Baaghi TV

Category: سیالکوٹ

  • ڈسکہ میں 57 کروڑ کے ترقیاتی منصوبے جاری، 5 اہم سڑکوں کی تعمیر کا آغاز

    ڈسکہ میں 57 کروڑ کے ترقیاتی منصوبے جاری، 5 اہم سڑکوں کی تعمیر کا آغاز

    سیالکوٹ.ڈسکہ(باغی ٹی وی ، شاہد ریاض +ملک عمران)صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے اعلان کیا ہے کہ ڈسکہ سٹی میں 57 کروڑ 2 لاکھ 78 ہزار روپے کی لاگت سے پانچ اہم سڑکوں کی ازسرنو تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے، جنہیں 31 اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں پسرور روڈ، وزیر آباد روڈ، کالج روڈ، بنک روڈ اور جامکے روڈ پر ٹرنک سیور لائن بچھانے کے بعد سڑک کی بحالی شامل ہے۔

    انہوں نے یہ بات پی پی 51 میں جاری ترقیاتی کاموں اور مون سون انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی، ایم پی اے چودھری نوید اشرف، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی، اے ڈی سی ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا، اے سی ڈسکہ عثمان غنی اور میونسپل کمیٹی کے افسران بھی موجود تھے۔

    میاں ذیشان رفیق نے بتایا کہ پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت ڈسکہ میں سیوریج کا ایک جامع منصوبہ تکمیل کے قریب ہے، جبکہ نالوں کی صفائی کا عمل بھی جاری ہے۔ انہوں نے مون سون کی ممکنہ شدید بارشوں کے پیش نظر فلڈ ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایات جاری کیں۔

    وزیر بلدیات نے میونسپل کمیٹی کو ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں سے بروقت پانی کی نکاسی، ڈسپوزل اسٹیشنز کی مکمل فعالیت، بیک اپ جنریٹرز، ڈی واٹرنگ سیٹس اور عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور تحریری روسٹر فوری طور پر جاری کیا جائے۔

    اس موقع پر کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محرم الحرام اور مون سون انتظامات کو ذاتی طور پر مانیٹر کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں کے روٹس کو بارش کی صورت میں صاف اور قابل رسائی رکھنا اولین ترجیح ہے، اور کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • سیالکوٹ: پولیس نے کروڑوں کی چوری کا معمہ چند دنوں میں حل کر لیا، 2 خواتین سمیت 3 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ کا مسروقہ مال برآمد

    سیالکوٹ: پولیس نے کروڑوں کی چوری کا معمہ چند دنوں میں حل کر لیا، 2 خواتین سمیت 3 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ کا مسروقہ مال برآمد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سیالکوٹ پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی تفتیش اور تیز رفتاری سے گھر میں ہونے والی کروڑوں روپے کی چوری کا معمہ قلیل وقت میں حل کر کے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال کیا بلکہ 2 خواتین سمیت 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر کے 2 کروڑ روپے مالیت کا مسروقہ سامان بھی اصل مالک کے حوالے کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق 25 جون کو تھانہ حاجی پورہ کی حدود میں واقع مبارک پورہ میں شہری شیخ عبدالجلیل کے گھر سے نامعلوم ملزمان نے بڑی واردات کے دوران 50 لاکھ روپے نقدی، 31 تولے سونا اور 10 مختلف ممالک کی غیر ملکی کرنسی چوری کر لی تھی۔ کرنسی میں 5,900 امریکی ڈالر، 3,910 یورو، 1,360 برطانوی پاؤنڈ، 16,000 جاپانی ین، 20,000 جنوبی کورین وون، 530 سعودی ریال، 1,100 بھارتی روپے، 50 سنگاپور ڈالر اور 240 مصری پاؤنڈ شامل تھے۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی سٹی اور ایس ایچ او حاجی پورہ کو خصوصی ٹاسک دیا۔ پولیس ٹیم نے جدید سائنسی خطوط، سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹیکنیکل ڈیٹا اور خفیہ معلومات کی مدد سے چوری میں ملوث 2 خواتین حضرت، علیزہ اور ایک مرد احمد صابر کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر یہ تینوں ملزمان نہ صرف آپس میں سگے بہن بھائی ہیں بلکہ متاثرہ خاندان کے قریبی عزیز بھی نکلے۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے تمام مسروقہ مال برآمد کر لیا، جسے قانونی کارروائی کے بعد متاثرہ شخص کے حوالے کر دیا گیا۔ بعد ازاں تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ:
    "سیالکوٹ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔”

