امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ فلسطینکے عوام کو بچانے کا یہی وقت ہے، 25 لاکھ کی آبادی اسرائیل اور امریکا کے سامنے کھڑے ہے،سیالکوٹ میں "لبیک یا فلسطین یوتھ کنونشن” سے خطاب میں سراج الحق نے کہا کہ آج سے 76 سال قبل اسرائیل کا وجود نہیں تھا غزہ کا وجود تھا۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جتنی بمباری امریکا نے افغانستان میں کئی سالوں میں کی، اُتنی اسرائیل نے چند دنوں میں کی ہے۔ سداُن کا کہنا تھا کہ یہ اہل فلسطین ہی ہیں، جنہوں نے پتھر اور غلیل اٹھا کر اسرائیل کا مقابلہ کیا۔دوسری جانب سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس سے عملاً ثابت ہوگیا یہ سقوط غزہ کا انتظار ہورہا ہے ۔ اپنے بیان میں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ او آئی سی اجلاس اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کے اعلان کے بغیر ختم ہوگیا۔ تجارتی، سفارتی، معاشی بائیکاٹ تک کا فیصلہ نہ کر سکے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں ایران، ترکیہ اور الجزائر کی تجاویز آئیں۔ پوری صورتحال میں واحد مسلم ایٹمی ملک پاکستان غائب ہے، اجلاس میں پاکستان کی کسی تجویز کا ذکر نہیں، پاکستان خاموش ہے۔ مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ نگراں وزیراعظم نے کسی فلسطین ریلی سے خطاب کیا نہ کوئی پریس کانفرنس کی۔
Category: سیالکوٹ
-

فلسطین کے لئے آواز اٹھانے کا یہی وقت ہے،امیر جماعت اسلامی
-

مسجد میں فائرنگ کا واقعہ پاکستان میں دہشتگرد حملے کی کوشش تھی،آئی جی پنجاب
آئی جی پنجاب عثمان انور نےڈی پی او سیالکوٹ کے ہمراہ امام مسجد سمیت دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ریکارڈ اور جیوفینسنگ ریکارڈ سمیت دہشتگردوں کا ریکارڈ عدالت پیش کرنے جا رہے ہیں
آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ سہولت کار ، ریکی کرنے والے اور تین شوٹرز کو پکڑ لیا ہے ،عالمی برادری کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیوں نے وہ تمام ثبوت حاصل کیے ہیں جو دہشت گردی کی اس واردات میں سامنے آئے ،پنجاب پولیس سی ٹی ڈی کے ساتھ بیٹھ کر یہ بتانے لگا ہوں، پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کاروائی کی گئی ہے ،یہ ہینڈل کی گئی دنیا کی اس بدنام زمانہ ایجنسی کی طرف سے جو پوری دنیا میں لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہی ہے ، پولیس اور آئی ایس آئی سمیت دیگر اہم ایجنسیوں نے دہشتگردی کو 24 گھنٹوں میں ٹریس کی،سیالکوٹ کے اندر امام مسجد کو شہید کیا گیا،ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی نے مل کر فوری دہشتگردوں کو ٹریس کیا ہے،سیالکوٹ کی مسجد میں فائرنگ کا واقعہ پاکستان میں دہشتگرد حملے کی کوشش تھی، پلاننگ باہر بنی، ملوث دہشتگرد پکڑ لئے، جو چوہے پاکستان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں وہ تیار رہیں، پوری دنیا میں آپ کو بے نقاب کرنے جا رہے ہیں،دشمن ملک اپنی بدنام ایجنسی کے ذریعے کارروائی کرنا چاہتا ہے، ،ملزمان کو پکڑ لیا، عدالتوں میں پیش کریں گے،ہمارا واضح پیغام ہے ہمارے ادارے دنیا میں امن کیلئے کام کریں گے،پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے وہ سب بے نقاب ہوئے،پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی باہر سے فنانس کی جاتی ہے،پاکستان کی ریاست پر حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں،
خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار
لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار
طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا
دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار
فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد
-

نواز شریف کو ہٹایا نہ جاتا تو آج حالات محتلف ہوتے،خواجہ آصف
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اور حکومت تباہی کا دور تھا،
سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں دہشتگردی ختم ہوئی ، لوڈشیڈنگ پر قابو پایا،نواز شریف کے دور میں کرپشن کا انڈیکس نیچے گیا، نواز شریف واپس آرہے ہیں ، چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نواز شریف کے راستے میں ہمیشہ دیواریں کھڑی کی گئیں، نواز شریف کی بیٹی کیساتھ جو کچھ ہوا تاریخ کے حوالے کر دیا، نواز شریف ملک کو آئی ایم ایف سے نجات دلائے گا،نواز شریف ایک دو ملکوں سے ہوتے ہوئے آئیں گے، ایجنڈے کا پتہ نہیں،عوام کو بجلی اور گیس کے بحرانوں سے نجات ملے گی،
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان تشریف لارہے ہیں ، پورے پاکستان میں تیاریاں جاری ہیں ، عوام اس وقت مہنگائی میں پس رہے ہیں، مہنگائی نے غریب آدمی کا جینا مشکل کردیا ہے ،مسلم لیگ ن کا 13 سے 18 تک کا دور بہترین دور تھا، میاں نواز شریف کو ہٹایا نہ جاتا تو آج حالات محتلف ہوتے ،جن لوگوں نے 18 کا الیکشن مینج کیا ان کو 11 روپے کا بجلی کا یونٹ اچھا نہیں لگتا، سیالکوٹ ۔آج ایک یونٹ 55 روپے کا ہے ،جس کو تحفہ سمجھ کر لائے وہ ان کے گلے پڑگیا،پاکستان کی تاریخ میں نواز شریف سے اپیل کا حق بھی لے لیا گیا،ایسا سلوک تو بدترین ملزموں کیساتھ بھی نہیں کیا گیا،ملک پر کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا تھا، پی ٹی آئی کا 4 سالہ دور تباہی کا تھا،
شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی
مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس
نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا
سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے
غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی
نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،
نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
-

نواز شریف کا استقبال،سیالکوٹ سے ساڑھے سات ہزار بندہ لائینگے،سائرہ افضل تارڑ
سیالکوٹ۔ن لیگی رہنما سائرہ افضل تارڑ اور خواجہ محمد آصف نے پارٹی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے
ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اکیس اکتوبر کو میاں نواز شریف کو خوش آمدید کے حوالے سے جوش و ولولہ بڑھ رہا ہے۔سارے پروگرام کو ملکی سیاست کا بڑا ایونٹ سمجھتے ہیں،اکیس اکتوبر کے حوالے سے گوں مگوں کی کیفیت ختم ہورہی ہے ،جب مشرف نے میاں صاحب کو جلاوطن کیا تو میاں صاحب نے لینڈ کیااور انہیں دوبارہ واپس بھیج دیا گیا ، دوسری بار 2018 کے الیکشن کے وقت میاں نوازشریف بیٹی سمیت واپس آئے،میڈیا کو عوام میں آکر دیکھنا چاہئےکہ عوام میڈیا ہاٶسز میں نہیں گلی محلوں میں بستی ہے۔
سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف کی آمد کے موقع پر تمام ورکرز کو جلسے میں شرکت کے لیے ٹارگٹ دیا گیا ہے۔اللہ کے فضل سے یہ کلئیر ہے کہ میاں صاحب واپس آرہے ہیں, سیالکوٹ ضلع کو پانچ ہزار کا ٹارگٹ دیا گیا ہے ،فی پی پی حلقہ پانچ سو افراد کا ٹارگٹ دیا گیا ہے ،این اے کے امیدوار کو بھی پانچ پانچ سو افراد کو لیجانا ہوں گے۔اسطرح سیالکوٹ ضلع سے استقبال کے لیے جانیوالے افراد کی تعداد ساڑھے سات ہزار ہو گی۔ پی ڈی ایم کے سابقہ جلسے میں لوگوں کی تعداد پی ٹی آئی کے جلسے سے زیادہ تھی۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس پہنچیں گے ، ن لیگ کی جانب سے انکے استقبال کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں، اس ضمن میں کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں، نواز شریف مینار پاکستان جلسہ کریں گے، ایئر پورٹ سے وہ مینار پاکستان پہنچ کر کارکنان کو نیا بیانیہ دیں گے،
مینار پاکستان جلسے کے لیے مسلم لیگ ن کی نئی حکمت عملی
مبشر لقمان کا نواز شریف کو گھر بدلنے کا مشورہ
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں،
مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے
نوازشریف کی لندن سے پاکستان واپسی کے لیے ٹکٹ بک کرالی گئی
نواز شریف کی تصویر کے سائز کے برابر کسی اور کی تصویر نہیں لگے گی
-

سارہ شریف قتل کیس: والد، سوتیلی والدہ اور چچا پکڑے گئے
برطانیہ میں قتل کی جانے والی 10 سارہ شریف کے پاکستان میں روپوش والد عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا فیصل پکڑے گئے۔
باغی ٹی وی: پولیس ذرائع کے مطابق تینوں کو گزشتہ رات سیالکوٹ سے گرفتار کیا گیا، فی الحال پولیس گرفتاری کی تصدیق سے گریزاں ہے پولیس نےگزشتہ روز جہلم میں عرفان کے والد کے گھر سے بازیاب کرائے جانے والے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہور بھیجا تھا۔
پولیس کو پولش والدہ کی بیٹی سارہ کی لاش 10 اگست کو گھر سے ملی تھی اور اُس نے تصدیق کی تھی کہ خاندان کے تین افراد بچوں کے ہمراہ لاش ملنےسے ایک دن پہلے پاکستان فرار ہو گئے تھے دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔
لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں
برطانوی پولیس کو سارہ کی موت کے حوالے سے 41 سالہ والد نے فون کیا تھا جو اپنی 29 سالہ اہلیہ بینش بتول اور اپنے 28 سالہ بھائی فیصل مالی کے ساتھ برطانیہ میں پوچھ گچھ کرنے سے پہلے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔
چند دن قبل بینش بتول نے اپنے شوہرعرفان شریف کے ساتھ ایک ویڈیو شیئرکرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سارہ کی موت معمول کا واقعہ تھا بینش کےمطابق پاکستان میں ہماری فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہم اس لیے چھپے ہوئے ہیں کہ پولیس یا تشدد کرے گی یا پھر ہمیں ماردے گی سوتیلی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ قتل کی تحقیقات میں برطانوی اتھارٹیز سے بھی تعاون کرنے کےلیے تیارہیں۔
خواتین کیلئے مناسب عمرہ لباس کے حوالے سے ضابطہ جاری کر دیا
قبل ازیں سارہ کے چچا عمران شریف نے بھی پاکستان میں پولیس کو بتایا تھا کہ خاندان کا مؤقف یہ ہے کہ سارہ گھر میں سیڑھیوں سے نیچے گر گئی تھی جس کے سبب اس کی گردن ٹوٹ گئی تھی، بینش نے گھبرا کر عرفان کو فون کیا تاہم سرے پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ سارہ کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے جو کہ ممکنہ طور پر طویل عرصے سے موجود تھے۔
