Baaghi TV

Category: مظفرگڑھ

  • بلاول زرداری سیلاب متاثرین کی آواز بن گئے

    بلاول زرداری سیلاب متاثرین کی آواز بن گئے

    چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    مظفر گڑھ کے علاقے ٹھٹھہ سیال میں سیلاب متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کسانوں کے بجلی کے بل معاف کیے جائیں اور کسانوں کو بیچ اور کھاد کی فراہم یقینی بنائی جائے۔ پنجاب کا کسان حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکومتوں کو فوری ایکشن لینا ہوگا۔سیلاب سے پورا ملک متاثر ہے ،زرعی شعبے کو ریلیف دیا جائے ،گلگت بلتستان ،خیبرپختونخوا بھی سیلاب سے متاثر ہوا ، سیلاب سے پنجاب میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ،خود دیکھ کر آیا ہوں عوام کن مشکلات سے گزر رہے ہیں ،سیلاب متاثرین کی بحالی کا مرحلہ بھی ہے ،زیادہ تر سیلاب متاثرین کو ریلیف پر توجہ دی جاتی ہے ،سیلاب متاثرین کا نقصان پورا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے ،یہ سیاسی بیان بازی کا موقع نہیں ہے، اس وقت یہ نہیں دیکھنا کہ متاثرہ شخص کا تعلق کہاں سے ہے، مشکل وقت میں عوام کا ساتھ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حکومت سے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا، مستحق متاثرین تک صحیح امداد پہنچنے کا ذریعہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام ہے۔

    بلاول زرداری کی ہدایت پر ملتان میں سیلاب متاثرین کے لیے 1500 ٹینٹ قائم کیے گئے ہیں، جہاں ڈاکٹرز، نرسز بروقت موجود ہیں اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ڈینگی،سانپ کےکاٹنےاور دیگر بیماریوں سے متاثرین کومحفوظ رکھا جا سکے

  • دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مظفر گڑھ میں متعدد دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، امدادی کارروائیاں رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، وہیلاں والی، بنڈہ اسحاق اور عظمت پور میں کی گئیں۔پولیس کے مطابق ضلع بھر میں ریسکیو کی 32 اور پولیس کی 8 کشتیاں لوگوں کو ریسکیو کر رہی ہیں، آرمی، وائلڈ لائف کی کشتیاں اور پرائیویٹ کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، 32 دیہات کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی چھٹیوں میں 8 تا 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے اور سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔پی ڈی ایم اے ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجےکا سیلاب ہے جبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ترجمان پی ڈی ایم کے کا بتانا ہے کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ہے۔

  • مظفرگڑھ : ساڑھے 3 سال کی بچی سےزیادتی، ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ : ساڑھے 3 سال کی بچی سےزیادتی، ملزم گرفتار

    مظفرگڑھ میں تھانہ رنگپور کی حدود میں ساڑھے 3 سالہ معصوم بچی کےساتھ،جنسی،زیادتی کا مبینہ واقعہ پیش آیا ہے، پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    تھانہ رنگپور میں بچی کے والد کی مدعیت میں گزشتہ روز درج کرائی گئی ایف آئی آر میں مدعی نے موقف اپنایا ہے کہ وہ دکان میں مزدوری کرتا ہے، شام کو گھر واپس آیا تو بیوی نے بتایا کہ ان کی ساڑھے 3 سالہ بیٹی کمرے میں سوئی ہوئی تھی، بچی کی چیخ سن کر وہ کمرے میں گئی ملزم عون عباس اس کا ریپ کررہا تھا، خاتون کی چیخ و پکار پر ملزم فرار ہوگیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تھانہ رنگپور میں مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے، ڈی پی او سید غضنفر علی شاہ کی ہدایت پر ملزم کو عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

