Baaghi TV

Category: شیخوپورہ

  • ضلع کونسل ہال میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب کا انعقاد

    ضلع کونسل ہال میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب کا انعقاد

    شیخوپورہ( نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) 73 ویں جشنِ آزادی 14 اگست کے پر مسرت موقع پر ضلع ہذا میں مرکزی تقریب ضلع کونسل ہال شیخوپورہ میں منعقد کی گئی۔تقریب میں صوبائی منسٹر میاں خالد محمود, ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غازی محمد صلاح الدین,ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ,اے ڈی سی رانا شکیل الرحمن,ایڈیشنل ایس پی کپٹن (ر) عامر خان نیازی اور دیگر ضلعی انتظامیہ و پولیس کے افسران , جنرلسٹ, سیاسی و سماجی شخصیات , اساتذہ, طلباو طالبات اور سول سائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی
    تقریب کے آغاز سے قبل صبح 8:58منٹ پر سائرن بجایا گیا 2 منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد پرچم کشائی کی گئی۔اس موقع پر شیخوپورہ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیااور سلامی پیش کرتے ہوۓ چبوترے کے سامنے سے گزرے۔
    اس موقع پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گۓ۔ تقریب میں منسٹر میاں خالد محمود, ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرغازی محمد صلاح الدین,ڈپٹی کمشنر اصغر علی جوئیہ اور تحریک انصاف کے راہنما کنور عمران سعید نے خطاب کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ ہم ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو آزاد ماحول میں سانس لے رہے ہیں ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کیا۔ اگر آپ آزادی جیسی نعمت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں توکشمیری عوام سے پوچھیں۔”
    اس کے بعد جشن آزادی کی 73 ویں سالگرہ کا کیک کاٹا , پودے لگاۓ اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
    اس کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کی اور تحائف دئے۔ آخر میں ڈسٹرکٹ جیل کے دورہ کے دوران قیدی بچوں اور خواتین میں تحائف بھی دئیے”۔

  • یوتھ آف شیخوپورہ کے زیر اہتمام آزادی مارچ کا انعقاد

    یوتھ آف شیخوپورہ کے زیر اہتمام آزادی مارچ کا انعقاد

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) یوتھ آف شیخوپورہ کے زیر اہتمام آزادی مارچ و یکجہتی کشمیر کارواں کا انعقاد کیا گیا
    آزادی مارچ بتی چوک سے شروع ہوا اور پریس کلب شیخوپورہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا جہاں یوتھ قائدین نے خطابات کیے اور یوتھ کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کیے
    شرکاء نے سبز ہلالی پرچم اور کشمیری پرچم تھام رکھے تھے اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے
    پریس کلب پہنچ کر مارچ اختتام پذیر ہوا صدر یوتھ آف شیخوپورہ ملک شیرافگن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا حصول محض زمین کے ٹکرے کا حصول نہیں تھا بلکہ یہاں اسلام کا عملی نفاذ مقصود تھا
    ٹکٹ ہولڈر صوبائی اسمبلی پی پی 139 احسان اللہ گجر کا کہنا تھا کہ نوجوان ہی کسی بھی قوم کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں
    صدر یوتھ آف شیخوپورہ پی پی 139 طلحہ عثمان کا کہنا تھا کہ ہندو نیچ ذہنیت کا حامل ہے جس سے ہمارے آباء و اجداد نے آزادی لی تھی، اب وقت آن پہنچا ہے کہ کشمیریوں کو بھی اس کمینہ فطرت ہندو سے آزادی دلائی جائے
    سٹی میڈیا سیکرٹری عاکف حمید کا کہنا تھا کہ اگر اقوام عالم نے توجہ اور سنجیدگی نہ دکھائی تو ہم طاقت و قوت رکھتے ہیں کہ بزور بازو کشمیر حاصل کر لیں
    ضلعی جنرل سیکرٹری یوتھ آف شیخوپورہ محمد فہیم شاکر کا کہنا تھا کہ قوم کو یوم آزادی مبارک لیکن آزادی کی قدر کرنے والی اقوام ہی سر بلند رہتی ہیں ہم نوجوان نسل کو منشیات کی عادتِ بد اور سمارٹ فون کے نشے سے نکال کر کھیل کے میدان میں لانا چاہتے ہیں تاکہ یہ نوجوان خون ضائع ہونے کی بجائے ملک کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو

  • ضلعی انتظامیہ ٹائیگر فورس کے ہمراہ شجرکاری میں مصروف

    ضلعی انتظامیہ ٹائیگر فورس کے ہمراہ شجرکاری میں مصروف

    شیخوپورہ میں ضلعی انتظامیہ کی ٹائیگر فورس کے ہمراہ شجر کاری مہم جاری ہے
    ضلع شیخوپورہ میں مجموعی طور پر صرف 9 اگست کے دن 55 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں..

