Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • پیکا ایکٹ: آزادی صحافت پر حملہ، صحافیوں کیخلاف ناجائز استعمال بند کیا جائے، سمیع اللہ عثمانی

    پیکا ایکٹ: آزادی صحافت پر حملہ، صحافیوں کیخلاف ناجائز استعمال بند کیا جائے، سمیع اللہ عثمانی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (رجسٹرڈ) نے پاکستان میں پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف جاری مقدمات، گرفتاریوں اور اظہار رائے پر عائد پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم نے آزاد کشمیر میں روزنامہ جموں کشمیر پر مقدمہ درج کرنے کے عمل کو بھی آزادی صحافت پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔

    صدر جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے سمیع اللہ عثمانی نے اپنے ایک بیان میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے شروع کی گئی تین روزہ "آزادی صحافت مہم” کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم 15 اپریل کو یوم سیاہ، 16 اپریل کو پریس فریڈم مارچ اور 17 اپریل کو ہونے والے احتجاجی جلسے میں بھرپور انداز میں اپنی یکجہتی کا اظہار کرے گی۔

    نائب صدر محمد سفیر، ڈپٹی ایڈیشنل سیکرٹری حنا محبوب اور ایگزیکٹو کونسل ممبر علیشاہ عندلیب نے مشترکہ طور پر اپنے بیان میں کہا کہ پیکا ایکٹ کو اظہار رائے کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف پاکستان کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان متنازعہ قوانین پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے اور میڈیا پر بے جا قدغنیں لگانے کی بجائے ایک مثبت اور تعمیری مکالمے کو فروغ دیا جائے۔

    جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے نے دنیا بھر کی تمام صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کا فوری نوٹس لیں اور آزادی اظہار کے حق میں اپنی مضبوط آواز بلند کریں۔ تنظیم نے کہا کہ صحافیوں کو ان کے جائز پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہیں۔

  • ننکانہ :غفلت کی انتہا،ڈی ایچ کیو ہسپتال، ایکسرے فلم غائب،مریض خوار،کس کا ہوگااحتساب؟

    ننکانہ :غفلت کی انتہا،ڈی ایچ کیو ہسپتال، ایکسرے فلم غائب،مریض خوار،کس کا ہوگااحتساب؟

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ننکانہ صاحب میں طبی سہولیات کا سنگین بحران سامنے آیا ہے، جہاں دانتوں کے شعبے میں ایکسرے فلم کی مسلسل عدم دستیابی نے مریضوں کو شدید اذیت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ صورتحال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔

    باوثوق ذرائع کے مطابق ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ میں کافی دنوں سے ایکسرے فلم موجود نہیں ہے، جس کے باعث دور دراز سے علاج کی غرض سے آنے والے سینکڑوں مریضوں کا نہ تو مکمل معائنہ ممکن ہو پا رہا ہے اور نہ ہی ان کا بروقت علاج شروع کیا جا سکا ہے۔ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی سنجیدہ اور فوری اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی بے حسی اور ہٹ دھرمی اب معمول کا حصہ بن چکی ہے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈینٹل ڈیپارٹمنٹ میں بہترین اور قابل ڈاکٹرز کے ساتھ تربیت یافتہ عملہ بھی موجود ہے، جو مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ روزانہ تقریباً 100 کے قریب مریض دونوں شفٹوں میں اس شعبے سے امیدیں وابستہ کر کے رجوع کرتے ہیں لیکن بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انہیں مایوس اور خوار ہو کر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ کیا یہ انسانیت سوز سلوک کسی بھی صورت میں قابل قبول ہے؟

    مجبور اور پریشان حال مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر طلحہ شیروانی سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سنگین صورتحال کی فوری اصلاح کی جائے اور مریضوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

    عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اس بدترین صورتحال کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ ایم ایس کی نااہلی ہے یا پروکیورمنٹ آفیسر کی مجرمانہ غفلت؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس کا فوری تعین کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں صحت جیسے حساس شعبے میں ایسی سنگین غفلت کا اعادہ نہ ہو۔

    شہریوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صحت جیسا انتہائی اہم اور حساس شعبہ کسی بھی قسم کی لاپرواہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اعلیٰ ترین حکام کو اس معاملے پر فوری اور فیصلہ کن ایکشن لینا ہو گا اور ان بے بس مریضوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہو گا جو سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو ان کی فریاد سنے اور اس نظام کی نااہلی کا محاسبہ کرے؟

