کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے المناک حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی ہے، جبکہ کان میں پھنسے دیگر کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں انتہائی دشوار حالات میں مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے متاثرہ مزدوروں تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ریسکیو اہلکار جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا رہے ہیں اور کان کے اندر موجود مزدوروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مزدوروں تک رسائی حاصل نہیں ہو جاتی۔
صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور حکومت بلوچستان ریسکیو کارروائیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی اور تمام متعلقہ ادارے مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
میر شعیب نوشیروانی نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہر جاں بحق مزدور کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی مزدور کو 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ مزدوروں کے ریسکیو اور ریلیف تک امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ محنت کش مزدور ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے کوئلہ کانوں میں ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مستقل حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔ دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سورینج میں پیش آنے والے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔
اس حادثے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کی جانوں کے تحفظ اور حفاظتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
Category: کوئٹہ
-

کوئٹہ کان حادثہ: جاں بحق مزدوروں کی تعداد 34 ہو گئی، ریسکیو آپریشن جاری
-

بلوچستان کے عوام اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن عناصر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کوئٹہ میں 20ویں ٹریننگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں، لیکن جو عناصر ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی کوششوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو سیاست سے نہ جوڑا جائے، کیونکہ ریاست کو سیاسی مفادات نہیں بلکہ قومی سلامتی اور ریاستی استحکام کی ضرورت ہے۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیلا گیا، تاہم بلوچستان کے نوجوان اب یہ حقیقت سمجھ چکے ہیں کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو لوگ امن اور قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ خیال ترک کرنا ہوگا، کیونکہ حکومت اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی اور تشدد کے سامنے ہرگز سرنڈر نہیں کریں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے تعاون سے بلوچستان اور ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
-

کوئٹہ: کوئلے کی کان میں دھماکا، 18 کان کن جاں بحق
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں واقع کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں پھنسنے والے کان کنوں میں سے اب تک 18 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ دیگر مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت کان میں مجموعی طور پر 42 مزدور کام کر رہے تھے۔ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود متاثرہ کان میں پھنسے افراد تک رسائی کے لیے مسلسل امدادی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ حکومت جاں بحق کان کنوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کی ہر پہلو سے شفاف تحقیقات کی جائیں گی تاکہ واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
اس سے قبل کوئلہ کان کے مالک نے بتایا تھا کہ کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث دھماکا ہوا۔ ان کے مطابق دھماکے کے وقت کان میں موجود تمام 42 مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تھا۔ ریسکیو حکام کے مطابق باقی مزدوروں کی تلاش اور بحفاظت نکالنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔
-

فتنہ الہندوستان کی سفاکیت،تربت سے چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد
بلوچستان کے ضلع تربت سے 6 افراد کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
فتنہ الہندوستان کی سفاکیت اور درندگی کی انتہاء، تربت کے علاقے ناصر آباد میں 6 غیر مقامی مزدوروں کا بہیمانہ قتل کر دیا ،فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں کی سفاکیت اور درندگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ تربت کے علاقے ناصر آباد میں دوسرے صوبوں سے روزی روٹی کمانے کے لیے آئے 6 غیر مقامی مزدوروں کا بے دردی سے قتل دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
پولیس کے مطابق تربت کے علاقے ناصر آباد سے6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، واقعے کی اطلاع ملنے پر مقا می انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر میتوں کو اسپتال منتقل کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو گولیاں ماری گئی تھیں ، تربت سے برآمد ہونے والی لاشیں 6 مزدوروں کی ہیں ، شہید کئے جانے والے مزدوروں میں سے چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیر پختونخوا سے ہے
-

بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، محسن نقوی
کوئٹہ: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کی زیرِ صدارت بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں سیکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور آئندہ حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جاری سیکیورٹی اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی) اور بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار مزید بہتر بنانے اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان پولیس کو مضبوط بنانے کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے گی، جبکہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے درکار وسائل اور سہولیات کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بحالیِ امن کے لیے تیار کیے گئے ماسٹر پلان پر فوری، مؤثر اور مکمل عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ بلوچستان پولیس کے سابق سربراہان کے تجربات اور مشاورت سے بھی بھرپور استفادہ کیا جائے گا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جدید ٹیکنالوجی، مؤثر انٹیلی جنس نظام اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے تمام ادارے مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہے گی اور کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی اور دہشت گردوں کے لیے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، معیاری تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ انہیں روشن مستقبل میسر آئے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جا رہا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ امن، ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے بلوچستان میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر بھی بیک وقت تیزی سے پیش رفت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے صوبے میں امن و امان کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں پر مزید تیز رفتاری سے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ بلوچستان کو ایک پرامن اور خوشحال صوبہ بنایا جا سکے۔
-

کوئٹہ کے 22 سالہ نوجوان میں کانگو وائرس کی تصدیق، رواں سال کا دوسرا کیس رپورٹب
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد اسے مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ صحت حکام کے مطابق یہ رواں سال رپورٹ ہونے والا کانگو وائرس کا دوسرا کیس ہے، جس کے بعد طبی اداروں نے نگرانی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 22 سالہ رحمت اللہ کو تیز بخار، شدید کمزوری اور ناک سے خون آنے کی شکایت کے باعث کراچی کے جناح اسپتال لایا گیا۔ ابتدائی طبی معائنے کے دوران مریض کے خون میں پلیٹ لیٹس اور ہیموگلوبن کی سطح انتہائی کم پائی گئی، جبکہ جگر کے انزائمز میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس پر ڈاکٹروں نے فوری طور پر مزید طبی معائنے کا فیصلہ کیا۔
حکام کے مطابق مریض کے مختلف لیبارٹری ٹیسٹوں کے ساتھ کانگو پی سی آر ٹیسٹ بھی کیا گیا، جس کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد کانگو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ تشخیص کے بعد مریض کو خصوصی نگہداشت اور علاج کے لیے نیپا اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق کانگو وائرس، جسے کانگو ہیمرجک فیور بھی کہا جاتا ہے، ایک خطرناک وائرل بیماری ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر مویشیوں میں موجود چیچڑ کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ جانوروں کے خون، گوشت یا جسمانی ٹشوز سے براہ راست رابطہ بھی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ایک متاثرہ شخص کے خون یا جسمانی رطوبتوں سے قریبی رابطے کے ذریعے بھی دوسروں تک منتقل ہو سکتی ہے، اس لیے اسپتالوں میں علاج کرنے والے طبی عملے کو خصوصی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کانگو وائرس کی عام علامات میں تیز بخار، شدید کمزوری، سر درد، جسم میں درد، ناک اور مسوڑھوں سے خون آنا، جلد پر نیل پڑنا اور بعض صورتوں میں اندرونی خون بہنا شامل ہے۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ -

چمن میں 30 ترقیاتی منصوبوں پر سست روی سوالیہ نشان
چمن: بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ضلع چمن کے حلقہ پی بی-51 سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کے حلقے میں رواں مالی سال کے دوران 30 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1 ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان منصوبوں پر مجموعی پیش رفت صرف 45 فیصد تک پہنچ سکی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختص فنڈز کے باوجود متعدد اہم منصوبے، خصوصاً سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور سیوریج سے متعلق اسکیمیں، مطلوبہ رفتار سے مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت، نکاسیٔ آب اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کی بنیادی ذمہ داری منتخب عوامی نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری ہونے والے فنڈز کو شفاف انداز میں اور مکمل دیانتداری کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو علاقے میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حلقہ پی بی-51 میں جاری تمام ترقیاتی منصوبوں کا شفاف آڈٹ کرایا جائے، فنڈز کے مؤثر اور درست استعمال کو یقینی بنایا جائے، منصوبوں کی سست روی کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور ہر منصوبے کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن جاری کی جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
-

مستونگ، گاڑی پر فائرنگ، دو خواتین جاں بحق، دو بچوں سمیت تین افراد زخمی
مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں منگوچر کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین جاں بحق جبکہ دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاندان کار میں سوار ہو کر سفر کر رہا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان کا تعلق ضلع ژوب سے بتایا جا رہا ہے،واقعے کے فوراً بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ جاں بحق ہونے والی خواتین کی لاشوں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمیوں کا علاج جاری ہے،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی بھی کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات اور حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
-

ہنہ اوڑک میں دہشتگردی واقعہ کے بعد جاری دھرنا وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی یقین دہانی کے بعد ختم
بلوچستان کے علاقے ہنہ اوڑک میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد ائیرپورٹ روڈ پر جاری دھرنا وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی یقین دہانی کے بعد ختم کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھرنے میں شریک ہوئے اور احتجاج کرنے والوں کے تحفظات اور مطالبات سنے، انہون نے کہا کہ ہم سے کوئی غلطی ہو گی تو اسے تسلیم کریں گے، وزیراعظم اورفیلڈ مارشل کی موجودگی میں فیصلے ہوئے، جو وعدے کیے بطور وزیر اعلیٰ ان پرعمل درآمد کا پابند ہوں،شہداء کے ورثاء کومالی امداد، نوکری اور بچوں کو تعلیم دیں گے، سازش کے تحت ریاست کو بدنام کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
واضح رہے کہ 5 جولائی کو ہنّہ اوڑک میں ہوئے حملے میں 4 افراد جاں بحق اور 11 لاپتا ہوئے تھے۔
دوسری جانب مانگی ڈیم حملے میں شہید 14 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، شہدا کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا،شہدا کے لواحقین کا میتوں کے ہمراہ کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک کے مقام پر دھرنا جاری ہے،زیارت میں بھی ڈپٹی کمشنر کمپلیکس کے باہر متاثرہ خاندانوں کا دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا، لواحقین نے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔
6 جولائی کو کچ مانگی میں 21 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر شہید کیا گیا تھا، جن کی میتیں گزشتہ رات سول اسپتال کوئٹہ لائی گئی تھیں،واقعے میں 2 ایس ایچ اوز سمیت 9 اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ ایک ڈی ایس پی سمیت 8 اہل کار محفوظ رہے تھے۔
-

کوئٹہ،وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس جاری ہے، جس میں ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان شریک ہیں۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک بالخصوص بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جاری کارروائیوں اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں اہم فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد، وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے آئندہ لائحہ عمل بھی مرتب کیا جائے گا۔