Baaghi TV

Category: رحیم یارخان

  • چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری رحیم یار خان  کے الیکشن

    چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری رحیم یار خان کے الیکشن

    چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری رحیم یار خان کے الیکشن میں فرینڈز بزنس فورم نے واضح اکثریت سے میدان مار لیا ہے, ایسوسی ایٹ کلاس اور کارپوریٹ کلاس سے ایگزیکٹو باڈی کی تمام 10 میں سے 9سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے فاؤنڈر گروپ ایک سیٹ جیت گیا,ایسوسی ایٹ پر ریاض الرحمان کامیاب دوسری جانب فرینڈز گروپ کے شفیق الرحمان دو ووٹوں سےہار گئے,فرینڈ بزنس گروپ کے ایسوسی ایٹ کلاس کے امیدواروں میں خواجہ بشیر احمد ,اعظم شبیر ,افتخار انجم ,شاہد مشتاق اور کارپوریٹ کلاس سے غلام عباس چیمہ ,چوہدری محمد شفیق ,وقاص اکرم ,خلیل احمد ,حافظ عمر فاروق نے میدان مار لیا, اس موقع پر فرینڈ بزنس فورم کے چئیرمین تحریک انصاف کے ممبر صؤبائی اسمبلی و صوبائی پارلیمانی سیکرٹری عشر و زکوۃ چوہدری محمد شفیق کو ممبران نے مبارک باد دی, سابق صدر چوہدری شفیق, عبدالروف مختار, چوہدری اکرم کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شفیق نے کہا کہ وہ ضلع بھر کی تاجر برادی کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ان کے گروپ کے امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا,ایوان صنعت و تجارت کے منتخب ہونے والے امیدوار تاجر برادری کے حقوق کے لیے ہمہ وقت جدوجہد کریں گے چیمبر آف کامرس الیکشن میں کارپوریٹ کلاس315 میں سے293جبکہ ایسوسی ایٹ کلاس 900 میں سے 795 ووٹ کاسٹ ہوئے

  • سکھر تا ملتان موٹر وے کا افتتاح‌آج جمعہ کو جانئے کس کے ہاتھوں

    سکھر تا ملتان موٹر وے کا افتتاح‌آج جمعہ کو جانئے کس کے ہاتھوں

    آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ صاحب کل بروز جمعہ اقبال آباد انٹرچینج پر ملتان سکھر موٹر وے کا افتتاح کررھے ہیں,یہ 392 کلو میٹر لمبا راستہ M5 ہے جس کو منسٹری آف کمیونیکیشن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مکمل کیا ہے. اس کا افتتاح آج کیا جارہا ہے اور اس کو لائٹ ٹریفک کے لئے آج کھول دیا جائے گا.

