کرونا وائرس سے گھبرانے اور مہنگا سینیٹائزر خریدنے کی ضرورت بلکل نہیں
اس سے اچھی بات تو یہ ہے کہ صابن سے کم از کم 20 سیکنڈ ہاتھ بار بار دھوئیں لیکن اگر صابن اور پانی میسر نہیں اور سینیٹائزر ہی آپکی ضرورت پوری کر سکتا ہے تو بازار سے مہنگا سینیٹائزر خریدنے کی بلکل ضرورت نہیں
اپنا سینیٹائزر خود گھر پر تیار کریں
اچھے اور معیاری سینیٹائزر میں تین اجزا ضروری ہیں
سپرٹ
ایلو ویرا یعنی کنوارگندل
کوئی سا اچھا باڈی آئل یا وٹامن ای کے کیپسول
اچھے اور معیاری ہینڈ سینیٹائزر کیلئے اس میں 40 سے 70 فیصد والا الکوحل استعمال ہوتا ہے
خالص الکوحل آپ کو کسی بھی میڈیکل سٹور یا ہومیوپیتھک سٹور سے مل جائے گا (واقفیت ہونے پر) جسے عرف عام میں سپرٹ یا کپی کہتے ہیں
ایلو ویرا ایکسٹریکٹ بھی مارکیٹ سے دستیاب ہے اگر بازار والا ایلو ویرا ایکسٹریکٹ استعمال کریں تو پھر باڈی آئل یا وٹامن ای استعمال کرنے کی ضرورت نہیں اور خالص ایلو ویرا کنوارگندل ہر دیہات نرسری اور شاید آپکے گھر کے لان میں بھی موجود ہو
ایک لیٹر ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا طریقہ
500 ملی لیٹر خالص الکوحل لیں اس میں 200 ملی لیٹر پانی شامل کر لیں یہ آپکا 70% والا الکوحل تیار ہو گیا
اب ایلو ویرا یعنی کنوارگندل کے چند ڈنڈے لیں اور انہیں چھری سے ایک جانب سے چھیل کر اس میں سے چمچہ کے ذریعے تمام گودا نکال لیں اور اسے اچھے طرح شیک یا بلینڈر میں بلینڈ کر کے 300 ملی لیٹر لے لیں
اب اس 300 ملی لیٹر ایلو ویرا کے محلول میں 700 ملی لیٹر پانی ملا الکوحل ملا لیں اگر خالص الکوحل میسر نہ ہو تو اس میں 40 فیصد سے اوپر والا کوئی بھی معیاری واڈکا , جن یا وہسکی بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن وہ آپکو مہنگی پڑے گی
اب اس مکس شدہ محلول میں 9/10 چمچ باڈی آئل یا 9/10 کیپسول وٹامن ای کے کیپسول ڈال دیں جو کسی بھی میڈیکل سٹور سے دستیاب ہوتے ہیں
اگر ضرورت محسوس کریں تو Mint یا اپنی کسی پسندیدہ خوشبو /عطر کا ایک چھوٹا چمچ بھی ڈال لیں
اور اس سارے محلول کو آخر میں دوبارہ بلینڈر میں بلینڈ کر لیں
لیں جی آپکا ایک لیٹر خالص اور بہترین ہینڈ سینیٹائزر صرف 250/300 میں تیار
اس کی مارکیٹ میں قیمت کم از کم قیمت 2000 سے زائد ہی ہوگی اور اسکے معیار کی بھی کوئی گارنٹی نہیں
Category: رحیم یارخان

گھر میں خود سینیٹائزر تیار کریں

سبزی وفروٹ منڈی اور منڈی مویشاں میں کاروباری سرگرمیاں بند نہیں کی جائے گی ڈی سی علی شہزاد
نمائندہ باغی ٹی وی
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا شدہ ہنگامی حالات میں سبزی وفروٹ منڈی اور منڈی مویشاں میں کاروباری سرگرمیاں بند نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ان حالات میں کسی کو اشیاءروز مرہ کی مصنوعی قلت ، ذخیرہ اندازی اور ناجائز منافع خوری کی اجازت دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی پی او منتظر مہدی کے ہمراہ ضلع کی مختلف کاروباری تنظیموں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈاکٹر جہانز یب حسین لابر، اسسٹنٹ کمشنرز چوہدری اعتزاز انجم، عامر افتخا، ملک فاروق احمد سمیت صدر کریانہ ایسوسی ایشن، انجمن تاجران، کیمسٹ ایسوسی ایشن، سبزی و فروٹ ایسوسی ایشن ودیگر کاروباری تنظیموں کے نمائندگان اور متعلقہ اداروں کے افسران موجو دتھے۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاجر برادری حکومتی اقدامات کا ساتھ دیتے ہوئے اشیاءروزمرہ اور ادویات کی وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنائے ۔