Baaghi TV

Category: مظفرگڑھ

  • طالبہ سے زیادتی،پرنسپل سمیت4  افراد کیخلاف مقدمہ درج

    طالبہ سے زیادتی،پرنسپل سمیت4 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نجی تعلیمی ادارے میں طالبہ سے زیادتی کا مقدمہ تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ طالبہ کا بتانا ہے کہ اسکول پرنسپل نے 3 ماہ قبل اسے زیادتی کا نشانہ بنایا،متاثرہ طالبہ کے دیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مختلف اوقات میں اسکول مالک راشد زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ 3 ماہ کی حاملہ ہے،طالبہ کے بیان کے بعد تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ مقدے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپےمارے جا رہے ہیں۔

  • جتوئی: سکول رکشوں کی ریس کے دوران خوفناک تصادم، 9 سالہ طالبہ جاں بحق، 13 طلبہ زخمی

    جتوئی: سکول رکشوں کی ریس کے دوران خوفناک تصادم، 9 سالہ طالبہ جاں بحق، 13 طلبہ زخمی

    جتوئی (باغی ٹی وی)مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں صبح کے وقت افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں طلبا و طالبات کو اسکول لے جانے والے دو رکشے مبینہ طور پر ریس لگاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے۔ تصادم کے نتیجے میں 9 سالہ طالبہ انشراح راشد موقع پر جاں بحق ہوگئیں جبکہ 13 طلبا و طالبات زخمی ہوئے۔

    پولیس کے مطابق دونوں رکشے تیز رفتاری کے باعث ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریس لگانے میں ملوث دونوں رکشہ ڈرائیورز کو رکشوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    زخمی بچوں کو ٹی ایچ کیو اسپتال جتوئی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس حادثے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

    والدین اور شہریوں نے اسکول وین رکشوں کی بے احتیاط ڈرائیونگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • علی پور: نجی سکول کے مالک و نام نہاد صدر پریس کلب، اساتذہ، طالبات کیساتھ جنسی زیادتی، دوستوں سےبھی زیادتی کرواتارہا،ویڈیوز وائرل

    علی پور: نجی سکول کے مالک و نام نہاد صدر پریس کلب، اساتذہ، طالبات کیساتھ جنسی زیادتی، دوستوں سےبھی زیادتی کرواتارہا،ویڈیوز وائرل

    علی پور (باغی ٹی وی)مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ایک ہولناک مبینہ جنسی سکینڈل نے صحافتی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ ‘پاک صاف پاکستان’ نامی فیس بک آئی ڈی سے وائرل کی گئی متعدد نازیبا ویڈیوز میں نجی تعلیمی ادارے آئیڈیل پبلک سکول کے مالک اور تحصیل پریس کلب علی پور کے سابق صدر سید ہدایت علی رضوی کو مختلف خواتین، خصوصاً سکول کی ٹیچرز اور طالبات کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

    ویڈیوز سامنے آنے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، جبکہ تعلیمی اور صحافتی حلقوں نے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ تحصیل پریس کلب علی پور کے جنرل سیکرٹری محمد عمران سعیدی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ہدایت علی رضوی کو عہدۂ صدارت سے برطرف کرنے اور ان کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    دوسری جانب متاثرہ خاتون ٹیچر (ش) کے بھائی ناصر عباس کی مدعیت میں تھانہ سٹی علی پور میں ملزم کے خلاف دفعات 376 اور 292 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے مذکورہ خاتون کو متعدد بار مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا اور انکار پر مزید دھمکیاں دیں۔ الزامات کے مطابق بعض مواقع پر اس کے چند ساتھی بھی موجود ہوتے تھے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیوز میں کم از کم چار خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ملزم نہ صرف زیادتی کرتا رہا بلکہ ٹیچرز اور طالبات کی نازیبا ویڈیوز بھی بنا کر بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا رہا۔مزید متاثرہ خواتین تک پہنچنے کے لیے ویڈیوز کی فرانزک جانچ جاری ہے۔ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں، تاہم وہ تاحال مفرور ہے۔