  • گنے کی قیمت مقرر نہ ہو سکی

    گنے کی قیمت مقرر نہ ہو سکی

    رحیم یار خان () گنے سے تیار ہونے والی اشیاء چینی ، شیرے ، الکوحل ، بگاس کی قمیتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کے باوجود شوگر کرشنگ سیزن 2019-20کے لیے گنے کی قیمت مقرر نہ ہو سکی ،شوگر ملز مالکان حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایک دفعہ پھر گنے کی امدادی قیمت کم سے کم سطح پر رکھنے کے لیے متحرک ہیں ،وفاقی سطح پر ہونے والے اجلاس میں بھی گنے کی امدادی قیمت بارے بات کو گول کر دیا گیا ہے ،پچھلے کرشنگ سیزن 2018-19 سے اب تک فی کلو چینی 50روپے سے بڑھ کر 75روپے فی کلو ہو گئی ہے ،ڈیزل ،فرٹیلائیزر ،پیسٹی سائیڈ کی قیمتوں میں 1000گنا آضافے سے ایک سال میں تیار ہونے والی گنے کی فصل کی دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ گئے ہیں ،پچھلے پانچ سالوں سے گنے کے نرخ بڑھائے نہیں جا سکے ،گنے کے کاشت کاروں نے فی 40کلو گنے کاامدادی قیمت 300روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔تفصیل کے مطابق فصل پر اٹھنے والے اخراجات کے لحاظ سے گنے کی قیمت پچھلے پانج سالوں سے نہ بڑھائے جانے اور شوگر ملز کی جانب سے گنے کے وزن میں ناجائز کٹوٹیوں کی وجہ سے شوگر کرشنگ سیزن 2019-20کے لیے پنجاب سمیت رحیم یار خان میں گنے کی کاشت کم ہوئی ہے ،پچھلے تین سالوں کے دوران ضلع رحیم یار خان میں گنے کی کاشت ساڑھے چھ لاکھ ایکڑ سے کم ہو کر اب 4لاکھ `15ہزار ایکڑ رہ گئی ہے ،گنے کی کم کاشت اور پیدوار کا بہانہ بنا کر شوگر ملز مالکان نے چینی کا نرخ بتدریج 25روپے فی کلو بڑھا کر 75روپے کر دیا ہے جبکہ اس لحاظ سے سال بھر بھاری اخراجات اٹھا کر فصل تیار کرنے کاشت کار کو مارکیامارکیٹ میں چینی کے نرخ کے لحاظ سے گنے کی قیمت دینے کو تیار نہیں ہے ،شوگر ملز کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 100کلو گنے سے 11کلو 50گرام چینی بنتی ہے ،جس کی موجودہ نرخ کے لحاظ سے پرچون مارکیٹ ویلیو 34ہزار 500روپے بنتی ہے ،جبکہ 100کلو گنے سے چینی کے ساتھ ساتھ دیگر چیزیںجس میں مڈھ 140 راب 180کلو نکلتی ہے جو بالترتیب 420 اور 2700روپے میں فروخت ہوتی ہے ،اس کے علاوہ 29فیصد بگاس ہوتی ہے جو مارکیٹ میں 3100روپے ٹن میں فروخت ہو رہی ہے ،اس سب کے باوجود شوگر ملز مالکان جن کی زیادہ تعداد قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھی ہے یا بااثر سیاسی شخصیات ہیں جن کا ہر حکومت میں بڑا اثر ہوتا ہے نے زرعی اجناس کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی سطح پر قائم اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور یہ ادارے پچھلی حکومتوں کی طرح اب بھی زرعی اجناس کے نرخ ملکی اور عالمی مارکیٹ میں طلب و رسد کو مدنظر رکھ کر جاری کرنے کے بجائے جی حضوری تک محدود ہیں ، ضلع بھر کی کسان تنظیموں کے رہنماوں اور ترقی پسند زمینداروں کی مشاورت سے کسانوں کے مسائل کے حل، گنے ، کپاس، دھان کے مناسب ریٹ کے حصول کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے 15ستمبر کو رحیم یار خان میں کسانوں کی ہنگامی میٹنگ اور پریس کانفرنس کا اہتمام کر لیا گیا ہے جس میں احتجاج کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اور اس مراحل طے کیے جائیں گے

  • بڑے بھائی آصف نے چھوٹے بھائی ثاقب کوڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دیا

    بڑے بھائی آصف نے چھوٹے بھائی ثاقب کوڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دیا

    *رحیم یارخان زمین کے تنازعہ پر بڑے بھائی آصف نے چھوٹے بھائی ثاقب کوڈنڈوں کے وار کر کے قتل کر دیا،ملزم آصف بچوں کے لے کر موقع سے فرار ہو گیا پولیس تھانہ سی ڈویژن نے موقع پر پہنچ کر کاروائی شروع کر دی،واقع ظفر آباد کے علاقہ میں پیش آیا، زرائع*

  • ایس ایس پی عبادت نثار نئے ڈی پی او رحیم یار خان تعینات

    ایس ایس پی عبادت نثار نئے ڈی پی او رحیم یار خان تعینات

    ایس ایس پی عبادت نثار نئے ڈی پی او رحیم یار خان تعینات.ذرائع

  • صلاح الدین کے والد کی طرف سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست

    صلاح الدین کے والد کی طرف سے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست

    رحیم یار خان ( )اے ٹی ایم کارڈ چوری کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد کی جانب سے آج ڈیوٹی جج راشد افضل صاحب کی عدالت میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کیلئے صوبائی میڈیکل بورڈ بنانے کیلئے درخواست دائر کر دی عدالت نے بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا

  • سکندر اعظم کا تعمیر کردہ پٹن مینارہ تاریخی  مینار تاریخی بے حسی کا شکار

    سکندر اعظم کا تعمیر کردہ پٹن مینارہ تاریخی مینار تاریخی بے حسی کا شکار

    پٹن مینارہ۔رحیم یار خان
    رحیم یار خان سے جانب جنوب 8 کلومیٹر کے فاصلے پر پتن منارہ واقع ہے۔ پتن منارہ تاریخ میں پتن پور کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعض محققین کے مطابق پتن پور سکندراعظم نے تعمیر کروایا تھا۔ اور یہاں اک بہت بڑی درسگاہ تعمیر کی تھی۔ جبکہ کچھ کے نزدیک یہ شہر سکندراعظم کے زمانے سے بھی پہلے کا آباد تھا۔ اور صحرائے چولستان میں سے گزرنے والا ایک قدیم دریا ہاکڑا یا گھاگھرا پتن پور کے قریب سے بہتا تھا۔ سکندراعظم نے اس شہر کو فتح کرنے کے بعد کچھ عرصہ اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام کیا تھا۔ اسی قیام کے دوران سکندراعظم نے یہاں ایک مینار تعمیر کروایا۔ جس کا نام پتن منارہ تھا۔

    جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ مینار شائد سکندراعظم نے تعمیر کروایا یا اس سے پہلے ہی موجود تھا۔ اس لیے اوپر عنوان کے ساتھ جو 326 قبل مسیح کا سال لکھا گیا ہے۔ وہ پتن منارہ کی تاریخ تعمیر ہے اور یہ ایک محتاط اندازے سے ہے۔ اس سال سکندر اعظم نے اس علاقے میں پڑاؤ ڈالا تھا اور یہ مینار تعمیر کروایا تھا۔

    پتن پور موہن جوڈارو اور ٹیکسلا کی تہزیبوں کا امین رہا ہے۔ اور تاریخ میں ہندومت، بدھ مت کا خاص مرکز رہا ہے۔ اس کے کنارے بہنے والا دریا ہاکڑا موسمی تبدیلیوں کے باعث خشک ہو گیا۔ دریا خشک ہونے پتن پور کی عظمت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی۔ اور ایک وقت آیا کہ پورا علاقہ ویران ہو گیا۔ بعض روایات کے مطابق پتن منارہ خزانہ دفن ہے۔ انگریزوں کے دور حکومت میں 1849 میں کرنل منچن نے اس خزانے کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔

    رحیم یار خان میں دریائے ہاکڑہ کے کنارے پر آباد پتن پور جو کبھی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار تھا، آج یہ کھنڈر اس کی داستان بتانے سے بھی قاصر ہیں۔ دریائے ہاکڑہ نے اپنا رستہ بدلا تو لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے۔ آج یہ صرف اینٹوں کا مینار باقی رہ گیا ہے۔ جو کسی وقت بھی زمین بوس ہونے والا ہے۔ قریبی گاؤں کے پچھلی طرف سے اس مینار کا راستہ ہے۔ احاطے میں داخل ہوکر سامنے پرانی سیڑھیاں ہیں۔ جو مینار کے اوپر تک جاتی ہیں۔ مینار کا کافی حصہ زمین میں دھنس چکا ہے۔ پتن پور تہذیب کی آخری نشانی پتن منارہ کی بحالی کے لیے محکمہ آرکیالوجی کی طرف سے لاکھوں کے فنڈز بھی جاری ہوئے مگر بات کاغذی کاروائیوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اگر پتن منارہ کی حفاظت پر فوری توجہ نا دی گئی تو آنے والے چند سالوں میں اس کا شائد نشان ہی باقی رہ پائے۔

    پتن منارہ کے قریبی گاؤں میں ایک 1840 کی دہائی کی قدیم مسجد بھی ہے۔ جسے وہاں کے مقامی راہنما ابوبکر سانول نے تعمیر کروایا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسجد بھی محکمہ اوقاف اور آثارقدیمہ کی نااہلی پر نوحہ کناں ہے۔ محمکہ آثار قدیمہ اور محمکہ سیاحت پنجاب سے گزارش ہے کہ پتن منارہ کی حفاظت اور بحالی کا کام شروع کیا جائے۔ تاکہ یہ تاریخی ورثہ آنے والی نسلیں کیلے محفوظ ہو سکے۔

  • ڈی پی او حبیب اللہ خان نے تھانہ اقبال آباد کا اچانک دورہ کیا

    ڈی پی او حبیب اللہ خان نے تھانہ اقبال آباد کا اچانک دورہ کیا

    رحیم یار خان :آئی جی پنجاب کے تھانوں میں اچانک دورہ کرنے کے احکامات پر قائم مقام ڈی پی او حبیب اللہ خان نے تھانہ اقبال آباد کا اچانک دورہ کیا جس میں باقی معاملات تو بہتر پائے گئے پر صفائی کے انتظامات ناقص تھے جس پر ڈی پی او حبیب اللہ خان نے تھانہ محرر کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا. تھانوں کے اچانک دوروں کاسلسلہ جاری رہے گا. قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی:ڈی پی او حبیب اللہ خان

