Baaghi TV

Category: مظفرآباد

  • ہیلی حادثہ،پاک فوج کے شہید افسران،جوانوں کی نماز جنازہ ادا

    ہیلی حادثہ،پاک فوج کے شہید افسران،جوانوں کی نماز جنازہ ادا

    پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی نمازِ جنازہ مظفر آباد میں ادا کر دی گئی۔

    شہداء کی نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر و وزیرِ اعظم آزاد کشمیر، کور کمانڈر راولپنڈی، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی بھی پیش کی،شرکاء نے شہداء کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی،بعد ازاں شہداء کے جسدِ خاکی آبائی علاقوں کو روانہ کر دیے گئے جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  • مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید

    مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تمام اہلکار شہید

    پاک فوج کا ایک Mi-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب ٹیک آف کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام اہلکار شہید ہو گئے-

    آئی ایس پی آر کے مطابق حادثہ آج اس وقت پیش آیا جب آرمی ایوی ایشن کا Mi-17 ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران ٹیک آف کر رہا تھا کہ تکنیکی خرابی کے باعث کنٹرول برقرار نہ رہ سکا اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا،حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم تمام اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے، واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے جو تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔

    پاک فوج کے سربراہ (COAS) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CDF) سمیت تمام رینکس نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • 
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع

    
جے اے اے سی کے دو رہنماؤں کے وارنٹ جاری، بغاوت کے الزامات پر تحقیقات شروع

    ‎آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دو مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد کے خلاف بغاوت اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیقات کی باضابطہ منظوری دی گئی ہے جبکہ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
    ‎محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر اور خواجہ مہران ارشد سمیت دیگر افراد کے خلاف دفعہ 124 اے کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور معلومات مزید تفتیش کی متقاضی ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
    ‎نوٹیفکیشن میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری میں معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے انعامی اسکیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے اور بغاوت پر آمادہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
    ‎حکومت نے ایس ایس پی مظفرآباد کو شوکت نواز میر کے خلاف فوری تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ ایس ایس پی میرپور کو خواجہ مہران ارشد کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کا حکم دیا گیا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ایک مبینہ آڈیو کال منظرعام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے حال ہی میں وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔ آڈیو میں مبینہ طور پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ایسی گفتگو سنائی دیتی ہے جس میں آزاد کشمیر میں بدامنی اور انتشار سے متعلق منصوبہ بندی پر بات کی جا رہی ہے۔
    ‎حکومتی مؤقف کے مطابق آڈیو میں راولاکوٹ میں ممکنہ پرتشدد واقعات اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے متعلق گفتگو بھی شامل ہے۔ تاہم اس آڈیو کی آزادانہ تصدیق اور فرانزک جانچ کے نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
    ‎سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

  • 
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    
حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات مان لیے

    ‎آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے ساتھ جاری تنازع کے تناظر میں وفاقی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر لیے گئے تھے، جبکہ باقی تین مطالبات آئینی ترمیم یا نئی قانون سازی سے مشروط ہونے کے باعث فوری طور پر منظور نہیں کیے جا سکے۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق متعدد دور کے مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور کئی مطالبات پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جا چکے تھے۔ تاہم بعض حساس معاملات پر اختلافات برقرار رہے جس کے باعث صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
    ‎منظور کیے گئے مطالبات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات، جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ، زخمیوں کے لیے مالی امداد، شہداء کے خاندانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں اور خصوصی معاونت کی فراہمی شامل ہے۔ اسی طرح شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    ‎تعلیم کے شعبے میں مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام، اسکولوں اور کالجوں کی بہتری، میرٹ پر داخلوں اور تعلیمی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی منظور کی گئیں۔ صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کی فراہمی، ہر ضلع میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب، اسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور صحت کے لیے اضافی فنڈز شامل ہیں۔
    ‎انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے سڑکوں، سرنگوں اور پلوں کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز، صاف پانی کی فراہمی، دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبے پر بھی پیش رفت کی یقین دہانی کرائی گئی۔
    ‎حکومت نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے، پن بجلی منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد، سرکاری اخراجات میں کمی، بیوروکریسی میں اصلاحات، احتسابی اداروں کی تنظیم نو اور شفاف احتسابی نظام کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
    ‎مزید برآں کاروباری طبقے کے لیے ایڈوانس ٹیکس میں ریلیف، پراپرٹی ٹیکس میں کمی، مقامی حکومتوں کی بحالی، منگلا ڈیم سے متاثرہ اراضی کے مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام جیسے مطالبات بھی منظور کیے گئے۔