    معروف تعلیمی شخصیات، جن میں راشد منہاس سکول کے سربراہ عبدالغفور ملک بھی شامل ہیں، نے ہدایت رضوی سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور معاملے کی شفاف، سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل فرانزک شواہد کی روشنی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین سکینڈل میں ملوث تمام عناصر کو بے نقاب کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

  • علی پور:زمینیں ہماری، قبضہ دوسروں کا ، زمیندار انصاف کی دہائی دیتے رہ گئے،30 سال سے اشتعمال نہ ہوسکی

    علی پور:زمینیں ہماری، قبضہ دوسروں کا ، زمیندار انصاف کی دہائی دیتے رہ گئے،30 سال سے اشتعمال نہ ہوسکی

    علی پور (باغی ٹی وی، نامہ نگارمحبوب بلوچ)تحصیل علی پور کے مواضعات خیرپور سادات، مراد پور اور لنگر واہ کی زمینوں کا اشتمال 1992 سے تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث درجنوں غریب و کمزور زمیندار اپنی جائز اراضی سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ مواضعات 1992 میں شامل ہونے کے بعد سے اب تک پٹہ/حد بندی اور قانونی تکمیل کے عمل سے گزر رہے ہیں ، مگر تقریباً 30 سال گزر جانے کے باوجود کام مکمل نہیں ہو سکا، اور اس تاخیر نے مقامی زمینداروں کی زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑ دیا ہے۔

    مقامی زمینداروں اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ناجائز قابضین آج بھی ان کی قیمتی اراضی پر دندناتے پھر رہے ہیں، جس سے مستقل نقصان اور جائیدادوں کے ناقابل تلافی نقصانات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    کئی خاندان اپنی جائز زمینوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور غریب و کمزور لوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    طویل انتظار اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث اصل وارث محنت مزدوری کر کے گذارہ کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض بزرگ اس جدوجہد کی تکالیف کے باعث عرصہ دراز سے صدمے کا شکار ہیں۔

    مقامی زمینداروں نے متعلقہ انتظامی و ریونیو حکام، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری طور پر نوٹس لینے، مواضعات کی حد بندی اور پٹہ/رجسٹری کا عمل مکمل کر کے ناجائز قبضہ ختم کروانے کی شدید اپیل کی ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ:
    1.فوری سروے اور حد بندی کرائی جائے۔
    2.ناجائز قابضین کے خلاف قانونی کارروائی اور حق ملکیت کی بنیاد پر قبضہ ختم کروایا جائے۔
    3.متاثرین کو ریلیف اور عارضی انتظامی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ روزگار اور رہائش کا انتظام کر سکیں۔

    دوسری طرف مواضعات کا بڑا حصہ ابھی نامکمل ہے اور غیر یقینی صورتحال کے باعث زرعی پیداوار، رہائشی ترقی اور مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ زمینداروں کا کہنا ہے کہ اگر تادیر یہی صورتِ حال رہی تو ان کی زمینیں، جن پر برسوں کی محنت سے پہنچ منظور ہوئی، ناقابل واپسی نقصان کا شکار ہو سکتی ہیں۔

    اب تک مقامی سطح پر کوئی ایسی مستقل کارروائی منظر عام پر نہیں آئی جو اس طویل المدت تنازع کا حل یقینی بنا سکے۔ مقامی رہنماؤں اور متاثرہ افراد نے اپیل کی ہے کہ ضلعی حکومت فوری مداخلت کرے، سروے رپورٹس کی روشنی میں شفاف اقدامات کرے اور ناجائز قابضین کے خلاف فوری نوٹس اور عدالتوں سے تعاون حاصل کیا جائے۔

    خیرپور سادات، مراد پور اور لنگر واہ کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ”ہم اپنی زمینوں کے دفاع اور حقِ ملکیت کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

  • خیرپور سادات: سینئر صحافی حاجی عبید خان بڈانی کی اہلیہ انتقال کر گئیں، نمازِ جنازہ میں ہر طبقۂ فکر کی شرکت

