Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ،دو سالہ منصوبہ ایک بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا

    ننکانہ،دو سالہ منصوبہ ایک بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    دو سالہ منصوبہ ایک بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا؟ پیر احمد شاہ روڈ پارک میں کروڑوں روپے کے منصوبے پر سوالات

    ڈائریکٹر فنانس پی ایچ اے و چیف آفیسر ضلع کونسل گلشن نورین سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کریں اور وضاحت کریں کہ اگر منصوبے میں ڈرینیج سسٹم شامل تھا تو وہ مؤثر کیوں ثابت نہ ہو سکا

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک آزاد تکنیکی انکوائری کروائیں

    ننکانہ صاحب تحقیقی رپورٹ
    پیر احمد شاہ روڈ پر تقریباً دو سال کی مدت میں تیار کیے گئے پارکس کا منصوبہ حالیہ شدید بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیااور ڈوبا ہوا ہے ،جس کے باعث منصوبے کے معیار، ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم اور نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں،بارش کے اگلے روز بھی پارکس میں پانی کھڑا ہے جبکہ قیمتی گھاس، آرائشی پودے اور ہارٹیکلچر کا کام متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، پی ایچ اے ننکانہ صاحب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نکاسی آب کا مؤثر انتظام موجود ہوتا تو پانی اس طرح جمع نہ رہتا۔
    تحقیقی جائزے اور ذرائع کے مطابق کسی بھی جدید پارک کی تعمیر میں ڈرینیج سسٹم بنیادی جزو ہوتا ہے تاکہ بارش کا پانی فوری طور پر نکال کر گھاس، پودوں اور زمین کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ اگر پانی طویل عرصہ کھڑا رہے تو گھاس کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں، آرائشی پودے خراب ہو سکتے ہیں اور لینڈ اسکیپنگ بھی نقصان اٹھاتی ہے،اس صورتحال نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے،کیا پارک کی تعمیر کے وقت ڈرینیج سسٹم کا باقاعدہ ڈیزائن تیار کیا گیا تھا،کیا اگر ڈرینیج پلان موجود تھا تو بارش کا پانی بروقت کیوں خارج نہ ہو سکا،کیا تعمیراتی کام منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق مکمل کیا گیاہے اور کیا جا رہا ہے،اگر منصوبے میں کسی قسم کی فنی خامی یا نگرانی میں غفلت ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے،قومی خزانے سے اب تک ان پارکوں کی تعمیرنواور خوبصورتی پر پی ایچ اے ننکانہ صاحب کروڑوں روپے خرچ کر چکا ہے اور اس خرچ ہونے والی رقم کے تحفظ کے لیے معیار کی جانچ کیوں نہ کرائی جائے، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف پارکس تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ اس کی معیاری منصوبہ بندی، مؤثر نکاسی آب اور بعد از تعمیر دیکھ بھال بھی اتنی ہی ضروری ہے، ورنہ عوامی وسائل ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک آزاد تکنیکی انکوائری کروائیں، جس میں پارک کے ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم، تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے فنڈز اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ مزید برآں، ڈائریکٹر فنانس پی ایچ اے و چیف آفیسر ضلع کونسل گلشن نورین سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کریں اور وضاحت کریں کہ اگر منصوبے میں ڈرینیج سسٹم شامل تھا تو وہ مؤثر کیوں ثابت نہ ہو سکا، اگر انکوائری سے ثابت ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی، نگرانی یا تعمیراتی معیار میں غفلت برتی گئی ہے تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

  • ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید کی چارج سنبھالتے ہی ضلعی افسران سے تعارفی ملاقات

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید کی چارج سنبھالتے ہی ضلعی افسران سے تعارفی ملاقات

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید نے چارج سنبھالتے ہی ضلعی افسران سے تعارفی ملاقات کی، ترقیاتی منصوبوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے انتظامات ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید نے اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھالنے کے بعد ضلعی افسران سے تعارفی ملاقات کی اور ضلع بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمت کے اقدامات اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو اپنے اپنے شعبوں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی سکیموں، عوامی فلاحی منصوبوں اور مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی تیاریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کو بتایا گیا کہ حساس مقامات کی نشاندہی، ہنگامی مشینری کی دستیابی، ریسکیو اداروں کے ساتھ رابطوں اور دیگر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید نے کہا کہ "عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور بہتر سروس ڈیلیوری میری اولین ترجیح ہے۔ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق شہریوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ "ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ رہیں۔ پیشگی حفاظتی اقدامات، بین الادارہ جاتی رابطوں اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر رعنا حمید نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں اپنی موجودگی بڑھائیں، عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں اور ضلع ننکانہ صاحب کو ایک مثالی، صاف ستھرا اور عوام دوست ضلع بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

