Baaghi TV

Category: مظفرگڑھ

  • ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔
    علی پور سے محبوب بلوچ کی ڈائری
    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور جو کہ ضلعی مقام سے لگ بھگ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، پنجاب کے پانچ دریاؤں کے حسین ملن کی غمازی کرتا یہ خطہ ایک سو چھبیس مواضعات پر مشتمل ہے، جس کا مجموعی طور پر کل رقبہ تین لاکھ چوالیس ہزار چار سو تیرہ ایکڑ ہے، جبکہ سال 2025 میں آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے۔ 17ویں صدی میں علی نواب لودھی، جس کو یہ خطہ مغلیہ سلطنت کی طرف سے جاگیر کی صورت میں ملا تھا، اس نے چار دروازوں پر مشتمل یہ قلعہ بند شہر تعمیر کرایا تھا اور اسی کے نام کی نسبت سے یہ شہر علی پور کے نام سے منسوب ہے۔ علی پور قدیم دور میں ریاست سیت پور کا حصہ رہا، جو کہ علی پور شہر سے دریائے چناب کے جنوب مغربی حصے پر قریباً بیس کلومیٹر کی مسافت پر آباد ہے، جس کا شمار انسانی تاریخ کی قدیم ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔

    قلعہ لاہور کے میوزیم میں نصب شدہ مغلیہ سلطنت کی حاکمیت میں موجود شہروں کے ناموں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوبی پنجاب کے تین شہر نمایاں نظر آتے ہیں: ملتان، اوچ شریف اور سیت پور۔ محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا تو ملتان سے قبل اس کی فوجوں نے سیت پور میں پڑاؤ ڈالا اور اس کو فتح کیا، جس کا تذکرہ قاسم فرشتہ کی معروف تاریخی کتاب ’’تاریخِ فرشتہ‘‘ میں بھی ملتا ہے۔ تاہم دریائے سندھ اور چناب میں آنے والی سیلابی لہروں نے جب سیت پور کو بار بار شدید نقصان پہنچایا تو علی پور کی جانب مقامی آبادی منتقل ہونے لگی، جس کے بعد 1837ء میں علی پور کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا پہلا چیئرمین ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں 1862ء میں تحصیل صدر مقام سیت پور سے علی پور منتقل کر کے علی پور کو تحصیل ہیڈکوارٹر بنا دیا گیا۔

    علی پور شہر کے مشرق میں نو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا آخری ہیڈ ورکس پنجند بیراج واقع ہے، جو کہ معروف تفریحی مقام اور جنوبی پنجاب کی زرعی معیشت میں اہم کردار کا حامل ہے، جبکہ علی پور شہر کے مغرب میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا عظیم دریا سندھ واقع ہے۔ تین اطراف سے دریاؤں میں گھری ہوئی یہ تحصیل انتہائی زرخیز زرعی رقبے پر مشتمل ہے، تاہم حکومتی عدم توجہی کے باعث اس خطے سے ملکی معیشت کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے تھا وہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت علی پور شہرجو کہ میونسپل کمیٹی کے چوبیس وارڈز پر مشتمل ہے کی آبادی کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر کے قرب و جوار میں قائم ہونے والے جدید رہائشی منصوبوں نے اس شہر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ کئی اقامتی نجی تعلیمی اداروں میں ملک بھر سے بچے اس شہر کا رخ کر کے اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔

    یہ زرخیز خطہ اپنے سفید انار کی پیداوار کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ میٹھے رس دار سفید انار شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں کاشت ہوتے ہوں، تاہم عدم توجہی کی وجہ سے سفید انار کے باغات کو کچھ عرصہ قبل لگنے والی بیماریوں نے مالکان کو مجبور کر دیا کہ وہ ان باغات کو ختم کر دیں۔ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل باغات اجڑ گئے، مگر اس شاندار نعمت کو بچانے کے لیے ابھی تک کسی سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔ تحصیل علی پور میں پیدا ہونے والی کپاس کی فصل بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک وقت تھا جب نیویارک کی کاٹن مارکیٹ میں علی پور کی کاٹن اپنے معیاری ہونے کے حوالے سے اپنا الگ مقام رکھتی تھی اور پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ تاہم تحصیل علی پور میں زراعت بیسڈ صنعتوں کے قیام، جن میں ٹیکسٹائل ملز، مختلف جوسز کی فیکٹریاں اور پھلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا کاشتکار دیگر فصلوں کی جانب راغب ہونے پر مجبور کر دیا گیا، جس میں گنے کی کاشت بھی شامل ہے۔

