مظفرآباد (نمائندہ باغی ٹی وی) آزادجموں و کشمیر کے وزیر اطلاعات و سیاحت راجہ مشتاق احمد منہاس نے کہا ہے کہ امریکی جریدے دی نیو یارکر کی تہلکہ خیز رپورٹ نے بھارتی وزیراعظم مودی کی فسطائیت اور آر ایس ایس کے مسلم کش منصوبوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے موثرجریدے کی رپورٹ کا نوٹس لیں اور بھارت میں موجود اقلیتوں کو مودی اور بی جے پی کے مظالم سے نجات دلائیں۔ بھارت کے تمام تر ظلم و جبر کے باوجود کشمیریوں نے کبھی اسکے جابرانہ قبضے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈاہے جس کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاون کو 128 دن ہو چکے ہیں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیری عوام اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں انصاف دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔وزیر اطلاعات نے ان خیالات کا اظہار انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی جریدے دی نیو یارکر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کے بارے میں جو کہانی پیش کی گئی وہ پروپیگنڈہ تھی۔انہوں نے کہا رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کشمیر کی حقیقت مرکزی دھارے کے میڈیا کی تصویر سے بالکل برعکس ہے۔سڑک کے ہر کونے پر فوجی کھڑے تھے،ہرچوراہے پر مشین گنیں تھیں،ہر بلاک پر دکانیں بند کر دی گئیں،فوجی موجودگی کے علاوہ سڑکیں بے جان تھیں،نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی گئی،سکول بند تھے،سیل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی،بھارتی انٹیلی جینس ایجنٹ مقامی ہوٹلوں کی نگرانی کر رہے تھے،اسپتالوں میں سیکیورٹی سخت تھی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دی نیو یارکر کے ان انکشافات کے بعد انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کی مرضی و منشاء کے برخلاف مقبوضہ کشمیر پر 1947 میں فوجی قبضہ کیا اور بھارت الحاق کی جو دستاویز پیش کرتا ہے وہ جعلی ہے اور تاریخی حقائق کے برخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اسوقت نو لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج تعینات ہے جو کسی بھی علاقے میں اب تک کی سب سے زیادہ فوجی موجودگی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے ہزاروں افراد جیلوں میں بند پڑے ہیں جبکہ لاکھوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر وہ واحد خطہ ہے جہاں آدھی بیواوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے کیونکہ بھارتی فوج ہر دن لوگوں کو لاپتہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ 128روز سے مقبوضہ کشمیر کو کرفیو کے ذریعے لاک ڈاون کیا ہوا ہے جہاں لوگوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں راجہ مشتاق احمد منہاس نے کہا کہ بھارت نے تقسیم کشمیر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی ہیت کو متاثر کرنے اور کشمیریوں کی قانونی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ متنازعہ علاقے میں ڈیمو گرافی کو تبدیل کیا جا سکے مگر اسے اس میں ناکامی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ چونکہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اس لئے بھارت یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اسکی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا نوٹس لے۔انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے.