  • ننکانہ : ایم سی بی اور اسٹیٹ بینک کا مشترکہ اقدام، قومی مالی خواندگی پروگرام کا آغاز

    ننکانہ : ایم سی بی اور اسٹیٹ بینک کا مشترکہ اقدام، قومی مالی خواندگی پروگرام کا آغاز

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ایم سی بی بینک نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تعاون سے ملک میں مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل فائننشل لٹریسی پروگرام (NFLP) یعنی قومی مالی خواندگی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔

    اس سلسلے میں ایم سی بی بینک کی ننکانہ برانچ میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں برانچ مینیجر زبیر بشیر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فیلڈ ٹرینر ممتاز احمد، ایم سی بی کے ریلیشن شپ مینیجر انضمام الحق اور کریڈٹ آفیسر محمد طاہر نوید سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

    نیشنل فائننشل لٹریسی پروگرام کا بنیادی مقصد عام افراد کو مالی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے ضروری علم اور مہارت فراہم کرنا ہے۔ اس مالی شمولیت کے پروگرام کے تحت محفوظ بچت کے لیے بینکنگ نظام تک رسائی کو وسیع کیا جائے گا، اثاثوں میں اضافے کے لیے کریڈٹ کے حصول کو بہتر بنایا جائے گا، اقتصادی خوشحالی میں اضافے کے لیے مالیاتی معلومات تک رسائی کو آسان بنایا جائے گا، محفوظ مالی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے جامع مواقع فراہم کیے جائیں گے اور اخراجات کے مؤثر انتظام کے لیے بچت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

    اس پروگرام کے تحت مالی استحکام کو بڑھانے والے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی، جن میں مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے مارکیٹوں کی توسیع اور غیر رسمی کمیٹیوں کے علاوہ بچت کے محفوظ متبادل کی پیشکش شامل ہیں۔

    تقریب میں بتایا گیا کہ مالی شمولیت غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ذریعے انہیں روایتی اور اسلامی دونوں طرح کی مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل ہو سکے گی، بہتر آمدنی اور اخراجات سے باخبر رہنے کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، قرضوں، کریڈٹ کارڈز اور ویزا جیسی سہولیات کے لیے ضروری کارروائیوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی، ذہنی سکون کے لیے محفوظ بچت کے آپشنز میسر ہوں گے اور قیمتی سامان کے لیے محفوظ لاکر کی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔

    اس مشترکہ اقدام کا مقصد ملک کے زیادہ سے زیادہ افراد کو مالی طور پر بااختیار بنانا اور انہیں قومی معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ ایم سی بی بینک اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اس تعاون سے مالی خواندگی کی شرح میں اضافہ اور مالی شمولیت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

  • ننکانہ : گوردوارہ جنم استھان میں ویساکھی میلے کا عروج، عقیدت کا سمندر امڈ آیا

    ننکانہ : گوردوارہ جنم استھان میں ویساکھی میلے کا عروج، عقیدت کا سمندر امڈ آیا

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) گوردوارہ جنم استھان میں وساکھی کی روح پرور تقریب، دنیا بھر سے آئے یاتریوں کا پاکستان سے محبت کا اظہار

    ننکانہ صاحب سکھ دھرم کے روحانی مرکز ننکانہ صاحب میں وساکھی میلے کی مرکزی تقریب گوردوارہ جنم استھان میں عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں سکھ یاتریوں نے بابا گورونانک کی دھرتی پر حاضری دی، ماتھا ٹیکا اور مذہبی رسومات میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ فضاء میں گونجتے شبھ گیت، امن کا پیغام اور بھائی چارے کی خوشبو نے اس موقع کو یادگار بنا دیا۔

    تقریب میں شرکت کے لیے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیر مملکت برائے اقلیتی امور کھیل داس کوہستانی، صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ، اراکین اسمبلی اور دنیا بھر سے آئے سکھ رہنما گوردوارہ جنم استھان پہنچے اور یاتریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

    وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوردوارہ جنم استھان آکر دلی مسرت ہوئی، بابا گورونانک نے اس سرزمین پر جنم لیا، ان کا پیغام محبت، انسانیت اور رواداری پر مبنی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے کی آج اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ہندو برادری کی جانب سے سکھ برادری کو وساکھی کی مبارکباد بھی دی۔

    وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہی ہیں، سکھ یاتری پاکستان سے محبت اور احترام کی خوبصورت یادیں لے کر واپس جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک میں پاکستان کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ گھر ہے۔

    صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے بھارت میں اقلیتوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اقلیتیں دباؤ میں ہیں جبکہ پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے ضلعی انتظامیہ کو وساکھی میلے کے شاندار انتظامات پر مبارکباد دی۔

    ضلعی انتظامیہ نے سکھ یاتریوں کے لیے رہائش، طبی سہولیات، سیکیورٹی اور خوراک کے مثالی انتظامات کیے، جس پر یاتریوں نے انتظامیہ کی مہمان نوازی کو سراہا اور اسے پاکستان کی بین المذاہب ہم آہنگی کا روشن چہرہ قرار دیا۔

    یہ تقریب نہ صرف ایک مذہبی موقع ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے دنیا کو دی جانے والی وہ دعوت ہے جو امن، احترام اور بھائی چارے پر مبنی ہے — ایک پیغام کہ یہ ملک محبت کرنے والوں کا وطن ہے، جہاں سب کو برابر کا درجہ حاصل ہے۔

  • ننکانہ: بیساکھی میلے کی خوشی میں شاندار آتشبازی، فضاء رنگ و نور سے جگمگا اٹھی

    ننکانہ: بیساکھی میلے کی خوشی میں شاندار آتشبازی، فضاء رنگ و نور سے جگمگا اٹھی

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بیساکھی میلے کی خوشی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گوردوارہ جنم استھان میں شاندار آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا، جس نے آسمان پر رنگ و نور کی دلکش چھاپ چھوڑ دی۔ یہ آتشبازی تقریباً 10 منٹ تک جاری رہی، جسے شہریوں اور سکھ یاتریوں نے خوب سراہا۔

    آتشبازی کی اس خوبصورت تقریب میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل، صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ، صوبائی سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ، ممبران اسمبلی اور دیگر ضلعی افسران سمیت سکھ برادری کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    بیساکھی میلے کی مرکزی تقریب کا باقاعدہ آغاز 14 اپریل کی صبح 9 بجے گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں ہوگا، جس میں وفاقی اور صوبائی وزراء شرکت کریں گے۔ اس موقع پر آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، بھارت اور دیگر ممالک سے ہزاروں سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچ چکے ہیں، جو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ رسومات ادا کر رہے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بیساکھی میلے کے موقع پر صفائی ستھرائی، فول پروف سیکیورٹی، طبی سہولیات اور قیام و طعام کے مثالی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ یاتریوں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ ہو۔ مہمان نوازی کے ان انتظامات کو سکھ یاتریوں نے سراہا اور کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی محبت، خلوص اور مہمان نوازی زندگی بھر یاد رہے گی۔

    سکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن اور محبت کرنے والا ملک ہے، اور وہ یہاں سے امن، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام لے کر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مسلمان بھائیوں نے ہمیں جو عزت، محبت اور احترام دیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ سکھ برادری نے بابا گورونانک کے امن، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    ضلعی انتظامیہ نے بیساکھی میلے کے تمام انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سکھ یاتریوں کو بھرپور تحفظ، سہولت اور احترام فراہم کیا، جس کے باعث سکھ یاتری پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں۔

  • ننکانہ: بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے ۔یاتری

    ننکانہ: بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے ۔یاتری

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے ۔یاتری

    تفصیلات کے مطابق بھارتی سکھ یاتریوں کا پہلا بڑا جتھہ، جس کی قیادت جنگ بہار سنگھ کر رہے تھے ننکانہ صاحب پہنچ گیا ہے۔ ان یاتریوں کی آمد بیساکھی میلے کی تقریبات کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

    گوردوارہ جنم استھان پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ پاکستانی حکام نے مہمان یاتریوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور انہیں گلدستے اور ہار پہنائے۔ پہلے دو جتھوں میں تقریباً تین ہزار بھارتی سکھ یاتری شامل تھے جبکہ توقع ہے کہ مجموعی طور پر آج رات 5790 سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچ جائیں گے۔

    بیساکھی میلے کے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سکھ قوم اپنی مذہبی رسومات کا آغاز اکھنڈ پاٹھ صاحب سے کرے گی۔

    بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں نے پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں انہیں بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ضلعی اداروں کے افسران ان کی خدمت میں ہر وقت پیش پیش ہیں۔ سکھ یاتریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان سے محبتیں سمیٹ کر واپس جائیں گے۔

    یاتریوں نے فول پروف انتظامات کرنے پر حکومت پاکستان اور ضلعی انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے دل کھول کر ویزے جاری کیے جس پر وہ تہہ دل سے شکرگزار ہیں۔ بھارتی سکھ یاتریوں نے حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بابا نانک کی دھرتی پر کیے گئے شاندار انتظامات کو سراہا۔

    بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستانی عوام کی جانب سے ملنے والی بے پناہ محبت کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام سکھ قوم سے گہری محبت رکھتے ہیں۔ ایک یاتری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مہمان نہیں، پاکستان ہماری اپنی دھرتی ہے۔ ہمیں اتنی عزت بھارت میں بھی نہیں ملتی جتنی پاکستان نے دی ہے۔

  • ننکانہ صاحب: وساکھی میلے کا رنگارنگ آغاز

    ننکانہ صاحب: وساکھی میلے کا رنگارنگ آغاز

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی(نامہ نگار احسان اللہ ایاز) سکھوں کے مذہبی تہوار وساکھی میلے کی تقریبات ننکانہ صاحب میں جوش و خروش سے شروع ہو گئیں۔ دنیا بھر سے سکھ یاتری گوردوارہ جنم استھان پہنچ رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤنے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے گوردوارہ کا دورہ کیا، جہاں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس، ریسکیو سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

    ڈی سی نے سیکیورٹی، عارضی ہسپتال، سکینر مشینیں، لنگر خانہ، رہائش اور پارکنگ ایریا کی سہولیات کا بغور معائنہ کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں یاتریوں کے لیے بنائے گئے خصوصی وارڈز کا بھی جائزہ لیا۔ تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں سیکیورٹی، صحت، رہائش اور لنگر کے فول پروف انتظامات شامل ہیں۔

    وساکھی میلہ 15 اپریل تک جاری رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جہاں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، اور سکھ یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات یقینی بنائی گئی ہیں۔

  • ننکانہ: ڈی سی کا دھماکے دار ایکشن، اب پرائیویٹ سکول مافیا کی لوٹ مار بند، فیسیں ہوں گی کنٹرول

    ننکانہ: ڈی سی کا دھماکے دار ایکشن، اب پرائیویٹ سکول مافیا کی لوٹ مار بند، فیسیں ہوں گی کنٹرول

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی( احسان اللہ ایاز کی خصوصی رپورٹ)ڈی سی کا دھماکے دار ایکشن، اب پرائیویٹ سکول مافیا کی لوٹ مار بند، فیسیں ہوں گی کنٹرول، کسی بھی پرائیویٹ سکول کو فیس بڑھانے سے قبل محکمہ تعلیم سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا

    ضلع ننکانہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے پرائیویٹ سکول مافیا کے خلاف ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کی رجسٹریشن اور من مانی فیسوں کے تعین کے حوالے سے ایک اہم اور فیصلہ کن اجلاس منعقد کیا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو، اسسٹنٹ کمشنرز، ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر اور سی او تعلیم سمیت سکول ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی شرکت نے اس اجلاس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پرائیویٹ سکول اپنی فیسوں میں 05 فیصد سے زائد اضافہ نہیں کر سکیں گے۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ سکولوں کی فیسوں کا تعین ان کے تعلیمی معیار اور طلباء کو فراہم کی جانے والی سہولیات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور ایجوکیشن افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ یکم مئی سے ضلع بھر کے تمام پرائیویٹ سکولوں کی باقاعدگی سے چیکنگ کو یقینی بنائیں۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسی بھی پرائیویٹ سکول کو فیس بڑھانے سے قبل محکمہ تعلیم سے باضابطہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کر دی جائے گی اور انہیں بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے، یہاں تک کہ سکول کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

    نئے پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی سخت قوانین وضع کیے گئے ہیں جن کے تحت بلڈنگز میں تمام ضروری سہولیات کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا اور رجسٹریشن سے قبل تمام متعلقہ سرکاری اداروں سے باقاعدہ سرٹیفکیٹس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    ڈپٹی کمشنر نے پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کی کوالیفیکیشن کے معیار کو بھی طے کرنے پر زور دیا تاکہ طلباء کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے تمام پرائیویٹ سکولوں کو قانون کے مطابق 10 فیصد مستحق طلباء کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی بھی سختی سے ہدایت کی اور واضح کیا کہ اس حکم پر کسی قسم کی خانہ پری ناقابل قبول ہوگی۔