    شجرکاری مہم کا افتتاح صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ پنجاب میاں خالد محمود نے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران اور ٹائیگر فورس کے جوانوں کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن شیخوپورہ کے قریب پودا لگا کر کیا
    اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے ٹائیگر فورس کے جوانوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے آج کے دن کو ٹائیگر فورس کے نام منسوب کیا.
    جس سے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے جوانوں کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی ہوئی ہے ٹائیگر فورس میں جس طرح کرونا وبا کے دوران کام کیا وہ بھی قابل ستائش تھا اور ٹائیگر فورس کے جوان جس طرح شجرکاری مہم میں حصہ لے رہے ہیں اس سے یقینا وزیراعظم کے کلین گرین پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا ۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ کا کہنا تھا ضلع شیخوپورہ میں مجموعی طور پر دو لاکھ 56 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں اور آج کے دن ضلع شیخوپورہ میں 55 ہزار پودے لگا کر شجرکاری مہم میں ضلع شیخوپورہ کی طرف سے حصہ ڈالیں گے

  • شہر کے وسطی یوٹرن موت بانٹنے لگے

    شہر کے وسطی یوٹرن موت بانٹنے لگے

    یوٹرن موت بانٹنے لگے
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے)
    شیخوپورہ شہر کے وسط میں بنے یو ٹرن عوام کے لیے دردِ سر بننے لگے، سول ہسپتال اور سنٹرل جیل کے سامنے بنے یو ٹرن پر کسی قسم کی تنبیہی علامات موجود نہیں نہ ہی اسپیڈ بریکر موجود ہے اور نہ ہی ٹریفک پولیس اہلکار تعینات،
    سول ہسپتال کے سامنے بنے یوٹرن پر ٹریفک کا شدید دباو رہتا ہے اور یہاں آنے جانے والے موٹرسائیکل سوار اور چاند گاڑیاں کسی بھی ضابطے کی پابند نہیں، اچانک کسی بھی طرف سے نکل آتے ہیں جس سے رفتار سے آتی گاڑیوں کو مشکل سے سنبھلنے کا موقع ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ آئے روز کے حادثات معمول بن چکے ہیں
    جان بچانے والے ہسپتال کے سامنے انسانی جانوں کا ضیاع شہری محکموں کی کارکردگی ہر سوالیہ نشان ہے

    اگر شہری انتظامیہ کی اس طرف توجہ ہوتی تو یہاں نہ صرف تنبیہی علامات، زمینی نشانات، یوٹرن سائن، اور اسپیڈ بریکر موجود ہوتے
    انتظامیہ کی یہ مجرمانہ غلفت کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے

    موقع پر موجودہ مقامی شہری محمد ایاز نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز کے حادثات پر انتظامیہ کی خاموشی انسانی جانوں کے بے وقعت ہونے کی دلیل ہے
    شہری حلقوں میں اس سلسلے میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے شہریوں نے مقامی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو سکے مذکورہ دونوں یو ٹرن پر نہ صرف سائن بورڈز لگائے جائیں بلکہ معیاری اسپیڈ بریکر بھی تعمیر کیے جائیں تاکہ تیز رفتاری سے آتی گاڑیاں اپنی رفتار کو قابو میں رکھ سکیں اور یوٹرن سے مڑتے افراد موڑ کاٹتے وقت محفوظ رہ سکیں