-

پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی
پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب، کہانی نویس، ناول نگار، ڈراما نگار، مصنف اور ایڈیٹر گربخش سنگھ پریت لڑی۔(1895ء تا 1977ء)
سردار گوربخش سنگھ 26 اپریل 1895ء کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر سات برس تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ سیالکوٹ سے میٹرک کے بعد ایف سی کالج، لاہور میں داخلہ لیا۔ معاشی مشکلات کی وجہ سے کالج کے ساتھ ساتھ 15 روپے ماہوار میں ایک مختصر وقت کے لیے کلرک کی نوکری شروع کردی۔ بعد میں 1913 میں تھامسن سول انجینئری کالج، روڑکی سے ڈپلوما حاصل کیا۔ فوج میں بھرتی ہوکر عراق اور ایران گئے۔ 1922 امریکا میں مشی گن یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر واپس آئے اور ایک ریلوے انجینئر کے طور پر ملازم ہوئے۔پریت لڑی
۔۔۔۔۔۔
پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب انجینئرہونے کے ساتھ ساتھ انھوں نے پنجابی ادب میں بھی طبع آزمائی کی اور اپنی الگ شناخت بنائی۔ 1933ء میں ماڈل ٹاؤن، لاہور سے پنجابی اور اُردو زبان میں ایک ماہانہ میگزین ‘‘پریت لڑی’’ کی اشاعت شروع کی جو لوگوں میں اتنا مقبول ہوا کہ آپ کا نام ہی ‘‘گربخش سنگھ پریت لڑی ’’پڑ گیا۔پریت نگر
۔۔۔۔۔۔
1936ء میں انھوں نے لاہور اور امرتسر کے درمیان ‘‘پریت نگر ’’ یعنی محبت کرنے والوں کا شہر کے نام سے ایک شہر آباد کیا جو صرف ترقی پسند شاعروں، ادیبوں اور انسان دوست دانشوروں اور فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہی مختص تھا۔ برطانوی دور میں ‘‘پریت نگر’’ کو ترقی پسند ادیبوں اور سماجی انقلاب کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم، نُور جہاں (گلوکارہ)، بلراج ساہنی (اداکار)، شوبھاسنگھ (پینٹر)، اُپیندر ناتھ اشک، بلونت کارگی، کرتار سنگھ دُگل اور حمید اختر جیسے ادیب اس شہر کے باسی تھے۔ گربخش سنگھ ہر سال یہاں ادبی اجتماع منعقد کرتے جس میں برصغیر کے کونے کونے سے ادیب، شاعر اور دانشور شریک ہوتے۔ تقسیم ہند کے وقت جب یہ شہر بھی فسادات سے محفوظ نہ رہا تو گربخش سنگھ دل برداشتہ ہوکر دہلی چلے گئے۔ 1950ء کی دہائی میں واپس آئے اور ‘‘پریت لڑی ’’کو دوبارہ شروع کیا۔کہانی، ناول، ڈرامے، مضامین اور بچوں کے ادب پر آپ کی پچاس کے زائد کتب شائع ہوئیں۔ میکسم گورکی کے ناول ‘‘ماں ’’ کے پنجابی ترجمہ پر آپ کو سوویت نہرو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پنجابی ادب کا یہ معروف نام 20 اگست 1978ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن پریت لڑی اور پریت نگر ابھی تک پرانی روایات کے امین کے طور پر قائم دائم ہے-
تصانیف
۔۔۔۔۔۔
مجموعہ مضامین
۔۔۔۔۔۔
۔ (1)سانوی پدھری زندگی
(ہموار زندگی)
۔ (2)پرسنّلمی عمر
(اچھی طویل زندگی)
۔ (3)سوے پورنتا دی لگن
(تکمیلِ خودی کی لگن )
۔ (4)اک دنیاں دے تیراں سپنے
(ایک دنیا کے تیرا خواب)
۔ (5)نواں شوالہ
(نیا شیوالہ)
۔ (6)زندگی دی راس
(زندگی کا لب لباب)
۔ (7)پرم منکھ
(بہترین انسان)
۔ (8)میرے جھروکھے چوں
(میری کھڑکی سے باہر)
۔ (9)کھلھا در
(کھولنے کی شرح)
۔ (10)پریت مارگ
(محبت کے راستے)
۔ (11)فیصلے دی گھڑی
(فیصلے کی گھڑی)
۔ (12)زندگی وارث ہے
