Baaghi TV

Category: رحیم یارخان

  • یوم دفاع پاکستان فیملی فیسٹول کا انعقاد

    یوم دفاع پاکستان فیملی فیسٹول کا انعقاد

    رحیم یار خان ( )مقامی روزنامہ کے زیر اہتمام یوم دفاع پاکستان فیملی فیسٹول کا انعقاد شہداء کی یاد میں تقریب کا انعقاد شہداء کے ورثاء کی بھر پور شرکت ،

  • بڑی خبر آ گئی  ڈی پی او رحیم یار خان کوصلاح الدین کیس کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بڑی خبر آ گئی ڈی پی او رحیم یار خان کوصلاح الدین کیس کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا گیا

    حیم یار خان() تفصیلات کے مطابق صلاح الدین قتل کیس کی وجہ سے وزیر اعلی پنجاب نے ڈی پی او عمر فاروق سلامت کو ڈی پی او رحیم یار خان کے عہدے سے معطل کر کے او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے.ایڈیشنل ڈی پی او کا چارج ایس پی انویسٹی گیشن حبیب اللہ خان کو دے دیا گیا.

  • رحیم یار خان( )غیر منظور شدہ ہاﺅسنگ سوسائٹیز ہو جائیں تیار

    رحیم یار خان( )غیر منظور شدہ ہاﺅسنگ سوسائٹیز ہو جائیں تیار

    رحیم یار خان( )غیر منظور شدہ ہاﺅسنگ سوسائٹیز و نجی رہائشی و کمرشل عمارتوں اور گھروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا، تمام بلڈنگ انسپکٹرز کو نقشہ کی منظوری اور فیسوں کی ادائیگی کے بغیر تعمیرات کرنے والی کمرشل و رہائشی عمارتوں کی فہرستیں مرتب کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ایڈ منسٹریٹر میونسپل کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب حسین لابر کی زیر صدارت میونسپل کمیٹی پلاننگ ونگ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف آفیسر محمد ارشد ورک، میونسپل آفیسر پلاننگ حسین لیاقت اور بلڈنگ انسپکٹرز نے شرکت کی۔ڈاکٹر جہانزیب حسین لابر نے پلاننگ ونگ کے افسران و فیلڈ سٹاف کو ہدایت کی کہ فوری طو رپر نقشہ جات کی منظوری اور کمرشلائزیشن فیس کی ادائیگی کے بغیر تعمیر ہونے والی ہاﺅسنگ سوسائٹیز و رہائشی او رکمرشل عمارتوں کی فہرستیں مرتب کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں اور ایسی تمام عمارتوں کے مالکان کو نوٹسز جاری کریں ۔نقشہ جات کی منظور ی اور فیسوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں ہاﺅسنگ سوسائٹیز کو سیل اور ان کے دفاتر مسمار کر دیئے جائیں جبکہ رہائشی اور کمرشل عمارتوں کے مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • رحیم یار خان()صلاح الدین کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا شیخ زید ہسپتال نے جاری کی پریس ریلیز

    رحیم یار خان()صلاح الدین کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا شیخ زید ہسپتال نے جاری کی پریس ریلیز