Category: مظفرآباد
کوئی کشمیرکا سفیررہا ہے تووہ شہید بھٹو ہے، جعلی سفیر کو نہیں مانتے، بلاول
کوئی کشمیرکا سفیررہا ہے تووہ شہید بھٹو ہے، جعلی سفیر کو نہیں مانتے، بلاول
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے مظفر آباد میں پارٹی کے یوم تاسیس کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کشمیر پر سودا قبول نہیں کیا،ذوالفقارعلی بھٹوکشمیرکے سفیرتھے ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں لوگوں کو جمع کیا اور کشمیر کی بات کی ،بھٹو شہید کشمیر کا مقدمہ جہاں رکھتے بھارتی سفیر کا پسینہ نکل جاتا تھا ،مودی انتہا پسند ہے،پیپلزپارٹی کاکشمیر سےرشتہ پہلےدن سےہے،پیپلزپارٹی نےمسئلہ کشمیرپراہم کرداراداکیا،پیپلزپارٹی ہمیشہ کشمیرکی محافظ رہی
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ کوئی کشمیرکا سفیررہا ہے تووہ شہید بھٹو ہے ،مودی پورے خطے کے امن کیلیے خطرہ ہے، ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں نریندر مودی کو پہچانو، مودی انتہا پسند سوچ رکھتا ہے، بھارتی وزیراعظم ایک انتہا پسند سوچ رکھنے والا شخص ہے،
خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیریوں کی تقسیم کی کوشش کی جارہی ہے،مہذب معاشرے میں امیر اور غریب میں فرق نہیں ہوتا،آج معیشت اور خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہےبلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ پارلیمان بند پڑا ہے،بتایا جائے15 ماہ میں عوام کی فلاح کیلیےکیا کیا گیا؟ ٹیکس کا نظام بہتر کرنا ہوگا لیکن ایسے نہیں جیسے یہ کررہے ہیں،سندھ میں سیلز ٹیکس باقی صوبوں سے کم ہے،سیاست اب عوام نہیں امپائر کو خوش کرنا ہے،سیاست کا محور اب عوام کو صرف سبز باغ دکھانا ہے،ایک سال میں ایک قانون پاس نہیں کراسکے،یہ پارلیمان میں یکجہتی کیسے پیدا کریں گے،
بلاول زرداری نے مزید کہا کہ سی پیک کو کسی صورت متنازعہ نہیں بننے دیں گے،حکومت کو سی پیک پر یوٹرن نہیں لینے دیں گے، نالائق حکومت نے سی پیک کو ہی متنازعہ بنادیا،نالائق نااہل سلیکٹڈ نیازی کان کھول کر سن لو،شہید بھٹو کے شروع کردہ، بینظیر بھٹو اور زرداری صاحب نے اس تعلق کو آگے بڑھایا،ہم تمہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے
بلاول زرداری نے مزید کہا کہ بقول چیف جسٹس آپ نے سپہ سالار کو شٹل کاک بنا دیا اب یہ معاملہ پارلیمان میں آئے گا جن سے ایک نوٹیفکیشن نہیں بن سکا آج تک کوئی ایک قانون پاس نہیں کر سکے وہ اب کیسے پارلیمان میں اتفاق رائے پیدا کریں گے اتنی اہم قانون سازی پر وہ بھی چھ مہینے کے اندر،دیکھتے ہیں،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ 27دسمبر کو بینظیر بھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں منائیں گے،یہ حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے،مجھے فخر ھے کہ آج میں ان لوگوں کے ساتھ ھوں جنھوں نے میرے نانا شھید بھٹو کے ساتھ اور میری ماں شھید بینظیر بھٹو کے ساتھ کام کیا اور ھمیشہ جھموریت کے لییے کیا۔
بلاول زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی کہتا ہے کہ میں کشمیریوں کا سفیر ہوں ،یہ کیسا سفیر ہے کہ کشمیر میں لاک ڈاؤن ہے اور اس نے ایک ملک کا بھی دورہ نہیں کیا،نہ کسی ملک میں کوئی وفد نہیں بھیجا،میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ
ہم کشمیر کا مقدمہ لڑوں گا،محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا
پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس کا جلسہ، بلاول پہنچ گئے، پارٹی بنیاد کیوں رکھی؟ قمر زمان کائرہ کا حیرت انگیز دعویٰ
پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس کا جلسہ، بلاول پہنچ گئے، پارٹی بنیاد کیوں رکھی؟ قمر زمان کائرہ کا حیرت انگیز دعویٰ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے مظفر آباد میں پارٹی کے یوم تاسیس پر ہونے والے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 118 روز سے لوگ گھروں میں محصور ہیں،کشمیر کاز کیلیے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی،یوم تاسیس پر ہم نے یہاں سے تحریک کا آغاز کرنا ہے،
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھی جلسہ گاہ میں پہنچ چکے ہیں ،پی پی کے کارکنان کی بڑی تعداد جلسہ گاہ میں موجود ہے جنہوں نے بلاول زرداری کا بھرپور استقبال کیا،یونیورسٹی کالج گراؤنڈ میں پیپلز پارٹی نے یوم تاسیس کے جلسے کا اہتمام کر رکھا ہے.جلسہ گاہ میں پی پی کی خواتین کارکنا ن کی بھی بڑی تعداد موجود ہے، شرکاء پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سمیت دیگر گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں.وسیع پنڈال بنایا گیا ہے اور پنڈال کو پارٹی پرچموں سے سجایا گیا ہے.
پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر بلاول زرداری نے پیغام میں کہا کہ پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ہم اپنے بنیادی اصولوں پر عہد کو دہرائیں گے اور ملک کی نئی سمت کو متعین کریں گے۔ صرف مضبوط عوامی ایجنڈا ہی جمہوری، اقتصادی اور انتظامی بحرانوں سے نکال سکتا ہے، دستور بندی، قانون کی بالا دستی اور جمہوریت پر سختی سے کاربند رہا جائے.

پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس، بلاول کہاں کریں گے جلسہ عام سے خطاب
پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس، بلاول کہاں کریں گے جلسہ عام سے خطاب
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کا آج یوم تاسیس منایا جائے گا اس ضمن میں آج آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں جلسہ ہو گا،پیپلزپارٹی کے آج ہونے والے 52 ویں یوم تاسیس کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، اس سلسلے میں مظفر آباد میں جلسے کا انعقاد کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے پیپلزپارٹی کی قیادت، تنظیمی عہدیدار اور کارکنان شریک ہوں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری مظفر آباد میں جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے کے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، وسیع پنڈال بنایا گیا ہے اور پنڈال کو پارٹی پرچموں سے سجایا گیا ہے.
پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر بلاول زرداری نے پیغام میں کہا کہ پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر ہم اپنے بنیادی اصولوں پر عہد کو دہرائیں گے اور ملک کی نئی سمت کو متعین کریں گے۔ صرف مضبوط عوامی ایجنڈا ہی جمہوری، اقتصادی اور انتظامی بحرانوں سے نکال سکتا ہے، دستور بندی، قانون کی بالا دستی اور جمہوریت پر سختی سے کاربند رہا جائے.
دارلحکومت میں ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی ناقص سروسز، دن میں کئی دفعہ سگنل غائب، صارفین سر پکڑ کر بیٹھ گئے
مظفرآباد (نمائندہ باغی ٹی وی) آزاد کشمیر بھر میں موبائل کمپنیوں کی ناقص سروسز سے اہل کشمیر بدترین اذیت سے دوچار، دن میں کئی دفعہ نیٹ ورک غائب ہو جاتا ہے۔ ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی سروسز میں صارفین کو مشکلات کا سامنا۔
تفصیلات کے مطابق مظفرآباد اور گردونواح میں بھی ہر آدھے گھنٹے بعد سروس نہیں آتی، اکاؤنٹ میں موجود بیلنس اچانک کٹ جاتا ہے بار بار شکایت کرنے کے باوجود کوئی بھی کمپنی اس کو حل کرنے سے گریزاں ہے، صارفین کی شکایات عوامی حلقوں کا پی ٹی اے سے بروقت کاروائی کرنے اور سروسز کو بہتر کروانے کا مطالبہآزاد کشمیربھر میں بارشوں اور برفباری سے دارلحکومت کا زمینی رابطہ بالائی علاقوں سے کٹ گیا۔
مظفرآباد (نمائندہ باغی ٹی وی) دارلحکومت مظفرآباد اور گردونواح میں مسلسل ہلکی بارش، سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ شہر میں برساتی نالے بند ہونے کے باعث سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، ندی نالے بھی غیر معمولی پانے سے بھر گئے۔ برف باری کے باعث لیپہ ویلی اور بالائی نیلم کا زمینی راستہ دارلحکومت سے کٹ گیا، لوگ گھروں میں محصور، غذائی اجناس اور ادویات کی قلت سے عوام نئے امتحان سے دوچار۔ اہل علاقہ کا ہیلی کاپٹر سروس کا مطالبہ تاحال پورا نہ ہو سکا۔
کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجینڈا ہے جس کو حل کرنے کیلیے اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، وزیر اطلاعات و سیاحت
آزادجموں و کشمیر کے وزیر اطلاعات و سیاحت راجہ مشتاق احمد منہاس نے کہا ہے کہ بھارت کے تمام تر ظلم و جبر کے باوجود کشمیریوں نے کبھی اسکے جابرانہ قبضے کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجینڈا ہے جس کو حل کرنے کیلیے اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔بھارتی وزیر اعظم نہرو نے خود اقوام متحدہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیں گے ۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاون کو 108 دن ہو چکے ہیں کشیریوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے مگر ان کے حوصلے بلند ہیں ۔وزیر اطلاعات نے ان خیالات کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کی مرضی و منشاء کے برخلاف مقبوضہ کشمیر پر 1947 میں فوجی قبضہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت الحاق کی جو دستاویز پیش کرتا ہے وہ جعلی ہے اور تاریخی حقائق کے برخلاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں اسوقت نو لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج تعینات ہے جو کسی بھی علاقے میں اب تک کی سب سے زیادہ فوجی موجودگی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے ہزاروں افراد جیلوں میں بند پڑے ہیں جبکہ لاکھوں کو شہید کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر وہ واحد خطہ ہے جہاں آدھی بیواوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے کیونکہ بھارتی فوج ہر دن لوگوں کو لاپتہ کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ 108 روز سے مقبوضہ کشمیر کو کرفیو کے ذریعے لاک ڈاون کیا ہوا ہے جہاں لوگوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے تقسیم کشمیر کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی ہئیت کو متاثر کرنے اور کشمیریوں کی قانونی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ متنازعہ علاقے میں ڈیمو گرافی کو تبدیل کیا جا سکے مگر اسے اس میں ناکامی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ چونکہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اس لئے بھارت یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اسکی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا ۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا نوٹس لے ۔انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے.
