Baaghi TV

Category: مظفرآباد

  • موسمیاتی تبدیلی آزاد کشمیر کیلئے بڑا چیلنج بن گئی: ڈی جی ایس ڈی ایم اے

    موسمیاتی تبدیلی آزاد کشمیر کیلئے بڑا چیلنج بن گئی: ڈی جی ایس ڈی ایم اے

    موسمیاتی تبدیلی آزاد کشمیر کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے، جہاں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 258 مکانات متاثر ہوئے۔ بارشوں کے باعث 22 مال مویشی اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

    ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) سعید الرحمن قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آزاد کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ رہائشی مکانات بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے مختلف علاقوں میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    سعید قریشی کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پہاڑی علاقوں میں برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں، خصوصاً مون سون بارشوں کے نئے متوقع اسپیل کے دوران حساس علاقوں میں خطرات زیادہ ہوسکتے ہیں۔

    ڈی جی ایس ڈی ایم اے نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہاڑی علاقوں میں زمینی کٹاؤ کے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ندی نالوں میں طغیانی کی صورت میں قریبی آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔

    ان کے مطابق بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث بارشوں کے پیٹرن میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جس سے قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی آزاد کشمیر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ہنگامی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

    سعید الرحمن قریشی نے کہا کہ حساس علاقوں میں پیشگی حفاظتی اقدامات اور نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کی جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ممکنہ سیلابی صورتحال، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری مکمل رکھی جائے اور خطرے سے دوچار علاقوں میں ضروری اقدامات بروقت کیے جائیں۔

  • آزاد کشمیر میں پنجاب طرز کا ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    آزاد کشمیر میں پنجاب طرز کا ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    مظفرآباد: آزاد کشمیر کی نئی حکومت نے اپنے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت پنجاب کے ’’ستھرا پنجاب‘‘ پروگرام کی طرز پر ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام شروع کردیا ہے، جس کے تحت آزاد کشمیر بھر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا نظام مرحلہ وار نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے سیکرٹری مقامی حکومت و دیہی ترقی ارشاد احمد قریشی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام پر عملدرآمد سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نجی کمپنیوں سے صفائی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر اخبارات میں اشتہارات جاری کیے جائیں گے۔ حکومت اور سرکاری ادارے براہِ راست صفائی کی خدمات فراہم کرنے کے بجائے ریگولیٹر کا کردار ادا کریں گے۔

    سیکرٹری مقامی حکومت و دیہی ترقی ارشاد احمد قریشی نے بتایا کہ ہر ضلع کی سطح پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا نظام نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا۔ نجی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے طے پانے کے بعد صفائی کے لیے درکار مشینری، گاڑیاں اور افرادی قوت بھی متعلقہ نجی شعبہ فراہم کرے گا۔

    حکومت نے آزاد کشمیر میں صفائی کے نظام کو یکساں اور مؤثر بنانے کے لیے مشینری اور سینٹری ورکرز کے لیے ایک ہی طرز کا یونیفارم مقرر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ کوڑا کرکٹ جمع کرنے، اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنے اور مناسب طریقے سے تلف کرنے کے لیے جامع نظام تشکیل دیا جائے گا۔

    ارشاد احمد قریشی کے مطابق ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام کو صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ دیہی علاقوں کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔ گاؤں کی سطح پر گھروں سے کوڑا کرکٹ جمع کرنے کے لیے منتخب بلدیاتی نمائندگان، یوتھ کونسلرز اور خواتین کونسلرز کے ساتھ مل کر مؤثر نظام وضع کیا جائے گا تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کی سہولیات یکساں طور پر فراہم کی جاسکیں۔

    انہوں نے بتایا کہ حکومت کے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام میں ’’ستھرا کشمیر‘‘ کے علاوہ گرین ایریاز کا قیام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے نئی آپریشنل گاڑیوں کی خریداری، ماڈل ویلیجز کا قیام اور شہروں کی خوبصورتی کے لیے مختلف اقدامات بھی شامل ہیں۔

