Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ،ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے رشوت طلب کرنے پر یونین کونسل نائب قاصد گرفتار

    ننکانہ،ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے رشوت طلب کرنے پر یونین کونسل نائب قاصد گرفتار

    ننکانہ صاحب
    (احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار )

    ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے رشوت طلب کرنے پر یونین کونسل میں کارروائی، نائب قاصد سے نشان زدہ رقم برآمدننکانہ صاحب ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے شہری سے 10 ہزار روپے رشوت طلب کرنے کی شکایت پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ننکانہ صاحب نے کارروائی کرتے ہوئے یونین کونسل کے نائب قاصد محمد نواز عرف ننھا بابا سے نشان زدہ رقم برآمد کرلی تفصیلات کے مطابق چک نمبر 43 آر بی کوٹلہ کلاں کے رہائشی اور پاک فوج کے ریٹائرڈ اہلکار لیاقت علی نے اینٹی کرپشن میں درخواست دی کہ اپنی پھوپھی کی وراثت اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کے سلسلے میں متعلقہ سیکرٹری یونین کونسل کے مطالبے پر نائب قاصد محمد نواز عرف ننھا بابا نے اس سے 10 ہزار روپے رشوت طلب کی۔درخواست پر اینٹی کرپشن سرکل آفیسر اصغر علی نے ٹیم کے ہمراہ علاقہ مجسٹریٹ صفدر علی خان کی نگرانی میں کارروائی کی، جس کے دوران نائب قاصد محمد نواز عرف ننھا بابا سے نشان زدہ 10 ہزار روپے برآمد کرلیے گئے۔اینٹی کرپشن تھانہ ننکانہ صاحب نے مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کردی ہے۔

  • ننکانہ،گیس بحران سنگین، ایل پی جی بلیک میں 440 روپے کلو تک فروخت

    ننکانہ،گیس بحران سنگین، ایل پی جی بلیک میں 440 روپے کلو تک فروخت

    ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار )

    ننکانہ صاحب اور گردونواح میں گیس بحران سنگین، ایل پی جی بلیک میں 440 روپے کلو تک فروخت، گیس مافیا اور انتظامیہ کے سامنے شہری بے بس
    ننکانہ صاحب اور اس کے گردونواح میں سوئی گیس کی طویل بندش، عدم دستیابی اور شدید کم پریشر نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کئی علاقوں میں گزشتہ 6 ماہ سے گیس کی فراہمی معطل ہے جبکہ متعدد آبادیوں میں کئی روز سے گیس مکمل بند ہے۔ جن علاقوں میں گیس کی آمد ہوتی بھی ہے، وہاں پریشر انتہائی کم ہونے کے باعث خواتین کو کھاناکی تیاری اور گھریلو امور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سوئی گیس کی عدم دستیابی کے باعث شہری متبادل کے طور پر ایل پی جی کے استعمال پر مجبور ہیں، تاہم وہاں بھی گرانفروشی کا بازار گرم ہے۔ حکومت اور اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافے کے بعد نئی سرکاری قیمت 258 روپے 65 پیسے فی کلو مقرر کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں اس پر عملدرآمد ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ننکانہ صاحب اور نواحی علاقوں میں ایل پی جی سرکاری قیمت پر دستیاب نہیں اور دکاندار من مانے دام وصول کرتے ہوئے 400 سے 440 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں اس صورتحال پر مقامی ایل پی جی دکانداروں کا موقف ہے کہ انہیں پلانٹس، ہول سیلرز اور سپلائرز کی طرف سے ہی گیس سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث وہ مقررہ سرکاری ریٹ پر فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔شہریوں نے گلہ کیا ہے کہ ایک طرف سوئی گیس کے بھاری بل موصول ہو رہے ہیں اور دوسری طرف مہنگی ایل پی جی کی خرید ان کے لیے معاشی عذاب بن چکی ہے۔ اہل ننکانہ نے اعلیٰ حکام، اوگرا اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کا پریشر اور فراہمی فوراً بحال کی جائے اور ایل پی جی کی کی مقررہ ریٹ پر فراہمی یقینی بنائی جائے گرانفروشوں اور من مانی کرنے والے سپلائرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • ننکانہ، ڈکیتی، چوری کی وارداتوں کی لہر، شہری لاکھوں کے مال سے محروم