(زندگی وارث ہے)
۔ (13)خوش حال جیون
(خوشحال زندگی)
۔ (14)نویاں تقدیراں دی پھُلّ کیاری
(نئی تقدیر کی پھول کیاری)
۔ (15)ایہہ جگ ساڈا
(ہماری جنگ)
۔ (16)اسمانی مہانندی (ترجمہ)
(عظیم آسمانی خوشی)
۔ (17)زندگی دے راہ (ترجمہ)
(زندگی کی راہ)
خودنوشت اور یادداشتوں
۔۔۔۔۔۔
۔ (1)میریاں ابھلّ یاداں (1959)
(میری ناقابل فراموش یادیں)
۔ (2)منزل دسّ پئی (1964)
(دیکھی ہوئی منزل)
۔ (3)میری جیون کہانی
(میری زندگی کی کہانی)
۔ (4)چٹھیاں جیتاں دے ناں
(جیت کے نام خطوط )
ناول
۔۔۔۔
۔ (1)انویاہی ماں
(بن بیاہی ماں)
۔ (2)رکھاں دی جیراند
(جیراند کا درخت)
۔ (3)ماں (ترجمہ)
(ماں۔ میکسکم گورکی)
کہانیوں کے مجموعے
۔۔۔۔۔۔
۔ (1)ناگ پریت دا جادو (1940)
(سانپ کی محبت جادو)
۔ (2)انوکھے تے اکلے (1940)
(انوکھے اور اکیلے )
۔ (3)اسمانی مہانندی (1940)
(عظیم آسمانی خوشی)
۔ (4)وینا ونود (1942)
(وینا ونود)
۔ (5)پریتاں دی پہریدار (1946)
(محبت کے پہرے دار)
۔ (6)پریت کہانیاں (1950)
(رومانوی کہانیوں )
۔ (7)شبنم (1955)
(شبنم)
۔ (8)بھابی مینا (1956)
(بھابی مینا )
۔ (9)عشقَ جہناں دے ہڈیں رچیا
(1959)
(عشق جنوں نے عملی طور پر کیا)
۔ (10)زندگی وارث ہے (1960)
(زندگی وارث ہے )
۔ (11)اک رنگ سہکدا دل (1970)
(ایک رنگ سینکڑوں دل)
ڈرامے
۔۔۔۔۔۔
۔ (1)راج کماری لتکا تے ہور پریت ڈرامے
(شہزادی لتیکا اور دوسرے
رومانوی ڈرامے)
۔ (2)پریت مکٹ (1922-23)
(محبت کا تاج)
۔ (3)پورب-پچھم
(مشرق و مغرب)
۔ (4)ساڈی ہونی دا لشکارا
(ہمارے ہونے کی شان)
بچوں کا ادب
۔۔۔۔۔۔
۔ (1)گلابی عینکاں
(گلابی عینک)
۔ (2)پریاں دی موری
(پریوں کا غار)
۔ (3)گلابو
(گلابو)
۔ (4)مراداں پوریاں کرن والا کھوہ
(مرادیں پوری کرنے والا کنواں)
۔ (5)جگاں پرانی گلّ
(برسوں پرانی بات) -

اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسلہ رک جاتا،خواجہ آصف
سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ان کی حکومت گئی
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ان کی حکومت گئی، اس شخص نے اتنی غلطیاں کیں جس کے ڈپریشن میں اس نے 9 مئی کا پلان بنایا، اس نے ریاست کو للکارا اس نے دشمنوں کی طرح کردار ادا کیا، اس شخص نے دفاع کے ضامن ادارے کو للکارا-
انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تیاری کا تقریباً آغاز ہو چکا ہے، مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کی تقسیم کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گاہم نے نہایت ہی مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، ہمارے پاس چوائس تھی کہ فوری حکومت سنبھالتے ہی اسمبلیاں تحلیل کر دیتے، اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسلہ رک جاتا اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا، ایک ماہ کے اندر اسمبلی مدت پوری کرکے تحلیل ہو جائے گی۔
خاکروب کی معمولی غلطی سے امریکی لیبارٹری میں 20 سال کی سائنسی تحقیق ضائع
انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں ارب روپے کی بجلی، گیس اور ٹیکس چوری ہوتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک معاشی طور پر دربدر ہوتا رہےگا، ایسے ایسے شہر ہیں جہاں 82 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے سیاسی غلطیوں کی اس نے قیمت ادا کی اور حکومت چلی گئی، سیاست دانوں نے بےشمار غلطیاں کیں، اسٹیبلشمنٹ نے بھی غلطیاں کیں لیکن کسی پارٹی کا کوئی ورکر مفرور ہوتے نہیں دیکھا جس طرح ان کے لیڈران مفرور ہوئے، سیاسی ورکر عزت آبرو سے گرفتار ہوتا ہے تو اس کی چادر چار دیواری کا تقدس بھی رہتا ہے۔