  • مظلوموں کا ساتھ دینا حسینیت اور تفرقہ پھیلانا یزیدیت ہے ایم پی اے آصف مجید

    مظلوموں کا ساتھ دینا حسینیت اور تفرقہ پھیلانا یزیدیت ہے ایم پی اے آصف مجید

    رحیم یارخان( )پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے چوہدری آصف مجید نے کہا ہے کہ مظلوموں کا ساتھ دینا حسینیت اور تفرقہ پھیلانا یزیدیت ہے۔ امت مسلمہ کو متحد کرنا علمائے کرام کا دینی فریضہ اور وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ کربلا کا پیغام مظلوموں کے مقابلہ میں ظالموں کے خلاف ڈٹ جانا ہے۔ اپنے جاری کردہ ایک بیان میں چوہدری آصف مجید نے کہاکہ حسینی فکر کو اپنا کر ہی دنیا کو امن کاگہوارہ اور پاکستان کو اسلام کا حقیقی قلعہ بنایا جا سکتا ہے۔ علمائے کرام محرم الحرام میں بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یزید ایک نااہل اور بدکردار حاکم تھا جس نے مصطفوی تعلیمات اور قرآن کے آفاقی پیغام کو دنیاوی اقتدار اور سیاسی مصلحتوں کے تحت پامال کرنے کی ناپاک حرکت کی اوراس کا مقابلہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ڈٹ کر کیا۔انہوں نے کہا کہ سانحہ کربلا سے پیغام ملتا ہے کہ ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور اہل بیتکربلا میں آزمائشوں سے دو چار ہوئے۔ جام شہادت نوش کر لیا مگر جابر اور بدکردار حکمران کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزررہا ہے اسے مسائل اور اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ بنانے کیلئے فکر حسین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے اور ہر کسی کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادات اور آزادی اظہار کا حق دیتا ہے۔ معاشرے میں بھائی چارے، رواداری، برداشت اور تحمل کے جذبات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی امن دشمن ہمارے اس اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو پارہ پارہ نہ کر سکے۔ انہوں نے علمائے کرام اور مشائخ عظام پر زور دیا کہ وہ منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھائی چارے، یگانگت اور برداشت کا درس دیں کیونکہ یہ وقت اتحاد و اتفاق کیلئے کام کرنے کا ہے۔ آج عالم اسلام کا مقابلہ پھر وقت کے یزیدوں سے ہے آج پھرعالم اسلام کو جذبہ حسینیت کی ضرورت ہے اوراس پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔

  • پولیس کی جانب سے سکیورٹی کیلئے لگائے جانے کیلئے پکڑے گئے ٹرک کا 49سالہ ڈرائیور پر اسرار طور پر ہلاک

    پولیس کی جانب سے سکیورٹی کیلئے لگائے جانے کیلئے پکڑے گئے ٹرک کا 49سالہ ڈرائیور پر اسرار طور پر ہلاک

    رحیم یارخان محرم الحرام کے سلسلہ میں پولیس کی جانب سے سکیورٹی کیلئے لگائے جانے کیلئے پکڑے گئے ٹرک کا 49سالہ ڈرائیور پر اسرار طور پر ہلاک پولیس نے میڈیا کے خوف سے نعش اور پکڑا گیا ٹرک فوری طور پر آبائی علاقہ ٹنڈوم آدم سانگھڑ روانہ کردیا رابطہ کرنے پر پولیس کا پکڑے گئے ٹرک ڈرائیور کی ہلاکت بارے وضاحت کرنے سے صاف انکار تفصیل کے مطابق گزشتہ روز پولیس نے محرم الحرام کے سلسلہ میں مختلف مقامات پر سکیورٹی کیلئے درجنوں ٹریکٹر ٹرالیاں، ٹرک، ٹرالر، کنٹینر مختلف تھانوں میں پکڑے رکھے ہیں اسی طرح پولیس تھانہ بی ڈویژن نے بھی ٹنڈوم آدم سانگھڑ(سندھ)کے رہائشی49سالہ غلام مصطفی ولد غلام سرور کے 12ویلر ٹرک کو بھی سکیورٹی پر لگانے کیلئے پکڑ رکھا تھا کہ ٹرک ڈرائیور 49سالہ غلام مصطفی پراسرار طور پرپولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے اپنے ٹرک میں مردہ پایا گیا جس پر پولیس تھانہ بی ڈویژن نے ریسکیو عملہ کو اطلاع دی جس نے موقع پر پہنچ کر ٹرک ڈرائیور کی موت کی تصدیق کردی جس پر پولیس نے نعش کو ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے فوری طور پر اپنی تحویل میں لے کر پکڑے گئے ٹرک اور میت کو آبائی علاقہ ٹنڈوآدم سانگھڑ(سندھ) روانہ کردیا اس سلسلہ میں میڈیا کے رابطہ کرنے پر پولیس نے پکڑ ے گئے ٹرک ڈرائیور کی پر اسرار موت سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا تاہم نام نہ ظاہر کرنے پر سکیورٹی کیلئے پکڑی گئی ٹریکٹر ٹرالیاں، ٹرک، ٹرالر کے ہمراہ موجود ڈرائیور نے 49سالہ ٹرک ڈرائیور غلام مصطفی کی موت کی تصدیق کردی اور ٹرک سمیت میت سندھ بھجوائے جانے کا بھی انکشاف کردیا۔