    ننکانہ، ڈکیتی، چوری کی وارداتوں کی لہر، شہری لاکھوں کے مال سے محروم

    ننکانہ صاحب
    (احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار )

    ننکانہ صاحب کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور چوری کی متعدد وارداتوں نے شہریوں کو پریشان کر دیا۔ شہری لاکھوں روپے مالیت کے مال و زر سے محروم ہو گئے۔ت

    فصیلات کے مطابق شاہکوٹ کے رہائشی مزمل حسین جڑانوالہ سے واپس گھر آ رہے تھے کہ تھانہ صدر شاہکوٹ کے علاقے کوٹ نظام دین سٹاپ کے قریب دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے انہیں گن پوائنٹ پر روک لیا اور 18 ہزار روپے نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔تھانہ منڈی فیض آباد کے علاقے کریشیاں والا روڈ پر مرزاپور کے قریب چار مسلح ڈاکوؤں نے جڑانوالہ کے رہائشی افتخار کو گن پوائنٹ پر روک کر 20 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا، جبکہ فرار ہوتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ اسی علاقے میں بھٹہ چوک منڈی فیض آباد میں نامعلوم چور المدینہ فرٹیلائزر کے مالک زاہد جاوید کی دکان کے تالے توڑ کر کیش بکس سے 2 لاکھ 32 ہزار روپے نقدی اور 15 لاکھ روپے مالیت کا چیک لے گئے۔ مزید برآں، کھولے کوٹ امین روڈ پر باغ میں چھپے تین مسلح افراد نے عباس بھٹی کو روک کر 7 سے 8 ہزار روپے نقدی اور موٹر سائیکل چھین لی۔تھانہ مانگٹانوالہ کے علاقے ببر والا میں دربار رائے احمد علی پر سوئے ہوئے سلیم علی کے پرس سے نامعلوم چور 20 ہزار روپے نقدی، موبائل فون اور موٹر سائیکل کے کاغذات چوری کرکے لے گئے، جبکہ رتی ٹبی کے گورنمنٹ پرائمری سکول سے چار پنکھے اتار کر لے گئے۔تھانہ صدر سانگلہ ہل کے علاقے روڑی والا میں نامعلوم چور عرفان علی کے زرعی رقبے سے تقریباً ایک لاکھ روپے مالیت کی ٹرانسفارمر کوائل اور بجلی کی تار چوری کرگئے۔تھانہ بڑا گھر کے علاقے کوٹ نامدار میں رائے فضل عباس کے زرعی رقبے میں نصب ٹیوب ویل سے نامعلوم چور سٹارٹر اور 90 گز تانبے کی تار لے اڑے۔تھانہ واربرٹن کے علاقے سبحان پورہ میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے مانانوالہ کے رہائشی اسد مسیح کی گھر کے باہر کھڑی موٹر سائیکل نمبر SAK-2395 بھی نامعلوم چور لے گئے۔پے در پے ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ پولیس نے واقعات کی تحقیقات اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • ننکانہ صاحب، گوردواروں کو جانے والی مرکزی شاہراہ کی تعمیر سست روی کا شکار