پی ٹی آئی چئیرمین اقتدارمیں رہنے کیلئےکوئی بھی سمجھوتا کرسکتے ہیں،خرم دستگیر
-

پی ٹی آئی کے رہنماعثمان ڈار کی فیکٹری پر چھاپہ
سیالکوٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پولیس نے سیالکوٹ میں پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی فیکٹری پر چھاپہ مارا ہے،پولیس کی جانب سے عثمان ڈار کی گرفتاری کے لیے محتلف حصوں اور دفاتر کی تلاشی بھی لی گئی۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حسن اقبال کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے بعد ہوئے واقعات میں عثمان ڈار 5 مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں، پولیس کی جانب سے فیکٹری منیجر سے 9 مئی کی لیبر کی حاضری کا ریکارڈ طلب کیا گیا چھاپے کے دوران فیکٹری کے مین دروازے کو بند کردیا گیا اور داخلی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔
پیپلز پارٹی نے ن لیگ سے پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں سیٹیں مانگ لیں
عثمان ڈار ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جو 3 دسمبر 2018 سے وزیر اعظم کے نوجوانوں کے امور کے خصوصی مشیر کے عہدے پر ہیں اور 10 اکتوبر 2018 سے وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین ہیں۔ ان کا خاندان وی آئی پی گروپ پرائیوٹ لمیٹڈ کے مالکان ہیں جو ایک بڑی چمڑے کی کمپنی ہے اور چمڑے کے ملبوسات اور کھیلوں کے لباس کے پاکستان کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔
ضلع مردان میں ہیٹ ویو کے سبب اموات کے خبر کی تردید
10 اکتوبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان نے ڈار کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کاچیئرمین مقرر کیا۔ 12 اکتوبر کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ڈار کی مشکوک ڈگری کے باعث تقرری کے خلاف قرارداد جمع کرائی گئی۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ تقرری میرٹ کی صریح خلاف ورزی اور ناقابل قبول ہے کیونکہ انہیں عام انتخابات میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا 3 دسمبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے امور نوجوانان مقرر کیا-
قائم مقام صدر نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کردیئے
-

صحافت کی معراج کو پہنچنا ہے تو اسکے لئے جدوجہد کرنی ہوگی،مبشر لقمان
سیالکوٹ پروفیشنل پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کی حلف برداری کی تقریب مقامی ہوٹل میں ہوئی،
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان تقریب کے مہمان خصوصی تھے، دوران تقریب معزز مہمان مبشر لقمان نے ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لیا ، اس موقع پر پروگرام کھرا سچ کے ایگزیکٹو پروڈیوسر راو اویس مہتاب، کاظم نقوی، ممتاز اعوان بھی موجود تھے، تقریب کے اختتام پر سیالکوٹ پروفیشنل پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کی جانب سے مہمانان گرامی کو یادگاری شیلڈ دی گئیں ،