    رحیم یار خان( )ترجمان شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر صلاح الدین ولد محمد افضال کے پوسٹ مارٹم کے حوالہ سے حقائق سے برعکس رپورٹس چلا کر شیخ زید ہسپتال کی انتظامیہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے جبکہ شیخ زید ہسپتال انتظامیہ نے اس بابت کسی قسم کی کوئی رپورٹ جاری نہیں کی کہ صلاح الدین کی موت کس وجہ سے ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صلاح الدین کی موت پولیس تشدد یا کسی بھی وجہ سے قرار دینا قبل از وقت ہے صلاح الدین31اگست2019کو شب9:45پر شیخ زید ہسپتال ایمرجنسی لایا گیا جسے ڈیوٹی پر موجود خلیل اسرار نے ای سی جی کی تو معلوم ہوا کہ صلاح الدین ہسپتال لانے سے قبل ہی فوت ہو چکا تھا،ضابطے کی کارروائی ہونے کے بعد پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لئے تحریری طور پر شیخ زید ہسپتال انتظامیہ کو ریکوسٹ کی جس پر صبح1ستمبرصبح6بجے پوسٹ مارٹم کیا گیا ۔میڈیکل بورڈ میں ایم ایس شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر غلام ربانی،ڈی ایم ایل او ڈاکٹر مسعود جہانگیر،ڈاکٹر ہارون اور ڈی ایچ او ڈاکٹر حسن شامل تھے۔ڈیڈ باڈی سے مختلف اجزاءلیکر فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیئے گئے ہیں جن میں کیمیکل ایگزامینر کو چار نمونے نمبر1معدہ، نمبر 2چھوٹی آنت ، بڑی آنت، نمبر 3تلی، گردہ،جگر،نمبر4سیچوریٹڈسلائنٹ شامل ہیں اسی طرح ہسٹوپیتھالوجسٹ کو بھی 8نمونے بھجوائے گئے ہیں جن میں مکمل دل،پھیپھڑے، دماغ، دائیں ، بائیں بازو سے جلد اور نیچے ٹشو، دائیں ، بائیں کہنی سے جلد اور نیچے ٹشو اور دس فیصد فارمالین وغیرہ شامل ہیںاس کے علاوہ میڈیکل بورڈ کو جسم کے کسی بھی حصے پر شک گزراکہ اس پر کوئی تشدد ہوا ہے تو اس کو سیمپل فرانزک لیبارٹری کو بھجوایا گیا ہے اس لئے میڈیکل بورڈ نے ابھی تک اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں دی ہے کہ موت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔جب تک فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ نہیں آ جاتی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔جبکہ کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جا رہا ہے کہ شیخ زید میڈیکل بورڈ نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ صلاح الدین کی موت پولیس تشدد سے واقع نہیں ہوئی ۔اس پر شیخ زید ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا جاتا ہے کہ شیخ زید ہسپتال انتظامیہ نے ایسی کوئی رپورٹ جاری نہیںکی ۔ایک ماہ تک فرانزک رپورٹ آجائے گی جس سے واضح ہوجائے گا کہ صلاح الدین کی موت کی اصل وجہ کیا ہے لہذا اس طرح کسی کو مورد الزام ٹھرانا کسی صورت مناسب نہیں ہے جو ادارے اور انتظامیہ کی کردار کشی کا باعث بنے۔

  • قوم کو 1965ء والے قومی جذبہ کی ضرورت ہے ے ضلعی صدرایپکا چوہدری محمدبوٹاعابد

    قوم کو 1965ء والے قومی جذبہ کی ضرورت ہے ے ضلعی صدرایپکا چوہدری محمدبوٹاعابد

    رحیم یارخان( )آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے ضلعی صدرچوہدری محمدبوٹاعابدنے کہاہے کہ آج پھر ہماری قوم کو 1965ء والے قومی جذبہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ملک اور قوم پر پڑنے والی ہر بری نظر کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے اور دشمنوں کو منہ توڑ جواب دے سکے۔مختلف محکمہ جات کے ملازمین واہلکاران سے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ کم عددی حیثیت اور کم جنگی وسائل کے باوجود اپنے سے دس گنا بڑی فوج کومیدان جنگ میں زیر کرنا صر ف اور صرف پاکستانی افواج ہی کا کمال تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہادر افواج جب بھی میدان جنگ میں اتریں تو دشمن پر قہر بن کر ٹوٹیں جو اللہ کے سپاہیوں کا ہی خاصہ ہے،چوہدری بوٹاعابدنے کہا ہے کہ اگر ہم متحد ہو گئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہماری طرف میلی نگاہ سے دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔اس موقع پرعبدالرزاق بلوچ‘ حسن چوہدری‘ سرداراحمدسیف ببر‘ وقارنیازی‘ تنویرالحسن شاکر‘ راناقاسم‘ جام اعجاز‘ عبدالجبارچوہدری‘ چوہدری مقبول‘ حسنین اقبال ملک‘ سرورثانی‘ مقبول احمدچوہدری‘ چوہدری منیرودیگرموجودتھے۔

  • رحیم یارخان( ) گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک پروقارتقریب

    رحیم یارخان( ) گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک پروقارتقریب

    رحیم یارخان( ) گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی میں یوم دفاع پاکستان اور یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک پروقارتقریب کا اہتمام ہوا۔ تقریب کے آرگنائزر ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ساجد محمود خان تھے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز طالب علم محمد بلال کی تلاوت کلام پاک اورعلی احمد کی طرف سے پیش کی گئی نعت رسول مقبولؐ سے ہوا۔پرنسپل ادارہ انجینئر حبیب احمد سیال نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ہمارا ملک ہے اگرپاکستان پرکوئی بھی مشکل وقت آیا توہم سب سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں گے،ہمیں پاکستان کی سلامتی عزیز ہے اور ہم اپنی صفوں میں اتحاد کو قائم رکھیں نظم وضبط سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اورہمیں اپنی جانوں کے نذرانے بھی دینے پڑے تو ہم دینگے بھارت کا ظالمانہ تسلط ہمیں برداشت نہیں۔ اس موقع پر قومی ترانہ پڑھاگیا اورافواج پاکستان سے اظہاریکجہتی کے لیے ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی،پاکستان زندہ باد،پاک فوج زندہ باد، کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ طلباء پورے جذبے سے سرشار تھے اور جوش وجذبہ کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہوئے۔

  • رحیم یار خان صلاح الدین کیس کی ایف آئی آر سیل

    رحیم یارخان//پولیس حراست میں جابحق ہونے والے اے ٹی ایم چور کی موت کا معاملہ حل نہ ہوسکا،صلاح الدین کے ورثاء کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر کے سیل کر دی گئی،

  • رحیم یار خان()ملتان تا سکھر موٹر وے ایم 5 کا افتتاح 6 ستمبر کو متوقع

    رحیم یار خان()ملتان تا سکھر موٹر وے ایم 5 کا افتتاح 6 ستمبر کو متوقع

    ملتان تا سکھر موٹر وے ایم 5 کا افتتاح 6 ستمبر کو متوقع, ذرائع کے مطابق افتتاح رحیم یارخان، سکھر یا ملتان سے ہونا متوقع ہے. ڈی آئی جی موٹر وے لاہور سلطان محمود گجر کے مطابق موٹر وے ایم 5 کا کام مکمل اور نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے انٹر چینج سمیت ملتان سے سکھر تک کا سفر محفوظ بنانے کیلئے تمام انتظامات مکمل اور شایراہ کو کلیئر کر دیا گیا ہے موٹروے کے اعلیٰ حکام اور حکومتی احکامات آئندہ چار پانچ روز میں مسافروں کیلئے کھول دی جائے گی,

  • صلاح الدین کی دوران پولیس حراست ہلاکت معاملہ ایس ایچ او اور تفتیشی آفیسر معطل مقدمہ درج

    تفصیلات کے مطابق دوران تفتیش ہلاک ہونے والے صلاح الدین کے والد نے تھانہ اے ڈویژن میں درخواست دی کہ اس کا بیٹا جو کہ زہنی معذور تھا کو تھانہ اے ڈویژن رحیم یارخان نے چوری کے الزام میں گرفتار کیااور بعد ازاں اس کو دوران تفتیش شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ہلاک کر دیا.اس کے والد کا مزید کہنا تھا کہ میرا بیٹا زہنی معذور تھا اسی وجہ سے ہم نے اس کا نام اس کے بازو پر کندہ کروا رکھا تھا تا کہ اگر یہ راستہ وغیرہ بھول جائے تو اس کے نام کی وجہ سے اس کی پہچان ہو جائے.مزید ان کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ہمارے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا بلکہ جب میں نے رابطہ کیا تو مجھے بھی صحیح معلومات نہیں‌دی گئی اسی لئے میں رحیم یارخان آیا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے بیٹے کو ایس ایچ او محمود الحسن، تفتیش افسر شفاقت علی اور اے ایس آئی مطلوب حسین نے شدید ترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا ہے اور خود ہی پوسٹ‌مارٹم بھی کروا دیا ہے.صلاح الدین کے والد کے تحریری درخواست میں استدعا کی ہے کہ اسے انصاف دیا جائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے. پولیس نے مقتول کے والد کی مدعیت میں‌مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملوث افسران ایس ایچ او محمود الحسن اور تفتیش افسر شفاقت علی اور اے ایس آئی مطلوب حسین کو معطل کر دیا گیا ہے.نیز صلاح الدین کی نماز جنازہ 3 ستمبر بروز منگل اس کے آبائی گاوں گورالی تھانہ واہنڈو تحصیل کامونکی میں بعد نماز فجر 6 بجے ادا کی جائے گی.

  • صلاح الدین نے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    محمد صلاح الدین گاؤں گورالی تھانہ واہنڈو نامی یہ شخص کسی ذہنی عارضے میں مبتلا تھا،جس کی وجہ سے اے ٹی ایم سے چھیڑ چھاڑ کے دوران اس میں لگے سیکیورٹی کیمرے سے چھپنے کی بجائے اس کی طرف رخ کر کے منہ چڑاتا تھا۔لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی یہ حرکت اسے موت کی دہلیز پر پہنچا سکتی ہے ۔مختلف ٹی وی چینلز پر اس کی اس حرکت کی ویڈیوز ڈھڑا دھڑ چلائی گئیں،جس کے بعد دو دن پہلے یہ رحیم یار خان میں ہجوم کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ہجوم کے انصاف سے گزرتا ہوا یہ پنجاب پولیس کے نرغے میں آ گیا۔وہاں اس نے گونگے ہونے کی اداکاری شروع کی،جس کے بعد پنجاب پولیس نے اس کی زبان کھلوانے کو چیلنج سمجھ کر قبول کر لیا،اور اس غریب پر اتنا تشدد کیا کہ گزشتہ رات یہ حوالات میں ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔ہاں جاتے جاتے کچھ دن کے لئے ٹی وی چینلز کی روزی روٹی کا انتظام کر گیا اور ساتھ ہی اس حقیقت پر مہر بھی ثبت کر گیا،کہ پاکستان میں قابل سزا مجرم صرف غریب ہی ہوتا ہے ،چاہے اس نے ڈبل روٹی ہی کیوں نہ چرائی ہو ،امیر کو تو کبھی ہتکھڑی لگانے کی جرات بھی نہی کی جا سکتی،اور اس کی حوالات میں ائیر کنڈشنر ،ٹی وی،نوکر اور گھر سے منگوایا گیا کریلے گوشت کا سالن سبھی کچھ شامل ہوتا ہے۔

    تفتیش کے دوران صلاح الدین نے تفتیشی افسر سے ایک سوال بھی کیا کہ اگر جان کی امان ہو تو ایک بات پوچھوں؟ آپ لوگوں نے تشدد کرنا کس سے سیکھا ؟

    صلاح الدین ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی ۔
    اے ٹی ایم مشین کو توڑنے کی پاداش میں پنجاب پولیس کے تشدد سے فوت ہونے والا صلاح الدین ایک دین دار گھرانے سےتعلق رکھتا تھا، تصویر میں نظر آنے والا اس کا بھائی عالم دین ہے

    گھر والوں نے صلاح الدین کا نام اور پتہ انمٹ سیاہی سے بازو پر کنندہ کرا رکھا تھا کہ گمنے کی صورت میں گھر کی راہ لے سکے۔
    مظلوم پولیس گردی کا شکار ہوا ۔

    صلاح الدین کو انصاف دلانے کیلئے سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چل رہی ہے اور سوشل میڈیا صارفین حکومت وقت سے مطالبہ کر رہے کہ صلاح الدین کو کس جرم کی پاداش میں قتل کر دیا گیا اس کے قتل کی شفاف تحقیقات کرکے اس کے لواحقین کو انصاف دلایا جائے ۔