    خیرپور سادات: سینئر صحافی حاجی عبید خان بڈانی کی اہلیہ انتقال کر گئیں، نمازِ جنازہ میں ہر طبقۂ فکر کی شرکت

    علی پور (باغی ٹی وی، نامہ نگار محبوب بلوچ)خیرپور سادات کی صحافتی برادری آج گہرے غم میں ڈوب گئی، جب معروف و سینئر صحافی حاجی عبید خان بڈانی کی اہلیہ انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر علاقے میں افسوس اور سوگ کی لہر بن کر پھیل گئی۔

    مرحومہ کی نمازِ جنازہ آج شام ساڑھے تین بجے بستی بڈانی محمدوالی باڑہ بنگلہ روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والی سماجی، سیاسی، مذہبی اور صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    علاقے بھر سے لوگوں نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحومہ کی مغفرت، بلندی درجات اور لواحقین کے صبر و استقامت کے لیے دعائیں کیں۔

    نماز جنازہ کے بعد مرحومہ کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

    اس موقع پر علاقے کے صحافیوں، عمائدین، علمائے کرام اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

    مقامی صحافیوں نے حاجی عبید خان بڈانی سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    شرکائے جنازہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔

  • علی پور: خیرپور سادات روڈ کو ڈبل کیا جائے، عوام کا مطالبہ

    علی پور: خیرپور سادات روڈ کو ڈبل کیا جائے، عوام کا مطالبہ

    علی پور(باغی ٹی وی، نامہ نگار )علی پور تا خیرپور سادات روڈ کو فوری طور پر ڈبل کیا جائے، شہریوں اور سماجی حلقوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ تقریباً 12 کلومیٹر طویل یہ سڑک عرصہ دراز سے تنگ اور خستہ حالی کا شکار ہے، جسے مقامی افراد "سیکنڈ قاتل روڈ” کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔ حادثات معمول بن چکے ہیں اور آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

    اس مصروف شاہراہ پر دن رات بھاری اور ہلکی ٹریفک رواں دواں رہتی ہے، جس کے اطراف میں متعدد علاقے اور بستیاں واقع ہیں جن میں گبر اراہیں، سلطان پور، ارالہ، نبی پور، کندائی، شاہی والہ، خانگڑھ ڈومہ سمیت دیگر قصبات شامل ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی تنگی کے باعث سفر نہ صرف خطرناک بلکہ وقت طلب بھی بن چکا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ علی پور تا خیرپور سادات روڈ کو دو رویہ (ڈبل) کیا جائے تاکہ حادثات میں کمی آئے، سفری سہولت بہتر ہو اور علاقائی ترقی کے دروازے کھل سکیں۔

  • ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔
    علی پور سے محبوب بلوچ کی ڈائری
    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور جو کہ ضلعی مقام سے لگ بھگ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، پنجاب کے پانچ دریاؤں کے حسین ملن کی غمازی کرتا یہ خطہ ایک سو چھبیس مواضعات پر مشتمل ہے، جس کا مجموعی طور پر کل رقبہ تین لاکھ چوالیس ہزار چار سو تیرہ ایکڑ ہے، جبکہ سال 2025 میں آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے۔ 17ویں صدی میں علی نواب لودھی، جس کو یہ خطہ مغلیہ سلطنت کی طرف سے جاگیر کی صورت میں ملا تھا، اس نے چار دروازوں پر مشتمل یہ قلعہ بند شہر تعمیر کرایا تھا اور اسی کے نام کی نسبت سے یہ شہر علی پور کے نام سے منسوب ہے۔ علی پور قدیم دور میں ریاست سیت پور کا حصہ رہا، جو کہ علی پور شہر سے دریائے چناب کے جنوب مغربی حصے پر قریباً بیس کلومیٹر کی مسافت پر آباد ہے، جس کا شمار انسانی تاریخ کی قدیم ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔

    قلعہ لاہور کے میوزیم میں نصب شدہ مغلیہ سلطنت کی حاکمیت میں موجود شہروں کے ناموں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوبی پنجاب کے تین شہر نمایاں نظر آتے ہیں: ملتان، اوچ شریف اور سیت پور۔ محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا تو ملتان سے قبل اس کی فوجوں نے سیت پور میں پڑاؤ ڈالا اور اس کو فتح کیا، جس کا تذکرہ قاسم فرشتہ کی معروف تاریخی کتاب ’’تاریخِ فرشتہ‘‘ میں بھی ملتا ہے۔ تاہم دریائے سندھ اور چناب میں آنے والی سیلابی لہروں نے جب سیت پور کو بار بار شدید نقصان پہنچایا تو علی پور کی جانب مقامی آبادی منتقل ہونے لگی، جس کے بعد 1837ء میں علی پور کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا پہلا چیئرمین ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں 1862ء میں تحصیل صدر مقام سیت پور سے علی پور منتقل کر کے علی پور کو تحصیل ہیڈکوارٹر بنا دیا گیا۔

    علی پور شہر کے مشرق میں نو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا آخری ہیڈ ورکس پنجند بیراج واقع ہے، جو کہ معروف تفریحی مقام اور جنوبی پنجاب کی زرعی معیشت میں اہم کردار کا حامل ہے، جبکہ علی پور شہر کے مغرب میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا عظیم دریا سندھ واقع ہے۔ تین اطراف سے دریاؤں میں گھری ہوئی یہ تحصیل انتہائی زرخیز زرعی رقبے پر مشتمل ہے، تاہم حکومتی عدم توجہی کے باعث اس خطے سے ملکی معیشت کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے تھا وہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت علی پور شہرجو کہ میونسپل کمیٹی کے چوبیس وارڈز پر مشتمل ہے کی آبادی کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر کے قرب و جوار میں قائم ہونے والے جدید رہائشی منصوبوں نے اس شہر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ کئی اقامتی نجی تعلیمی اداروں میں ملک بھر سے بچے اس شہر کا رخ کر کے اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔

    یہ زرخیز خطہ اپنے سفید انار کی پیداوار کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ میٹھے رس دار سفید انار شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں کاشت ہوتے ہوں، تاہم عدم توجہی کی وجہ سے سفید انار کے باغات کو کچھ عرصہ قبل لگنے والی بیماریوں نے مالکان کو مجبور کر دیا کہ وہ ان باغات کو ختم کر دیں۔ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل باغات اجڑ گئے، مگر اس شاندار نعمت کو بچانے کے لیے ابھی تک کسی سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔ تحصیل علی پور میں پیدا ہونے والی کپاس کی فصل بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک وقت تھا جب نیویارک کی کاٹن مارکیٹ میں علی پور کی کاٹن اپنے معیاری ہونے کے حوالے سے اپنا الگ مقام رکھتی تھی اور پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ تاہم تحصیل علی پور میں زراعت بیسڈ صنعتوں کے قیام، جن میں ٹیکسٹائل ملز، مختلف جوسز کی فیکٹریاں اور پھلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا کاشتکار دیگر فصلوں کی جانب راغب ہونے پر مجبور کر دیا گیا، جس میں گنے کی کاشت بھی شامل ہے۔

    اگر ہم 2025ء کے علی پور شہر کی بات کریں تو یہ وہ بدقسمت خطہ ہے جو ترقی کی شاہراہ پر اپنے کئی ہم عصر شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے، آئے روز شہریوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نت نئے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کے نتائج تحصیل علی پور کے حوالے سے ابھی تک ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کے مترادف ہیں۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے سالانہ بجٹ 2024/25 میں علی پور۔ مظفرگڑھ۔ ہیڈ پنجند۔ ترنڈہ محمد پناہ سابقہ شاہراہ مغربی پاکستان روڈ کے لیے اسمبلی فلور پر صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے نوید سنائی تھی کہ چونتیس ارب روپے سے یہ سڑک بحالی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، مگر مالی سال تمام کا تمام گزر چکا، اس روڈ پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ اس روڈ پر قومی اسمبلی کے کم و بیش چھ اور صوبائی اسمبلی کے بارہ سے تیرہ حلقے آتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی میں سے کسی ایک نے بھی اسمبلی یا دیگر کسی فورم پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس سڑک کو ’’قاتل روڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس سڑک سے مقامی لوگ اپنے کسی پیارے کی لاش یا زخمی حالت میں نہ اٹھاتے ہوں۔ یہ سڑک تین صوبوں کی ٹریفک کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ تحصیل علی پور کے لیے یہ سڑک دوسرے علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

