِ میل ثابت ہوئے۔

    ریلی کے شرکاء سے خطاب میں کہا گیا کہ یومِ تکبیر صرف ایٹمی طاقت بننے کی یادگار نہیں بلکہ قومی اتحاد، سائنسی ترقی اور حب الوطنی کا استعارہ ہے۔ اس دن پوری قوم نے تمام تر سیاسی، سماجی اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سلامتی پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

    مقررین نے زور دیا کہ آج کے دور میں بھی یومِ تکبیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صرف دفاعی صلاحیت نہیں، بلکہ تعلیم، معیشت، سائنس اور قومی اتحاد بھی ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے اہم ستون ہیں۔ اس دن کی یاد ہمیں مسلسل ترقی، خودانحصاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    ریلی کا اختتام دعاؤں اور قومی نغموں کے ساتھ کیا گیا، جہاں شرکاء نے وطن سے محبت اور دفاع پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • میرپورخاص: غیرقانونی مویشی منڈیاں، انتظامیہ خاموش، شہر مفلوج

    میرپورخاص: غیرقانونی مویشی منڈیاں، انتظامیہ خاموش، شہر مفلوج

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) انتظامیہ کی غفلت یا ملی بھگت؟ غیرقانونی مویشی منڈیوں نے شہر کو چراگاہ میں بدل دیا

    عید قرباں کی آمد سے قبل میرپورخاص شہر بدترین شہری مسائل کا شکار ہو چکا ہے، جہاں غیرقانونی اور خودساختہ مویشی منڈیوں نے نہ صرف ٹریفک نظام کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی نے عوامی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔

    کھپرو ناکہ، سندھڑی روڈ، چاندنی چوک، کے ایف سی چوک سمیت شہر کے اہم تجارتی اور رہائشی علاقوں میں سڑکیں جانوروں، بیوپاریوں اور خریداروں سے بھری پڑی ہیں۔ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جبکہ شہریوں کو دفتر، اسکول، اسپتال اور بازار جانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن ضلعی و شہری انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور بلدیاتی ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں مویشی منڈیوں کا یہ غیرقانونی پھیلاؤ انتظامیہ کی ناکامی ہی نہیں بلکہ ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ بیوپاریوں کے مطابق شہر سے باہر قائم سرکاری مویشی منڈیوں میں بھتہ مافیا راج کرتا ہے جہاں ہر جانور پر الگ الگ ٹیکس، فیس اور رشوت وصول کی جاتی ہے۔ اس مالی استحصال سے تنگ آ کر بیوپاریوں نے شہر کے اندر خودساختہ منڈیاں لگا لیں، جس سے پورا شہر متاثر ہو رہا ہے۔

    افسوسناک امر یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کو بارہا شکایات کے باوجود نہ کوئی کاروائی کی گئی، نہ کوئی منصوبہ بندی سامنے آئی۔ یہ صورتحال انتظامیہ کی نااہلی کے ساتھ ساتھ شہر میں بڑھتی ہوئی انارکی اور بدانتظامی کی کھلی عکاسی کرتی ہے۔ نہ صفائی کا نظام ہے، نہ سینیٹیشن، نہ سیکیورٹی، اور نہ ہی ٹریفک کنٹرول۔

    سڑکوں پر بدبو، جانوروں کی گندگی، اور خریداروں کا ہجوم شہر کو کسی مویشی چراگاہ کا منظر دے رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وبائی امراض کے پھیلنے اور کسی بڑے حادثے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:

    1. شہر کے تمام غیرقانونی مویشی منڈیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
    2. شہر سے باہر شفاف اور منظم مویشی منڈیوں کے قیام کو یقینی بنایا جائے جہاں بھتہ خوری نہ ہو۔
    3. بھتہ مافیا اور غیرقانونی منڈیوں کے پشت پناہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    4. ٹریفک پولیس، میونسپل کمیٹی اور دیگر ادارے فوری حرکت میں آئیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

