Baaghi TV

Category: پشاور

  • 
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں کی تفتیش میں پیشرفت، سہولت کاروں کی شناخت

    
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں کی تفتیش میں پیشرفت، سہولت کاروں کی شناخت

    
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر 24 نومبر 2025 کو ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی ہو گئی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے تھا، اور دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھی۔
    واقعے کے بعد دہشتگردوں کے خلاف اہم گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور سہولت کاروں کی شناخت کے بعد واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ حملے میں تین خودکش بمباروں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا تھا، جس میں 3 ایف سی جوان سمیت 6 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے۔ دہشتگردانہ کارروائی کے دوران 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی میں درج ہے۔

  • دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے۔

    سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہےصوبے میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے، دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گادہشتگردی پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی کمزوری یا ابہام کی گنجا ئش نہیں، پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کا مقابلہ جاری رکھے گا اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو جلد امن کا گہوارہ بنائے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو دنوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔

    قبل ازیں سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان صبر سے کام لیں کیونکہ بہت جلد بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو رہا کرا لیا جائے گا آج کارکنوں میں جو جذبہ نظر آ رہا ہے ایسا جوش انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھابانی پی ٹی آئی کی بیماری کو پارٹی، وکلا اور حتیٰ کہ ان کے خاندان سے بھی چھپایا گیا جبکہ ذاتی معالج تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنوں کے جذبے اور عمران خان کے درمیان صرف چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ تھوڑا انتظار کریں، انشاء اللہ اپنے لیڈر کو رہا کرائیں گےانہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا آپریشن رات کے اندھیرے میں کیا گیا اس کے بعد 5 دن تک پوری قوم سے یہ حقیقت چھپائی گئی اور قوم سے جھوٹ بولا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ان کے ذاتی معالج سے کروائی جائے تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہوا وہ اڈیالہ جیل کے باہر دو دن تک موجود رہے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی بعض بااثر عناصر نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے قائد سے ملاقات نہیں کر سکے۔

  • سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    باڑہ / ضلع خیبر:سیاسی اتحاد باڑہ نے تیراہ میدان سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کے آپریشنز، شیلنگ، ڈرون کارروائیوں اور بدامنی کے باعث بے گھر ہونے والے متاثرین کو فوری طور پر باعزت طریقے سے بحال کیا جائے۔

    سیاسی اتحاد باڑہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متاثرینِ تیراہ گزشتہ کئی برسوں سے بے سرو سامانی، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ہر دور میں ریاست کے ساتھ تعاون، صبر اور قربانی کی مثالیں قائم کیں، مگر اس کے باوجود آج بھی انہیں بنیادی انسانی، آئینی اور قبائلی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
    اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔

    خیبر قومی جرگہ میں باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان، جنرل سیکرٹری عطاء اللہ، شیریں آفریدی،سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی، اے این پی عبدالرزاق،فاٹا لویہ جرگہ صدر ملک بسم اللہ، جماعت اسلامی کے شاہ فیصل،پی ٹی آئی عابد آفریدی،جماعت اسلامی خان ولی آفریدی،مسلم لیگ ن اصغر آفریدی،ملک محمد حسین سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،سیاسی اتحاد باڑہ کے اہم مطالبات میں کہا گیا ہے کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔تیراہ میں فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر گولے برسائے جانے اور ہیلی کاپٹر کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، کیونکہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور ان سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری و عملی طور پر نافذ کیا جائے۔متاثرین کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔تیراہ کے بلند ایریاز میں گھروں کے درست پتے نہ رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائے اور امدادی پیکیجز میں شامل کیا جائے۔پولیٹیکل انتظامیہ یا نادرا کی من پسند اور خود ساختہ رجسٹریشن کو سیاسی اتحاد باڑہ کسی صورت قبول نہیں کرتا کیونکہ اس عمل سے حقیقی متاثرین محروم ہو رہے ہیں۔وادی تیراہ کے بعد اپر باڑہ اور بازو پین ایریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا۔

    قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے آج سے باڑہ میں امن تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔باڑہ میں اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور شہریوں میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے متاثرینِ تیراہ کے حوالے سے غیر سنجیدہ بیانات قابل افسوس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر مستقل حل نکالیں۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر سیاسی اتحاد باڑہ کے آئینی، قانونی اور اخلاقی مطالبات پر فوری اور عملی عمل درآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔سیاسی اتحاد باڑہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سیاسی اتحاد باڑہ مرکزی حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے متاثرین کی 13,744 گاڑیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرے گا۔

  • باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

    باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

    ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے موجودہ وزیر اعلیٰ (جو اس وقت ایم پی اے تھے) کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تیراہ میں دہشتگردی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہونے والی نشست میں یہ بھی طے کیا گیا کہ فتنہ الخوارج سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں تیراہ سے چلےجانے کا کہا جائے گا۔ جرگہ قرآن لے کر خوارج کے پاس گیا لیکن خوارج نے قبائلی روایات کے برعکس جرگے کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور تیراہ سے نکلنےپر راضی نہ ہوئے۔ 28 اکتوبر 2025 کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو پہلا خط لکھا جس میں متوقع نقل مکانی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں اس کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا کہا گیا۔ اسی دوران، 14 نومبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے تیراہ کے بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے اصولی طور پر 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ تین ماہ کے وقفے کے بعد (11 دسمبر 2025 کو)، تیراہ کے مقامی مشران نے ضلع خیبر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور آگاہ کیا کہ دہشت گردوں کو علاقہ خالی کرنے پر قائل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، لہٰذا وہ علاقہ خالی کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔

    17 دسمبر 2025 کو علاقے کے 26 معززین پر مشتمل ایک جرگے نے ضلع انتظامیہ خیبر سے ملاقات کی اور نقل مکانی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔ جرگے کی اسی طرح کی ملاقاتیں 18 اور 19 دسمبر 2025 کو بھی جاری رہیں۔ 26 دسمبر 2025 کو چیف سیکرٹری نے تیراہ کے بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ 31 دسمبر 2025 کو جرگے نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں نقل مکانی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی اور جرگے کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل کے بعد نقل مکانی 14 جنوری 2026 تک مکمل ہونی تھی، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی، بعد ازاں اس مدت میں 26 جنوری 2026 تک توسیع کر دی گئی۔

    جرگہ کے اصل حقائق یہ ہیں کہ، تیراہ میں آفریدی قبیلے کے 8 قبیلے موجود ہیں جن میں سے 6 قبیلوں میں سے ہر قبیلے نے 4 نمائدے منتخب کیے تھے – لہذا 24 رکنی جرگہ بنایا گیا جو تیراہ کے لوگوں کے اصل نمائیدگان تھے ، ہفتے کے دن باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ منعقد ہونا تھا، اسکو CM KP ، مینا خان جیسے لوگوں نے ڈسکریڈٹ کرنے کے لئے اتوار کے روز جمرود میں سیاسی جلسہ بھی رکھ لیا – حکومت نے 4 ارب روپے تیراہ کے لوگوں میں بانٹنے کی بجائے اور جرگے کو نظر انداز کر کے،اپنے نظر شفقت political workers میں بانٹے تاکہ political mileage حاصل کیا جا سکے – سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور ستمبر سے لے کر جنوری تک یہ تاخیر ان کی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ کس طرح تیراہ کے لوگوں کو سیاسی ڈھال بنایا گیا- 90 ہزار لوگوں کے لئے صرف 2 ریجسٹریشن پوائنٹس بنائے گئے تاکہ انسانی المیہ بنایا جائے – لہذا ان سب وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی اور جرگے کے عمائدین کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کی جانب سے تیراہ جرگہ کے ممبران کو "ٹاؤٹ” قرار دینا شرمناک ہے۔ یہ جرگہ صدیوں سے مقامی لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی قیادت ان معتبر مقامی افراد کو خریدنے میں ناکام رہی، تو اب انہیں بدنام کرنے پر اتر آئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اقبال آفریدی، مینا خان، سہیل آفریدی کے بھائی اور غنی آفریدی نے متاثرین کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے میں خورد برد کی – جرگہ پی ٹی آئی کے اِن سیاستدانوں کی جانب سے کی جانے والی جعلی رجسٹریشنز کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، کیونکہ جرگہ نہیں چاہتا کہ حق داروں کا حق مار کر سیاسی من پسند افراد کو نوازا جائے۔ اسی مزاحمت کی وجہ سے اب ان سیاستدانوں نے جرگے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی تیراہ کے عوام کے لیے مختص 4 ارب روپے کو اپنے حامیوں میں بانٹ کر ان کو 8 فروری کے جلسے میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اصل جرگہ ہفتے کو منعقد ہوگا ، اتوار کو جمرود میں ہونے والا جلسہ سیاسی چال ہے ، تاکہ لوگوں کو ورغلایا جائے اور آٹھ فروری کے جلسے میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے ۔

