Baaghi TV

Category: مظفرگڑھ

  • سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ اب سبزیاں بھی اگانا ہوں گی، محکمہ تعلیم کی سخت ہدایات

    سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ اب سبزیاں بھی اگانا ہوں گی، محکمہ تعلیم کی سخت ہدایات

    مظفرگڑھ: سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کو عملی سرگرمیوں سے روشناس کرانے کے لیے موسمی سبزیاں اگانے کی ہدایت کردی گئی۔

    محکمہ تعلیم کی جانب سے تمام سرکاری اسکولوں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں تعلیمی اداروں میں موسمی سبزیوں کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلے کے مطابق اسکولوں میں دستیاب جگہوں پر موسمی سبزیاں کاشت کی جائیں اور ان کی مناسب دیکھ بھال کے لیے ایک ذمہ دار شخص مقرر کیا جائے۔

    محکمہ تعلیم نے ہدایت کی ہے کہ جن اسکولوں میں پہلے سے کاشت کی گئی سبزیوں کی پیداوار تسلی بخش نہیں ہوئی، وہاں دوبارہ کاشت کا عمل شروع کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں کو بروقت پانی دینے اور ان کی مناسب نگہداشت کا بھی انتظام کیا جائے۔

    مراسلے میں اسکول انتظامیہ کو سبزیوں کی کاشت، دیکھ بھال اور نگہداشت کی تصاویر روزانہ کی بنیاد پر شیئر کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ سرگرمی کی باقاعدہ نگرانی کی جاسکے۔

    محکمہ تعلیم نے تمام ہیڈ ماسٹرز کو ہدایت پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے اور اسکولوں میں موسمی سبزیوں کی مناسب دیکھ بھال کا انتظام کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • مظفرگڑھ کینال میں باراتیوں کا رکشا گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی

    مظفرگڑھ کینال میں باراتیوں کا رکشا گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی

    کوٹ ادو میں مظفرگڑھ کینال میں گزشتہ روز باراتیوں سے بھرا رکشا نہر میں گرنے کے افسوسناک حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، جبکہ نہر سے مزید 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ نہر میں ڈوبنے والے مزید 9 بچوں کی تلاش جاری ہے۔ لاپتا بچوں کی عمریں 3 سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ریسکیو کے مطابق حادثے کے بعد 11 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

  • مظفر گڑھ،شہریوں کے اغوا کا الزام،5 سی سی ڈی اہلکاروں پر مقدمہ درج

    مظفر گڑھ،شہریوں کے اغوا کا الزام،5 سی سی ڈی اہلکاروں پر مقدمہ درج

    مظفر گڑھ: مظفر گڑھ میں شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تاوان وصول کرنے کے سنگین الزام میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، جبکہ تین اہلکاروں کو حراست میں لے کر معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

    سی سی ڈی حکام کے مطابق واقعہ 16 جنوری کو پیش آیا، جب پانچ اہلکاروں نے تحصیل جتوئی کے بازار سے لنڈے کا کاروبار کرنے والے ایک شہری اور اس کے ساتھی کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔الزام ہے کہ اہلکار دونوں مغویوں کو ایک نجی عقوبت خانے میں لے گئے، جہاں انہیں غیرقانونی طور پر حبس میں رکھا گیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں تاکہ ان سے رقم وصول کی جا سکے۔تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر 12 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد دونوں افراد کو رہا کیا۔

    سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی کارروائی کے دوران تین اہلکاروں کو حراست میں لے کر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔حکام کے مطابق اگر تحقیقات میں اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہوئے تو قانون کے مطابق سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • مظفرگڑھ، کچرا نہ اٹھانے پر ستھرا پنجاب ورکر پر تشدد، 2 ملزمان گرفتار