    اس تحصیل میں ریلوے یا فضائی سروس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ خطے کو یہ اعزاز بھی اس جدید دور میں حاصل ہے کہ صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ دریائی پتن اسی تحصیل میں واقع ہیں۔ یہاں پر دریائے سندھ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے دریائی پتنوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور کے ساٹھ سے زیادہ مواضعات دریائے سندھ کے پار ضلع راجن پور کی سرحد کے ساتھ ساتھ کبیر گوپانگ سے بیٹ عیسیٰ تک کم و بیش سو کلومیٹر شمال سے جنوب تک جاتی پٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ دریائے سندھ پر موجود پتنوں، جن میں موچی والہ، گبر ارائیں، کندائی، سرکی اور دریائے چناب پر شہر سلطان، کندرالہ، مڈوالہ، بیٹ نوروالہ شامل ہیں، سے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دریائے سندھ پر پختہ پل تعمیر کیا جائے، جس کے لیے گبر ارائیں یا کندائی تحصیل علی پور کے مقامات اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف تحصیل علی پور کی معیشت میں انقلاب برپا ہوگا بلکہ بہاول، ملتان سے ضلع راجن پور اور بلوچستان جانے والے مسافروں کو بھی وقت کی بچت اور سفری اخراجات میں کمی کا فائدہ پہنچے گا۔ امید ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس جانب ضرور اپنی توجہ مبذول کریں گی۔

    تحصیل علی پور کے عوامی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلعی صدر مقام سے ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ بھی ہے۔ علی پور تحصیل کا جنوب میں واقع آخری موضع بیٹ عیسیٰ ہے۔ آپ حیران ہوں گے وہ ضلعی صدر مقام سے پونے دو سو کلومیٹر دور بنتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس علاقے کے رہائشیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور سے 1993ء میں جتوئی کو الگ کر کے تحصیل بنا دیا گیا۔ گزشتہ سال مظفرگڑھ شہر سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود کوٹ ادو کو بھی ضلع بنا دیا گیا ہے لیکن پونے دو سو سال قدیم تحصیل جو کہ اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے مکمل طور پر ایک الگ ضلع بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ علی پور کو ضلع ، اس کے ساتھ جتوئی کو منسلک کر کے بنایا جانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہی اس خطے کے ہر ایک باسی کی تمنا ہے۔ یہ ضلع قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی کی چار سے زائد نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ ضلعی دفاتر کے لیے بھی علی پور شہر میں سرکاری عمارات موجود ہیں۔ ماہِ جون میں نیو جوڈیشل کمپلیکس علی پور میں عدالتیں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ پرانا جوڈیشل کمپلیکس بھی صرف پندرہ سال پرانا ہے، جو کہ ضلعی دفاتر کی ضروریات کے لیے آئندہ سو سال کے لیے بھی کافی ہے۔

  • علی پور: ناجائز تجاوزات کے باعث شہر کی سڑکیں سکڑ گئیں، شہری پریشان

    علی پور: ناجائز تجاوزات کے باعث شہر کی سڑکیں سکڑ گئیں، شہری پریشان

    علی پور (باغی ٹی وی،نامہ نگار محبوب بلوچ)علی پور، خیرپور سادات اور سیّت پور شہر و گردونواح میں ناجائز تجاوزات نے شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ مرکزی شاہراہوں، بازاروں اور رہائشی گلیوں میں ٹھیلوں، دکانوں کے آگے پختہ تعمیرات، رکشہ اسٹینڈز اور غیر قانونی پارکنگ کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی سے قبضہ مافیا کو مزید حوصلہ مل رہا ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں سکڑ گئیں اور پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔

    سیاسی و سماجی شخصیات، تاجروں اور عام شہریوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور اسسٹنٹ کمشنر علی پور سے مطالبہ کیا ہے کہ علی پور شہر کے ساتھ ساتھ خیرپورسادات اور سیت پور میں مستقل بنیادوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے، دکان داروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے اور مین شاہراؤں کو کشادہ و قابلِ گزر بنایا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال ہو سکے اور عوام کو روزمرہ مشکلات سے نجات ملے۔

    عوامی حلقوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ انتظامیہ تجاوزات کے خلاف مستقل مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے، جرمانوں کے ساتھ ساتھ ضبطی کی کارروائی بھی کی جائے تاکہ علی پور، خیرپور سادات اور سیّت پور کو ایک صاف ستھرا اور منظم شہر بنایا جا سکے۔

  • سیلابی ریلے، ہزاروں افراد متاثر،شجاع آباد میں بند ٹوٹ گیا

    سیلابی ریلے، ہزاروں افراد متاثر،شجاع آباد میں بند ٹوٹ گیا

    جنوبی پنجاب میں دریاؤں کے بند ٹوٹنے اور سیلابی ریلوں کے باعث متعدد علاقے زیر آب آگئے، ہزاروں افراد بے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔

    شجاع آباد ملتان میں دریائے چناب موضع دھوندو ملے والا کے قریب سپر بند میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس سے موضع گردیز پور، بنگالہ، بگڑیں اور رکن ہٹی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ مقامی آبادی کی نقل مکانی جاری ہے۔ آر پی او اور سی پی او ملتان سمیت ریسکیو اور ایری گیشن حکام موقع پر پہنچ گئے، شگاف پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جلالپور پیر والا میں دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پل سے گزر رہا ہے، جبکہ علاقے میں بستیاں اور قصبے ڈوب گئے۔ شہر کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالا گیا۔

    بہاولنگر میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے چک سنتیکا کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی آبادی میں داخل ہوگیا، لوگ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ وہاڑی و میلسی میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، 93 دیہات متاثر، 61 ہزار ایکڑ پر کپاس، چاول، مکئی اور گنے کی فصلیں زیر آب آگئیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق 80 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

    خانیوال کبیروالا میں مائی صفوراں بند میں شگاف سے 46 دیہات زیر آب آگئے، ہزاروں ایکڑ پر کاشت فصلیں اور فش فارمز تباہ، سیکڑوں مکانات اور سرکاری عمارتیں بھی ڈوب گئیں۔ پاکپتن میں دریائے ستلج میں بہاؤ کی رفتار کم ہوگئی، تاہم ریلیف کیمپس قائم ہیں اور متاثرین کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    امریکا بھی قطر حملے میں شریک، اسرائیل نے مذاکرات سبوتاژ کیے،حماس

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    25 لاکھ افراد کا انخلاء، سیلاب سے جانی نقصان ہوا، این ڈی ایم اے

    بلوچستان کی خوشحالی کے لیے حکومت، اداروں اور قبائلی عمائدین کے باہمی تعاون پر اتفاق

  • گندم کے گودام میں سیلابی پانی، کروڑوں کی گندم خراب

    گندم کے گودام میں سیلابی پانی، کروڑوں کی گندم خراب

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں سیلابی پانی پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ ( پاسکو) کےگودام میں داخل ہوگیا جس کے باعث کروڑوں روپےکی گندم خراب ہوگئی۔

    پاسکو ذرائع کے مطابق علی پور کے قریب عظمت پور زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس کے باعث سیلابی پانی پاسکو کےگودام میں داخل ہوگیا، پانی داخل ہونے سے وہاں موجود کروڑوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی۔

    بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں اور ہزاروں ایکڑ فصلیں بھی زیر آب آگئی ہیں اور دیگر علاقوں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہیڈ پنجند کے قریب پاسکو کے دوسرے سینٹرکو پانی سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہےکہ 2 روز میں 20 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