    ننکانہ صاحب، گوردواروں کو جانے والی مرکزی شاہراہ کی تعمیر سست روی کا شکار

    ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز، باغی ٹی وی نامہ نگار) کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ کی تعمیر و بحالی اور بیوٹیفکیشن کا منصوبہ شدید سست روی کا شکار ہو گیا، جبکہ بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کی عالمی تقریبات قریب آنے کے باوجود منصوبے پر ذرائع کے مطابق 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا، جس پر شہری حلقوں نے انتظامی نگرانی اور منصوبے کی بروقت تکمیل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کروڑوں روپے کی لاگت سے جاری یہ منصوبہ گوردوارہ جنم استھان سمیت ننکانہ صاحب کے اہم مذہبی مقامات کو جانے والے مرکزی راستے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شاہراہ کے اطراف گوردوارہ جنم استھان، گوردوارہ تنبو صاحب، گوردوارہ پانچویں و چھٹی پادشاہی، گوردوارہ مال جی صاحب اور گوردوارہ کیارہ صاحب سمیت اہم گوردوارے واقع ہیں۔دنیا بھر سے سکھ یاتری ہر سال بابا گورو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب پہنچتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق 2026 میں جنم دن کی تقریبات 24 نومبر کو ہوں گی، جبکہ نومبر کے دوران سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر تعمیراتی کام اسی رفتار سے جاری رہا تو عالمی سطح پر اہمیت رکھنے والے مذہبی تہوار کے موقع پر سکھ یاتریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    معتبر ذرائع کے مطابق متعلقہ افسران کی جانب سے منصوبے کے باقاعدہ اور مؤثر سائٹ وزٹس نہ ہونے کے باعث تعمیراتی کام کی رفتار اور نگرانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ صورتحال میں میونسپل آفیسر آئی اینڈ ایس حسیب احمد کی نگرانی اور ذمہ داری بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ منصوبے کے تعمیراتی معیار، رفتار اور موقع پر نگرانی میں متعلقہ شعبے کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔شہری حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی پیش رفت کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے، موقع پر معائنہ کیا جائے اور متعلقہ افسران کو واضح ٹائم لائن کے مطابق دن رات کام مکمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوردوارہ جنم استھان سمیت اہم مذہبی مقامات کو جانے والی اس مرکزی شاہراہ کے منصوبے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں، تاکہ منصوبہ مقررہ وقت پر معیاری انداز میں مکمل ہو اور دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • ننکانہ صاحب، کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال،پولیس اہلکاروں کیخلاف کاروائیاں

    ننکانہ صاحب، کرپشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال،پولیس اہلکاروں کیخلاف کاروائیاں

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    ننکانہ صاحب میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور محکمانہ غفلت پر ایک پولیس انسپکٹر اورایک کانسٹیبل نوکری سے فارغ، ایک سب انسپکٹر اور ایک اے ایس آئی کی عہدوں سے تنزلی، ایک انسپکٹر، ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبل معطل، وزیرا علیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پرڈی پی او ارسلان زاہد ان ایکشن، احتساب کا شکنجہ مزیدسخت سخت کر دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او ننکانہ صاحب ارسلان زاہد نے اختیارات کے ناجائز استعمال ثابت ہونے پر سابق ایس ایچ او تھانہ فیض آباد مجاہد عباس ملہی کو محکمہ پولیس سے برخاست کر دیا گیا، جبکہ کرپشن کے الزامات پر ایس ایچ او تھانہ مانگٹانوالا انسپکٹر کفایت حسین کو معطل کر دیا گیا۔کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال ثابت ہونے پر سب انسپکٹر منشاء کی عہدے سے تنزلی کرتے ہوئے اسے اے ایس آئی بنا دیا گیا، جبکہ تھانہ سید والا کی چوکی کوٹ حاکم کے انچارج اکبر قریشی کو بھی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال ثابت ہونے پر عہدے سے تنزلی کرکے کانسٹیبل بنا دیا گیا۔ناقص تفتیش پر انچارج چوکی وزیر پور محبوب احمد کو معطل کر دیا گیا، جبکہ پولیس چوکی موڑ کھنڈا میں تعینات کانسٹیبلان آصف اور اکبر کو کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر معطل کیا گیا۔ اسی چوکی کے کانسٹیبل وقار کو محکمہ پولیس سے برخاست کر دیا گیا۔ڈی پی او ارسلان زاہد نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب کی ہدایت پر رشوت، کرپشن اور محکمانہ ضابطے کی خلاف ورزی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے۔ سنگین نوعیت کے مقدمات میں منصفانہ تفتیش اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈی پی او کا مزید کہنا تھا کہ آر پی او شیخوپورہ رینج اطہر اسماعیل کے احکامات کے مطابق ناجائز قبضے کروانے میں ملوث پولیس افسران و ملازمان ناقابلِ معافی ہیں اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ محکمہ پولیس کی بدنامی کا سبب بننے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

  • ننکانہ،سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کا سکول کا دورہ،تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ

    ننکانہ،سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کا سکول کا دورہ،تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    ننکانہ صاحب میں تعینات ہونے والے سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی گورنمنٹ گورونانک ہائیر سیکنڈری سکول پہنچ گئے، سکول میں طلباء اور اساتذہ کے لئے دستیاب تعلیمی سہولیات اور تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لیا نئے تعینات ہونے والے سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی شفقت محمود نے گورنمنٹ گورونانک ہائیر سیکنڈری سکول کا اچانک دورہ کیا، وہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شکیل احمد رضوی اور سکول کے پرنسپل عبدالسلام طیب کے ہمراہ مختلف کلاس رومز میں گئے، انہوں نے طلباء سے سوالات کیے اور انہیں دل لگا کر اپنی ساری توجہ حصول علم پر دینے کی ہدائیت کی، سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے اساتذہ اور طلباء کی حاضری اور سکول میں صفائی ستھرائی کو چیک کیا، انہوں نے سکول میں بنائے گئے بابا گورونانک میوزیم کا بھی دورہ کیا اور وہاں سکول سے متعلقہ تاریخی دستاویزات اور اشیاء کو دیکھا اور اسے سراہا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے کہا کہ ضلع میں نظام تعلیم اور معیار تعلیم میں مزید بہتری ہمارا مشن ہے جس میں ہم سب نے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔

  • رفاہ انٹرنیشنل کالج اور پریس کلب ننکانہ صاحب کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    رفاہ انٹرنیشنل کالج اور پریس کلب ننکانہ صاحب کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    رفاہ انٹرنیشنل کالج اور پریس کلب ننکانہ صاحب کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، پریس کلب ننکانہ صاحب کے ممبران کے لئے فیسوں میں پچاس فی صد تک رعائیت ہوگی

    رفاہ انٹرنیشنل کالج ننکانہ صاحب کیمپس اور پریس کلب ننکانہ صاحب کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب پریس کلب میں منعقد ہوئی، صدر پریس کلب ننکانہ صاحب چوہدری افضل حق خان اور ڈائریکٹر رفاہ انٹرنیشنل کالج ننکانہ صاحب کیمپس حافظ محسن سعید نے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے، تقریب میں جنرل سیکرٹری پریس کلب محمد آصف بھٹی، سینئر نائب صدر و صدر پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن ننکانہ صاحب قیصر عرفان چوہدری، سینئیرصحافیوں چوہدری محمد رمضان، چوہدری محمد کامران، طارق محمود چوہدری اور محمد ارشد ڈوگر جاوید احمد معاویہ شیخ سلمان محمد طاہر سمیع اللہ عثمانی احسان اللہ ایاز عابد حمید رحمانی سمیت دیگر ممبران جبکہ کیمپس مینجر پروفیسر عبدالراوف چشتی اور وائس پرنسپل پروفیسر فریاد احمد بھی موجود تھے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محسن سعید نے کہا کہ رفاہ کالج و یونیورسٹی ملک بھر میں گزشتہ ستائیس سال سے میدان علم میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے، رفاہ کالج ننکانہ صاحب کیمپس میں 17 مختلف شعبوں میں کلاسز جاری ہیں، انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ہے اور صحافی سارا دن سچ کی تلاش اور مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں، رفاہ کالج ننکانہ صاحب کیمپس میں پریس کلب ننکانہ صاحب کے تمام ممبران اور ان کے بچوں کے لئے فیس میں پچاس فی صد تک رعائیت ہوگی جبکہ دیگر واجبات میں بھی ان کو خصوصی رعایت دی جائے گی تاکہ ان کے بچے بھی معیاری تعلیم باآسانی حاصل کر سکیں، پریس کلب ننکانہ صاحب کے عہدیدران اور ممبران نے مفاہمتی یادداشت پر رفاہ کالج انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

  • ننکانہ ،پولیس کی مبینہ غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد

    ننکانہ ،پولیس کی مبینہ غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    ننکانہ صاحب تھانہ صدرننکانہ پولیس کی مبینہ غیر قانونی حراست سے خاتون برآمد۔عدالت نے ڈی پی او کو تین روز میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا،14 دنوں میں تفتیش مکمل کر کے عدالت میں جامع رپورٹ داخل کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں، عدالت نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو غیر قانونی حراست میں رکھنا آیئن پاکستان کی سنگین خلاف ورزی ہے

    تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی حدود میں مبینہ غیر قانونی حراست، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے جہاں صدیق کالونی کی رہائشی شمیم بی بی نے اپنی جواں سالہ بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر حسین کو مبینہ طور پر پولیس کی غیر قانونی حراست میں رکھنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیادرخواست گزار کا الزام تھا کہ پولیس اہلکاران آصف اقبال ایس ایچ او معہ کانسٹیلان ظہیر احمد اور کاشف وغیرہ 31 جولائی کو صبح تقریباً نو بجے دن مبینہ طور پر زبردستی اس کے گھر میں داخل ہوئے، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا اور اس کی بیٹی شکیلہ پروین اور بیٹے مدثر حسین کو اپنے ساتھ لے گئے۔ درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے بغیر شکیلہ پروین کو تھانہ میں رکھا گیا اور اہل خانہ سے مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا، بصورت دیگر جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکی دی گئی جس پر جناب عبد الحفیظ بھٹہ صاحب ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نے عدالتی بیلف مقرر کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران تھانہ کا رجسٹر چیک کیا گیا تو پر شکیلہ پروین کی گرفتاری یا کسی مقدمے کے تحت حراست کا اندراج موجود نہیں تھا
    بیلف کی کارروائی کے دوران شکیلہ پروین کو مبینہ طور پر تھانہ کے ایک ایسے کمرے سے برآمد کیا گیا جو ایس ایس آئی او یونٹ تفتیشی عملے کے دفتر سے منسلک تھااور خواتین ملزمان کی تفتیش کے لیے مختص ہے شکیلہ پروین نے بیلف کے سامنے بیان دیا کہ اسے تقریباً 24 گھنٹے سے زائد تھانہ میں رکھا گیا ہےتاہم مغوی مدثر حسین برآمد نہ ہو سکا ہے
    دوسری جانب مقامی پولیس نے عدالت میں تحریری مؤقف لیتے ہوے بتایا ہے کہ مذکورہ خاتون کو پولیس نے گرفتار نہیں کیا بلکہ وہ خود کمرے میں آ کر بیٹھی ہوئی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پولیس کو اپنے موقف کی سچائی ثابت کرنے کے لیے تھانہ کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ پیش کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا تھا لیکن پولیس ایسا ثبوت جو ان کے مکمل اختیار میں ہے عدالت میں پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ عدالت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او ننکانہ صاحب کو متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف تین روز کے اندر مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور کم از کم ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں ہیں عدالت نے ڈی پی او ننکانہ کو مزید احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ 31 جولائی سے لے کر یکم اگست تک تھانہ کا تمام دستاویزی اور الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ کریں اور 14 دنوں کے اندر تفتیش مکمل کرکے عدالت میں جامع رپورٹ داخل کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں ہیں
    ضلع ننکانہ صاحب میں انسانی بنیادی حقوق، شہری آزادیوں اور پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے بالخصوص ایسے وقت میں صوبے میں خواتین کے تحفظ اور وقار کے بلند بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں اور صوبہ کی وزیراعلی ایک خاتون ہے اس کے ساتھ ساتھ صوبہ کی چیف جسٹس بھی ایک خاتون ہی ہے اور خاتون کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے

  • ننکانہ ،میٹرک امتحان میں‌1186 نمبر لینے والی طالبہ کو سی ای او کی شاباش

    ننکانہ ،میٹرک امتحان میں‌1186 نمبر لینے والی طالبہ کو سی ای او کی شاباش

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب
    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ننکانہ شازیہ بانو نے لاہور بورڈ میٹرک سالانہ امتحان 2026 میں گورنمنٹ گرلز بنات الاسلام ہائی سکول واربرٹن کی ہونہار طالبہ حمنہ ایمن کو 1186 نمبر حاصل کرنے پر شاباش اور مبارکباد دی

    سی ای او ایجوکیشن ننکانہ نے کہا کہ حمنہ ایمن کی یہ شاندار کامیابی ضلع ننکانہ کے سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے باعثِ فخر ہے اور دیگر طلبہ و طالبات کے لیے بہترین مثال ہے۔سی ای او ایجوکیشن شازیہ بانو نے لاہور بورڈ میٹرک سالانہ امتحان 2026 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ضلع بھر کے تمام طلبہ و طالبات، ان کے والدین، اساتذہ کرام، سکول سربراہان اور تدریسی عملے کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی طلبہ کی محنت، اساتذہ کی لگن، سکول سربراہان کی مؤثر قیادت اور والدین کی رہنمائی کا ثمر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہترین نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلبہ و طالبات ہماری بھرپور ستائش کے مستحق ہیں، جبکہ جو طلبہ اپنی توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر سکے وہ مایوس نہ ہوں بلکہ مزید محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی تعلیمی جدوجہد جاری رکھیں۔سی ای او ایجوکیشن شازیہ بانو نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ننکانہ صاحب معیاری تعلیم کے فروغ، بہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی اور طلبہ و طالبات کی ترقی کے لیے اپنی کاوشیں آئندہ بھی جاری رکھے گی۔

  • ننکانہ،دو سالہ منصوبہ ایک بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا

    ننکانہ،دو سالہ منصوبہ ایک بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    دو سالہ منصوبہ ایک بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا؟ پیر احمد شاہ روڈ پارک میں کروڑوں روپے کے منصوبے پر سوالات

    ڈائریکٹر فنانس پی ایچ اے و چیف آفیسر ضلع کونسل گلشن نورین سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کریں اور وضاحت کریں کہ اگر منصوبے میں ڈرینیج سسٹم شامل تھا تو وہ مؤثر کیوں ثابت نہ ہو سکا

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک آزاد تکنیکی انکوائری کروائیں

    ننکانہ صاحب تحقیقی رپورٹ
    پیر احمد شاہ روڈ پر تقریباً دو سال کی مدت میں تیار کیے گئے پارکس کا منصوبہ حالیہ شدید بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیااور ڈوبا ہوا ہے ،جس کے باعث منصوبے کے معیار، ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم اور نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں،بارش کے اگلے روز بھی پارکس میں پانی کھڑا ہے جبکہ قیمتی گھاس، آرائشی پودے اور ہارٹیکلچر کا کام متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، پی ایچ اے ننکانہ صاحب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نکاسی آب کا مؤثر انتظام موجود ہوتا تو پانی اس طرح جمع نہ رہتا۔
    تحقیقی جائزے اور ذرائع کے مطابق کسی بھی جدید پارک کی تعمیر میں ڈرینیج سسٹم بنیادی جزو ہوتا ہے تاکہ بارش کا پانی فوری طور پر نکال کر گھاس، پودوں اور زمین کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ اگر پانی طویل عرصہ کھڑا رہے تو گھاس کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں، آرائشی پودے خراب ہو سکتے ہیں اور لینڈ اسکیپنگ بھی نقصان اٹھاتی ہے،اس صورتحال نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے،کیا پارک کی تعمیر کے وقت ڈرینیج سسٹم کا باقاعدہ ڈیزائن تیار کیا گیا تھا،کیا اگر ڈرینیج پلان موجود تھا تو بارش کا پانی بروقت کیوں خارج نہ ہو سکا،کیا تعمیراتی کام منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق مکمل کیا گیاہے اور کیا جا رہا ہے،اگر منصوبے میں کسی قسم کی فنی خامی یا نگرانی میں غفلت ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے،قومی خزانے سے اب تک ان پارکوں کی تعمیرنواور خوبصورتی پر پی ایچ اے ننکانہ صاحب کروڑوں روپے خرچ کر چکا ہے اور اس خرچ ہونے والی رقم کے تحفظ کے لیے معیار کی جانچ کیوں نہ کرائی جائے، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف پارکس تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ اس کی معیاری منصوبہ بندی، مؤثر نکاسی آب اور بعد از تعمیر دیکھ بھال بھی اتنی ہی ضروری ہے، ورنہ عوامی وسائل ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک آزاد تکنیکی انکوائری کروائیں، جس میں پارک کے ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم، تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے فنڈز اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ مزید برآں، ڈائریکٹر فنانس پی ایچ اے و چیف آفیسر ضلع کونسل گلشن نورین سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کریں اور وضاحت کریں کہ اگر منصوبے میں ڈرینیج سسٹم شامل تھا تو وہ مؤثر کیوں ثابت نہ ہو سکا، اگر انکوائری سے ثابت ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی، نگرانی یا تعمیراتی معیار میں غفلت برتی گئی ہے تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