    تیراہ کے لیے مختص 4 ارب روپے میں مبینہ خردبرد اور ناانصافی کے خلاف باڑہ سیاسی اتحاد نے 31 جنوری 2026 کو ایک خالص عوامی قبائلی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس جرگے میں قبائلی مشران، ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے شریک ہوں گے تاکہ فنڈز کے شفاف استعمال، ذمہ داروں کے تعین اور تیراہ کے مسائل کا سیاست سے بالاتر حل یقینی بنایا جا سکے۔

  • اڈیالہ کا قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا

    اڈیالہ کا قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اڈیالہ کا قیدی اپنی سزا پوری کرکے ہی آزاد ہوگا۔

    میڈیا سے گفتگو میں فیصل کریم کنڈی بولے کہ صوبائی حکومت کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ قیدی کو کس طرح آزاد کرائیں، انہوں نے واضح کیا کہ قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، اگر قیدی کو اسپتال لایا گیا ہے توکسی مریض کا علاج کرنا غلط بات تو نہیں، گورنرخیبر پختونخوا نے وادی تیراہ میں آپریشن کے خبروں کی تردید کردی اور کہا کہ تیراہ میں لوگ ہرسال سردیوں میں نقل مکانی کرتے ہیں، اس وقت تیراہ کے حوالے سے صرف لفظی جنگ جاری ہے، اس سال صوبائی حکومت نےاس مد میں 4 ارب روپے رکھے اور آئی ڈی پیزکی رجسٹریشن شروع کی، 50 سے60 فیصد لوگ آپریشن کے خدشے کے پیش نظر نقل مکانی کرگئے، اس سے پہلے30 فیصد تک لوگ سردی میں بچوں کے ہمراہ نقل مکانی کرتے تھے، دہشتگردوں کیخلاف ہرجگہ آپریشن ہوتا ہے، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں بھی دہشتگرد ہیں وہاں آپریشن ہوگا۔

  • اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی حالت پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تحفظات کا اظہار

    اسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی حالت پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تحفظات کا اظہار

    ‎وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسپتال لے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ بانی کی صحت کی حالت یہاں تک کیوں پہنچ گئی کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑا اور یہ بیماری کیوں چھپائی گئی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بانی کی فیملی کو ان کی صحت کے بارے میں کیوں نہیں بتایا گیا۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سخت تحفظات ہیں اور کسی بھی قیدی کو اسپتال لایا جائے تو اس کی فیملی کو مطلع کیا جانا چاہیے۔
    ‎خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ میڈیا سے بات چیت میں آئندہ کا لائحہ عمل بتائیں گے۔

  • منتخب وزیراعظم کو  صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا،سہیل آفریدی

    منتخب وزیراعظم کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا،سہیل آفریدی

    پشاور:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کو وزارت عظمی سے صرف اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ ایک ملک کو پسند نہیں تھا-

    یونیورسٹی آف ہری پور کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے انہوں ںے غازی میں یونیورسٹی آف ہری پور کے تحصیل کیمپس کے قیام کا اعلان کیا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ ہمارا صوبہ ہے، ہم سڑکیں بھی بنائیں گے اور دیگر تمام مسائل بھی حل کریں گے، ہمارے دل بڑے ہیں، ہم سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم کسی کے لیے لائٹس، سڑکیں اور مارکیٹس بند نہیں کرتےمیں فارم 47 کے مسلط شدہ کرپٹ ٹولے کو سیاست اور حکمرانی دونوں میدانوں میں عبرت ناک شکست دے کر دکھاؤں گا، ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور بدقسمتی سے ہم امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

    ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

    انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بیرونی سازش کے ذریعے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا، عمران خان نے کافروں کی سرزمین پر مسلم اُمہ کے لیے آواز اٹھائی اور یہی بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرأت نہیں، کیونکہ سب کو اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو شدید برفباری میں زبردستی گھروں سے نکالا گیا اور زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، کچھ بے شرم وفاقی وزرا پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تیراہ کے لوگ برفباری کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں، ایک طرف تیراہ کے لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، دوسری طرف بے شرم سیاستدان ان کا مذاق اڑا رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا، ان لوگوں کو زبردستی نکالا گیا اور انہیں کوئی مالی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔

    ایمان مزاری، ہادی علی کی گرفتاری میں تعاون کا الزام، صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا ردعمل

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسخروں کے مفادات پاکستان سے نہیں جڑے، ان کے مفادات صرف لوٹ مار سے وابستہ ہیں، پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرونِ ملک بھاگ جانا ہی ان کا مقصد ہے، جو بھی پاکستان میں ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، یہ لوگ اس کا ساتھ برا حشر کرتے ہیں لیکن میں نہیں جھکوں گا، پوری دنیا کی طاقت میرے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی، میں عوام کی مدد سے ان کا مقابلہ کروں گا، جو بھی میرے صوبے کے مفاد میں نہیں ہوگا، میں اس کی ہر پالیسی کے خلاف کھڑا ہوں گا،اگر کسی بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو فوج سے پہلے پختون قوم ان کا مقابلہ کرے گی لیکن واضح کر دوں کے آئندہ کسی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    ظلم کی انتہا،سسرالیوں نے 5 ماہ کی حاملہ بہو کو جلا کر قتل کر دیا

  • محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی

    محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی

    محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے نشتر ہال پشاور میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی کا انعقاد کیا۔
    ‎نیلامی کے دوران سب سے زیادہ بولی وزیر 1 نمبر پلیٹ پر لگی، جو 1 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی۔ دوسری سب سے زیادہ بولی آفریدی 1 نمبر پلیٹ پر لگی، جو 1 کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار روپے میں فروخت ہوئی اور یہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے حاصل کی۔
    ‎تیسری نمایاں بولی خان 1 نمبر پلیٹ پر رہی، جو 1 کروڑ 11 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی اور یہ نمبر پلیٹ ایم پی اے نیک محمد خان کے حصے میں آئی۔

  • توہین عدالت درخواست،سہیل آفریدی کو ریلیف مل گیا

    توہین عدالت درخواست،سہیل آفریدی کو ریلیف مل گیا

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عدالت سے ضمانت لیتے ہیں اور پھر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وزیراعلیٰ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جاتے ہیں اور وہاں پر تقاریر کرتے ہیں، وزیراعلیٰ عدالتی آرڈر کا غلط استعمال کرکے توہین عدالت کر رہے ہیں۔

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سہیل آفریدی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں، درخواست گزاروں نے توہین عدالت درخواست دائر کی لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

  • ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری

    ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری

    پشاور:خیبر پختونخوا حکومت نے کابینہ فیصلہ کے مطابق ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کے لیے ضلع سوات کو دو حصوں، بالائی سوات (Upper Swat) اور زیریں سوات (Lower Swat) میں تقسیم کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا ہے-

    صوبائی محکمہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ضلع اپر (بر) سوات کا ہیڈ کوارٹر مٹہ جبکہ سوات کا ہیڈ کوارٹر گل کدہ تحصیل بابوزئی ہوگا ضلع اپر سوات میں مٹہ، بحرین اور خوازہ خیلہ کی تحصیلیں اور ضلع سوات میں بابوزئی، کبل، چارباغ اور بریکوٹ کی تحصیلیں شامل ہوں گی۔

    سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ 19دسمبر2025 کو کابینہ کے 43ویں اجلاس میں کیا گیا تھا ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے صوبہ میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 40 ہوگئی ہے۔