Baaghi TV

Category: مظفرگڑھ

  • دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث مظفرگڑھ کی دوبستیاں زیر آب آگئیں

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث دریائی کٹاؤ بڑھ گیا،دریائی کٹاؤ کے دوران سپربند بہہ جانے کی وجہ سے 2 بستیوں میں کھڑی فصلیں اور مکانات زیرآب آگئے.مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث دریائی کٹاؤ میں اضافہ ہوگیا،مقامی افراد کیمطابق طغیانی کے باعث تحصیل علی پور میں کندائی کے مقام پر سپر بند برجی نمبر 52 ہزار کا کچھ حصہ بھی دریا میں بہہ گیا.سپربند بہہ جانے سے 2 بستیاں بستی سانگھی اور بستی دریشک میں سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور مکانات بھی زیرآب آگئے.مقامی افراد کیمطابق سپربند کی تعمیر کے دوران بھاری کرپشن کی گئی تھی،ناقص میٹریل کے استعمال کے باعث سپربند بہہ گیا جبکہ کٹاؤ کے مقام پر پتھر اور مٹی ڈالنے کا کام سست روی کا شکار ہے.اس موقع پر اہل علاقہ نے محکمہ انہار کی غفلت اور مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج بھی کیا.دوسری جانب محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ علاقے میں پتھر اور مٹی کے ذریعے دریا کے پانی کو بستیوں میں داخل ہونے سے روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں.

  • مظفرگڑھ پولیس کو خاکروب پر تشدد کرنا مہنگا پڑگیا

    مظفرگڑھ میں پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف بلدیہ کے خاکروبوں نے احتجاجا تھا نہ خان گڑھ میں کچرے اور گندگی ڈال دی اور احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس اہلکاروں اور بلدیہ ملازمین کے مابین دھکم پیل بھی ہوئی.مظفرگڑھ کے علاقے خانگڑھ میں بلدیہ کے ایک خاکروب پر مبینہ پولیس تشدد کیخلاف خاکروبوں نے تھانے میں احتجاج کیا.خاکروبوں نے کچرے اور گندگی سے بھری ٹرالیاں احتجاجاً تھانہ خانگڑھ کے احاطے میں کھڑی کردیں اور خاکروب پر تشدد کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔اس دوران تھانے میں پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں دھکم پیل بھی ہوئی.تشدد کا شکار بننے والے اہلکار کیساتھ احتجاج کرنے والے بلدیہ خانگڑھ کے خاکروبوں کا کہنا تھا کہ خانگڑھ تھانے کے اے ایس آئی مجاہد نے بااثر افراد کی ایماء پر بلدیہ ملازم عنصر عباس کو نہ صرف غیرقانونی طور پر حراست میں لیا بلکہ بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا.دوسری جانب پولیس ترجمان وسیم خان گوپانگ کیمطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں،اگر کوئی تفتیشی افسر یا اہلکار تشدد میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی.بعدازاں پولیس افسران سے مذاکرات اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاکاروائی کی یقین دہانی کے بعد بلدیہ خان گڑھ کے خاکروبوں نے اپنا احتجاج ختم کردیا۔

  • تین بچیاں جوہڑ میں ڈوب گئیں ایک کو زندہ نکال لیا گیا

    تین بچیاں جوہڑ میں ڈوب گئیں ایک کو زندہ نکال لیا گیا

    (نمائندہ باغی ٹی وی نعمان بھٹہ) مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں ہیڈ پنجند کے قریب ایک جوہڑ میں نہاتے ہوئے تین بچیاں ڈوب گئیں،ریسکیو آپریشن کے بعد 2 بچیوں کی لاشیں اور ایک بچی کو زندہ حالت میں جوہڑ سے نکال کیاگیا.مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں ہیڈ پنجند کے قریب جوہڑ میں نہاتے ہوئے 3 بچیاں ڈوب گئیں.ریسکیو کیمطابق ڈوبنے والی ایک بچی کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زندہ نکال لیا جبکہ دیگر 2 بچیوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیاگیا،ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد لاپتہ ہونے والی دیگر 2 بچیوں کی لاشیں بھی جوہڑ سے نکال کر ورثاء کے حوالے کردی گئیں.ریسکیو کیمطابق بچیوں کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان تھیں جو آپس میں رشتہ دار ہیں.

