Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، اسسٹنٹ کمشنر  بیٹے سمیت اغوا

    زیارت میں مسلح افراد کا حملہ، اسسٹنٹ کمشنر بیٹے سمیت اغوا

    زیارت کے سیاحتی مقام زیزری میں مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ان کے کمسن بیٹے سمیت اغوا کرلیا، جبکہ سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر کو بیٹے، ڈرائیور اور گن مینوں سمیت زبردستی گاڑی سے اتارا۔ لیویز ذرائع کے مطابق اغوا کار اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ گن مینوں اور ڈرائیور کو کچھ فاصلے پر بحفاظت چھوڑ دیا گیا۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    ایران کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے کی مخالفت کا اعلان

    اسد قیصر کی جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے پر قوم سے معذرت

    یوم آزادی پر مری میں سیکشن 144 نافذ

  • مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں  پٹری سے اتر گئیں

    مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

    کوئٹہ: مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں،جبکہرحیم یارخان میں بھی خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور کے لیے صبح 9 بجے روانہ ہوئی تھی کہ سپیزنڈ مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر اس وقت دھماکا ہو گیا جب جعفر ایکسپریس گزر رہی تھی،ہ دھماکے سے جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں تاہم کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔

    چند روز قبل سبی میں بھی ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی تھی۔

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    دوسری جانب رحیم یارخان میں بھی خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق ٹرین پشاور سے کراچی جا رہی تھی ، خان پور سٹی پھاٹک پر حادثے کا شکار ہو گئی ، حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ڈاؤن ٹریک ٹرینوں کی آمد و رفت کیلئے معطل ہو گئی ہے ، ٹریک کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکا، اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

  • مستونگ: دہشتگردں کے خلاف فورسز کا آپریشن،4 دہشتگرد ہلاک

    مستونگ: دہشتگردں کے خلاف فورسز کا آپریشن،4 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا، جس میں 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں میجر محمد رضوان طاہر، نائیک ابن امین اور لانس نائیک محمد یونس شہید ہو گئے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جوابی کارروائی اور کلیئرنس آپریشن میں 4 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ میجر رضوان طاہر ایک نڈر اور بہادر افسر تھے، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف کئی آپریشنز میں فرنٹ لائن سے قیادت کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں دہشت گردوں کی مکمل بیخ کنی تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے شہداء کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    یہ گھناؤنا گناہ ہے، حزب اللّٰہ کا لبنانی کابینہ کی قرارداد پر ردعمل

    برطانیہ میں سعودی طالبعلم کا بہیمانہ قتل، ایک شخص پر فردِ جرم عائد

    جنوبی وزیرستان میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی پر حملہ، 2 اہلکار زخمی

    پاک-ترکیہ بحری فورسز کی مشق، سمندر و خشکی میں آپریشنز کا عملی مظاہرہ

  • بلوچستان کابینہ میں رد و بدل کا امکان

    بلوچستان کابینہ میں رد و بدل کا امکان

    بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں کئی صوبائی وزراء کے محکمے تبدیل کیے جانے اور کچھ سے وزارتیں واپس لیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر صحت بخت کاکڑ اور وزیر زراعت علی حسن زہری کے محکمے تبدیل کیے جائیں گے۔وزیر آبپاشی صادق عمرانی، وزیر منصوبہ بندی ظہور بلیدی اور عاصم کرد گیلو سے وزارتیں واپس لیے جانے کا امکان ہے۔وزیراعلیٰ کے پانچوں مشیروں کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔دو مشیروں کے محکمے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

    زرک مندوخیل کو صوبائی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق کئی وزراء کے خلاف نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر ادارے تحقیقات کر رہے ہیں جس کے باعث یہ رد و بدل کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو صوبائی کابینہ میں تبدیلی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

    دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کابینہ میں کسی قسم کی تبدیلی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت کوئی رد و بدل زیر غور نہیں۔