مبشر لقمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے شہر سیالکوٹ آیا ہوں ، آزادی صحافت کوئی چیز نہیں، آزادی صحافت کو چھوڑیں صحافی آزاد کر دیں، کوئی صحافی آزاد نہیں، معاش کی وجہ سے پریشان ہے، صحافی ہر ایک کے لیے بات کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی نہیں کر سکتا، صحافیوں کے مسائل ہیں تنخواہیں نہیں ملتی ۔25 پچیس سال کام کرنے کے بعد ڈاون سائزنگ کا کہہ دیا جاتا ہے اور دفتر بند ہو جاتے ہیں، تنخواہیں کم اور احسان کر کے دی جاتی ہیں یہ صحافی کی قدروقیمت ہے ، ہمیں اپنے مقام کی جستجو کرنی ہو گی، سب سے پہلے ہماری عزت ہونی چاہئے صحافی کی عزت ہونی چاہئے ، کچھ صحافیوں کا بھی قصور ہے، پریس کلب بند دو گروپس کی لڑائی کی وجہ سے بند ہوتے ہیں صحافی ہی لڑ رہے ہیں، پریس کلب میں صحافی کم اور دوسرے لوگ زیادہ ملتے ہیں، ایسی صحافت کا کیا فائدہ آپکا دفتر گھر جھگڑے میں بند کروا دیا ، سیالکوٹ وہ شہر ہے اور وہ شہری ہیں جو اپنی سڑکیں بنا لیتے ہیں حکومتی مدد کے بغیر سب کچھ کر لیتے ہیں سڑکیں بنا لیتے ہیں ، ایئر لائن بھئ بنا لیتے ہیں لیکن سیالکوٹ کے صحافی اپنا ہی پریس کلب بند کروا کر بیٹھے ہیں ، لوگ کہتے ہیں کہ صحافت آزاد ہونی چاہئے، پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہو سکتی، آزادی صحافت کا مطلب کسی کو برا نہیں کہنا ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس چیز کے ساتھ اشتہار جڑ جاتا ہے وہ ڈے منایا جاتا ہے پاکستان ڈے نہیں منایا جاتا، معاشرے میں جو تفریق پیدا کرنے کی بجائے اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے، کونسی صحافت کونسی آزادی یہ سارے ڈھنگوسلے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ مرے بغیر جنت نہیں ملتی، صحافت کی معراج کو پہنچنا ہے تو اسکے لئے جدوجہد کرنی ہوگی ، اپنے لیے پہلے سوچیں جو اپنا اچھا نہیں کر سکتا وہ کسی اور کا اچھا نہیں کر سکتا ، اپنے ٹولز بدلیں ، سکل اپنی امپروو کریں، سوشل میڈیا پر جو میڈیم ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کریں ، 55 مقدمات میرے اوپر ایک ساتھ تھے جو ابھی تک چل رہے ہیں ، 28 ناقابل ضمانت وارنٹ اس ملک میں میرے نکل چکے ، قابل ضمانت کی بات ہی نہ کریں،
چیئرمین پروفیشنل الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن سیالکوٹ خرم میر کا کہنا تھا کہ تقریب حلف برداری میں سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کو خوش آمدید کہتا ہوں ،ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مبشر لقمان یہاں آئے، پروفیشنل ایسوسی ایشن آٹھ سال سے کام کر رہی ہے ، مبشر لقمان ہمارے لیے سپر سٹار ہیں انکا تقریب میں آنا ہمارے لیے باعث فخر ہے
پروفیشنل الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ایسوسی ایشن کے چیئرمین مجلس عاملہ شاہد ریاض کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم کے لئے مبشر لقمان کا آنا باعث مسرت ہے، ہم آپ سے سیکھنا چاہتے ہیں ، صحافت میں آن سے رہنمائی لیں گے، حق سچ کو عوام کے سامنے لانا بہت بڑا کام ہے، عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ ملکی مفاد تنظیم کا موٹو ہے عوام کے سامنے حقائق لانا ضروری ہیں۔
الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو
بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف
تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال
عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان
عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں






-

عمران ریاض کوسیالکوٹ ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے والا ایس ایچ او معطل
لاہور ہائیکورٹ نے نیوز اینکر عمران ریاض خان کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کو معطل کر دیا۔
باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ میں نیوز اینکر عمران ریاض خان کی گرفتاری کے خلاف ان کے والد محمد ریاض کی درخواست پر سماعت ہوئی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کیس کی سماعت کی-
فرخ حبیب کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق فیصلہ محفوظ
دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ عمران ریاض تو پہلے ہی ملک سے باہر جا رہے تھے پھر گرفتاری کیا ضرورت تھی؟ ائیرپورٹ سے گرفتار کیا، ایس ایچ او سیالکورٹ تھانہ کیا نظر بندی کے احکامات لے کر گئے تھے؟
ایچ ایچ او نے جواب میں بتایا کہ نظر بندی کے احکامات بعد میں جاری ہوئے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر گرفتاری کس بات کی تھی؟جب آپ ائیرپورٹ گرفتار کرنے گئے دکھائیں کہاں روز نامچے میں اندارج کیا؟ عدالت کی حکم پر ایس ایچ او نے ریکارڈ عدالت میں پیش کردیا۔
چیف جسٹس امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ اس روزنامچے میں تو واپسی پر اندارج ہوا ہے، مجھے دکھائیں آپ کی راونگی کہاں ہے؟ آپ کے پاس کہاں نظر بندی کےاحکامات تھے؟ایس ایچ او نے بتایا کہ انہوں نے اینکر عمران ریاض خان کو پہلے گرفتار کیا اور جیل بھیجا اس کے بعد اندارج کیا۔
پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے نظر بندی کے احکامات کے موصول کیے بغیر عمران ریاض کو کیسے گرفتار کرلیا؟آپ نے خلاف قانون کے ایک معصوم شہری کو گرفتار کرلیا، مجھے ثابت کریں کہ آپ نے روزنامچہ میں لکھا، ڈیپٹی کمشنر نے فون کیا یا کوئی ثبوت دیں، عدالت آپ کیخلاف تادیبی کاروائی کا حکم دے گی اور آپ کو معطل کرکے جیل بجوا دیا جائے گا-
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیوں نہ ڈی پی او سیالکوٹ کو بھی عہدے سے فارغ کر دیا جائے۔ آپ نے گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے اس کا ریکارڈ کہاں ہے، میں وہاں تک پہنچنا چاہ رہا ہوں جہاں سے آپ کو آرڈر مل رہے تھے۔
ڈی پی او سیالکوٹ نے کہا کہ ایس ایچ او کے کردار کو جسٹیفائی نہیں کروں گا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عمران ریاض کی جیل سے رہائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کمرہ عدالت میں چلانے کی ہدایت کردی۔
یاسمین راشد کو سروسز اسپتال سے پولیس لائن اسپتال منتقل کر دیا گیا
عدالت نے ایس ایچ او کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا اور 7 روز کیلئے انہیں معطل کر دیاچیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ آپ 7 روز تک معطل رہیں گے اگر عدالت کو مطمن نا کر سکے تو پھر عدالت سزا سنائے گی۔
واضح رہے کہ معروف نیوز اینکر عمران ریاض خان کو سیالکوٹ ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں عدالتی حکم پر جیل سے رہا کر دیا گیا تھا تاہم وہ رہائی کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
پشاور: جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے کی مدد …