ان مشکل حالات میں ہم سب نے ایک قوم بن کر سرخرو ہونا اور اور اس وبائی مرض کو شکست دینی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات میں اشیاءروز مرہ کی مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے مرتکب افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ اداروں کے افسران کو ہدایت کی کہ سبزی و پھل منڈی سمیت تمام اقسام کی اشیاءروز مرہ کی طلب و رسد پر کڑی نظر رکھیں اور تاجر برادری میں اس سلسلہ میں انتظامی اداروں کا ساتھ دیتے ہوئے کسی بھی اہم اشیاءکی قلت کی صورت میں فوری آگاہ کرے۔انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کی روک تھام کے لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سبزی و فروٹ منڈی، منڈی مویشیاں سمیت دیگر اہم بڑی کاروباری سرگرمیوں کو بند نہیں کیا جائے گا تاہم ضروری احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کیمسٹ ایسوسی ایشن حفاظتی ماسک کو دسمبر2019کے نرخوں پر دستیابی کویقینی بنائیں گے ۔ڈی پی او منتظر مہدی نے کہا کہ ہر فرد اپنا قبلہ درست رکھتے ہوئے قومی ذمہ داری کا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پولیس اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی ۔یہ حالات اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ ہم ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری سے قبیح عمل کو اپنائیںلہذا تمام کاروباری تنظیمیں اپنا تعمیری کردار اد ا کرتے ہوئے حکومت اور اداروں کا ساتھ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک وقوم کو اس موذی مرض کورونا وائرس سے محفوظ رکھے۔
کورونا وائرس رحیم یار خان میں کوارنٹائن سینٹرز قائم کر دئیے گئے
رحیم یار خان(پ ر )ضلعی انتظامیہ نے کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو دیگر افراد سے علیحدہ رکھنے کے لئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (رحیم یار خان کیمپس) اور خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 300بیڈزپر مشتمل کوارنٹائن سنٹرز قائم کردیئے۔ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر(ایچ آر) ریاست علی نے سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر سخاوت علی رندھاوا دیگرکے ہمراہ اسلامیہ یونیورسٹی رحیم یار خان کیمپس میں 100بیڈز جبکہ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ آئی ٹی میں 200بیڈز کے قرنطینہ سینٹرز فنکشنل کر دیئے۔ان سنٹرز میں ایران، چین، اٹلی سمیت دیگر متاثرہ ممالک سے آنے والے افراد کو14روز تک طبی ماہرین کی زیر نگرانی رکھا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر دو قرنطینہ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں اور ضلعی انتظامیہ نے 300بیڈز پر مشتمل سنٹرز میں تمام بنیادی انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان سنٹرز میں ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کو رکھا جائے گا اور کسی بھی شخص میں علامات ظاہر ہونے پر اسے فوری طور پر شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کوارنٹائن سنٹرز میں تربیت یافتہ عملہ کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں اور ان سنٹرز میں رہنے والے افراد کو کھانے پینے کی سہولیات بھی ضلعی انتظامیہ فراہم کرے گی۔
چوروں کی اب تک کی سب سے بڑی واردات۔۔
ایک ہی رات میں رحیم یار خان کے نواح شیخ واہن میں 25 دوکانوں کا صفایا کر دیا۔ دوکانداروں نے کے ایل پی روڈ بلاک کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی

تاریخی بحری جہاز جو بے یارو مددگار کھڑا ہے اور اس میں موجود قیمتی سامان چوری کر لیا گیا
ستلج کوئین/انڈس کوئین
ریاست بہاولپور کے نواب صبح صادق نے 1867 میں ایک عالی شان سمندری/بحری جہاز بنوایا جوکہ نواب فیملی دریائےستلج جوکہ ریاست اور انگریز زیر انتظام علاقہ ملتان کے درمیان بہتا تھا میں سیر وسیاحت کی غرض سے اپنے زیر استعمال لاتی رہی۔
–
اس جہاز میں تین پورشن تھے سب سے نچلے حصے میں جہاز کا عملہ رہتا تھا درمیانی حصہ نواب فیملی کے لئے مختص تھا جہاں پر ایک بار روم بھی قائم تھا جبکہ اوپری حصہ جو کہ کھلے یارڈ (صحن) پر مشتعمل تھا میں ایک مسجد اور کپتان روم واقع تھا جہاز میں لائیٹ کے لئے جرنیٹر سسٹم بھی نصب تھا۔ جہاز کو چلانے کے لئے طاقتور ڈیزل انجن لگا ہوا تھا۔
–
اپنے عروج کے زمانے میں انگریز صاحب اور میم صاحب نواب فیملی کے ساتھ جہاز میں سیر وسیاحت پر آتے رہتے تھے۔ بعد ازاں نواب صادق محمد خان نے لودھراں اور بہاولپور کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کے لئے مخصوص کر دیا جب پاکستان بننے کے بعد دریائی پانیوں کے معاہدے ہوئے اور ستلج میں پانی کم ہونا شروع ہوا نیز پل کی تعمیر ہونا شروع ہوئی تو نواب نے 1957 میں اسے غازی گھاٹ پر بھیج دیا۔ جہاں پر یہ ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کیلئے استعمال ہوتا رہا۔
تاہم پانی کے تیز بہاؤ کے پیش نظر اس کو نواب صاحب نے خواجہ غلام فرید کی خدمت میں پیش کردیا۔ جہاں پر یہ چاچڑاں شریف اور کوٹ مٹھن شریف کے درمیان عقیدت مندوں اور دیگر مسافروں کی باربرداری کیلئے استعمال ہوتا رہا۔ جسے قادر بخش نامی ملاح (کپتان) جو کہ محکمہ ہائی وے کا ملازم بھی تھا، چلاتا تھا۔ جب سردیوں میں دریائے سندھ میں پانی کم ہو جاتا اور کشتیوں کا پل ڈال کر آمدورفت کے راستہ بنایا جاتا تو اس جہاز کی ضروری مرمت بھی کر دی جاتی۔
–
دریائے سندھ جس کو انڈس ریور بھی کہا جاتا ہے میں چلنے کی وجہ سے اس کا نام ستلج کوئین سے تبدیل کرکے انڈس کوئین رکھ دیا گیا 1998 تک یہ جہاز دریائے سندھ میں چلتا ریا بعد میں جب بے نظیر پل چالو ہوا تو اس پر لوگوں کی آمدورفت بھی کم ہوتی چلی گئی اور بعدازاں اس کو بند کر کے راجن پور اور کوٹ مٹھن کے درمیان پل سے زرادور کرکے لنگر انداز کر دیا گیا۔
–
اس طرح ایک شاندار جہاز جس پر 400 کے لگ بھگ لوگ ایک وقت میں سفر کرتے تھے کا سفر اختتام پزیر ہو گیا۔ اس کا کافی سامان چوری ہو گیا ہے یہ اپنی بے بسی کی تصویر بنا ریت میں دھنسا پڑا ہے۔ اگر اس کی دیکھ بھال نہ کی گئی تو یہ قصہ پارینہ بن جائے گا اس عظمت رفتہ کی نشانی کو محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ نواب آف بہاولپور کی یاد گار نشانی ہے۔ اس لئے حکومت پنجاب اور رحیم یار خان انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اسے کسی نمایاں جگہ لا کر ریسٹورنٹ کی شکل دی جائے اور ثقافتی ورثہ قرار دیا جائے۔
معصوم بچی جنسی زیادتی کے بعد قتل ایسے واقعات کون روکے گا
(نمائندہ باغی ٹی وی)
ایک اور معصوم بچی جنسی زیادتی کا شکار ہوگئی،سکول وردی میں تقریبا 10 سالہ بچی کی لاش جن پور رحیم یار خان کے موضع چندر والی سے کماد کی فصل سے برآمد ہوئی. پاکستان میں معصوم بچے اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہےرحیم یار خان میں ڈاکو راج پولیس ڈاکو پکڑنے میں ناکام
رحیم یار خان شہباز پور روڈ پر شام 05:30 بجے حبیب آئرن سٹور پر ڈکیتی کی واردات ڈاکو لاکھوں روپے کیش لے اڑے.رحیم یار خان میں ڈکیتی کی وارداتیں روزانہ کا معمول بن چکا ہے جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے.