  • ننکانہ صاحب،محکمہ صحت میں‌ سنگین مالی و انتظامی سوالات،لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو واجبات نہ ملے

    ننکانہ صاحب،محکمہ صحت میں‌ سنگین مالی و انتظامی سوالات،لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو واجبات نہ ملے

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب
    ننکانہ صاحب، ضلعی محکمہ صحت میں ایک سال میں 24 ہزار 480 لیٹر پیٹرول کا معمہ17 سرکاری گاڑیوں کے لیے ایک سال میں 24,480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا، فیلڈ عملہ تاحال واجبات سے محروم،ذرائع
    چھ ماہ کے پی او ایل بل تیار ہونے کے باوجود بجٹ نہ ہونے کا جواز دے کر واپس کر دیے گئے،ذرائع
    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ فوری نوٹس لیں، پی او ایل فنڈ کا ریکارڈ طلب کر کے شفاف تحقیقات کرائیں
    فیلڈ میں خدمات سر انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو ان کے واجبات فوری ادا کیے جائیں

    ننکانہ صاحب ، محکمہ صحت پنجاب کے آئی آر ایم این سی ایچ اینڈ نیوٹریشن پروگرام میں لیڈی ہیلتھ سپروائزرز (LHS) کو پی او ایل (Petrol, Oil & Lubricants) فنڈ کی عدم فراہمی سے متعلق سنگین مالی و انتظامی سوالات سامنے آ گئے ہیں،ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں 26 لیڈی ہیلتھ سپروائزرز تعینات ہیں، جن میں سے 17 سپروائزرز کو سرکاری گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں ان گاڑیوں کے لیے محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے 120 لیٹر ماہانہ پیٹرول مقرر ہے۔ اس حساب سے 17 گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 2,040 لیٹر جبکہ مالی سال یکم جولائی 2025 تا 30 جون 2026 کے دوران مجموعی طور پر 24,480 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جانا تھا،ضلعی محکمہ صحت کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کے چھ ماہ کے پی او ایل واجبات کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ بل تیار کر لیے گئے تھے اور تمام انتظامی کارروائی مکمل ہو چکی تھی، تاہم جون 2026 کے اختتام سے چند روز قبل یہ بل یہ کہہ کر واپس کر دیے گئے کہ بجٹ دستیاب نہیں ہے،ذرائع کے مطابق خبر کی اشاعت کے بعد سی ای او ہیلتھ ننکانہ صاحب ڈاکٹر روحیل اختر چوہدری نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اپنی تعیناتی کے عرصے کے واجبات ادا کریں گے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی،

    ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ ڈاکٹر عبید حسین کی مبینہ انتظامی غفلت، مؤثر نگرانی کے فقدان اور محکمانہ لاپرواہی کے باعث یہ معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا، ذرائع کے مطابق اگر بروقت متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا جاتا اور فنڈز کے اجرا کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے تو فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو اپنے جائز حق سے محروم نہ ہونا پڑتا،ضلعی محکمہ صحت کے ذرائع نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نادیہ ثاقب، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب، پروگرام ڈائریکٹر آئی آر ایم این سی ایچ پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی سیکرٹری لیول پر غیر جانبدارانہ انکوائری، خصوصی آڈٹ اور ذمہ دار افسران کے تعین کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال کی حقیقت سامنے آ سکے اور فیلڈ میں خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز کو ان کے واجبات فوری ادا کیے جا سکیں،ذرائع نے بالخصوص ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضلع کے انتظامی سربراہ کی حیثیت سے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کریں، حقائق کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اگر کسی قسم کی مالی یا انتظامی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے،اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 24,480 لیٹر پیٹرول کا حساب کون دے گا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔

  • بابا گرو نانک یونیورسٹی، ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام اوپن ڈے 2026 کا انعقاد

    بابا گرو نانک یونیورسٹی، ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام اوپن ڈے 2026 کا انعقاد

    احسان اللہ ایاز باغی ٹی وی نامہ نگار ننکانہ صاحب

    بابا گرو نانک یونیورسٹی، ننکانہ صاحب کے زیر اہتمام اوپن ڈے 2026 کا شاندار انعقاد، طلبہ، والدین، کالجز کے پرنسپلز اور مقامی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی خان بہادر ڈوگر، رکن صوبائی اسمبلی محمد کاشف پڈھیاراور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران تھے

    تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا اور یونیورسٹی کےشعبہ جات کےبارے میں ڈاکٹر عثمان یونس نے پریزنٹیشن دی اس کےبعد شرکاء نے نئے کیمپس اور مختلف شعبہ جات کی پراجیکٹ نمائش کا بھی دورہ کیا۔جس میں ڈی سی او ننکانہ صاحب راؤ تسلیم اخترنے بھی شرکت کی۔اس موقع پر خان بہادر ڈوگر نے اپنے خطاب میں بابا گرو نانک یونیورسٹی کی خطہ ننکانہ صاحب کے لیے اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ علاقے کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ترقی کے بہترین مواقع فراہم کرے گا اور خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔رکن صوبائی اسمبلی محمد کاشف نے نئے کیمپس میں اوپن ڈے کے کامیاب انعقاد پر یونیورسٹی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ صوبائی سطح پر یونیورسٹی کی ترقی، فنڈنگ اور دیگر ضروریات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے تاکہ ادارہ مزید ترقی کی منازل طے کر سکے۔تقریب کا مقصد داخلہ 2026 کے حوالے سے طلبہ اور والدین کو رہنمائی فراہم کرنا، یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیز، ڈگری پروگرامز، اسکالرشپس، جدید تعلیمی سہولیات اور کیریئر کے مواقع سے روشناس کرانا تھا۔ شرکاء کو نئے کیمپس کا خصوصی دورہ بھی کروایا گیا جہاں جدید کلاس رومز، لیبارٹریز، لائبریری اور دیگر تعلیمی سہولیات کا مشاہدہ کرایا گیا

  • عالمی یومِ آزادی صحافت: احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نواز دیا گیا

    عالمی یومِ آزادی صحافت: احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نواز دیا گیا

    ننکانہ صاحب میں عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ریجنل یونین آف جرنلسٹس (RUJ) کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحافتی خدمات کے اعتراف میں ممتاز صحافی احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نوازا گیا۔تقریب میں شہر کے سینئر صحافیوں اور معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر صدر پریس کلب افضل حق، جنرل سیکرٹری آصف بھٹی، سینئر صحافی سمیع اللہ عثمانی، عرفان رشید بھٹی اور شیخ آصف اقبال سمیت دیگر مقررین نے احسان اللہ ایاز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، جس کی بنیاد سچائی، دیانتداری اور امانت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ لکھنے والے صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، مقدمات اور مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ایک حقیقی صحافی ہر حال میں حق اور سچ کا ساتھ دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، جو اپنے قلم کے ذریعے سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرتا ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ ایک ایماندار صحافی قوم کا سرمایہ اور معاشرے کی حقیقی آواز ہوتا ہے، تاہم جب قلم بک جائے تو نہ صرف صحافت بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحافیوں کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے مسائل اجاگر کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔تقریب کے اختتام پر سرپرست اعلیٰ پریس کلب ننکانہ صاحب، بابائے صحافت شیخ منظور احمد شاد نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن علی ناصر قادری ایڈووکیٹ، سینئر صحافی شاہین اقبال غیور، حبیب احمد، راؤ توقیر الاسلام اور ڈاکٹر شاہنواز قادری نے احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ پیش کیا، جس پر شرکاء نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔

  • عالمی یومِ آزادی صحافت: احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نواز دیا گیا

    عالمی یومِ آزادی صحافت: احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نواز دیا گیا

    ننکانہ صاحب میں عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ریجنل یونین آف جرنلسٹس (RUJ) کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحافتی خدمات کے اعتراف میں ممتاز صحافی احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نوازا گیا۔تقریب میں شہر کے سینئر صحافیوں اور معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر صدر پریس کلب افضل حق، جنرل سیکرٹری آصف بھٹی، سینئر صحافی سمیع اللہ عثمانی، عرفان رشید بھٹی اور شیخ آصف اقبال سمیت دیگر مقررین نے احسان اللہ ایاز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، جس کی بنیاد سچائی، دیانتداری اور امانت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ لکھنے والے صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، مقدمات اور مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ایک حقیقی صحافی ہر حال میں حق اور سچ کا ساتھ دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، جو اپنے قلم کے ذریعے سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرتا ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ ایک ایماندار صحافی قوم کا سرمایہ اور معاشرے کی حقیقی آواز ہوتا ہے، تاہم جب قلم بک جائے تو نہ صرف صحافت بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحافیوں کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے مسائل اجاگر کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔تقریب کے اختتام پر سرپرست اعلیٰ پریس کلب ننکانہ صاحب، بابائے صحافت شیخ منظور احمد شاد نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن علی ناصر قادری ایڈووکیٹ، سینئر صحافی شاہین اقبال غیور، حبیب احمد، راؤ توقیر الاسلام اور ڈاکٹر شاہنواز قادری نے احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ پیش کیا، جس پر شرکاء نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔

  • ننکانہ صاحب: واسا سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی، شہری زندگی متاثر

    ننکانہ صاحب: واسا سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی، شہری زندگی متاثر

    احسان اللہ ایاز نامہ نگار باغی ٹی وی ننکانہ صاحب
    واسہ (WASA) کے سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی بالخصوص ننکانہ صاحب جیسے جسے انٹرنیشنل شہر بھی کہا جاتا واسا کی کارکردگی نے عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اس حوالے سے ایک تفصیلی نوٹ پیش ہےواسہ (WASA) کے سیوریج سسٹم کی ناقص کارکردگی ایک جائزہ بنیادی مسائل اوروجوہات
    واسہ کے نظام میں خرابی کی کئی وجوہات ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کر چکی ہیں فرسودہ انفراسٹرکچر شہروں کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہےجبکہ سیوریج کی لائنیں وہی دہائیوں پرانی ہیں جو اب بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں
    پلاننگ کا فقدان نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا قیام بغیر کسی جامع نکاسیِ آب کے منصوبے کے کیا جا رہا ہے، جس سے مین لائنوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے
    مشینری کی کمی اکثر علاقوں میں ڈسپوزل پمپس خراب رہتے ہیں یا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کام نہیں کر پاتے عوامی صحت پر اثرات ناقص سیوریج سسٹم صرف بدبو کا باعث نہیں بنتا بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہےبیماریوں کا پھیلاؤ گندا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے مچھروں اور مکھیوں کی افزائش ہوتی ہے، جس سے ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں پینے کے پانی کی آلودگی اکثر مقامات پر سیوریج کی لائنیں اور پینے کے پانی کی پائپ لائنیں ساتھ ساتھ گزرتی ہیں لیکیج کی صورت میں گندا پانی پینے کے صاف پانی میں شامل ہو کر اسے زہریلا بنا دیتا ہے بارشوں کے دوران سنگین صورتحال
    مون سون کے دوران واسہ کی کارکردگی کا پول کھل جاتا ہے معمولی بارش کے بعد بھی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور قیمتی جانی و مالی نقصان ہوتا ہے
    بجلی کا شارٹ سرکٹ گلیوں میں جمع پانی کی وجہ سے بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے کے واقعات کثرت سے رونما ہوتے ہیں اس بحران سے نکلنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں نئی پائپ لائنوں کی تنصیب بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے سیوریج لائنوں کا قطر (Diameter) بڑھایا جائےجدید مشینری کا استعمال نالوں کی صفائی کے لیے پرانے طریقوں کے بجائے جدید سکشن اور جیٹنگ مشینوں کا استعمال کیا جائے
    عوامی شعور شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ کچرا اور پلاسٹک کے شاپر نالوں میں نہ پھینکیں، کیونکہ یہ لائنوں کے بند ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتے ہیں واسہ کے سیوریج سسٹم کی بہتری کے لیے صرف ہنگامی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ایک طویل مدت اور پائیدار پالیسی کی ضرورت ہے جب تک بجٹ کا درست استعمال اور افسران کی جوابدہی یقینی نہیں بنائی جائے گی، شہری اس اذیت سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے

  • ننکانہ صاحب میں وساکھی میلہ کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز، دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتریوں کی آمد

    ننکانہ صاحب میں وساکھی میلہ کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز، دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتریوں کی آمد

    ننکانہ صاحب میں وساکھی میلے کی تقریبات کا آغاز اکھنڈ پاٹ کی رسم سے ہو گیاضلعی انتظامیہ کی جانب سے لنگر ، رہائش، صفائی ستھرائی اور سکیورٹی کے بہترین انتظامات دنیا بھر سے سکھ یاتری وساکھی تہوار میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب تشریف لا رہے ہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گورونانک کی دھرتی پر آنے والے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہےدنیا کے مختلف ممالک سے 08 ہزار سے زائد سکھ یاتری میلے کی تقریبات میں شرکت کریں گے بھارت سے 28 سو سے زائد سکھ یاتری آج واہگہ بارڈر کے زریعے ننکانہ صاحب پہنچیں گےننکانہ صاحب میں وساکھی میلے کی تقریبات 12 اپریل تک جاری رہیں گی سکھ یاتریوں کی حفاظت کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے 04 ہزار افسران و اہلکاران سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور شہر بھر سمیت گوردوارہ جات کی سی سی ٹی وی کیمروں سے کڑی نگرانی جاری میلے کی تقریبات میں شرکت کرنے والے سکھ یاتری پاکستان سے اچھی یادیں لے کر جائیں گےپاکستان پرامن ملک ہے جہاں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے.