    اگر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو شہریوں نے سڑکوں پر احتجاج اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ عید کے بعد جاگے گی یا کسی بڑے سانحے کا انتظار کرے گی؟

  • میرپورخاص: پبلک سکول کی بہتری کے لیے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، اہم فیصلے

    میرپورخاص: پبلک سکول کی بہتری کے لیے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، اہم فیصلے

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میر شیر محمد خان تالپور پبلک اسکول میرپورخاص میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز و ڈویژنل کمشنر فیصل احمد عقیلی اور چیئرمین ضلع کونسل میر انور تالپور کی صدارت میں بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا جس میں اسکول کی بہتری اور تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لیے 10 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

    اجلاس میں پرنسپل کی مدت ملازمت میں توسیع، سینیئر اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ، ہفتہ وار ڈاکٹر معائنہ، پی پی ایچ آئی کی ڈسپنسری کا قیام، سولر سسٹم اور واٹر پلانٹ نصب کرنے کی منظوری دی گئی۔ حکومت سندھ کی جانب سے مالی سال میں بڑھائی گئی گرانٹ اور نئے تعمیری اسکیموں کی منظوری بھی دی گئی۔ اسکول کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پانچ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

    اجلاس میں ایم این اے پیر افتاب حسین شاہ جیلانی، ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود، دیگر حکام اور تعلیمی نمائندگان نے شرکت کی جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری ایجوکیشن سندھ ڈاکٹر فوزیہ خان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئیں۔

  • میرپور خاص: دیہی خواتین کے ہنر کیلئے فیسٹیول، آن لائن فروخت کا اعلان

    میرپور خاص: دیہی خواتین کے ہنر کیلئے فیسٹیول، آن لائن فروخت کا اعلان

    میرپور خاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میرپور خاص کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ وومین ہینڈی کرافٹس فیسٹیول میں چیئرمین ضلع کونسل میر انور علی خان تالپور، کمشنر فیصل احمد عقیلی، ڈپٹی کمشنر رشید مسعود اور دیگر افسران نے شرکت کرتے ہوئے دیہی خواتین کے ہنر کو قومی سطح پر روشناس کرانے کے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب کا عنوان تھا: "ہنر بھی اس کا، منافع بھی اس کا”، جس میں تھرپارکر، عمرکوٹ اور میرپور خاص سے تعلق رکھنے والی 100 خواتین نے 50 سے زائد اسٹالز پر 3 ہزار سے زائد دستکاری اشیاء پیش کیں۔

    چیئرمین ضلع کونسل میر انور تالپور نے خطاب میں کہا کہ حکومت سندھ اور ڈویژنل انتظامیہ دیہی خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اور حکومت سے سفارش کی کہ محکمہ سماجی بہبود کے تعاون سے خواتین کو بلا سود قرضے دیے جائیں تاکہ وہ اپنا ہنر مزید بہتر بنا سکیں۔

    ڈویژنل کمشنر فیصل احمد عقیلی نے کہا کہ خواتین کو مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے بڑے سپر اسٹورز میں ان کے ہنر کے ڈسپلے کاؤنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں اور دیگر بڑے شہروں میں بھی یہ عمل دہرایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دیہی خواتین کی مصنوعات کی آن لائن فروخت کیلئے ای کامرس پلیٹ فارم بھی تشکیل دیا جائے گا۔

    نمائش میں کشیدہ کاری، چادریں، ثقافتی رلی، شالیں، مٹی کے برتن، ہاتھ سے تیار جوتے، پرس، بیگز، چوڑیاں اور دیگر ثقافتی مصنوعات شامل تھیں، جنہیں عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ کمشنر نے عوامی دلچسپی کے پیش نظر نمائش کو اتوار تک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر رشید مسعود نے اسے خواتین کو خود کفالت کی طرف گامزن کرنے کی بہترین حکمت عملی قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر سماجی تنظیموں اور اداروں کے نمائندوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ فیسٹیول میں محکمہ سماجی بہبود، روینیو، ہیلتھ، اسٹیوٹا، صحافیوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان

    آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان

    آم :پھلوں کا بادشاہ اور میرپورخاص کی پہچان
    تحریر: سید شاہزیب شاہ
    پاکستان کی سرزمین قدرتی نعمتوں سے مالا مال ہے، اور انہی میں ایک انمول نعمت "آم” ہے، جسے بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم صرف ایک خوش ذائقہ پھل نہیں، بلکہ یہ ہماری ثقافت، زراعت اور معیشت کا اہم ستون بھی ہے۔ پاکستان آم کی پیداوار میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے، اور جب آم کی بات ہو تو سندھ کا شہر میرپورخاص اپنے منفرد ذائقے، اعلیٰ اقسام اور تاریخی روایت کے باعث سرفہرست آتا ہے۔

    ضلع میرپورخاص، اپنی زرخیز زمین، خوشگوار آب و ہوا اور محنتی کسانوں کی بدولت آم کی کاشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں آم کی کاشت ایک صدی سے زائد پرانی روایت ہے، جو وقت کے ساتھ جدید زرعی تکنیکوں سے مزید ترقی پا چکی ہے۔ یہ علاقہ آم کی متعدد اعلیٰ اقسام کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

    میرپورخاص میں پیدا ہونے والی آم کی مشہور اقسام میں سندھڑی، چونسہ، لنگڑا، انور رٹول، دوسہری اور بیگن پالی شامل ہیں۔ ان میں سے سندھڑی کو مٹھاس، خوشبو اور رس کی فراوانی کے باعث آم کا بادشاہ کہا جاتا ہے، جبکہ چونسہ گرمیوں کے اختتام پر آنے والا دیرپا ذائقہ رکھنے والا آم ہے، جو اپنی لاجواب لذت کے باعث ہر سال مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے۔

    میرپورخاص سے ہر سال لاکھوں من آم اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک برآمد کیے جاتے ہیں۔ اس برآمدی عمل سے جہاں کسانوں کو روزگار اور منافع حاصل ہوتا ہے، وہیں ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ پاکستانی آم بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور امریکہ کی منڈیوں میں انتہائی پسند کیے جاتے ہیں۔ آم کی تجارت صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملکی معیشت کا فعال کردار بن چکی ہے۔

    میرپورخاص میں ہر سال آم میلہ (مینگو فیسٹیول) منعقد کیا جاتا ہے، جہاں آم کی درجنوں اقسام کی نمائش ہوتی ہے۔ یہ میلہ کسانوں اور تاجروں کے لیے نہ صرف معاشی فوائد کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ عوام اور سیاحوں کے لیے تفریح، ثقافت اور ذائقے کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ آم میلہ اس علاقے کی زراعت، روایت اور تہذیب کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جہاں نہ صرف خرید و فروخت ہوتی ہے بلکہ کسانوں کو ان کی محنت کا اعتراف بھی ملتا ہے۔

    اگرچہ میرپورخاص آم کی کاشت میں ایک روشن مقام رکھتا ہے، مگر یہاں کے کسان بعض سنجیدہ مسائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں، جن میں پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کیڑوں اور بیماریوں کا پھیلاؤ اور جدید زرعی تحقیق تک محدود رسائی شامل ہیں۔ اگر حکومت، زرعی ادارے، میڈیا اور نجی شعبے اس شعبے کو جدید سہولیات، تحقیق اور مالی معاونت فراہم کریں، تو آم کی صنعت نہ صرف مقامی سطح پر ترقی کرے گی بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی پاکستان کا مقام مزید مستحکم ہوگا۔

    آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستانی زراعت کی شان اور میرپورخاص کی پہچان ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اس قیمتی اثاثے کو قومی سرمایہ سمجھ کر اس کی حفاظت اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ کسان خوشحال ہوں، معیشت مضبوط ہو، اور پاکستان کا نام دنیا میں مزید روشن ہو۔

