Baaghi TV

Category: رحیم یارخان

  • تنسیخ نکاح کا دعویٰ کیوں دائر کیا؟شوہر نے بیوی بچوں پر تیزاب پھینک دیا

    تنسیخ نکاح کا دعویٰ کیوں دائر کیا؟شوہر نے بیوی بچوں پر تیزاب پھینک دیا

    رحیم یار خان کے نواحی علاقے ترنڈہ محمد پناہ میں گھریلو جھگڑے کے نتیجے میں لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جہاں شوہر نے اپنی اہلیہ کی جانب سے تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کیے جانے پر شدید انتقام لیتے ہوئے بیوی بچوں سمیت چار افراد پر تیزاب پھینک دیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سسرال میں داخل ہوا اور زبردستی گھر میں گھس کر بیوی اور اہل خانہ پر تیزاب پھینکا جس کے نتیجے میں ملزم کی اہلیہ شدید جھلس کر دورانِ علاج دم توڑ گئیں،حادثے میں چار سالہ معصوم بچی اور ستر سالہ پھپھو سمیت تین افراد بری طرح جھلس گئے۔ زخمیوں کو تشویشناک حالت میں بہاولپور اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بچی اور خواتین کے جسم اور چہرے کا 70 فیصد سے زائد حصہ جھلس چکا ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا تاہم اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اہلِ علاقہ کے مطابق مقتولہ نے گھریلو تشدد اور جھگڑوں سے تنگ آکر عدالت میں تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر ملزم نے اشتعال میں آکر یہ قدم اٹھایا۔

  • رحیم یار خان،کشتی الٹنے سے 5 افراد ڈوب گئے،تین کی موت

    رحیم یار خان،کشتی الٹنے سے 5 افراد ڈوب گئے،تین کی موت

    رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے علاقے موضع نور والا میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 5 افراد ڈوب گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق کشتی میں سوار متاثرین محفوظ مقام کی جانب منتقل ہو رہے تھے کہ حادثہ پیش آیا۔ امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 2 خواتین سمیت 3 افراد کی لاشیں نکال لیں، تاہم 2 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب تحصیل لیاقت پور میں بند ٹوٹنے سے 16 دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 2 ہزار افراد کو ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد گھر اور کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔

    علاوہ ازیں مظفر گڑھ میں زمیندارہ بند ٹوٹنے سے وسیع علاقے زیرِ آب آگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی میں گھر گئیں اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ گندم، کپاس اور گنے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سیلابی صورتحال کے باعث مظفر گڑھ کے نشیبی علاقے پہلے ہی پانی میں گھرے ہوئے تھے کہ مزید شدید بارش نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔ کئی دیہات مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئے ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی فوری ضرورت ہے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • رحیم یار خان ، ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء شدہ 10 شہری تاحال بازیاب نہ ہوسکے

    رحیم یار خان ، ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء شدہ 10 شہری تاحال بازیاب نہ ہوسکے

    رحیم یار خان: پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں سکھر ملتان موٹروے کے قریب ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے 10 شہری 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال بازیاب نہ ہوسکے۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ روز بھونگ کے قریب پیش آیا، جب مسافر گاڑیوں پر کچے کے علاقے سے تعلق رکھنے والے درجنوں ڈاکوؤں نے حملہ کیا۔ ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کے بعد خوف و ہراس پھیلا کر 10 مسافروں کو یرغمال بنا لیا اور انہیں اپنے ساتھ کچے کے علاقے میں لے گئے۔اس واقعے میں فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مغوی شہریوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے مضبوط ٹھکانوں اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔

    واقعے کا مقدمہ تھانہ بھونگ میں درج کرلیا گیا ہے جس میں 40 سے زائد ڈاکوؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں اغواء برائے تاوان، دہشتگردی، مسلح فائرنگ اور دیگر سنگین جرائم کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جاسکے۔ دوسری جانب شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں  پٹری سے اتر گئیں

    مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

    کوئٹہ: مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں،جبکہرحیم یارخان میں بھی خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور کے لیے صبح 9 بجے روانہ ہوئی تھی کہ سپیزنڈ مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر اس وقت دھماکا ہو گیا جب جعفر ایکسپریس گزر رہی تھی،ہ دھماکے سے جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں تاہم کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔

    چند روز قبل سبی میں بھی ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی تھی۔

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    دوسری جانب رحیم یارخان میں بھی خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق ٹرین پشاور سے کراچی جا رہی تھی ، خان پور سٹی پھاٹک پر حادثے کا شکار ہو گئی ، حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ڈاؤن ٹریک ٹرینوں کی آمد و رفت کیلئے معطل ہو گئی ہے ، ٹریک کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکا، اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

  • رحیم یار خان: کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس چوکی پر حملہ، 5 ایلیٹ اہلکار شہید، ایک ڈاکو ہلاک، آئی جی پنجاب کا نوٹس

    رحیم یار خان: کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس چوکی پر حملہ، 5 ایلیٹ اہلکار شہید، ایک ڈاکو ہلاک، آئی جی پنجاب کا نوٹس

    رحیم یار خان (باغی ٹی وی) صادق آباد کے علاقے ماہی چوک کے قریب واقع شیخانی پولیس چوکی پر کچے کے درجنوں ڈاکوؤں نے رات کی تاریکی میں راکٹ لانچرز اور جدید اسلحے سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے 5 اہلکار شہید جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ڈاکو بھی ہلاک ہو گیا۔ شہید اہلکاروں کی شناخت محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس اور نخیل حسین کے نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق شہید ہونے والے 3 اہلکاروں کا تعلق بہاول نگر جبکہ 2 کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ یہ تمام اہلکار گزشتہ 6 ماہ سے کچے کے علاقے میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ شہدا کی تدفین مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈی پی او عرفان علی سموں پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور جوابی کارروائی کی قیادت کی۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ڈی پی او رحیم یار خان کو فائرنگ میں ملوث تمام ڈاکوؤں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس اپنے شہدا کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔

    آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ بزدلانہ حملے سے پولیس کا مورال پست نہیں ہوگا، بلکہ ان قربانیوں سے ہمارے عزم کو مزید تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق حملہ انتہائی منظم طریقے سے کیا گیا اور ڈاکو راکٹ لانچر اور خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے۔ تاہم پولیس جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک ڈاکو کو مار گرایا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    علاقے میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے۔ مقامی افراد نے بھی شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حکومتی سطح پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • صادق آباد کچے میں آپریشن، کراچی سے اغوا کیے گئے تین مغوی بازیاب

    صادق آباد کچے میں آپریشن، کراچی سے اغوا کیے گئے تین مغوی بازیاب

    صادق آباد کے کچہ کراچی کے علاقے سے تقریباً ایک ماہ قبل اغوا ہونے والے تین مغوی شہریوں کو پولیس نے کامیاب کارروائی کے بعد بازیاب کرا لیا۔

    پولیس کے مطابق اغوا ہونے والوں میں امان اللہ، فرمان اللہ اور ایک بچہ رضوان شامل ہیں، جنہیں ڈاکوؤں نے اغوا کیا تھا۔ مغویوں کو احمد پور لمہ کی بستی کٹہ سے بازیاب کرایا گیا۔کارروائی میں بھونگ پولیس، سی آئی اے اور ایلیٹ فورس نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ پولیس نے بتایا کہ اغوا کاروں کے خلاف مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

    مغویوں کی بحفاظت بازیابی پر پولیس نے عوام کی حمایت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ کچے کے علاقے میں اس سے قبل بھی 13 مغویوں کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا جا چکا ہے۔

    برطانیہ کا شام سے مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان

    چلاس میں گرمی کا 28 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    افغان بورڈ نے پاکستان کے ساتھ سہ ملکی ٹی20 سیریز کی تصدیق کر دی

    کراچی، گرنے والی عمارت کے ملبے تلے افراد کی تلاش جاری، متاثرہ خاندانوں کی امیدیں قائم

