Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ: ڈیگاری قتل کیس میں اہم پیشرفت، مقتولہ کا دیور گرفتار

    کوئٹہ: ڈیگاری قتل کیس میں اہم پیشرفت، مقتولہ کا دیور گرفتار

    کوئٹہ ڈیگاری میں خاتون اور مرد کے قتل کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، مقتولہ بانو بی بی کے روپوش دیور کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ملزم واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد فرار ہوگیا تھا۔

    پولیس کے مطابق افسوسناک واقعے میں اب تک قبائلی سردار سمیت 5 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔خیال رہے کہ 4 جون 2025 کو کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں ایک مرد اور خاتون کو بے رحمی سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مقتولین پر پسند کی شادی کا الزام تھا، تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وضاحت کی تھی کہ دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی ہیں۔

    اس کیس میں مرکزی ملزم بشیر احمد سمیت 20 افراد پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں ستکزئی قبیلے کے سربراہ شیرباز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظ بھی شامل تھے۔واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

    عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا

    مودی کی کہانی ختم،فوج میں بغاوت، ائیر چیف کے جھوٹ

    آرمی چیف اور ایرانی ہم منصب کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈرز نامزد کردیے

  • بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے 47 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے 47 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے سمبازا میں بڑی کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے 47 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 7 سے 9 اگست کے درمیان یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب دہشت گردوں کی بڑی تعداد بارڈر کراس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔فورسز کی بروقت کارروائی میں مارے جانے والے زیادہ تر دہشت گرد افغان تھے اور ان کی لاشیں افغانستان کی حدود میں گریں۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شدہ دہشت گردوں کی لاشیں 15 روز تک افغانستان کی جانب کسی نے وصول نہ کیں اور وہ گلتی سڑتی رہیں۔مزید بتایا گیا کہ 25 اگست کو ان لاشوں کو گدھوں پر لاد کر لے جایا گیا جبکہ اس دوران وہ جانوروں کی خوراک بنتی رہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے درجنوں دہشت گردوں کو کسی ممکنہ بڑی کارروائی سے قبل ہی ہلاک کرنا پاکستان کی فورسز اور اداروں کی اہم کامیابی ہے۔

    عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا

    مودی کی کہانی ختم،فوج میں بغاوت، ائیر چیف کے جھوٹ

    آرمی چیف اور ایرانی ہم منصب کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈرز نامزد کردیے

  • این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے،  وزیراعلیٰ بلوچستان

    این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر تمام سیاسی جماعتوں اور ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا۔

    کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت این ایف سی ایوارڈ کی تیاری سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام جماعتوں اور ماہرین سے مشاورت ہوگی، وسائل کی تقسیم میں شفافیت کو اہمیت دینا ہوگی،این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی ضروریات اور ترجیحات اجاگر کریں گے، پارلیمنٹ میں نمائندگی نہ رکھنے والی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی،وسائل کی تقسیم میں شفافیت اور شمولیت کو اہمیت دینا ہوگی، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے عوام کی امیدیں اور توقعات شامل ہونی چاہئیں۔

    واضح رہے کہ 11واں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اجلاس 29 اگست کو چیئرمین این ایف سی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ہوگا،اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا، اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات پر غور ہوگا اور ذیلی گروپس قائم کرنے کا جائزہ لیا جائے گا جب کہ اجلاس میں مستقبل کے اجلاس کے حوالے سے شیڈول طے کیے جائیں گے۔

  • کوئٹہ اور پشاور کے درمیان ٹرین سروس دو روز کے لیے معطل

    کوئٹہ اور پشاور کے درمیان ٹرین سروس دو روز کے لیے معطل

    کوئٹہ اور پشاور کے درمیان ٹرین سروس دو روز کے لیے معطل رہے گی۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین سروس کو سیلابی صورتحال کے پیش نظر معطل کیا گیا ہے، 25 اور 26 اگست کو کوئٹہ سے جعفر ایکسپریس پشاور کیلئے روانہ نہیں ہو گی،کوئٹہ سے چمن پیسنجر اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوئی۔ دوسری جانب ٹرینوں میں مسافروں کی کم تعداد کی وجہ سے دو مسافر گاڑیاں معطل کر دی گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق بولان میل کراچی تا کوئٹہ اور شاہ حسین ایکسپریس کراچی تا لاہور آج معطل رہیں گی ملت ایکسپریس کو قراقرم ایکسپریس میں ضم کردیا گیا، قراقرم ایکسپریس کراچی سے شام 5بجے روانہ ہوگی،سافر معلومات اور سہولت کے لیے کراچی کینٹ اور لاہور اسٹیشن کے ریزرویشن دفاتر سے رجوع کریں۔