    یہ کامیابی نہ صرف سیالکوٹ پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے بلکہ پولیس قیادت کی مؤثر نگرانی اور تفتیشی ٹیم کی محنت کا نتیجہ بھی ہے۔

  • سیالکوٹ: خواجہ آصف کی سانحۂ سوات متاثرین سے تعزیت، ریسکیو نظام اور حکومتی غفلت پر شدید تنقید

    سیالکوٹ: خواجہ آصف کی سانحۂ سوات متاثرین سے تعزیت، ریسکیو نظام اور حکومتی غفلت پر شدید تنقید

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، شاہد ریاض)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سانحہ سوات کے متاثرین سے تعزیت کے لیے ڈسکہ پہنچے، جہاں انہوں نے سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سانحہ سوات کو ایک ناقابلِ بیان المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "بیٹی کے سامنے اس کے بچے پانی میں بہہ گئے، یہ ایسا صدمہ ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ ایک بچہ تاحال لاپتہ ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

    ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ مکمل ریسکیو بریک ڈاؤن تھا، ٹیمیں خالی ہاتھ پہنچیں اور کوئی مناسب تیاری نظر نہ آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، لیکن آج تک کوئی مؤثر پالیسی یا حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جو قابل افسوس ہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان پر تو قیامت ٹوٹ پڑی، مگر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ موجودہ حکومت پر کوئی قیامت ٹوٹی یا نہیں۔ ان کے مطابق متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ان افسران کو بحال کیا جائے جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، اور وہ خود بھی اس مؤقف سے متفق ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے۔

    انہوں نے کہا: "اللہ کسی بدترین دشمن پر بھی ایسا وقت نہ لائے، حکمرانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر عوامی مفادات کو ترجیح دیں۔”

    خواجہ آصف نے آخر میں سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہی فیصلہ کریں گے کہ حکمرانی واقعی کانٹوں کی سیج ہے یا نہیں۔

  • محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں …ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    محسن، غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں… ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہہ گئے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض کی خصوصی رپورٹ)دریائے سوات کے کنارے آج پھر لہریں خاموش نہیں۔ وہ کسی بین کرتی ماں کی طرح چیخ رہی ہیں۔ آج پھر پانی کا شور نہیں بلکہ معصوم جانوں کی سسکیوں کا ماتم سنائی دے رہا ہے۔ سیالکوٹ، ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کی 12 زندگیاں لمحوں میں بہہ گئیں۔ نہ کوئی جنگ تھی، نہ دہشت گرد حملہ، صرف ریاستی غفلت تھی۔ یہ واقعہ قدرت کا عذاب نہیں بلکہ انسانوں، اور درحقیقت حکومتوں کے پیدا کردہ ظلم کا نتیجہ ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران اپنے محلوں کے آرام میں مدہوش ہوں اور ریاست کا وجود صرف پروٹوکول تک محدود رہ جائے، تو پھر حادثے نہیں بلکہ سانحے جنم لیتے ہیں — وہ سانحے جو خون رلاتے ہیں۔ دریائے سوات کے کنارے وہ لمحہ تاریخ کے ماتھے پر سیاہ دھبے کی صورت نقش ہو چکا ہے، جب ایک خاندان خوشی خوشی آیا اور واپسی پر لاشوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔

    بارہ زندگیاں ، جن میں معصوم بچے، خواتین، والدین، بہن بھائی، اور ایک چار سالہ بچی شامل تھی، جو شاید آخری بار صرف اتنا بولی ہو گی:
    "بابا، مجھے بچا لو!”
    اور اپنے بابا کے کندھوں پر چڑھ گئی۔
    مگر وہ نہ جانتی تھی کہ یہ پاکستان ہے . یہاں عوام کے بچوں کے لیے نہ کندھے محفوظ ہیں اور نہ میسر۔

    کیا یہ اٹھارہ افراد، بشمول اس معصوم بچی کے، غیر ملکی سیاح ہوتے تو ہیلی کاپٹر آ جاتا؟
    کیا وہ کسی وزیر، مشیر یا اشرافیہ کے رشتہ دار ہوتے تو ریسکیو ٹیمیں پلک جھپکتے پہنچ جاتیں؟
    مگر افسوس! وہ صرف "عام پاکستانی” تھے۔
    نہ ہیلی کاپٹر آیا، نہ ریاست جاگی، نہ کوئی بچانے والا پہنچا۔

    یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ سوات انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکومت جو "سیاحت کے فروغ” کے خواب دکھاتی رہی، جو بل بورڈز پر پہاڑ، دریا، اور جنگلات کی خوبصورتی دکھا کر فخریہ دعوے کرتی رہی . وہ حکومت ایک سادہ سا انتباہی بورڈ بھی نہ لگا سکی، نہ کوئی حفاظتی انتظامات کیے، نہ کوئی واچ ٹیم تعینات کی۔

    حضرت عمرؓ کا قول آج بھی تاریخ کی دیواروں پر گونجتا ہے:
    "اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر جائے تو روزِ قیامت عمرؓ سے اس کی بازپرس ہو گی!”
    لیکن یہاں؟ دریائے سوات کے کنارے بارہ انسان ڈوب گئے اور نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی شرمندگی سے سر جھکانے والا۔

    یہ جانیں اگر کسی دہشت گردی یا دشمن کے حملے میں نہ بھی گئیں، تو حکومتی نااہلی اور بےحسی کی وجہ سے ضرور قتل ہوئیں۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کے زوال سے قبل دریا بہتے تھے، مگر انصاف اور غیرت مر چکے تھے۔
    آج سوات میں بھی دریا بہہ رہا تھا مگر ساتھ ہی ریاستی شعور، انسانی ہمدردی، اور حکومتی ذمہ داری بھی بہہ گئی۔

    خیبر پختونخواہ کی انتظامیہ میٹنگز میں "تصویری سیاحت” کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی،
    مگر دریا کی لہروں میں ڈوبتی انسانیت کی آہیں کسی وزیر، مشیر، یا افسر کی سماعت تک نہ پہنچ سکیں۔

    یہ تحریر ایک سوال ہے…
    ایک سوال اُس معصوم بچی کی طرف سے…
    جس نے بس اتنا چاہا تھا کہ:
    "بابا، بچا لیں مجھے”
    مگر ریاستی سستی نے اس کا بابا بھی اس سے چھین لیا۔

    کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟
    کب تک صرف فاتحہ پڑھ کر آگے بڑھ جائیں گے؟
    کب تک حکمرانوں کے محل روشن اور عوام کی قبریں تاریک رہیں گی؟

    یہ صرف ایک خاندان کی موت نہیں،
    یہ خیبر پختونخواہ کی ناکام حکمرانی کا نوحہ ہے….
    جہاں سیاحت کے نام پر اشتہار تو لگائے گئے، وائرل ویڈیوز تو بنائی گئیں،
    مگر دریا کنارے عوام کے تحفظ کے لیے نہ کوئی سیفٹی پلان، نہ ریگولیشن، نہ تربیت، نہ جان کی قدر کی گئی۔

    یہ وہ سوالات ہیں جو ہر ذی شعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں:
    ریسکیو کہاں تھا؟ سول ڈیفنس کہاں تھا؟ پولیس؟ وارننگ دینے والا کوئی عملہ؟
    اگر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا تھا تو پیشگی اطلاع کیوں نہ دی گئی؟
    اگر دریا کنارے ناجائز تجاوزات تھیں تو ان کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

    خدارا!
    سیاحت صرف خوبصورت وادیوں، پہاڑوں، اور پوسٹروں کا نام نہیں ….
    سیاحت تحفظ مانگتی ہے، سہولتیں مانگتی ہے اور ذمہ داری مانگتی ہے۔

    یہ جاگنے کا وقت ہے۔
    ورنہ ایک دن یہ دریا ہمیں بھی نگل جائیں گے۔

  • سیالکوٹ: شہری افواج پاکستان کی فرنٹ لائن، محرم سیکیورٹی کیلئے جامع پلان تشکیل دے دیا گیا، برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین

    سیالکوٹ: شہری افواج پاکستان کی فرنٹ لائن، محرم سیکیورٹی کیلئے جامع پلان تشکیل دے دیا گیا، برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض)چیئرمین وزیر اعلیٰ ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن، سرویلنس و مانیٹرنگ، برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین (ستارہ امتیاز ملٹری) نے کہا ہے کہ سیالکوٹ امن و محبت کے علمبردار شہریوں کا شہر ہے، جنہوں نے ہمیشہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بات انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس سیالکوٹ کے کمیٹی روم میں ضلعی امن کمیٹی اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری، ایس پی عثمان سیفی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے کہا کہ امن کمیٹیاں ہمارے معاشرتی ڈھانچے کا روایتی مگر مؤثر حصہ ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مؤثر ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف مکاتب فکر کا گہوارہ ہے، لیکن ہمارا مشترکہ رشتہ اسلام ہے، جو امن، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔

    میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مدلل، مہذب اور مؤثر جواب دیا اور 12 اپریل سے جاری میڈیا وار میں پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ میڈیا نے ہمیشہ امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، مسائل کی نشان دہی کی اور اُن کے حل کے لیے تجاویز بھی دیں۔

    برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران تمام بڑے ماتمی جلوسوں کے ساتھ کلینک آن ویلز گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی نگرانی میں سبیلوں اور لنگر کے معیار کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجالس اور جلوسوں کے دوران بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر جنریٹرز بھی مہیا کیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بارش یا آندھی کی صورت میں ڈی واٹرنگ پمپس کی سہولت اور سیکیورٹی اقدامات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ عزاداران کو کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ برگیڈیئر (ر) بابر علاؤالدین نے کہا کہ مسلمانوں میں بنیادی عقائد پر کوئی اختلاف نہیں، صرف چند عناصر ذاتی مفادات کی خاطر اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔

    انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک دشمن عناصر کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے، کیونکہ پاکستانی قوم متحد ہے اور امن و بھائی چارے کا علَم تھامے ہوئے ہے۔

  • سیالکوٹ: محرم الحرام کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان، صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایات پر انتظامات مکمل

    سیالکوٹ: محرم الحرام کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان، صوبائی وزیر بلدیات کی ہدایات پر انتظامات مکمل

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے محرم الحرام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی اور زائرین کی سہولت کے لیے جامع اور مؤثر پلان کی منظوری دے دی ہے۔

    ڈی سی آفس سیالکوٹ کے کانفرنس روم میں ویڈیو لنک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو جلوسوں کے روٹس کی مرمت، روشنیوں کی تنصیب، صفائی اور پانی کی فراہمی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جن پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    اجلاس میں کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی، آر پی او طیب حفیظ چیمہ، ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی، ڈی پی او فیصل شہزاد سمیت دیگر افسران شریک تھے۔

    میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ محرم الحرام ہمیں حضرت امام حسینؓ کی قربانی کی یاد دلاتا ہے، اور اس مہینے میں اتحاد، صبر و برداشت کا مظاہرہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلوسوں اور مجالس میں ڈرون کوریج پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

    بعد ازاں صوبائی وزیر نے امام بارگاہ اڈہ پسروریاں کا دورہ کیا، جہاں جلوسوں کے روٹس، سیکیورٹی اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے انہیں بریفنگ دی۔

    انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عزاداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے، تاکہ محرم الحرام کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ دورے میں دیگر اعلیٰ افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات کے جنازے، تعزیت کی آڑ میں سیلفیوں کا تماشا

    ڈسکہ: سانحہ سوات کے جنازے، تعزیت کی آڑ میں سیلفیوں کا تماشا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)سانحہ سوات میں شہید ہونے والے ایک ہی خاندان کے افراد کی میتیں جب ڈسکہ پہنچیں تو شہر پر سکتہ طاری ہو گیا، ہر آنکھ اشکبار تھی، ہر دل غم سے نڈھال۔ شہداء کی نماز جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار رہی، جنازے کے جلوس میں ہر قدم پر رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

    ریجنل پولیس آفیسر طیب حفیظ چیمہ، کمشنر گوجرانوالہ سید نوید شیرازی، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباء اصغر علی، ڈی پی او فیصل شہزاد اور صوبائی وزیر بلدیات نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، دعائے مغفرت کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    تاہم جنازے کے بعد ایک افسوسناک منظر نے ماحول کو مزید بوجھل کر دیا—سرکاری اور سیاسی شخصیات کی موجودگی کیمرہ فوکس میں آ گئی، اور غم کی اس گھڑی میں سیلفیوں، ویڈیو ریکارڈنگز اور سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک کلپس بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ متاثرہ اہل خانہ، جو اپنے پیاروں کی جدائی پر نڈھال تھے، تعزیت کرنے آئے مہمانوں کے شور میں تنہا رہ گئے۔

    یہ منظر نہ صرف سوشل رویوں کی تنزلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شہداء کی قربانیوں کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف بھی ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں حقیقی ہمدردی اور خاموشی، شاید سب سے بڑی تسلی ہوتی، مگر یہاں کیمرے اور جذباتی جملے ہی غالب آ گئے۔

  • ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    ڈسکہ سانحہ سوات: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کا لواحقین سے اظہارِ تعزیت، شہر کی فضا سوگوار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیوروچیف شاہد ریاض) تحصیل بابوزئی، ضلع سوات میں پیش آنے والے المناک حادثے کے بعد ڈسکہ میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ جی قربان ریسٹورنٹ بائی پاس روڈ کے قریب دریائے سوات میں ڈوبنے والے ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محترمہ صبا اصغر علی نے متاثرہ خاندان سے ان کے گھر جا کر تعزیت کی اور اس دل دہلا دینے والے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ”یہ سانحہ پوری قوم کے لیے ایک صدمہ ہے۔ ہم دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔”

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اقبال سنگھیڑا اور اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ عثمان غنی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی میتیں گزشتہ شب وصول کیں اور تدفین سمیت تمام تر انتظامی امور کی نگرانی کی۔

    یاد رہے کہ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر و تفریح کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر ایک ہوٹل کے قریب دریا کنارے ناشتہ کرتے ہوئے اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا جس نے فیملی کو دریا کے خشک حصے میں بیٹھے ہوئے اچانک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد لاپتہ تھے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں اچانک ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے، جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آج ہونے والی تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش دریا سے نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    آج ڈسکہ میں آٹھ جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں شہر بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور غم کی کیفیت چھائی رہی۔

    شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاحتی مقامات اور دریا کنارے ہوٹلوں پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک سانحات سے بچا جا سکے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کو غم میں مبتلا کیا بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے۔

  • ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ: سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران) سانحہ سوات، ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق، 8 کی نمازِ جنازہ ادا

    تفصیلات کے مطابق ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد کے ساتھ سیر و تفریح کا سفر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا، جب دریائے سوات کی بے رحم موجوں نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ سوات کے مقام پر پیش آنے والے سانحہ میں خاندان کے 15 میں سے 10 افراد دریا میں ڈوب گئے، جن میں سے آٹھ کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ان آٹھ افراد کی نماز جنازہ آج ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جس میں شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پورا شہر سوگ میں ڈوبا رہا۔

    سانحہ گزشتہ روز اُس وقت پیش آیا جب سیالکوٹ کے نواحی شہر ڈسکہ سے تعلق رکھنے والا خاندان سیر کے لیے سوات گیا ہوا تھا۔ سوات بائی پاس کے مقام پر خاندان کے افراد ایک ہوٹل کے قریب دریا کے کنارے ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دریا میں تیز ریلا آ گیا اور دریا کے خشک حصے میں اتری تمام فیملیز کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد پانی کی نذر ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کی گئیں، جن کے دوران دریا سے آٹھ لاشیں نکال لی گئیں جبکہ مزید دو افراد کی تلاش جاری تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سوات میں ریلے کے باعث مختلف مقامات پر 70 افراد پھنس گئے تھے جن میں سے 55 کو بحفاظت نکال لیا گیا، باقی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    آج تازہ پیش رفت میں مزید ایک سیاح کی لاش نکال لی گئی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہو چکی ہے جبکہ اب بھی تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    خوفناک حادثے نے جہاں سیاحت کے خوشنما خواب کو المیے میں بدلا، وہیں ڈسکہ شہر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑا دی۔ جنازوں کے موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دکھی۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دریا کنارے ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: امام بارگاہوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی فرضی مشقیں

    سیالکوٹ: امام بارگاہوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی فرضی مشقیں

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو) محرم الحرام کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کے لیے ڈپٹی کمشنر صبا اصغر کی زیرِ سرپرستی امام بارگاہ مستری عبداللہ اور در بتول میں ریسکیو اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مشق سیکریٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایت پر کی گئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال کی نگرانی میں منعقدہ اس مشق میں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، پولیس، سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے شرکت کی۔

    مشق کے دوران فرضی بم دھماکہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں "زخمی” افراد کو ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی اور قریبی اسپتال منتقل کیا۔ اسی دوران آگ بجھانے کی مشق بھی کی گئی، جس میں بروقت کارروائی کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔

    اس مشق کا مقصد مختلف اداروں کے درمیان آپسی ہم آہنگی کو بہتر بنانا، تیاری کے معیار کو جانچنا، اور کسی بھی ممکنہ سانحے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