103 دن کے کرفیو کے باوجود بھارت کشمیریوں کے عزم اور استقامت کو شکست دینے میں ناکام ہو چکا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر
آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ 103 دن کے کرفیو کے باوجود بھارت کشمیریوں کے عزم اور استقامت کو شکست دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔قومی قیادت متحد ہو گی تو آواز میں طاقت پیدا ہو گی اور دنیا آپ کی بات سنے گی۔
مودی ہٹلر کے نقش قدم پر خطرناک ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیری عوام کو جنوبی ایشیاء کے ہٹلر مودی سے بچایا جائے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی ہے۔500 ہندوستانی پروپیگنڈے کی ویب سائیٹس سامنے آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان کا تمام تر پروپیگنڈہ ناکام ہورہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا نے ہندوستان کے چہرے سے نقاب اتار دیا ہے۔اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان بھارت کے جارحانہ عزائم کو روکنے کیلیے کافی ہے۔میڈیا مسئلہ کشمیر اور قومی یکجہتی کیلیے اپنا اہم کردار ادا کرے۔ وزیر اعظم آزادکشمیرنے بین الاقوامی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا دیا ہے جہاں کرفیو کو 103 دن ہو چکے ہیں جو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے ایک نئے المیے نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو بھیانک تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے جبکہ دوسری جانب کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے نہتے شہریوں اور بچوں کو نشانہ بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے سفاکانہ حملوں اور بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے سکول بند کرنے پڑ گئے ہیں جن سے بچوں کو تعلیم میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کا نامکمل ایجینڈا ہے جس کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے حق کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں اور یہ حق انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر رکھا ہے اور اسکا قبضہ سراسر جابرانہ اور غاصبانہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں میڈیا سے خاص طور پر کہنا چاہوں گا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کی آواز کو دنیا بھر میں پہنچانے کیلیے اپنا ایکٹو رول ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم مودی نے پہلے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اب وہ اسی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا سامنا سفاک مودی سے ہے جس کا ایجینڈا آر ایس ایس کا تشدد پسند راستہ ہے جو اقلیتوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے جو بین الاقوامی اور دوطرفہ معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 103 روز سے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے جہاں اسی لاکھ سے زیادہ آبادی اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کا وعدہ خود بھارت کے وزیراعظم نہرو نے کیا تھا اور کشمیریوں کو یہ حق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی دے رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ رویہ جنوبی ایشیاء کو عدم۔استحکام کی جانب دھکیل رہا ہے کیونکہ دونوں ملک ایٹمی طاقت بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے اشتعال انگیز بیان کا نوٹس لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے مظالم نے ہٹلر اور نازیوں کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی۔طاقتوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کیلیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں اور بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پابند بنائیں.مظفرآباد: ماڈل سائنس کالج کے طالب علم کی فائرنگ سے زخمی شہری کو اسلام آباد ریفر کردیاگیا، ملزم تاحال فرار