  • میرپورخاص: دیہی خواتین کی دستکاری نمائش 23 مئی کو ہوگی

    میرپورخاص: دیہی خواتین کی دستکاری نمائش 23 مئی کو ہوگی

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)میرپورخاص میں دیہی خواتین کی دستکاریوں کی ایک روزہ نمائش، صوبائی وزیر سماجی بہبود کی شرکت متوقع

    23 مئی کو میرپورخاص میں دیہی خواتین کی دستکاریوں کو اجاگر کرنے اور انہیں ان کی محنت کا حقیقی منافع دلانے کے لیے ایک روزہ نمائش کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس نمائش کا افتتاح صوبائی وزیر سماجی بہبود میر طارق ٹالپر کریں گے۔ یہ بات ایڈیشنل کمشنر ٹو سید ابرار علی شاہ نے کمشنر کمیٹی ہال میں پریس بریفنگ کے دوران بتائی۔

    ابرار علی شاہ نے بتایا کہ اس نمائش کا مقصد دیہی خواتین کی دستکاریوں کو مارکیٹ میں متعارف کروا کر مڈل مین کے کردار کو ختم کرنا اور خواتین کو ان کا جائز معاوضہ فراہم کرنا ہے۔ نمائش میں میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر کی 200 سے زائد دیہی خواتین نے حصہ لیا ہے جن میں سے 100 خواتین کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنی دستکاری پیش کریں۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرپورخاص میں پہلی بار ڈویژنل انتظامیہ کی طرف سے شہر کے بڑے شاپنگ مالز میں دستکاری کے کارنر قائم کیے گئے ہیں تاکہ دیہی خواتین کے ہنر کو فروغ دیا جا سکے اور انہیں ان کا اصل حق دیا جا سکے۔

  • میرواہ گورچانی: فاس دی ہوپ سکول کی داخلہ مہم، تعلیم کے فروغ کیلئے شعور بیداری واک

    میرواہ گورچانی: فاس دی ہوپ سکول کی داخلہ مہم، تعلیم کے فروغ کیلئے شعور بیداری واک

    میرپورخاص(باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور حکومت سندھ کے اشتراک سے تعلیم کی فراہمی میں پیش پیش تعلیمی ادارہ فاس دی ہوپ ہائیر سیکنڈری اسکول میرواہ گورچانی کی جانب سے داخلہ مہم برائے سال 2025-26 کے سلسلے میں شعور بیدار کرنے کے لیے فاطمہ ریزیڈنسی سے شجاع آباد پریس کلب تک ایک بیداری واک کا اہتمام کیا گیا۔

    واک کی قیادت سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن میرپورخاص ریجن کے ہیڈ علی محمد شہوانی نے کی، جبکہ شرکاء نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے والے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "تعلیم سب کے لیے”، "تعلیم کامیاب زندگی کی کنجی” جیسے نعروں کے ساتھ مثبت پیغامات درج تھے۔

    ریجنل ہیڈ علی محمد شہوانی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

    "تعلیم صرف ایک فرد کو علم ہی نہیں دیتی بلکہ اُسے بہتر انسان بناتی ہے، اس کی سوچ میں وسعت، کردار میں نکھار، اور زندگی میں شعور پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کو اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے، تنقیدی سوچ کو فروغ دیتی ہے، اور کامیاب معاشرہ تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں ضرور داخل کروائیں تاکہ سندھ کا کوئی بھی بچہ تعلیم کے زیور سے محروم نہ رہ جائے۔

    اس موقع پر دیگر مقررین غلام محمد نودھانی، غلام فرید اوٹھو، نثار چانگ، مختیار لغاری و دیگر نے بھی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، ادارے اور والدین مل کر اگر سنجیدگی سے کام کریں تو تعلیم کا ہر چراغ روشن ہو سکتا ہے۔

    یہ بیداری واک نہ صرف داخلہ مہم کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنی بلکہ شہریوں میں تعلیم کی اہمیت کا پیغام بھی کامیابی سے پہنچایا، جو آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • میرپورخاص: اگست میں انٹر اسکولز اسپیشل اولمپکس کا اعلان