    مظفرگڑھ، کچرا نہ اٹھانے پر ستھرا پنجاب ورکر پر تشدد، 2 ملزمان گرفتار

    مظفرگڑھ کے علاقے خان گڑھ میں کچرا بروقت نہ اٹھانے کے تنازع پر 2 افراد نے ستھرا پنجاب پروگرام کے سینیٹری ورکر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا۔

    پولیس کے مطابق فہیم نامی سینیٹری ورکر معمول کے مطابق کچرا اٹھانے میں مصروف تھا تاہم کچرے کی گاڑی میں مزید جگہ نہ ہونے کے باعث وہ ایک گلی سے مکمل کچرا نہ اٹھا سکا۔اطلاعات کے مطابق کچرا فوری طور پر نہ اٹھانے پر عابد اور مبشر نامی افراد طیش میں آگئے اور انہوں نے سینیٹری ورکر کو گالیاں دینے کے بعد پلاسٹک کے پائپوں اور لوہے کی تاروں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ ورکر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ خان گڑھ میں دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • طالبہ سے زیادتی،پرنسپل سمیت4  افراد کیخلاف مقدمہ درج

    طالبہ سے زیادتی،پرنسپل سمیت4 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نجی تعلیمی ادارے میں طالبہ سے زیادتی کا مقدمہ تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ طالبہ کا بتانا ہے کہ اسکول پرنسپل نے 3 ماہ قبل اسے زیادتی کا نشانہ بنایا،متاثرہ طالبہ کے دیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مختلف اوقات میں اسکول مالک راشد زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ 3 ماہ کی حاملہ ہے،طالبہ کے بیان کے بعد تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ مقدے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپےمارے جا رہے ہیں۔

  • جتوئی: سکول رکشوں کی ریس کے دوران خوفناک تصادم، 9 سالہ طالبہ جاں بحق، 13 طلبہ زخمی

    جتوئی: سکول رکشوں کی ریس کے دوران خوفناک تصادم، 9 سالہ طالبہ جاں بحق، 13 طلبہ زخمی

    جتوئی (باغی ٹی وی)مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں صبح کے وقت افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں طلبا و طالبات کو اسکول لے جانے والے دو رکشے مبینہ طور پر ریس لگاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے۔ تصادم کے نتیجے میں 9 سالہ طالبہ انشراح راشد موقع پر جاں بحق ہوگئیں جبکہ 13 طلبا و طالبات زخمی ہوئے۔

    پولیس کے مطابق دونوں رکشے تیز رفتاری کے باعث ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریس لگانے میں ملوث دونوں رکشہ ڈرائیورز کو رکشوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    زخمی بچوں کو ٹی ایچ کیو اسپتال جتوئی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس حادثے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

    والدین اور شہریوں نے اسکول وین رکشوں کی بے احتیاط ڈرائیونگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • علی پور: نجی سکول کے مالک و نام نہاد صدر پریس کلب، اساتذہ، طالبات کیساتھ جنسی زیادتی، دوستوں سےبھی زیادتی کرواتارہا،ویڈیوز وائرل

    علی پور: نجی سکول کے مالک و نام نہاد صدر پریس کلب، اساتذہ، طالبات کیساتھ جنسی زیادتی، دوستوں سےبھی زیادتی کرواتارہا،ویڈیوز وائرل

    علی پور (باغی ٹی وی)مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ایک ہولناک مبینہ جنسی سکینڈل نے صحافتی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ ‘پاک صاف پاکستان’ نامی فیس بک آئی ڈی سے وائرل کی گئی متعدد نازیبا ویڈیوز میں نجی تعلیمی ادارے آئیڈیل پبلک سکول کے مالک اور تحصیل پریس کلب علی پور کے سابق صدر سید ہدایت علی رضوی کو مختلف خواتین، خصوصاً سکول کی ٹیچرز اور طالبات کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