    ایبٹ آباد میں 13 سالہ ملازمہ سے مبینہ زیادتی و قتل، ملزم گرفتار

    نئے مالی سال میں متوسط طبقے کی گاڑیاں مہنگی، لگژری گاڑیاں سستی

    فضائی نگرانی کی صلاحیت ، پاکستان کا چین سے KJ-500 طیارہ خریدنے کا فیصلہ

    Ask ChatGPT

  • ڈہرکی کے قریب مال گاڑی پٹری سے اتر گئی،ٹرینیں تاخیر کا شکار

    ڈہرکی کے قریب مال گاڑی پٹری سے اتر گئی،ٹرینیں تاخیر کا شکار

    رحیم یار خان،ڈہرکی کے قریب مال گاڑی پٹری سے اترنے کے حادثے کے بعد متعدد ٹرینیں کئی گھنٹوں سے تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں.

    میرپور ماتھیلو ریلوے اسٹیشن کے قریب مال بردار ٹرین کی انجن سمیت پانچ بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں،ریلوے حکام کے مطابق مال بردار ٹرین پنجاب سے کراچی جارہی تھی، حادثے کے بعد اپ اور ڈاؤن ٹریک کو بند کردیا گیاہے، حادثے کے مقام سے ٹریک اکھڑ گیا ہے اور بوگیاں انجن سے الگ ہوگئی ہیں،صادق آباد اور لیاقت پور سمیت مختلف اسٹیشنز پر مسافروں کو مقامی مخیر خواتین وحضرات کی طرف سے خوراک اور مشروبات بھی فراہم کی جارہی ہیں،

    ریلوے حکام کے مطابق کراچی جانے والی عوام ایکسپریس کو لیاقت پور اسٹیشن روک لیا گیا 6 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی ہے،کراچی جانیوالی گرین لائن ایکسپریس اور علامہ اقبال ایکسپریس کو رحیم یار خان روک لیا گیا 6 گھنٹے تاخیر کا شکارہوئی ہے،کراچی جانیوالی قراقرم ایکسپریس اور پاک بزنس کو صادق اباد ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا، 8 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی ہے، کراچی جانے والی کراچی ایکسپریس کو خان پور اسٹیشن روک لیا گیا ،ملتان جانے والی ذکریا ایکسپریس کو سانگھی روک دیا گیا، لاہور جانے والی 7 اپ تیز گام ایکسپریس کو گھوٹکی روک لیا گیا 7 گھنٹے 30 منٹ تاخیر کا شکارہوئی ہے، لاہور جانے والی فرید ایکسپریس کو روہڑی اسٹیشن روک لیا گیا 6 گھنٹے تاخیر کا شکارہوئی ہے،اپنی منزل سے روانہ ہونے والی شاہ حسین ایکسپریس کو اپ اینڈ ڈاؤن کیلئے کینسل کر دیا گیا

  • رحیم یار خان، 13 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ تشدد سے جاں بحق

    رحیم یار خان، 13 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ تشدد سے جاں بحق

    رحیم یار خان، گلشن اقبال کے علاقے میں ایک 13 سالہ گھریلو ملازمہ سمیہ نامی بچی مبینہ طور پر میاں بیوی کے تشدد کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگئی ہے۔

    ڈی پی او عرفان سموں نے بتایا کہ سمیہ نواحی علاقے کوٹلہ پٹھان کی رہائشی تھی اور گزشتہ تین سال سے شہرام نامی شخص کے گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی کی موت شدید تشدد کے باعث ہوئی، اور واقعہ کی اطلاع بچی کی والدہ کو رات کے اندھیرے میں دی گئی۔ لاش کو کفن میں لپیٹ کر ماں کے حوالے کیا گیا، جہاں والدہ نے دیکھا کہ سمیہ کے جسم پر تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔بچی کی ماں کی شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کی اور فرار ہونے والے ملزم میاں بیوی کو چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا۔

    ڈی پی او عرفان سموں نے مزید بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے جسم پر سر سے لے کر پیروں تک بدترین تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بچی کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اب ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس المناک واقعہ کی تمام جہتوں کو سامنے لایا جا سکے۔

  • صادق آباد:صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    صادق آباد:صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    صادق آباد(باغی ٹی وی رپورٹ)صحت کے نام پر فراڈ، نجی ہسپتال میں جعلی اپینڈکس آپریشنز ،ہسپتال سیل

    رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد میں ایک نجی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انسانیت کی تمام حدود پار کرتے ہوئے سادہ لوح دیہاتیوں کو ہوس زر کا نشانہ بنا ڈالا۔ سی ای او ہیلتھ کے مطابق، اس درندہ صفت عمل کا انکشاف چک 212 پی کے دیہاتیوں کے ساتھ کیا جانے والا غیر ضروری آپریشنز ہے۔ محض پندرہ دنوں کے قلیل عرصے میں اسپتال کے بدنام زمانہ ڈاکٹروں نے 24 افراد کے اپینڈکس کے آپریشن کیے، جن میں سے کئی مریض صرف ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھے۔

    یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب 29 مئی کو فیس بک پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ایک مقامی رپورٹر نے صادق آباد ٹلو بنگلہ چک 212 پی میں اپینڈکس کی "پراسرار” بیماری کے پھیلنے کی اطلاع دی۔ رپورٹر کے مطابق ایک ہی خاندان کے 40 سے زائد بچے اس مرض میں مبتلا ہوئے، جن میں سے 25 کے آپریشن ہو چکے تھے جبکہ 15 ابھی تک ہسپتال میں داخل تھے۔ یہ رپورٹر کی کال اور اس کے بعد سی ای او ہیلتھ کی تحقیقات نے ہسپتال کے بھیانک جرم کا پردہ چاک کیا۔

    سی ای او ہیلتھ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس نجی ہسپتال کو سیل کر دیا ہے اور اس گھناؤنے جرم کی مکمل رپورٹ ہیلتھ کیئر کمیشن کو ارسال کر دی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیم نے چک 212 پہنچ کر متاثرہ افراد کے الٹراساؤنڈ کیے ہیں تاکہ اس فراڈ کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے سیکرٹری صحت نے اس انسانیت سوز واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ یہ محض ایک اسپتال کو سیل کرنا نہیں بلکہ اس مافیا کو بے نقاب کرنا ہے جو صحت کی آڑ میں غریب اور مجبور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو انسانیت کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے اور اس کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔

    وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، ڈی سی رحیم یار خان اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور اس انسانیت دشمن فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس خاندان کو فوری طبی امداد اور قانونی چارہ جوئی میں مدد فراہم کی جائے۔ عوام الناس سے بھی گزارش ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس مافیا کو بے نقاب کرنے میں مدد کریں۔

  • رحیمیارخان:موٹروے ایم-5، ڈرائیور کو نیند آنے پر بس حادثہ، 4 جاں بحق، 14 زخمی

    رحیمیارخان:موٹروے ایم-5، ڈرائیور کو نیند آنے پر بس حادثہ، 4 جاں بحق، 14 زخمی

    رحیم یار خان(باغی ٹی وی رپورٹ) موٹر وے ایم-5 پر افسوسناک حادثہ، بس ڈرائیور کی غفلت سے 4 افراد جاں بحق، 14 زخمی

    رحیم یار خان کے قریب موٹر وے ایم-5 پر کشمور کے مقام پر ایک المناک ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے۔ حادثہ ایک مسافر بس اور مزدا گاڑی کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں پیش آیا، جس کی بنیادی وجہ ڈرائیور کو نیند آنا اور غفلت برتنا قرار دی جا رہی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ ترجمان کے مطابق 3 افراد کو جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جبکہ 11 شدید زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    پولیس اور موٹروے حکام نے جائے حادثہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بس ڈرائیور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیند کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا، جس کے باعث یہ سانحہ رونما ہوا۔

    جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور ان کے لواحقین کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ حادثے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