  • مظفرگڑھ میں بیل گاڑی ڈوبنے سے اس پر سوار2خواتین جاں بحق

    مظفرگڑھ میں بیل گاڑی دریائے چناب میں ڈوبنے سے اس میں سوار 4 خواتین سمیت 5 افرادڈوب گئے ،مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت 2 خواتین کی لاشیں اور 3 افراد کو زندہ دریا سے نکال لیا.مظفرگڑھ کے علاقے خانگڑھ میں بیل گاڑی اور اس پر سوار 5 افراد دریائے چناب میں ڈوب گئے.پولیس کیمطابق بیل گاڑی پر سوار 4 خواتین اور ایک مرد گھاس کاٹ کر واپس گھر کی جانب جارہے تھے،بیل گاڑی سلپ ہونے کے باعث تمام افراد بیل گاڑی سمیت دریائے چناب میں ڈوب گئے.پولیس کیمطابق مقامی افراد نے 2 خواتین کی لاشیں اور 3 افراد کو زندہ حالت میں دریا سے نکال لیا.دریا سے زندہ نکالے جانے والے 3 افراد کو طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا.پولیس کیمطابق معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں.

  • مظفرگڑھمیں ایپکا ملازمین کا مہنگائی،تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج

    پنجاب حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کی شرح کے مطابق فوری اضافے کا اعلان کرے،ایپکا تنخواہوں میں اضافے تک احتجاج رہے گا۔ان خیالات کا اظہار عبدالرؤف خان چانڈیہ مرکزی فنانس سیکرٹری ایپکا پاکستان،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ایپکا پنجاب نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تفصیل کے مطابق ایپکا مظفرگڑھ کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی محکمہ زراعت مظفرگڑھ سے نکالی گئی۔جس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی صدر محمد اسماعیل ظہور وضلعی جنرل سیکرٹری شیخ مطلوب علی نے کہا کہ بجٹ 2019 میں حکومت وقت کی جانب سے یکساں طور پر ملازمین کو نظر انداز کرنے ،بجلی و گیس کے بلوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف تمام سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔رائے سجاد حسین ڈاہا سینئر نائب صدر،اعجاز چانڈیہ سینئر نائب صدر اور نعیم خان چانڈیہ نے کہا کہ حکومت پنجاب ایپکا ملازمین کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنائے۔پٹرول اور روزمرہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ بھی نا قابلِ برداشت ہے اس مہنگائی نے عام آدمی کے لئے بھی جینا محال کر دیا ہے۔ریلی میں تمام سرکاری دفاتر سے ملازمین نے ایپکا ریلی میں شرکت کی۔ریلی سے صدیق الحسن،ملک محمد حسین و دیگر ایپکا ملازمین نے شرکت کی۔

  • مظفرگڑھ پولیس بھتہ مافیا کی مبینہ سرپرست،بھتہ نہ دینے والی ویگنوں سے پولیس اہلکار مسافر اتارنے لگے

    مظفرگڑھ میں بھتہ مافیا کو پولیس کی مبینہ سرپرستی پر ویگن ڈرائیورز سراپا احتجاج بن گئے۔مظاہرین نے پولیس اور بھتہ مافیا کے خلاف نعرے بازی کی ۔مظفرگڑھ میں مقامی پولیس کی جانب سےبھتہ مافیا کو مبینہ سرپرستی دینے اور ڈرائیوز کوہراساں کرنے کے خلاف ویگن ڈرائیورز نےمظفرگڑھ پریس کلب کے باہر اجتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر بھتہ مافیا اور پولیس کے خلاف شدیدنعرے بازی بھی کی۔ مظاہرین کے مطابق بھتہ مافیا کی جانب سے سابقہ کے بی اسٹینڈ پرمبینہ غیرقانونی ویگن اسٹینڈبنایا گیا ہے جس کی سرپرستی مقامی پولیس کررہی ہے۔غیر قانونی اسٹینڈ بنانے والے ڈرائیوروں سے فی چکر کے حساب سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ احتجاجی ڈرائیوز کے مطابق بھتہ دینے سے انکار کرنے والوں کو مقامی پولیس کے ذریعے ہراساں کئے جانے کے ساتھ ناجائز چالان بھی کیے جاتے ہیں۔مظاہرین نے صحافیوں کو پولیس اہلکاروں کی ایک ویڈیو بھی دیکھائی جس میں وہ مبینہ طور پر گاڑیوں سے زبردستی مسافروں کو اتاررہے ہیں۔ اجتجاجی مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او مظفرگڑھ سے نوٹس لینے اور جنرل بس اسٹینڈ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔ دوسری جانب پولیس ترجمان وسیم خان نے ڈرائیوروں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ مقامی ویگن اسٹینڈ مالکان کے جھگڑے کے بعد تحریری معاہدہ میں طے ہوا ہےکہ کسی ویگن اسٹینڈ کے سامنے دوسرے اڈے کی گاڑی کھڑی نہیں کی جائے گی اور تحریری معاہدہ کے مطابق جھگڑے روکنے کیلئے سزا کے طور پر گاڑیاں خالی کروائی جاتی ہیں ۔