    محسن نقوی کا پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

    دوسری جانب پاکستان ریلویز نے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) کاؤنٹرز اور آن لائن خریدے گئے ٹکٹوں کے لیے ریفنڈ پالیسی متعارف کرا دی ہے، سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پی او ایس کاؤنٹرز پر ٹکٹ خریدنے والے مسافروں کو روانگی سے 48 گھنٹے قبل ٹکٹ منسوخ کرنے پر 90 فیصد ریفنڈ مل سکتا ہے۔

    ریفنڈ پالیسی کے تحت روانگی سے 24 سے 48 گھنٹے قبل ٹکٹ منسوخی پر 80 فیصد رقم ریفنڈ کی جائے گی جبکہ 24 گھنٹے کے اندر کی گئی ٹکٹ منسوخی پر ٹکٹ کی 70 فیصد رقم واپس ملے گی، پالیسی کے مطابق اگر کوئی مسافر روانگی کے 2 گھنٹے کے اندر اندر اپنے ٹکٹ کی منسوخی کرائے گا تو اسے کرایہ کا 50 فیصد واپس کر دیا جائے گا۔

    9 مئی، ایک اور کیس کا فیصلہ،109 میں سے 75 ملزمان کو سزائیں

    نئی پالیسی میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایسے معاملات میں جہاں کوئی ٹرین منسوخ یا 6 گھنٹے سے زیادہ کی تاخیر کا شکار ہو گی، تو اس کے مسافر اپنے ٹکٹ کی مکمل رقم کی واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں، مسافر یہ رقم اپنی اصل ٹکٹ اور اپنے شناختی کارڈ کی کاپی پیش کرنے کے بعد پی او ایس کاؤنٹرز سے اپنی رقم لے سکتے ہیں۔

  • کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    کالعدم بی ایل اے کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کا قریبی ساتھی گرفتار، وکالت کی ڈگری ہولڈر نکلا

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے فتنہ الہندوستان کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے علیحدگی پسند تنظیم کالعدم (بی ایل اے) کے کارندے ڈاکٹر عثمان قاضی کے قریبی ساتھی میر خان محمد کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملزم میر خان محمد لہری،نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ بلوچستان میں پراسیکیوٹر انسپکٹر بنے،تاہم دورانِ ملازمت وہ مبینہ طور پر کالعدم تنظیم کے لیے سہولت کاری کرتا رہاابتدائی تفتیش میں میر خان لہڑی کے روابط اور سرگرمیوں کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کی بنیاد پر مزید متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی نے کہا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ تنظیم کے نیٹ ورک کے مزید سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، سی ٹی ڈی نے ملزم سے تفتیش شروع کردی ہے جس نے ملزم کی درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

    بل ازیں کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، وہ بھی کالعدم تنظیم کے نیٹ ورک کا اہم ترین حصہ تھا۔ اس نے اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وہ کالعدم بی ایل اے سے منسلک رہا اور متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں سہولت کاری فراہم کرتا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کے آغاز میں دہشتگردوں کے ایک سہولت کار پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان دکھایا جس میں ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ تربت کا رہائشی ہے وہیں پلا بڑھا اور ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی قائد اعظم یونیورسٹی سے ماسٹر اور پھر ایم فل کیا پشاور یونیورسٹی سے اسکالرشپ کے ساتھ پی ایچ ڈی کی کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہا تھا 18 گریڈ کا لیکچرر تھا میری اہلیہ بھی سرکاری ملازم ہیں،جب میں پشاور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا تو میں قائد اعظم یونیورسٹی کے وزٹ پر گیا تھا، وہاں 3 دوستوں کے ساتھ ملاقات ہوئی وہ تنظیم کے ساتھ منسلک تھےبعد میں ان میں سے 2 مارے گئے پھر ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک نے مجھ سے رابطہ کیا بعد میں مجھے بھی تنظیم میں شامل کیا گیا۔

    پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے انکشاف کیا کہ اس کے بعد میری ملاقات بشیر زیب سے کروائی گئی بشیر زیب سے میرا رابطہ ٹیلی گرام کے ذریعے ہوتا تھا ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ دہشگردانہ کاررائیوں کے لیے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کا استعمال کرتے تھے تنظیم نے کوئٹہ میں مجھ سے 3 کاموں میں سہولت کاری لی تھی تنظیم میں میرا نام امیرتھا وہ مجھے اسی نام سے جانتے تھے مجھے پہلا کام ایک ریجنل کمانڈر کے علاج اور تیمار داری کا دیا گیا تھا اس کا نام شیر دل تھا وہ ایک لڑائی میں زخمی ہوا تھا میں نے اسے جگہ دی، بعد ازاں وہ صحت یاب ہوکر چلا گیا تھا پھر گزشتہ سال نومبر میں نے رفیق بزنجو کو اپنے ہاں رہنے کو جگہ دی وہ میرے پاس 2 دن رہا اور پھر میں نے اسے کسی اور کے حوالے کیا اس سے اگلے دن وہ یہاں ریلوے اسٹیشن میں ایک خود کش کارروائی میں پھٹ گیا تھا۔

    واضح رہے کہ نومبر 2024 مییں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملہ ریلوے اسٹیشن پر ہوا تھا، اس میں 32 جانیں ضائع ہوئی تھیں، 50 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ 10 سویلینز شہید ہوئے تھے، باقی سیکیورٹی فورسز کے جوان تھےملزم نے بتایا کہ حال ہی میں مجھے ایک ٹارگٹ ملا تھا ایک شخص چند دن میرے پاس رہا اس کے بعد میں نے اسے جمیل عرف نجیب کے حوالے کیاتنظیم والے اسے 14 اگست کے کسی ایونٹ میں استعمال کرنے والے تھے۔

    ڈاکٹر عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ سارے کام میں نے کیے اس کے علاوہ میں نے ایک پسٹل بھی لیا تھا وہ میں نے ایک خاتون کے حوالے کیا خاتون نے پسٹل آگے تنظیم کے اسکواڈ کو دیا پھر وہ پسٹل سیکورٹی اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو ٹارگٹ کرنے میں استعمال ہوا تھا ملزم نے اعتراف کیا کہ یہ سارے کام میں نے کیے، تنظیم کے ساتھ منسلک رہا ہوں میں نے سہولت کاری کی ہے۔

    ملزم نے اعتراف کیا کہ ریاست نے مجھے سب کچھ دیا عزت اور وقار دیا مجھے بھی نوکری دی اور میری اہلیہ کو بھی نوکری دی اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی کی اور ریاست کے ساتھ غداری کی ہے میں اس پر تہہ دل سے شرمندہ ہوں مجھے اس پر افسوس ہے میرے اس ویڈیو بیان کو ریکارڈ کرانے کا مقصد نوجوان نسل سے کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی انتشار پھیلانے والی تنظیموں سے دور رہیں۔

  • دہشتگردوں کا سہولت کار لیکچرار 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے

    دہشتگردوں کا سہولت کار لیکچرار 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے

    انسداد دہشتگردی عدالت نے دہشتگردوں کی سہولت کاری کے الزام میں بیوٹمز یونیورسٹی کے گرفتار لیکچرار ڈاکٹر عثمان قاضی کو 14 روز کے ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا ہے۔

    کوئٹہ سے 12 اگست کو گرفتار کیے جانے والے بیوٹمز یونیورسٹی کے لیکچرار ڈاکٹر عثمان قاضی کو سی ٹی ڈی نے انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ڈاکٹر عثمان قاضی پر کالعدم دہشتگرد تنظیم کے لیے سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف کیس میں الزام ہے کہ انہوں نے دہشتگرد تنظیم کی سرگرمیوں کو آسان بنانے میں مدد فراہم کی۔

    ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر عثمان قاضی نے ویڈیو بیان میں دہشتگردی کے متعدد واقعات میں کالعدم تنظیم کی معاونت کا اعتراف بھی کیا ہے، جس کی روشنی میں ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔یہ گرفتاری کوئٹہ میں سلامتی کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ انسداد دہشتگردی فورسز نے اس طرح کے کیسز کو سختی سے نمٹانے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ علاقے میں امن و امان قائم رکھا جا سکے۔

  • کوئٹہ:بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن کی دہشتگردی کی مذمت،اداروں اور ملک کے ساتھ اظہار یکجہتی

    کوئٹہ:بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن کی دہشتگردی کی مذمت،اداروں اور ملک کے ساتھ اظہار یکجہتی

    کوئٹہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار زبیرخان) بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن کا ڈاکٹر عثمان قاضی کے اعترافی ویڈیو پر ردِعمل، دہشتگردی کی مذمت

    تفصیلات کے مطابق بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں بیوٹمز یونیورسٹی کے ملازم ڈاکٹر عثمان قاضی کے اعترافی ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوٹمز کے تمام ملازمین محبِ وطن ہیں اور ہر قسم کی دہشتگردی کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ملازمین کا شروع دن سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ اگر ڈاکٹر عثمان قاضی کسی غیر قانونی عمل میں ملوث ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اعترافی بیان کے بعد بیوٹمز کے ملازمین اپنے ملک اور ادارے کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی دہشتگردی یا دہشتگرد عناصر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

  • منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو گرفتار کر کے یومِ آزادی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا،جبکہ،دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے-

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 11 اگست کو کوئٹہ سے ایک خود کش حملہ آور کو گرفتار کیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے خود کش حملے کے لیے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا تھابعد ازاں گرفتار بمبار کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خودکش بمبار تیار کرنے والے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی کو افنان ٹاؤن سے گرفتار کیا۔

    ڈاکٹر محمد عثمان قاضی نے بتایا کہ ان کا تعلق تربت سے ہے وہیں پلا بڑھا اور انہوں نے ملک کے اچھے اداروں سے تعلیم حاصل کی، وہ کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں ملازمت کر رہے تھ قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، اور گریڈ 18 میں بطور لیکچرار تعینات ہے، اس شخص نے بتایا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہےگرفتار ملزم ڈاکٹر عثمان قاضی نے تفصیل بتائی کہ 2020 میں قائداعظم یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران اس کی ملاقات ’ایک تنظیم‘ سے تعلق رکھنے والے 3 افراد سے ہوئی تھی، جن میں سے دو بعد میں مارے گئے، باقی 2 افراد نے اسے اس شدت پسند گروہ میں شامل کرایا اور اس کی ملاقات بشیر زئی سے کرائی۔

    خیبر پختونخوا،متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے،ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر

    عثمان قاضی نے بتایا کہ یہ تمام تعارف ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے کروائے گئے اور کوئٹہ آنے پر اس نے گروہ کی ہدایات پر 3 کارروائیوں میں سہولت فراہم کی، ڈاکٹر حبیطان اور فی خالق کی ہدایات کے مطابق گروہ کی مدد کی، ایک ایسے عسکریت پسند کو پناہ دی جو قلات میں جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا، میں نے اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا تھا اور اگلے دن وہ یہاں ریلوے خودکش دھماکے میں ہلاک ہوگیا۔

    terrorist

    دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث،عثمان قاضی

    اس نے ایک اور ایسا ہی واقعہ سنایا کہ جس شخص کو اس نے 7 سے 8 دن تک پناہ دی تھی، وہ 14 اگست کے کسی واقعے میں استعمال ہونے والا تھا، لیکچرار نے یہ بھی اقرار کیا کہ اس نے ایک پستول خریدا تھا جو سیکیورٹی فورسز اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے میں استعمال ہوا، یہ وہ کام ہیں جو میں نے کیے، یہ وہ سہولت کاری ہے جو میں نے کی، اگر دیکھا جائے تو ریاست نے مجھے اور میری اہلیہ کو عزت، وقار، نوکری سب کچھ دیا، لیکن اس کے باوجود میں نے قانون کی خلاف ورزی اور ریاست سے غداری کی، مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہے کہ میں ان کارروائیوں میں شامل رہا اور اس پر افسوس ہے، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں، نوجوان، یہاں کے طلبہ ان تنظیموں سے بچ سکیں جو بدامنی پھیلا رہی ہیں۔