    اگر ہم 2025ء کے علی پور شہر کی بات کریں تو یہ وہ بدقسمت خطہ ہے جو ترقی کی شاہراہ پر اپنے کئی ہم عصر شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے، آئے روز شہریوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نت نئے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کے نتائج تحصیل علی پور کے حوالے سے ابھی تک ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کے مترادف ہیں۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے سالانہ بجٹ 2024/25 میں علی پور۔ مظفرگڑھ۔ ہیڈ پنجند۔ ترنڈہ محمد پناہ سابقہ شاہراہ مغربی پاکستان روڈ کے لیے اسمبلی فلور پر صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے نوید سنائی تھی کہ چونتیس ارب روپے سے یہ سڑک بحالی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، مگر مالی سال تمام کا تمام گزر چکا، اس روڈ پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ اس روڈ پر قومی اسمبلی کے کم و بیش چھ اور صوبائی اسمبلی کے بارہ سے تیرہ حلقے آتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی میں سے کسی ایک نے بھی اسمبلی یا دیگر کسی فورم پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس سڑک کو ’’قاتل روڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس سڑک سے مقامی لوگ اپنے کسی پیارے کی لاش یا زخمی حالت میں نہ اٹھاتے ہوں۔ یہ سڑک تین صوبوں کی ٹریفک کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ تحصیل علی پور کے لیے یہ سڑک دوسرے علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

    اس تحصیل میں ریلوے یا فضائی سروس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ خطے کو یہ اعزاز بھی اس جدید دور میں حاصل ہے کہ صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ دریائی پتن اسی تحصیل میں واقع ہیں۔ یہاں پر دریائے سندھ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے دریائی پتنوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور کے ساٹھ سے زیادہ مواضعات دریائے سندھ کے پار ضلع راجن پور کی سرحد کے ساتھ ساتھ کبیر گوپانگ سے بیٹ عیسیٰ تک کم و بیش سو کلومیٹر شمال سے جنوب تک جاتی پٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ دریائے سندھ پر موجود پتنوں، جن میں موچی والہ، گبر ارائیں، کندائی، سرکی اور دریائے چناب پر شہر سلطان، کندرالہ، مڈوالہ، بیٹ نوروالہ شامل ہیں، سے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دریائے سندھ پر پختہ پل تعمیر کیا جائے، جس کے لیے گبر ارائیں یا کندائی تحصیل علی پور کے مقامات اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف تحصیل علی پور کی معیشت میں انقلاب برپا ہوگا بلکہ بہاول، ملتان سے ضلع راجن پور اور بلوچستان جانے والے مسافروں کو بھی وقت کی بچت اور سفری اخراجات میں کمی کا فائدہ پہنچے گا۔ امید ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس جانب ضرور اپنی توجہ مبذول کریں گی۔

    تحصیل علی پور کے عوامی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلعی صدر مقام سے ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ بھی ہے۔ علی پور تحصیل کا جنوب میں واقع آخری موضع بیٹ عیسیٰ ہے۔ آپ حیران ہوں گے وہ ضلعی صدر مقام سے پونے دو سو کلومیٹر دور بنتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس علاقے کے رہائشیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور سے 1993ء میں جتوئی کو الگ کر کے تحصیل بنا دیا گیا۔ گزشتہ سال مظفرگڑھ شہر سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود کوٹ ادو کو بھی ضلع بنا دیا گیا ہے لیکن پونے دو سو سال قدیم تحصیل جو کہ اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے مکمل طور پر ایک الگ ضلع بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ علی پور کو ضلع ، اس کے ساتھ جتوئی کو منسلک کر کے بنایا جانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہی اس خطے کے ہر ایک باسی کی تمنا ہے۔ یہ ضلع قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی کی چار سے زائد نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ ضلعی دفاتر کے لیے بھی علی پور شہر میں سرکاری عمارات موجود ہیں۔ ماہِ جون میں نیو جوڈیشل کمپلیکس علی پور میں عدالتیں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ پرانا جوڈیشل کمپلیکس بھی صرف پندرہ سال پرانا ہے، جو کہ ضلعی دفاتر کی ضروریات کے لیے آئندہ سو سال کے لیے بھی کافی ہے۔

