Baaghi TV

Category: پشاور

  • افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری،    قبائلی ردعمل

    افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری، قبائلی ردعمل

    جنوبی وزیرستان (انگور اڈا) میں افغان طالبان کی سول آبادی پر گولہ باری- قبائلی ردعمل اور مؤقف سامنے آگیا

    جنوبی وزیرستان لوئر کے سرحدی علاقے انگور اڈا میں افغان طالبان کی 26 اور 29 اپریل کو سول آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کے نتیجے میں متعدد معصوم مرد، عورتیں اور بچے شدید زخمی ہوئے اور شہری املاک کو نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے دوران دو مرد، تین خواتین اور چار معصوم بچے شدید زخمی ہوئے جن کا علاج ڈی ایچ کیو وانا اور سی ایم ایچ پشاور میں جاری ہے۔ اہلِ علاقہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے جاری گولہ باری سے نہتے شہریوں، خصوصاً بچوں کو مسلسل نشانہ بنانے کے علاوہ سول املاک کو نقصان پہنچ رہاہے جو ناقابل قبول ہے۔ ان مسلسل حملوں کے نتیجے میں علاقے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا ہوئی ہے، تاہم قبائلی عمائدین نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے اور ہر محاذ پر ڈٹ کرافواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہر قسم کی افغان جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ متاثرہ افراد کے ورثا ءاور علاقائی عمائدین نے افواج پاکستان کی جانب سے بروقت اور بہتر علاج کی سہولیات مہیا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

  • بنوں میں دہشت گردوں کا راکٹ حملہ، پولیس اہلکار شہید، شہری زخمی

    بنوں میں دہشت گردوں کا راکٹ حملہ، پولیس اہلکار شہید، شہری زخمی

    بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع چوکی فتح خیل کے قریب پولیس کی بُلٹ پروف گاڑی کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ حملہ کنگر جان بہادر کے مقام پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس گاڑی کے ڈرائیور راز علی شاہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ واقعے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اچانک حملہ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی۔حملے میں ایک شہری بھی زخمی ہوا، جسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کومبنگ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔بنوں پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • ضلع اورکزئی میں طوفانی بارشیں، سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

    ضلع اورکزئی میں طوفانی بارشیں، سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی

    ضلع اورکزئی میں ہونے والی طوفانی بارشوں نے شدید تباہی مچا دی، مشتی میلہ کے مقام پر سیلابی ریلوں کے باعث درجنوں دکانیں اور مکانات بہہ گئے۔

    مقامی افراد کے مطابق اچانک آنے والے تیز ریلے نے دیکھتے ہی دیکھتے بازار اور رہائشی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے لوگوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کے راستے میں آنے والی متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی بہہ گئیں، جبکہ کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب پشاور، مالاکنڈ اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا تاہم بعض نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔لاہور میں تیز آندھی کے بعد ہونے والی بارش نے شہری نظام زندگی کو متاثر کیا، مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔ادھر بہاولنگر اور گجرات سمیت پنجاب کے دیگر کئی علاقوں میں بھی بارش ہوئی، جس سے گرمی کی شدت میں کمی آ گئی، تاہم متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔

  • 
جامعہ پشاور مالی بحران کا شکار، اساتذہ کا احتجاج

    
جامعہ پشاور مالی بحران کا شکار، اساتذہ کا احتجاج

    ‎خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے قائم حکومت کے تعلیمی دعووں کے برعکس صوبے کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ پشاور شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعلیٰ کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ادارہ اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق جامعہ پشاور کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ مارچ کی آدھی تنخواہیں ادا نہ ہونا اور تقریباً 162 ملین روپے کی پنشن روک دی جانا اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال نے اساتذہ اور دیگر ملازمین کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
    ‎اساتذہ تنظیم کے مطابق حکومتی سطح پر جامعات کے لیے گرانٹس میں کمی اور مالی خودمختاری کے نام پر اداروں کو وسائل کے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث تعلیمی ادارے مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ اساتذہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
    ‎پیوٹا نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ جامعہ پشاور کے لیے فوری طور پر 4 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی جائے اور پنشن فنڈ کو بحال کیا جائے تاکہ ملازمین کو ریلیف مل سکے اور ادارہ معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکے۔
    ‎دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ترقیاتی منصوبوں اور تشہیری مہمات پر بھاری اخراجات کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف تعلیمی ادارے بنیادی مالی مسائل کا شکار ہیں، جو حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھاتا ہے۔