ٹرین پٹری سے اتر گئی
رحیم یارخان ولہار ریلوئےاسٹیشن کے قریب مال بردار ٹرین کی بوگی پٹڑیوں سے اتر گئی اپ ریلوئے ٹریک معطل ہوگیا مختلف مسافر ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنز پر روک لیا گیا امدادی ٹرین روھڑی سے روانہ کردی گئی ٹریک کو جلدی ٹرینوں کے لئے بحال کردیا جائے گا ڈی ایس ریلوئے سکھر

رحیم یارخان نہر کا بند ٹوٹ گیا پانی دیہات میں داخل
نمائندہ باغی ٹی وی)بںنگلہ منٹھار نہر صادق برانچ چک نمبر 142 پی کے قریب سے ٹوٹ گی ۔پانی چک کے اندار داخل تقریبا 15 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا ہے ۔مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔شگاف پڑنے کی وجہ رات نہر کے کناروں سے سفیدے کے درختوں کا گرنا بتایا جا رہاہے ۔محکمہ ایریگیشن کا عملہ تاحال موقع پر نہیں پہنچا

جمعیت علماء اسلام کے مرکز ی سیکرٹری جنرل وسابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی میڈیا سے گفتگو
رحیم یارخان (نمائندہ باغی ٹی وی ) جمعیت علماء اسلام کے مرکز ی سیکرٹری جنرل وسابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان معاہدہ پر عملدرآمد کے لیے امریکہ اور ان کے حواریوں پر یقین نہیں جب تک امریکہ افغانستان میں موجود رہے گا بے چینی بڑھے گی ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مفتی نعمان حسن لدھیانوی،مولانا فتیح اللہ عباد،شاہد الیاس جالندھری،حافظ عثمان لدھیانوی کے ہمراہ ملک سراج احمد کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم پر تشویش ہے مسلمان کشمیر میں ہوں یا بھارت میں کمزور نہیں ٹرمپ نے افغان صدر کوسمجھایا نہیں کہ فتح ان کی ہوگی مودی بھی عمران خان کی طرح اپنے لیے گڑھے کھود رہا ہے عمران خان اس معاہدے کی کامیابی اپنے کھاتے میں ڈال کر جھوٹ بولنے کے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ آزادی مارچ کا تسلسل جاری ہے،19مارچ کو لاہور سے سلیکٹڈحکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جائے گا،ہماری تحریک ختم نہیں ہوئی مسلسل جاری ہے اورہماری دیگر بڑی جماعتوں سے بھی رابطے ہیں،مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہماری احتجاجی تحریک رواں دواں ہے،ن لیگ آزادی مارچ میں پرخلوص نہیں خلوص کے پیچھے ہے اس نے خلوص کو بچانا ہے،نواز شریف کو کون سی بیماری ہے ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہم سے شیر کیوں نہیں کرتے ہمارے ان سے ملنے کی حد تک رابطے ہیں مصلحتوں کا شکار لوگ مسائل اجاگر نہیں کر رہے ترکی کے صدر کے دورے کے دوران اہم قومی معاملات کی بجاے میڈیا مولانا فضل الرحمان پر آرٹیکل6پر تجزیے پیش کرتا رہا مہنگائی کی وجہ سے ہر کوئی پریشان ہے۔