  • علی پور: ناجائز تجاوزات کے باعث شہر کی سڑکیں سکڑ گئیں، شہری پریشان

    علی پور: ناجائز تجاوزات کے باعث شہر کی سڑکیں سکڑ گئیں، شہری پریشان

    علی پور (باغی ٹی وی،نامہ نگار محبوب بلوچ)علی پور، خیرپور سادات اور سیّت پور شہر و گردونواح میں ناجائز تجاوزات نے شہری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ مرکزی شاہراہوں، بازاروں اور رہائشی گلیوں میں ٹھیلوں، دکانوں کے آگے پختہ تعمیرات، رکشہ اسٹینڈز اور غیر قانونی پارکنگ کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی سے قبضہ مافیا کو مزید حوصلہ مل رہا ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں سکڑ گئیں اور پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔

    سیاسی و سماجی شخصیات، تاجروں اور عام شہریوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور اسسٹنٹ کمشنر علی پور سے مطالبہ کیا ہے کہ علی پور شہر کے ساتھ ساتھ خیرپورسادات اور سیت پور میں مستقل بنیادوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے، دکان داروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے اور مین شاہراؤں کو کشادہ و قابلِ گزر بنایا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال ہو سکے اور عوام کو روزمرہ مشکلات سے نجات ملے۔

    عوامی حلقوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ انتظامیہ تجاوزات کے خلاف مستقل مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے، جرمانوں کے ساتھ ساتھ ضبطی کی کارروائی بھی کی جائے تاکہ علی پور، خیرپور سادات اور سیّت پور کو ایک صاف ستھرا اور منظم شہر بنایا جا سکے۔

  • سیلابی ریلے، ہزاروں افراد متاثر،شجاع آباد میں بند ٹوٹ گیا

    سیلابی ریلے، ہزاروں افراد متاثر،شجاع آباد میں بند ٹوٹ گیا

    جنوبی پنجاب میں دریاؤں کے بند ٹوٹنے اور سیلابی ریلوں کے باعث متعدد علاقے زیر آب آگئے، ہزاروں افراد بے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔

    شجاع آباد ملتان میں دریائے چناب موضع دھوندو ملے والا کے قریب سپر بند میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس سے موضع گردیز پور، بنگالہ، بگڑیں اور رکن ہٹی متاثر ہونے کے خدشات ہیں۔ مقامی آبادی کی نقل مکانی جاری ہے۔ آر پی او اور سی پی او ملتان سمیت ریسکیو اور ایری گیشن حکام موقع پر پہنچ گئے، شگاف پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جلالپور پیر والا میں دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پل سے گزر رہا ہے، جبکہ علاقے میں بستیاں اور قصبے ڈوب گئے۔ شہر کو بچانے کے لیے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالا گیا۔

    بہاولنگر میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے چک سنتیکا کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی آبادی میں داخل ہوگیا، لوگ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ وہاڑی و میلسی میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، 93 دیہات متاثر، 61 ہزار ایکڑ پر کپاس، چاول، مکئی اور گنے کی فصلیں زیر آب آگئیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق 80 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

    خانیوال کبیروالا میں مائی صفوراں بند میں شگاف سے 46 دیہات زیر آب آگئے، ہزاروں ایکڑ پر کاشت فصلیں اور فش فارمز تباہ، سیکڑوں مکانات اور سرکاری عمارتیں بھی ڈوب گئیں۔ پاکپتن میں دریائے ستلج میں بہاؤ کی رفتار کم ہوگئی، تاہم ریلیف کیمپس قائم ہیں اور متاثرین کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    امریکا بھی قطر حملے میں شریک، اسرائیل نے مذاکرات سبوتاژ کیے،حماس

    اب بھی وقت ہے، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف،تحریر:نور فاطمہ