  • ابلتے گٹروں نے کیا جینا حرام

    ابلتے گٹروں نے کیا جینا حرام

    ابلتے گٹروں نے جینا کیا حرام
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) محلہ رام گڑھا (مدینہ پارک) گنجان آبادی کا حامل شہر کا ایک وسطی محلہ ہے جہاں ابلتے گٹروں کا انکشاف ہوا ہے جس سے اہل محلہ مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں
    کیا بچے کیا بڑے سبھی ان ابلتے گٹروں کے گندے پانی سے گزرنے پر مجبور ہیں
    نمازی مسجد تک جانے سے قاصر ہیں کیونکہ گلیاں گندے پانی سے بھری پڑی ہیں
    نمائندہ باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مقامی محمد طارق نے بتایا کہ اگر مہمان آجائے تو ہم شرمندہ ہوتے ہیں کیونکہ گھروں کو جانے والا کوئی راستہ صاف نہیں، متعدد مرتبہ متعلقہ اداروں کو درخواست دے چکے، سیٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروا چکے، میونسپل کارپوریشن کو فون کالز کر چکے، لیکن اول تو کوئی آتا نہیں اور اگر میونسپل کارپوریشن والے آتے ہیں تو فی گھر 300 روپے اینٹھتے ہیں، کچھ دیر مشین چلاتے ہیں عارضی طور پر پانی نکالتے ہیں اور رفو چکر ہوجاتے ہیں، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد گٹر ہیں کہ پھر سے ابلنا شروع ہوجاتے ہیں یہی نہیں پانی بہہ کر قریبی کھیل کے کھلے میدان میں جمع ہو چکا ہے جس سے بد بو اور تعفن کے ساتھ مچھر کی افزائش ہو رہی ہے، بیماریاں الگ پیدا ہو رہی ہیں
    ہم جائیں تو کہاں، شکایت کریں تو کس سے؟
    یہ بھی شہری ہیں جو اس گندے ماحول میں جی رہے ہیں اور اس ماحول کو صاف کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو بار بار شکایات کر چکے ہیں لیکن ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنے والے شاید اس اذیت ناکی سے واقف نہیں جس سے اہل محلہ گزر رہے ہیں، ورنہ اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر کب کا حل کیا جا چکا ہوتا
    اہل محلہ نے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور چیف میونسپل کارپوریشن آفیسر سے پھر سے درخواست کی ہے کہ ہمارا یہ مسئلہ حل کروایا جائے

  • عید قربان پر صفائی کے شاندار انتظامات

    عید قربان پر صفائی کے شاندار انتظامات

    عید قربان پر صفائی کے بہترین انتظامات
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)
    عید قربان جہاں اپنے اندر بے پناہ خوشیاں سموئے ہوتی ہے وہاں جانور قربان کرنے والے لوگ آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگات ہوئے انہیں کوڑے کے ڈھیروں پر پھینک دیتے ہیں جس سے بدبو پیدا ہوتی ہے لیکن اس بار میونسپل کارپوریشن شیخوپورہ نے جس بہترین انداز سے آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساتھ شہر بھر کی صفائی کی ہے وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ عملی طور پر نمونہ بھی ہےsa
    اس شاندار کارکردگی پر جہاں شہری انتظامیہ داد کے لائق ہے وہاں چیف میونسپل کارپوریشن آفیسر احسن عنایت سندھو بھی تعریف کے لائق ہیں کہ جن کی سربراہی میں یہ سب کام انجام دیا گیا

    اگر یونہی شہر کی صفائی کا خیال رکھا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب شیخوپورہ سے گندگی کے ڈھیروں کا نہ صرف بالکل صفایا ہو جائے گا بلکہ شہر شیخوپورہ ایک صاف ستھرا شہر بن کر ابھرے گا

  • جانور موجود،خریدار موجود، لیکن…..

    جانور موجود،خریدار موجود، لیکن…..

    جانور موجود، خریدار بھی موجود، لیکن…
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے)
    عید قربان جبکہ چند گھنٹوں کی دوری پر ہے اور بکر منڈی میں جانور بیچنے والوں کا ہجوم ہے تو خریداروں کا بھی ہجوم ہے لیکن بیوپاری ریٹ زیادہ لگا رہے ہیں ایسا کہنا ہے کہ خریداروں کا لیکن خریدار جانور خریدنے کے لیے بہت کم قیمت دے رہے ہیں ایسا کہنا ہے جانور بیچنے والوں کا
    کیا بچے کیا بڑے کیا بوڑھے سبھی جوش و خروش سے جانور خریدنے منڈی پہنچے ہوئے ہیں لیکن بھاو تاو کی راہ میں حائل دشواریاں دیوار بن کر کھڑی ہیں، شہری انتظامیہ کے تحت لگائی گئی بکر منڈی کے سوا شہر کے اندر غیر قانونی جانور منڈیاں بھی قائم ہیں جن میں ہاوسنگ کالونی بائی پاس چوک ، رائل پیلس چوک، سبزی منڈی چوک، لُنڈا پھاٹک شامل ہیں
    ایس او پیز پر عمل تو بہرحال حکومتی بکر منڈی میں بھی نہیں ہو رہا غیر قانونی منڈیوں بھی تو صورتحال زیادہ ابتر ہے جہاں بندے پر بندہ چڑھا ہوا ہے اور دھکم پیل کے علاوہ ٹریفک جام کی صورتحال ہے، بیوپاریوں اور خریداروں کو کرونا سے زیادہ حکومتی افسران کے چھاپے کا ڈر ہے جس وجہ سے یہ منڈیاں متحرک منڈیوں کی شکل اختیار کیے ہوئے ہیں اور بیوپاری و خریدار چل پھر کر کاروبار کر رہے ہیں
    منڈیوں میں جانور تو وافر موجود ہیں لیکن کرونا لاک ڈاون نے خریداروں کی قوتِ خرید کو جس برے طریقے سے متاثر کیا ہے اس کے بعد ان سبھی منڈیوں میں سابقہ ادوار کی مانند ہجوم یا جوش و خروش دیکھنے کو نہیں مل رہا