  • 
آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ

    
آزاد کشمیر حکومت کا ایکشن کمیٹی کو سخت انتباہ

    ‎آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    ‎حکومت کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، عوامی ریلیف اور مطالبات پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک اور مکالمے کے بجائے دباؤ اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔
    ‎ترجمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج اور ہڑتالوں پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن سڑکیں بند کرنا، عوامی زندگی کو مفلوج کرنا اور ریاستی نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالنا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
    ‎حکومت نے واضح کیا کہ عوامی مطالبات کی آڑ میں کسی بھی گروہ کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کسی قسم کی ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کو مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے بجائے استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اسمبلی اور جمہوری اداروں کے فیصلوں کو سڑکوں پر دباؤ ڈال کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ 9 جون کو اعلان کردہ ہڑتال یا انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش تصور کی جائے گی۔ عوام کو بندشوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، آئینی عمل اور جمہوری اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے۔
    ‎حکومت آزاد کشمیر کے مطابق مذاکرات کے دروازے آج بھی کھلے ہیں، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کے بجائے تصادم اور محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے باعث سیاسی اور سماجی حلقوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • آزاد کشمیر، سیاحوں کے داخلے پر 15 جون تک پابندی عائد

    آزاد کشمیر، سیاحوں کے داخلے پر 15 جون تک پابندی عائد

    مظفرآباد: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو دی گئی احتجاجی کال کے پیشِ نظر حکومتِ آزاد کشمیر نے سیاحوں کے داخلے پر 15 جون تک پابندی عائد کر دی ہے۔

    آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے، جس میں سیاحوں اور مسافروں کو 5 جون سے 20 جون تک آزاد کشمیر کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومتی ایڈوائزری کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں اور ممکنہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث سیاحت اور دیگر مقاصد کے لیے آزاد کشمیر آنے والے افراد احتیاط برتیں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں،

    حکومت نے آزاد کشمیر میں موجود سیاحوں اور مسافروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کل شام تک علاقے سے نکل جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دشواری یا ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوامی تحفظ، امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں و سیاحوں کی سہولت کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور صورتحال معمول پر آنے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

  • آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا

    آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا

    آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات 27 جولائی 2026 کو منعقد ہوں گے۔

    امیدوار 9 جون سے 19 جون تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 20 جون کو ہوگی۔درست نامزد امیدواروں کی فہرست 20 جون کو جاری کی جائے گی۔نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 21 سے 24 جون تک دائر کی جا سکیں گی۔الیکشن کمیشن اپیلوں کی سماعت 26 اور 27 جون کو کرے گا،اپیلوں پر فیصلے 28 اور 29 جون کو سنائے جائیں گے۔امیدوار 30 جون تک کاغذاتِ نامزدگی واپس لے سکیں گے۔انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کی فہرست یکم جولائی کو جاری ہوگی۔امیدواروں کو انتخابی نشانات 2 جولائی کو الاٹ کیے جائیں گے۔حتمی فہرستِ امیدواران اور انتخابی نشانات 2 جولائی کو جاری ہوں گے۔آزاد کشمیر میں پولنگ 27 جولائی کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی۔الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کے نفاذ کا فوری اعلان کر دیا۔عام انتخابات کے انعقاد کے لیے ریٹرننگ افسران کو شیڈول کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے،آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز، الیکشن شیڈول نافذ کر دیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق پولنگ 27 جولائی 2026 کو مقرر کی گئی ہے جبکہ کاغذاتِ نامزدگی 9 تا 19 جون وصول کیے جائیں گے

    الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ہے جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کی تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں برقرار رکھنے سے متعلق ایک اہم قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے جسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔منظور شدہ قرارداد کے مطابق انتخابی نظام سے متعلق پیچیدگیوں کے خاتمے اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اصلاحات متعارف کرانے کے لیے ضروری قانون سازی اسمبلی کے ذریعے عمل میں لائی جا سکتی ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، اس لیے اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔ قرارداد میں سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابی ماحول مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کریں گی۔

  • کوٹلی آزاد کشمیر کے لیے دانش اسکول کی منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری

    کوٹلی آزاد کشمیر کے لیے دانش اسکول کی منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے کوٹلی آزاد کشمیر میں دانش اسکول کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    آزاد کشمیر میں دانش اسکولز کے قیام کا مقصد علاقے کے طلبا کو اعلیٰ تعلیمی معیار فراہم کرنا، علاقائی تعلیمی ترقی کو فروغ دینا اور نوجوانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دلچسپی پیدا کرنا ہے کوٹلی کے لیے دانش اسکول کی منظوری میں پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر چوہدری عبدالرحمان آرائیں کا اہم کردار ہے۔

    دانش اسکول سسٹم کا آغاز پنجاب سے کیا گیا، جو ایک انقلابی تعلیمی منصوبہ ہے جو پسماندہ علاقوں کے ذہین مگر مستحق، غریب اور یتیم بچوں کو 6ویں سے 12ویں جماعت تک معیاری تعلیم، رہائش، کھانا اور دیگر سہولیات مکمل طور پر مفت فراہم کرتا ہے اس منصوبے کا مقصد غریب خاندانوں کے بچوں کو ایچی سن جیسے تعلیمی ادارے جیسی سہولیات دے کر ان کا مستقبل روشن کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھمبر، نیلم اور باغ کے لیے بھی دانش اسکولز کی منظوری دی جا چکی ہے، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھمبر اور باغ میں اسکولوں کے سنگ بنیاد بھی رکھ چکے ہیں، جبکہ نیلم میں اسکول کے قیام کا معاملہ ابھی پراسیس میں ہے۔

  • مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان

    مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کا صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان

    مسلم لیگ ن آزاد کشمیر نے صدارتی انتخاب میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا ہے-

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور ن لیگ کے نائب صدر راجا فاروق حیدر نے کہا ہے کہ کہ آئندہ صدر ہمارا ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس اپنا صدر منتخب کرانے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود نہیں،یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ قانون ساز اسمبلی نئے صدر کا انتخاب نہ کرے اور معاملہ آئندہ اسمبلی پر چھوڑ دیا جائے۔

    واضح رہے کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے رہے ہیں،آزاد کشمیر میں اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے اور پارٹی قیادت کی جانب سے اپنا امیدوار صدر منتخب کرانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر مختلف گروپس بھی صدارت کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔1

    بیرسٹر سلطان گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر کا عہدہ ان کے گروپ سے کسی رکن کو دیا جائے، جس کے باعث پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں، صدر کا انتخاب الیکشن کمیشن نے کرانا ہوتا ہے، تاہم آزاد کشمیر میں کچھ عرصے سے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہے، جس کے باعث آئینی بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

  • آزاد کشمیر: ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے حوالے سے اہم پیشرفت

    آزاد کشمیر: ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے حوالے سے اہم پیشرفت

    جموں و کشمیر میں ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی زیر صدارت ہیلتھ کارڈ سروسز کے آغاز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں وزیر صحت سید بازل علی نقوی، وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب، وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید، پرنسپل سیکرٹری ظفر محمود خان، سیکرٹری صحت عامہ اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

    اجلاس کے دوران وزیراعظم کو آزاد کشمیر میں ہیلتھ کارڈ کے اجرا اور اس حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 289 میں ن لیگ کے امیدوار بلامقابلہ منتخب

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے ہدایت کی کہ ہیلتھ کارڈ کی سہولیات کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے تاکہ عوام کو مفت، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں، ہیلتھ کارڈ ایک اہم عوامی فلاحی منصوبہ ہے، جس سے بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہیلتھ کارڈ کے اجرا میں حائل تمام انتظامی اور تکنیکی امور کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ منصوبے کا جلد آغاز ممکن بنایا جا سکے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت آزاد کشمیر عوام کو صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

    پتنگ بازی پرمکمل پابندی کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری