Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ،چمن میں 77 ترقیاتی منصوبوں میں سے 68 مکمل

    بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ،چمن میں 77 ترقیاتی منصوبوں میں سے 68 مکمل

    چمن: بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (BSDI) کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت ضلع چمن میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جہاں مجموعی طور پر 77 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ان منصوبوں میں سے 68 مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 9 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 754.13 ملین روپے مختص کیے گئے، جن کا مقصد عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لانا ہے۔مقامی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیے گئے ان منصوبوں کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی نے اہم کردار ادا کیا، جس میں ایف سی بلوچستان (نارتھ)، سول انتظامیہ اور منتخب نمائندے شامل تھے۔ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے چمن کے شہریوں کو مختلف شعبوں میں براہِ راست سہولیات میسر آ رہی ہیں، جبکہ ان اقدامات سے علاقے میں ترقی، خوشحالی اور معیارِ زندگی میں بہتری کی بنیاد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے

  • بلوچستان میں  جوڈیشل مجسٹریٹ علی بیگ مبینہ طور پر لاپتہ

    بلوچستان میں جوڈیشل مجسٹریٹ علی بیگ مبینہ طور پر لاپتہ

    6 ستمبر کی شام جوڈیشل مجسٹریٹ علی بیگ اس وقت مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے جب وہ اپنے آبائی گاؤں شییشہ ڈگر، کلات سے خضدار کی جانب سفر کر رہے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق علی بیگN-25 کے راستے سفر کر رہے تھے، تاہم سفر کے دوران ان سے اچانک رابطہ منقطع ہوگیا۔ ان کی آخری معلوم لوکیشن کلات کے علاقے بنچہ میں سامنے آئی، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ اہلِ خانہ کی جانب سے گمشدگی کی اطلاع کے بعد پولیس نے ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی بیگ کی گمشدگی کے پیچھے بی ایل اے دہشتگردوں کا ہاتھ ہے یہ محض ایک فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ قانون اور انصاف کے نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔ جوڈیشل افسران کو نشانہ بنا کر دہشتگرد عناصر ریاستی اداروں کو خوفزدہ اور عوام میں عدم تحفظ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بی ایل اے کی دہشتگردی کا مقصد صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایسے سرکاری اہلکاروں کو بھی خوفزدہ کرنا ہے جو قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی مبینہ اغوا کاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ دہشتگرد عناصر قانون کی بالادستی کو کمزور کرنے اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو دہشت گرد قانون، عدالت اور ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے محافظ نہیں بلکہ ان کے امن اور مستقبل کے دشمن ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ بلوچستان میں عدالتی افسران کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا؛ 23 جولائی 2026 کو مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین بھی شہید اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے۔ بلوچستان کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے بچوں کا مستقبل عدالتوں، تعلیم اور ترقی سے وابستہ ہوگا یا بندوق اٹھانے والے دہشتگردوں سے۔ ریاستی اہلکار کا اغوا صرف اس کے خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے خلاف ایک جرم ہے۔

  • بلوچستان،600 خواتین کی تربیت مکمل،100 نے کاروبار کا آغاز کر دیا

    بلوچستان،600 خواتین کی تربیت مکمل،100 نے کاروبار کا آغاز کر دیا

    بلوچستان حکومت کے ویمن انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 600 خواتین کی تربیت مکمل کرلی گئی، جبکہ تربیت حاصل کرنے والی 100 خواتین نے اپنے کاروبار کا آغاز کردیا۔

    کوئٹہ میں منعقدہ تقریب کے دوران مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کاروبار شروع کرنے والی 100 خواتین میں فی کس 2 لاکھ روپے کے چیکس تقسیم کیے۔ اس طرح خواتین کو مجموعی طور پر 2 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی۔اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ حکومت خواتین کو ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ کاروبار شروع کرنے کے لیے ضروری وسائل اور مواقع بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں اور اپنے خاندانوں سمیت صوبے کی معیشت میں مؤثر کردار ادا کریں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ویمن انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کو تعلیم، ہنر، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ہر بیٹی کے ہاتھ میں ہنر، علم اور روزگار ہونا چاہیے، بارود نہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنا کر انہیں معاشی سرگرمیوں کا مؤثر حصہ بنایا جائے گا۔

  • بلوچستان سے اندرونِ ملک ٹرین سروس دو روز کیلئے معطل

    بلوچستان سے اندرونِ ملک ٹرین سروس دو روز کیلئے معطل

    کوئٹہ: بلوچستان سے اندرونِ ملک جانے والی ٹرین سروس دو روز کیلئے معطل کردی گئی ہے۔

    ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی روانگی ریلوے ٹریک کی مرمت کے باعث منسوخ کردی گئی ہے۔ جعفر ایکسپریس 5 اور 6 ستمبر کو کوئٹہ سے پشاور کیلئے روانہ نہیں ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ آج پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیکب آباد تک محدود کردیا گیا ہے، جس کے باعث کوئٹہ آنے اور جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق ٹریک کی مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد ٹرین سروس معمول کے مطابق بحال کردی جائے گی۔

    واضح رہے کہ بلوچستان سے کراچی کیلئے بولان میل جبکہ چمن کیلئے چمن پسینجر ٹرین بھی گزشتہ 6، 6 ماہ سے بند ہیں، جس کے باعث مسافروں کو پہلے ہی سفری مشکلات کا سامنا ہے۔

  • چیف جسٹس پاکستان کا بلوچستان ہائیکورٹ میں نئے سہولت مرکز کا افتتاح

    چیف جسٹس پاکستان کا بلوچستان ہائیکورٹ میں نئے سہولت مرکز کا افتتاح

    کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پیر کے روز بلوچستان ہائیکورٹ میں نئے تعمیر شدہ سہولت مرکز کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔

    افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز، سینئر وکلاء اور عدالتی افسران نے شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے سہولت مرکز کے مختلف شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا اور سائلین و وکلاء کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بلوچستان آنا ان کے لیے ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ نئے سہولت مرکز کے قیام کا مقصد سائلین اور وکلاء کو ایک ہی مقام پر فوری، آسان اور مؤثر عدالتی خدمات فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سہولت مرکز سے عدالتی امور کی انجام دہی میں آسانی ہوگی اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اسی نوعیت کے سہولت مراکز بلوچستان کے ہر ضلع اور تحصیل تک قائم کیے جائیں تاکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی عدالتی سہولیات تک آسان رسائی حاصل ہوسکے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اعلان کیا کہ جسٹس فنڈز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ملک بھر کے اضلاع میں سہولت مراکز کے قیام کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

    تقریب کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے 8 اگست کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں اور جدوجہد کو آگے بڑھانا ہی انہیں بہترین خراج تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔

    نئے سہولت مرکز میں سائلین اور وکلاء کو ایک ہی مقام پر مقدمات کی فائلنگ، تصدیق شدہ نقول کے حصول، ضروری معلومات اور دیگر عدالتی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس سے شہریوں کے وقت اور اخراجات میں کمی کے ساتھ عدالتی امور کی انجام دہی بھی مزید آسان ہوگی۔

    عدلیہ کے مطابق سہولت مرکز کا قیام عوام کو بروقت، آسان اور مؤثر انصاف تک رسائی فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

  • بلوچستان میں ریلوے کے نئے سفر کا آغاز، سریاب تا کچلاک منصوبہ 120 دن میں مکمل

    بلوچستان میں ریلوے کے نئے سفر کا آغاز، سریاب تا کچلاک منصوبہ 120 دن میں مکمل

    اسلام آباد: وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت بلوچستان میں ریلوے رابطوں اور سفری سہولیات کی بہتری کے لیے اہم اقدام مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان میں ریلوے کے نئے سفر کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیرِ ریلوے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ پاکستان ریلوے اور حکومتِ بلوچستان کے اشتراک سے سریاب تا کچلاک ریلوے منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ منصوبے پر 3 ارب روپے کی لاگت آئی اور اسے صرف 120 دن میں مکمل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ سریاب تا کچلاک روٹ پر 32 کلومیٹر ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن اور بحالی مکمل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سریاب اور کچلاک ریلوے اسٹیشنز پر نئے ٹرن ٹیبلز کی تعمیر، تنصیب اور کمیشننگ بھی مکمل کرلی گئی ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق سریاب اور کچلاک ریلوے اسٹیشنز کو اپ گریڈ کرکے مسافروں کے لیے سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے، جبکہ شیخ ماندا اور بلیلی ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کا کام بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔اسی طرح G.O.R ہالٹ اسٹیشن کی تعمیر نو، سولرائزیشن اور برقی کام مکمل کیے گئے ہیں۔ اسٹیشن پر مسافروں کے لیے نئے فرنیچر اور بینچز بھی نصب کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن اور لورِ کراز ہالٹ اسٹیشن پر تعمیراتی و تکمیلی کام بھی شامل ہیں۔

    محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے ٹریک کی بحالی کے ساتھ ساتھ ٹریک کے پشتوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ بلوچستان میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی اور بہتری کے لیے متعدد اہم کام مکمل کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ ان شاء اللہ جناح پیپلز ٹرین جلد نئے اپ گریڈ شدہ روٹ پر چلائی جائے گی، جس سے بلوچستان کے عوام کو بہتر سفری سہولیات اور مضبوط ریلوے رابطہ میسر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ریلوے کی بحالی وزیراعظم شہباز شریف کے مضبوط رابطوں اور جامع ترقی کے وژن کی عملی تعبیر ہے۔ بلوچستان کے عوام کو بہتر، آسان اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

  • بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، ژوب میں 67 ترقیاتی منصوبے منظور، 66 مکمل

    بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، ژوب میں 67 ترقیاتی منصوبے منظور، 66 مکمل

    ژوب: بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت ضلع ژوب میں مجموعی طور پر 67 ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے، جن میں سے 66 منصوبے مکمل جبکہ ایک منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 862.22 ملین روپے مختص کیے گئے، جن کے ذریعے عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔مقامی آبادی کی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیے گئے ان منصوبوں کی نگرانی میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی نے اہم کردار ادا کیا۔ کمیٹی میں ایف سی بلوچستان (نارتھ)، سول انتظامیہ اور منتخب نمائندے شامل تھے۔

    ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے ضلع ژوب کی مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، جبکہ انفراسٹرکچر کے فروغ سے علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں اور عوامی فلاح کے عمل کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ان منصوبوں کو بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں ترقی، خوشحالی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • صنعت کاروں کے وفد کی آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) سے ملاقات

    صنعت کاروں کے وفد کی آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) سے ملاقات

    کوئٹہ: بلوچستان کے صنعت کاروں کے وفد نے ہیڈکوارٹر ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا دورہ کیا، جہاں وفد نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، صنعتی و کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کے قیام اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صنعت کاروں نے صوبے میں امن و استحکام کے قیام اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے کردار کو سراہا۔صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ امن و استحکام صنعتی اور معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ محفوظ کاروباری ماحول سے بلوچستان میں سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • یونیورسٹی آف بلوچستان کے وفد کی آئی جی ایف سی(نارتھ)سے ملاقات

    یونیورسٹی آف بلوچستان کے وفد کی آئی جی ایف سی(نارتھ)سے ملاقات

    کوئٹہ: یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر، رجسٹرار، پروفیسرز اور فیکلٹی ممبران پر مشتمل وفد نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران بلوچستان کے تعلیمی نظام میں بہتری، طلبہ کو بہتر تعلیمی مواقع کی فراہمی اور فروغِ تعلیم کے لیے ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں معیاری تعلیم اور جدید مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں مثبت مواقع کی فراہمی سے بلوچستان کی ترقی کی رفتار مزید تیز کی جا سکتی ہے۔وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان اور فیکلٹی ممبران نے صوبے میں تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی بہتری کے لیے ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

  • بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو،  نوشکی میں 15 ترقیاتی منصوبوں میں سے 13 مکمل

    بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، نوشکی میں 15 ترقیاتی منصوبوں میں سے 13 مکمل

    بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت ضلع نوشکی میں عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ BSDI کے فیز ون اور فیز ٹو کے تحت ضلع نوشکی میں مجموعی طور پر 15 ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے، جن میں سے 13 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ 2 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

    ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 44.26 ملین روپے مختص کیے گئے، جنہیں مقامی آبادی کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔BSDI کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کا بنیادی مقصد نوشکی کے عوام کو ان کی دہلیز پر ضروری سہولیات فراہم کرنا اور علاقے میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے مقامی سطح پر بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور تکمیل کے عمل میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی نے اہم کردار ادا کیا۔ کمیٹی میں ایف سی بلوچستان (نارتھ)، سول انتظامیہ اور منتخب نمائندے شامل تھے، جنہوں نے مقامی آبادی کی ضروریات اور ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی کی۔متعلقہ حکام کے مطابق منصوبوں کی منظوری اور ان پر عملدرآمد میں مقامی آبادی کی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ محدود وسائل کو ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جاسکے جن سے زیادہ سے زیادہ افراد براہِ راست مستفید ہوں۔ضلع نوشکی میں BSDI کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں سے مقامی آبادی کو مختلف بنیادی سہولیات میسر آرہی ہیں جبکہ زیر تکمیل منصوبوں کی تکمیل کے بعد ترقیاتی سرگرمیوں کے دائرہ کار میں مزید وسعت آنے کی توقع ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ثابت ہورہے ہیں۔ نوشکی میں 15 منصوبوں کی منظوری، 13 کی تکمیل اور 2 منصوبوں کی آخری مراحل میں پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں عوامی فلاح اور ترقیاتی سرگرمیوں پر توجہ دی جارہی ہے۔یہ منصوبے مقامی آبادی کے لیے سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نوشکی میں ترقی، خوشحالی اور بہتر معیارِ زندگی کی بنیاد مزید مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