  • کار میں گائے چوری کی انوکھی واردات چور پکڑے گئے

    مظفرگڑھ میں پولیس نےچوری کی انوکھی واردات ناکام بنادی،مہنگی کار کے اندر گائے زبردستی گھسا کر چوری کرکے فرار ہونے والے چور پکڑے گئے،گائے بھی برآمد کرلی گئی.مظفرگڑھ کے علاقے رنگ پور میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ایک کار کو پکڑلیا،پولیس ذرائع کیمطابق کار سوار چوروں نے ضلع جھنگ سے گائے چوری کی اور گائے کو قیمتی کار میں گھسا کر مظفرگڑھ منتقل کررہے تھے.پولیس تھانہ رنگپور نے کار سمیت گائے برآمد کرلی.گائے چور دو ملزمان کو گرفتار کرلیاگیا جبکہ ایک چور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا.پولیس تھانہ رنگپور نے گائے چوروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے.

  • لیگی ممبر صوبائی اسمبلی کا غریب کاشتکار کی زمین پر قبضہ

    مظفرگڑھ میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے نے غریب کاشتکار کی زمین پر قبضہ کر کے اسے گھر سے بے گھر کردیا۔وزیراعظم شکایت سیل میں درخواست دینے پر لیگی ممبر صوبائی اسمبلی نے کاشتکار پرزمین تنگ کر دی۔مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے علاقے چوک سرور شہید کے رہائشی ربنواز نے مظفرگڑھ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی سے کاشتکاری کے لئے25ایکڑ زرعی اراضی خریدی لیکن مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی سردار اظہر چانڈیہ کے بیٹے مظہر چانڈیہ نے زمین پر قبضہ کرلیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اس حوالے وزیراعظم شکایت سیل میں درخواست بھی دی جس پر لیگی ایم پی اے سردار اظہر خان چانڈیہ جان کا دشمن گیا اور اظہر چانڈیہ کے بیٹے مظہرچانڈیہ نے اپنےساتھیوں کے ہمراہ ربنواز اور اس کے بھائی کو اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ربنواز کا کہنا تھاکہ کہ اس نے مظہر چانڈیہ کے خلاف ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کو درخواستیں دیں لیکن تاحال ملزمان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ربنواز کا کہنا تھاکہ ایم پی اے سردار اظہر چابڈیہ اور اس کے بیٹے مظہر چانڈیہ و ساتھیوں نے ان کی زندگی اجیرن کردی ہے اور دھمکیوں اور خوف کی وجہ سے وہ دربدر ہیں اور بااثر ملزمان کے ڈر سےگھر بار چھوڑ کر ملتان میں رہائش پذیر ہیں۔ربنواز نے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے دادرسی اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

  • مظفرگڑھ میں دریائے سندھ کا کٹاو سینکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ،کئی مکان دریابرد ہوگئے۔

    مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں دریائے سندھ کا لنڈی پتافی کے مقام پر شدید کٹاو جاری ،درجنوں بستیاں دریا برد ،سینکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں۔ متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بے یارومددگار ہیں۔جتوئی کے علاقہ لنڈی پتافی کے مقام پر دریائے سندھ کا کٹاو تیزی سے جاری ہے۔ دریا کے شدید کٹاو کی وجہ سے درجنوں بستیاں دریا برد ہو چکی ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دس سال سے دریا کا کٹاو جاری ہے لیکن مقامی نمائندے اور انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دے رہے جبک دریا کے کٹاو کی وجہ سے بستی جلال،بستی نوناری،بستی لسکانی دریا برد اور سینکڑوں ایکڑ کهڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔اس سب کے باوجود مقامی نمائندے صرف وعدوں تک محدود ہیں ۔متاثرین کی اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔دریائی کٹاو کی وجہ سے متاثرین کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔متاثرین نے احتجاج کرتے پوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے سپر بند کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ہڑتال کامیاب نہ ہونے پر انجمن تاجران مظفرگڑھ غنڈا گردی پر اترآئی۔

    مظفرگڑھ میں انجمن تاجران کے عہدیداروں کی غنڈا گردی،زبردستی دکانیں بند کروانے پر تاجروں کے مابین ہنگامہ آرائی۔تاجر تنظیم کے عہدیداروں کی رشید حلوائی چوک ،مملہ چوک سمیت مختلف علاقوں میں دکانیں زبردستی بند کروانے کی کوشش پر تاجروں نے پولیس طلب کرلی ۔دکانیں بند کروانے والے شرپسندوں نے تاجروں کو زدوکوب بھی کیا ۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پایا اور دکانیں کھولنے والے تاجروں کو تحفظ فراہم کیا۔پولیس کے بازار میں گشت کی وجہ سے دکانداروں نے اپنی دکانیں کھولنی شروع کردیں۔تاجروں کا کہنا تھاکہ چند شرپسند تاجر رہنما اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے تاجروں کو کاروبار سے روک رہے ہیں انتظامیہ دکانیں زبردستی بند کروانے کا نوٹس لے اور شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