    ایک اہم اعلان کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے تمام پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت کی کہ وہ پاک فوج اور سول سروس کے شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کریں۔ رجسٹریشن کے لیے این او سی جاری کرنے والے تمام اداروں کو اس بات کا سرٹیفکیٹ لازمی طور پر حاصل کرنا ہوگا کہ متعلقہ سکول شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے تیار ہے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے واضح کیا کہ ان احکامات پر ہر صورت میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے اس تاریخی اقدام سے ضلع ننکانہ میں پرائیویٹ سکولوں کی من مانیوں کا خاتمہ اور معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی عہدہ سنبھال لیا

    پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا اضافی عہدہ سنبھال لیا

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز) پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ کو بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کے وائس چانسلر کا اضافی چارج چھ ماہ کے لیے سونپ دیا گیا ہے۔ اپنے نئے چارج سنبھالنے کے موقع پر، پروفیسر سجاد مبین نے یونیورسٹی کی ترقی اور مسائل کے حل کے حوالے سے اپنے ویژن کا اظہار کیا۔

    پروفیسر مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران سے ملاقات میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں کی جانے والی اہم اصلاحات کا ذکر کیا، جن سے تعلیمی معیار میں بہتری آئی۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ اسی جذبے اور ویژن کے ساتھ بابا گورو نانک یونیورسٹی کو بھی ترقی دیں گے۔

    انہوں نے فیکلٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایم فل پروگرامز کے آغاز اور ایلائیڈ سائنسز میں نئے ڈگری پروگرامز شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ، پروفیسر مبین نے کلاس رومز کا دورہ کیا اور طلباء کے مسائل سنے۔

    ڈاکٹر سجاد مبین نے عوامی و نجی شراکت داری کے تحت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور حال ہی میں نصب ہونے والے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، پروفیسر مبین نے بابا گورو نانک یونیورسٹی کے زیر تکمیل کیمپس کا دورہ کیا اور کیمپس کی تیز تکمیل کے لیے ہدایات دیں۔

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے ترجمان کے مطابق، پروفیسر مبین نے اپنی تقرری کے بعد اوکاڑہ یونیورسٹی کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں ویک اینڈ پروگرامز، سکل ڈویلپمنٹ کورسز، اور صنعتی شراکت داری شامل ہیں۔ وہ یہی اقدامات بابا گورو نانک یونیورسٹی میں بھی لاگو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی انفراسٹرکچر اور انتظامی مسائل حل ہو سکیں۔

  • ننکانہ : قاری مشتاق کا "سیرت رحمت اللعالمین” میں ملکی سطح پر پہلا انعام

    ننکانہ : قاری مشتاق کا "سیرت رحمت اللعالمین” میں ملکی سطح پر پہلا انعام

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) معروف عالم دین قاری مشتاق احمد کے تحقیقاتی مکالمے "سیرت رحمت اللعالمین” نے ملک بھر میں منعقدہ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس شاندار کامیابی پر حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ایوارڈ اور تعریفی سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس مقابلے میں قاری مشتاق احمد کے تحقیقی مقالے "سیرت رحمت اللعالمین” کو ملک بھر میں اول قرار دیا گیا۔ انہیں یہ اعزاز نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایک پروقار تقریب کے دوران ایوارڈ اور تعریفی سرٹیفیکیٹ دے کر سرفراز کیا۔ اس قومی سطح کے مقابلے میں ایک ہزار سے زائد علماء کرام اور مختلف جامعات کے طلباء و طالبات نے حصہ لیا تھا۔

    سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب رائے ملازم حسین کھرل المعروف عبداللہ مجاہد نے قاری مشتاق احمد سے ان کی اس عظیم کامیابی پر ملاقات کی اور انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ رائے ملازم حسین عبداللہ مجاہد نے اس موقع پر کہا کہ قاری مشتاق احمد اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی ایک محنتی اور باصلاحیت انسان رہے ہیں اور ملکی سطح پر یہ شاندار کامیابی انہیں مزید ممتاز بناتی ہے، جس پر ہم سب فخر محسوس کرتے ہیں اور اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