    میئرز میونسپل کارپوریشنز مظفرآباد، کوٹلی، حویلی اور سدھنوتی نے ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام کو نئی حکومت کا قابلِ ستائش اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام میونسپل کارپوریشنز سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    چیئرمین ضلع کونسل باغ اور نیلم ویلی نے بھی دیہی علاقوں کو پروگرام میں شامل کرنے کے فیصلے کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اب صرف شہری علاقوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ دیہی علاقوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صفائی کی مہم میں وارڈ کونسلرز، یوتھ کونسلرز، خواتین کونسلرز سمیت تمام منتخب نمائندگان کو شریک کیا جائے گا تاکہ مقامی سطح پر صفائی کے نظام کو مؤثر بنایا جاسکے۔

    اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی طاہر اشرف، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ اشفاق احمد نور اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ شرکاء کو ویسٹ مینجمنٹ اور ماڈل ویلیجز کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر بابر منہاس نے آزاد کشمیر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی موجودہ صورتحال، ماحول پر اس کے منفی اثرات، پنجاب کے ’’ستھرا پنجاب‘‘ ماڈل اور جنوبی ایشیا میں نجی شعبے کے اشتراک سے رائج ویسٹ مینجمنٹ کے مختلف ماڈلز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

  • آزاد کشمیر کی نئی 8 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    آزاد کشمیر کی نئی 8 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    آزاد کشمیر حکومت کی نئی 8 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا، قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے وزرا سے حلف لیا۔

    تفصیلات کے مطابق حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی، چیف سیکرٹری اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

    نئی کابینہ میں مصطفیٰ بشیر، راجہ ثاقب مجید، سردار میرا کبر، کرنل (ر) وقار نور، اظہر صادق، راجہ ریاست، عمیر نعیم اور عبدالرحمٰن آرائیں شامل ہیں، جنہوں نے بطور صوبائی وزیر حلف اٹھایا۔

    تقریب کے دوران قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے تمام وزرا سے حلف لیا۔ نئی کابینہ کے ارکان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھاتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر حکومت کی کابینہ کی تشکیل کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ دوسرے مرحلے میں مزید وزرا اور مشیر کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کابینہ کا حجم مزید بڑھ جائے گا۔

  • وزیراعظم آزاد کشمیر  کا 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر فوری عملدرآمد کا اعلان

    وزیراعظم آزاد کشمیر کا 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر فوری عملدرآمد کا اعلان

    مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے حکومت کے پہلے اجلاس میں 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر فوری عملدرآمد کا اعلان کرتے ہوئے بیوروکریسی کو عوامی ریلیف کے لیے عملی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کردی۔

    وزیراعظم افتخار گیلانی کی زیر صدارت وزیراعظم سیکرٹریٹ میں سیکرٹریز حکومت کا اجلاس ہوا، جس میں چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل ظہیر الدین قریشی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سردار محمد ظفر، پرنسپل سیکرٹری سردار عدنان خورشید سمیت مختلف محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عام آدمی کو فوری ریلیف کی فراہمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرام شروع کرنے اور صحت و سفری سہولیات میں بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی کارکردگی صرف اعلانات اور کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اصلاحاتی اقدامات کے نتائج عملی طور پر زمینی سطح پر نظر آنے چاہئیں۔

    افتخار گیلانی نے کہا کہ عام آدمی کی مشکلات کم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں بے روزگاری ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرام شروع کرنے کے ساتھ ساتھ طلب اور مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنرمند پروگرام بھی متعارف کرایا جائے گا، تاکہ نوجوانوں کو قابلِ روزگار ہنر فراہم کرکے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

    وزیراعظم نے بنیادی عوامی سہولیات کی بہتری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت، سفری سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت اور انتظامیہ باہمی تعاون اور ٹیم ورک کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈا حکومت کی ترجیحات کا واضح روڈ میپ ہے، جس کا مقصد آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کو فروغ دینا، عوامی سہولیات بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • کشمیری  رہنما سید علی گیلانی کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہے

    کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہے

    مظفرآباد سمیت آزاد و مقبوضہ جموں و کشمیر اور ملک بھر میں تحریک آزادی کشمیر کے معروف حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی آج انتہائی عقیدت و احترام اور تجدیدِ عہد کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر کشمیری عوام نے ان کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کے لیے دی جانے والی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کی تقریباً سات دہائیاں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد میں گزاریں۔ ان کی سیاسی زندگی کا بنیادی محور کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول تھا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اپنے مؤقف پر قائم رہے اور پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے رہے۔