    ویڈیوز سامنے آنے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، جبکہ تعلیمی اور صحافتی حلقوں نے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ تحصیل پریس کلب علی پور کے جنرل سیکرٹری محمد عمران سعیدی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ہدایت علی رضوی کو عہدۂ صدارت سے برطرف کرنے اور ان کی بنیادی رکنیت ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    دوسری جانب متاثرہ خاتون ٹیچر (ش) کے بھائی ناصر عباس کی مدعیت میں تھانہ سٹی علی پور میں ملزم کے خلاف دفعات 376 اور 292 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے مذکورہ خاتون کو متعدد بار مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا اور انکار پر مزید دھمکیاں دیں۔ الزامات کے مطابق بعض مواقع پر اس کے چند ساتھی بھی موجود ہوتے تھے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیوز میں کم از کم چار خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ملزم نہ صرف زیادتی کرتا رہا بلکہ ٹیچرز اور طالبات کی نازیبا ویڈیوز بھی بنا کر بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتا رہا۔مزید متاثرہ خواتین تک پہنچنے کے لیے ویڈیوز کی فرانزک جانچ جاری ہے۔ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں، تاہم وہ تاحال مفرور ہے۔

    معروف تعلیمی شخصیات، جن میں راشد منہاس سکول کے سربراہ عبدالغفور ملک بھی شامل ہیں، نے ہدایت رضوی سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور معاملے کی شفاف، سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل فرانزک شواہد کی روشنی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین سکینڈل میں ملوث تمام عناصر کو بے نقاب کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

  • علی پور:زمینیں ہماری، قبضہ دوسروں کا ، زمیندار انصاف کی دہائی دیتے رہ گئے،30 سال سے اشتعمال نہ ہوسکی

    علی پور:زمینیں ہماری، قبضہ دوسروں کا ، زمیندار انصاف کی دہائی دیتے رہ گئے،30 سال سے اشتعمال نہ ہوسکی

    علی پور (باغی ٹی وی، نامہ نگارمحبوب بلوچ)تحصیل علی پور کے مواضعات خیرپور سادات، مراد پور اور لنگر واہ کی زمینوں کا اشتمال 1992 سے تاحال مکمل نہیں ہو سکا، جس کے باعث درجنوں غریب و کمزور زمیندار اپنی جائز اراضی سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ مواضعات 1992 میں شامل ہونے کے بعد سے اب تک پٹہ/حد بندی اور قانونی تکمیل کے عمل سے گزر رہے ہیں ، مگر تقریباً 30 سال گزر جانے کے باوجود کام مکمل نہیں ہو سکا، اور اس تاخیر نے مقامی زمینداروں کی زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑ دیا ہے۔

    مقامی زمینداروں اور متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ناجائز قابضین آج بھی ان کی قیمتی اراضی پر دندناتے پھر رہے ہیں، جس سے مستقل نقصان اور جائیدادوں کے ناقابل تلافی نقصانات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    کئی خاندان اپنی جائز زمینوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور غریب و کمزور لوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    طویل انتظار اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث اصل وارث محنت مزدوری کر کے گذارہ کرنے پر مجبور ہیں جبکہ بعض بزرگ اس جدوجہد کی تکالیف کے باعث عرصہ دراز سے صدمے کا شکار ہیں۔

    مقامی زمینداروں نے متعلقہ انتظامی و ریونیو حکام، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری طور پر نوٹس لینے، مواضعات کی حد بندی اور پٹہ/رجسٹری کا عمل مکمل کر کے ناجائز قبضہ ختم کروانے کی شدید اپیل کی ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ:
    1.فوری سروے اور حد بندی کرائی جائے۔
    2.ناجائز قابضین کے خلاف قانونی کارروائی اور حق ملکیت کی بنیاد پر قبضہ ختم کروایا جائے۔
    3.متاثرین کو ریلیف اور عارضی انتظامی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ روزگار اور رہائش کا انتظام کر سکیں۔