  • ننکانہ صاحب: وساکھی میلہ سر پر، سیوریج منصوبہ نامکمل — یاتریوں کو مشکلات کا خدشہ

    ننکانہ صاحب: وساکھی میلہ سر پر، سیوریج منصوبہ نامکمل — یاتریوں کو مشکلات کا خدشہ

    ننکانہ صاحب باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز وساکھی میلہ میں 2 دن باقی کیا ترقیاتی کام مکمل ہو جائیں گے کیا مسائل جوں کے توں رہیں گےننکانہ صاحب میگا سیوریج پراجیکٹ سست روی کا شکار، واسا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کے احکامات کے باوجود کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ کلیئر نہ ہو سکی دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو شدید مشکلات کا خدشہ، مرکزی شاہراہ کھدائی اور پائپوں سے بھر گئی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس کا مطالبہ ضلعی انتظامیہ کے لیے وساکھی کے دنوں میں کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ کلیئر کرنا بڑا چیلنج بن گیاننکانہ صاحب وساکھی میلہ کی تقریبات میں محض 3 دن باقی رہ گئے ہیں تاہم ننکانہ صاحب میں جاری سیوریج میگا پراجیکٹ تاحال سست روی کا شکار ہے جس کے باعث واسا کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں،سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی جانب سے واضح احکامات اور سات روزہ ڈیڈ لائن کے باوجود کیپٹن حسنین نواز شہید روڈ پر کام مکمل نہ ہو سکا، جبکہ سڑک کے مختلف حصوں میں کھدائی، بکھرے پائپ اور ادھورا کام شہریوں اور زائرین کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے،10 اپریل سے شروع ہونے والی تقریبات میں بھارت سمیت دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچیں گے، جو اپنے قیام کے دوران مختلف مقامات کی یاترا کریں گے،جن میں گوردوارہ جنم استھان، گوردوارہ تنبو صاحب، گوردوارہ پانچویں اور چھٹی پاتشاہی، گوردوارہ مال جی صاحب اور گوردوارہ کیارہ صاحب سمیت شہر کے اہم گوردوارے اسی مرکزی شاہراہ پر واقع ہیں،جبکہ شہر کے بڑے بازار بھی اسی روڈ سے منسلک ہیں،موجودہ صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سیوریج لائن کی کھدائی اور سڑک پر پڑے پائپ بروقت نہ ہٹائے گئے تو سکھ یاتریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف انتظامی کارکردگی بلکہ شہر کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوگا،شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وساکھی میلے کے دنوں میں اس اہم شاہراہ کو کلیئر کروانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واسا اور ضلعی انتظامیہ وساکھی میلے سے قبل اس اہم شاہراہ کو کلیئر کر کے اپنی کارکردگی ثابت کر پائیں گے، یا مسائل جوں کے توں رہیں گے.

  • ننکانہ صاحب: پولیس کی بڑی کارروائیاں، 8 ڈکیت گینگز گرفتار، کروڑوں مالیت کا سامان برآمد

    ننکانہ صاحب: پولیس کی بڑی کارروائیاں، 8 ڈکیت گینگز گرفتار، کروڑوں مالیت کا سامان برآمد

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈی پی او کی ہدایت پر ضلعی پولیس نے مارچ کے مہینے کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، جس میں جرائم کے خلاف نمایاں کامیابیاں سامنے آئیں۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے 8 ڈکیت گینگز کے 25 خطرناک ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ ان سے 1 کروڑ 49 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی نقدی اور دیگر مالِ مسروقہ برآمد کیا گیا۔پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے 159 مجرمان اشتہاری، 61 عدالتی مفرور اور 70 سابقہ ریکارڈ یافتگان کو بھی گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف 81 مقدمات درج کیے گئے، جن سے 66 پسٹل، 5 کلاشنکوف، 5 بندوقیں اور سینکڑوں گولیاں و کارتوس برآمد کیے گئے۔منشیات کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کی گئیں، 64 مقدمات درج کیے گئے اور 3 کلو سے زائد منشیات جبکہ 1740 لیٹر شراب برآمد کی گئی۔اسی طرح 15 ایکٹ کی خلاف ورزی پر 22 اور کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر 56 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ خدمت مراکز پر 5469 شہریوں کو مختلف سہولیات فراہم کی گئیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