Baaghi TV

Category: پشاور

  • پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر

    پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر

    پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا پشاور میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی

    قومی سطح کی یہ ورکشاپ 11 سے 22 جنوری 2026 تک جاری رہی،ورکشاپ میں عمائدین، اکیڈیمیا، میڈیا، سیاسی قائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی،ورکشاپ کے 80 فیصد شرکاء کا تعلق خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع سے تھاجبکہ 20 فیصد نمائندگی ملک کے دیگر حصوں سے رہی،مجموعی طور پر 91 شرکاء اور پشاور کی جامعات کے 150 اسکالرز نے شرکت کی،شرکاء کو وزیرِ اعظم پاکستان و دیگر ریاستی عہدیداران کے ساتھ خصوصی سیشنز منعقد کئے گئے،اختتامی سیشن میں کور کمانڈر پشاور نے شرکاء سے خصوصی نشست میں قومی سلامتی، گمراہ کن پروپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی،اس موقع پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئیمشرکاء نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا

  • میرعلی میں عسکریت پسندوں کا ڈرون حملہ، پانچ افراد زخمی

    میرعلی میں عسکریت پسندوں کا ڈرون حملہ، پانچ افراد زخمی

    شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈرون حملے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں تین بچوں اور دو مردوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق حملہ میرعلی کے گاؤں موسکی میں کیا گیا، جہاں ڈرون کے ذریعے دھماکا خیز مواد گرایا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ اچانک ہوا جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، واقعے کے فوراً بعد مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں شامل تینوں بچے اور دونوں مرد زیر علاج ہیں تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے ہیں، تاہم بروقت طبی امداد کی وجہ سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق نہیں۔

    واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ حملے میں ملوث عناصر کی تلاش جاری ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ دہشتگرد عناصر کی جانب سے کیا گیا، جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    پشاور:سانحہ گل پلازہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط ارسال کردیا۔

    خط میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گل پلازہ میں آتشزدگی میں قیمتی جانی و مالی نقصانات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہےوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سندھ حکومت سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ایک صوبے کا دکھ پوری قوم کا دکھ ہے، خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

    دوسری جاںب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔

    ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا،کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈ نگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔

  • سوات،کھیت میں دھماکا،ایک بچہ جاں بحق ،ایک زخمی

    سوات،کھیت میں دھماکا،ایک بچہ جاں بحق ،ایک زخمی

    سوات: تحصیل مٹہ کے علاقے اویشہ میں کھیت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 8 سالہ بچہ جاں بحق جبکہ 5 سالہ بچی زخمی ہوگئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے کھیت میں کھیل رہے تھے کہ اچانک زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک بچہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک بچی شدید زخمی ہوگئی۔اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، جاں بحق بچے کی لاش اور زخمی بچی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمی بچی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے، تاہم شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھماکا کسی پرانے بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا ہو سکتا ہے۔ پولیس نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

  • باجوڑ،جماعت اسلامی کے نائب امیر  کے گھر کے باہر دھماکا

    باجوڑ،جماعت اسلامی کے نائب امیر کے گھر کے باہر دھماکا

    باجوڑ،جماعت اسلامی کے نائب امیر اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی مولانا وحید گل کی رہائش گاہ کے باہر زور دار بم دھماکا ہوا جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا مولانا وحید گل کے گھر کے عین سامنے کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے گھر اور وہاں کھڑی گاڑی کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے باعث مقامی مکین گھروں سے باہر نکل آئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور تفتیشی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ بم ڈسپوزل ماہرین نے دھماکے کی نوعیت کا تعین شروع کر دیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا، تاہم حتمی رپورٹ شواہد کے مکمل تجزیے کے بعد مرتب کی جائے گی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    مولانا وحید گل اس وقت محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ بھی مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد، پی ٹی اے سے رپورٹ طلب

    ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد، پی ٹی اے سے رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر ہونے کے خلاف دائر درخواست پر مختصر آرڈر جاری کردیا۔

    عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کو نوٹس جاری کردیا، حکم نامے میں کہا گیا کہ پی ٹی اے فائر وال کی تنصیب سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع جمع کریں، پی ٹی اے کے مطابق سوشل میڈیا فلیٹ فارمز پر غیر قانونی مواد آپلوڈنگ کو بلاک کرنے کے لیے دائر وال تنصیب کیا جارہا ہے،حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے سوشل میڈیا سے متعلق دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنانے کے لیے مہلت مانگ لی ، درخواست پر مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کی جاتی ہے۔