    میرپورخاص: اگست میں انٹر اسکولز اسپیشل اولمپکس کا اعلان

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) ایڈیشنل کمشنر ٹو سید ابرار علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ میرپورخاص میں اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تعاون سے اگست میں انٹر اسکولز اسپیشل اولمپکس کھیلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کمشنر کمیٹی ہال میں اسپیشل اولمپکس پاکستان کی اسپورٹس ڈائریکٹر مس فرخندہ کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران اس بات کا اعلان کیا۔ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ خصوصی بچوں کے لیے اس اہم ایونٹ کے انعقاد میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

    مس فرخندہ نے تفصیل سے آگاہ کیا کہ اسپیشل اولمپکس کے تحت بیڈمنٹن، باسکیٹ بال، بیس بال، کرکٹ، سائیکلنگ، فٹبال، سوئمنگ، پاور لفٹنگ، ٹیبل ٹینس، ٹینس اور فیلڈ ہاکی سمیت دیگر کھیل شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیشل اولمپکس کا مقصد ذہنی پسماندہ بچوں اور بڑوں کو سال بھر کھیلوں کی تربیت فراہم کرنا، ان کے لیے مقابلوں کا انعقاد کرنا اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

    اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر جھڈو غضنفر پرداخ، ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر واشدیو مالہی، آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر فیصل خان زئی، پرنسپل اسپیشل ایجوکیشن اسکولز حسن علی لغاری، پبلک اسکول میرپورخاص و دیگر اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

  • میرپورخاص: انجمن سرفروشان اسلام کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی

    میرپورخاص: انجمن سرفروشان اسلام کی پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ)عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشان اسلام میرپورخاص کی جانب سے پاک افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حمایت کے لئے ایک عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی مقامی پریس کلب، حیدرآباد روڈ پر پہنچی، جہاں عوام کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔

    ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انجمن سرفروشان اسلام میرپورخاص کے امیر اعجاز قادری نے کہا کہ ازلی دشمن بھارت ہمیشہ رات کے اندھیرے میں بزدلانہ وار کرتا ہے، لیکن الحمد للہ پاکستان کی بہادر افواج نے مودی سرکار اور بھارتی فوج کو ایسا دندان شکن جواب دیا ہے کہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ انجمن سرفروشان اسلام ہمیشہ پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر قدم پر فوج کا ساتھ دیتی رہے گی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انجمن کے بانی و سرپرست حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی کا یہ پیغام ہے کہ پاکستان ایک ابدی حقیقت ہے اور انشاء اللہ وقت قریب ہے جب دنیا کے بڑے فیصلے پاکستان کی رضا و مخالفت سے مشروط ہوں گے۔

    ریلی کے دوران شرکاء نے "پاکستان زندہ باد” اور "پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ آخر میں وطن عزیز پاکستان کی سلامتی اور افواج پاکستان کی کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جس کے ساتھ ریلی پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوئی۔

  • میرپورخاص: سول ڈیفنس و ریسکیو 1122 کی پاک فوج سے یکجہتی ریلی

    میرپورخاص: سول ڈیفنس و ریسکیو 1122 کی پاک فوج سے یکجہتی ریلی

    میرپورخاص (باغی ٹی وی، نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) محکمہ شہری دفاع، ریسکیو 1122 اور سول سوسائٹی کی جانب سے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کے لیے اسٹیشن چوک سے مارکیٹ چوک تک ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت ڈپٹی کنٹرولر سول ڈیفنس فہیم میمن نے کی۔

    ریلی میں ریسکیو 1122، آل پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر فیصل زئی، ڈپٹی گروپ وارڈن سید دانش علی، خلیل غوری، عبد الحمید شیخ، خلیل اللہ خان سمیت بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بھارت کی جارحیت کی شدید مذمت کی اور "پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

    شرکاء نے ہاتھوں میں قومی پرچم اور افواجِ پاکستان کی حمایت میں بینرز اٹھا رکھے تھے، اور وطن کی سلامتی، فوج کی جرات و بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