    25 لاکھ افراد کا انخلاء، سیلاب سے جانی نقصان ہوا، این ڈی ایم اے

    بلوچستان کی خوشحالی کے لیے حکومت، اداروں اور قبائلی عمائدین کے باہمی تعاون پر اتفاق

  • گندم کے گودام میں سیلابی پانی، کروڑوں کی گندم خراب

    گندم کے گودام میں سیلابی پانی، کروڑوں کی گندم خراب

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں سیلابی پانی پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن لمیٹڈ ( پاسکو) کےگودام میں داخل ہوگیا جس کے باعث کروڑوں روپےکی گندم خراب ہوگئی۔

    پاسکو ذرائع کے مطابق علی پور کے قریب عظمت پور زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس کے باعث سیلابی پانی پاسکو کےگودام میں داخل ہوگیا، پانی داخل ہونے سے وہاں موجود کروڑوں روپے مالیت کی گندم خراب ہوگئی۔

    بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں اور ہزاروں ایکڑ فصلیں بھی زیر آب آگئی ہیں اور دیگر علاقوں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہیڈ پنجند کے قریب پاسکو کے دوسرے سینٹرکو پانی سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہےکہ 2 روز میں 20 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  • بلاول زرداری سیلاب متاثرین کی آواز بن گئے

    بلاول زرداری سیلاب متاثرین کی آواز بن گئے

    چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    مظفر گڑھ کے علاقے ٹھٹھہ سیال میں سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کسانوں کے بجلی کے بل معاف کیے جائیں اور کسانوں کو بیچ اور کھاد کی فراہم یقینی بنائی جائے۔ پنجاب کا کسان حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکومتوں کو فوری ایکشن لینا ہوگا۔سیلاب سے پورا ملک متاثر ہے ،زرعی شعبے کو ریلیف دیا جائے ،گلگت بلتستان ،خیبرپختونخوا بھی سیلاب سے متاثر ہوا ، سیلاب سے پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ،خود دیکھ کر آیا ہوں عوام کن مشکلات سے گزر رہے ہیں ،سیلاب متاثرین کی بحالی کا مرحلہ بھی ہے ،زیادہ تر سیلاب متاثرین کو ریلیف پر توجہ دی جاتی ہے ،سیلاب متاثرین کا نقصان پورا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے ،یہ سیاسی بیان بازی کا موقع نہیں ہے، اس وقت یہ نہیں دیکھنا کہ متاثرہ شخص کا تعلق کہاں سے ہے، مشکل وقت میں عوام کا ساتھ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حکومت سے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، مستحق متاثرین تک صحیح امداد پہنچنے کا ذریعہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام ہے۔

    بلاول زرداری کی ہدایت پر ملتان میں سیلاب متاثرین کے لیے 1500 ٹینٹ قائم کیے گئے ہیں، جہاں ڈاکٹرز، نرسز بروقت موجود ہیں اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ڈینگی،سانپ کےکاٹنےاور دیگر بیماریوں سے متاثرین کومحفوظ رکھا جا سکے

  • دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مظفر گڑھ میں متعدد دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، امدادی کارروائیاں رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، وہیلاں والی، بنڈہ اسحاق اور عظمت پور میں کی گئیں۔پولیس کے مطابق ضلع بھر میں ریسکیو کی 32 اور پولیس کی 8 کشتیاں لوگوں کو ریسکیو کر رہی ہیں، آرمی، وائلڈ لائف کی کشتیاں اور پرائیویٹ کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، 32 دیہات کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی چھٹیوں میں 8 تا 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے اور سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔پی ڈی ایم اے ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجےکا سیلاب ہے جبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ترجمان پی ڈی ایم کے کا بتانا ہے کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ہے۔

  • مظفرگڑھ : ساڑھے 3 سال کی بچی سےزیادتی، ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ : ساڑھے 3 سال کی بچی سےزیادتی، ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ میں تھانہ رنگپور کی حدود میں ساڑھے 3 سالہ معصوم بچی کےساتھ،جنسی،زیادتی کا مبینہ واقعہ پیش آیا ہے، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    تھانہ رنگپور میں بچی کے والد کی مدعیت میں گزشتہ روز درج کرائی گئی ایف آئی آر میں مدعی نے موقف اپنایا ہے کہ وہ دکان میں مزدوری کرتا ہے، شام کو گھر واپس آیا تو بیوی نے بتایا کہ ان کی ساڑھے 3 سالہ بیٹی کمرے میں سوئی ہوئی تھی، بچی کی چیخ سن کر وہ کمرے میں گئی ملزم عون عباس اس کا ریپ کررہا تھا، خاتون کی چیخ و پکار پر ملزم فرار ہوگیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تھانہ رنگپور میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے، ڈی پی او سید غضنفر علی شاہ کی ہدایت پر ملزم کو عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