    چارسدہ: شبقدر میں پولیس پر فائرنگ، دو حملہ آور ہلاک

    سندھ میں 6 ماہ کے دوران 133 خواتین قتل، 90 جنسی زیادتی کیسز رپورٹ

    یمن کے قریب پناہ گزینوں کی کشتی الٹ گئی، 54 افراد ہلاک

    مصروف شیڈول،پاکستان اور آئرلینڈ کی ہوم سیریز مؤخر

    انسٹاگرام پر لائیو اسٹریمنگ کیلئے فالوورز کی شرط عائد

  • بلوچستان محسن صوبہ،کسی کو حق نہیں کہ امن خراب کرے،بلوچستان امن جرگہ

    بلوچستان محسن صوبہ،کسی کو حق نہیں کہ امن خراب کرے،بلوچستان امن جرگہ

    اتحاد امت کوئٹہ کے زیر اہتمام بلوچستان امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، بلوچ عمائدین نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان اور قوم پاکستان کا محسن صوبہ ہے، اسی صوبہ نے پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ،بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کا امن خراب کرے،آئیں ہم متحد ہوکر پاکستان کے استحکام کے لیے مل کر سیاست کریں ،اہل بلوچستان کا انکے حقوق دیئے جائیں، بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کی جائے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرے

    ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق،ہدیۃ الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،چئرمین شعبہ خدمت خلق چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ،بلوچ رہنما ڈاکٹر نادر خان اچکزئی،میر فیض مری ، مولانا عبدالقادر لوئی، زبیر حسین، سردار محمد افضل تاجک، عبدالہادی کاکڑ، عبدالحق ہاشمی، ملک میرا خان نیازی، میر شاہجہان گرگناڑی، سردار سعود ساسولی، ملک محمد اسلم، ڈاکٹر ہارون، میرشکر خان رئیسانی، ڈاکٹر عبدالرشید، پیر سید حبیب اللہ چشتی، ثاقب، حافظ محمد ادریس اور مختلف عمائدین نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں‌ بلوچستان امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا.جرگہ کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان امن جرگہ میں‌شرکا نے حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان میں امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کیا ۔ جرگہ نے بلوچستان میں بھارت کی جانب سے کھلی دہشت گردی، قتل وغارت اور اس کے پورے ملک میں بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حکومت سے اس کی فوری روک تھام کا پر زور مطالبہ کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ لسانیت، صوبائیت اور علاقائیت کی بنیاد پر پر امن شہریوں کے قتل عام کی روک تھام کی جائے۔ جرگہ اس قتل و غارت گری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امن و امان کی فضا کو فروغ دیا جائے۔صوبے بھر کے تمام راستوں کو کلیئر کرنا اور اُنہیں محفوظ بنانا صوبائی و وفاقی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے تا کہ لوگوں کی آمد ورفت پر امن انداز میں ممکن ہو اور تجارت کو فروغ مل سکے۔

    بلوچستان امن جرگہ کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کو سیاسی اور معاشی معاملات میں آئینی حقوق دیے جائیں اور صوبے کے تمام فیصلے منتخب نما ئندوں کو کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔بلوچستان میں گالی، گولی اور سختی کی پالیسی کو ترک کیا جائے اور چیک پوسٹوں پر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔گوادر سے چمن تک بارڈر کی بندش کے باعث 30 لاکھ افراد بے روز گار ہو چکے ہیں انہیں باعزت روز گار فراہم کیا جائے۔لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔جن سیاسی آزادیوں کی اجازت آئین پاکستان دیتا ہے ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تا کہ آزاد وطن میں حقیقی آزادی عام ہو سکے،اغوا کاروں، بھتہ خوروں، لینڈ مافیا اور منشیات فروشوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے اور ان کی سر پرستی بند کی جائے۔بلوچستان سے متعلق تمام اہم امور ، بشمول گیس، ریکوڈک اور ساحل سے متعلق معاہدات عوام کے سامنے لائے جائیں اور بلوچستان کے مسائل کو اولین ترجیح دی جائے۔حقوق بلوچستان کے آغاز سے آج تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو اُس کے حقوق دیے جائیں اور کیسے گئے وعدے وفا کیے جائیں۔بلوچستان میں سی پیک کے فیز ون اور فیز ٹو کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔امن جرگہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کرے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرے۔امن جرگہ بلوچستان تمام مذہبی، سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ آئیے ہم اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کریں، تا کہ ہم سب مل کر پاکستان کے خلاف آنے والے چیلنجز کا منظم اور متفق ہو کر مقابلہ کر سکیں۔ ہم اتحاد کے ذریعے ہی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم کوئی ہجوم نہیں، بلکہ ایک امت ہیں۔ آئیے ایک امت بن کر ، وحدت کے ساتھ ، اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے لیے جد و جہد کریں۔امن جرگہ ، صوبائی و وفاقی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کو امن وامان کی دولت سے مالا مال کیا جائے کیونکہ اس صوبے کا امن دراصل پاکستان کا امن ہے۔