    روس:فیکٹری میں دھماکا، 11 افراد جاں بحق، 130 زخمی

    پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے رجحانات انتہائی تشویشناک ہیں۔غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی سالانہ رپورٹ 2024 کے مطابق سال 2024 میں ملک بھر میں 32,617 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 5,339 ریپ، 24,439 اغواء/حملہ، 2,238 گھریلو تشدد اور 547 عزت کے نام پر قتل شامل تھے روزانہ کی بنیاد پر 67 اغواء، 19 ریپ اور 6 گھریلو تشدد کے واقعات ہوئے تاہم، سزا یافتگی کی شرح نہایت کم ہے۔ ریپ اور غیرت کے نام پر قتل دونوں میں صرف 0.5 فیصد، اغواء میں 0.1 فیصد، اور گھریلو تشدد میں 1.3 فیصد کیسز میں ہی ملزموں کو سزا دی گئی۔

    قبل،ازیں،گزشتہ،ہفتےمظفرگڑھ کے نواحی علاقے روہیلانوالی میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ایک کمسن لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہےپولیس کے مطابق واقعہ کی ایف آئی آر متاثرہ لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ روہیلانوالی میں درج کی گئی مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 (زیادتی) اور دفعہ 109 (اعانتِ جرم) کے تحت درج کیا گیا۔

    یمن:اسرائیلی بحریہ کا صنعا میں بجلی گھر پر حملہ،آگ بھڑک اٹھی

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان ہے، جو پیدائشی طور پر بولنے کی صلاحیت سے محروم اور دماغی طور پر بھی کمزور ہے مدعی نے بیان میں کہا کہ 4 اگست کی شام تقریباً مغرب کے وقت اس کی بہن گھر سے باہر کھیتوں میں گئی تھی، جہاں ملزم رمضان نے مبینہ طور پر اسے پکڑ کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    ایف آئی آر کے مطابق واقعہ کے دوران دو محلے دار وہاں سے گزرے جنہوں نے ملزم رمضان کو لڑکی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے فوراً ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی، لیکن ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    پنجاب میں ضمنی انتخابات پر رینجرز تعیناتی کا فیصلہ

    مدعی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس واقعہ کے پیچھے پرانی دشمنی موجود ہے۔ اس کے مطابق، کچھ دن قبل ملزم رمضان کے والد مشتاق سے ان کا جھگڑا ہوا تھا اسی دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے ملزم رمضان کے والد نے اپنے بیٹے کو متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے پر اُکسایا یہ واقعہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تاکہ اہل خانہ کی عزت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان ڈویژن: دریائے سندھ پر محکمہ انہار کی کرپشن بے نقاب، علی پور میں بھی سپر بند دریابرد ہونے لگا

    ڈیرہ غازیخان ڈویژن: دریائے سندھ پر محکمہ انہار کی کرپشن بے نقاب، علی پور میں بھی سپر بند دریابرد ہونے لگا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں دریائی کٹاؤ شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے سیت پور، کندائی، گبر آرائیں اور خیرپور سادات کے علاقے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلسل کٹاؤ کے باعث درجنوں ایکڑ زرعی اراضی دریا برد ہو چکی ہے جبکہ سپر بند بھی خطرناک حد تک متاثر ہو رہے ہیں۔

    اہل علاقہ نے موضع گبر آرائیں میں سپر بند کی تعمیر میں سستی اور ناقص کام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سپر بند ٹوٹا تو علی پور کے شہری علاقے بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپر بند کی تعمیر کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    محکمہ انہار کے ترجمان کے مطابق سپر بند کی مضبوطی کا کام جاری ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاہم، مقامی افراد کا الزام ہے کہ محکمہ انہار کی مبینہ بدعنوانی اور انتظامی غفلت کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ڈیرہ غازی خان کے علاقے سمینہ میں سپر بند آر ڈی 148 کے ٹوٹنے نے تین سال پرانے کرپشن اسکینڈل کی یاد تازہ کر دی تھی۔ ذرائع کے مطابق 2019 میں سپر بند 138 کی مرمت کے لیے کروڑوں روپے جاری ہوئے، ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی بھی کی گئی، لیکن کوئی کام مکمل نہ ہو سکا۔ حیران کن طور پر، اب پھر اسی ٹھیکیدار کو نئے فنڈز جاری کرنے کے بعد بند ٹوٹنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

    مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بند میں دراڑوں کی نشاندہی بارہا کی گئی، مگر حکام نے دانستہ نظرانداز کیا تاکہ دوبارہ مرمت کے نام پر فنڈز ہتھیائے جا سکیں۔ ذرائع کا انکشاف ہے کہ محکمہ انہار کے تین بڑے ڈویژنز — بہاولپور، ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان — میں برسوں سے ایک ہی مخصوص ٹھیکیدار کو گھما پھرا کر ٹھیکے دیے جا رہے ہیں، اور اس عمل میں منظم کرپشن کا سلسلہ جاری ہے۔

    اہل علاقہ نے وزیرِاعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری عدالتی انکوائری کروا کر ملوث افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کی زمینیں اور جانیں محفوظ رہ سکیں۔

  • علی پور:ماموں نے ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    علی پور:ماموں نے ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نواحی علاقے بستی ٹبی ارائیں میں ایک افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص نے اپنی ہی ذہنی معذور بھانجی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بستی ٹبی ارائیں کا رہائشی ناصر ولد رستم ارائیں دو روز قبل اپنی بھانجی کو مبینہ طور پر ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اہل علاقہ نے اس شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور اس کی خوب پٹائی کی۔

    متاثرہ لڑکی کے والد عبدالخالق ارائیں اور اس کا بھائی کراچی میں مزدوری کرتے ہیں۔ اہل علاقہ نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد وہ فوری طور پر اپنی بستی پہنچے۔ انہوں نے پولیس تھانہ صدر علی پور کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر ارائیں کو حراست میں لے لیا۔ تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

    اہل علاقہ نے اس واقعے کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے گھناؤنے جرم کے مرتکب شخص کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

  • مظفر گڑھ : گونگی بہری لڑکی کے ساتھ زیادتی، وزیراعلیٰ پنجاب کاسخت نوٹس

    مظفر گڑھ : گونگی بہری لڑکی کے ساتھ زیادتی، وزیراعلیٰ پنجاب کاسخت نوٹس

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مظفر گڑھ میں گونگی بہری لڑکی کے ساتھ زیادتی کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

    مظفرگڑھ میں بہری اور گونگی لڑکی کے ساتھ زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر حنا پرویز بٹ نے ڈی پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے،حنا پرویز بٹ نے کہا کہ معذور لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا انسان نہیں، درندہ ہے۔ ایسے مجرموں کو مثالی سزائیں دلوا کر نشان عبرت بنانا ہوگا ۔ پولیس نے دفعہ 376 (iii) کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزم کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا متاثرہ لڑکی کو قانونی، طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے گی اور کیس کی شفاف اور تیز رفتار پیروی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ادھرشوہر کے سامنے بیوی کےگینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کرنے والا ملزم پولیس فائرنگ سے مارا گیا، لاہور کے علاقے چوہنگ میں کچھ دن قبل خاوندکے سامنے بیوی کےگینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا تھا جس دوران ملزمان نے خاتون پر بدترین جنسی تشدد بھی کیا تھا حتیٰ کہ واقعے کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

    پولیس کا بتانا ہے کہ افسوسناک واقعے میں 4 ملزمان اویس، زاہد، ارشاد اور عمران کو نامزد کیا گیا تھا، مقدمے میں نامزد 3 ملزمان اویس، زاہد اور ارشاد پہلے ہی مقابلے میں مارے جاچکے ہیں،سی سی ڈی کے مطابق قصور میں فائرنگ کے تبادلے میں اب چوتھا مرکزی ملزم عمران بھی مارا گیا ، ہلاک ملزم عمران نے گینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کی تھی۔

    ملک کے تمام بین الاقوامی ایئرپورٹس پر غیر ملکی مسافروں کیلئے علیحدہ امیگریشن کاؤنٹرز قائم