    روس:فیکٹری میں دھماکا، 11 افراد جاں بحق، 130 زخمی

    پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے رجحانات انتہائی تشویشناک ہیں۔غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی سالانہ رپورٹ 2024 کے مطابق سال 2024 میں ملک بھر میں 32,617 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 5,339 ریپ، 24,439 اغواء/حملہ، 2,238 گھریلو تشدد اور 547 عزت کے نام پر قتل شامل تھے روزانہ کی بنیاد پر 67 اغواء، 19 ریپ اور 6 گھریلو تشدد کے واقعات ہوئے تاہم، سزا یافتگی کی شرح نہایت کم ہے۔ ریپ اور غیرت کے نام پر قتل دونوں میں صرف 0.5 فیصد، اغواء میں 0.1 فیصد، اور گھریلو تشدد میں 1.3 فیصد کیسز میں ہی ملزموں کو سزا دی گئی۔

    قبل،ازیں،گزشتہ،ہفتےمظفرگڑھ کے نواحی علاقے روہیلانوالی میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ایک کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہےپولیس کے مطابق واقعہ کی ایف آئی آر متاثرہ لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ روہیلانوالی میں درج کی گئی مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 (زیادتی) اور دفعہ 109 (اعانتِ جرم) کے تحت درج کیا گیا۔

    یمن:اسرائیلی بحریہ کا صنعا میں بجلی گھر پر حملہ،آگ بھڑک اٹھی

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان ہے، جو پیدائشی طور پر بولنے کی صلاحیت سے محروم اور دماغی طور پر بھی کمزور ہے مدعی نے بیان میں کہا کہ 4 اگست کی شام تقریباً مغرب کے وقت اس کی بہن گھر سے باہر کھیتوں میں گئی تھی، جہاں ملزم رمضان نے مبینہ طور پر اسے پکڑ کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    ایف آئی آر کے مطابق واقعہ کے دوران دو محلے دار وہاں سے گزرے جنہوں نے ملزم رمضان کو لڑکی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے فوراً ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی، لیکن ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    پنجاب میں ضمنی انتخابات پر رینجرز تعیناتی کا فیصلہ

    مدعی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس واقعہ کے پیچھے پرانی دشمنی موجود ہے۔ اس کے مطابق، کچھ دن قبل ملزم رمضان کے والد مشتاق سے ان کا جھگڑا ہوا تھا اسی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے ملزم رمضان کے والد نے اپنے بیٹے کو متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے پر اُکسایا یہ واقعہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تاکہ اہل خانہ کی عزت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان ڈویژن: دریائے سندھ پر محکمہ انہار کی کرپشن بے نقاب، علی پور میں بھی سپر بند دریابرد ہونے لگا

    ڈیرہ غازیخان ڈویژن: دریائے سندھ پر محکمہ انہار کی کرپشن بے نقاب، علی پور میں بھی سپر بند دریابرد ہونے لگا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں دریائی کٹاؤ شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے سیت پور، کندائی، گبر آرائیں اور خیرپور سادات کے علاقے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلسل کٹاؤ کے باعث درجنوں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو چکی ہے جبکہ سپر بند بھی خطرناک حد تک متاثر ہو رہے ہیں۔