  • کوئٹہ: بجلی کی لوڈشیڈنگ،ڈاکٹرز کو  آپریشنز میں مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ: بجلی کی لوڈشیڈنگ،ڈاکٹرز کو آپریشنز میں مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ کے سنڈیمن پراونشل اسپتال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث ڈاکٹرز کو آپریشنز میں مشکلات کا سامنا رہا۔

    اسپتال میں بجلی نہ ہونے کا باعث چلڈرن سرجیکل آپریشن تھیٹر میں بچے کے ہرنیے کا آپریشن موبائل ٹارچ کی روشنی میں کیا گیااس حوالے سے ایم ایس کا کہنا تھا کہ موبائل ٹارچ کی روشنی میں آپریشن کا معاملہ ان کے علم میں نہیں، اسپتال میں جنریٹر کا متبادل انتظام موجود ہے، جنریٹر اسٹارٹ کرنے میں چند منٹ لگ جاتے ہیں،کیسکو کو دوسری لائن کی تنصیب کیلئے فنڈز فراہم کردیے ہیں۔

    ضلع آواران میں،بھی طویل اور غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ روزانہ 22 گھنٹے کی بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کاروباری، تعلیمی اور طبی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول نہیں، بجلی کسی بھی وقت چلی جاتی ہے اور گھنٹوں واپس نہیں آتی، اسپتالوں میں مریض گرمی اور پریشانی سے دوچار ہیں جبکہ بچے اور بزرگ شدید متاثر ہو رہے ہیں اسکولوں میں تعلیم کا عمل بھی متاثر ہو رہا ہے-

    وزیراعظم شہباز شریف،اسحاق ڈار سے اہم ملاقات،آرمڈ فورسز کا احسان،معیشت کرے گی پرواز

    دوسری جانب محکمہ بجلی کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آواران واپڈا میں ڈیزل کم ملنے کی وجہ سے بجلی طویل بندش کا باعث بن رہی ہیں تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ محض بہانے ہیں، اور عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہےعوام نے وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیرِ توانائی، اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آواران کے اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور مستقل حل نکالا جائے ۔

    کراچی میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر امریکی اہلکاروں کی سرگرمیاں محدود

  • بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ، مختلف پابندیاں عائد

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ، مختلف پابندیاں عائد

    بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت مختلف پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

    اس سلسلے میں محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر 15 دن کے لیے مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، دھرنے اور ریلیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں مردوں کے نقاب پہننے اور منہ ڈھانپنے پر بھی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ نے یاد دہانی کروائی ہے کہ گاڑیوں پر کالے شیشے لگانے پر پہلے سے ہی پابندی عائد ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

    پاکستانی میڈیا نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، بلاول بھٹو

  • بلوچستان کابینہ نے میانی ہور کو پاکستان کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے دیا

    بلوچستان کابینہ نے میانی ہور کو پاکستان کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے دیا

    بلوچستان کابینہ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے میانی ہور کو پاکستان کا تیسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے دیا ہے، جس کا مقصد اس خطے کے نازک ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کرنا ہے۔

    ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ترجمان کے مطابق، میانی ہور کا یہ اعلان ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک سنگ میل ہے، کیونکہ یہ علاقہ اپنی نوعیت میں نہایت منفرد ہے اور پاکستان کے ساحلی علاقوں میں حیاتیاتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔بلوچستان کی حکومت نے اس سے قبل بھی ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ 2017 میں آسٹولا آئی لینڈ کو پاکستان کا پہلا میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دیا گیا تھا، جبکہ 2024 میں چرنا آئی لینڈ کو دوسرا میرین پروٹیکٹڈ ایریا بنایا گیا۔ یہ دونوں مقامات حیاتیاتی تنوع اور مرجان کیچڑ کے جنگلات کی اہم آماجگاہیں ہیں جو قدرتی ماحول کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق، میانی ہور ملک کے چند ایسے علاقوں میں شامل ہے جہاں قدرتی مینگروز کے جنگلات بہت ہی بھرپور انداز میں موجود ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد مقام ہے جہاں مینگروز کی تین مختلف اقسام قدرتی طور پر پائی جاتی ہیں۔ مینگروز کے جنگلات سمندری حیات، پرندوں، اور دیگر جانداروں کے لیے محفوظ رہائش فراہم کرتے ہیں اور ساحلی خطے کو ماحولیاتی خطرات جیسے سیلاب اور سمندری طوفانوں سے بچاتے ہیں۔میانی ہور ضلع لسبیلہ میں واقع پاکستان کی سب سے بڑی لگون بھی ہے، جہاں مختلف قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ ان پرندوں کی اقسام کی بنیاد پر میانی ہور کو مئی 2001 میں رامسر سائٹ کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا، جو اس مقام کی عالمی ماحولیاتی اہمیت کا ثبوت ہے۔ علاوہ ازیں، ستمبر 2022 میں حکومت بلوچستان نے میانی ہور کے مینگروز جنگلات کو "محفوظ جنگلات” قرار دے کر ان کی حفاظت کو مزید تقویت دی تھی۔

    ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر رب نواز نے اس حوالے سے کہا کہ میانی ہور کا نازک میرین ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع اس وقت کئی ماحولیاتی خطرات کا شکار ہے۔ انہوں نے وفاقی اور دیگر ساحلی صوبوں کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان حکومت کے اس اقدام کو اپناتے ہوئے مزید میرین پروٹیکٹڈ ایریاز کے قیام پر توجہ دیں تاکہ پاکستان کے سمندری وسائل اور حیاتیاتی ورثے کو تحفظ دیا جا سکے۔

  • مستونگ :سیکیورٹی خدشات، بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں، نقاب پوش  افراد پرپابندی عائد

    مستونگ :سیکیورٹی خدشات، بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں، نقاب پوش افراد پرپابندی عائد

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے تحت بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں، نقاب پوش موٹرسائیکل سواروں اور ڈبل سواری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) مستونگ کے مطابق یہ اقدامات شہر میں امن قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے کیے جا رہے ہیں.ڈی سی نے مزید بتایا کہ مستونگ میں ڈبل سواری پر پابندی کا اطلاق یکم اگست سے 31 اگست تک جاری رہے گا۔شہر کے مختلف مقامات پر سیکیورٹی ناکے قائم کیے گئے ہیں۔موٹر سائیکل سواروں کی سخت چیکنگ کی جائے گی تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوری روکا جا سکے۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندیوں پر عمل کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں تاکہ علاقے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

    امریکا نے القاعدہ رہنما کی گرفتاری پر انعامی رقم 10 ملین ڈالر کر دی

    یمن میں بھارتی نرس نمیشا پریا کی پھانسی مؤخر، سزا برقرار

    میاں بیوی قتل کیس ، گوجرانوالہ سے 4 افراد گرفتار،نئی تفصیلات آگئیں

  • ایف آئی اے کی کوئٹہ میں بڑی کارروائی، حوالہ ہنڈی میں ملوث 5 افراد گرفتار

    ایف آئی اے کی کوئٹہ میں بڑی کارروائی، حوالہ ہنڈی میں ملوث 5 افراد گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کوئٹہ اور چمن کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق بلوچستان زون کی ٹیم نے خفیہ اطلاعات پر کارروائیاں کیں، جن کے دوران اکمل خان، سیف اللہ، بشیر احمد، عبدالقیوم اور عبداللہ کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 6 لاکھ 84 ہزار پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 230.5 ملین ایرانی ریال، ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد افغان کرنسی، 700 امریکی ڈالر، 200 سعودی ریال اور 150 آسٹریلین ڈالر بھی برآمد کیے گئے۔

    علاوہ ازیں، کارروائی کے دوران ملزمان کے پاس سے چیک بکس، حوالہ ہنڈی سے متعلق رسیدیں اور بینک ڈیپازٹ سلپس بھی برآمد ہوئیں، جو ان کے غیرقانونی مالی لین دین میں ملوث ہونے کا ثبوت ہیں۔ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

    انڈیگو کی پرواز میں تاخیر،مسافروں کا ہنگامہ،ایئر ہوسٹس ہاتھ جوڑنے پر مجبور

    اسرائیلی حملوں میں 10 گھنٹے وقفہ ناکافی ہے، برطانوی وزیر خارجہ

    پاکستان نے انگور اڈا کراسنگ پوائنٹس کھولنے کے لیے افغانستان سے مہلت مانگ لی