مظفرآباد (عطاء الرحمٰن) دو دن قبل ماڈل سائنس کالج اپر چھتر میں چھٹی کے بعد طلباء کا تصادم کے دوران ایک شہری صغیر خان مغل کو شدید زخمی ہونے کی وجہ سے کل پمز ہسپتال اسلام آباد ریفر کردیا گیا، گولی مارنے والا طالبعلم راجہ عتیق بشارت تاحال پولیس نے گرفتار نہیں کیا،اہلیان چھتر کاشدید احتجاج۔ چھٹی کے دوران پولیس گشت اور دوسرے کالج کے طلباء پر پابندی لگانے کا مطالبہ۔ طلباء کو شدت پسندی سے دور رکھا جائے، عوامی حلقوں کا شدید ردعمل۔
مظفرآباد: پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی عائد، ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اہم اجلاس
مظفرآباد( عطاء الرحمٰن ) گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر بدر منیر کی زیر صدارت ضلع مظفرآباد میں پلاسٹک بیگز پر پابند ی کے حوالہ سے اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں محمد شفیق عباسی ڈائریکٹر ماحولیات مظفرآباد‘عاصم خالد اعوان ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مظفرآباد،عفت اعظم اسسٹنٹ کمشنرمظفرآباد‘محمد عمران صاحب میونسپل مجسٹریٹ مظفرآبادراجہ محمد عمران خان انسپکٹر‘شوکت نواز میر صدر انجمن تاجران بنک روڈ مظفرآباد‘ عبدالرزاق خان چیئرمین تاجر جائنٹ ایکشن کمیٹی مظفرآباد‘احسن میر نمائندہ شاپرزایسوسی ایشن مظفرآباد‘محمد ظہور صائم پلاسٹک سٹور سبزی منڈی مظفرآباد‘بلال میر رستم تمباکو سٹور مظفرآباد‘ذیشان ملک مدنی ٹریڈرز مظفرآباد‘ نمائندہ حمزہ ساپنگ بیگز اورظہیر کیانی نے شرکت کی۔جملہ شرکائ نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ نمائندگان تاجران نے شاپنگ بیگز پر پابندی کے حوالہ سے تحفظات پیش کیئے۔ پلاسٹک بیگز سے وابسطہ صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے سٹاک سے جلد پلاسٹک شاپنگ بیگز کا خاتمہ کریں جس کیلئے مناسب وقت دیا جار ہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے سٹاک میں کپڑے کے بیگز بھی متعارف کروائیں۔ حکومت آزادکشمیرایسے تاجران جو کپڑے کے بیگز کا کارروبار شروع کریں گے انہیں سہولیت دینے کیلئے تیار ہے۔ جملہ ذمہ داران کو اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ بھرپور معاونت کرے گی۔ ڈپٹی کمشنر آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ Coloured‘ ایرانی اور سب سٹینڈر شاپنگ بیگز پر مکمل طور پر پابندی عائد ہو گی‘ کوئی بھی ڈیلر Coloured اور ایرانی شاپنگ بیگز کی خریدوفروخت نہ کرے گا۔ اس حوالہ سے پہلے مرحلے میں 15,10,5 کلو والے کپڑے کے شاپنگ بیگز متعارف کروائے جائیں گے‘ 05 کلو کپڑے کے شاپنگ بیگز کا سائز15×18 ہوگا۔ تمام شاپنگ بیگز ڈیلران کو 01 ماہ کا وقت دیا جائے گا جس میں وہ اپنے پلاسٹک شاپنگ بیگز کے تمام سٹاک کو ختم کریں گے۔ ایک ماہ کے بعد کوئی بھی ڈیلر 15,10,5 اور اس سے زائد سائز والے پلاسٹک شاپنگ بیگز کی خرید وفروخت نہیں کرے گا۔ اور صرف کپڑے کے بیگز ہی مارکیٹ میں فروخت کرسکے گا۔ 05 کلو سے کم سائز کے محکمہ ماحولیات کی جانب سے Approved ماحول دوست شاپنگ بیگز استعمال ہوں گے۔ محکمہ ماحولیات کی تعاون سے کپڑے کے شاپنگ بیگز استعمال کرنے کے حوالہ سے Awareness Campaign کا آغاز کیا جائے گا۔ جس میں صارفین کو کپڑے کا بیگز استعمال کرنے کے حوالہ سے آگاہی دی جائے گی.