    اہل علاقہ نے موضع گبر آرائیں میں سپر بند کی تعمیر میں سستی اور ناقص کام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سپر بند ٹوٹا تو علی پور کے شہری علاقے بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپر بند کی تعمیر کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    محکمہ انہار کے ترجمان کے مطابق سپر بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاہم، مقامی افراد کا الزام ہے کہ محکمہ انہار کی مبینہ بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ڈیرہ غازی خان کے علاقے سمینہ میں سپر بند آر ڈی 148 کے ٹوٹنے نے تین سال پرانے کرپشن اسکینڈل کی یاد تازہ کر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق 2019 میں سپر بند 138 کی مرمت کے لیے کروڑوں روپے جاری ہوئے، ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی بھی کی گئی، لیکن کوئی کام مکمل نہ ہو سکا۔ حیران کن طور پر، اب پھر اسی ٹھیکیدار کو نئے فنڈز جاری کرنے کے بعد بند ٹوٹنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

    مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بند میں دراڑوں کی نشاندہی بارہا کی گئی، مگر حکام نے دانستہ نظرانداز کیا تاکہ دوبارہ مرمت کے نام پر فنڈز ہتھیائے جا سکیں۔ ذرائع کا انکشاف ہے کہ محکمہ انہار کے تین بڑے ڈویژنز — بہاولپور، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان — میں برسوں سے ایک ہی مخصوص ٹھیکیدار کو گھما پھرا کر ٹھیکے دیے جا رہے ہیں، اور اس عمل میں منظم کرپشن کا سلسلہ جاری ہے۔

    اہل علاقہ نے وزیرِاعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری عدالتی انکوائری کروا کر ملوث افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کی زمینیں اور جانیں محفوظ رہ سکیں۔

  • علی پور:ماموں نے ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    علی پور:ماموں نے ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نواحی علاقے بستی ٹبی ارائیں میں ایک افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے اپنی ہی ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بستی ٹبی ارائیں کا رہائشی ناصر ولد رستم ارائیں دو روز قبل اپنی بھانجی کو مبینہ طور پر ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اہل علاقہ نے اس شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اس کی خوب پٹائی کی۔

    متاثرہ لڑکی کے والد عبدالخالق ارائیں اور اس کا بھائی کراچی میں مزدوری کرتے ہیں۔ اہل علاقہ نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد وہ فوری طور پر اپنی بستی پہنچے۔ انہوں نے پولیس تھانہ صدر علی پور کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر ارائیں کو حراست میں لے لیا۔ تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

    اہل علاقہ نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گھناؤنے جرم کے مرتکب شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

  • مظفر گڑھ : گونگی بہری لڑکی کے ساتھ زیادتی، وزیراعلیٰ پنجاب کاسخت نوٹس

    مظفر گڑھ : گونگی بہری لڑکی کے ساتھ زیادتی، وزیراعلیٰ پنجاب کاسخت نوٹس

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مظفر گڑھ میں گونگی بہری لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

    مظفرگڑھ میں بہری اور گونگی لڑکی کے ساتھ زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر حنا پرویز بٹ نے ڈی پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے،حنا پرویز بٹ نے کہا کہ معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا انسان نہیں، درندہ ہے۔ ایسے مجرموں کو مثالی سزائیں دلوا کر نشان عبرت بنانا ہوگا ۔ پولیس نے دفعہ 376 (iii) کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا متاثرہ لڑکی کو قانونی، طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے گی اور کیس کی شفاف اور تیز رفتار پیروی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ادھرشوہر کے سامنے بیوی کےگینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کرنے والا ملزم پولیس فائرنگ سے مارا گیا، لاہور کے علاقے چوہنگ میں کچھ دن قبل خاوندکے سامنے بیوی کےگینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا جس دوران ملزمان نے خاتون پر بدترین جنسی تشدد بھی کیا تھا حتیٰ کہ واقعے کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

    پولیس کا بتانا ہے کہ افسوسناک واقعے میں 4 ملزمان اویس، زاہد، ارشاد اور عمران کو نامزد کیا گیا تھا، مقدمے میں نامزد 3 ملزمان اویس، زاہد اور ارشاد پہلے ہی مقابلے میں مارے جاچکے ہیں،سی سی ڈی کے مطابق قصور میں فائرنگ کے تبادلے میں اب چوتھا مرکزی ملزم عمران بھی مارا گیا ، ہلاک ملزم عمران نے گینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کی تھی۔

    ملک کے تمام بین الاقوامی ایئرپورٹس پر غیر ملکی مسافروں کیلئے علیحدہ امیگریشن کاؤنٹرز قائم