  • علی پور: آوارہ کتوں کا بھیڑوں کے ریوڑ پر حملہ، دو بھیڑیں ہلاک، دو افراد گرفتار

    علی پور: آوارہ کتوں کا بھیڑوں کے ریوڑ پر حملہ، دو بھیڑیں ہلاک، دو افراد گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) مظفرگرھ کی تحصیل علی پور شہر اور اس کے نواحی علاقے کندائی میں آوارہ کتوں کی بھرمار خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ واقعے میں ایک خونخوار آوارہ کتے نے غریب شخص کے بھیڑوں کے ریوڑ پر حملہ کر کے پانچ بھیڑوں کو شدید زخمی کر دیا، جن میں سے دو موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق علی پور کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتے شہریوں اور مال مویشیوں کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں، خاص طور پر رات کے وقت یہ کتے راہگیروں اور جانوروں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے آوارہ کتوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہریوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔

    پولیس کے مطابق کندائی کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے کتے کے دو مبینہ مالکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف تھانہ کندائی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کتے کو تلف کر دیا گیا ہے جبکہ بھیڑوں کے مالک کو پہنچنے والے مالی نقصان کا بھی ازالہ کروا دیا گیا ہے۔

    اہل علاقہ نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے تاکہ شہریوں اور مویشیوں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • علی پور:: رشتہ نہ دینے پر محنت کش کی بیٹی اغوا، پولیس پانچ روز سے خاموش،ورثاء سراپا احتجاج

    علی پور:: رشتہ نہ دینے پر محنت کش کی بیٹی اغوا، پولیس پانچ روز سے خاموش،ورثاء سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے نواحی گاؤں موضع مکول ہڈیر میں رشتہ نہ دینے کا سنگین نتیجہ غریب محنت کش خاندان کو بھگتنا پڑا۔ ساڑھے پندرہ سالہ سائرہ بی بی کو مبینہ طور پر بااثر ملزمان صفدر، راشد بڈو اور نذیر موہانہ زبردستی گھر سے اٹھا کر لے گئے، لیکن واقعہ کو گزرے پانچ دن بیت جانے کے باوجود پولیس مغوی لڑکی کو بازیاب نہ کرا سکی۔ پولیس تھانہ صدر علی پور نے مقدمہ تو درج کر لیا، لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جس پر اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    متاثرہ لڑکی کے والد ملک انور آرائیں نے اپنی اہلیہ، بیٹوں اور محلہ داروں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ”چوبیس جولائی کی صبح دس بجے میں جانوروں کے لیے گھاس کاٹنے گیا ہوا تھا۔ اس وقت میری بیٹی سائرہ گھر میں اکیلی تھی۔ اسی دوران ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور میری بیٹی کو گھر سے زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ ساتھ ہی گھر سے بکس میں رکھی رقم اور دیگر سامان بھی لے گئے۔ ہم نے شور سن کر ان کا پیچھا بھی کیا، مگر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔”

    انور آرائیں کا کہنا ہے کہ مقدمہ نمبر 862/25 تھانہ صدر علی پور میں تو درج ہو گیا، مگر ملزمان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان کریمنل ریکارڈ یافتہ ہیں اور مقامی بااثر زمیندار ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
    "ہم غریبوں کی مدد کرنے کے بجائے ہمیں ہی دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر زبان کھولی تو تمہارے خلاف بھی اغوا کا مقدمہ درج کر دیں گے۔”

    اہل علاقہ نے اس واقعے کو ظلم و ناانصافی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او مظفر گڑھ فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لیں، لڑکی کو بازیاب کروائیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    رابطہ کرنے پر پولیس ذرائع نے مؤقف اختیار کیا کہ”تاحال یہ معلوم ہو رہا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے گئی ہے، لیکن چونکہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر اور غیر شادی شدہ ہے، اس لیے معاملے کا قانونی پہلو سے جائزہ لے کر انصاف فراہم کیا جائے گا۔”

    شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر قانون صرف طاقتور کے لیے ہے تو کمزور کہاں جائے؟ کیا ایک محنت کش کی بیٹی کی جان و عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
    اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے پر کب عملی قدم اٹھاتی ہے یا غریب خاندان انصاف کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔

  • این اے 175 ضمنی انتخابات،حکیم شہزاد دونوں بیویوں کے ہمراہ کاغذات جمع کروانے پہنچ گئے

    این اے 175 ضمنی انتخابات،حکیم شہزاد دونوں بیویوں کے ہمراہ کاغذات جمع کروانے پہنچ گئے

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 175 کے ضمنی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا ہے۔ یہ ضمنی انتخاب جمشید دستی کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشست پر ہوں گے۔ ضمنی انتخاب 10 ستمبر کو منعقد ہوں گے۔

    کاغذات نامزدگی کے پہلے دن متعدد اہم شخصیات نے اپنی امیدواریاں رسمی طور پر جمع کرائی ہیں۔ حکیم شہزاد دانیہ شاہ سمیت اپنی دو بیویوں سمیت ریٹرننگ آفیسر کے دفتر پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے کاغذات جمع کروائے،اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے حماد نواز ٹیپو نے بھی این اے 175 کے ضمنی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب میں مختلف سیاسی جماعتیں بھرپور مقابلہ کریں گی، اور این اے 175 میں سیاسی لڑائی خاصی سخت متوقع ہے۔

  • علی پور:کچے کے ڈاکوؤں کی یلغار، 180 بھینسیں لوٹ کر فرار . پولیس بے بس

    علی پور:کچے کے ڈاکوؤں کی یلغار، 180 بھینسیں لوٹ کر فرار . پولیس بے بس

    مظفرگڑھ (باغی ٹی وی) کچے کے جرائم پیشہ عناصر نے ایک بار پھر مظفرگڑھ پولیس کی رٹ کو چیلنج کر دیا۔ گذشتہ روزتحصیل علی پور کے موضع لنگرواہ میں 30 سے زائد مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر مقامی لوگوں کی 180 بھینسیں لوٹ لیں اور باآسانی فرار ہو گئے۔ واردات نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ عوام کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ افراد نے واردات کے کئی گھنٹے بعد اطلاع دی، جس کے باعث ڈاکو باآسانی کچے کے علاقوں میں داخل ہو گئے۔ جائے واردات پہلے سے جاری کچے آپریشن کے علاقے میں واقع ہے، تاہم اس کے باوجود ڈاکوؤں کی منظم یلغار نے پولیس کی حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ڈاکو بوسن اور دیگر جرائم پیشہ گینگز سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے مظفرگڑھ اور راجن پور کے کچے دریائی علاقوں میں ناکہ بندیاں کر دی گئی ہیں، اور پولیس تعاقب میں ہے۔

    مظفر گڑھ پولیس ترجمان نے کہا ہے کہ کچے کے گینگ کا خاتمہ ہی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد خود کچے آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اور پولیس ٹیموں کو جدید ہتھیاروں، ڈرونز اور ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ ان سنگین وارداتوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پولیس آپریشن کی بات کرتی ہے، مگر کچے کے جرائم پیشہ گروہوں کا نیٹ ورک مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں مستقل بنیادوں پر سخت فوجی طرز کا آپریشن شروع کیا جائے تاکہ ان وارداتوں کا مستقل خاتمہ ممکن ہو۔

    مزید یہ کہ حالیہ واردات نے پولیس کی موجودہ حکمت عملی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ ڈاکو دن دہاڑے اتنی بڑی تعداد میں مویشی لوٹ کر فرار ہو گئے اور کئی گھنٹوں تک کوئی مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔ عوامی حلقے سوال کر رہے ہیں کہ آخر کب تک شہری کچے کے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر رہیں گے؟

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ کارروائی بروقت ممکن ہو سکے۔ کچے کے ان بدنام زمانہ گینگس کا خاتمہ اب صرف پولیس کا نہیں، بلکہ پورے ریاستی نظام کا امتحان بن چکا ہے۔