    بدین اور لوئر کوہستان میں 2 نئے پولیو کیسز رپورٹ ، رواں سال مجموعی تعداد 21 ہو گئی</a

    کوئٹہ میں دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 14 اگست کو خودکش حملہ آور ان معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے تھے، جو یومِ آزادی منا رہے تھےانہوں نے سیکیورٹی اداروں، محکمہ انسداد دہشت گردی بلوچستان اور پولیس کو صوبے کو بڑی تباہی سے بچانے پر سراہا، انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ مجید بریگیڈ کے کسی عہدیدار کو گرفتار کیا گیا، یہ پاکستان اسٹڈیز کا لیکچرار ہے، اندازہ کریں کہ کتنے بچوں کو اس نے ورغلایا ہوگا، یہ شخص دہشت گردوں کا علاج اپنے گھر پر کرواتا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، اس طرح پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہماری ایجنسیاں، حکومت اور ہر کوئی پریشان ہے، اس دہشت گردی کو کچھ اور نام دیا جاتا ہے، ایسے لوگ جن کے رشتہ دار کسی عسکریت پسند تنظیم کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے اہل خانہ کسی کو اطلاع نہیں دیتے، حالانکہ ایسے لوگ تربیت لے کر واپس گھر بھی آتے ہوں گے۔

    یورپ ہمارے میزائلوں کی پہنچ میں ہے،ایران

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب ایسا نہیں چلے گا، ایسے لوگوں کے اہل خانہ کو حکومت کا اطلاع دینا ہوگی، ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ پورا خاندان ملا ہوا ہے، والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، گرفتار ملزم نے کئی انکشافات کیے ہیں، مجید بریگیڈ کئی ٹیئرز میں کام کرتی ہے، یہ لوگوں کو ورغلا کر انہیں تربیت دیتے ہیں، انہیں خودکش حملہ آور بناتے ہیں، ایک ٹیئر میں پولیس، لیویز، فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرنے پر پیسے دیے جاتے تھے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی ٹارگٹ کرنے پر انہیں پیسے دیے جاتے ہیں،ہم اس کے ساتھیوں تک بھی پہنچیں گے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے قبل ایسا تاثر بنایا گیا تھا کہ فوج اور سرمچاروں کے درمیان جنگ یا لڑائی چل رہی ہے، ہم نے ایک پورا سیل بنایا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک گرفتار شخص کا ریکارڈ شدہ بیان بھی جاری کیا، جس نے کہا کہ اس نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے، اور گریڈ 18 کے لیکچرار کے طور پر کام کر رہا ہے اس شخص نے مزید کہا کہ اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے۔

    درخت آفات کے خلاف ڈھال اور آئندہ نسلوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں، صدرمملکت

    حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے،محمد اورنگزیب

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار لیکچرار کا محدود اعترافی بیان اس لیے جاری کیا تاکہ جاری تحقیقات متاثر نہ ہوں،انہوں نے نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن بم دھماکے کا ذکر کیا، جس میں 32 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 50 سے زائد زخمی ہوئے اور بتایا کہ گرفتار لیکچرار مبینہ طور پر اس حملے میں سہولت کاری میں ملوث تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس (لیکچرار) نے حملہ آور کو موٹر سائیکل پر بٹھایا اور ریلوے اسٹیشن کے قریب اتارا، اور اس کے بعد اسے ایک اور ہینڈلر کے حوالے کیا جو ریلوے اسٹیشن سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، بلوچستان میں شورش کے مسئلے کو بعض لوگ ’محرومی‘ سے جوڑتے ہیں، اس پر وزیراعلیٰ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ لوگ کیسے محروم ہیں؟ ملزم کی ماں اب بھی پنشن لے رہی ہے جس کا مطلب ہے وہ بھی سرکاری ملازم تھی،اس کی بیوی بھی سرکاری ملازم ہے، وہ خود گریڈ 18 کا افسر ہے، پاکستانی اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر کے پی ایچ ڈی کی، بھائی ریکوڈک منصوبے میں ملازم ہے، اس کا مطلب ہے وہ کسی طرح محروم نہیں تھا۔

  • بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    بلوچستان سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    کوئٹہ:حکومت بلوچستان نے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ روانہ کردی ہے-

    ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند اور ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے امدادی سامان کی روانگی کی تصدیق کی ہےبلوچستان حکومت کی جانب سے 1500 گلگت بلتستان اور 1000 خیبر پختونخوا کے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی سامان بھیجا گیا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر یہ سامان فوری طور پر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا تاکہ متاثرین کی ضروریات پوری کی جا سکیں،امدادی سامان میں نان فوڈ آئٹمز جیسے خیمے، کمبل، پانی کی بوتلیں، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔

    شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت مشکل کی اس گھڑی میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور سیلاب متاثرین کی مدد کرنا بلوچستان حکومت کی انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا عملی اظہار ہے، امدادی سامان متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ معیار کا ہے۔

    جہانزیب خان نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے متاثرین کے لیے معیاری اور جانچ شدہ ریلیف سامان بھیجا ہے تاکہ اس کی افادیت اور معیار یقینی بنایا جا سکے،انہوں نے کہا کہ امدادی کھیپ میں شامل اشیاء متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کے مطابق منتخب کی گئی ہیں۔

    ادھربارشوں اور فلش فلڈ سے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق مختلف حادثات میں 323 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اس کے علاوہ 156افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے مطابق جاں بحق افراد میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں،زخمیوں میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں،بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 336 گھر وں کو نقصان پہنچا،230گھروں کو جزوی اور 106 گھر مکمل منہدم ہوئے،ضلع بونیر میں اب تک مجموعی طور پر 209 افراد جاں بحق ہوئے۔

    حادثات سوات، بونیر ، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے،آج سے 19اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،بارشوں کا موجودہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، متاثرہ اضلاع کو 89 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کی فراہمی مکمل ہوچکی ہے ،متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو اب تک امدادی فنڈ کی مد میں 800 ملین روپے جاری ہوئے۔

    سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر کی انتظامیہ کو بھی 500 ملین روپے امدادی فنڈ جاری کئے گئے ہیں،متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے،موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کیلئےفری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

  • جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن خود کش حملے کے سہولت کار کی نشاندہی پر کارروائی کرتے ہوئے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروفیسر سمیت فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔

    گرفتار ملزمان نے جشن آزادی کی تقریبات میں خود کش حملے اور بم دھماکے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جولائی کے آخری ہفتے میں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد صوبے کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس پر حکمت عملی بنا کر کارروائیاں شروع کی گئیں۔11 اگست کو کوئٹہ سے گرفتار ہونے والے ایک خود کش بمبار نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ اسے بیوٹیمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی نے تیار کیا تھا۔ اس کی نشاندہی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے افنان ٹاؤن سے پروفیسر کو گرفتار کر لیا، جبکہ مزید ایک اور بمبار بھی حراست میں لے لیا گیا۔

    تفتیش کے دوران گرفتار بمبار نے اعتراف کیا کہ وہ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے لیے کام کرتا ہے اور نوجوانوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق ماسٹر مائنڈ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس نے 9 نومبر 2024 کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خود کش حملے میں سہولت کاری کی تھی اور یوم آزادی کی تقریبات سمیت کوئٹہ و دیگر شہروں پر مزید حملوں کے لیے بمبار تیار کر رکھے تھے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں سے مزید تحقیقات جاری ہیں جن سے مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    حماس نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد ، خیمہ بستیوں کو "نسلی کشی کی مہم” قرار دے دیا

    روس سے مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    بھارت بدمعاش ریاست، عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے،حنا ربانی کھر

    اسحاق ڈار اور ازبک ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