    دوسری طرف مواضعات کا بڑا حصہ ابھی نامکمل ہے اور غیر یقینی صورتحال کے باعث زرعی پیداوار، رہائشی ترقی اور مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ زمینداروں کا کہنا ہے کہ اگر تادیر یہی صورتِ حال رہی تو ان کی زمینیں، جن پر برسوں کی محنت سے پہنچ منظور ہوئی، ناقابل واپسی نقصان کا شکار ہو سکتی ہیں۔

    اب تک مقامی سطح پر کوئی ایسی مستقل کارروائی منظر عام پر نہیں آئی جو اس طویل المدت تنازع کا حل یقینی بنا سکے۔ مقامی رہنماؤں اور متاثرہ افراد نے اپیل کی ہے کہ ضلعی حکومت فوری مداخلت کرے، سروے رپورٹس کی روشنی میں شفاف اقدامات کرے اور ناجائز قابضین کے خلاف فوری نوٹس اور عدالتوں سے تعاون حاصل کیا جائے۔

    خیرپور سادات، مراد پور اور لنگر واہ کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ”ہم اپنی زمینوں کے دفاع اور حقِ ملکیت کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

  • خیرپور سادات: سینئر صحافی حاجی عبید خان بڈانی کی اہلیہ انتقال کر گئیں، نمازِ جنازہ میں ہر طبقۂ فکر کی شرکت

    خیرپور سادات: سینئر صحافی حاجی عبید خان بڈانی کی اہلیہ انتقال کر گئیں، نمازِ جنازہ میں ہر طبقۂ فکر کی شرکت

    علی پور (باغی ٹی وی، نامہ نگار محبوب بلوچ)خیرپور سادات کی صحافتی برادری آج گہرے غم میں ڈوب گئی، جب معروف و سینئر صحافی حاجی عبید خان بڈانی کی اہلیہ انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر علاقے میں افسوس اور سوگ کی لہر بن کر پھیل گئی۔

    مرحومہ کی نمازِ جنازہ آج شام ساڑھے تین بجے بستی بڈانی محمدوالی باڑہ بنگلہ روڈ پر ادا کی گئی، جس میں ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والی سماجی، سیاسی، مذہبی اور صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    علاقے بھر سے لوگوں نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحومہ کی مغفرت، بلندی درجات اور لواحقین کے صبر و استقامت کے لیے دعائیں کیں۔

    نماز جنازہ کے بعد مرحومہ کو مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

    اس موقع پر علاقے کے صحافیوں، عمائدین، علمائے کرام اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

    مقامی صحافیوں نے حاجی عبید خان بڈانی سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

    شرکائے جنازہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔

  • علی پور: خیرپور سادات روڈ کو ڈبل کیا جائے، عوام کا مطالبہ

    علی پور: خیرپور سادات روڈ کو ڈبل کیا جائے، عوام کا مطالبہ

    علی پور(باغی ٹی وی، نامہ نگار )علی پور تا خیرپور سادات روڈ کو فوری طور پر ڈبل کیا جائے، شہریوں اور سماجی حلقوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ تقریباً 12 کلومیٹر طویل یہ سڑک عرصہ دراز سے تنگ اور خستہ حالی کا شکار ہے، جسے مقامی افراد "سیکنڈ قاتل روڈ” کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔ حادثات معمول بن چکے ہیں اور آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

    اس مصروف شاہراہ پر دن رات بھاری اور ہلکی ٹریفک رواں دواں رہتی ہے، جس کے اطراف میں متعدد علاقے اور بستیاں واقع ہیں جن میں گبر اراہیں، سلطان پور، ارالہ، نبی پور، کندائی، شاہی والہ، خانگڑھ ڈومہ سمیت دیگر قصبات شامل ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی تنگی کے باعث سفر نہ صرف خطرناک بلکہ وقت طلب بھی بن چکا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ علی پور تا خیرپور سادات روڈ کو دو رویہ (ڈبل) کیا جائے تاکہ حادثات میں کمی آئے، سفری سہولت بہتر ہو اور علاقائی ترقی کے دروازے کھل سکیں۔