  • پارہ چنار ائیرپورٹ طویل تعطل کے بعد دوبارہ فعال

    پارہ چنار ائیرپورٹ طویل تعطل کے بعد دوبارہ فعال

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں واقع پارہ چنار ائیرپورٹ کو طویل عرصے بعد دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے، جس سے علاقے میں فضائی رابطوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاک فوج، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی مشترکہ کاوشوں سے ائیرپورٹ کو قابلِ استعمال بنایا گیا۔ پاک آرمی ایوی ایشن نے 26 اپریل کو ائیرپورٹ پر آپریشنل لینڈنگ اور ٹیک آف کے کامیاب ٹرائلز انجام دیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ٹرائلز کا مقصد رن وے کی فعالیت اور ائیرپورٹ کی مجموعی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ اس دوران پاک آرمی ایوی ایشن کی جانب سے مجموعی طور پر 6 کامیاب لینڈنگ اور ٹیک آف کیے گئے۔ابتدائی جائزے کے مطابق ائیرپورٹ کے رن ویز کو پیشہ ورانہ معیار اور اعلیٰ حفاظتی اصولوں کے مطابق قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہاں باقاعدہ پروازوں کا آغاز بھی ممکن ہو سکے گا۔

    مقامی افراد کے لیے یہ پیش رفت نہایت اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ ائیرپورٹ کی بحالی سے نہ صرف آمدورفت میں آسانی ہوگی بلکہ علاقے کی معاشی و سماجی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔

  • محض بیانات سے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں،فیصل کریم کنڈی

    محض بیانات سے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں،فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری سیاسی مصروفیات کے بجائے عوامی فلاح اور صوبے کے مسائل کے حل پر توجہ دیں، کیونکہ محض بیانات سے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےصوبے کی موجودہ سیاسی فضا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے غیر ضروری سیاسی سرگرمیوں اور نمائشی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے لگتا ہے کے پی اسمبلی کا اگلا اجلاس مویشی منڈی میں ہوگا،اسمبلی اجلاس پر ہونے والے اخراجات اگر جامعات کے ملازمین کی تنخواہوں پر صرف کیے جاتے تو زیادہ مفید ثابت ہوتے۔

    انہوں نے کہاکہ آئینی اختیارات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر حالیہ اجلاس کی نوعیت واضح نہیں کہ وہ حکومت کے خلاف تھا یا اسپیکر کے، کیونکہ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے یہ اجلاس اپنے ہی خلاف منعقد کیا گیا ہو،کھیلوں کے میدان نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے لیے ہوتے ہیں، لیکن انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔

    فیصل کریم کنڈی کے مطابق صوبے میں ایک سیاسی جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے کرپشن کے بڑھتے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ کچھ عناصر تاحیات مراعات حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

  • پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں کارکردگی صفر،کیوں نہ آئی جی پر مقدمہ کریں،عدالت

    پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں کارکردگی صفر،کیوں نہ آئی جی پر مقدمہ کریں،عدالت

    پشاور ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کیس کے سماعت کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ریمارکس دیے کہ پولیس کام کیوں نہیں کررہی؟، پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں، کارکردگی صفر ہے، کوئی اور راستہ نہیں کہ آئی جی پر ہی مقدمہ کریں۔

    دوران سماعت وکیل نے بتایا کہ امین اکبر 11 مارچ کو لاپتہ ہوا، تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کو کہا کہ تفتیش مکمل کیوں نہیں ہوئی، آپ لوگ کام کیوں نہیں کرتے؟ اب عدالت سکھائے گی کہ تفتیش کیسے کی جاتی ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ 9 دن میں تفتیشی کو صرف سی ڈی آر ملی، آئی جی پر مقدمہ کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں، ایس ایچ او کو بندہ غائب ہونے کا پتہ نہیں، کیسے مان لوں؟، کام کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، عوام پر احسان نہیں۔

  • خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ورچوئل سکول قائم

    خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ورچوئل سکول قائم

    پشاور: پائلٹ منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے-

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جدید تعلیمی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئےاجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک سیکٹر میں پاکستان کا پہلا ورچوئل اسکول قائم کرنے اور اے آئی ٹیچر متعارف کرانے کا انقلابی اقدام کیا وزیر اعلیٰ نے اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

    وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ورچوئل اسکولز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے بیرون ملک اور اسکول سے باہر طلبا کو بھی باقاعدہ طلبا کا درجہ دیا جائے ورچوئل اسکولز اور اے آئی ٹیچر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ منصوبہ خاص طور پر دور دراز علاقوں کے طلبا کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پائلٹ منصوبے کے تحت صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 33 بندوبستی اضلاع اور 13 ضم اضلاع کے اسکول شامل ہیں جون میں ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبے کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مزید 175 اسکولوں کو بھی ورچوئل اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

    منصوبے کے تحت ایک مرکزی ڈیجیٹل تدریسی اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے جہاں سے لائیو انٹرایکٹو کلاسز اور لیکچرز کی ریکارڈنگ کی سہولت دستیاب ہوگی،اے آئی ٹیچر کے ذریعے انگریزی، ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات جیسے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں، جبکہ یہ سہولت اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہوگی اس منصوب کی مجموعی لاگت 153.80 ملین روپے ہے جبکہ ٹیلی تعلیم مرکز کے قیام پر 44.85 ملین روپے خرچ کیے جائیں گےیہ منصوبہ خیبرپختونخوا میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، اپر کوہستان اسکینڈل،احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار

    پشاور ہائیکورٹ، اپر کوہستان اسکینڈل،احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار

    پشاور ہائی کورٹ نے اپر کوہستان اسکینڈل میں منجمد اثاثوں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کا 31 اکتوبر 2025ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    جسٹس صاحبزادہ اسد اللّٰہ نے اپیلوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کیس احتساب عدالت کو دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا،عدالت نے حکم دیا کہ احتساب عدالت 1 ماہ کے اندر اندر اعتراضات پر دوبارہ فیصلہ کرے،
    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بغیر انکوائری اور شواہد کے اپیلیں خارج کرنا شفاف ٹرائل کے اصولوں کے خلاف ہے، عدالت نے ہدایت کی ہے کہ فریقین کو سننے اور شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے،پشاور ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ احتساب عدالت متنازع جائیدادوں کے قبضے سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرے اور کارروائی کے دوران درخواست گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے،عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حتمی فیصلے تک درخواست گزاروں کے خلاف اثاثوں سے متعلق کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

  • خیبر ،شدید بارشوں سے تباہی، گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، 3 افراد جاں بحق

    خیبر ،شدید بارشوں سے تباہی، گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، 3 افراد جاں بحق

    خیبر: صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں موسلادھار بارشوں کے باعث ندی نالوں میں شدید طغیانی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں پاک افغان شاہراہ پر نیکی خیل کے مقام پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق گاڑی میں سوار افراد کو بچانے کے لیے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، تاہم تیز بہاؤ کے باعث مشکلات کا سامنا رہا۔ اب تک 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ چوتھے لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیموں کا آپریشن جاری ہے۔ امدادی اہلکاروں نے اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ لاپتہ شخص بھی جاں بحق ہو چکا ہو سکتا ہے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والی موسلادھار بارشوں کے باعث برساتی نالوں میں اچانک طغیانی آئی، جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شدید بارش نے نقصان پہنچایا۔ یوسف اڈہ کے علاقے میں بارش کے باعث ایک شو روم کی چھت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں اندر کھڑی متعدد گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ عمارت پر نصب سولر پینل بھی ٹوٹ گئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم مالی نقصان کافی زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور متاثرہ مقام کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے۔

    ماہرین موسمیات نے آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