  • محلہ معراجپورہ صفائی کا منتظر

    محلہ معراجپورہ صفائی کا منتظر

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) محلہ معراجپورہ 10 ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل علاقہ ہے جہاں ایک طرف تنگ گلیاں ہیں تو دوسری طرف سیوریج کا ناکارہ نظام، جس بدبو پھیلانے کے ساتھ ساتھ محلے کو بدصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
    انتظامیہ کو کبھی خیال نہیں ہوا کہ اس کی صفائی کی طرف توجہ دی جائے
    تنگ گلیوں کو چھوڑ کر ایک ہی مرکزی راستہ اس محلے کو جاتا ہے جو سپورٹس کمپلیکس کی دیوار کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے
    سپورٹس کملیپکس کی دیوار بھی دیوارِ میکسیکو معلوم ہوتی ہے کہ جس کے شمالی جانب تو سجی سجائی بنی سنوری کروڑوں کی لاگت سے کھڑی عالی شان عمارت ہے تو جنوبی جانب گندگی اور کچرے کے بے تحاشہ ڈھیر، یہ تفریق محلہ معراجپورہ کے رہائشیوں کو اس قدر چھبتی ہے کہ وہ اس پر بات کرتے وقت چِلّا اُٹھتے ہیں اور سپورٹس کمپلیکس کو زحمت اور باعثِ کوفت قرار دیتے ہیں

    ان کا خیال ہے کہ پہلے علاقہ مکینوں کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہیئے تھے پھر سپورٹس کمپلیکس پر پیسہ لگنا چاہیے تھا
    پانچ سال ہوچلے اس کمپلیکس کو بنے لیکن معراجپورہ کو جاتے مرکزی راستے کہ تعمیر تو درکنار یہاں کی صفائی ہی نہیں کروائی گئی، شاید یہ علاقہ شہری انتظامیہ کے زیر انتظام نہیں اس لیے یہاں میونسپل کارپوریشن والے آنا گوارا نہیں کرتے
    مقامی بزرگ نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بارش ہوجائے تو یہاں بدبو کے بھبھوکے جینا حرام کر دیتے ہیں کیونکہ اس گہری جگہ سے پانی کے نکاس کی کوئی سبیل تو ہے نہیں، پھر اگر کوئی فوت ہوجائے تو یہی مرکزی راستہ ہے جہاں سے گزرنا ہوتا ہے لیکن گندگی کے ڈھیروں سے اٹا پڑا یہ راستہ جنازے کا راستہ بھی روک لیتا ہے
    ایک دوسرے نوجوان نے بتایا کہ یہی وہ خالی جگہ تھی جہاں ہمارے بچے کھیل لیا کرتے تھے لیکن یہاں پر سپورٹس کمپلیکس بنا کر ہمارے بچوں سے کھیل کی جگہ چھین لی گئی ہے اب اس میں مقامی افراد اور بچوں کا داخلہ بھی منع ہے نہ ہم اس کے اندر صبح کی سیر کرنے جا سکتے ہیں نہ ہمارے بچے کھیلنے جا سکتے ہیں
    بے ہنگم اُگی گھاس سے یہ میدان اٹا پڑا ہے نہ اس کی صفائی کروائی جاتی ہے نہ بچوں کو کھیلنے دیا جاتا ہے
    رضوان نے بتایا کہ انتظامیہ اگر اس راستے کو پختہ نہیں کروا سکتی تو کم از کم گندگی کے ڈھیر اٹھوا کر یہاں مٹی ڈال کر راستہ اونچا اور برابر ہی کر دیا جائے تاکہ گزرنا آسان ہو
    سمیر اور دیگر اہل محلہ نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس راستے کی فی الفور صفائی کروائی جائے تاکہ بارشوں سے پہلے پہلے یہ راستہ نہ صرف گزرنے کے قابل ہو جائے بلکہ پانی کے پانی کے یہاں جمع رہنے کے احتمال سے بچا جا سکے