    سید علی گیلانی کے لیے تحریک آزادی محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ان کے ایمان، اصول اور شناخت کا حصہ تھی۔ انہوں نے کم عمری میں سیاست میں قدم رکھا اور بعد ازاں مقبوضہ جموں و کشمیر کے اہم سیاسی پلیٹ فارمز پر فعال کردار ادا کیا۔ وہ 1972، 1977 اور 1987 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

    تاہم بعد ازاں انہوں نے بھارتی پالیسیوں اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے خلاف اپنے سیاسی مؤقف کو مزید واضح انداز میں پیش کیا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کردیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے گرفتاریوں، پابندیوں اور نظربندی کے باوجود وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

    سید علی گیلانی نے زندگی کے آخری 11 سال سری نگر کے علاقے حیدرپورہ میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بندی کی حالت میں گزارے۔ مسلسل قید و تنہائی، صحت کے مسائل اور مختلف پابندیاں بھی ان کے سیاسی مؤقف اور حقِ خودارادیت کے مطالبے کو تبدیل نہ کرسکیں۔

    وہ یکم ستمبر 2021 کو حیدرپورہ میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بندی کے دوران انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی تدفین پاکستانی پرچم میں کی گئی۔

    سید علی گیلانی کا مشہور نعرہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘ کشمیری سیاست میں ان کی شناخت بن گیا۔ ان کے حامیوں کے مطابق اس نعرے نے کشمیری عوام میں پاکستان سے وابستگی اور تحریک آزادی کے لیے جدوجہد کے جذبے کو تقویت دی۔

    سید علی گیلانی کی پانچویں برسی کے موقع پر آزاد کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں تقریبات اور اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مقررین نے ان کی سیاسی جدوجہد، استقامت اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے سید علی گیلانی کی برسی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ کشمیری عوام کے دلوں کی آواز تھے اور ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی جدوجہد تحریک آزادی کشمیر کے لیے ایک لازوال مشعلِ راہ ہے۔ ان کے مطابق ’’ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘ کے نعرے نے کشمیریوں کے حوصلوں کو نئی قوت دی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض فوج اور حکومت کی جانب سے مختلف پابندیوں اور طاقت کے استعمال کے باوجود سید علی گیلانی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے اور ان کی ثابت قدمی تحریک آزادی کشمیر کے لیے ایک مثال بن گئی۔

    سید علی گیلانی کی برسی کے موقع پر کشمیریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے نظریات اور جدوجہد کو یاد رکھتے ہوئے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

  • حکومت آزاد کشمیر میں بھرپور ترقیاتی عمل شروع کرے گی، نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر

    حکومت آزاد کشمیر میں بھرپور ترقیاتی عمل شروع کرے گی، نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر

    مظفر آباد: نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں معمولاتِ زندگی کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹرافتخارگیلانی نے مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صحافیوں سے ملاقات کی اور مختلف اہم امور پر گفتگو کی، کہا کہ تعلیمی اداروں میں انٹرنیٹ سروس جلد بحال کی جائے گی جبکہ عام انٹرنیٹ سروس بھی جلد از جلد بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا ر ہے ہیں، راستوں کی بندش اور دیگر رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بھی حکومت مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔

    اس موقع پرانہوں نے کہا کہ مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت کل سے بحال ہو جائے گی، جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی،حکومت آزاد کشمیر میں بھرپور ترقیاتی عمل شروع کرے گی اورعوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے،مسلم لیگ ن کا ہمیشہ سے منشورترقی اورعوامی فلاح رہا ہے اور موجودہ حکومت بھی اسی وژن کے تحت عوام کی خدمت کرے گی۔

    انہوں نے حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے میں میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا کے مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے صحافی حکومت کی درست نشاندہی کریں تاکہ مسائل کے حل میں مدد مل سکے، صحافی حکومت کی اصلاح اور رہنمائی کریں، حکومت اچھا دورانیہ مکمل کرے گی، میڈ یا مسائل کی نشاندہی کرے، حکومت ان کے حل کے لئے عملی اقدامات کرے گی، عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ریاست کی تر قی کے لیے حکومت بھرپور اقدامات کرے گی،حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے اور آزاد کشمیر میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور کے آغاز کے لیے پرعزم ہے۔

  • چودھری محمد یاسین آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    چودھری محمد یاسین آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری محمد یاسین کو باضابطہ طور پر اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا گیا۔

    اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے چوہدری محمد یاسین کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ وہ قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت کے مقابل پارلیمانی کردار ادا کریں گے۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ چوہدری محمد یاسین کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کے بعد آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کا پارلیمانی سیٹ اپ مکمل ہوگیا ہے۔

  • "آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا”، نامزد وزیراعظم افتخار گیلانی کا پہلا ویڈیو پیغام

    "آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا”، نامزد وزیراعظم افتخار گیلانی کا پہلا ویڈیو پیغام

    آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے نامزد وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کا پہلا ویڈیو پیغام سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان شاء اللہ آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    بیرسٹر افتخار گیلانی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن جب بھی پاکستان یا آزاد کشمیر میں اقتدار میں آئی، اس نے تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع کیا اور عوام کے حقوق کا تحفظ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کا ترقیاتی وژن وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے ویژن سے ہم آہنگ ہوگا۔ شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور مریم نواز کی پنجاب حکومت کی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

    نامزد وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی تعمیر و ترقی کا وہی ماڈل اپنایا جائے گا جو وفاق اور پنجاب میں جاری ہے، جبکہ عوامی حقوق کا تحفظ اور علاقے کی تعمیر و ترقی نئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہوں گی۔

  • آزاد کشمیر حکومت سازی، بیرسٹر افتخار گیلانی کانام وزیراعظم کیلئے فائنل

    آزاد کشمیر حکومت سازی، بیرسٹر افتخار گیلانی کانام وزیراعظم کیلئے فائنل

    آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس میں اہم مشاورت مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے فائنل کرلیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام اور آئندہ کے سیاسی و پارلیمانی معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور حکومت سازی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس میں سینیٹر رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے شرکت کی۔ نو منتخب اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری طارق فاروق اور ڈپٹی اسپیکر احمد رضا قادری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

    اجلاس کے دوران آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت کے قیام، آئندہ کی پارلیمانی حکمت عملی اور حکومت سازی کے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر نئی کابینہ کی تشکیل اور حکومت کی آئندہ ترجیحات پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔

    شرکا نے آزاد کشمیر میں گڈ گورننس کو یقینی بنانے، حکومتی امور کو مزید بہتر کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    اجلاس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نئے وزیراعظم کا انتخاب 28 اگست کو ہوگا۔

  • آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا انتخاب 27 اگست کو ہوگا

    آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کا انتخاب 27 اگست کو ہوگا

    مظفرآباد: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سیکرٹریٹ نے 17ویں وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری کردیا ہے، جس کے مطابق نئے قائد ایوان کا انتخاب 27 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں ہوگا۔

    شیڈول کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی صبح 9 بج کر 30 منٹ سے 10 بج کر 30 منٹ تک جمع کرائے جاسکیں گے، جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 10 بج کر 30 منٹ سے 10 بج کر 45 منٹ تک ہوگی۔

    جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست صبح 11 بجے آویزاں کی جائے گی۔ امیدوار صبح 11 بجے سے ساڑھے 11 بجے تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے، جس کے بعد حتمی امیدواروں کی فہرست دوپہر 12 بجے جاری کی جائے گی۔

    حتمی فہرست جاری ہونے کے فوراً بعد دوپہر 12 بجے وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کا عمل شروع ہوگا۔ قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق تمام کارروائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں مکمل کی جائے گی۔

    دوسری جانب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب بھی مکمل ہوگیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق 32 ووٹ لے کر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے، جبکہ احمد رضا قادری بھی 32 ووٹ حاصل کرکے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔

    اسپیکر کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے قاسم مجید نے 13 ووٹ حاصل کیے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے چوہدری طارق فاروق کو اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔

    چوہدری طارق فاروق حالیہ عام انتخابات میں بھمبر سے کامیاب ہوئے اور انہوں نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کو شکست دی تھی۔

    آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 45 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں جبکہ 8 نشستیں مخصوص ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 31 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے جبکہ پیپلز پارٹی 14 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    نئے وزیراعظم کے انتخاب کے ساتھ آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کا اہم مرحلہ مکمل ہوجائے گا اور اسمبلی میں قائد ایوان کی حیثیت سے نئے وزیراعظم صوبے کے انتظامی امور کی قیادت سنبھالیں گے۔