  • ڈی آئی خان،پولیس نے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا

    ڈی آئی خان،پولیس نے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے رات گئے نامعلوم مسلح دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں جوابی کارروائی کے دوران 2 دہشت گرد مارے گئے، ایک پولیس جوان معمولی زخمی ہوا۔دہشت گردوں کی جانب سے چیک پوسٹ پر اچانک فائرنگ کی گئی جس پر پولیس نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی، دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس کے مطابق زخمی جوان کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او سجاد احمد موقع پر پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ جوانوں نے دلیری سے حملہ پسپا کیا، مورال بلند ہے۔

  • سب سے پہلے خودکش حملوں کیخلاف فتویٰ پاکستان کے علماء نے دیا،علامہ طاہر اشرفی

    سب سے پہلے خودکش حملوں کیخلاف فتویٰ پاکستان کے علماء نے دیا،علامہ طاہر اشرفی

    پشاور میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور ملک دشمن قوتوں کا اصل نشانہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہیں، تاہم پوری قوم اپنی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف علماء کرام نے ہمیشہ دوٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی کے مطابق “پیغامِ پاکستان” کے عنوان سے جاری متفقہ قومی فتویٰ پر ملک بھر کے 15 ہزار سے زائد علماء و مشائخ کے دستخط موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلا اور واضح فتویٰ پاکستان کے علماء نے جاری کیا، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔علامہ طاہر اشرفی نے اعلان کیا کہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں “پیغامِ امن” کے نام سے منایا جائے گا، جس کے دوران مساجد اور مذہبی اجتماعات میں امن، اتحاد، قومی یکجہتی اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں آگاہی دیں اور نوجوان نسل کو گمراہ کن نظریات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کے قیام، شدت پسندی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

  • وزیر اعلیٰ کے پی کی سیف سیٹیز اتھارٹی کے قیام کیلئےتجاویز پیش کرنے کی   ہدایت

    وزیر اعلیٰ کے پی کی سیف سیٹیز اتھارٹی کے قیام کیلئےتجاویز پیش کرنے کی ہدایت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سیف سیٹیز منصوبے پر کام مزید تیز کرنے اور مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

    وزیر اعلیٰ کے پی کی زیر صدارت سیف سیٹیز منصوبے پر پیشرفت سے متعلق اجلاس ہوا اجلاس میں سہیل آفریدی نے منصوبے کی باقی ماندہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور ضم اضلاع تک توسیع کے لیے ہوم ورک جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی وزیر اعلیٰ نے سیف سیٹیز اتھارٹی کے قیام کے لیے تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت دے دی۔

    علاوہ ازیں سہیل آفریدی نے ضم اضلاع میں سیف سیٹیز منصوبے کے لیے 24 گھنٹے سولر انرجی کی فراہمی کی بھی ہدایت دی بریفنگ میں کہا گیا کہ 31 جنوری 2026 تک پشاور سیف سٹی منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا سیف سیٹیز منصوبے کے تحت ڈی آئی خان میں 88، بنوں 76 اور لکی مروت میں 47 مقامات پر کیمرے لگائے جا رہے ہیں ، 31 جنوری تک منصوبہ مکمل ہو جائے گا کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان میں سیف سیٹیز منصوبے کے لیے پی سی ون تیار ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس سیف سیٹیز منصوبہ جرائم کی روک تھام اور امن کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کرے گا، سیف سٹی نظام پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں نمایاں اضافہ کرے گا۔

  • خیبرپختونخوا ،سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا ،سی ٹی ڈی کی کاروائی،6 دہشتگرد جہنم واصل

    خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے دو الگ الگ واقعات میں چھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا

    محکمہ انسداد دہشتگردی خیبرپختونخوا پشاور نے خفیہ اطلاع پر پشاور کے نواحی علاقے ٹپوسانو باچا قبرستان، ظاہر گھڑی میں دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران تین انتہائی مطلوب دہشتگرد مارے گئے۔ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے کچھ ساتھی آبادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے۔ ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق مارے گئے دہشتگردوں کے قبضے سے دو کلاشنکوفیں اور ایک پستول بمع کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔

    ضلع خیبر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک،

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) خیبر نے خفیہ اطلاع پر جمرود میں شاہ کس بائی پاس روڈ پر واقع ناکے کلے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران تین دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے دو ساتھی پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگرد سرگرم رکن تھے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں، قتل و اقدامِ قتل، بھتہ خوری سمیت دیگر دہشتگردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے تین کلاشنکوفیں اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا۔