  • کیا صفائی صرف حکومت کا کام ہے؟

    کیا صفائی صرف حکومت کا کام ہے؟

    کیا صفائی صرف حکومت کا کام ہے؟
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے) طارق روڈ شہر شیخوپورہ کی ایک مشہور سڑک ہے جس کے دونوں اطراف گنجان آبادی کے حامل علاقے ہیں لیکن شاید کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے کا کوئی موثر بندوبست نہیں یا عوام کو شعور نہیں جس وجہ سے طارق روڈ پر جا بجا کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں
    نمائندہ باغی ٹی وی کو مذکورہ روڈ کے سروے کے دوران دکانداروں کے منع کرنے کے باوجود لوگ سڑک پر کچرے پھینکتے نظر آئے
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صفائی صرف حکومت کا کام ہے یا عوام کو بھی اس سلسلے میں کچھ کردار ادا کرنا ہوگا
    دراصل صفائی ایک رویے کا نام ہے اگر انسان خود نہ چاہے تو صفائی نہیں رہ سکتی
    مقامی انتظامیہ کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ عوامی آگاہی کے لیے ایسی مہم جاری کریں جس میں ذاتی، گھریلو، اور رہائشی علاقے کی صفائی رکھنے بارے ضروری اور اہم تدابیر شامل ہوں
    انتظامیہ ضلع بھر کے سکولز کالجز اور ٹیکنیکل اداروں کے طلبہ کو اس عمل میں شریک کر کے شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے
    تعلیمی اداروں میں موجود کثیر تعداد میں طلبہ کی اگر ذہن سازی کر دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے گھر علاقے اور تعلیمی ادارے کو صاف رکھیں گے بلکہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی اس پر تیار کریں گے اور اس باہمی زنجیری عمل کی مدد سے شہر بھر کو صاف رکھنے میں تسلسل سے شاندار مدد مل سکتی ہے
    اس کے ساتھ ساتھ اگر شہری انتظامیہ کوڑے کرکٹ کو تلف کرنے کے لیے ایک موثر اور مرطوب نظام وضع کرے تو شہر کے اطراف میں کوڑے کے وسیع ذخائر ملنا بھی بند ہوجائیں گے
    شہر بھر سے جمع شدہ کوڑا شیخوپورہ بائی پاس کے اطراف میں بھی پھینکا جاتا ہے جس سے وہاں کے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور جا بجا چرتے جانور گھاس پھونس کے ساتھ کچرے کے ٹکرے بھی نگل لیتے ہیں جس سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں
    اب یہ شہری انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر سنجیدگی سے اس مسئلے کے حل کی طرف غور کرتی ہے

  • فیصل آباد روڈ ابتر صورتحال کا شکار

    فیصل آباد روڈ ابتر صورتحال کا شکار

    فیصل آباد روڈ کی ابتر صورتحال
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی محمد فہیم شاکر سے)
    فیصل آباد روڈ شہر شیخوپورہ سے نکلتی ایک مرکزی شاہراہ ہے جس پر چھوٹی بڑی ہر قسم کی ٹریفک رواں دواں رہتی ہے چونکہ یہ مرکزی شاہراہ اطراف کے دیہات و قصبات کو ذیلی سڑکوں کی مدد سے ملاتی ہے لہذا ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اسی مرکزی شاہراہ کی مدد سے شہر شیخوپورہ آتے جاتے ہیں لیکن وہ جگہ جہاں بھکی روڈ فیصل آباد روڈ سے آکر ملتا ہے وہاں گٹروں کا ابلتا پانی گذشتہ طویل عرصہ سے درد سر بنا ہوا ہے
    ایک طرف جہاں یہ پانی گزرتی ٹریفک کی وجہ سے پیدل عوام پر چھینٹیں بن کر پڑتا ہے وہاں دوسری طرف سڑک پر مسلسل موجود رہنے کی وجہ سے سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنتا ہے
    گذشتہ عرصہ میں چند بار اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن شہر بھر کے نکاسی آب کے خراب نظام کی وجہ سے یہاں موجود گٹروں کا ابلتا پانی ایک مرتبہ پھر اسی مرکزی شاہراہ پر جمع ہونا شروع ہو چکا ہے جہاں سے ٹریفک گرزتی ہے اور سڑک کی توڑ پھوڑ کا باعث بنتی ہے
    اس گندے پانی کی بدبو سے راہگیروں کے لیے مشکلات بھی کھڑی ہیں
    انتظامیہ کو اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی طرف سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا